The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 11
تین راتیں بعد قاہرہ تاریک رات کے اغوش میں گہری نیند سویا ہوا تھا ایک روز پہلے قہرہ کے لوگوں نے دیکھا تھا کہ ان کی فوج جو مصر سے تیار کی گئی تھی شہر سے باہر جا رہی تھی انہیں بتایا گیا تھا کہ فوج جنگی مشک کے لیے شہر سے باہر گئی ہے نیل کے کنارے جہاں ریتلی چٹانے اور ٹیلے ہیں وہاں دریا اور ٹیلوں کے درمیان فوج نے جا کر خیمے گاڑ دیے تھے فوج پیادہ بھی تھی سوار بھی رات کا پہلا نصف گزر رہا تھا کہ قاہرہ کے سوئے ہوئے باشندوں کو دور قیامت کا شور سنائی دیا گھوڑوں کے سر پر بھاگنے کی اوازیں بھی سنائی دی سوئے ہوئے لوگ جاگ اٹھے وہ سمجھے کہ فوج جنگی مشق کر رہی ہے مگر شور قریب اتا اور بلند ہوتا گیا لوگوں نے چھتوں پر چڑھ کر دیکھا اسمان لال سرخ ہو رہا تھا بعض نے دیکھا کہ دور دریا نیل سے اگ کے شعلے اڑتے اور تاریک رات کا سینہ چاک کرتے خشکی پر کہیں گرتے تھے پھر شہر میں سینکڑوں سرپڑ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دیے شہر والوں کو ابھی معلوم نہیں تھا کہ یہ جنگ کی مشق نہیں باقاعدہ جنگ ہے اور جو اگ لگی ہوئی ہے اس میں سوڈانی لشکر کا خاصہ بڑا حصہ زندہ جل رہا ہے یہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی ایک بے مثال چال تھی انہوں نے دارالحکومت میں مقیم قلیل فوج کو دریا نیل اور ریتلے ٹیلوں کے درمیان وسیع میدان میں خیمہ زن کر دیا تھا علی بن سفیان نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا اس نے سولانی لشکر میں اپنے ادمی بھیج کر بغاوت کی اگ بھڑکا دی تھی اور اس کے کمانداروں سے یہ فیصلہ کروا لیا تھا قرات کو جب سلطان کی فوج گہری نیند سوئی ہوئی ہوگی اس پر سوڈانی فوج حملہ کر دے گی اور صبح تک ایک ایک سپاہی کا صفایہ کر کے دارالحکومت پر بے خوف و خطر قابض ہو جائے گی اور سوڈانی فوج کا دوسرا حصہ بحرہ روم کے ساحل پر مقیم فوج پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کر دیا جائے گا اس فیصلے اور منصوبے کے مطابق سوڈانی فوج کا ایک حصہ نہایت خفیہ طریقے سے رات کو بحر روم کے محاز کی طرف روانہ کر دیا گیا اور دوسرا حصہ درائے نیل کے کنارے خیمہ زن فوج پر ٹوٹ پڑا اس فوج نے سیلاب کی طرح ایک میل وسعت میں پھیلی ہوئی خیمہ گاہ پر حلہ بول دیا اور بہت ہی تیزی سے اس علاقے میں پھیل گئی اچانک خیموں پر اگ کے تیر اور تیل میں بھیگے ہوئے کپڑوں کے جلتے گولے برسنے لگے نیل بھی اگ برسانے لگا خیموں کو اگ لگ گئی اور شعلے اسمان تک پہنچنے لگے سوڈالی فوج کو خیموں میں سلطان ایوبی کی فوج کا کوئی سپاہی نہ ملا نہ گھوڑا نہ کوئی سوار اس فوج کو وہاں تمام خیمے خالی ملے کوئی مقابلے کے لیے نہ اٹھا اور اچانک اگ ہی اگ پھیل گئی انہیں معلوم نہ تھا کہ سلطان ایوبی نے رات کے پچھلے پہر خیموں سے اپنے فوجی نکال کر ریتلے ٹیلوں کے پیچھے چھپا دیے تھے اور خیموں میں خشک ہنس کے ڈھیر لگوا دیے تھے خیموں پر اور اندر بھی تیل چھڑک دیا گیا تھا اس نے کشتیوں میں چھوٹی منجنی کے رکھوا کر شام کے بعد ضرورت کی جگہ بھجواتی تھی جو ہی سوڈانی فوج خیمہ گاہ میں ائی سلطان کی چھپی ہوئی فوج نے اگ والے تیر اور نیل سے کشتیوں میں رکھی ہوئی منجنیکوں نے اگ کے گولے پھینکنے شروع کر دیے خیموں کو اگ لگی تو گھاس اور تیل نے وہاں دوزخ کا منظر بنا دیا سوڈانیوں کے گھوڑے اپنے پیادہ سپاہیوں کو روندنے لگے سپاہیوں کے لیے اگ سے نکلنا ناممکن ہو گیا چیخوں نے اسمان کا جگر چاک کر دیا اس قدر اگ نے رات کو دن بنا دیا سلطان ایوبی کی مٹھی بھر فوج نے اگ میں جلتے سوڈانیوں کی فوج کو گھیرے میں لے لیا جو اگ سے بچ کر نکلنا چاہتے تھے وہ تیروں کا نشانہ بن جاتے جو فوج بچ گئی وہ بھاگ نکلی ادھر سوڈانیوں کی جو فوج محاز کی طرف سلطان کی فوج پر حملہ کرنے جا رہی تھی اس کا بھی صلاح الدین ایوبی نے انتظام کر رکھا تھا چند ایک دستے گھات لگائے بیٹھے تھے ان دستوں نے اس فوج کے پچھلے حصے پر حملہ کر کے ساری فوج میں بگدڑ مچا دی یہ دستے ایک حملے میں جو نقصان کر سکتے تھے کر کے اندھیرے میں غائب ہو گئے سوڈانی فوج سنبھل کر چلی تو پچھلے حصے پر ایک اور حملہ ہوا یہ برق رفتار سوار تھے جو حملہ کر کے غائب ہو گئے صبح تک اس فوج کے پچھلے حصے پر تین حملے ہوئے سوڈانی سپاہی اسی سے بددل ہو گئے انہیں مقابلہ کرنے کا تو موقع ہی نہیں ملتا تھا دن کے وقت
