https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Sunday, 24 December 2023

27 The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode27

 27 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode27




27 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode27
زبان کا وار تلوار سے گہرا ہوتا ہے سلطان ایوبی نے کہا وہ عقل جو تمہاری کمزوریوں کا باہم سکتی ہے علی وہ اپنی زبان سے ایسے اندازے اور ایسے موقع پر ایسے الفاظ کہلوائے گی کہ تم اپنی تلوار نیام میں ڈال کر دشمن کے قدموں میں رکھ دو گے صلیبیوں کے پاس دو ہی تو ہتھیار ہیں الفاظ اور حیوانی جذبہ جسے انسانی جذبے پر غالب کرنے کے لیے وہ اپنی جوان اور خوبصورت لڑکیوں کو استعمال کر رہے ہیں انہوں نے مسلمان امراء اور حکام کے دلوں سے مذہب تک نکال دیا ہے صرف حکام نہیں امیر محترم علی بن سفیان نے کہا مصر کے عام لوگوں میں بھی بدکاری عام ہو گئی ہے یہ صلیبیوں کا کمال ہے دولت مند مسلمانوں کے گھروں میں بھی بے حیائی شروع ہو گئی ہے یہی سب سے بڑا خطرہ ہے سلطان ایوبی نے کہا میں صلیبیوں کے سارے لشکر کا مقابلہ کر سکتا ہوں اور کیا ہے مگر میں ڈرتا ہوں کہ صلیبیوں کے اس وار کو نہیں روک سکوں گا اور جب میری نظریں مستقبل میں جھانکتی ہیں تو میں کانپ اٹھتا ہوں مسلمان برائے نام مسلمان رہ جائیں گے ان میں بے حیائی سلیبیوں والی ہوگی اور ان کے تہذیب و تمدن پر صلیبی رنگ چڑھا ہوا ہوگا میں مسلمانوں کی کمزوریاں جانتا ہوں مسلمان اپنے دشمن کو نہیں پہچانتے اس کے بچھائے ہوئے خوبصورت جال میں پھنس جاتے ہیں میں صلیبیوں کے کمزوریاں جانتا ہوں وہ بے شک مسلمانوں کے خلاف متحد ہو گئے ہیں لیکن ان کے اندر سے دل پھٹے ہوئے ہیں فرانسیسی اور جرمن ایک دوسرے کے خلاف ہیں برطانوی اور عطالوی ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے وہ مسلمانوں کو مشترک دشمن سمجھ کر اکٹھے ہیں لیکن ان میں عداوت کی حد تک اختلافات ہیں ان کا شاہ اگستس دوغلا بادشاہ ہے باقی بھی ایسے ہی ہیں مگر انہوں نے مسلمان عمرہ کو عورت کے حسن اور زر و جواہرات کی چمک دمک سے اندھا کر رکھا ہے اگر مسلمان ہمارا متحد ہو جائیں تو صلیبی چند دنوں میں بکھر جائیں گے اب فاطم خلافت کو ختم کر کے میں نے اپنے دشمنوں میں اضافہ کر لیا ہے فاطمی اپنی گدی کی بہالی کے لیے سوڈانی اور صلیبیوں کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں ان کے شاعر کو کل سزائے موت دے دی گئی ہے علی بن سفیان نے کہا جس کا مجھے بہت افسوس ہے سلطان ایوبی نے کہا عمارۃ الجمنی کی شاعری نے میرے دل پر بھی اثر کیا تھا مگر اس نے الفاظ اور ترنم کو چنگاریاں بنا کر اسلام کے خرمن کو جلانے کی کوشش کی ہے عمارۃ الیمنی اس دور کا مشہور شاعر تھا اس دور میں اور اس سے پہلے بھی لوگ شاعروں کو پیروں اور پیغمبروں جتنا درجہ دیتے تھے شاعر الفاظ اور ترنم سے فوجوں میں جذبے کی نئی روح پھونک دیا کرتے تھے یہی درجہ اس مسلمان شاعر کو حاصل تھا اس نے لوگوں میں جو مقام پیدا کر رکھا تھا اسے اس نے اس طرح استعمال کرنا شروع کر دیا تھا کہ ایک طرف وہ لوگوں میں جہاد کا جذبہ پختہ کرتا تھا اور ساتھ ہی فاطمی خلافت کی عظمت کی داغ لوگوں کے دلوں میں بٹھاتا تھا اسے فاطمی خلافت کی اتنی پشت پناہی حاصل تھی کہ اس نے سلطان ایوبی کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا اس کے اخری اشعار یہ تھے کہ مجھے فاطمی خلافت کی محبت کا طعنہ دینے والو مجھ پر لعنت بھیجو میں تمہیں لعنت کے لائق سمجھتا ہوں فاطمی محلات کی ویرانی پر انسو بہاؤ ان میں رہنے والوں کو میرا پیغام دو کہ میں نے تمہارے لیے جو زخم کھائے ہیں وہ کبھی مندمل نہ ہوں گے اس کے گھر اچانک چھاپہ مارا گیا تھا وہاں سے دستاویزی ثبوت ملا تھا کہ وہ صرف فاطمی خلافت کا ہی بہی خواہ نہیں بلکہ صلیبیوں کا وظیفہ خار بھی ہے صلیبی اسے اس مقصد کے لیے وظیفہ دیتے تھے کہ وہ مصریوں کے دلوں پر فاطمی خلافت کو غالب کر دے اور سلطان ایوبی کے خلاف نفرت پیدا کرتا رہے اسے سزائے موت دی گئی تھی جس قوم کے شاعر بھی دشمن کے وظیفہ خار ہوں اس قوم کے لیے ذلت اور رسوائی ہے سلطان ایوبی نے کہا تربان اندر ایا اور کہا کہ معزول خلیفہ الازد کا قاصد ایا ہے سلطانہ ایوبی کے ماتھے کے شکن گہرے ہو گئے انہوں نے کہا خلافت کے سوا یہ بڈھا مجھ سے اور کیا مانگ سکتا ہے دربان سے کہا اسے اندر بیچ دو الازد کا قاصد اندر ایا اور کہا خلیفہ کا سلام پیش کرتا ہوں وہ خلیفہ نہیں ہے سلطان ایوبی نے کہا دو مہینے ہو گئے ہیں ان سے معزول ہوئے وہ اپنے محل میں قید ہے معافی چاہتا ہوں قابل صد احترام امیر قاصد نے کہا عادت کے تحت منہ سے نکل گیا الازد نے بادل سلام کہا ہے کہ بیماری نے بستر پر ڈال دیا ہے اٹھنا محال ہے ملنے کی خواہش ہے اگر امیر محترم تشریف لا سکیں تو احسان ہوگا سلطان ایوبی نے بے قراری سے اپنی ران پر ہاتھ مارا اور کہا وہ مجھے بلا رہا ہے کیونکہ وہ ابھی تک اپنے اپ کو خلیفہ سمجھتا ہے نہیں امیر مثل قاصد نے کہا ان کی حالت بہت خراب ہے محل کے طبیب نے خطرے کا اظہار کیا ہے یہ ان کا دیرینہ مرض ہے جو غم اور غصے میں تیز ہو جاتا ہے اب تو وہ اٹھنے سے معذور ہو گئے ہیں قاصد نے ذرا جھک کر کہا انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اپ اکیلے تشریف لائیں راز کی دو چار باتیں ہیں جو کسی دوسرے کے سامنے نہیں کی جا سکتی انہیں بعد از سلام کہنا صلاح الدین ایوبی راز کی سب باتیں جانتا ہے سلطان ایوبی نے کہا اب راز
ENGLISH
The sword of the tongue is deeper than the sword. Sultan Ayyubi said that the intellect that can understand your weaknesses, Ali, she will utter such guesses and words on such an occasion that you should put your sword in its sheath and place it at the feet of the enemy. The gay crusaders have only two weapons: words and animal passion, which they are using their young and beautiful girls to dominate the human spirit. Honorable Ali bin Sufyan said that immorality has become common even among the common people of Egypt. This is the glory of the Crusaders. Indecency has also started in the homes of wealthy Muslims. This is the biggest danger. But I fear that I shall not be able to stop this crusader attack and I shudder when my eyes look into the future. Muslims will remain nominal Muslims. Their culture and civilization will be covered with the color of crusaders. I know the weaknesses of Muslims. Muslims do not recognize their enemy. They get caught in the beautiful trap laid by him. Their hearts are torn from within. The French and the Germans are against each other. The British and the Atalavis do not like each other. They are united by considering the Muslims as a common enemy, but they have differences to the extent of enmity. Their king, Augustus, is a duplicitous king. The rest are also the same, but they have blinded the Muslim Umrah with the beauty of women and the glitter of jewels. If the Muslims unite with us, the Crusaders will disperse in a few days. Enemies have increased. The Fatimis are conspiring with the Sudanese and the Crusaders to restore their mace. Their poet was executed yesterday. Ali bin Sufyan said, "I am very sorry." Sultan Ayubi said. Al-Jumni's poetry also affected my heart, but he has tried to burn the threshing floor of Islam by making words and hymns sparks. And as much as the Prophets were given, the poets used to instill a new spirit of enthusiasm in the armies with words and hymns. This is the status that this Muslim poet had. On the one hand, he strengthened the spirit of Jihad among the people and at the same time planted the stain of the greatness of the Fatimid Caliphate in the hearts of the people. The last verses of the poem were that those who mocked me for the love of the Fatimid Caliphate curse me, I consider you worthy of the curse. He will never heal. His house was suddenly raided and documented evidence was found that he was not only a supporter of the Fatimid Caliphate but also a stipend of the Crusaders. May the Fatimid caliphate prevail in the hearts and continue to create hatred against Sultan Ayyubi, he was given the death penalty, the poets of the nation who are the enemy's stipends are a disgrace and shame for that nation. Sultan Ayyubi said, Turban came in and said. Sultana Ayubi's forehead wrinkles deepened and she said, "What else can this big man ask of me other than caliphate?" He said to the gatekeeper, "Send him inside." I do. He is not the caliph. Sultan Ayubi said it has been two months since he was deposed. He is imprisoned in his palace. has put him to bed, is unable to get up, wishes to see him, it would be a favor if the Amir could come.” Sultan Ayubi slapped his hand restlessly on his thigh and said, “He is calling me because he still thinks of himself as the Caliph.” No, Amir like the messenger said that his condition is very bad. The palace doctor has expressed his concern. He also said that you should come alone. There are two or four secret things that cannot be said in front of anyone else. Say them after salam. Salahuddin Ayyubi knows all the secrets. Sultan Ayyubi said now, secrets
اللہ تمہیں معاف کرے اوسد مایوس ہو کر چلا گیا سلطان ایوبی نے دربان کو بلا کر کہا کہ طبیب کو بلاؤ انہوں نے علی بن سفیان اور بہاؤدین شداد سے کہا اس نے مجھے اکیلا انے کو کہا ہے کیا اس میں کوئی چال نہیں کیا میرا خدشہ غلط ہے کہ مجھے محل میں بلا کر میرا کام تمام کرنا چاہتا ہے اسے مجھ پر اور اچھا وار کرنا چاہیے اسے حق حاصل ہے اپ نے اچھا کیا نہیں گئے شداد نے کہا اور علی بن سفیان نے تائید کی طبیب اگیا تو سلطان ایوبی نے اسے کہا اپ الاذت کے پاس چلے جائیں میں جانتا ہوں وہ بہت مدت سے بیمار ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا طبیب مایوس ہو گیا ہے اپ جا کر دیکھیں اور اس کا علاج کریں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بیمار نہ ہو اگر ایسا ہے تو مجھے بتائیں سابق خلیفہ الازد کو اسی محل میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی جو اس کی خلافت کی گدی تھی اس محل کو اس نے جنت بنا رکھا تھا حرم دیس دیس کی خوبصورت عورتوں سے پر رونق تھا لونڈیوں کا ہجوم الگ تھا سینکڑوں محافظوں کا دستہ مستعد رہتا تھا فوجی کماندار حاضری میں کھڑے رہتے تھے سلطانہ ایوبی کے لائے ہوئے انقلاب نے اس محل کی دنیا ہی بدل ڈالی تھی خلیفہ اب خلیفہ نہیں تھا محل میں عیش و عشرت کا تمام سامان جون کا تو رہنے دیا گیا فوجی کمانداروں اور محافظ دستے کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا فوج کا ایک دستہ اب بھی وہاں نظر اتا تھا مگر یہ الاضد کا محافظ نہیں پہرا دار تھا خلافت کا محل چونکہ سازشوں کا مرکز تھا اس لیے وہاں اب پہرا لگا دیا گیا تھا الازد اب اپنے محل میں قیدی تھا وہ بوڑھا تھا اور دل کے عارضے میں مبتلا تھا خلافت چھن جانے کا غم بڑھاپہ شراب اور عیش و عشرت نے اسے بستر پر ڈال دیا تھا چند دنوں میں وہ لاش کی مانند ہو گیا اس کی تیمارداری کے لیے دو ادھیڑ عمر عورتیں اور ایک خادم اس کے کمرے میں موجود تھا الازد انکھ کھولتا انہیں دیکھتا اور انکھیں بند کر لیتا تھا محل کا طبیب اسے دوائی پلا گیا تھا دو جوان لڑکیاں کمرے میں ائیں یہ الازد کے حرم کی رونق تھی ان میں سے ایک نے خلیفہ کہا تھا اپنے ہاتھ میں لیا اور اس پر جھک کر صحت کا حال احوال پوچھا دوسری نے الازد کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسے سہدیابی کی دعا دی دونوں لڑکیوں نے ایک دوسرے کی انکھوں میں دیکھا اور ایک نے کہا اپ ارام فرمائیں ہم اپ کو بے ارام نہیں کریں گے دوسری نے کہا ہم ہر وقت ساتھ والے کمرے میں موجود رہتی ہیں بلا لیا کریں اور دونوں کمرے سے نکل گئیں الازد نے کراہ کر لمبی اہبری اور اپنے پاس کھڑی ادھیڑ عمر عورتوں سے کہا یہ دونوں لڑکیاں میری تیمارداری کے لیے نہیں ائی یہ دیکھنے ائی تھی کہ میں کب مر رہا ہوں میں جانتا ہوں انہوں نے اپنی دوستیاں لگا رکھی ہیں یہ گرد ہیں میرے مرنے کا انتظار کر رہی ہیں ان کی نظر میرے مال اور دولت پر ہے تم تینوں کے سوا یہاں میرا ہمدرد کون ہے کوئی نہیں کوئی بھی نہیں فاطمی خلافت کے نعرے لگانے والے کہاں گئے اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا اور کروٹ بدل لی وہ تکلیف میں تھا اتنے میں قاصد کمرے میں ایا اور کہا امیر مصر نے انے سے انکار کر دیا ہے او بدنصیب صلاح الدین عازد نے کراہنے کے لہجے میں کہا میرے مرنے سے پہلے ایک بار تو ا جاتا صدمے نے اس کی تکلیف میں اضافہ کر دیا اس نے نہیف اواز میں رک رک کر کہا اب تو میری لونڈیاں بھی میرے بلانے پر نہیں اتی امیر مصر کیوں ائے گا مجھے گناہوں کی سزا مل رہی ہے میرے خون کے رشتے بھی ٹوٹ گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی نہیں ایا وہ میرے جنازے پر ائیں گے اور محل میں جو ہاتھ لگا اٹھا کر چلے جائیں گے وہ کچھ اور دیر کراتا رہا دونوں تیماردار عورتیں پریشانی کے عالم میں اس کی باتیں سنتی رہیں ان کے پاس تسلی اور حوصلہ افزائی کے لیے بھی جیسے کوئی الفاظ نہیں رہے تھے ان کے چہروں پر خوف ستاری تھا جیسے وہ خدا کے اس قہر سے ڈر رہی تھی جو بادشاہ کو گدا اور امیر کو فقیر بنا دیتا ہے دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا ایک سفید ریش بزرگ کھڑا تھا وہ ذرا رک کر اندر ایا اور الازد کی نبض پر ہاتھ رکھ کر کہا السلام علیکم میں امیر مصر کا طبیب خاص ہوں انہوں نے مجھے اپ کے علاج کے لیے بھیجا ہے کہ امیر مصر میں اتنی سی بھی مروت نہیں رہی کہ ا کے مجھے دیکھ ہی جاتا العزت نے کہا میرے بلانے پر بھی نہیں ایا اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا طبیب نے کہا انہوں نے مجھے اپ کے علاج کے لیے بھیجا ہے میں یہ کہنے کے جرات ضرور کروں گا کہ اتنے بڑے واقعے کے بعد جس میں باقاعدہ جنگ ہوئی اور ہزاروں جانے ضائع ہو گئیں امیر مصر شاید یہاں نہیں ائیں گے انہیں اپ کی صحت کا فکر ضرور ہے ایسا نہ ہوتا تو وہ مجھے اپ کے علاج کا حکم نہ دیتے اس حالت میں اپ ایسی کوئی بات ذہن میں نہ لائیں جو اپ کے دل کو تکلیف دیتی ہے ورنہ علاج نہیں ہو سکے گا میرا علاج ہو چکا الازد نے کہا میرا ایک پیغام غور سے سن لو صلاح الدین کو لفظ ب لفظ پہنچا دینا میری نفس سے ہارتھ ہٹا لو میں اب دنیا کی حکمت اور
ENGLISH
May Allah forgive you. Usad left disappointed. Sultan Ayubi called the porter and said, "Call the doctor." He said to Ali bin Sufyan and Bahauddin Shaddad. He wants to call me to the palace and complete my work. He should give me a good blow. He has the right. You have not done well. Shaddad said and Ali bin Sufyan agreed. Go to Alazat I know he is sick for a long time it seems his doctor is disappointed go and see him and treat him he may not be sick if so let me know The former Caliph Al-Azd was allowed to live in the same palace which was the base of his caliphate. He made this palace a paradise. Military commanders used to stand in attendance. The revolution brought by Sultana Ayubi had changed the world of this palace. The Khalifa was no longer the Khalifa. A detachment of the army was still seen there, but it was not Al-Azd's bodyguard, it was a guard. He was suffering from a heart problem, the grief of being deprived of the caliphate, old age, alcohol and luxury had put him to bed, in a few days he became like a corpse. I was there. Al-Azd would open his eyes and look at them and close his eyes. He bowed down and asked about his health. They are always present in the next room, call me and both of them left the room. Al-Azd moaned and said to the tall and middle-aged women standing next to him, these two girls did not come to take care of me, they came to see when I will die. I am alive, I know, they have made friends, they are around me, waiting for me to die, their eyes are on my property and wealth, who is my sympathizer here except you three. Where did they go? He put his hand on his heart and changed his crotch. He was in pain. At that time, the messenger came to the room and said that the Emir of Egypt has refused him. Unfortunately, Salahuddin Azad said in a groaning tone, "Before I die." Once the shock increased his pain, he stopped and said in a low voice, "Now even my concubines are not at my call, why will Amir come to Egypt? I am being punished for my sins, my blood relations are also." They are broken, none of them will come to my funeral, and those who will go to the palace with their hands raised, he continued to wait a little longer. As if there were no words for encouragement, their faces were full of fear as if they were afraid of the wrath of God that makes a king an ass and a rich man a pauper. The old man was standing, he stopped and came in and put his hand on Al-Azd's pulse and said, "Peace be upon you, I am a special physician of the Emir of Egypt. He has sent me to treat you. There is not even a single death in the Emir of Egypt that he On seeing me, Al-Izzat said, "He did not come even on my invitation. I cannot say anything about it." The doctor said, "They have sent me to treat you. I will definitely dare to say that after such a big incident in which There was a regular war and thousands of lives were lost. The Emirs of Egypt probably won't bring you here. They must be worried about your health. If it wasn't for that, they wouldn't have ordered me to treat you. Al-Azd said, "Listen carefully to one of my messages, convey word by word to Salahuddin. Remove the hearth from my soul. I am now the wisdom of the world and
