27 The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode27
Sunday, 24 December 2023
27 The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode27
Wednesday, 20 December 2023
The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode26
The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode26
ادھر قاہرہ میں ام ارارہ ہوش میں ا چکی تھی وہ اپنی داستان سنا چکی تھی جو ہم نے پہلے بیان کی ہے کبھی وہ کہتی کہ اس نے کوئی خواب دیکھا ہے اسے ساری باتیں یاد اگئی تھیں اس نے بتایا کہ پروہت اسے دن رات بے ابرو کرتا تھا اور پھول کئی بار اس کی ناک کے ساتھ لگاتا تھا امہ راہ کو بتایا گیا کہ اس کی گردن کٹنے والی تھی اگر چھاپہ مار بروقت نہ پہنچتے تو اس کا سر غار اور جسم مگرمچوں کے پیٹ میں ہوتا نازک سی یہ حسین لڑکی خوف سے کانپنے لگی اس کے انسو نکل ائے اس نے سلطان ایوبی کے ہاتھ چوم لیا اور کہا خدا نے مجھے گناہوں کی سزا دی ہے میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہتی ہوں خدا کے لیے مجھے پناہ میں لے لیں اس کی ذہنی کیفیت بہت بری تھی اس نے شام کے ایک دولت مند تاجر کا نام لے کر کہا کہ وہ اس کی بیٹی ہے یہ مسلمان تاجر تھا اس کا دوستانہ شام کے امیروں کے ساتھ تھا اس وقت کے امیر ایک ایک شہر یا تھوڑے تھوڑے رقبے کے خطوں کے حکمران ہوا کرتے تھے جو مرکزی عمارت کے ماتحت تھے مرکزی عمارت مرکزی وزارت اور خلافت کے ماتحت ہوتی تھی یہ عمرہ دسویں صدی کے بعد پوری طرح عیاشیوں میں ڈوب گئے تھے بڑے تاجروں سے دوستی رکھتے تھے ان کے ساتھ کاروبار بھی کرتے اور رشوت بھی لیتے تھے ان کے حرموں میں لڑکیوں کی افراد رہتی اور شراب بھی چلتی تھی ام ارارہ ایسے ہی ایک دولت مند تاجر کی بیٹی تھی جو اپنے باپ کے ساتھ 12 13 سال کی عمر میں عمرا کی رقص و سرود کی محفلوں میں جانے لگی تھی باپ غالبا دیکھ رہا تھا کہ لڑکی خوبصورت ہے اس لیے وہ اسے لڑکپن میں ہی عمرہ کی سوسائٹی کا عادی بنانے لگا تھا ام ارارہ نے بتایا کہ وہ 14 سال کی ہوئی تو عمرا نے اس میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی دو نے اسے بڑے قیمتی تحفے بھی دیے وہ گناہوں کی اسی دنیا کی ہو کے رہ گئی عمر کے سولویں سال وہ باپ کو بتائے بغیر ایک امیر کی درپردہ داشتہ بن گئی مگر رہتی اپنے گھر میں تھی وہ دولت میں جنی پلی تھی شرم و حیات سے اشنا نہیں تھی دو تین سال بعد وہ باپ کے ہاتھ سے نکل گئی اور ازادی سے دو اور عمرہ سے تعلقات پیدا کر لیے اس نے خوبصورتی چرب زبانی اور مردوں کو انگلیوں پر نچانے میں نام پیدا کر لیا باپ نے اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا گزشتہ چھ سال سے اسے ایک اور ہی قسم کی ٹریننگ ملنے لگی تھی یہ تین عمرہ نے مل کر سازش کی تھی جس میں اس کا باپ بھی شریک تھا اسے خلافت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی ٹریننگ دی جا رہی تھی اگے چل کر اس سازش میں ایک صلیبی بھی شامل ہو گیا یہ عمرہ جو مختار حاکم بننے کے خواب دیکھ رہے تھے صلیبیوں کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا ام ارارہ کو نور الدین زنگی اور خلافت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا صلیبیوں نے اس مہم میں تین عیسائی لڑکیاں شامل کر کے ایک زمین دوز محاز بنا لیا انہوں نے جب دیکھا کہ مصر میں صلاح الدین ایوبی نے نام پیدا کر لیا ہے اور اس نے دو ایسے کارنامے کر دکھائے ہیں جس نے اسے مصر کا وزیر اور امیر نہیں بلکہ بادشاہ بنا دیا ہے تو ام ارارہ کو خلیفہ الازد کی خدمت میں تحفے کے طور پر بھیجا گیا اسے مہم یہ دی گئی تھی کہ خلافت کے دل میں صلاح الدین ایوبی کے خلاف دشمنی پیدا کرے اور سابق سوڈانی فوج کے جو چند ایک حکام فوج میں رہ گئے ہیں انہیں الازد کے قریب کر کے سوڈانیوں کو ایک اور بغاوت پر امادہ کرے اسے دوسری مہم یہ دی گئی تھی کہ خلیفہ العابد کو امادہ کرے کہ سوڈانی جب بغاوت کریں تو انہیں ہتھیاروں اور ساز و سامان سے مدد دے اور اگر ممکن ہو سکے تو صلاح الدین ایوبی کی فوج کا کچھ حصہ باغی کر کے سوڈانیوں سے ملا دے خلیفہ اور کچھ نہ کر سکے تو اپنا محافظ دستار سوڈانیوں کے حوالے کر کے خود صلاح الدین ایوبی کے پاس جا پہنچے جاب پناہ لے اور اسے کہے کہ اس کے محافظ باغی ہو گئے ہیں مختصر یہ کہ صلاح الدین ایوبی کے خلاف ایسا محض قائم کرنا تھا جو اسے مصر سے بھاگنے پر مجبور کر دے اور وہ باقی عمر گمنامی میں گزار جائے ام ارارہ نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئی تھی لیکن باپ نے اسے مسلمانوں کی ہی جڑیں کاٹنے کی تربیت دی اور سلطنت اسلامیہ کے امراء نے اپنے دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی سلطنت کو تباہ کرنے کی کوشش کی اس لڑکی نے خلیفہ الازد کا دماغ اپنے قبضے میں لے لیا اور سلطان