ENGLISH
Three nights later, Cairo was sleeping deeply in the darkness of the night. The day before, the people of Cairo had seen their army, which had been drawn up from Egypt, going out of the city. went out of the city, where there are sandy rocks and dunes, the army had gone and pitched tents between the river and the dunes, the army was also on foot and on horseback. A noise was heard, the sounds of running on the heads of horses were also heard. The sleeping people woke up. They thought that the army was practicing war, but the noise got closer and louder. People climbed on the roofs and saw that the sky was turning red. He saw that the flames of fire were flying from the far river Nile and fell somewhere on the land, choking the chest of the dark night. Then the sound of hundreds of galloping horses was heard in the city. And in what is burning, a large part of the Sudanese army is burning alive. This was an unprecedented move by Sultan Salah al-Din Ayubi. Daya Ali bin Sufyan had shown his art, he had sent his men to the Solani army and had ignited the rebellion and made his commanders decide to attack Qarat when the Sultan's army was fast asleep. The Sudanese army will attack and by the morning wipe out one soldier and occupy the capital without fear and the other part of the Sudanese army will be sent to attack the army based on the Mediterranean coast. According to the decision and plan, a part of the Sudanese army was sent to the Mediterranean coast in a very secret way at night and the other part fell on the army encamped on the banks of the Nile. Hoi chanted Hala on the tent and it spread very quickly in the area. Suddenly, fire arrows and burning balls of oil-soaked cloths started raining on the tents. The Nile also started raining fire. The Sudanese army did not find any soldier of Sultan Ayyubi's army in the tents, neither horse nor rider. The army found all the tents there empty and no one rose to fight and suddenly the fire spread. They did not know that Sultan Ayyubi had Last night he had taken out his soldiers from the tents and hid them behind the sand dunes and piled dried geese in the tents. Oil was sprinkled on the tents and also inside. As the Sudanese army was sending, the hidden army of Ai Sultan in the camp started to throw fireballs with burning arrows and Nile-boats. The horses of the Sudanese began to trample their foot soldiers. It became impossible for the soldiers to escape from the fire. I took it that those who wanted to escape from the fire would have been the targets of the arrows. The army that survived fled away. On the other hand, the Sudanese army that was going to attack the Sultan's army towards Mahaz was also arranged by Salahuddin Ayubi. A few troops were lying in ambush. These troops attacked the rear of this army and caused havoc in the entire army. There was another attack on the rear. These were speed riders who attacked and disappeared. Till morning, there were three attacks on the rear of this army. The Sudanese soldiers were changed because of this. They had no chance to fight during the day.
