https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Sunday, 24 December 2023

27 The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode27

 27 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode27




27 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode27
زبان کا وار تلوار سے گہرا ہوتا ہے سلطان ایوبی نے کہا وہ عقل جو تمہاری کمزوریوں کا باہم سکتی ہے علی وہ اپنی زبان سے ایسے اندازے اور ایسے موقع پر ایسے الفاظ کہلوائے گی کہ تم اپنی تلوار نیام میں ڈال کر دشمن کے قدموں میں رکھ دو گے صلیبیوں کے پاس دو ہی تو ہتھیار ہیں الفاظ اور حیوانی جذبہ جسے انسانی جذبے پر غالب کرنے کے لیے وہ اپنی جوان اور خوبصورت لڑکیوں کو استعمال کر رہے ہیں انہوں نے مسلمان امراء اور حکام کے دلوں سے مذہب تک نکال دیا ہے صرف حکام نہیں امیر محترم علی بن سفیان نے کہا مصر کے عام لوگوں میں بھی بدکاری عام ہو گئی ہے یہ صلیبیوں کا کمال ہے دولت مند مسلمانوں کے گھروں میں بھی بے حیائی شروع ہو گئی ہے یہی سب سے بڑا خطرہ ہے سلطان ایوبی نے کہا میں صلیبیوں کے سارے لشکر کا مقابلہ کر سکتا ہوں اور کیا ہے مگر میں ڈرتا ہوں کہ صلیبیوں کے اس وار کو نہیں روک سکوں گا اور جب میری نظریں مستقبل میں جھانکتی ہیں تو میں کانپ اٹھتا ہوں مسلمان برائے نام مسلمان رہ جائیں گے ان میں بے حیائی سلیبیوں والی ہوگی اور ان کے تہذیب و تمدن پر صلیبی رنگ چڑھا ہوا ہوگا میں مسلمانوں کی کمزوریاں جانتا ہوں مسلمان اپنے دشمن کو نہیں پہچانتے اس کے بچھائے ہوئے خوبصورت جال میں پھنس جاتے ہیں میں صلیبیوں کے کمزوریاں جانتا ہوں وہ بے شک مسلمانوں کے خلاف متحد ہو گئے ہیں لیکن ان کے اندر سے دل پھٹے ہوئے ہیں فرانسیسی اور جرمن ایک دوسرے کے خلاف ہیں برطانوی اور عطالوی ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے وہ مسلمانوں کو مشترک دشمن سمجھ کر اکٹھے ہیں لیکن ان میں عداوت کی حد تک اختلافات ہیں ان کا شاہ اگستس دوغلا بادشاہ ہے باقی بھی ایسے ہی ہیں مگر انہوں نے مسلمان عمرہ کو عورت کے حسن اور زر و جواہرات کی چمک دمک سے اندھا کر رکھا ہے اگر مسلمان ہمارا متحد ہو جائیں تو صلیبی چند دنوں میں بکھر جائیں گے اب فاطم خلافت کو ختم کر کے میں نے اپنے دشمنوں میں اضافہ کر لیا ہے فاطمی اپنی گدی کی بہالی کے لیے سوڈانی اور صلیبیوں کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں ان کے شاعر کو کل سزائے موت دے دی گئی ہے علی بن سفیان نے کہا جس کا مجھے بہت افسوس ہے سلطان ایوبی نے کہا عمارۃ الجمنی کی شاعری نے میرے دل پر بھی اثر کیا تھا مگر اس نے الفاظ اور ترنم کو چنگاریاں بنا کر اسلام کے خرمن کو جلانے کی کوشش کی ہے عمارۃ الیمنی اس دور کا مشہور شاعر تھا اس دور میں اور اس سے پہلے بھی لوگ شاعروں کو پیروں اور پیغمبروں جتنا درجہ دیتے تھے شاعر الفاظ اور ترنم سے فوجوں میں جذبے کی نئی روح پھونک دیا کرتے تھے یہی درجہ اس مسلمان شاعر کو حاصل تھا اس نے لوگوں میں جو مقام پیدا کر رکھا تھا اسے اس نے اس طرح استعمال کرنا شروع کر دیا تھا کہ ایک طرف وہ لوگوں میں جہاد کا جذبہ پختہ کرتا تھا اور ساتھ ہی فاطمی خلافت کی عظمت کی داغ لوگوں کے دلوں میں بٹھاتا تھا اسے فاطمی خلافت کی اتنی پشت پناہی حاصل تھی کہ اس نے سلطان ایوبی کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا اس کے اخری اشعار یہ تھے کہ مجھے فاطمی خلافت کی محبت کا طعنہ دینے والو مجھ پر لعنت بھیجو میں تمہیں لعنت کے لائق سمجھتا ہوں فاطمی محلات کی ویرانی پر انسو بہاؤ ان میں رہنے والوں کو میرا پیغام دو کہ میں نے تمہارے لیے جو زخم کھائے ہیں وہ کبھی مندمل نہ ہوں گے اس کے گھر اچانک چھاپہ مارا گیا تھا وہاں سے دستاویزی ثبوت ملا تھا کہ وہ صرف فاطمی خلافت کا ہی بہی خواہ نہیں بلکہ صلیبیوں کا وظیفہ خار بھی ہے صلیبی اسے اس مقصد کے لیے وظیفہ دیتے تھے کہ وہ مصریوں کے دلوں پر فاطمی خلافت کو غالب کر دے اور سلطان ایوبی کے خلاف نفرت پیدا کرتا رہے اسے سزائے موت دی گئی تھی جس قوم کے شاعر بھی دشمن کے وظیفہ خار ہوں اس قوم کے لیے ذلت اور رسوائی ہے سلطان ایوبی نے کہا تربان اندر ایا اور کہا کہ معزول خلیفہ الازد کا قاصد ایا ہے سلطانہ ایوبی کے ماتھے کے شکن گہرے ہو گئے انہوں نے کہا خلافت کے سوا یہ بڈھا مجھ سے اور کیا مانگ سکتا ہے دربان سے کہا اسے اندر بیچ دو الازد کا قاصد اندر ایا