ایوبی کے خلاف کر دیا تھا رجب کو وہ اس سازش میں شریک کر چکی تھی رجب نے دو اور فوجی حکام کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا رجب نے اس سلسلے میں یہ کام کیا کہ خلیفہ کے محافظ دستے میں وہ مصریوں کی جگہ سوڈانی رکھتا جا رہا تھا ام ارارہ کو خلیفہ کے پاس ائے ابھی دو اڑھائی مہینے ہوئے تھے مقصر خلافت پر غالب اگئی تھی اور حرم کی ملکہ بن گئی تھی اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ خلیفہ سلطان ایوبی کو قتل کرانا چاہتا ہے اور رجب نے حشیشین سے مل کر قتل کا انتظام کر دیا ہے یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ سلطان ایوبی نے خلیفہ کے بیکار وجود اور عیش پرستی سے تنگ ا کر اس کے خلاف کارروائی شروع
ENGLISH
On the other hand, Umm Arara had regained consciousness in Cairo. She had narrated her story which we have mentioned before. Sometimes she said that she had a dream and she remembered all the things. and put the flower on her nose several times. Amrah was told that her neck was going to be cut if the raiders did not arrive in time, her head would be in a cave and her body would be in the stomach of crocodiles. His tears came out, he kissed Sultan Ayyubi's hands and said, "God has punished me for my sins, I want to confess my sins, for the sake of God, take me as a refuge." His mental state was very bad. He named a wealthy merchant of the city and said that she was his daughter. This Muslim merchant was friendly with the Syrian emirs. The main building was under the central ministry and the caliphate. After the 10th century, these umrahs were completely immersed in luxury. They were friends with big businessmen. Umm Arara was the daughter of a wealthy merchant who started going to Umra's dance and song gatherings with her father at the age of 12 or 13. The father probably saw that the girl was beautiful. Umm Arara said that when she was 14 years old, Umra started taking interest in her. They also gave her valuable gifts. At the age of sixteen, she became the veiled daughter of a rich man without telling her father, but she lived in her own home. She was born in wealth and was not familiar with shame and life. She developed a relationship with two more Umrahs. She made a name for herself with her beauty, eloquence and making men dance on her fingers. had conspired together in which his father was also a participant, he was being trained to undermine the roots of the caliphate. Later, a crusader also joined the conspiracy. This would not have been possible without the help of Umm Arara was also used to create misunderstandings between Nur al-Din Zangi and the Caliphate. As Salah al-Din Ayyubi had made a name for himself in Egypt and had performed two feats that made him not the minister and emir of Egypt, but the king, Umm Arara was sent as a gift to the service of Caliph al-Azd. The campaign was given to him to create enmity against Salah al-Din Ayubi in the heart of the caliphate and to bring the few remaining officers of the former Sudanese army closer to Al-Azd and to encourage the Sudanese to launch another rebellion. It was given that the Caliph al-Abid should persuade the Sudanese to help them with weapons and equipment when they revolted, and if possible, to turn part of the army of Salah al-Din Ayubi into a rebel and join the Sudanese. If he could, he handed over his bodyguard Dastar to the Sudanese and went to Salah al-Din Ayyubi himself to seek refuge and tell him that his guards had become rebels. Umm Arara told Sultan Ayyubi that she was born in a Muslim home but her father trained her to cut the roots of Muslims and the princes of the Islamic Empire sided with their enemies. Together they tried to destroy their own empire. This girl took possession of the mind of Caliph Azad and turned him against Sultan Ayubi. Rajab was involved in this conspiracy. Rajab did this in this regard that he was being replaced by Sudanese in the Caliph's bodyguards instead of Egyptians. He also revealed that the Caliph wanted to kill Sultan Ayyubi and that Rajab had arranged the assassination with the Hashishisin. Start action against him