چکا ہوں سنو طبیب صلاح الدین سے کہنا کہ میں تمہارا دشمن نہ تھا میں تمہارے دشمنوں کے جال میں اگیا تھا یہ بدقسمتی میری ہے یہ صلاح الدین کی کہ میں اپنے گناہوں کا اعتراف اس وقت کر رہا ہوں جب میں ایک گھڑی کا مہمان ہوں صلاح الدین سے کہنا کہ میرے دل میں ہمیشہ تمہاری محبت رہی ہے اور تمہاری محبت کو ہی دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں میرا جرم یہ ہے کہ میں نے زر و جواہرات اور حکمرانی کی محبت بھی اپنے دل میں پیدا کر لی جو اسلام کے احترام پر غالب اگئے اج سب نشے اتر گئے ہیں وہ لوگ جو میرے پاؤں میں بیٹھا کرتے تھے وہ بیگانے ہو گئے ہیں وہ لونڈیاں بھی میرے مرنے کی منتظر ہیں جو میرے اشاروں پر ناشہ کرتی تھی میرے دربار میں اوریاں رقص کرنے والی لڑکیاں مجھے نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انسان کی باتوں میں ا کر خدا کو بھول جاتا ہے اور یہ بھول ہی جاتا ہے کہ اسے خدا کے پاس جانا ہے جہاں کوئی انسان کسی انسان کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ان کمبختوں نے مجھے خدا بنا ڈالا مگر اج جب حقیقی خدا کا بلاوا ایا ہے تو مجھ پر حقیقت روشن ہوئی ہے میں نے اس کو نجات کا ذریعہ سمجھا ہے کہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر لوں اور صلاح الدین کو ایسے خطروں سے خبردار کرتا جاؤں جن سے وہ شاید واقف نہیں اسے کہنا کہ میرے محافظ دستے کا سالار جب تک زندہ ہے اور سوڈان میں کہیں روپوش ہے وہ مجھے بتا کر گیا تھا کہ فاطمہ خلافت کی بحالی کے لیے وہ سوڈانی اور قابل اعتماد مصریوں کی فوج تیار کرے گا اور وہ صلیبیوں سے جنگی اور مالی امداد لے گا صلاح الدین سے کہنا اسے محافظ دستے پر نظر رکھے اکیلا باہر نہ نکلے رات کو زیادہ محتاط رہے کیونکہ رجب نے فدائیوں کے ساتھ ایوبی کے قتل کا منصوبہ بنا لیا ہے اسے کہنا کہ مصر تمہارے لیے اگ اگلنے والا پہاڑ ہے تم جنہیں دوست سمجھتے ہو وہ بھی تمہارے دشمن ہیں اور وہ جو تمہاری اواز کے ساتھ اواز ملا کر وسیع سلطنت اسلامیہ کے نعرے لگاتے ہیں ان میں بھی صلیبیوں کے پالے ہوئے سانپ موجود ہیں تمہارے جنگی شعبے میں فیض الفاطمی بڑا حاکم ہے مگر تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے مخالفین میں سے ہے وہ رجب کا دست راز تھے تمہاری فوج میں ترک شامی اور دوسری عرب نسل کے جو کماندار اور سپاہی ہیں ان کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرنا یہ سب تمہارے وفادار اور اسلام کے محافظ ہیں مصری فوجیوں میں قابل اعتماد بھی ہیں اور بے وفا بھی تم نہیں جانتے کہ تم نے جب سوڈانیوں پر فیصلہ کن حملہ کیا تھا تو حملہ اور دوستوں میں دو دوستوں کے کماندار تمہاری چال کو ناکام کرنے کے لیے تمہاری ہدایات اور احکام پر غلط عمل کرنا چاہتے تھے لیکن تمہارے طور پر عرب سپاہیوں میں جوش اور جذبہ ایسا تھا کہ اپنے کمانداروں کے حکم کا انتظار کیے بغیر وہ سوڈانیوں پر قہر بن کے ٹوٹے تھے ورنہ یہ دو کماندار جنگ کا پانسا پلٹ کر تمہیں ناکام کر دیتے الازت مریمری اواز میں رک رک کر بولتا رہا طبیب نے اسے ایک دو مرتبہ بولنے سے روکا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کرا دیا اس کے چہرے پر پسینہ اس طرح اگیا تھا جیسے کسی نے پانی چھڑک دیا ہو دونوں عورتوں نے اس کا پسینہ پہنچا لیکن پسینہ چشمے کی طرح پھوٹتا ا رہا تھا اس نے چند ایک اور انتظامیہ اور فوج کے حکام کے نام بتائے جو سلطان ایوبی کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے ان میں سب سے زیادہ خطرناک فدائی تھے جن کا پیشہ پراصرار قتل تھا وہ اس فن کے ماہر تھے الازد نے مصر میں صلیبیوں کے اثر و رسوخ کی تفصیل بھی بتائی اور کہا انہیں مسلمان نہ سمجھنا یہ ایمان فروخت کر چکے ہیں صلاح الدین سے کہنا کہ اللہ تمہیں کامیاب کرے اور سرخرو کرے لیکن یہ یاد رکھنا کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو چوری چھپے تمہیں دھوکہ دے رہے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو خوشامد سے تمہیں خدا کے بعد کا درجہ دیں گے یہ ان لوگوں سے زیادہ خطرناک ہیں جو چوری چھپ کے دھوکہ دیتے ہیں اسے کہنا کہ دشمنوں کو زیر کر کے جب تم اطمینان سے حکومت کی گدی پر بیٹھو گے تو میری طرح دونوں جہان کے بادشاہ نہ بن جانا سدا بادشاہی اللہ کی ہے اسی مصر میں فرعونہ کے کھنڈر دیکھ لو میرا انجام دیکھ لو اپنے اپ کو اس انجام سے بچانا اس کی زبان لڑکھڑانے لگی اس کے چہرے پر جہاں کرب کا تاثر تھا وہاں سکون سا بھی نظر انے لگا اس نے بولنے کی کوشش کی مگر حلق سے خراٹے نکلے اس کا سر ایک طرف لڑک گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا یہ واقعہ ستمبر 1171 عیسوی کا ہے طبیب نے سلطان ایوبی کو اطلاع بھیجوائی محل میں الازد کی موت کی خبر پھیل گئی محل کے کسی گوشے سے رونا تو دور کی بات ہے ہلکی سی سسکی بھی سنائی نہ دی صرف ان دو عورتوں کے انسو بہہ رہے تھے جو اخری وقت اس کے پاس تھی سلطان ایوبی چندے کو کام کے ساتھ فارن محل میں گیا اس نے دیکھا کہ وہاں برامدوں اور غلام گردشوں میں کچھ سرگرمی سی تھی
ENGLISH
Listen to the physician Salahuddin saying that I was not your enemy, I was caught in the trap of your enemies. to say that I have always had your love in my heart and I am leaving this world with your love in my heart. But I prevailed, now all have become intoxicated, those who used to sit at my feet have become aliens, those concubines are also waiting for my death, who used to drink at my cues, the girls who dance Oriyas in my court look at me with hatred. The biggest mistake of man is that he forgets God in the words of man and he forgets that he has to go to God where no man can bear the burden of the sins of any man. made me God, but now when the call of the true God has come, the truth has dawned on me. It may not be known that the leader of my bodyguard is still alive and hiding somewhere in Sudan. And will take financial aid, tell Saladin to keep an eye on the guards, don't go out alone, be more careful at night, because Rajab has planned the murder of Ayyubid with the fiduciaries, tell him that Egypt is a mountain of fire for you. Those whom you consider as your friends are also your enemies and those who join your voices and chant slogans of the vast Islamic empire, there are also snakes raised by the crusaders in your war field, Faiz al-Fatimi is the great ruler, but you do not know that He is one of your opponents, he was Rajab's secret agent, don't trust anyone except commanders and soldiers who are Turkish-Syrian and other Arab races in your army, they are all loyal to you and defenders of Islam. They are also trustworthy among Egyptian soldiers. You are also disloyal and you don't know that when you made a decisive attack on the Sudanese, the commanders of two of your friends wanted to misfollow your instructions and orders to thwart your plan, but as you, the Arabs The enthusiasm and enthusiasm among the soldiers was such that without waiting for the orders of their commanders, they were furious with the Sudanese, otherwise these two commanders would have turned the dice and defeated you. When he stopped speaking twice, he silenced him with a gesture of his hand. Sweat had appeared on his face as if someone had splashed water. Name a few other administrative and military officials who were involved in conspiracies against Sultan Ayyubid. Among the most dangerous were the Fidayis, whose profession was assassination. They were experts in this art. He also explained the details and said that they should not be considered Muslims. They have sold their faith. Say to Salahuddin that Allah may make you successful and make you successful, but remember that one is the people who are secretly deceiving you and the other is those people. Those who will flatter you to be second to God are more dangerous than those who secretly deceive and say to him that after subduing your enemies, when you will sit contentedly on the throne of government, then like me you will be the king of both worlds. Do not become an eternal kingdom belongs to Allah. In this Egypt, look at the ruins of the pharaoh. Look at my end. Save yourself from this end. His tongue began to falter. He tried to speak, but snoring came out of his throat, his head tilted to one side and he became silent forever. This incident is in September 1171 AD. Crying from the corner is a distant thing, not even a slight sob was heard, only the tears of the two women who were with him last time were flowing. There was some activity in the circulations
اس نے محافظ دستے کے کماندار کو بلا کر حکم دیا کہ محل کے تمام کمروں میں گھوم جاؤ تمام مردوں عورتوں اور لڑکیوں کو کمروں سے نکال کر باہر صحن میں بٹھا دو اور کسی کو باہر نہ جانے دو کسی کو کیسی ہی ضرورت کیوں نہ ہو استبل سے کوئی گھوڑا نہ کھولے سلطانہ ایوبی نے محل پر قبضہ کرنے کا حکم دے دیا انہوں نے عجیب چیز یہ دیکھی کہ اور جس نے عورت اور شراب کو ہی زندگی جانا تھا اس کی میت پر رونے والا کوئی نہ تھا محل مردوں اور عورتوں سے بھرا پڑا تھا مگر کسی کے چہرے پر اداسی کا تاثر بھی نہ تھا طبیب سلطان ایوبی کو الگ لے گیا اور اسے الحاضد کی اخری باتیں سنائی اس نے اپنی رائے ان الفاظ میں دی کہ اپ کو اخری وقت اس کے بلاوے پر ا جانا چاہیے تھا سلطان ایوبی نے اسے بتایا کہ وہ اس خدشے کے پیش نظر نہیں ائے کہ اس شخص کا کچھ بھروسہ نہ تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسے ایمان فروشوں سے نفرت تھی مگر اب طبیب کی زبانی الاضد کا اخری پیغام سن کر سلطان ایوبی کو سخت پچھتاوا ہونے لگا لگا وہ بہت بے چین ہو گئے اور انہوں نے کہا اگر میں ا جاتا تو اس کے منہ سے کچھ اور راز کی باتیں نکلوا لیتا وہ کوئی راز سینے میں نہ لے گیا ہو متعدد مرخین نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ الحاضر بے شک عیاش اور گمراہ تھا اس نے سلطان ایوبی کے خلاف سازشوں کی پشت پناہی بھی کی لیکن اس کے دل میں سلطان ایوبی کی محبت بہت تھی دو مرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر سلطان ایوبی الازد کے بلاوے پر چلے جاتے تو الاذد انہیں اور بہت سی باتیں بتاتا بہرحال تاریخ ثابت کرتی ہے کہ الازد کے بلاوے میں کوئی فریب نہیں تھا اس نے اپنی روح کی نجات کے لیے اور سلطان ایوبی کی محبت کے لیے گناہوں کی بخشش مانگنے کا یہ طریقہ اختیار کیا تھا بہت مدت تک سلطان ایوبی تعصب میں رہے کہ وہ اخری وقت الازد کی باتیں نہ سن سکے بعد میں ان تمام افراد کے خلاف الزامات صحیح ثابت ہوئے تھے جن کی الاضت نے نشاندہی کی تھی سلطان ایوبی نے ان تمام افراد کے نام علی بن سفیان کو دیکھ کر حکم دیا تھا کہ ان سب کے ساتھ اپنے جاسوس اور سراغ رساں لگا دو لیکن کسی کو مکمل شہادت اور ثبوت کے بغیر گرفتار نہ کرنا ایسے طریقے اختیار کرو جو عین موقع پر پکڑے جائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کے ساتھ بے انصافی ہو جائے یہ احکام دے کر انہوں نے تجویز و تکفین کے انتظامات کرائے اسی شام الازد عام قبرستان میں دفن کر دیا گیا جہاں تھوڑے ہی عرصے بعد قبر کا نام و نشان مٹ گیا سلطان ایوبی نے محل کی تلاشی لی وہاں سے اس قدر سونا جواہرات اور بے شکمت تحائف نکلے کہ سلطان ایوبی حیران رہ گئے انہوں نے حرم کی تمام عورتوں اور جوان لڑکیوں کو علی بن سفیان کے حوالے کر دیا اور حکم دیا کہ معلوم کرو کہ کون کہاں کی رہنے والی ہے ان میں سے جو اپنے گھروں کو جانا چاہتی ہیں انہیں اپنی نگرانی میں گھروں تک پہنچا دو اور ان میں جو غیر مسلم اور فرنگی ہیں ان کے متعلق پوری طرح چھان بین کر کے معلوم کرو کہ وہ کہاں سے ائی تھیں اور ان میں مشتبہ کون کون سی ہے مشتبے کو ازاد نہ کیا جائے بلکہ اس سے معلومات حاصل کی جائیں سلطان ایوبی رحمت اللہ علیہ نے محل سے برامد ہونے والا مال و دولت ان تعلیمی اداروں مدرسوں اور ہسپتالوں میں تقسیم کر دیا جو انہوں نے مصر میں کھولے تھے الازد نے مرنے سے پہلے اپنے محافظ دستے کے سالار رجب کے متعلق بتایا تھا کہ وہ سوڈان میں روپوش ہے جہاں وہ سلطان ایوبی کے خلاف فوج تیار کر رہا ہے اور وہ صلیبیوں سے بھی مدد لے گا علی بن سفیان نے چھ ایسے جانباز منتخب کیے جو لڑاکا جاسوس تھے ان کا کماندار رجب کو پہچانتا تھا انہیں تاجروں کے بھیس میں سوڈان روانہ کر دیا گیا انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ممکن ہو سکے تو اسے زندہ پکڑ لائیں ورنہ وہیں قتل کر دیں جس وقت یہ پارٹی سوڈان کو روانہ ہوئی اس وقت رجب سوڈان میں نہیں بلکہ فلسطین کے ایک مشہور اور مضبوط قلے شعبت میں تھا
ENGLISH
He called the commander of the guard and ordered to go around all the rooms of the palace, take out all the men, women and girls from the rooms and make them sit outside in the courtyard and do not let anyone go out, no matter what the need of the stable. Sultana Ayubi ordered to capture the palace. They saw a strange thing that the one who wanted to live only with women and alcohol had no one to mourn his dead. The palace was filled with men and women. But there was no expression of sadness on anyone's face. The doctor took Sultan Ayyubi apart and told him the last words of Al-Hazid. He told him that he did not go because he was afraid that the man had no trust and the second reason was that he hated those who sold the faith, but now after hearing the last message of al-Azd from the physician, Sultan Ayyubi began to feel regret. He became very anxious and said that if I had gone, I would have taken some more secrets out of his mouth. Yes, he also supported the conspiracies against Sultan Ayyubi, but he had a lot of love for Sultan Ayyubi in his heart. History proves that there was no deception in Al-Azd's call. He adopted this method of asking for forgiveness of sins for the salvation of his soul and for the love of Sultan Ayubi. Couldn't listen to Al-Azd's words. Later, the accusations against all the people that Al-Azd had pointed out were proven true. Sultan Ayyubi saw the names of all these people and ordered Ali bin Sufyan to bring all of them with his spies and Keep track but don't arrest anyone without complete testimony and proof. On the same evening, Al-Azd was buried in the general cemetery, where after a short time, the name and mark of the grave were erased. All the women and young girls were handed over to Ali bin Sufyan and ordered to find out who lives where and among them who want to go to their homes, bring them to their homes under your supervision and among them those who are non-Muslims. And if there are foreigners, investigate them thoroughly and find out where they came from and who among them is a suspect. The suspect should not be released, but information should be obtained from him. Al-Azd, before his death, told about Rajab, the head of his bodyguard, that he was hiding in Sudan, where he was leading an army against Sultan Ayubi. Ali bin Sufyan selected six soldiers who were combat spies. Their commander knew Rajab. They were sent to Sudan in the guise of traders. If possible, capture him alive, otherwise kill him on the spot. At the time this party left for Sudan, Rajab was not in Sudan, but in Shabat, a famous and strong fort in Palestine.