اور کہا خلیفہ کا سلام پیش کرتا ہوں وہ خلیفہ نہیں ہے سلطان ایوبی نے کہا دو مہینے ہو گئے ہیں ان سے معزول ہوئے وہ اپنے محل میں قید ہے معافی چاہتا ہوں قابل صد احترام امیر قاصد نے کہا عادت کے تحت منہ سے نکل گیا الازد نے بادل سلام کہا ہے کہ بیماری نے بستر پر ڈال دیا ہے اٹھنا محال ہے ملنے کی خواہش ہے اگر امیر محترم تشریف لا سکیں تو احسان ہوگا سلطان ایوبی نے بے قراری سے اپنی ران پر ہاتھ مارا اور کہا وہ مجھے بلا رہا ہے کیونکہ وہ ابھی تک اپنے اپ کو خلیفہ سمجھتا ہے نہیں امیر مثل قاصد نے کہا ان کی حالت بہت خراب ہے محل کے طبیب نے خطرے کا اظہار کیا ہے یہ ان کا دیرینہ مرض ہے جو غم اور غصے میں تیز ہو جاتا ہے اب تو وہ اٹھنے سے معذور ہو گئے ہیں قاصد نے ذرا جھک کر کہا انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اپ اکیلے تشریف لائیں راز کی دو چار باتیں ہیں جو کسی دوسرے کے سامنے نہیں کی جا سکتی انہیں بعد از سلام کہنا صلاح الدین ایوبی راز کی سب باتیں جانتا ہے سلطان ایوبی نے کہا اب راز
ENGLISH
The sword of the tongue is deeper than the sword. Sultan Ayyubi said that the intellect that can understand your weaknesses, Ali, she will utter such guesses and words on such an occasion that you should put your sword in its sheath and place it at the feet of the enemy. The gay crusaders have only two weapons: words and animal passion, which they are using their young and beautiful girls to dominate the human spirit. Honorable Ali bin Sufyan said that immorality has become common even among the common people of Egypt. This is the glory of the Crusaders. Indecency has also started in the homes of wealthy Muslims. This is the biggest danger. But I fear that I shall not be able to stop this crusader attack and I shudder when my eyes look into the future. Muslims will remain nominal Muslims. Their culture and civilization will be covered with the color of crusaders. I know the weaknesses of Muslims. Muslims do not recognize their enemy. They get caught in the beautiful trap laid by him. Their hearts are torn from within. The French and the Germans are against each other. The British and the Atalavis do not like each other. They are united by considering the Muslims as a common enemy, but they have differences to the extent of enmity. Their king, Augustus, is a duplicitous king. The rest are also the same, but they have blinded the Muslim Umrah with the beauty of women and the glitter of jewels. If the Muslims unite with us, the Crusaders will disperse in a few days. Enemies have increased. The Fatimis are conspiring with the Sudanese and the Crusaders to restore their mace. Their poet was executed yesterday. Ali bin Sufyan said, "I am very sorry." Sultan Ayubi said. Al-Jumni's poetry also affected my heart, but he has tried to burn the threshing floor of Islam by making words and hymns sparks. And as much as the Prophets were given, the poets used to instill a new spirit of enthusiasm in the armies with words and hymns. This is the status that this Muslim poet had. On the one hand, he strengthened the spirit of Jihad among the people and at the same time planted the stain of the greatness of the Fatimid Caliphate in the hearts of the people. The last verses of the poem were that those who mocked me for the love of the Fatimid Caliphate curse me, I consider you worthy of the curse. He will never heal. His house was suddenly raided and documented evidence was found that he was not only a supporter of the Fatimid Caliphate but also a stipend of the Crusaders. May the Fatimid caliphate prevail in the hearts and continue to create hatred against Sultan Ayyubi, he was given the death penalty, the poets of the nation who are the enemy's stipends are a disgrace and shame for that nation. Sultan Ayyubi said, Turban came in and said. Sultana