نے خلیفہ کے بیکار وجود اور عیش پرستی سے تنگ ا کر اس کے خلاف کاروائی شروع کر دی تھی اور یہ بھی اتفاق تھا کہ ام ارارہ کو وہی لوگ اغوا کر کے لے گئے جنہیں وہ سلطان ایوبی کے خلاف لڑانا چاہتی تھی اور یہ اتفاق تو بڑا ہی اچھا تھا کہ سلطان ایوبی نے رجب سے محافظ دستے کی کمان لے لی اور وہاں اپنی پسند کا ایک نائب سالار بھیج دیا تھا مگر ان اتفاقات نے حالات کا دھارا موڑ کر سلطان ایوبی کے لیے ایک خطرہ پیدا کر دیا سلطان نے ام ارارہ کو اپنی پناہ میں رکھا لڑکی بری طرح پچھتا رہی تھی اور گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتی تھی قدرت نے اسے ایک دھچکا دے کر اس کا دماغ درست کر دیا تھا سلطان ایوبی ٹھنڈے دل سے سوچنے لگے کہ اس سازش میں جو حکام شامل ہیں ان کے ساتھ وہ کیا سلوک کریں دوسرے دن الناصر اور بہاؤدین شداد فرعونہ کا اخری نشان مٹا کر فوج واپس لے ائے اٹھ دنوں بعد رات کا پچھلا پہر تھا سلطان ایوبی کے جاگنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی انہیں ملازم نے جگا دیا اور کہا کہ الناصر علی بن سفیان اور دو اور نائب ائے ہیں سلطان اچھل کر اٹھے اور ملاقات کے کمرے میں چلے گئے ان حکام کے ساتھ ان دستوں میں سے ایک کا کماندار بھی تھا جو شہر سے دور گشت کرتے رہتے تھے سلطان ایوبی کو بتایا گیا کہ کم و بیش 6 ہزار سوڈانی جن میں برطرف سوڈانی فوج کے افراد اور اس وحشی قبیلے کے افراد بھی ہیں جس کے عقیدے کو ملیا میٹ کیا گیا تھا مصر کی سرحد میں داخل ہو کر ایک جگہ پڑاؤ کیے ہوئے ہیں اس کماندار نے یہ عقلمندی کی کہ عام لباس دو شتر سوار یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجے کہ اس لشکر کا کیا ارادہ ہے ان شتر سواروں نے اپنے اپ کو مسافر ظاہر کیا اور یہ معلوم کر لیا کہ یہ لشکر قاہرہ پر حملہ کرنے جا رہا ہے شتر سواروں نے لشکر کے سربراہوں سے مل کر صلاح الدین ایوبی کے خلاف باتیں کی اور کہا کہ وہ بہت سے ادمیوں کو اس لشکر میں شامل کرنے کے لیے لائیں گے یہ کہہ کر وہ رخصت ہو ائے ان کی اطلاع کے مطابق یہ لشکر ادھر ادھر سے مزید نفری کا منتظر تھا اور اسے اگلے روز وہاں سے کوچ کرنا تھا سلطانہ ایوبی نے پہلا حکم یہ دیا کہ وہ خلیفہ کے محافظ دستے میں صرف 50 سپاہی اور ایک کماندار رہنے دے باقی تمام دستے کو چھاونی میں برا لے اگر خلیفہ احتجاج کرے تو کہہ دینا کہ یہ میرا حکم ہے سلطان نے علی بن سفیان سے کہا کہ اپنے شعبے کے کم از کم 100 ادمی جو سوڈانی زبان اچھی طرح بول سکتے ہیں سوڈانی باغیوں کے بحث میں اس کماندار کے ساتھ ابھی روانہ کر دو کماندار سے کہا کہ یہ سو ادمی ان دو شتر سواروں کے ساتھ سوڈانیوں کے لشکر میں شامل ہوں گے یہ دو شتر سوار سنتری بتائیں گے کہ وہ وعدے کے مطابق مدد لائے ہیں ان کے لیے ہدایات یہ ہیں کہ وہ لشکر کی پیش قدمی کے متعلق اطلاع دیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ رات کے وقت اس لشکر کے جانور اور رسد کہاں ہوتی ہے سلطانہ ایوبی نے الناصر سے کہا کہ تیز رفتار گھوڑ سوار چھاپہ ماروں اور چھوٹی منجنیقوں کے دستے تیار رکھو میں نے سوچا تھا کہ سیدھی ٹکر لے کر سوڈانیوں کو شہر سے دوری ختم کر دیا جائے اناصر نے کہا نہیں سلطان ایوبی نے کہا یاد رکھو الناصر اگر دشمن کی تعداد کبھی تم سے تھوڑی بھی ہو تو بھی براہ راست تصادم سے گریز کرو رات کو چھاپہ مار استعمال کرو شب خون مارو دشمن کو پہلو سے لو عقب سے لو ضرب لگاؤ اور بھاگو دشمن کی رسد تباہ کرو جانور تباہ کرو دشمن کو پریشان کرو اس کے دستے بکھیر دو اسے اگے انے کی مہلت نہ دو اسے دائیں بائیں پھیل جانے پر مجبور کر دو اگر سامنے سے ٹکر لینا چاہتا ہو تو یہ نہ بھولو کہ یہ صحرہ ہے سب سے پہلے پانی کی جگہ پر قبضہ کرو سورج اور ہوا کے رخ کو دشمن کے خلاف رکھو اسے پریشان کر کے اپنے پسند کے میدان میں لاؤ میں تمہیں عملی سبق دوں گا اس لشکر کی یہ خواہش میں پوری نہیں ہونے دوں گا کہ وہ قاہرہ تک پہنچے یا میری فوج اس کے امنے سامنے جا کر لڑے انہوں نے علی بن سفیان سے کہا تم جن ایک سو ادمیوں کو لشکر میں شامل ہونے کے لیے بھیجو گے انہیں کہنا کہ وہ سوڈانیوں میں یہ افواہ پھیلا دیں کہ چھ سات دنوں تک صلاح الدین ایوبی فلسطین پر حملہ کرنے جا رہا ہے اس لیے قاہرہ پر حملہ اس کی غیر حاضری میں کیا جائے گا ایسی بات سی ہدایات اور احکام دے کر سلطان ایوبی نے انہیں بتایا کہ وہ اج شام سے قاہرہ میں نہیں ہوگا انہوں نے قاہرہ سے بہت دور ایک جگہ بتائی وہ اپنا ہیڈ کوارٹر دشمن کے قریب رکھنا چاہتے تھے تاکہ جنگ اپنی نگرانی میں لڑ سکیں سب نے ملاقات کے کمرے میں ہی صبح کی نماز پڑھی اور سلطان ایوبی کے احکام پر کاروائی شروع ہو گئی سلطان ایوبی تیاری کے لیے اپنے کمرے میں چلے گئے سوڈانیوں کے لشکر میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا دو سال گزرے ان کی ایک بغاوت بری طرح ناکام ہو چکی تھی دوسری کوشش کی تیاریاں اسی وقت شروع ہو گئی تھیں صلیبیوں نے مدد کا وعدہ کر رکھا تھا اور جاسوسوں کی بہت بڑی تعداد مصر میں داخل کر دی تھی سوڈانیوں کا حملہ ایک نا ایک روز انا ہی تھا لیکن یہ اچانک اگیا وجہ یہ تھی کہ سلطان ایوبی نے ایک سوڈانی قبیلے کے مذہب پر فوجی حملہ کیا اور اس کے دیوتاؤں کا مسکن تباہ کر دیا تھا یہ