دن کے وقت کمانداروں نے بڑی مشکل سے فوج کا حوصلہ بحال کیا مگر رات کو کوچ کے دوران ان کا پھر وہی حشر ہوا دوسری رات تاریکی میں ان پر تیر بھی برسے انہیں اندھیرے میں گھوڑے دوڑنے کی اوازیں سنائی دیتی تھی جو ان کی فوج کے عقب میں کشت و خون کرتی دور چلی جاتی تھی تین چار یورپی معرفوں نے جن میں لین خاص طور پر قابل ذکر ہیں لکھا ہے کہ دشمن کی کثیر نفری پر رات کے وقت چند ایک سواروں سے عقبی حصے پر شب خون مارنا اور غائب ہو جانا سلطان ایوبی کی ایسی جنگی چال تھی جس نے اگے چل کر صلیبیوں کو بہت نقصان پہنچایا اس طرح سلطان ایوبی دشمن کی پیش قدمی کی رفتار کو بہت سست کر دیتے تھے اور دشمن کو مجبور کر دیتے کہ وہ ان کی پسند کے میدان میں لڑے جہاں سلطان ایوبی نے جنگ کا پانسا پلٹنے کا انتظام رکھا ہوتا تھا ان مورخین نے سلطان ایوبی کے انجام باز سواروں کی جرات اور پر گرفتاری کی بہت تعریف کی ہے اج کے جنگی مبصر جن کی نظر جنگوں کی تاریخ پر ہے رائے دیتے ہیں کہ اج کے کمانڈو اور گوریلا اپریشن کا موجد صلاح الدین ایوبی ہے وہ اس طریقہ جنگ سے دشمن کے منصوبے درہم برہم کر دیا کرتے تھے سوڈانیوں پر انہوں نے یہی طریقہ ازمایا اور صرف دو راتوں کے بار بار کی شب خون سے انہوں نے سوڈانی سپاہیوں کا لڑنے کا جذبہ ختم کر دیا ان کی قیادت میں کوئی دماغ نہ تھا یہ قیادت فوج کو سنبھال نہ سکی اس فوج میں علی بن سفیان کے بھی ادمی سوڈانی سپاہیوں کے بیس میں موجود تھے انہوں نے یہ افواہ پھیلا دی کہ عرب سے ایک لشکر ا رہا ہے جو انہیں کاٹ کے رکھ دے گا انہوں نے بد دلی اور فرار کا رجحان پیدا کرنے میں پوری کامیابی حاصل کی فوج غیر منظم ہو کر بکھر گئی نیل کے کنارے اس فوج کا جو حشر ہوا وہ عبرتناک تھا یہ افواہ غلط ثابت نہ ہوئی کہ عرب سے فوج ا رہی ہے نور الدین سنگی کی فوج اگئی جس کی نفری بہت زیادہ نہیں تھی بعض مرخوں نے 2000 سوار اور 20 پیادہ لکھی ہے بعض کے اعداد و شمار اس سے کچھ زیادہ ہیں تاہم یہ صلاح الدین ایوبی کو سہارا مل گیا اور انہوں نے فورا اس کمک کی قیادت سنبھال لی اس کیفیت میں جبکہ سوڈانیوں کا 50 ہزار لشکر سلطان ایوبی کے اگ کے پھندھے میں اور ادھر صحرا میں شب خونوں کی وجہ سے بدنظمی کا شکار ہو گیا تھا یہ تھوڑی سی کمک بھی کافی تھی سلطان ایوبی اس کمک سے اور اپنی فوج سے سوڈانیوں کا قتل عام کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ڈپلومیسی سے کام لیا سوڈانی کمان کے کمانداروں کو پکڑا اور انہیں ذہن نشین کرایا کہ ان کے لیے تباہی کے سوا کچھ نہیں رہا لیکن وہ انہیں تباہ نہیں کرے گا کمانداروں نے اپنا حشر دیکھ لیا تھا وہ اب سلطان کے عتاب اور سزا سے خائف تھے لیکن سلطان نے انہیں بخش دیا اور سزا دینے کی بجائے سوڈانیوں کی بچی کچی فوج کو سپاہیوں سے کاشتکاروں میں بدل دیا انہیں زمینیں دیں اور کھیتی باڑی میں انہیں سرکاری طور پر مدد دی اور پھر انہیں یہ اجازت بھی دی کہ ان میں سے جو لوگ فوج میں بھرتی ہونا چاہیں ہو سکتے ہیں سوڈانیوں کو یوں دانشمندی سے ٹھکانے لگا کر صلاح الدین ایوبی نے نوردین زنگی کی بھیجی ہوئی فوج اور اپنی فوج کو یکجا کر کے اس میں وفادار سوڈانیوں کو بھی شامل کر کے ایک فوج منظم کی اور