Ayubi's forehead wrinkles deepened and she said, "What else can this big man ask of me other than caliphate?" He said to the gatekeeper, "Send him inside." I do. He is not the caliph. Sultan Ayubi said it has been two months since he was deposed. He is imprisoned in his palace. has put him to bed, is unable to get up, wishes to see him, it would be a favor if the Amir could come.” Sultan Ayubi slapped his hand restlessly on his thigh and said, “He is calling me because he still thinks of himself as the Caliph.” No, Amir like the messenger said that his condition is very bad. The palace doctor has expressed his concern. He also said that you should come alone. There are two or four secret things that cannot be said in front of anyone else. Say them after salam. Salahuddin Ayyubi knows all the secrets. Sultan Ayyubi said now, secrets
اللہ تمہیں معاف کرے اوسد مایوس ہو کر چلا گیا سلطان ایوبی نے دربان کو بلا کر کہا کہ طبیب کو بلاؤ انہوں نے علی بن سفیان اور بہاؤدین شداد سے کہا اس نے مجھے اکیلا انے کو کہا ہے کیا اس میں کوئی چال نہیں کیا میرا خدشہ غلط ہے کہ مجھے محل میں بلا کر میرا کام تمام کرنا چاہتا ہے اسے مجھ پر اور اچھا وار کرنا چاہیے اسے حق حاصل ہے اپ نے اچھا کیا نہیں گئے شداد نے کہا اور علی بن سفیان نے تائید کی طبیب اگیا تو سلطان ایوبی نے اسے کہا اپ الاذت کے پاس چلے جائیں میں جانتا ہوں وہ بہت مدت سے بیمار ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا طبیب مایوس ہو گیا ہے اپ جا کر دیکھیں اور اس کا علاج کریں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بیمار نہ ہو اگر ایسا ہے تو مجھے بتائیں سابق خلیفہ الازد کو اسی محل میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی جو اس کی خلافت کی گدی تھی اس محل کو اس نے جنت بنا رکھا تھا حرم دیس دیس کی خوبصورت عورتوں سے پر رونق تھا لونڈیوں کا ہجوم الگ تھا سینکڑوں محافظوں کا دستہ مستعد رہتا تھا فوجی کماندار حاضری میں کھڑے رہتے تھے سلطانہ ایوبی کے لائے ہوئے انقلاب نے اس محل کی دنیا ہی بدل ڈالی تھی خلیفہ اب خلیفہ نہیں تھا محل میں عیش و عشرت کا تمام سامان جون کا تو رہنے دیا گیا فوجی کمانداروں اور محافظ دستے کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا فوج کا ایک دستہ اب بھی وہاں نظر اتا تھا مگر یہ الاضد کا محافظ نہیں پہرا دار تھا خلافت کا محل چونکہ سازشوں کا مرکز تھا اس لیے وہاں اب پہرا لگا دیا گیا تھا الازد اب اپنے محل میں قیدی تھا وہ بوڑھا تھا اور دل کے عارضے میں مبتلا تھا خلافت چھن جانے کا غم بڑھاپہ شراب اور عیش و عشرت نے اسے بستر پر ڈال دیا تھا چند دنوں میں وہ لاش کی مانند ہو گیا اس کی تیمارداری کے لیے دو ادھیڑ عمر عورتیں اور ایک خادم اس کے کمرے میں موجود تھا الازد انکھ کھولتا انہیں دیکھتا اور انکھیں بند کر لیتا تھا محل کا طبیب اسے دوائی پلا گیا تھا دو جوان لڑکیاں کمرے میں ائیں یہ الازد کے حرم کی رونق تھی ان میں سے ایک نے خلیفہ کہا تھا اپنے ہاتھ میں لیا اور اس پر جھک کر صحت کا حال احوال پوچھا دوسری نے الازد کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسے سہدیابی کی دعا دی دونوں لڑکیوں نے ایک دوسرے کی انکھوں میں دیکھا اور ایک نے کہا اپ ارام فرمائیں ہم اپ کو بے ارام نہیں کریں گے دوسری نے کہا ہم ہر وقت ساتھ والے کمرے میں موجود رہتی ہیں بلا لیا کریں اور دونوں کمرے سے نکل گئیں الازد نے کراہ کر لمبی اہبری اور اپنے پاس کھڑی ادھیڑ عمر عورتوں سے کہا یہ دونوں لڑکیاں میری تیمارداری کے لیے نہیں ائی یہ دیکھنے ائی تھی کہ میں کب مر رہا ہوں میں جانتا ہوں انہوں نے اپنی دوستیاں لگا رکھی ہیں یہ گرد ہیں میرے مرنے کا انتظار کر رہی ہیں ان کی نظر میرے مال اور دولت پر ہے تم تینوں کے سوا یہاں میرا ہمدرد کون ہے کوئی نہیں کوئی بھی نہیں فاطمی خلافت کے نعرے لگانے والے کہاں گئے اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا اور کروٹ بدل لی وہ تکلیف میں تھا اتنے میں قاصد کمرے میں ایا اور کہا امیر مصر نے انے سے انکار کر دیا ہے او بدنصیب صلاح الدین عازد نے کراہنے کے لہجے میں کہا میرے مرنے سے پہلے ایک بار تو ا جاتا صدمے نے اس کی تکلیف میں اضافہ کر دیا اس نے