ENGLISH
Fed up with the caliph's idle existence and luxury, he started action against him and it was also a coincidence that Umm Arara was kidnapped by the same people whom she wanted to fight against Sultan Ayyubid and this coincidence is great. It was good that Sultan Ayyubi took the command of the guard from Rajab and sent a viceroy of his choice there, but these events turned the tide of the situation and created a danger for Sultan Ayyubi. The sheltered girl was repenting badly and wanted to atone for her sins. Nature gave her a blow and made her mind right. What should they do? On the second day, Al-Nasser and Bahauddin Shaddad removed the last sign of Pharaoh and brought back the army. Two more deputies. The Sultan jumped up and went to the meeting room. These officials were accompanied by the commander of one of the troops that patrolled the outskirts of the city. Sultan Ayubi was told that about 6,000 Sudanese Jin There are also members of the disbanded Sudanese army and members of the barbarian tribe, whose faith had been assimilated, entering the Egyptian border and encamping in one place. These camel riders pretended to be travelers and learned that this army was going to attack Cairo. He spoke and said that he would bring many men to join this army, and he left saying that according to his information, this army was waiting for more reinforcements from here and there and was to march from there the next day. Sultana Ayyubi gave the first order that he should leave only 50 soldiers and one commander in the Caliph's bodyguard and take the rest of the force in the camp. If the Caliph protested, say that this is my order. At least 100 people from their department who can speak the Sudanese language well were sent with this commander to discuss with the Sudanese rebels and told the two commanders that these 100 people will join the army of Sudanese with these two camel riders. Two camel-riding sentries will say that they have brought help as promised. Their instructions are to report the progress of the army and to see where the animals and supplies of the army are at night. Sultana Ayubi said to Al-Nasser to prepare troops of fast cavalry raiders and small catapults. I thought that the Sudanese should be cut off from the city by a direct attack. Anasser said no. Even if you are outnumbered, avoid direct confrontation. Use raids at night. Kill the night. Disperse your troops Don't give him time to grow Force him to spread left and right If you want to attack from the front Don't forget that this is a desert First occupy the water area Enemy the direction of the sun and the wind Put him against him and bring him to the field of your choice by disturbing him. I will give you a practical lesson. said to the one hundred men whom you will send to join the army, tell them to spread this rumor among the Sudanese that Salah al-Din Ayyubi is going to attack Palestine for six or seven days, so the attack on Cairo will take place in his absence. By giving such instructions and orders, Sultan Ayyubi told them that he would not be in Cairo from the evening. He told them a place far away from Cairo. Everyone could fight, they prayed the morning prayer in the meeting room and the action started on the orders of Sultan Ayyubi. Sultan Ayyubi went to his room to prepare. The army of Sudanese was increasing. The preparations for the second attempt had already failed. The crusaders had promised help and had sent a large number of spies into Egypt. It was that Sultan Ayubi made a military attack on the religion of a Sudanese tribe and destroyed the abode of its gods.