Wednesday, 20 December 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode26

 




The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode26

ادھر قاہرہ میں ام ارارہ ہوش میں ا چکی تھی وہ اپنی داستان سنا چکی تھی جو ہم نے پہلے بیان کی ہے کبھی وہ کہتی کہ اس نے کوئی خواب دیکھا ہے اسے ساری باتیں یاد اگئی تھیں اس نے بتایا کہ پروہت اسے دن رات بے ابرو کرتا تھا اور پھول کئی بار اس کی ناک کے ساتھ لگاتا تھا امہ راہ کو بتایا گیا کہ اس کی گردن کٹنے والی تھی اگر چھاپہ مار بروقت نہ پہنچتے تو اس کا سر غار اور جسم مگرمچوں کے پیٹ میں ہوتا نازک سی یہ حسین لڑکی خوف سے کانپنے لگی اس کے انسو نکل ائے اس نے سلطان ایوبی کے ہاتھ چوم لیا اور کہا خدا نے مجھے گناہوں کی سزا دی ہے میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہتی ہوں خدا کے لیے مجھے پناہ میں لے لیں اس کی ذہنی کیفیت بہت بری تھی اس نے شام کے ایک دولت مند تاجر کا نام لے کر کہا کہ وہ اس کی بیٹی ہے یہ مسلمان تاجر تھا اس کا دوستانہ شام کے امیروں کے ساتھ تھا اس وقت کے امیر ایک ایک شہر یا تھوڑے تھوڑے رقبے کے خطوں کے حکمران ہوا کرتے تھے جو مرکزی عمارت کے ماتحت تھے مرکزی عمارت مرکزی وزارت اور خلافت کے ماتحت ہوتی تھی یہ عمرہ دسویں صدی کے بعد پوری طرح عیاشیوں میں ڈوب گئے تھے بڑے تاجروں سے دوستی رکھتے تھے ان کے ساتھ کاروبار بھی کرتے اور رشوت بھی لیتے تھے ان کے حرموں میں لڑکیوں کی افراد رہتی اور شراب بھی چلتی تھی ام ارارہ ایسے ہی ایک دولت مند تاجر کی بیٹی تھی جو اپنے باپ کے ساتھ 12 13 سال کی عمر میں عمرا کی رقص و سرود کی محفلوں میں جانے لگی تھی باپ غالبا دیکھ رہا تھا کہ لڑکی خوبصورت ہے اس لیے وہ اسے لڑکپن میں ہی عمرہ کی سوسائٹی کا عادی بنانے لگا تھا ام ارارہ نے بتایا کہ وہ 14 سال کی ہوئی تو عمرا نے اس میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی دو نے اسے بڑے قیمتی تحفے بھی دیے وہ گناہوں کی اسی دنیا کی ہو کے رہ گئی عمر کے سولویں سال وہ باپ کو بتائے بغیر ایک امیر کی درپردہ داشتہ بن گئی مگر رہتی اپنے گھر میں تھی وہ دولت میں جنی پلی تھی شرم و حیات سے اشنا نہیں تھی دو تین سال بعد وہ باپ کے ہاتھ سے نکل گئی اور ازادی سے دو اور عمرہ سے تعلقات پیدا کر لیے اس نے خوبصورتی چرب زبانی اور مردوں کو انگلیوں پر نچانے میں نام پیدا کر لیا باپ نے اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا گزشتہ چھ سال سے اسے ایک اور ہی قسم کی ٹریننگ ملنے لگی تھی یہ تین عمرہ نے مل کر سازش کی تھی جس میں اس کا باپ بھی شریک تھا اسے خلافت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی ٹریننگ دی جا رہی تھی اگے چل کر اس سازش میں ایک صلیبی بھی شامل ہو گیا یہ عمرہ جو مختار حاکم بننے کے خواب دیکھ رہے تھے صلیبیوں کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا ام ارارہ کو نور الدین زنگی اور خلافت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا صلیبیوں نے اس مہم میں تین عیسائی لڑکیاں شامل کر کے ایک زمین دوز محاز بنا لیا انہوں نے جب دیکھا کہ مصر میں صلاح الدین ایوبی نے نام پیدا کر لیا ہے اور اس نے دو ایسے کارنامے کر دکھائے ہیں جس نے اسے مصر کا وزیر اور امیر نہیں بلکہ بادشاہ بنا دیا ہے تو ام ارارہ کو خلیفہ الازد کی خدمت میں تحفے کے طور پر بھیجا گیا اسے مہم یہ دی گئی تھی کہ خلافت کے دل میں صلاح الدین ایوبی کے خلاف دشمنی پیدا کرے اور سابق سوڈانی فوج کے جو چند ایک حکام فوج میں رہ گئے ہیں انہیں الازد کے قریب کر کے سوڈانیوں کو ایک اور بغاوت پر امادہ کرے اسے دوسری مہم یہ دی گئی تھی کہ خلیفہ العابد کو امادہ کرے کہ سوڈانی جب بغاوت کریں تو انہیں ہتھیاروں اور ساز و سامان سے مدد دے اور اگر ممکن ہو سکے تو صلاح الدین ایوبی کی فوج کا کچھ حصہ باغی کر کے سوڈانیوں سے ملا دے خلیفہ اور کچھ نہ کر سکے تو اپنا محافظ دستار سوڈانیوں کے حوالے کر کے خود صلاح الدین ایوبی کے پاس جا پہنچے جاب پناہ لے اور اسے کہے کہ اس کے محافظ باغی ہو گئے ہیں مختصر یہ کہ صلاح الدین ایوبی کے خلاف ایسا محض قائم کرنا تھا جو اسے مصر سے بھاگنے پر مجبور کر دے اور وہ باقی عمر گمنامی میں گزار جائے ام ارارہ نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئی تھی لیکن باپ نے اسے مسلمانوں کی ہی جڑیں کاٹنے کی تربیت دی اور سلطنت اسلامیہ کے امراء نے اپنے دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی سلطنت کو تباہ کرنے کی کوشش کی اس لڑکی نے خلیفہ الازد کا دماغ اپنے قبضے میں لے لیا اور سلطان ایوبی کے خلاف کر دیا تھا رجب کو وہ اس سازش میں شریک کر چکی تھی رجب نے دو اور فوجی حکام کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا رجب نے اس سلسلے میں یہ کام کیا کہ خلیفہ کے محافظ دستے میں وہ مصریوں کی جگہ سوڈانی رکھتا جا رہا تھا ام ارارہ کو خلیفہ کے پاس ائے ابھی دو اڑھائی مہینے ہوئے تھے مقصر خلافت پر غالب اگئی تھی اور حرم کی ملکہ بن گئی تھی اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ خلیفہ سلطان ایوبی کو قتل کرانا چاہتا ہے اور رجب نے حشیشین سے مل کر قتل کا انتظام کر دیا ہے یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ سلطان ایوبی نے خلیفہ کے بیکار وجود اور عیش پرستی سے تنگ ا کر اس کے خلاف کارروائی شروع

ENGLISH

On the other hand, Umm Arara had regained consciousness in Cairo. She had narrated her story which we have mentioned before. Sometimes she said that she had a dream and she remembered all the things. and put the flower on her nose several times. Amrah was told that her neck was going to be cut if the raiders did not arrive in time, her head would be in a cave and her body would be in the stomach of crocodiles. His tears came out, he kissed Sultan Ayyubi's hands and said, "God has punished me for my sins, I want to confess my sins, for the sake of God, take me as a refuge." His mental state was very bad. He named a wealthy merchant of the city and said that she was his daughter. This Muslim merchant was friendly with the Syrian emirs. The main building was under the central ministry and the caliphate. After the 10th century, these umrahs were completely immersed in luxury. They were friends with big businessmen. Umm Arara was the daughter of a wealthy merchant who started going to Umra's dance and song gatherings with her father at the age of 12 or 13. The father probably saw that the girl was beautiful. Umm Arara said that when she was 14 years old, Umra started taking interest in her. They also gave her valuable gifts. At the age of sixteen, she became the veiled daughter of a rich man without telling her father, but she lived in her own home. She was born in wealth and was not familiar with shame and life. She developed a relationship with two more Umrahs. She made a name for herself with her beauty, eloquence and making men dance on her fingers. had conspired together in which his father was also a participant, he was being trained to undermine the roots of the caliphate. Later, a crusader also joined the conspiracy. This would not have been possible without the help of Umm Arara was also used to create misunderstandings between Nur al-Din Zangi and the Caliphate. As Salah al-Din Ayyubi had made a name for himself in Egypt and had performed two feats that made him not the minister and emir of Egypt, but the king, Umm Arara was sent as a gift to the service of Caliph al-Azd. The campaign was given to him to create enmity against Salah al-Din Ayubi in the heart of the caliphate and to bring the few remaining officers of the former Sudanese army closer to Al-Azd and to encourage the Sudanese to launch another rebellion. It was given that the Caliph al-Abid should persuade the Sudanese to help them with weapons and equipment when they revolted, and if possible, to turn part of the army of Salah al-Din Ayubi into a rebel and join the Sudanese. If he could, he handed over his bodyguard Dastar to the Sudanese and went to Salah al-Din Ayyubi himself to seek refuge and tell him that his guards had become rebels. Umm Arara told Sultan Ayyubi that she was born in a Muslim home but her father trained her to cut the roots of Muslims and the princes of the Islamic Empire sided with their enemies. Together they tried to destroy their own empire. This girl took possession of the mind of Caliph Azad and turned him against Sultan Ayubi. Rajab was involved in this conspiracy. Rajab did this in this regard that he was being replaced by Sudanese in the Caliph's bodyguards instead of Egyptians. He also revealed that the Caliph wanted to kill Sultan Ayyubi and that Rajab had arranged the assassination with the Hashishisin. Start action against him

نے خلیفہ کے بیکار وجود اور عیش پرستی سے تنگ ا کر اس کے خلاف کاروائی شروع کر دی تھی اور یہ بھی اتفاق تھا کہ ام ارارہ کو وہی لوگ اغوا کر کے لے گئے جنہیں وہ سلطان ایوبی کے خلاف لڑانا چاہتی تھی اور یہ اتفاق تو بڑا ہی اچھا تھا کہ سلطان ایوبی نے رجب سے محافظ دستے کی کمان لے لی اور وہاں اپنی پسند کا ایک نائب سالار بھیج دیا تھا مگر ان اتفاقات نے حالات کا دھارا موڑ کر سلطان ایوبی کے لیے ایک خطرہ پیدا کر دیا سلطان نے ام ارارہ کو اپنی پناہ میں رکھا لڑکی بری طرح پچھتا رہی تھی اور گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتی تھی قدرت نے اسے ایک دھچکا دے کر اس کا دماغ درست کر دیا تھا سلطان ایوبی ٹھنڈے دل سے سوچنے لگے کہ اس سازش میں جو حکام شامل ہیں ان کے ساتھ وہ کیا سلوک کریں دوسرے دن الناصر اور بہاؤدین شداد فرعونہ کا اخری نشان مٹا کر فوج واپس لے ائے اٹھ دنوں بعد رات کا پچھلا پہر تھا سلطان ایوبی کے جاگنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی انہیں ملازم نے جگا دیا اور کہا کہ الناصر علی بن سفیان اور دو اور نائب ائے ہیں سلطان اچھل کر اٹھے اور ملاقات کے کمرے میں چلے گئے ان حکام کے ساتھ ان دستوں میں سے ایک کا کماندار بھی تھا جو شہر سے دور گشت کرتے رہتے تھے سلطان ایوبی کو بتایا گیا کہ کم و بیش 6 ہزار سوڈانی جن میں برطرف سوڈانی فوج کے افراد اور اس وحشی قبیلے کے افراد بھی ہیں جس کے عقیدے کو ملیا میٹ کیا گیا تھا مصر کی سرحد میں داخل ہو کر ایک جگہ پڑاؤ کیے ہوئے ہیں اس کماندار نے یہ عقلمندی کی کہ عام لباس دو شتر سوار یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجے کہ اس لشکر کا کیا ارادہ ہے ان شتر سواروں نے اپنے اپ کو مسافر ظاہر کیا اور یہ معلوم کر لیا کہ یہ لشکر قاہرہ پر حملہ کرنے جا رہا ہے شتر سواروں نے لشکر کے سربراہوں سے مل کر صلاح الدین ایوبی کے خلاف باتیں کی اور کہا کہ وہ بہت سے ادمیوں کو اس لشکر میں شامل کرنے کے لیے لائیں گے یہ کہہ کر وہ رخصت ہو ائے ان کی اطلاع کے مطابق یہ لشکر ادھر ادھر سے مزید نفری کا منتظر تھا اور اسے اگلے روز وہاں سے کوچ کرنا تھا سلطانہ ایوبی نے پہلا حکم یہ دیا کہ وہ خلیفہ کے محافظ دستے میں صرف 50 سپاہی اور ایک کماندار رہنے دے باقی تمام دستے کو چھاونی میں برا لے اگر خلیفہ احتجاج کرے تو کہہ دینا کہ یہ میرا حکم ہے سلطان نے علی بن سفیان سے کہا کہ اپنے شعبے کے کم از کم 100 ادمی جو سوڈانی زبان اچھی طرح بول سکتے ہیں سوڈانی باغیوں کے بحث میں اس کماندار کے ساتھ ابھی روانہ کر دو کماندار سے کہا کہ یہ سو ادمی ان دو شتر سواروں کے ساتھ سوڈانیوں کے لشکر میں شامل ہوں گے یہ دو شتر سوار سنتری بتائیں گے کہ وہ وعدے کے مطابق مدد لائے ہیں ان کے لیے ہدایات یہ ہیں کہ وہ لشکر کی پیش قدمی کے متعلق اطلاع دیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ رات کے وقت اس لشکر کے جانور اور رسد کہاں ہوتی ہے سلطانہ ایوبی نے الناصر سے کہا کہ تیز رفتار گھوڑ سوار چھاپہ ماروں اور چھوٹی منجنیقوں کے دستے تیار رکھو میں نے سوچا تھا کہ سیدھی ٹکر لے کر سوڈانیوں کو شہر سے دوری ختم کر دیا جائے اناصر نے کہا نہیں سلطان ایوبی نے کہا یاد رکھو الناصر اگر دشمن کی تعداد کبھی تم سے تھوڑی بھی ہو تو بھی براہ راست تصادم سے گریز کرو رات کو چھاپہ مار استعمال کرو شب خون مارو دشمن کو پہلو سے لو عقب سے لو ضرب لگاؤ اور بھاگو دشمن کی رسد تباہ کرو جانور تباہ کرو دشمن کو پریشان کرو اس کے دستے بکھیر دو اسے اگے انے کی مہلت نہ دو اسے دائیں بائیں پھیل جانے پر مجبور کر دو اگر سامنے سے ٹکر لینا چاہتا ہو تو یہ نہ بھولو کہ یہ صحرہ ہے سب سے پہلے پانی کی جگہ پر قبضہ کرو سورج اور ہوا کے رخ کو دشمن کے خلاف رکھو اسے پریشان کر کے اپنے پسند کے میدان میں لاؤ میں تمہیں عملی سبق دوں گا اس لشکر کی یہ خواہش میں پوری نہیں ہونے دوں گا کہ وہ قاہرہ تک پہنچے یا میری فوج اس کے امنے سامنے جا کر لڑے انہوں نے علی بن سفیان سے کہا تم جن ایک سو ادمیوں کو لشکر میں شامل ہونے کے لیے بھیجو گے انہیں کہنا کہ وہ سوڈانیوں میں یہ افواہ پھیلا دیں کہ چھ سات دنوں تک صلاح الدین ایوبی فلسطین پر حملہ کرنے جا رہا ہے اس لیے قاہرہ پر حملہ اس کی غیر حاضری میں کیا جائے گا ایسی بات سی ہدایات اور احکام دے کر سلطان ایوبی نے انہیں بتایا کہ وہ اج شام سے قاہرہ میں نہیں ہوگا انہوں نے قاہرہ سے بہت دور ایک جگہ بتائی وہ اپنا ہیڈ کوارٹر دشمن کے قریب رکھنا چاہتے تھے تاکہ جنگ اپنی نگرانی میں لڑ سکیں سب نے ملاقات کے کمرے میں ہی صبح کی نماز پڑھی اور سلطان ایوبی کے احکام پر کاروائی شروع ہو گئی سلطان ایوبی تیاری کے لیے اپنے کمرے میں چلے گئے سوڈانیوں کے لشکر میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا دو سال گزرے ان کی ایک بغاوت بری طرح ناکام ہو چکی تھی دوسری کوشش کی تیاریاں اسی وقت شروع ہو گئی تھیں صلیبیوں نے مدد کا وعدہ کر رکھا تھا اور جاسوسوں کی بہت بڑی تعداد مصر میں داخل کر دی تھی سوڈانیوں کا حملہ ایک نا ایک روز انا ہی تھا لیکن یہ اچانک اگیا وجہ یہ تھی کہ سلطان ایوبی نے ایک سوڈانی قبیلے کے مذہب پر فوجی حملہ کیا اور اس کے دیوتاؤں کا مسکن تباہ کر دیا تھا یہ

ENGLISH

Fed up with the caliph's idle existence and luxury, he started action against him and it was also a coincidence that Umm Arara was kidnapped by the same people whom she wanted to fight against Sultan Ayyubid and this coincidence is great. It was good that Sultan Ayyubi took the command of the guard from Rajab and sent a viceroy of his choice there, but these events turned the tide of the situation and created a danger for Sultan Ayyubi. The sheltered girl was repenting badly and wanted to atone for her sins. Nature gave her a blow and made her mind right. What should they do? On the second day, Al-Nasser and Bahauddin Shaddad removed the last sign of Pharaoh and brought back the army. Two more deputies. The Sultan jumped up and went to the meeting room. These officials were accompanied by the commander of one of the troops that patrolled the outskirts of the city. Sultan Ayubi was told that about 6,000 Sudanese Jin There are also members of the disbanded Sudanese army and members of the barbarian tribe, whose faith had been assimilated, entering the Egyptian border and encamping in one place. These camel riders pretended to be travelers and learned that this army was going to attack Cairo. He spoke and said that he would bring many men to join this army, and he left saying that according to his information, this army was waiting for more reinforcements from here and there and was to march from there the next day. Sultana Ayyubi gave the first order that he should leave only 50 soldiers and one commander in the Caliph's bodyguard and take the rest of the force in the camp. If the Caliph protested, say that this is my order. At least 100 people from their department who can speak the Sudanese language well were sent with this commander to discuss with the Sudanese rebels and told the two commanders that these 100 people will join the army of Sudanese with these two camel riders. Two camel-riding sentries will say that they have brought help as promised. Their instructions are to report the progress of the army and to see where the animals and supplies of the army are at night. Sultana Ayubi said to Al-Nasser to prepare troops of fast cavalry raiders and small catapults. I thought that the Sudanese should be cut off from the city by a direct attack. Anasser said no. Even if you are outnumbered, avoid direct confrontation. Use raids at night. Kill the night. Disperse your troops Don't give him time to grow Force him to spread left and right If you want to attack from the front Don't forget that this is a desert First occupy the water area Enemy the direction of the sun and the wind Put him against him and bring him to the field of your choice by disturbing him. I will give you a practical lesson. said to the one hundred men whom you will send to join the army, tell them to spread this rumor among the Sudanese that Salah al-Din Ayyubi is going to attack Palestine for six or seven days, so the attack on Cairo will take place in his absence. By giving such instructions and orders, Sultan Ayyubi told them that he would not be in Cairo from the evening. He told them a place far away from Cairo. Everyone could fight, they prayed the morning prayer in the meeting room and the action started on the orders of Sultan Ayyubi. Sultan Ayyubi went to his room to prepare. The army of Sudanese was increasing. The preparations for the second attempt had already failed. The crusaders had promised help and had sent a large number of spies into Egypt. It was that Sultan Ayubi made a military attack on the religion of a Sudanese tribe and destroyed the abode of its gods.