صلیبیوں پر حملے کے منصوبے بنا لیے گئے انہوں نے علی بن سفیان سے کہا کہ وہ اپنے جاسوسوں اور شب خون مارنے والے جانبازوں کے دستے فورا تیار کریں ادھر سلیبیوں نے بھی جاسوسی اور تخریب کاری کا انتظام مستحکم کرنا شروع کر دیا صلاح الدین ایوبی کے دور کے وقائے نگاروں کی تحریروں میں ایک شخص سیف اللہ کا ذکر ان الفاظ میں اتا ہے کہ اگر کسی انسان نے صلاح الدین ایوبی کی عبادت کی ہے تو وہ سیف اللہ تھا سلطان ایوبی کے گہرے دوست اور دست راست بہاؤدین شداد کی اس ڈائری میں جو اج بھی عربی زبان میں محفوظ ہے سیف اللہ کا ذکر ذرا تفصیل سے ملتا ہے یہ شخص جس کا نام کسی باقاعدہ تاریخ میں نہیں ملتا صلاح الدین ایوبی کی وفات کے بعد 13 سال زندہ رہا وقار نگار لکھتے ہیں کہ اس نے عمر کے یہ اخری 17 سال سلطان ایوبی کی قبر کی مجاوری میں گزارے تھے اس نے وصیت کی تھی کہ وہ مر جائے تو اسے سلطان کے ساتھ دفن کیا جائے مگر سیف اللہ کی کوئی حیثیت نہیں تھی وہ ایک گمنام انسان تھا جسے عام خبرستان میں دفن کیا گیا اور وہ وقت جلدی ہی اگیا کہ اس قبرستان پر انسانوں نے بستی اباد کر لی اور قبرستان کا نام و نشان مٹا ڈالا تاریخی لحاظ سے سیف اللہ کی اہمیت یہ تھی کہ وہ سمندر پار سے صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے ایا تھا اس وقت اس کا نام میٹنر نامہ رئیوس تھا اس نے اسلام کا صرف نام سنا تھا اسے کچھ علم نہیں تھا کہ اسلام کیسا مذہب ہے صلیبیوں کے پروپیگینڈے کے مطابق اسے یقین تھا کہ اسلام ایک قابل نفرت مذہب اور مسلمان ایک قابل نفرت فیفا ہے جو عورتوں کا شیدائی اور انسانی گوشت کھانے کا عادی ہے لہذا میگنہ نامی ریورس جب کبھی مسلمان کا لفظ سنتا تھا تو وہ نفرت سے تھوک دیا کرتا تھا وہ بے مثال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب صلاح الدین ایوبی تک پہنچا تو میگنر نامیوس قتل ہو گیا اور اس کے مردہ وجود سے سیف اللہ نے جنم
ENGLISH
During the day, the commanders recovered the morale of the army with great difficulty, but at night during the march, they met the same fate. On the second night, arrows rained down on them in the darkness. Three or four European scholars, among whom Lane is particularly notable, have written that at night, a few horsemen on the rear of a large number of the enemy would kill and disappear at night. Sultan Ayubi was such a war tactic which caused great damage to the Crusaders as they advanced, thereby slowing down the enemy's advance and forcing the enemy to fight on a field of their choice where Sultan Ayyubid It was arranged to turn the dice of the war. These historians have praised the courage and capture of Sultan Ayyubi's cavalry. Its inventor is Salahuddin Ayubi. He used to disrupt the plans of the enemy with this method of war. There was no brain in the leadership of this leadership could not handle the army. Ali bin Sufyan's men were also present in the base of the Sudanese soldiers in this army. They succeeded in creating