قبض کا تباہ کر دیا تھا یہ معمولی وجہ نہیں تھی مصر میں جو سلطان ایوبی کے مخالفین تھے انہوں نے سلطان کے اس اقدام کو ان کے خلاف استعمال کیا سوڈانی فوج کے برطرف کیے ہوئے باغی کمانداروں کو بھی موقع مل گیا یہ سب فورا حرکت میں ائے ان میں مصری مسلمان بھی تھے انہوں نے اس قبیلے کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا اور انہیں کہا کہ ان کا مذہب سچا ہے اور اگر وہ سلطان ایوبی کے خلاف اٹھیں گے تو ان کے دیوتا اپنی توہین کا انتقام لینے کے لیے ان کی مدد کریں گے انہوں نے پانچ سات دنوں میں لشکر جمع کیا اور قاہرہ پر حملے کے لیے چل پڑے جوں جوں ادھر ادھر کے لوگوں کو پتہ چلتا تھا وہ اس لشکر میں شامل ہو جاتے تھے دو شتر سواروں کے ساتھ جب ایک سو مسلح ادمی اس لشکر میں شامل ہوئے یہ لشکر سرحد سے اگے اگیا تھا اور ایک جگہ پڑاؤ کیے ہوئے تھا سلطان ایوبی رات کے وقت اتنا اگے چلے گئے جہاں انہیں اس لشکر کی نقل و حرکت کی اطلاع جلدی مل سکتی تھی ان سو ادمیوں نے حملہ اوروں کے سربراہوں کو بتایا کہ صلاح الدین ایوبی چند دنوں تک فلسطین کی طرف کوچ کر رہے ہیں سربرا بہت خوش ہوئے اور انہوں نے یہ پڑاؤ دو دن اور بڑھا دیا اگلی رات سلطان ایوبی کو اس لشکر کی پہلی اطلاعیں ملی اس سے اگلی رات انہوں نے 50 سوار اور پانچ منجنیقیں بھیجی جن کے ساتھ اتش گیر مادے والی ہانڈیاں تھیں انہیں ایک گھوڑا کھینچتا تھا ادھی رات کے وقت جب سوڈانی لشکر سویا ہوا تھا ان کے اناج کے ذخیرے پر ہنڈیاں کرنے لگی اچانک مان باد اتشی تیر ائے اور محب شعلے اٹھنے لگے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی منجنیپوں کو وہاں سے فارن پیچھے بھیج دیا گیا 50 سواروں نے تین چار حصوں میں تقسیم ہو کر گھوڑے سرپٹ دوڑائے اور لشکر کے پہلوں کے ادمیوں کو کچلتے اور بچیوں سے زخمی کرتے غائب ہو گئے لشکریوں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا اپ کے شولوں سے جہاں اناج کا ذخیرہ جل رہا تھا وہاں اونٹ اور گھوڑے بے دک کر ادھر ادھر بھاگنے لگے سلطانہ ایوبی کے سوار ایک بار پھر ائے اور تیر برساتے گزر گئے اور اس کے بعد نہیں ائے دوسرے دن اطلاع ملی کہ سوڈانیوں کے کم و بیش 400 ادمی اگ سے گھوڑوں اور اونٹوں کی بھگدڑ سے اور چھاپا مار سواروں کے حملوں سے مارے گئے ہیں تمام تر اناج جل گیا اور تیروں کا ذخیرہ بھی نظر اتش ہو گیا لشکر نے وہاں سے کوچ کیا اور رات ایسی جگہ پڑاؤ کیا جہاں ادھر ادھر مٹی کے ٹیلے تھے اس جگہ شبخون کا خطرہ نہیں تھا اب رات کو گ*** دستے بھی پڑاؤ سے دور دور گشت کرتے رہے مگر حملہ پھر بھی ہوا اس کا انداز بھی گزشتہ رات جیسا تھا لشکر کے سربراہوں کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے دو گ*** دستے سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں کی گھات میں اگئے تھے اور مارے گئے ہیں تیر اندازوں نے ٹیلوں سے اتشی تیر چلائے اور غائب ہو گئے سحر کا دھندلاکار نگھرنے تک یہ شب خون جاری رہا ان سے گزشتہ رات کی نسبت زیادہ نقصان ہوا شام کو علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کو اپنے جاسوسوں کی لائی ہوئی یہ اطلاع دی کہ کل دن کے وقت سورانی لشکر اس انداز سے پیش قدمی کرے گا کہ شب خون مارنے والوں کا ٹھکانہ معلوم کر کے اسے ختم کیا جائے سلطانہ ایوبی نے اپنے قریب کچھ فوج رکھی ہوئی تھی انہوں نے رات کے وقت حملہ نہ کرایا انہیں معلوم تھا کہ اب دشمن چوکنہ ہوگا اگلے روز انہوں نے 400 پیادا سپاہی سوڈانیوں کے لشکر کے دائیں طرف نصف میل دور بھیج دیے اور 400 دائیں طرف اور 400 بائیں طرف انہیں یہ ہدایت دی گئی کہ وہ اگے کو چلتے جائیں دونوں دست جنگی ترتیب میں سوڈانیوں کے پہلو سے گزرے تو سوڈانیوں نے اس خطرے کے پیش نظر اپنے پہلو پھیلا دیے کہ یہ دستے پہلو پر یا عقب سے حملہ کریں گے سلطان ایوبی کی ہدایت کے مطابق ان کے کماندار اپنے دستوں کو پرے ہٹاتے گئے سوڈانی دھوکے میں اگئے انہوں نے اپنے لشکر کو دائیں بائیں پھیلا دیا اچانک سلطان ایوبی کے 5 س سواروں نے ٹیلوں کی اوٹ سے نکل کر سوڈانیوں کے وسط میں حلہ بول دیا یہاں ان کی اعلی کمان تھی گوڑ سواروں کا حملہ اچانک اور بے حد شدید تھا سارے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی پہلوں سے پیادہ تیر اندازوں نے تیر برسانے شروع کر دیے اس طرح صرف 1300 نفری کی فوج نے کم و بیش 6 ہزار کے لشکر کو بھگدڑ میں مبتلا کر کے ایسی شکست دی کہ صحرہ لاشوں سے ہٹ گیا اور