قبض کا تباہ کر دیا تھا یہ معمولی وجہ نہیں تھی مصر میں جو سلطان ایوبی کے مخالفین تھے انہوں نے سلطان کے اس اقدام کو ان کے خلاف استعمال کیا سوڈانی فوج کے برطرف کیے ہوئے باغی کمانداروں کو بھی موقع مل گیا یہ سب فورا حرکت میں ائے ان میں مصری مسلمان بھی تھے انہوں نے اس قبیلے کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا اور انہیں کہا کہ ان کا مذہب سچا ہے اور اگر وہ سلطان ایوبی کے خلاف اٹھیں گے تو ان کے دیوتا اپنی توہین کا انتقام لینے کے لیے ان کی مدد کریں گے انہوں نے پانچ سات دنوں میں لشکر جمع کیا اور قاہرہ پر حملے کے لیے چل پڑے جوں جوں ادھر ادھر کے لوگوں کو پتہ چلتا تھا وہ اس لشکر میں شامل ہو جاتے تھے دو شتر سواروں کے ساتھ جب ایک سو مسلح ادمی اس لشکر میں شامل ہوئے یہ لشکر سرحد سے اگے اگیا تھا اور ایک جگہ پڑاؤ کیے ہوئے تھا سلطان ایوبی رات کے وقت اتنا اگے چلے گئے جہاں انہیں اس لشکر کی نقل و حرکت کی اطلاع جلدی مل سکتی تھی ان سو ادمیوں نے حملہ اوروں کے سربراہوں کو بتایا کہ صلاح الدین ایوبی چند دنوں تک فلسطین کی طرف کوچ کر رہے ہیں سربرا بہت خوش ہوئے اور انہوں نے یہ پڑاؤ دو دن اور بڑھا دیا اگلی رات سلطان ایوبی کو اس لشکر کی پہلی اطلاعیں ملی اس سے اگلی رات انہوں نے 50 سوار اور پانچ منجنیقیں بھیجی جن کے ساتھ اتش گیر مادے والی ہانڈیاں تھیں انہیں ایک گھوڑا کھینچتا تھا ادھی رات کے وقت جب سوڈانی لشکر سویا ہوا تھا ان کے اناج کے ذخیرے پر ہنڈیاں کرنے لگی اچانک مان باد اتشی تیر ائے اور محب شعلے اٹھنے لگے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی منجنیپوں کو وہاں سے فارن پیچھے بھیج دیا گیا 50 سواروں نے تین چار حصوں میں تقسیم ہو کر گھوڑے سرپٹ دوڑائے اور لشکر کے پہلوں کے ادمیوں کو کچلتے اور بچیوں سے زخمی کرتے غائب ہو گئے لشکریوں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا اپ کے شولوں سے جہاں اناج کا ذخیرہ جل رہا تھا وہاں اونٹ اور گھوڑے بے دک کر ادھر ادھر بھاگنے لگے سلطانہ ایوبی کے سوار ایک بار پھر ائے اور تیر برساتے گزر گئے اور اس کے بعد نہیں ائے دوسرے دن اطلاع ملی کہ سوڈانیوں کے کم و بیش 400 ادمی اگ سے گھوڑوں اور اونٹوں کی بھگدڑ سے اور چھاپا مار سواروں کے حملوں سے مارے گئے ہیں تمام تر اناج جل گیا اور تیروں کا ذخیرہ بھی نظر اتش ہو گیا لشکر نے وہاں سے کوچ کیا اور رات ایسی جگہ پڑاؤ کیا جہاں ادھر ادھر مٹی کے ٹیلے تھے اس جگہ شبخون کا خطرہ نہیں تھا اب رات کو گ*** دستے بھی پڑاؤ سے دور دور گشت کرتے رہے مگر حملہ پھر بھی ہوا اس کا انداز بھی گزشتہ رات جیسا تھا لشکر کے سربراہوں کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے دو گ*** دستے سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں کی گھات میں اگئے تھے اور مارے گئے ہیں تیر اندازوں نے ٹیلوں سے اتشی تیر چلائے اور غائب ہو گئے سحر کا دھندلاکار نگھرنے تک یہ شب خون جاری رہا ان سے گزشتہ رات کی نسبت زیادہ نقصان ہوا شام کو علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کو اپنے جاسوسوں کی لائی ہوئی یہ اطلاع دی کہ کل دن کے وقت سورانی لشکر اس انداز سے پیش قدمی کرے گا کہ شب خون مارنے والوں کا ٹھکانہ معلوم کر کے اسے ختم کیا جائے سلطانہ ایوبی نے اپنے قریب کچھ فوج رکھی ہوئی تھی انہوں نے رات کے وقت حملہ نہ کرایا انہیں معلوم تھا کہ اب دشمن چوکنہ ہوگا اگلے روز انہوں نے 400 پیادا سپاہی سوڈانیوں کے لشکر کے دائیں طرف نصف میل دور بھیج دیے اور 400 دائیں طرف اور 400 بائیں طرف انہیں یہ ہدایت دی گئی کہ وہ اگے کو چلتے جائیں دونوں دست جنگی ترتیب میں سوڈانیوں کے پہلو سے گزرے تو سوڈانیوں نے اس خطرے کے پیش نظر اپنے پہلو پھیلا دیے کہ یہ دستے پہلو پر یا عقب سے حملہ کریں گے سلطان ایوبی کی ہدایت کے مطابق ان کے کماندار اپنے دستوں کو پرے ہٹاتے گئے سوڈانی دھوکے میں اگئے انہوں نے اپنے لشکر کو دائیں بائیں پھیلا دیا اچانک سلطان ایوبی کے 5 س سواروں نے ٹیلوں کی اوٹ سے نکل کر سوڈانیوں کے وسط میں حلہ بول دیا یہاں ان کی اعلی کمان تھی گوڑ سواروں کا حملہ اچانک اور بے حد شدید تھا سارے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی پہلوں سے پیادہ تیر اندازوں نے تیر برسانے شروع کر دیے اس طرح صرف 1300 نفری کی فوج نے کم و بیش 6 ہزار کے لشکر کو بھگدڑ میں مبتلا کر کے ایسی شکست دی کہ صحرہ لاشوں سے ہٹ گیا اور سوڈانی قید میں بھی ائے اور بھاگے بھی بھاگنے والوں کی تعداد تھوڑی تھی یہ سوڈانیوں کی دوسری بغاوت تھی جو سلطان ایوبی نے انہی کے خون میں ڈبو دی اب کہ سلطان ایوبی نے ڈپلومیسی سے کام نہیں لیا انہوں نے جنگی قیدیوں سے ملا انہوں نے جنگی قیدیوں سے معلومات حاصل کر کے ان کے تمام کمانداروں اور دیگر حکام کو قید میں ڈال دیا جو درپردہ بغاوت کی سازش میں شریک تھے تقریب کاروں کی بھی نشاندہی ہو گئی انہیں سزائے موت دی گئی رجب جیسے نائب سالاروں کو ہمیشہ کے لیے قید خانے میں ڈال دیا گیا سلطان ایوبی حیران اس پر ہوئے کہ بعض ایسے حکام اس سازش میں شریک تھے جنہیں وہ اپنا وفادار سمجھتے تھے انہوں نے اپنے معتمد سالاروں اور دیگر حکام سے کہہ دیا کہ مصر کے دفاع اور سلطنت کے استحکام کے لیے سوڈان پر حملہ اور قبضہ ضروری ہو گیا ہے انہوں نے خلیفہ الاذد سے محافظ د

ENGLISH

It was not a minor reason that Sultan Ayubi's opponents in Egypt used this move of the Sultan against them. The rebel commanders dismissed by the Sudanese army also got an opportunity. Among them were Egyptian Muslims. In five or seven days, he gathered an army and marched to attack Cairo. The army had advanced from the border and was encamped at a place. Sultan Ayubi went so far during the night where he could get information about the movement of this army quickly. Marching towards Palestine for a few days, Sarbara was very happy and extended this stay for two more days. The next night, Sultan Ayyubi received the first reports of this army. The next night, he sent 50 horsemen and five catapults with them. There were carts with explosive materials, they were pulled by a horse. At midnight, when the Sudanese army was sleeping, the carts began to raid their grain stores. Farin was sent back. 50 horsemen divided into three or four parts and galloped their horses. There the camels and horses started running wildly, Sultana Ayubi's horsemen came once more and passed by raining arrows, and after that, it was reported that on the second day, more or less 400 Sudanese men and horses and camels were killed. They were killed by the stampede and by the attacks of the raiding horsemen. All the grain was burnt and the store of arrows was lost. It wasn't. Now, at night, the G*** troops also patrolled far away from the camp, but the attack still took place, the style was the same as last night. The leaders of the army did not know that their two G*** troops were from Sultan Ayubi. The raiders were ambushed and killed. The archers shot arrows from the hills and disappeared. This night the bloodshed continued until the dawn of dawn. They suffered more losses than the previous night. informed by his spies that the Surani army would advance in the morning in such a way as to find out the abode of the murderers and eliminate them. They knew that the enemy would be alert. The next day, they sent 400 foot soldiers half a mile to the right of the Sudanese army, and 400 to the right and 400 to the left were instructed to move forward. When the two armies passed by the Sudanese side in battle formation, the Sudanese spread their flanks in view of the danger that these troops would attack from the side or from the rear. I came, they spread their army right and left. Suddenly Sultan Ayubi's 5 horsemen came out of the hills and shouted in the middle of the Sudanese. Here they were in high command. The attack of the horsemen was sudden and extremely fierce. There was a stampede, the infantry archers from the sides started firing arrows, thus an army of only 1,300 people defeated the army of more or less 6,000 in a stampede, so that the desert was removed from the bodies and the Sudanese were also in captivity. Even if they ran away, the number of those who ran away was small. This was the second rebellion of the Sudanese, which Sultan Ayubi drowned in their blood. Now, Sultan Ayubi did not work with diplomacy. He met the prisoners of war. He imprisoned all his commanders and other officials who were involved in the covert coup plot. The organizers were also identified. They were sentenced to death. It happened that some officials who were loyal to him were participating in this conspiracy, he told his trusted chiefs and other officials that the invasion and occupation of Sudan became necessary for the defense of Egypt and the stability of the empire. Protector from Khalifa Al-Azd d

اور قبضہ ضروری ہو گیا ہے انہوں نے خلیفہ الازد سے محافظ دستہ واپس لے کر اسے معزول کر دیا اور اعلان کر دیا کہ اب مصر خلافت عباسیہ کے تحت ہے اور یہ بھی کہ خلافت کی گدی بغداد میں ہوگی سلطان ایوبی نے ام ارارہ کو اٹھ محافظوں کے ساتھ نور الدین زنگی رحمت اللہ علیہ کے حوالے کرنے کے لیے روانہ کر دیا سلطان ایوبی نے کمرے میں ٹہلتے ہوئے اہ بھری اور کہا قوم متحد ہو سکتی ہے اور ہو بھی جاتی ہے قوم کا شیرازہ عمرہ اور حکام بکھیرا کرتے ہیں یا وہ خود ساخت عقائد جو امیر وزیر یا حاکم بننا چاہتے ہیں تم نے دیکھ لیا ہے علی مصر کے لوگوں کی زبان پر ہمارے خلاف کوئی شکایت نہیں غداری اور تخریب کاری صرف بڑے لوگ کر رہے ہیں ان بڑے لوگوں کو میری ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں میں انہیں اس لیے برا لگتا ہوں کہ میں اس گدی پر بیٹھ گیا ہوں جس کے وہ خواب دیکھ رہے تھے سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہل رہے تھے علی بن سفیان اور بہاؤدین شداد بیٹھے سن رہے تھے وہ ستمبر کے پہلے ہفتے کی ایک شام تھی جون اور جولائی میں سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کی بغاوت کو کچلا اور اس کے فورا بعد الازد کو خلافت کی گدی سے ہٹایا تھا اس سے پہلے انہوں نے سوڈانیوں کی بغاوت کو نہایت اچھی جنگی حکمت عملی سے دبا کر سوڈانی فوج توڑ دی تھی مگر بغاوت کرنے والے کسی بھی قائد کماندار یا عسکری کو سزا نہیں دی تھی ڈپلومیسی سے کام لیا تھا اس طرح ان کی جنگی اہمیت کی بھی داک بیٹھ گئی تھی اور ڈپلومیسی کی بھی اب کے سوڈانیوں نے پھر سر اٹھایا تو سلطان ایوبی نے اس سر کو ہمیشہ کے لیے کچل دینے کے لیے پہلے تو میدان جنگ میں سوڈانیوں کی لاشوں کے انبار لگائے پھر جو بھی پکڑا گیا اس کے عہدے اور رتبے کا لحاظ کیے بغیر اسے انتہائی سزا دی اکثریت کو تو جلاد کے حوالے کر دیا گیا باقی جو بچے انہیں لمبی قید میں ڈال دیا یا ملک بدر کر کے سوڈان کی طرف نکال دیا اج دو مہینے ہو گئے ہیں سلطان ایوبی نے کہا میں سلطنت کے انتظام اور قوم کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ نہیں دے سکا مجرم لائے جا رہے ہیں اور میں سوچ بچار کے بعد انہیں سزائے موت دیتا چلا جا رہا ہوں یوں دل کو تکلیف ہو رہی ہے جیسے میں قتل عام کر رہا ہوں میرے ہاتھوں مرنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے محترم امیر بہاؤدین شداد نے کہا ایک کافر اور ایک مسلمان ایک ہی قسم کے گناہ کریں تو زیادہ سزا مسلمان کو ملنی چاہیے کیونکہ اس تک اللہ کے سچے دین کی روشنی پہنچی پھر بھی اس نے گناہ کیا کافر تو عقل کا بھی اندھا ہے مذہب کا بھی اندھا اپ اس پر غم نہ کریں کہ اپ نے مسلمانوں کو سزا دی ہے وہ غدار تھے سلطنت اسلامیہ کے باغی تھے انہوں نے اسلام کا نام مٹی میں ملانے کے لیے کافروں سے اتحاد کیا میرا اصل غم یہ ہے شداد سلطان ایوبی نے کہا کہ میں حکمران بن کے مصر نہیں ایا اگر مجھے حکومت کرنے کا نشہ ہوتا تو مصر کی موجودہ فضا میرے لیے سازگار تھی جنہیں صرف عمارت کی گدی سے پیار ہوتا ہے وہ سازشی ذہنوں کے حاکموں کو زیادہ پسند کرتے ہیں وہ قوم کو کچھ دیے بغیر لوگوں کو دلکش مگر جھوٹے رنگوں کی تصویریں دکھاتے ہیں اپنے ذاتی عملے میں شیطانی خصلت کے افراد کو رکھتے ہیں وہ اپنے ماتحت حاکموں کو شہزادوں کا درجہ دیا رکھتے ہیں اور خود شہنشاہ بن جاتے ہیں میں کہتا ہوں کہ مجھ سے یہ گدی لے لو لیکن مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرنا میں جو مقصد لے کے گھر سے نکلا ہوں وہ مجھے پورا کر لینے دو نور الدین زنگی نے ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اور دریائے نیل کو عرب کے مجاہدوں کے خون سے سرخ کر کے شام اور مصر کا اتحاد قائم کیا ہے مجھے اس متحد سلطنت کو وسعت دینی ہے سوڈان کو مصر میں شامل کرنا ہے فلسطین کو صلیبیوں سے چھڑانا ہے اور صلیبیوں کو یورپ کے وسط میں لے جا کر کسی گوشے میں گھٹنوں بٹھانا ہے مجھے یہ فتوحات اپنی حکمرانی کے لیے نہیں اللہ کی حکمرانی کے لیے حاصل کرنی ہے مگر مصر میرے لیے دلدل بن گیا ہے وہ کون سا گوشہ ہے جہاں سازش بغاوت اور غداری نہیں ان تمام کے پیچھے صلیبی ہیں علی بن سفیان نے کہا میں حیران ہوں کہ وہ کس بے دردی سے اپنی جوان لڑکیوں کو بے حیائی کی تربیت دے کر ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں ان لڑکیوں کی خوبصورتی کا اپنا جادو ہے ان کا تلیسمن کی زبان میں ہے

ENGLISH

And the occupation has become necessary, he withdrew the guard from Caliph Al-Azd, deposed him and announced that Egypt is now under the Abbasid Caliphate and also that the mace of the Caliphate will be in Baghdad. With Nooruddin Zangi, may Allah bless him and grant him peace, Sultan Ayubi sighed while strolling in the room and said that the nation can and will be united. Beliefs who want to become a rich minister or a ruler, you have seen Ali. There is no complaint against us on the language of the people of Egypt. Treachery and sabotage are only being done by big people. These big people have no enmity with me. I feel bad that I am sitting on the donkey he was dreaming of. Sultan Ayubi was walking in his room. Ali bin Sufyan and Bahauddin Shaddad were sitting listening. It was an evening in the first week of September. Sultan Ayyubi crushed the rebellion of the Sudanese and immediately after that, Al-Azd was removed from the caliphate. Commanders or soldiers were not punished, they had worked with diplomacy, thus their war importance was also affected, and the current Sudanese raised their heads again, so Sultan Ayubi decided to crush this head forever. First, they piled up the dead bodies of the Sudanese on the battlefield, then whoever was caught was severely punished, regardless of rank and rank, and the majority were handed over to the executioner, and the rest were imprisoned for a long time or deported. Sultan Ayubi said, "I could not pay attention to the administration of the kingdom and the welfare of the nation. Criminals are being brought and after deliberation, I continue to give them the death penalty." My heart is hurting like I am committing massacres. The majority of those who died in my hands are Muslims. Honorable Amir Bahauddin Shaddad said that if a non-believer and a Muslim commit the same type of sin, then the Muslim should be punished more because The light of the true religion of Allah reached him, yet he committed a sin. A disbeliever is also blind to reason and religion. Don't be sad because you have punished the Muslims. They were traitors and rebels of the Islamic Empire. Shaddad Sultan Ayyubi said that I did not come to Egypt to become a ruler. They love donkeys. I say take this mace from me but promise me not to put any obstacle in my way. Zangi has established the union of Syria and Egypt by sacrificing thousands of lives and turning the Nile red with the blood of the Arab mujahids. I want to expand this united empire. And take the crusaders to the middle of Europe and kneel in some corner. No, the crusaders are behind all of them. Ali bin Sufyan said, "I am surprised by how brutally they are using their young girls against us by training them in immorality. The beauty of these girls has its own magic. They are the language of talismans." in


Thursday, 14 December 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode25

  The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode25





یہ لوگ عرب سے ائے تھے مصر اور سوڈان کی سیاست بازیوں اور عقائد کا ان پر کچھ اثر نہ تھا وہ صرف اسلام سے اگاہ تھے اور یہی ان کا عقیدہ تھا وہ ہر اس عقیدے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے تھے جسے وہ غیر اسلامی سمجھتے تھے انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک باطل یہ لوگ عرب سے ائے تھے مصر اور سوڈان کی سیاست بازیوں اور عقائد کا ان پر کچھ اثر نہ تھا وہ صرف اسلام سے اگاہ تھے اور یہی ان کا عقیدہ تھا وہ ہر اس عقیدے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے تھے جسے وہ غیر اسلامی سمجھتے تھے انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک باطل عقیدے کے خلاف لڑنے جا رہے ہیں اور ہو سکتا ہے انہیں اپنے سے زیادہ نفری سے مقابلہ کرنا پڑے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لڑائی خونریز ہو اور ان کے سامنے کوئی ٹھہر ہی نہ سکے اور بغیر لڑائی کے مہم سر ہو جائے انہیں سکیم سمجھا دی گئی اور ان کے ذہنوں میں پہاڑی علاقے کا اور ان پہاڑیوں کی بلندی جو زیادہ نہیں تھی اور ان میں گھری ہوئی قربان گاہ کا تصور بٹھا دیا گیا تھا 12 جانبازوں کو بھی ان کے ہدف کا تصور دیا گیا انہیں ٹریننگ بڑی سختی سے دی گئی تھی پہاڑیوں پر چڑھنا اور ریگستانوں میں دوڑنا بھوک اور پیاس اونٹ کی طرح برداشت کرنا ان کے لیے مشکل نہیں تھا قربانی کی رات کو چھ روز باقی تھے تین دن اور تین راتیں چھاپہ ماروں اور 500 سپاہیوں کو مشق کرائی گئی چوتھے روز چھاپہ ماروں کو اونٹوں پر روانہ کر دیا گیا اونٹوں کی میانہ چال سے ایک دن اور ادھی رات کا سفر تھا شدربانوں کو حکم دیا گیا تھا کہ چھاپماروں کو پہاڑی علاقے سے دور جہاں وہ کہیں اتار کر واپس ا جائیں 500 کے دستے کو تماشائیوں کے بحث میں دو دو چار چار کی ٹولیوں میں گھوڑوں اور اونٹوں پر روانہ کیا گیا انہیں جانور اپنے ساتھ رکھنے تھے ان کے ساتھ ان کے کماندار بھی اس بحث میں چلے گئے پورا چاند ابھرتا ا رہا تھا صحرا کی فضا شیشے کی طرح شفاف تھی میلے میں انسانوں کے ہجوم کا کوئی شمار نہ تھا کہیں نیم برہنا لڑکیاں رقص کر رہی تھیں اور کہیں گانے والیوں نے مجمع لگا رکھا تھا سب سے زیادہ بھیڑ اس چبوترے کے ارد گرد تھی جہاں لڑکیاں نیلام ہو رہی تھیں ایک لڑکی کو چبوترے پر لایا جاتا گاہک اسے ہر طرف سے دیکھتے اس کا منہ کھول کر دانت دیکھتے بالوں کو الٹا پلٹا کے دیکھتے جسم کی سختی اور نرمی محسوس کرتے اور بولی شروع ہو جاتی وہاں جوا بھی تھا شراب بھی تھی اگر وہاں نہیں تھا تو قانون نہیں تھا پوری ازادی تھی دور دور سے ائے ہوئے لوگوں کے خیمے میلے کے ارد گرد نصب تھے تماشائی مذہب اور اخلاق کی پابندیوں سے ازاد تھے انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان سے تھوڑی ہی دور جو پہاڑیاں ہیں ان میں ایک خوبصورت لڑکی کو ذبح کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور وہاں ایک انسان دیوتا بنا ہوا ہے وہ صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ ان پہاڑیوں میں گھرا ہوا علاقہ دیوتاؤں کا پایا تخت ہے جہاں جن اور بھوت پہرا دیتے ہیں اور کوئی انسان وہاں جانے کی سوچ بھی نہیں سکتا انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان کے درمیان اللہ کے 5 س سپاہی گھوم پھر رہے ہیں اور 12 انسان دیوتاؤں کے پایا تخت کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں صلاح الدین ایوبی کے 12 چھاپہ ماروں کو بتایا گیا تھا کہ پہاڑیوں کے اندرونی علاقے میں داخل ہونے کا راستہ کہاں ہے لیکن وہاں سے وہ داخل نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ وہاں پہرے کا خطرہ تھا انہیں بہت دشوار راستے سے اندر جانا تھا انہیں بتایا گیا تھا کہ پہاڑیوں کے ارد گرد کوئی انسان نہیں ہوگا مگر وہاں انسان موجود تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس حبشی نے علی بن سفیان کو غلط بتایا تھا کہ اس علاقے کے گرد کوئی پہرا نہیں ہوتا پہاڑیوں کا یہ خطہ ایک میل بھی لمبا نہیں تھا اور اسی قدر چوڑا تھا وہ چونکہ تربیت یافتہ چھاپہ مارتے اس لیے وہ بکھر کر اور احتیاط سے اگے گئے تھے ایک چھاپہ مار کو اتفاق سے ایک درخت کے قریب ایک متحرک سایہ نظر ایا چھاپہ مار چھپتا اور رینگتا اس کے عقب میں چلا گیا قریب جا کر اس پر جھپٹ پڑا اس کی گردن بازو کے شکنجے میں لے کر خنجر کی نوک اس کے دل پر رکھ دی گردن ڈھیلی چھوڑ کر اس سے پوچھا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو اور یہاں کسی قسم کا پیرا ہے وہ حبشی تھا چھاپہ مار عربی بول رہا تھا جو حبشی سمجھ نہیں سکتا تھا اتنے میں ایک اور چھاپہ مارا گیا اس نے بھی خنجر حبشی کے سینے پر رکھ دیا انہوں نے اشاروں سے پوچھا تو حبشی نے اشاروں میں جواب دیا جس سے شک ہوتا تھا کہ یہاں بہرا موجود ہے اس حبشی کی شہرگ کاٹ دی گئی اور چھاپہ مار اور زیادہ محتاط ہو کر اگے بڑھے یکلخت جنگل اگیا اگے پہاڑی تھی چاند اوپر اٹھتا ا رہا تھا لیکن درختوں اور پہاڑیوں نے اندھیرا کر رکھا تھا وہ پہاڑی پر ایک دوسرے سے ذرا دور اوپر چڑھتے گئے اندر کے علاقے میں جہاں لڑکی کو فروخت کے حوالے کیا گیا تھا کوئی اور ہی سرگرمی تھی پتھر کے چہرے کے سامنے چبوترے پر ایک قالین بچھا ہوا تھا اس پر چوڑے پھل والی تلوار رکھی تھی اس کے قریب ایک
ENGLISH
These people came from Arabia. The politics and beliefs of Egypt and Sudan had no influence on them. They were only aware of Islam and that was their belief. They stood up against every belief that they considered un-Islamic. It was told that they were false, these people came from Arabia, the politics and beliefs of Egypt and Sudan had no influence on them, they were only aware of Islam and that was their belief, they stood up against every belief that they had. They were told that they were going to fight against a false faith and that they might have to fight against a force larger than themselves, and that the fight might be bloody and that no one could stand before them. And that the campaign should start without a fight, the scheme was explained to them and the idea of ​​the mountainous area and the height of the hills which were not high and the altar surrounded by them was planted in their minds. 12 soldiers were also their targets. They were trained very hard. Climbing the hills and running through the deserts. It was not difficult for them to endure hunger and thirst like camels. There were six days left on the night of sacrifice. Three days and three nights were raided and 500 The soldiers were trained. On the fourth day, the raiders were sent off on camels. It was a day and half a night's journey by camels. A troop of 500 was sent out on horses and camels in groups of two or four in groups of spectators. They had to keep animals with them and their commanders also went into the discussion. The full moon was rising and the desert sky was glassy. As transparent as it was, there was no crowd of people in the fair. Somewhere half-naked girls were dancing and some were singers. The biggest crowd was around the platform where the girls were being auctioned. The customers who were brought to the platform would look at him from all sides, open his mouth and see his teeth, look at his hair turned upside down, feel the hardness and softness of his body and start talking. There was complete freedom. Tents of people from far and wide were pitched around the fair. The spectators were free from the restrictions of religion and morals. They did not know that in the hills that were not far away from them, preparations were being made to slaughter a beautiful girl. They are going and there is a human being who has become a god. They only knew that the area surrounded by these hills is the throne of the gods where jinns and ghosts guard and no human can even think of going there. It was not known that 5 soldiers of Allah were roaming among them and 12 humans had entered the limits of the Throne of the Gods. but they could not enter from there because there was a danger of guards, they had to go in through a very difficult way. They were told that there would be no people around the hills, but there were people there, which meant that he The Abyssinian had wrongly told Ali bin Sufyan that there was no guard around this area. This area of ​​hills was not even a mile long and was only as wide. They were scattered and carefully planted as trained raiders. A raider happened to see a moving shadow near a tree. The raider hid and crawled behind it. Leaving his neck loose, he asked him what are you doing here and there is some kind of para here. He was an Abyssinian. The raider was speaking Arabic, which the Abyssinian could not understand. He placed it on his chest. They asked him for signs, and the negro replied with signs that made him suspect that there was a deaf person here. The negro's head was cut off and he raided and being more careful, he moved forward. Rising up but obscured by the trees and hills they climbed the hill a little apart from each other in the inner area where the girl was offered for sale there was another activity on the platform in front of the rock face. A carpet was spread on it and a broad-bladed sword was placed near it
اس کے قریب ایک چوڑا برتن رکھا تھا اور قالین پر پھول بکھرے ہوئے تھے اس کے قریب اگ جل رہی تھی چبوترے کے چاروں کناروں پر دیے جلا کر چراغاں کیا گیا تھا وہاں چار لڑکیاں گھوم رہی تھیں ان کا لباس دو دو چوڑے پتے تھے اور باقی جسم بہ رہنا چار حبشی تھے جنہوں نے کندھوں سے ٹخنہ تک سفید چادریں لپیٹ رکھی تھی ام ارارہ تہ خانے میں فروخت کے ساتھ تھی فروخت اس کے بالوں سے کھیل رہا تھا اور وہ مخمور اواز میں کہہ رہی تھی میں ان گوگ کی ماں ہوں تم ان گوک کے باپ ہو میرے بیٹے مصر اور سوڈانیوں کے بادشاہ بنیں گے میرا خون انہیں پلا دو میرے لمبے لمبے سنہری بال ان کے گھروں میں رکھ دو تم مجھ سے دور کیوں ہٹ گئے ہو میرے قریب اؤ فروخت اس کے جسم پر تیل کی طرح کوئی چیز ملنے لگا ان کو غالبا اس قبیلے کا نام تھا ایک عربی لڑکی کو نشے کے خمار نے اس قبیلے کی ماں اور پیروحت کی بیوی بنا دیا تھا وہ قربان ہونے کے لیے تیار ہو گئی تھی فروخت اخری رسومات پوری کر رہا تھا 12 چھاپہ مار رات کے کیڑوں کی طرح رینگتے ہوئے پہاڑیوں پر چڑھتے اترتے اور ٹھوکریں کھاتے ا رہے تھے بہت ہی دشوار گزارا علاقہ تھا بیشتر جھاڑیاں خاردار تھیں چاند سر پر اگیا تھا انہیں درختوں میں سے روشنی کی کرنیں دکھائی دینے لگی ان کرنوں میں انہیں حبشی کھڑا نظر ایا جس کے ایک ہاتھ میں برچھی اور دوسرے میں لمبوتری ڈال تھی وہ بھی دیوتاؤں کے پائے تخت کا پہرے دار تھا اسے خاموشی سے مارنا ضروری تھا وہ ایسی جگہ کھڑا تھا جہاں اس پر عقب سے حملہ نہیں کیا جا سکتا تھا امنے سامنے کا مقابلہ موضوع نہیں تھا ایک چھاپا مار جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گیا دوسرے نے اس کے سامنے ایک پتھر پھینکا جس نے گر کر اور لڑک کر اواز پیدا کی حبشی بدکا اور اس طرف ایا وہ جو ہی جھاڑی میں چھپے ہوئے چھاپا مار کے سامنے ایا اس کی گردن ایک بازو کے شکنجے میں اگئی اور ایک خنجر اس کے دل میں اتر گیا چھاپا مار کچھ دیر بہار رکے اور احتیاط سے اگے چل پڑے ام ارارہ قربانی کے لیے تیار ہو چکی تھی فروخت نے اخری بار اسے سینے سے لگایا اور اس کا ہاتھ تھام کر سیڑھیوں کی طرف چل پڑا باہر کے چار حبشی مردوں اور لڑکیوں کو پتھر کے سر اور چہرے کے منہ میں روشنی نظر ائی تو وہ منہ کے سامنے سجدے میں گر گئے فرہت نے اپنی زبان میں ایک اعلان کیا اور منہ سے اتر ایا ام ارارہ اس کے ساتھ تھی اسے وہ قالین پر لے گیا مرد اور لڑکیاں ان کے ارد گرد کھڑے ہو گئے ام ارارہ نے عربی زبان میں کہا میں انگوک کے بیٹیوں اور بیٹوں کے لیے اپنی گردن کٹوا رہی ہوں میں ان لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کر رہی ہوں میری گردن کاٹ دو میرا سر انگوک کے دیوتا کے قدموں میں رکھ دو دیوتا اس سر پر مصر اور سوڈان کا تاج رکھیں گے چاروں ادمی اور لڑکیاں ایک بار پھر سجدے میں گر گئی راحت نے ام ارارہ کو قالین پر دو زانوں بٹھا کر اس کا سر اگے جھکا دیا اور وہ تلوار اٹھا لی جس کا پھل پورے ہاتھ جتنا چوڑا تھا ایک چھاپہ مار جو سب سے اگے تھا رک گیا اس نے سرگوشی کر کے پیچھے انے والے کو روک لیا پہاڑی کی بلندی سے انہیں چبوترا اور پتھر کا سر نظر ایا چبوترے پر ایک لڑکی دو زانو بیٹھی ہوئی تھی جس کا سر جھکا ہوا تھا شفاف چاندنی چراغاں اور بڑی مشلوں نے سورج کی روشنی کا ساماں بنا رکھا تھا لڑکی کے پاس کھڑے ادمی کے ہاتھ میں تلوار تھی دوزانو بیٹھی ہوئی لڑکی پر رہنا تھی اس کے جسم کا رنگ بتا رہا تھا کہ حبشی قبیلے کی لڑکی نہیں ہے چھاپ مار دور تھے اور بلندی پر بھی تھے وہاں سے تیر خطا جانے کا خطرہ تھا مگر وہ جس پہاڑی پر تھے اس کے اگے ڈھلان نہیں تھی بلکہ سیدھی دیوار تھی جس سے اترنا ناممکن تھا وہ جان گئے کہ لڑکی قربان کی جا رہی ہے اور اسے بچانے کے لیے وقت اتنا تھوڑا ہے کہ وہ اڑ کر نہ پہنچے تو اسے بچا نہیں سکیں گے انہوں نے چوٹی سے نیچے دیکھا چاندنی میں انہیں ایک جھیل نظر ائی انہیں بتایا گیا تھا کہ وہاں ایک جھیل ہے جس میں مگر مچھ رہتے ہیں دائیں طرف ڈھلان تھی لیکن وہ بھی تقریبا دیوار کی طرح تھی وہاں جھاڑیاں اور درخت تھے انہیں پکڑ پکڑ کر اور ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر وہ ڈھالا اترے ان میں سے اخری جانباز نے اتفاق سے سامنے دیکھا چاندنی میں سامنے کی چوٹی پر اسے ایک حبشی کھڑا نظر ایا اس کے ایک ہاتھ میں ڈال تھی اور دوسرے ہاتھ میں برچھی جو اس نے تیر کی طرح پھینکنے کے لیے تان رکھی تھی چھاپہ ماروں پر چاندنی نہیں پڑ رہی تھی حبشی ابھی شک میں تھا اخری شاپہمار نے کمان میں تیر ڈالا رات کی خاموشی میں کمان کی اواز سنائی دی تیر حبشی کی شہراب میں لگا اور وہ لڑکتا ہوا نیچے ا رہا چھاپا مار ڈلان اترتے گئے گرنے کا خطرہ ہر قدم پر تھا فروخت نے تلوار کی دھار ام ارارہ کی گردن پر رکھی اور اوپر اٹھائی لڑکیوں اور مردوں نے سجدے سے اٹھ کر دو زانوں بیٹھتے ہوئے پرسوز اور دھیمی اواز میں کوئی گانا شروع کر دیا یہ ایک گونج تھی جو اس دنیا کی نہیں لگتی تھی
ENGLISH
A wide pot was placed near it and flowers were scattered on the carpet. A fire was burning near it. Lamps were lit on the four sides of the platform. There were four girls walking around. Abominable were four negroes who wore white sheets from shoulders to ankles. Umm Arara was with Sale in the basement. Sale was playing with her hair and she was saying in a drunken voice, "I am the mother of Ingog, you are in." Father of Gok, my sons will be kings of Egypt and the Sudanese. Give them my blood. Put my long golden hair in their homes. Why have you turned away from me? They began to meet, probably the name of this tribe was an Arab girl who had become the mother of this tribe and the wife of Piruht due to drunkenness. She was ready to be sacrificed. Sale was performing last rites. They were crawling up and down the hills and stumbling like insects. It was a very difficult area. Most of the bushes were thorny. The moon had risen overhead. They began to see rays of light coming from the trees. In these rays, they saw an Abyssinian standing. He had a spear in one hand and a lance in the other. He also guarded the throne of the gods. He had to be killed silently. He stood in a place where he could not be attacked from behind. The raider sat down hiding in the bushes, the other threw a stone in front of him, which fell and rattled and made a sound. Shikanje went into a trap and a dagger went into his heart. The raiders stopped for a while and walked cautiously forward. Umm Arara was ready for the sacrifice. When the four Abyssinian men and girls outside saw the light in the mouth of the stone head and face, they fell down in prostration in front of the mouth. He took it to the carpet and the men and girls stood around them. Umm Arara said in Arabic, "I am cutting my neck for the sons and daughters of Angok. I am paying atonement for the sins of these people. Cut my neck." Put my head at the feet of the god of Angok, the two gods will place the crown of Egypt and Sudan on this head. The four men and the girls once again fell into prostration. He took up the sword whose blade was as wide as a full hand. A raider who had sprung from the foremost halted. He whispered and stopped the pursuer. Zanu was sitting with her head bowed. Translucent moonlight lamps and large lamps made the sun shine. The man standing next to the girl had a sword in his hand. Dozanu was supposed to be on the sitting girl, telling the color of her body. that she is not a girl from the Abyssinian tribe. The raiders were far away and were on a high ground, there was a danger of the arrows going astray, but there was no slope in front of the hill they were on, but a straight wall from which it was impossible to get down. They knew that the girl He is being sacrificed and the time to save him is so short that they cannot save him unless they fly in. They looked down from the peak and saw a lake in the moonlight. They were told that there was a lake in which But the flies live, there was a slope on the right side, but it was almost like a wall, there were bushes and trees. On the top of the hill he saw a negro standing with a spear in one hand and a javelin in the other, which he held to throw like an arrow. There was no moonlight on the raiders. The negro was in doubt. I shot an arrow, the sound of a bow was heard in the silence of the night, the arrow hit the Abyssinian city, and he fell down as a boy. Aai girls and men got up from their prostrations and sat on their knees and began to sing in a low and deep voice, a sound that was not of this world.