نہیف اواز میں رک رک کر کہا اب تو میری لونڈیاں بھی میرے بلانے پر نہیں اتی امیر مصر کیوں ائے گا مجھے گناہوں کی سزا مل رہی ہے میرے خون کے رشتے بھی ٹوٹ گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی نہیں ایا وہ میرے جنازے پر ائیں گے اور محل میں جو ہاتھ لگا اٹھا کر چلے جائیں گے وہ کچھ اور دیر کراتا رہا دونوں تیماردار عورتیں پریشانی کے عالم میں اس کی باتیں سنتی رہیں ان کے پاس تسلی اور حوصلہ افزائی کے لیے بھی جیسے کوئی الفاظ نہیں رہے تھے ان کے چہروں پر خوف ستاری تھا جیسے وہ خدا کے اس قہر سے ڈر رہی تھی جو بادشاہ کو گدا اور امیر کو فقیر بنا دیتا ہے دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا ایک سفید ریش بزرگ کھڑا تھا وہ ذرا رک کر اندر ایا اور الازد کی نبض پر ہاتھ رکھ کر کہا السلام علیکم میں امیر مصر کا طبیب خاص ہوں انہوں نے مجھے اپ کے علاج کے لیے بھیجا ہے کہ امیر مصر میں اتنی سی بھی مروت نہیں رہی کہ ا کے مجھے دیکھ ہی جاتا العزت نے کہا میرے بلانے پر بھی نہیں ایا اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا طبیب نے کہا انہوں نے مجھے اپ کے علاج کے لیے بھیجا ہے میں یہ کہنے کے جرات ضرور کروں گا کہ اتنے بڑے واقعے کے بعد جس میں باقاعدہ جنگ ہوئی اور ہزاروں جانے ضائع ہو گئیں امیر مصر شاید یہاں نہیں ائیں گے انہیں اپ کی صحت کا فکر ضرور ہے ایسا نہ ہوتا تو وہ مجھے اپ کے علاج کا حکم نہ دیتے اس حالت میں اپ ایسی کوئی بات ذہن میں نہ لائیں جو اپ کے دل کو تکلیف دیتی ہے ورنہ علاج نہیں ہو سکے گا میرا علاج ہو چکا الازد نے کہا میرا ایک پیغام غور سے سن لو صلاح الدین کو لفظ ب لفظ پہنچا دینا میری نفس سے ہارتھ ہٹا لو میں اب دنیا کی حکمت اور
ENGLISH
May Allah forgive you. Usad left disappointed. Sultan Ayubi called the porter and said, "Call the doctor." He said to Ali bin Sufyan and Bahauddin Shaddad. He wants to call me to the palace and complete my work. He should give me a good blow. He has the right. You have not done well. Shaddad said and Ali bin Sufyan agreed. Go to Alazat I know he is sick for a long time it seems his doctor is disappointed go and see him and treat him he may not be sick if so let me know The former Caliph Al-Azd was allowed to live in the same palace which was the base of his caliphate. He made this palace a paradise. Military commanders used to stand in attendance. The revolution brought by Sultana Ayubi had changed the world of this palace. The Khalifa was no longer the Khalifa. A detachment of the army was still seen there, but it was not Al-Azd's bodyguard, it was a guard. He was suffering from a heart problem, the grief of being deprived of the caliphate, old age, alcohol and luxury had put him to bed, in a few days he became like a corpse. I was there. Al-Azd would open his eyes and look at them and close his eyes. He bowed down and asked about his health. They are always present in the next room, call me and both of them left the room. Al-Azd moaned and said to the tall and middle-aged women standing next to him, these two girls did not come to take care of me, they came to see when I will die. I am alive, I know, they have made friends, they are around me, waiting for me to die, their eyes are on my property and wealth, who is my sympathizer here except you three. Where did they go? He put his hand on his heart and changed his crotch. He was in pain. At that time, the messenger came to the room and said that the Emir of Egypt has refused him. Unfortunately, Salahuddin Azad said in a groaning tone, "Before I die." Once the shock increased his pain, he stopped and said in a low voice, "Now even my concubines are not at my call, why will Amir come to Egypt? I am being punished for my sins, my blood relations are also." They are broken, none of them will come to my funeral, and those who will go to the palace with their hands raised, he continued to wait a little longer. As if there