سوڈانی قید میں بھی ائے اور بھاگے بھی بھاگنے والوں کی تعداد تھوڑی تھی یہ سوڈانیوں کی دوسری بغاوت تھی جو سلطان ایوبی نے انہی کے خون میں ڈبو دی اب کہ سلطان ایوبی نے ڈپلومیسی سے کام نہیں لیا انہوں نے جنگی قیدیوں سے ملا انہوں نے جنگی قیدیوں سے معلومات حاصل کر کے ان کے تمام کمانداروں اور دیگر حکام کو قید میں ڈال دیا جو درپردہ بغاوت کی سازش میں شریک تھے تقریب کاروں کی بھی نشاندہی ہو گئی انہیں سزائے موت دی گئی رجب جیسے نائب سالاروں کو ہمیشہ کے لیے قید خانے میں ڈال دیا گیا سلطان ایوبی حیران اس پر ہوئے کہ بعض ایسے حکام اس سازش میں شریک تھے جنہیں وہ اپنا وفادار سمجھتے تھے انہوں نے اپنے معتمد سالاروں اور دیگر حکام سے کہہ دیا کہ مصر کے دفاع اور سلطنت کے استحکام کے لیے سوڈان پر حملہ اور قبضہ ضروری ہو گیا ہے انہوں نے خلیفہ الاذد سے محافظ د
ENGLISH
It was not a minor reason that Sultan Ayubi's opponents in Egypt used this move of the Sultan against them. The rebel commanders dismissed by the Sudanese army also got an opportunity. Among them were Egyptian Muslims. In five or seven days, he gathered an army and marched to attack Cairo. The army had advanced from the border and was encamped at a place. Sultan Ayubi went so far during the night where he could get information about the movement of this army quickly. Marching towards Palestine for a few days, Sarbara was very happy and extended this stay for two more days. The next night, Sultan Ayyubi received the first reports of this army. The next night, he sent 50 horsemen and five catapults with them. There were carts with explosive materials, they were pulled by a horse. At midnight, when the Sudanese army was sleeping, the carts began to raid their grain stores. Farin was sent back. 50 horsemen divided into three or four parts and galloped their horses. There the camels and horses started running wildly, Sultana Ayubi's horsemen came once more and passed by raining arrows, and after that, it was reported that on the second day, more or less 400 Sudanese men and horses and camels were killed. They were killed by the stampede and by the attacks of the raiding horsemen. All the grain was burnt and the store of arrows was lost. It wasn't. Now, at night, the G*** troops also patrolled far away from the camp, but the attack still took place, the style was the same as last night. The leaders of the army did not know that their two G*** troops were from Sultan Ayubi. The raiders were ambushed and killed. The archers shot arrows from the hills and disappeared. This night the bloodshed continued until the dawn of dawn. They suffered more losses than the previous night. informed by his spies that the Surani army would advance in the morning in such a way as to find out the abode of the murderers and eliminate them. They knew that the enemy would be alert. The next day, they sent 400 foot soldiers half a mile to the right of the Sudanese army, and 400 to the right and 400 to the left were instructed to move forward. When the two armies passed by the Sudanese side in battle formation, the Sudanese spread their flanks in view of the danger that these troops would attack from the side or from the rear. I came, they spread their army right and left. Suddenly Sultan Ayubi's 5 horsemen came out of the hills and shouted in the middle of the Sudanese. Here they were in high command. The attack of the horsemen was sudden and extremely fierce. There was a stampede, the infantry archers from the sides started firing arrows, thus an army of only 1,300 people defeated the army of more or less 6,000 in a stampede, so that the desert was removed from the bodies and the Sudanese were also in captivity. Even if they ran away, the number of those who ran away was small. This was the second rebellion of the Sudanese, which