یہ ایک گونج تھی جو اس دنیا کی نہیں لگتی تھی پہاڑیوں میں گھری ہوئی اس تنگ سی وادی میں ایک ایسا تلسم طاری ہوا جا رہا تھا جو باہر کے کسی بھی انسان کو یقین د** سکتا تھا کہ یہ انسانوں کی نہیں دیوتاؤں کی سرزمین ہے فروخت تلوار کو اوپر لے گیا اب تو ایک دو سانسوں کی دیر تھی تلوار نیچے کو انے ہی لگی تھی کہ ایک تیر پروہت کی بغل میں دھنس گیا اس کا تلوار والا ہاتھ ابھی نیچے نہیں گرا تھا کہ تین تیر بیک وقت اس کے پہلو میں اتر گئے لڑکیوں کی چیخیں سنائی دی مرد کسی کو اوازیں دینے لگے تیروں کی ایک اور باڑائی جس نے دو مردوں کو گرا دیا لڑکیاں جدھر منہ ایا دوڑ پڑی ام ارارہ اس شور و غل اور اپنے گرد تڑپتے ہوئے اور خون میں ڈوبے ہوئے جسموں سے بے نیاز سر جھکائے بیٹھی تھی چھاپا مار بہت تیز دوڑتے ائے چبوترے پر چڑھے اور ام ارارہ کو ایک نے اٹھا لیا وہ ابھی تک نشے کی حالت میں باتیں کر رہی تھی ایک جانباز نے اپنا کرتا اتار کر اسے پہنا دیا اسے لے کر چلے ہی تھے کہ ایک طرف سے 12 13 حبشی برچھیاں اور ڈھالیں اٹھائے دوڑتے ائے چھاپہ مار پہ گھر گئے ان میں چار کے پاس تیر کمانے تھی انہوں نے تیر برسائے باقی چھاپہ مار ایک طرف چھپ گئے اور جب حبشی اگے ائے تو عقب سے ان پر حملہ کر دیا ایک تیر انداز نے کمان میں سے فیتے والا تیر نکالا فیتے کو اگ لگائی اور کمان میں ڈال کر اوپر کو چھوڑ دیا تیر دور اوپر جا چکا تو اس کا شعلہ جو رفتار کی وجہ سے دب گیا تھا رفتار ختم ہوتے ہی بھڑکا اور نیچے انے لگا میلے کی رونق ابھی مان نہیں پڑی تھی تماشائیوں میں سے 5 س تماشائی میلے سے الگ ہو کر اس پہاڑی خطے کی طرف دیکھ رہے تھے انہیں دور فضا میں ایک شعلہ سا نظر ایا جو بھڑک کر نیچے کو جانے لگا وہ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہوئے ان کے کماندار ساتھ تھے پہلے تو وہ اہستہ اہستہ چلے تاکہ کسی کو شک نہ ہو ذرا دور جا کر انہوں نے گھوڑے دوڑا دیے تماشائی میلے میں شراب جوئے اور ناچنے گانے والی لڑکیوں اور عصمت فروش عورتوں میں اتنے مگن تھے کہ کسی کو کانو کان خبر نہ ہوئی کہ ان کے دیوتاؤں پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے چھاپہ مارنے اس خطرے کی وجہ سے اتشین تیر چلا دیا تھا کہ حبشیوں کی تعداد زیادہ ہوگی مگر فوج وہاں پہنچی تو وہاں 12 13 لاشیں حبشیوں کی اور دو لاشیں چھاپہ مار شہید ہوں گی پڑی تھی وہ برچھیوں سے شہید ہوئے تھے کمانداروں نے وہاں کا جائزہ لیا پتھر کے منہ میں گئے اور تہ خانے میں جا پہنچے وہاں انہیں جو چیزیں ہاتھ لگی وہ اٹھا لی ان میں ایک پھول بھی تھا جو قدرتی نہیں بلکہ کپڑے سے بنایا گیا تھا احکام کے مطابق فوج کو وہیں رہنا تھا لیکن پہاڑیوں میں چھپ کر چھاپہ ماروں نے ام ارارہ کو گھوڑے پر ڈالا اور قاہرہ کی طرف روانہ ہو گئے صبح طلوع ہوئی میلے کی رونق ختم ہو گئی تھی بیشتر تماشائی رات شراب پی پی کر ابھی تک مدہوش پڑے تھے دکاندار جانے کس کے لیے مال اسباب باندھ رہے تھے لڑکیوں کے بیپاری بھی جا رہے تھے صحرا میں روانہ ہونے والوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں میلے کے قریب جو گاؤں تھا وہاں کے لوگ بے تابی سے اس لڑکی کے بالوں کا انتظار کر رہے تھے جسے رات قربان کیا گیا تھا اس قبیلے کے لوگ جو دور دراز دیہات کے رہنے والے تھے پہاڑی جگہ سے دور کھڑے دیوتاؤں کے مسکن کی طرف دیکھ رہے تھے ان کے بڑے بوڑھے انہیں بتا رہے تھے کہ ابھی فروخت ائے گا وہ دیوتاؤں کی خوشنودی کا پیغام لائے گا اور ان میں بال تقسیم کرے گا مگر ابھی تک کوئی نہیں ایا تھا دیوتاؤں کے مسکن پر سکوت طاری تھا اس منتظر ہوجوم کو معلوم نہ تھا کہ وہاں فوج مقیم ہے اور اب وہاں سے دیوتاؤں کا کوئی پیغام نہیں ائے گا دن گزرتا گیا قبیلے کے جن نوجوانوں نے قربانی کی باتیں سنی تھی انہیں شک ہونے لگا کہ یہ سب جھوٹ ہے دن گزر گیا سورج انہی پہاڑیوں کے پیچھے جا کر ڈوب گیا کسی میں اتنی جرت نہیں تھی کہ وہاں جا کر دیکھتا کہ فروخت کیوں نہیں ایا طبیب کو بلا لاؤ سلطان ایوبی نے کہا لڑکی پر نشے کا اثر ہے ام ارارہ اس کے سامنے بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی میں انگوٹ کی ماں ہوں تم کون ہو تم دیوتا نہیں ہو میرا شوہر کہاں ہے میرا سر کاٹو اور دیوتا کو دے دو مجھے میرے بیٹوں پر قربان کر دو وہ بولے جا رہی تھی مگر اب اس پر غنودگی بھی طاری ہو رہی تھی اس کا سر ڈول رہا تھا طبیب نے اتے ہی اس کی کیفیت دیکھی اور اسے کوئی دوائی نہ دی ذرا سی دیر میں اس کی انکھیں بند ہو گئیں اسے لٹا دیا گیا اور وہ گہری نیند سو گئی سلطان ایوبی کو تفصیل سے بتایا گیا کہ پہاڑی خطے میں کیا ہوا اور وہاں کیا ملا ہے انہوں نے اپنے نائب سالار الناصر اور بہاؤدین شداد کو حکم دیا کہ 500 سوار لے جائیں ضروری سامان لے جائیں اور اس بت کو مسمار کر دیں مگر اس جگہ کو فوج کے گھیرے میں رکھیں حملے کی صورت میں مقابلہ کریں اگر وہ لوگ دب جائیں اور لڑ نہ سکیں تو انہیں وہ جگہ دکھا کر پیار اور محبت سے سمجھائیں کہ یہ محض ایک فریب تھا شداد نے اپنی ڈائری میں جو عربی زبان میں لکھی گئی تھی اس
ENGLISH
It was a sound that was not of this world. In this narrow valley surrounded by hills, there was a talisman that could make any outsider believe that this was the land of gods and not humans. Sale took the sword up, and now it was a couple of breaths late. The sword was about to go down when an arrow sank into the priest's armpit. His sword hand had not yet fallen down when three arrows landed in his side at the same time. The screams of the girls were heard, the men began to shout to someone, another volley of arrows felled two men, the girls ran wherever they came, Umm Arara, unfazed by the noise and the writhing and blood-soaked bodies around her. She was sitting with her head bowed, the attackers ran very fast and climbed on the platform and someone picked up Umm Arara, she was still talking in a drunken state. From the side 12 13 Abyssinians carrying spears and shields ran towards the raiders and four of them had to shoot arrows. Asaz took out an arrow with a string from his bow, ignited the string and put it in the bow and let it go up. The excitement was not yet believed. Five of the spectators were separated from the festival and were looking towards this mountainous region. The commanders were with them, but at first they walked slowly so that no one would suspect, then they went a little far and made the horses run. That the resurrection has broken on their gods. Due to the threat of raiding, Atshin had fired arrows that the number of Abyssinians would be more, but when the army reached there, there were 12 13 bodies of Abyssinians and two bodies would have been martyred in the raid. They were martyred by spears. The commanders examined there. They went to the mouth of the stone and reached the basement. There they picked up the things they could touch. Among them was a flower which was not natural but made of cloth. According to the orders, the army was supposed to stay there, but the raiders hiding in the hills put Umm Arara on a horse and left for Cairo. When the morning dawned, the excitement of the fair was over. Most of the spectators were still drunk after drinking alcohol all night. The goods were being packed for the girls. The people of this tribe who lived in distant villages were standing far away from the mountain place looking towards the abode of the gods. He would divide the hair, but no one had come yet. There was silence in the abode of the gods. The waiting crowd did not know that the army was stationed there and no message from the gods would come from there. The day passed. They started to doubt that it was all a lie. The day passed and the sun went down behind the same hills. No one had the courage to go there and see why there was no sale. Call the doctor. Sultan Ayubi said the girl. But there is the effect of intoxication. Umm Arara was sitting in front of him and was saying, I am the mother of Ingot, who are you, you are not a god, where is my husband, cut off my head and give it to the god. but now he was getting drowsy, his head was shaking, the doctor immediately saw his condition and did not give him any medicine. The sleepy Sultan Ayyubi was told in detail what had happened in the mountainous region and what had been found there. He ordered his viceroy Al-Nasir and Bahauddin Shaddad to take 500 horsemen to carry the necessary supplies and demolish the idol, but he Keep the place surrounded by the army. In case of attack, fight back. If the people are overwhelmed and cannot fight, show them the place and explain with love and affection that it was just an illusion. Shaddad in his diary written in Arabic It was
شداد نے اپنی ڈائری میں جو عربی زبان میں لکھی گئی تھی اس واقعے کو یوں بیان کیا ہے کہ وہ 5 س سواروں کے ساتھ وہاں پہنچے رہنمائی اس فوج کے کماندار نے کی جو پہلے ہی وہاں موجود تھا سینکڑوں سوڈانی حبشید دور دور کھڑے تھے ان میں سے بعض گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھے ان کے پاس برچھیاں تلواریں اور کمانے تھیں ہم نے اپنے تمام تر سواروں کو اس پہاڑی جگہ کے ارد گرد اس طرح کھڑا کر دیا کہ ان کے منہ باہر کی طرف اور ان کی کمانوں میں تیر تھے اور جن کے پاس کمانے نہیں تھیں ان کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں خطرہ خون ریز لڑائی کا تھا میں الناصر کے ساتھ اندر گیا بت کو دیکھ کر میں نے کہا کہ فرعونہ کی یادگار ہے حبشیوں کی لاشیں پڑی تھیں ہر جگہ گھوم پھر کر دیکھا دو پہاڑیوں کے درمیان ایک کھنڈر تھا جو فرعونوں کے وقتوں کی خوشنما عمارت تھی دیواروں پر اس زمانے کی تحریریں تھیں الفاظ لکیروں والی تصویروں کی مانند تھے کوئی شبہ نہ رہا کہ یہ فرعون کی جگہ تھی دیوار جیسی ایک پہاڑی کے دامن میں جھیل تھی جس کے اندر اور باہر دو دو قدم لمبے مگرمچھ تھے جھیل کا پانی پہاڑی کے دامن کو کاٹ کر پہاڑی کے نیچے چلا گیا تھا پانی کے اوپر پہاڑی کی چھت تھی جگہ خوفناک تھی ہمیں دیکھ کر بہت سارے مگرمچھ کنارے پر اگئے اور ہمیں دیکھنے لگے میں نے سپاہیوں سے کہا حبشوں کی لاشیں جھیل میں پھینک دو یہ بھوکے ہیں وہ لاشیں گھسیٹ کر لائے اور جھیل میں پھینک دی مگر مچھروں کی تعداد کا اندازہ نہیں پوری فوج تھی لاشوں کے سر باہر رہے اور یہ سر پانی میں دوڑتے پہاڑی کے اندر چلے گئے پھر راحت کی لاش ائی اس نے دوسرے انسانوں کو مگر مچھوں کے اگے پھینکا تھا ہم نے اسے بھی جھیل میں پھینک دیا وہ سپاہی 4 سوڈانی لڑکیوں کو لائے وہ کہیں چھپی ہوئی اور عریاں تھیں کمر کے ساتھ ایک پتہ اگے پیچھے بنا تھا میں نے اور الناصر نے منہ پھیر لیے سپاہیوں سے کہا کہ انہیں مستور کرو جب ان کے جسم کپڑوں میں چپ گئے تو دیکھا وہ بہت خوبصورت تھی روتی تھی ڈرتی تھی ہمارے ترجمان کو انہوں نے وہاں کا حال اپنی زبان میں بیان کیا جو بہت شرمناک تھا مسلمان کو عورت ذات کا یہ حال برداشت نہیں کرنا چاہیے عورت اپنی ہو کسی اور کی ہو کافر ہو اسلام اسے بیٹی کہتا ہے ان چار لڑکیوں کا بیان ظاہر کرتا تھا کہ وہ فرعونہ کو خدا مانتی ہیں ان کا قبیلہ انسان کو خدا مانتا ہے یہ جگہ خوشنما تھی سارے صحرا میں سرسبز تھی اندر پانی کا چشمہ تھا جس نے جھیل بنائی درخت تھے جنہوں نے سایہ دیا کسی فرعون کو یہ مقام پسند ایا تو اسے تفریح کا مقام بنایا اپنی خدائی کے ثبوت میں یہ بت بنایا اس میں تہخانہ رکھا اور یہاں عیش کی اسمان نے کوئی اور رنگ دکھایا سورج ادھر سے ادھر ہو گیا فرعونہ کے ستارے ٹوٹ گئے اور مصر میں دوسرے باطل مذہب ائے اخر میں حق کی فتح ہوئی اور مصر نے کلمہ لا الہ الا اللہ سنا اور
ENGLISH
Shaddad, in his diary, which was written in Arabic, described the incident as saying that he arrived there with 5 horsemen, led by the commander of the army who was already there, and hundreds of Sudanese Habsheeds were stationed far and wide among them. Some of them were riding on horses and camels, they had spears, swords and bows. They had no money, they had spears in their hands, there was a danger of a bloody fight. There was a ruin which was a beautiful building from the time of the Pharaohs. On the walls there were writings of that time. The words were like pictures with lines. There was no doubt that this was the place of the Pharaoh. There was a lake at the foot of a hill like a wall, with two inside and outside. There were crocodiles two feet long. The water of the lake cut the foot of the hill and went down the hill. Above the water was the roof of the hill. The place was terrible. Seeing us, many crocodiles came to the shore and started looking at us. I told the soldiers, "Abyssinians." Throw the corpses in the lake. They are hungry. They dragged the corpses and threw them in the lake, but the number of mosquitoes was not estimated. The whole army was there. threw the other humans in front of the flies, we also threw him into the lake, those soldiers brought 4 Sudanese girls, they were hiding somewhere and were naked. He told us to mask them. When their bodies were hidden in their clothes, we saw that they were very beautiful, they were crying, they were afraid. It should be done. A woman belongs to someone else. Be it a disbeliever. Islam calls her a daughter. The statement of these four girls showed that they believed Pharaoh to be God. Their tribe believed man to be God. There was a spring that made a lake, there were trees that gave shade. A pharaoh liked this place, so he made it a place of entertainment. He made this idol as proof of his divinity. The stars of the pharaohs were broken and the other false religion in Egypt finally won the victory of the truth and Egypt heard the word ``There is no god but Allah.''
ان کا قبیلہ انسان کو خدا مانتا ہے یہ جگہ خوشنما تھی سارے صحرا میں سرسبز تھی اندر پانی کا چشمہ تھا جس نے جھیل بنائی درخت جنہوں نے سایہ دیا کسی فرعون کو یہ مقام پسند ایا تو اسے تفریح کا مقام بنایا اپنی خدائی کے ثبوت میں یہ بت بنایا اس میں تہخانہ رکھا اور یہاں عیش کی اسمان نے کوئی اور رنگ دکھایا سورج ادھر سے ادھر ہو گیا فرعونہ کے ستارے ٹوٹ گئے اور مصر میں دوسرے باطل مذہب ائے اخر میں حق کی فتح ہوئی اور مصر نے کلمہ لا الہ الا اللہ سنا اور خدا کے حضور سرخرو ہوا لیکن کسی نے نہ جانا کہ باطل ان پہاڑیوں میں زندہ رہا الحمدللہ ہم نے خدائے عزوجل سے رہنمائی لی باطل کا یہ نقش بھی اکھاڑا اور اس ریگزار کو پاک کیا اس جگہ کو سواروں کے گھیرے میں لے کر فوج نے پتھر کے اس ہیبت ناک بدھ کو مسمار کر دیا چبوترا بھی گرا دیا تہخانہ ملبے سے بھر دیا باہر سینکڑوں حبشی حیران اور خوفزدہ کھڑے تھے کہ یہ کیا ماجرہ ہے ان سب کو بلا کر اندر لے جایا گیا کہ یہاں کچھ بھی نہیں تھا چاروں لڑکیاں ان کے حوالے کی گئیں چاروں کے باپ اور بھائی وہاں موجود تھے انہوں نے اپنی اپنی لڑکی لے لی انہیں بتایا گیا کہ یہاں ایک بدکار ادمی رہتا تھا وہ مگرمچوں کو کھلا دیا گیا ہے ان سینکڑوں حبشوں کو اکٹھا بٹھا کر ان کی زبان میں واز دیا گیا وہ سب خاموش رہے انہیں اسلام کی دعوت دی گئی وہ پھر بھی خاموش رہے کبھی کبھی شک ہوتا تھا جیسے ان کی انکھوں میں خون اتر ایا ہے انہیں یہ الفاظ دھمکی کے لہجے میں کہے گئے کہ اگر تم سچے خدا کو دیکھنا چاہتے ہو تو ہم تمہیں دکھائیں گے اگر تم اسی جگہ کو جہاں تم بیٹھے ہو اپنے جھوٹے خداؤں کا گھر کہتے رہو گے تو ہم ان پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کر کے ریت کے ساتھ ملا دیں گے پھر تم دیکھو گے کہ کون سا خدا سچا ہے
ENGLISH
Their tribe believes that man is God. This place was pleasant. The entire desert was green. There was a spring of water inside that made a lake. Trees that gave shade. A Pharaoh liked this place, so he made it a place of entertainment. I made an idol and placed a dungeon in it, and here the sky of luxury showed a different color, the sun turned from here to there, the stars of Pharaoh were broken, and other false religions in Egypt. He became red in the presence of God, but no one knew that falsehood was alive in these hills. This terrible Buddha was destroyed, the platform was also demolished, the basement was filled with debris, hundreds of Abyssinians were standing outside in shock and fear, wondering what this was all about. The father and brother of the four were there. They took their own girl. They were told that a wicked man lived here. He was fed to the crocodiles. Hundreds of Abyssinians were gathered together and they were all cursed. Be silent, they were invited to Islam. They still remained silent. Sometimes they doubted as if blood had come to their eyes. These words were said to them in a threatening tone that if you want to see the true God, we will show you. If you continue to call the place where you are sitting as the home of your false gods, We will crush those mountains and mix them with sand, then you will see which god is true.