were no words for encouragement, their faces were full of fear as if they were afraid of the wrath of God that makes a king an ass and a rich man a pauper. The old man was standing, he stopped and came in and put his hand on Al-Azd's pulse and said, "Peace be upon you, I am a special physician of the Emir of Egypt. He has sent me to treat you. There is not even a single death in the Emir of Egypt that he On seeing me, Al-Izzat said, "He did not come even on my invitation. I cannot say anything about it." The doctor said, "They have sent me to treat you. I will definitely dare to say that after such a big incident in which There was a regular war and thousands of lives were lost. The Emirs of Egypt probably won't bring you here. They must be worried about your health. If it wasn't for that, they wouldn't have ordered me to treat you. Al-Azd said, "Listen carefully to one of my messages, convey word by word to Salahuddin. Remove the hearth from my soul. I am now the wisdom of the world and
چکا ہوں سنو طبیب صلاح الدین سے کہنا کہ میں تمہارا دشمن نہ تھا میں تمہارے دشمنوں کے جال میں اگیا تھا یہ بدقسمتی میری ہے یہ صلاح الدین کی کہ میں اپنے گناہوں کا اعتراف اس وقت کر رہا ہوں جب میں ایک گھڑی کا مہمان ہوں صلاح الدین سے کہنا کہ میرے دل میں ہمیشہ تمہاری محبت رہی ہے اور تمہاری محبت کو ہی دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں میرا جرم یہ ہے کہ میں نے زر و جواہرات اور حکمرانی کی محبت بھی اپنے دل میں پیدا کر لی جو اسلام کے احترام پر غالب اگئے اج سب نشے اتر گئے ہیں وہ لوگ جو میرے پاؤں میں بیٹھا کرتے تھے وہ بیگانے ہو گئے ہیں وہ لونڈیاں بھی میرے مرنے کی منتظر ہیں جو میرے اشاروں پر ناشہ کرتی تھی میرے دربار میں اوریاں رقص کرنے والی لڑکیاں مجھے نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انسان کی باتوں میں ا کر خدا کو بھول جاتا ہے اور یہ بھول ہی جاتا ہے کہ اسے خدا کے پاس جانا ہے جہاں کوئی انسان کسی انسان کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ان کمبختوں نے مجھے خدا بنا ڈالا مگر اج جب حقیقی خدا کا بلاوا ایا ہے تو مجھ پر حقیقت روشن ہوئی ہے میں نے اس کو نجات کا ذریعہ سمجھا ہے کہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر لوں اور صلاح الدین کو ایسے خطروں سے خبردار کرتا جاؤں جن سے وہ شاید واقف نہیں اسے کہنا کہ میرے محافظ دستے کا سالار جب تک زندہ ہے اور سوڈان میں کہیں روپوش ہے وہ مجھے بتا کر گیا تھا کہ فاطمہ خلافت کی بحالی کے لیے وہ سوڈانی اور قابل اعتماد مصریوں کی فوج تیار کرے گا اور وہ صلیبیوں سے جنگی اور مالی امداد لے گا صلاح الدین سے کہنا اسے محافظ دستے پر نظر رکھے اکیلا باہر نہ نکلے رات کو زیادہ محتاط رہے کیونکہ رجب نے فدائیوں کے ساتھ ایوبی کے قتل کا منصوبہ بنا لیا ہے اسے کہنا کہ مصر تمہارے لیے اگ اگلنے والا پہاڑ ہے تم جنہیں دوست سمجھتے ہو وہ بھی تمہارے دشمن ہیں اور وہ جو تمہاری اواز کے ساتھ اواز ملا کر وسیع سلطنت اسلامیہ کے نعرے لگاتے ہیں ان میں بھی صلیبیوں کے پالے ہوئے سانپ موجود ہیں تمہارے جنگی شعبے میں فیض الفاطمی بڑا حاکم ہے مگر تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے مخالفین میں سے ہے وہ رجب کا دست راز تھے تمہاری فوج میں ترک شامی اور دوسری عرب نسل کے جو کماندار اور سپاہی ہیں ان کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرنا یہ سب تمہارے وفادار اور اسلام کے محافظ ہیں مصری فوجیوں میں قابل اعتماد بھی ہیں اور بے وفا بھی تم نہیں جانتے کہ تم نے جب سوڈانیوں پر فیصلہ کن حملہ کیا تھا تو حملہ اور دوستوں میں دو دوستوں کے کماندار تمہاری چال کو ناکام کرنے کے لیے تمہاری ہدایات اور احکام پر غلط عمل کرنا چاہتے تھے لیکن تمہارے طور پر عرب سپاہیوں میں جوش اور جذبہ ایسا تھا کہ اپنے کمانداروں کے حکم کا انتظار کیے بغیر وہ سوڈانیوں پر قہر بن کے ٹوٹے تھے ورنہ یہ دو کماندار جنگ کا پانسا پلٹ کر تمہیں ناکام کر دیتے الازت مریمری اواز میں رک رک کر بولتا رہا طبیب نے اسے ایک دو مرتبہ بولنے سے روکا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کرا دیا اس کے چہرے پر پسینہ اس طرح اگیا تھا جیسے کسی نے پانی چھڑک دیا ہو دونوں عورتوں نے اس کا پسینہ پہنچا لیکن پسینہ چشمے کی طرح پھوٹتا ا رہا تھا اس نے چند ایک اور انتظامیہ اور فوج کے حکام کے نام بتائے جو سلطان ایوبی کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے ان میں سب سے زیادہ خطرناک فدائی تھے جن کا پیشہ پراصرار قتل تھا وہ اس فن کے ماہر تھے الازد نے مصر میں صلیبیوں کے اثر و رسوخ کی تفصیل بھی بتائی اور کہا انہیں مسلمان نہ سمجھنا یہ ایمان فروخت کر چکے ہیں صلاح الدین سے کہنا کہ اللہ تمہیں کامیاب کرے اور سرخرو کرے لیکن یہ یاد رکھنا کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو چوری چھپے تمہیں دھوکہ دے رہے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو خوشامد سے تمہیں خدا کے بعد کا درجہ دیں گے یہ ان لوگوں سے زیادہ خطرناک ہیں جو چوری چھپ کے دھوکہ دیتے ہیں اسے کہنا کہ دشمنوں کو زیر کر کے جب تم اطمینان سے حکومت کی گدی پر بیٹھو گے تو میری طرح دونوں جہان کے بادشاہ نہ بن جانا سدا بادشاہی اللہ کی ہے اسی مصر میں فرعونہ کے کھنڈر دیکھ لو میرا انجام دیکھ لو اپنے اپ کو اس انجام سے بچانا اس کی زبان لڑکھڑانے لگی اس کے چہرے پر جہاں کرب کا تاثر تھا وہاں سکون سا بھی نظر انے لگا اس نے بولنے کی کوشش کی مگر حلق سے خراٹے نکلے اس کا سر ایک طرف لڑک گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا یہ واقعہ ستمبر 1171 عیسوی کا ہے طبیب نے سلطان ایوبی کو اطلاع بھیجوائی محل میں الازد کی موت کی خبر پھیل گئی محل کے کسی گوشے سے رونا تو دور کی بات ہے ہلکی سی سسکی بھی سنائی نہ دی صرف ان دو عورتوں کے انسو بہہ رہے تھے جو اخری وقت اس کے پاس تھی سلطان ایوبی چندے کو کام کے ساتھ فارن محل میں گیا اس نے دیکھا کہ وہاں برامدوں اور غلام گردشوں میں کچھ سرگرمی سی تھی
ENGLISH
Listen to the physician Salahuddin saying that I was not your enemy, I was caught in the trap of your enemies. to say that I have always had your love in my heart and I am leaving this world with your love in my heart. But I prevailed, now all have become intoxicated, those who used to sit at my feet have become aliens, those concubines are also waiting for my death, who used to drink at my cues, the girls who dance Oriyas in my court look at me with hatred. The biggest mistake of man is that he forgets God in the words of man and he forgets that he has to go to God where no man can bear the burden of the sins of any man. made me God, but now when the call of the true God has come, the truth has dawned on me. It may not be known that the leader of my bodyguard is still alive and hiding somewhere in Sudan. And will take financial aid, tell Saladin to keep an eye on the guards, don't go out alone, be more careful at night, because Rajab has planned the murder of Ayyubid with the fiduciaries, tell him that Egypt is a mountain of fire for you. Those whom you consider as your friends are also your enemies and those who join your voices and chant slogans of the vast Islamic empire, there are also snakes raised by the crusaders in your war field, Faiz al-Fatimi is the great ruler, but you do not know that He is one of your opponents, he was Rajab's secret agent, don't trust anyone except commanders and soldiers who are Turkish-Syrian and other Arab races in your army, they are all loyal to you and defenders of Islam. They are also trustworthy among Egyptian soldiers. You are also disloyal and you don't know that when you made a decisive attack on the Sudanese, the commanders of two of your friends wanted to misfollow your instructions and orders to thwart your plan, but as you, the Arabs The enthusiasm and enthusiasm among the soldiers was such that without waiting for the orders of their commanders, they were furious with the Sudanese, otherwise these two commanders would have turned the dice and defeated you. When he stopped speaking twice, he silenced him with a gesture of his