Sultan Ayubi drowned in their blood. Now, Sultan Ayubi did not work with diplomacy. He met the prisoners of war. He imprisoned all his commanders and other officials who were involved in the covert coup plot. The organizers were also identified. They were sentenced to death. It happened that some officials who were loyal to him were participating in this conspiracy, he told his trusted chiefs and other officials that the invasion and occupation of Sudan became necessary for the defense of Egypt and the stability of the empire. Protector from Khalifa Al-Azd d
اور قبضہ ضروری ہو گیا ہے انہوں نے خلیفہ الازد سے محافظ دستہ واپس لے کر اسے معزول کر دیا اور اعلان کر دیا کہ اب مصر خلافت عباسیہ کے تحت ہے اور یہ بھی کہ خلافت کی گدی بغداد میں ہوگی سلطان ایوبی نے ام ارارہ کو اٹھ محافظوں کے ساتھ نور الدین زنگی رحمت اللہ علیہ کے حوالے کرنے کے لیے روانہ کر دیا سلطان ایوبی نے کمرے میں ٹہلتے ہوئے اہ بھری اور کہا قوم متحد ہو سکتی ہے اور ہو بھی جاتی ہے قوم کا شیرازہ عمرہ اور حکام بکھیرا کرتے ہیں یا وہ خود ساخت عقائد جو امیر وزیر یا حاکم بننا چاہتے ہیں تم نے دیکھ لیا ہے علی مصر کے لوگوں کی زبان پر ہمارے خلاف کوئی شکایت نہیں غداری اور تخریب کاری صرف بڑے لوگ کر رہے ہیں ان بڑے لوگوں کو میری ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں میں انہیں اس لیے برا لگتا ہوں کہ میں اس گدی پر بیٹھ گیا ہوں جس کے وہ خواب دیکھ رہے تھے سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہل رہے تھے علی بن سفیان اور بہاؤدین شداد بیٹھے سن رہے تھے وہ ستمبر کے پہلے ہفتے کی ایک شام تھی جون اور جولائی میں سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کی بغاوت کو کچلا اور اس کے فورا بعد الازد کو خلافت کی گدی سے ہٹایا تھا اس سے پہلے انہوں نے سوڈانیوں کی بغاوت کو نہایت اچھی جنگی حکمت عملی سے دبا کر سوڈانی فوج توڑ دی تھی مگر بغاوت کرنے والے کسی بھی قائد کماندار یا عسکری کو سزا نہیں دی تھی ڈپلومیسی سے کام لیا تھا اس طرح ان کی جنگی اہمیت کی بھی داک بیٹھ گئی تھی اور ڈپلومیسی کی بھی اب کے سوڈانیوں نے پھر سر اٹھایا تو سلطان ایوبی نے اس سر کو ہمیشہ کے لیے کچل دینے کے لیے پہلے تو میدان جنگ میں سوڈانیوں کی لاشوں کے انبار لگائے پھر جو بھی پکڑا گیا اس کے عہدے اور رتبے کا لحاظ کیے بغیر اسے انتہائی سزا دی اکثریت کو تو جلاد کے حوالے کر دیا گیا باقی جو بچے انہیں لمبی قید میں ڈال دیا یا ملک بدر کر کے سوڈان کی طرف نکال دیا اج دو مہینے ہو گئے ہیں سلطان ایوبی نے کہا میں سلطنت کے انتظام اور قوم کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ نہیں دے سکا مجرم لائے جا رہے ہیں اور میں سوچ بچار کے بعد انہیں سزائے موت دیتا چلا جا رہا ہوں یوں دل کو تکلیف ہو رہی ہے جیسے میں قتل عام کر رہا ہوں میرے ہاتھوں مرنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے محترم امیر بہاؤدین شداد نے کہا ایک کافر اور ایک مسلمان ایک ہی قسم کے گناہ کریں تو زیادہ سزا مسلمان کو ملنی چاہیے کیونکہ اس تک اللہ کے سچے دین کی روشنی پہنچی پھر بھی اس نے گناہ کیا کافر تو عقل کا بھی اندھا ہے مذہب کا بھی اندھا اپ اس پر غم نہ کریں کہ اپ نے مسلمانوں کو سزا دی ہے وہ غدار تھے سلطنت اسلامیہ کے باغی تھے انہوں نے اسلام کا نام مٹی میں ملانے کے لیے کافروں سے اتحاد کیا میرا اصل غم یہ ہے شداد سلطان ایوبی نے کہا کہ میں حکمران بن کے مصر نہیں ایا اگر مجھے حکومت کرنے کا نشہ ہوتا تو مصر کی موجودہ فضا میرے لیے سازگار تھی جنہیں صرف عمارت کی گدی سے پیار ہوتا ہے وہ سازشی ذہنوں کے حاکموں کو زیادہ پسند کرتے ہیں وہ قوم کو کچھ دیے بغیر لوگوں کو دلکش مگر جھوٹے رنگوں کی تصویریں دکھاتے ہیں اپنے ذاتی عملے میں شیطانی خصلت کے افراد کو رکھتے ہیں وہ اپنے ماتحت حاکموں کو شہزادوں کا درجہ دیا رکھتے ہیں اور خود شہنشاہ بن جاتے ہیں میں کہتا ہوں کہ مجھ سے یہ گدی لے لو لیکن مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرنا میں جو مقصد لے کے گھر سے نکلا ہوں وہ مجھے پورا کر لینے دو نور الدین زنگی نے ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اور دریائے نیل کو عرب کے مجاہدوں کے خون سے سرخ کر کے شام اور مصر کا اتحاد قائم کیا ہے مجھے