Sunday, 10 December 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode24

   The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode24




وہ بھی جھک کر باہر اگیا وہ ذرا بوڑھا لگتا تھا اس کا چغا سرخ رنگ کا تھا اور اس کے سر پر تاج تھا ایک سانپ جو مصنوعی تھا اس کے دائیں کندھے پر کنڈلی مارے اور پھن پھیلائے بیٹھا تھا اور ایک بائیں کندھے پر دونوں سانپوں کے رنگ سیاہ تھے ام ارارہ پر ایسا روپ طاری ہوا کہ وہ سن ہو کے کھڑی رہی یہ ادمی جو اس قبیلے کا مذہبی پیشوا یا پیروہت تھا چبوترے کی سیڑھیاں اتر ایا وہ اہستہ اہستہ ام عرارہ تک ایا اور دونوں گھٹنے فرش پر رکھ کر اس نے لڑکی کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چوم لیے اس نے لڑکی سے عربی زبان میں کہا تم ہو وہ خوش نصیب لڑکی جسے میرے دیوتا نے پسند کیا ہے ہم تمہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں ام ارارہ بیدار ہو گئی اس نے روتے ہوئے کہا میں کسی دیوتا کو نہیں مانتی اگر تم دیوتاؤں کو مانتے ہو تو میں تمہیں انہی کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے چھوڑ دو مجھے یہاں کیوں لائے ہو یہاں جو بھی اتی ہے یہی کہتی ہے فروخت نے کہا لیکن اس پر اس مقدس جگہ کا راز کھلتا ہے تو کہتی ہے کہ میں یہاں سے جانا نہیں چاہتی میں جانتا ہوں تم مسلمانوں کے خلیفہ کی محبوبہ ہو مگر جس نے تمہیں پسند کیا ہے اس کے اگے دنیا کے خلیفے اور اسمانوں کے فرشتے سجدے کرتے ہیں تم جنت میں اگئی ہو اس نے چکرے کے اندر سے ایک پھول نکالا اور ام ارارہ کی ناک کے ساتھ لگا دیا ام ارارہ حرم کی شہزادی تھی اس نے ایسے ایسے عطر سونگھے تھے جو اس کی شہزادیوں کے سوا اور کوئی خواب میں بھی نہیں سونگھ سکتا تھا مگر اس پھول کی بو اس کے لیے انوکھی تھی یہ بھوک اس کی روح تک اتر گئی اس کی سوچوں کا رنگ ہی بدل گیا اس کی نظروں کے زاویے بدل گئے فروخت نے کہا یہ دیوتا کا تحفہ ہے اور اس نے پھول اس کی ناک سے ہٹا لیا ام ارارہ نے ہاتھ اہستہ اہستہ اگے کیا اور پروہت کا پھول والا ہاتھ پکڑ کر اپنی ناک کے قریب لے ائی پھول سونگ کر خمار الود اواز میں بولی کتنا دل نشین تحفہ ہے اپ یہ مجھے دیں گے نہیں کیا تم نے تحفہ قبول کر لیا ہے راحت نے پوچھا اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دی ہاں ام امارہ نے جواب دیا میں نے یہ تحفہ قبول کر لیا ہے اس نے پھول کو ایک بار پھر سونگا اور اس نے انکھیں بند کر لی جیسے اس کی مہک کو اپنے وجود میں جذب کرنے کی کوشش کر رہی ہو دیوتا نے بھی تمہیں قبول کر لیا ہے فروخت نے کہا اور پوچھا تم اب تک کہاں تھی لڑکی سوچ میں پڑ گئی جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہو سر ہلا کر بولی میں یہی تھی نہیں میں ایک اور جگہ تھی مجھے یاد نہیں کہ میں کہاں تھی تمہیں یہاں کون لایا ہے کوئی بھی نہیں ام ارارہ نے جواب دیا میں خود ائی ہوں تم گھوڑے پر نہیں ائی تھی نہیں لڑکی نے جواب دیا میں اٹھتی ہوئی ائی ہوں کیا راستے میں صحرا اور پہاڑ اور جنگل اور ویرانے نہیں تھے نہیں تو لڑکی نے بچوں کی سی شوخی سے جواب دیا ہر طرف سبزہ زار اور پھول تھے تمہاری انکھوں پر کسی نے پٹی نہیں باندھی تھی پٹی نہیں تو لڑکی نے جواب دیا میری انکھیں تو کھلی ہوئی تھیں اور میں نے رنگ برنگے پرندے دیکھے تھے پیارے پیارے پرندے فراہت نے اپنی زبان میں بلند اواز سے کچھ کہا ام ارارہ کے عقب سے چار لڑکیاں ائیں انہوں نے اس کے کپڑے اتار دیے وہ مادرزاد ننگی ہو گئی اس نے مسکرا کر پوچھا دیوتا مجھے اس حالت میں پسند کریں گے راحت نے کہا نہیں تمہیں دیوتا کے پسند کے کپڑے پہنائے جائیں گے لڑکیوں نے اس کے کندھوں پر چادر سی ڈال دی جو اتنی چھوڑی تھی کہ کندھوں سے پاؤں تک اس کا جسم مستور ہو گیا اس چادر کے کناروں پر رنگ دار رسیوں کے ٹکڑے تھے چادر اگے کر کے ان ٹکڑوں کو گانٹھیں دے دی گئی تھیں چادر نہایت موضوع چوغا بن گئی ام ارارہ کے بال ریشم جیسے ملائم اور سیاہی مائل بھورے تھے ایک لڑکی نے اس کے بالوں میں کنگھی کر کے اس کے شانوں پر پھیلا دیے اس سے اس کا حسن اور زیادہ بڑھ گیا نے اسے مسکرا کر دیکھا اور گھوم کر پتھر کے محب چہرے کی طرف چل پڑا دو لڑکیوں نے ام ارارہ کے ہاتھ تھام لیے اور پروہت کے پیچھے پیچھے چل پڑی ام ارارہ شہزادیوں کی طرح چل پڑی اس نے ادھر ادھر نہیں دیکھا کہ ماحول کیسا ہے اس کی چال میں اور ہی شان تھی عورتوں کا رگ اسے پہلے سے زیادہ تلسماتی اور پرسوز معلوم ہونے لگا وہ فرہت کے پیچھے ہاتھ لڑکیوں کے ہاتھوں پر رکھے چبوترے کی سیڑھیاں چڑھنے لگی فروخت پتھر کے پہاڑ جیسے چہرے کے منہ میں داخل ہو گیا ام ارارہ بھی تین سیڑھیاں چڑھ کر پتھر کے منہ میں جھک کر داخل ہو گئی دونوں لڑکیاں وہیں کھڑی تھیں ام ارارہ کا ہاتھ پیروہت نے تھام لیا منہ کی چھت اتنی اونچی تھی کہ وہ سیدھے چل رہے تھے حلق میں پہنچے تو اگے سیڑھیاں تھیں
ENGLISH
He also bowed down and came out. He looked a little old. His robe was red and he had a crown on his head. A snake which was artificial was sitting on his right shoulder with a coil and spread out a feather and on one left shoulder were two snakes. The colors were black, and Umm Arara was so impressed that she stood listening. He took both her hands in his hands and kissed her and said to the girl in Arabic, "You are the lucky girl who has been liked by my god. We congratulate you." If you believe in the gods, then I tell you through them that leave me, why have you brought me here, whoever is here says this, said the sale, but the secret of this holy place is revealed to him. She says that I don't want to go from here, I know you are the beloved of the Caliph of Muslims, but the Caliph of the world and the angels of the heavens bow before the one who loved you. You have entered heaven. He took out a flower and placed it next to Umm Arara's nose. Umm Arara was the princess of the Haram. This hunger went down to his soul, the color of his thoughts changed, the angle of his eyes changed. She took the priest's hand with the flower and brought it close to her nose, smelled the flower and said in a loud voice, "What a lovely gift, you will give it to me, have you accepted the gift?" Umm Amara replied I have accepted this gift. She smelled the flower once more and she closed her eyes as if trying to absorb its fragrance into her being the god also accepted you. The sale said and asked where have you been till now, the girl got lost in thought as if she was trying to remember something, she shook her head and said this was it, no, I was in another place, I don't remember where I was, who brought you here. No one, Umm Arara replied, I am Ai myself, you did not come on a horse, no, the girl replied, I am getting up, Ain't there deserts, mountains, forests and deserts on the way? There were green fields and flowers everywhere, no one had tied a blindfold on your eyes, no blindfold, so the girl replied, My eyes were open and I saw colorful birds, dear dear birds, Farhat said loudly in his language. Said four girls came from behind Umm Arara, they took off her clothes, she became naked, she smiled and asked, will the gods like me in this state, Rahat said no, you will be dressed in the clothes that the gods like. He put a sheet on his shoulders, which was so loose that his body was covered from shoulders to feet. There were pieces of colored ropes on the edges of the sheet. Gayi Umm Arara's hair was soft like silk and inky brown. A girl combed her hair and spread it over her shoulders. The two girls held Umm Arara's hands and followed behind the priest. Umm Arara walked like a princess. She did not look around to see how the environment was. He began to look more talismanic and persuasive than Farhat, placing his hands on the girls' hands and climbing the steps of the platform. The two girls were standing there, Umm Arara's hand was held by Piruhit, the roof of the mouth was so high that they were walking straight, when they reached the throat, there were stairs ahead.