hand. Sweat had appeared on his face as if someone had splashed water. Name a few other administrative and military officials who were involved in conspiracies against Sultan Ayyubid. Among the most dangerous were the Fidayis, whose profession was assassination. They were experts in this art. He also explained the details and said that they should not be considered Muslims. They have sold their faith. Say to Salahuddin that Allah may make you successful and make you successful, but remember that one is the people who are secretly deceiving you and the other is those people. Those who will flatter you to be second to God are more dangerous than those who secretly deceive and say to him that after subduing your enemies, when you will sit contentedly on the throne of government, then like me you will be the king of both worlds. Do not become an eternal kingdom belongs to Allah. In this Egypt, look at the ruins of the pharaoh. Look at my end. Save yourself from this end. His tongue began to falter. He tried to speak, but snoring came out of his throat, his head tilted to one side and he became silent forever. This incident is in September 1171 AD. Crying from the corner is a distant thing, not even a slight sob was heard, only the tears of the two women who were with him last time were flowing. There was some activity in the circulations
اس نے محافظ دستے کے کماندار کو بلا کر حکم دیا کہ محل کے تمام کمروں میں گھوم جاؤ تمام مردوں عورتوں اور لڑکیوں کو کمروں سے نکال کر باہر صحن میں بٹھا دو اور کسی کو باہر نہ جانے دو کسی کو کیسی ہی ضرورت کیوں نہ ہو استبل سے کوئی گھوڑا نہ کھولے سلطانہ ایوبی نے محل پر قبضہ کرنے کا حکم دے دیا انہوں نے عجیب چیز یہ دیکھی کہ اور جس نے عورت اور شراب کو ہی زندگی جانا تھا اس کی میت پر رونے والا کوئی نہ تھا محل مردوں اور عورتوں سے بھرا پڑا تھا مگر کسی کے چہرے پر اداسی کا تاثر بھی نہ تھا طبیب سلطان ایوبی کو الگ لے گیا اور اسے الحاضد کی اخری باتیں سنائی اس نے اپنی رائے ان الفاظ میں دی کہ اپ کو اخری وقت اس کے بلاوے پر ا جانا چاہیے تھا سلطان ایوبی نے اسے بتایا کہ وہ اس خدشے کے پیش نظر نہیں ائے کہ اس شخص کا کچھ بھروسہ نہ تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسے ایمان فروشوں سے نفرت تھی مگر اب طبیب کی زبانی الاضد کا اخری پیغام سن کر سلطان ایوبی کو سخت پچھتاوا ہونے لگا لگا وہ بہت بے چین ہو گئے اور انہوں نے کہا اگر میں ا جاتا تو اس کے منہ سے کچھ اور راز کی باتیں نکلوا لیتا وہ کوئی راز سینے میں نہ لے گیا ہو متعدد مرخین نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ الحاضر بے شک عیاش اور گمراہ تھا اس نے سلطان ایوبی کے خلاف سازشوں کی پشت پناہی بھی کی لیکن اس کے دل میں سلطان ایوبی کی محبت بہت تھی دو مرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر سلطان ایوبی الازد کے بلاوے پر چلے جاتے تو الاذد انہیں اور بہت سی باتیں بتاتا بہرحال تاریخ ثابت کرتی ہے کہ الازد کے بلاوے میں کوئی فریب نہیں تھا اس نے اپنی روح کی نجات کے لیے اور سلطان ایوبی کی محبت کے لیے گناہوں کی بخشش مانگنے کا یہ طریقہ اختیار کیا تھا بہت مدت تک سلطان ایوبی تعصب میں رہے کہ وہ اخری وقت الازد کی باتیں نہ سن سکے بعد میں ان تمام افراد کے خلاف الزامات صحیح ثابت ہوئے تھے جن کی الاضت نے نشاندہی کی تھی سلطان ایوبی نے ان تمام افراد کے نام علی بن سفیان کو دیکھ کر حکم دیا تھا کہ ان سب کے ساتھ اپنے جاسوس اور سراغ رساں لگا دو لیکن کسی کو مکمل شہادت اور ثبوت کے بغیر گرفتار نہ کرنا ایسے طریقے اختیار کرو جو عین موقع پر پکڑے جائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کے ساتھ بے انصافی ہو جائے یہ احکام دے کر انہوں نے تجویز و تکفین کے انتظامات کرائے اسی شام الازد عام قبرستان میں دفن کر دیا گیا جہاں تھوڑے ہی عرصے بعد قبر کا نام و نشان مٹ گیا سلطان ایوبی نے محل کی تلاشی لی وہاں سے اس قدر سونا جواہرات اور بے شکمت تحائف نکلے کہ سلطان ایوبی حیران رہ گئے انہوں نے حرم کی تمام عورتوں اور جوان لڑکیوں کو علی بن سفیان کے حوالے کر