اس متحد سلطنت کو وسعت دینی ہے سوڈان کو مصر میں شامل کرنا ہے فلسطین کو صلیبیوں سے چھڑانا ہے اور صلیبیوں کو یورپ کے وسط میں لے جا کر کسی گوشے میں گھٹنوں بٹھانا ہے مجھے یہ فتوحات اپنی حکمرانی کے لیے نہیں اللہ کی حکمرانی کے لیے حاصل کرنی ہے مگر مصر میرے لیے دلدل بن گیا ہے وہ کون سا گوشہ ہے جہاں سازش بغاوت اور غداری نہیں ان تمام کے پیچھے صلیبی ہیں علی بن سفیان نے کہا میں حیران ہوں کہ وہ کس بے دردی سے اپنی جوان لڑکیوں کو بے حیائی کی تربیت دے کر ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں ان لڑکیوں کی خوبصورتی کا اپنا جادو ہے ان کا تلیسمن کی زبان میں ہے
ENGLISH
And the occupation has become necessary, he withdrew the guard from Caliph Al-Azd, deposed him and announced that Egypt is now under the Abbasid Caliphate and also that the mace of the Caliphate will be in Baghdad. With Nooruddin Zangi, may Allah bless him and grant him peace, Sultan Ayubi sighed while strolling in the room and said that the nation can and will be united. Beliefs who want to become a rich minister or a ruler, you have seen Ali. There is no complaint against us on the language of the people of Egypt. Treachery and sabotage are only being done by big people. These big people have no enmity with me. I feel bad that I am sitting on the donkey he was dreaming of. Sultan Ayubi was walking in his room. Ali bin Sufyan and Bahauddin Shaddad were sitting listening. It was an evening in the first week of September. Sultan Ayyubi crushed the rebellion of the Sudanese and immediately after that, Al-Azd was removed from the caliphate. Commanders or soldiers were not punished, they had worked with diplomacy, thus their war importance was also affected, and the current Sudanese raised their heads again, so Sultan Ayubi decided to crush this head forever. First, they piled up the dead bodies of the Sudanese on the battlefield, then whoever was caught was severely punished, regardless of rank and rank, and the majority were handed over to the executioner, and the rest were imprisoned for a long time or deported. Sultan Ayubi said, "I could not pay attention to the administration of the kingdom and the welfare of the nation. Criminals are being brought and after deliberation, I continue to give them the death penalty." My heart is hurting like I am committing massacres. The majority of those who died in my hands are Muslims. Honorable Amir Bahauddin Shaddad said that if a non-believer and a Muslim commit the same type of sin, then the Muslim should be punished more because The light of the true religion of Allah reached him, yet he committed a sin. A disbeliever is also blind to reason and religion. Don't be sad because you have punished the Muslims. They were traitors and rebels of the Islamic Empire. Shaddad Sultan Ayyubi said that I did not come to Egypt to become a ruler. They love donkeys. I say take this mace from me but promise me not to put any obstacle in my way. Zangi has established the union of Syria and Egypt by sacrificing thousands of lives and turning the Nile red with the blood of the Arab mujahids. I want to expand this united empire. And take the crusaders to the middle of Europe and kneel in some corner. No, the crusaders are behind all of them. Ali bin Sufyan said, "I am surprised by how brutally they are using their young girls against us by training them in immorality. The beauty of these girls has its own magic. They are the language of talismans." in
Thursday, 14 December 2023
The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode25
The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode25
Sunday, 10 December 2023
The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode24
The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode24