Urdu
بلک میں پہنچے تو اگے سیڑھیاں تھیں وہ سیڑھیاں اتر گئے یہ ایک تہخانہ تھا جہاں قندیلے روشن تھیں اس کمرے میں بھی مہک تھی یہ کمرہ کشادہ نہیں تھا چھت اونچی نہیں تھی اس کی دیواریں اور چھت درختوں سے پتوں اور پھولوں سے ڈکی ہوئی تھیں فرش پر ملائم گھاس اور گھاس پر پھول تھے ایک کونے میں خوشنما سراہی اور پیالے رکھے تھے فراحت نے سراہی سے دو پیالے بھرے ایک ام ارارہ کو دیا دونوں نے پیالے ہونٹوں سے لگائے اور خالی کر دیے دیوتا کب ائے گا ام ارارہ نے پوچھا تم نے ابھی ہی سے پہچانا نہیں راحت نے کہا تمہارے سامنے کون کھڑا ہے ام حرارہ اس کے پاؤں میں بیٹھ گئی اور بولی ہاں میں نے پہچان لیا ہے تم وہ نہیں ہو جسے میں نے اوپر دیکھا تھا تم نے مجھے قبول کر لیا ہے ہاں پھراحت نے کہا اج سے تم میری دلہن ہو میں اپ کو اور کچھ نہیں بتا سکتا میرے باپ نے مجھے بتایا تھا کہ فرہت لڑکی کو پھول سنگھاتا ہے جس کی خوشبو سے لڑکی کے ذہن سے نکل جاتا ہے کہ وہ کیا تھی کہاں سے ائی ہے اور کس طرح لائی گئی ہے وہ فراحت کی ل**** بن جاتی ہے اور اسے دنیا کی گندی چیزیں بھی خوبصورت دکھائی دیتی ہیں پھراہت اسے تین راتیں اپنے ساتھ تہخانے میں رکھتا ہے یہ انکشاف ان پانچ سوڈانی حبشیوں میں سے ایک نے علی بن سفیان کے سامنے کیا جنہیں اس نے خلیفہ کے محافظ دستے میں سے نکالا تھا یہ پانچوں اسی قبیلے میں سے تھے جس قبیلے کے وہ چاروں تھے جنہوں نے ام ارارہ کو اغوا کیا تھا اپنے ساتھ لے جا کر علی بن سفیان نے ان پانچوں سے کہا تھا کہ چونکہ وہ اسی قبیلے کے ہیں جو تیسرے سال کے اخر میں جشن مناتا ہے اور وہ چھٹی پر چا رہے تھے اس لیے انہیں معلوم ہوگا کہ لڑکی کس طرح اغوا ہوئی ہے ان پانچوں نے کہا تھا کہ انہیں اغوا کا علم ہی نہیں علی بن سفیان نے انہیں یہ لالچ بھی دیا کہ وہ سچ بتا دیں تو انہیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی پھر بھی وہ لاعلمی کا اظہار کرتے رہے یہ قبیلہ وحشیانہ مزاج اور خونخواری کی وجہ سے مشہور تھا انہیں سزا کا ذرہ بھر ڈرنا تھا پانچوں بہت دلیری سے انکار کر رہے تھے اخر علی بن سفیان کو وہ طریقہ ازمانے پڑھے جو پتھر کو بھی پگھلا دیتے ہیں پانچوں کو الگ الگ کر کے علی بن سفیان انہیں اس جگہ لے گیا جہاں چیخیں اور اہ و بکا کوئی نہیں سنتا تھا مسلسل اذیت اور تشدد سے کوئی ملزم مر جائے تو کسی کو پرواہ نہیں ہوتی تھی یہ پانچوں سوڈانی بڑے ہی سخت جان معلوم ہوتے تھے وہ رات بھر اذیت سہتے رہے علی بن سفیان رات بھر جاگتا رہا اخر انہیں اس امتحان میں ڈالا گیا جو اخری حربہ سمجھا جاتا تھا یہ تھا چکر شکنجا رہٹ کی طرح چوڑے اور بہت بڑے پہیے پر ملزم کو الٹا لٹا کر ہاتھ رسیوں سے چکر کے ساتھ باندھ دیا جاتے تھے اور پاؤں ٹخنوں سے رسیاں ڈال کر فرش میں گاڑے ہوئے کیلوں سے کس دیے جاتے تھے پیے کو ذرا سا اگے چلایا جاتا تو ملزم کے بازو کندھے سے اور ٹانگیں کولوں سے الگ ہونے لگتی تھیں بعض اوقات ملزم کو کھینچ کر پئیے کو ایک جگہ روک لیا جاتا تھا اذیت کا یہ طریقہ ملزموں کو بے ہوش کر دیتا تھا سائہر کے وقت ایک ادھیڑ عمر حبشی نے علی بن سفیان سے کہا میں سب کچھ جانتا ہوں لیکن دیوتا کے ڈر سے نہیں بتاتا دیکھتا مجھے بہت بری موت ماریں گے کیا اس سے بڑھ کر کوئی بری موت ہو سکتی ہے جو میں تمہیں دے رہا ہوں علی بن سفیان نے کہا اگر تمہارے دیوتا سچے ہوتے تو وہ تمہیں اس شکنجے سے نکال نہ لیتے تم اگر مرنے سے ڈرتے ہو تو موت یہاں بھی موجود ہے تم بات کرو میرے ہاتھ میں ایک ایسا دیوتا ہے جو تمہیں تمہارے دیوتا سے بچا لے گا یہ سوڈانی حبشی کئی بار بے ہوش ہو چکا تھا اسے دیوتا تو نہیں موت صاف نظر ارہی تھی علی بن سفیان نے اس کی زبان کھول دی اور اسے شکنجے سے کھول کر کھلایا پلایا اور
ENGLISH
When we reached the bulk, there were stairs ahead, those stairs went down. It was a basement where the lamps were bright. There was also a smell in this room. This room was not spacious. The ceiling was not high. Its walls and ceiling were covered with trees, leaves and flowers on the floor. There were flowers on the soft grass and the grass. In one corner there were pleasant praises and bowls. Farahat gave two bowls full of praise to Umm Arara. They both put the bowls to their lips and emptied them. Rahat said, "Who is standing in front of you?" Umm Harara sat at his feet and said, "Yes, I have recognized you. You are not the one I saw above. You have accepted me." You are my bride, I can't tell you anything else. My father told me that Farhat gives a flower to a girl, the smell of which leaves the girl's mind as to what it was, where it came from and how it was brought. She becomes the daughter of Faraht and sees even the dirty things of the world as beautiful. Then Rahat keeps her in the dungeon with him for three nights. These five were from the same tribe as the four who had kidnapped Umm Arara and Ali bin Sufyan told them that since they were from the same tribe. who celebrates at the end of the third year and they wanted to go on a holiday so they would know how the girl was kidnapped. The five of them said that they did not know about the kidnapping. Ali bin Sufyan also lured them. that if they tell the truth, they will not be punished, yet they continued to express ignorance. This tribe was famous for its brutality and bloodthirstiness. Sufyan was tested by methods that melt even stones. After separating the five, Ali bin Sufyan took them to a place where no one could hear the screams and moans. These five Sudanese seemed to be very tough souls. They suffered all night. Ali bin Sufyan stayed awake all night. Finally, they were put to this test, which was considered as the last resort. The accused was lying upside down on the wheel and his hands were tied with ropes around the wheel and his feet were tied with ropes from the ankles to the nails driven into the floor. Sometimes the accused was dragged and held in one place. This method of torture made the accused unconscious. I don't tell because of the fear of seeing that I will die a very bad death. Can there be a worse death than what I am giving you? If you are afraid of dying, then death is also here. Talk to me. There is a god in my hand who will save you from your god. This Sudanese Abyssinian had fainted many times. He untied his tongue and fed him with the clamp
اور ارام سے لٹا دیا اس نے اعتراف کیا کہ ام ارارہ کو ان کے قبیلے کے چار ادمیوں نے اغوا کیا تھا وہ چاروں چھٹی چلے گئے تھے انہوں نے اغوا کی رات اور وقت بتا دیا تھا یہ پانچ حبشی جو علی بن سفیان کے قبضے میں تھے اس رات پہرے پر تھے اغوا کرنے والوں میں سے دو کو اندر انا تھا انہیں بڑے دروازے داخل کرنے کا انتظام انہوں نے کیا تھا اور انہیں اغوا اور فرار میں پوری مدد دی تھی اس حبشی نے بتایا کہ اس لڑکی کو دیوتا کی قربان گاہ پر قربان کیا جائے گا ہر تین سال بعد ان کا قبیلہ چار روزہ جشن مناتا ہے لیکن لڑکی اپنے قبیلے کی نہیں ہوتی شرط یہ ہے کہ لڑکی غیر ملکی ہو سفید رنگ کی ہو اونچے درجے کے خاندان کی ہو اور اتنی خوبصورت ہو کہ لوگ دیکھ کر ٹھٹک جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تین سال بعد تمہارا قبیلہ باہر سے ایک خوبصورت لڑکی کو اغوا کر کے لاتا ہے علی بن سفیان نے پوچھا نہیں یہ غلط ہے سوڈانی حبشی نے جواب دیا تین سال بعد صرف میلہ لگتا ہے لڑکی کی قربانی پانچ میلوں کے بعد یعنی ہر 15 سال بعد دی جاتی ہے مشہور یہی ہے کہ ہر تین سال بعد لڑکی قربان کی جاتی ہے اس نے اپنے باپ کے حوالے سے وہ جگہ بتائی جہاں قربانی دی جاتی تھی پھر احد کو وہ دیوتا کا بیٹا کہتا تھا جہاں میلہ لگتا تھا اس سے ڈیڑھ ایک میل جتنی دور ایک پہاڑی علاقہ تھا جہاں جنگل بھی تھا یہ علاقہ زیادہ وسیع اور عریض تھا اس کے متعلق مشہور تھا کہ وہاں دیوتا رہتے ہیں اور ان کی خدمت کے لیے جن اور پریاں بھی رہتی ہیں لوگ اس لیے یہ باتیں مانتے تھے کہ ہر طرف صحرا اور اس میں جزیرے کی طرح کچھ علاقہ پہاڑی اور سرسبز تھا جو قدرت کا ایک عجوبہ تھا یہ دیوتاؤں کا مسکن ہی ہو سکتا تھا اس علاقے میں فرعونہ کے وقتوں کے کھنڈر تھے وہاں ایک جھیل بھی تھی جس میں چھوٹے مگرمچھ رہتے تھے قبیلے کا کوئی ادمی سنگین جرم کرے تو اسے پروہت کے حوالے کر دیا جاتا تھا فروخت اسے زندہ جھیل میں پھینک دیتا تھا جہاں مگرمچھ اسے کھا جاتے تھے پروہت انہی کھنڈروں میں رہتا تھا وہاں ایک بہت بڑا پتھر کا سر اور منہ تھا جس میں دیوتا رہتا تھا ہرپندرہویں سال کے اخری دنوں میں باہر سے ایک لڑکی اغوا کر کے لائی جاتی جو پیروہت کے حوالے کر دی جاتی تھی فروخت لڑکی کو ایک پھول سنگھاتا تھا جس کی خوشبو سے لڑکی کے ذہن سے نکل جاتا تھا کہ وہ کیا تھی کہاں سے ائی تھی اور اسے کون لایا تھا اس پھول میں کوئی نشہ اور بو ڈالی جاتی تھی جس کے اثر سے وہ فروخت کو دیوتا اور اپنا خاوند سمجھ لیتی تھی اسے وہاں کی گندی چیزیں بھی خوبصورت دکھائی دیتی تھیں لڑکی کی قربانی انہی کھنڈرات میں دی جاتی تھی لڑکی کو فروخت تہ خانے میں اپنے ساتھ رکھتا تھا اس جگہ چار مرد اور چار خوبصورت لڑکیاں رہتی تھیں ان کے سوا کسی کو پہاڑ کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی لڑکی کو کو جب قربان گاہ پر لے جایا جاتا تو اسے احساس ہی نہ ہوتا کہ اس کی گردن کاٹ دی جائے گی وہ فخر اور خوشی سے مرتی تھی اس کا دھڑ مگرمچھوں کی جھیل میں پھینک دیا جاتا اور بال کاٹ کر قبیلے کے ہر گھر میں تقسیم کر دیا جاتے تھے ان بالوں کو مقدس سمجھا جاتا تھا لڑکی کا سر خشک ہونے کے لیے رکھ دیا جاتا تھا جب گوشت ختم ہو کر صرف کھوپڑی رہ جاتی تو اسے ایک غار میں رکھ دیا جاتا تھا لڑکی کسی کو دکھائی نہیں جاتی تھی 15 سال پورے ہو رہے ہیں اب کہ لڑکی کی قربانی دی جائے گی اس حبشی نے کہا ہم نو ادمی مصر کی فوج میں بھرتی ہوئے تھے ہمیں چونکہ نیڈر اور وحشی سمجھا جاتا ہے اس لیے ہمیں خلیفہ کے محافظ دستے کے لیے منتخب کر لیا گیا دو مہینے گزرے ہم نے اس لڑکی کو دیکھا ایسی خوبصورت لڑکی ہم نے کبھی نہیں دیکھی تھی ہم سب نے فیصلہ کر لیا کہ اس لڑکی کو اٹھا لے جائیں گے اور قربانی کے لیے پیش کریں گے ہمارے ایک ساتھی نے جو کل مارا گیا ہے اپنے گاؤں جا کر قبیلے کے بزرگ کو بتا دیا تھا کہ اس بار قربانی کے لیے ہم لڑکی لائیں گے ہم نے لڑکی کو اغوا کر لیا ہے یہ قصہ صلاح الدین ایوبی کو سنایا گیا تو وہ گہری سوچ کھو گئے علی بن سفیان ان کے حکم کا منتظر تھا سلطان ایوبی نے نقشہ دیکھا اور کہا اگر جگہ یہ ہے تو یہ ہماری عملداری سے باہر ہے تم نے شہر کے پرانے لوگوں سے جو معلومات لی ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرعون تو صدیاں گزرے مر گئے ہیں لیکن فرعونیت ابھی باقی ہے بحیثیت مسلمان ہم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اگر دور نہ پہنچ سکیں تو قریبی پڑوس سے تو کفر اور شرک کا خاتمہ کریں اج تک معلوم نہیں کتنے والدین کی معصوم بیٹیاں قربان کی جا چکی ہیں اور اس میلے میں کتنی بیٹیاں اغوا ہو کر فروخت ہو جاتی ہیں ہمیں دیوتاؤں کا تصور ختم کرنا ہے لوگوں کو دیوتاؤں کا تصور دے کر نام نہاد مذہبی پیشوا لڑکیاں اغوا کر کے بدکاری اور عیاشی کرتے ہیں میرے مخبروں کے اطلاع نے یہ بےہودہ انکشاف کیا ہے کہ ہماری فوج کے کئی کماندار اور مصر کے پیسے والے لوگ اس میلے میں جاتے ہیں اور لڑکیاں خریدتے یا چند دنوں کے لیے کرائے پر لاتے ہیں علی بن سفیان نے کہا کردار کی تباہی کے علاوہ یہ خطرہ بھی ہے کہ سودانیوں کی برطرف فوج کے عسکری اس میلے میں زیادہ تع
ENGLISH
He confessed that Umm Arara was abducted by four people from his tribe. They had gone on vacation. They told the night and time of the abduction. These five Abyssinians were in the possession of Ali bin Sufyan. Two of the kidnappers who were on watch that night had Anna inside, he arranged for them to enter the big gate and gave them full assistance in the abduction and escape. Every three years, their tribe celebrates a four-day festival, but the girl does not belong to her tribe. The condition is that the girl is foreign, white, from a high-ranking family, and so beautiful that people are stunned. So this means that every three years your tribe kidnaps a beautiful girl from outside. Ali bin Sufyan asked, "No, this is wrong." After that, it is given after every 15 years. It is known that every three years a girl is sacrificed. He told about his father the place where the sacrifice was given. There was a hilly area about a mile and a half away from it where there was also a forest. This area was more extensive and wide. It was believed that there was a desert everywhere and some area like an island in it was mountainous and green, which was a wonder of nature. It could have been the abode of the gods. When a member of the tribe committed a serious crime, he was sold and thrown into the lake alive, where crocodiles ate him. In the last days of every fifteenth year, a god was abducted and brought from outside, who was handed over to Purohita. Ai was and who had brought her, some drug and smell was added to this flower, due to which she considered the seller to be a god and her husband, even the dirty things there looked beautiful. He used to keep the girl with him in the basement where four men and four beautiful girls lived, except for them no one was allowed to go inside the mountain. When the girl was taken to the altar, he did not realize that Her neck would be cut. She would die proudly and happily. Her torso would be thrown into a lake of crocodiles and the hair would be cut and distributed in every house of the tribe. When the meat was gone and only the skull was left, it was kept in a cave. Nine men were recruited into the Egyptian army. We were considered cowards and barbarians, so we were selected for the Caliph's guard. Two months passed. We saw this girl. We had never seen such a beautiful girl. All of us. decided to pick up this girl and offer her for sacrifice. One of our comrades who was killed yesterday went to his village and told the tribal elder that this time we will bring a girl for sacrifice. has abducted the girl. This story was narrated to Salah al-Din Ayyubi, he lost his deep thought. Ali bin Sufyan was waiting for his order. Sultan Ayyubi saw the map and said, "If this is the place, then it is beyond our jurisdiction. You From the information we have taken from the old people of the city, it is proved that the pharaoh has passed away after centuries but the pharaohism still remains. End polytheism, it is not known how many parents' innocent daughters have been sacrificed and how many daughters are kidnapped and sold in this festival. The report of my informants has revealed the nonsense that many commanders of our army and wealthy people of Egypt go to this fair and buy girls or hire them for a few days Ali bin Sufyan. He said that in addition to the destruction of character, there is also a danger that the soldiers of the dismissed army of the Sudanese are more involved in this festival
ہماری فوج اور ہمارے دوسرے لوگوں کا سوڈانی سابقہ فوجیوں کے ساتھ ملنا جلنا اور جشن منانا ٹھیک نہیں یہ مشترکہ تفریح ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے علی بن سفیان نے ذرا جھجک کر کہا اور لڑکی کو قربان ہونے سے پہلے بچانا اور خلیفہ کے حوالے کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس نے بے بنیاد اور لغف ہے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں علی سلطان ایوبی نے کہا میری توجہ اپنی ذات پر نہیں مجھے کوئی کتنا ہی حقیر کہے اسلام کی عظمت کے فروغ اور تحفظ کو نہیں بھول سکتا میری ذات کچھ بھی نہیں اور تم بھی یاد رکھو علی اپنی ذات سے توجہ ہٹا کر سلطنت کے استحکام اور فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز رکھو اسلام کی عظمت کا امین خلیفہ ہوا کرتا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خلیفہ اپنی ذات میں گم ہوتے گئے اور اپنے نفس کا شکار ہو گئے اب ہماری خلافت اسلام کی بہت بڑی کمزوری بن گئی ہے صلیبی ہماری اس کمزوریوری کو استعمال کر رہے ہیں اگر تم کامیابی سے اپنے فرائض نبھانا چاہتے ہو تو اپنی ذات اور اپنے نفس سے دستبردار ہو جاؤ خلیفہ نے مجھ پر جو الزام عائد کیا ہے اسے میں نے بڑی مشکل سے برداشت کیا ہے میں اوچھے وار جواب دے سکتا تھا مگر میرا وار بھی اچھا ہوتا پھر میں ذاتی سیاست بازی میں الجھ جاتا مجھے خطرہ یہی نظر ارہا ہے کہ ملت اسلامیہ کسی دور میں جا کر اپنے ہی حکمرانوں کی ذاتی سیاست بازیوں خود پسندی نفس پرستی اور اقتدار کی ہوس کی نظر ہو جائے گی گستاخی کی معافی چاہتا ہوں محترم امیر علی بن سفیان نے کہا اگر اپ اس لڑکی کو قربان ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو حکم صادر فرما دیجئے وقت بہت تھوڑا ہے پرسوں سے میلا شروع ہو رہا ہے فوج میں یہ حکم فورا پہنچا دو کہ اس میلے میں کسی فوجی کو شریک ہونے کی اجازت نہیں سلطان ایوبی نے نائب سالار کو بلا کر کہا خلاف ورزی کرنے والے کو اس کے عہدے اور رتبے سے قطع نظر 50 کوڑے سرعام لگائے جائیں گے اس حکم کے بعد سکیم بننے لگی متعلقہ حکام کو سلطان ایوبی نے بلا لیا تھا انہوں نے سب سے کہا تھا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس تلسم کو توڑنا ہے یہ جگہ فرعونیت کی اخری نشانی معلوم ہوتی ہے پہلے فوج کشی زیر بحسائی جو اس وجہ سے خارج از بحث کر دی گئی کہ اس قبیلے کے لوگ اسے اپنے اوپر باقاعدہ حملہ سمجھیں گے لڑائی ہوگی جس میں میلہ دیکھنے والے بے گناہ لوگ بھی مارے جائیں گے اور عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کا خطرہ بھی ہے یہ حل بھی پیش کیا گیا کہ اس سوڈانی حبشی کو رہنما کے طور پر ساتھ رکھا جائے اور اس جگہ چھاپہ مار بھیجے جائیں جہاں لڑکی کو قربان کیا جائے گا سلطان ایوبی نے حبشی کو ساتھ لے جانا پسند نہیں کیا کیونکہ دھوکے کا خطرہ تھا اس وقت تک سلطان ایوبی کے حکم کے مطابق چھاپہ ماروں اور شب خون مارنے والوں کا ایک دستہ تیار کیا جا چکا تھا اسے مسلسل جنگی مشکن سے تجربہ کار بنا دیا گیا تھا کہ وہ جانبازوں کا دستہ تھا جنہیں جذبے کے لحاظ سے اس قدر پختہ بنا دیا گیا تھا کہ وہ اس پر فخر محسوس کرنے لگے کہ انہیں جس مہم پر بھیجا جائے گا اس سے وہ زندہ واپس نہیں ائیں گے نائب سالار الناصر اور علی بن سفیان کے مشوروں سے یہ طے ہوا کہ صرف 12 چھاپہ مار اس پہاڑی جگہ کے اندر جائیں گے جہاں پروہت رہتا ہے اور لڑکی قربان کی جاتی ہے حبشی کی دی ہوئی معلومات کے مطابق اس رات میلے میں زیادہ رونق ہوتی ہے کیونکہ وہ میلے کی اخری رات ہوتی ہے قبیلے کے لوگوں کے سوا کسی اور کو معلوم نہیں ہوتا کہ لڑکی قربان کی جا رہی ہے جسے معلوم ہوتا ہے وہ یہ نہیں بتاتا کہ قربان گاہ کہاں ہے ان معلومات کی روشنی میں یہ طے کیا گیا کہ 500 سپاہی میلہ دیکھنے والوں کے بحث میں تلواروں وغیرہ سے مسلح ہو کر اس رات میلے میں موجود ہوں گے ان میں سے 200 کے پاس تیر کمان ہوں گے اس زمانے میں ان ہتھیاروں پر پابندی نہیں تھی چھاپہ ماروں کے ذہنوں میں واضح تصور کی صورت میں وہ جگہ نقش کر دی جائے گی وہ براہ راست حملہ نہیں کریں گے چھاپہماروں کی طرح پہاڑی علاقے میں داخل ہوں گے پہرہ داروں کو خاموشی سے ختم کریں گے اور اصلی جگہ پہنچ کر اس وقت حملہ کریں گے جب لڑکی قربان گاہ میں لائی جائے گی اس سے قبل حملے کا یہ نقصان ہو سکتا ہے کہ لڑکی کو تہ خانے میں ہی غائب یا ختم کر دیا جائے گا یہ معلوم ہو گیا تھا کہ قربانی ادھی رات کے وقت پورے چاند میں دی جاتی ہے 500 سپاہیوں کو اس وقت سے پہلے قربان گاہ والی پہاڑیوں کے ارد گرد پہنچنا تھا چھاپہ ماروں کے لیے گھیرے میں ا جانے یا مہم ناکام ہونے کی صورت میں یہ ہدایت دی گئی کہ وہ فیتے والا ایک اتشی تیر اوپر کو چلائیں گے اس تیر کا شعلہ دیکھ کر یہ 500 نفری حملہ کر دے گی اسی وقت 12 جاں باز منتخب کر لیے گئے اور اس فوج میں سے جو دو سال پہلے نور الدین زنگی رحمت اللہ علیہ نے سلطان ایوبی کی مدد کے لیے بھیجی تھی 5 س ذہین اور بے خوف سپاہی عہدے دار اور کماندار منتخب کر لیے گئے
ENGLISH
It is not right for our army and our other people to mingle and celebrate with Sudanese ex-soldiers. This joint entertainment can be dangerous for the country. It is also important to do so that he knows that he has baseless and nonsense. I do not care about it. Ali Sultan Ayyubi said, I am not focused on myself, no matter how much someone despises me, the promotion and protection of the greatness of Islam. Can't forget my self is nothing and you also remember Ali divert your attention from your self and concentrate on the stability and welfare of the empire. They got lost and became victims of their own selves. Now our caliphate has become a great weakness of Islam. I have borne the accusation that has been brought against me with great difficulty. By going, the personal politics of your own rulers, self-interest, selfishness and lust for power will be seen. The time is very short, the fair is starting from the day after tomorrow, send this order to the army immediately that no soldier is allowed to participate in this fair. Regardless, 50 whips will be applied in public. After this order, the scheme started to form. Sultan Ayubi called the relevant authorities. He told everyone that our goal is to break this talisman. First, the military massacre was discussed, which was ruled out because the people of this tribe would consider it a regular attack on them. It was also proposed that this Sudanese negro be taken along as a guide and sent on a raid to the place where the girl would be sacrificed. By this time a force of raiders and night-killers had been prepared under the orders of Sultan Ayyubi, who had been seasoned by continuous combat, and were a force of veterans who had become so strong in spirit. It was given that he began to feel proud that he would not return alive from the expedition on which he would be sent, and on the advice of the viceroy Al-Nasir and Ali bin Sufyan, it was decided that only 12 raiders would enter the mountainous region. They will go to where the priest lives and the girl is sacrificed. According to the information given by the Abyssinian, there is more excitement in the festival on this night because it is the last night of the festival. In the light of this information, it was decided that 500 soldiers armed with swords etc. would be present at the fair that night, among the fair goers. 200 will have bows and arrows in those days, these weapons were not banned. The place will be mapped out in the minds of the raiders with a clear vision. They will not attack directly. Kill the dars quietly and arrive at the actual location and attack when the girl is brought to the altar before the attack may result in the girl disappearing or being eliminated in the basement. It was known that the sacrifice was offered at midnight on the full moon, and 500 soldiers were to arrive before that time around the hills containing the altar, instructing the raiders in case they were surrounded or the expedition failed. It was said that they will fire a stringed arrow upwards, seeing the flame of this arrow, it will attack 500 people. 5 intelligent and fearless soldiers sent to help Sultan Ayyubi were selected as officers and commanders.