دیا اور حکم دیا کہ معلوم کرو کہ کون کہاں کی رہنے والی ہے ان میں سے جو اپنے گھروں کو جانا چاہتی ہیں انہیں اپنی نگرانی میں گھروں تک پہنچا دو اور ان میں جو غیر مسلم اور فرنگی ہیں ان کے متعلق پوری طرح چھان بین کر کے معلوم کرو کہ وہ کہاں سے ائی تھیں اور ان میں مشتبہ کون کون سی ہے مشتبے کو ازاد نہ کیا جائے بلکہ اس سے معلومات حاصل کی جائیں سلطان ایوبی رحمت اللہ علیہ نے محل سے برامد ہونے والا مال و دولت ان تعلیمی اداروں مدرسوں اور ہسپتالوں میں تقسیم کر دیا جو انہوں نے مصر میں کھولے تھے الازد نے مرنے سے پہلے اپنے محافظ دستے کے سالار رجب کے متعلق بتایا تھا کہ وہ سوڈان میں روپوش ہے جہاں وہ سلطان ایوبی کے خلاف فوج تیار کر رہا ہے اور وہ صلیبیوں سے بھی مدد لے گا علی بن سفیان نے چھ ایسے جانباز منتخب کیے جو لڑاکا جاسوس تھے ان کا کماندار رجب کو پہچانتا تھا انہیں تاجروں کے بھیس میں سوڈان روانہ کر دیا گیا انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ممکن ہو سکے تو اسے زندہ پکڑ لائیں ورنہ وہیں قتل کر دیں جس وقت یہ پارٹی سوڈان کو روانہ ہوئی اس وقت رجب سوڈان میں نہیں بلکہ فلسطین کے ایک مشہور اور مضبوط قلے شعبت میں تھا
ENGLISH
He called the commander of the guard and ordered to go around all the rooms of the palace, take out all the men, women and girls from the rooms and make them sit outside in the courtyard and do not let anyone go out, no matter what the need of the stable. Sultana Ayubi ordered to capture the palace. They saw a strange thing that the one who wanted to live only with women and alcohol had no one to mourn his dead. The palace was filled with men and women. But there was no expression of sadness on anyone's face. The doctor took Sultan Ayyubi apart and told him the last words of Al-Hazid. He told him that he did not go because he was afraid that the man had no trust and the second reason was that he hated those who sold the faith, but now after hearing the last message of al-Azd from the physician, Sultan Ayyubi began to feel regret. He became very anxious and said that if I had gone, I would have taken some more secrets out of his mouth. Yes, he also supported the conspiracies against Sultan Ayyubi, but he had a lot of love for Sultan Ayyubi in his heart. History proves that there was no deception in Al-Azd's call. He adopted this method of asking for forgiveness of sins for the salvation of his soul and for the love of Sultan Ayubi. Couldn't listen to Al-Azd's words. Later, the accusations against all the people that Al-Azd had pointed out were proven true. Sultan Ayyubi saw the names of all these people and ordered Ali bin Sufyan to bring all of them with his spies and Keep track but don't arrest anyone without complete testimony and proof. On the same evening, Al-Azd was buried in the general cemetery, where after a short time, the name and mark of the grave were erased. All the women and young girls were handed over to Ali bin Sufyan and ordered to find out who lives where and among them who want to go to their homes, bring them to their homes under your supervision and among them those who are non-Muslims. And if there are foreigners, investigate them thoroughly and find out where they came from and who among them is a suspect. The suspect should not be released, but information should be obtained from him. Al-Azd, before his death, told about Rajab, the head of his bodyguard, that he was hiding in Sudan, where he was leading an army against Sultan Ayubi. Ali bin Sufyan selected six soldiers who were combat spies. Their commander knew Rajab. They were sent to Sudan in the guise of traders. If possible, capture him alive, otherwise kill him on the spot. At the time this party left for Sudan, Rajab was not in Sudan, but in Shabat, a famous and strong fort in Palestine.


No comments:

Post a Comment