a tendency to run away and disorganize. The army became disorganized and dispersed. The fate of this army on the banks of the Nile was terrible. The rumor that an army was coming from Arabia, Nooruddin, was not proved wrong. Sangi's army came, which was not very strong. Some sources have written 2000 cavalry and 20 infantry. In this situation, while the 50,000 army of the Sudanese was in the trap of Sultan Ayyubi and in the desert due to night bloodshed, this little reinforcement was enough. Sultan Ayyubi killed the Sudanese with this reinforcement and his army. But he used diplomacy to capture the commanders of the Sudanese command and made them aware that nothing but destruction was left for them but he would not destroy them. The commanders had seen their destiny. Atab was afraid of rebuke and punishment, but the Sultan pardoned them and instead of punishing them, he converted the raw army of the Sudanese from soldiers to cultivators, gave them lands and officially helped them in farming, and then allowed them to Among them, those who want to join the army may be able to dispose of the Sudanese wisely. Plans were made to attack the Crusaders. They asked Ali bin Sufyan to immediately prepare their troops of spies and martyrs. In the writings of the chroniclers of the period, a person mentions Saifullah in the words that if any person worshiped Salah al-Din Ayyubi, it was Saifullah in this diary of Sultan Ayyubi's close friend and right hand Bahauddin Shaddad. What is preserved in the Arabic language is the mention of Saifullah in a little detail. He had spent 17 years in the vicinity of Sultan Ayyubi's grave. He had willed that if he died, he would be buried with the Sultan, but Saifullah had no status. Time soon came that people settled on this cemetery and erased the name and mark of the cemetery. Historically, the importance of Saifullah was that he came from across the sea to kill Salahuddin Ayyubi. At that time, his name was Metner. Nama Reus, he had only heard the name of Islam, he had no idea what kind of religion Islam was, according to the propaganda of the crusaders, he believed that Islam was a hateful religion and Muslims were a hateful fifa who raped women and ate human flesh. Therefore, the reverse named Meghna, whenever he heard the word Muslim, he used to spit with hatred. He showed unparalleled courage when he reached Salahuddin Ayyubi, Maghner was killed in despair and Saifullah from his dead existence. was born
اور اس کے مردہ وجود سے سیف اللہ نے جنم لیا تاریخ میں ایسے حکمرانوں کی کمی نہیں جنہیں قتل کیا گیا یا جن پر قاتلانہ حملے ہوئے لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ تاریخ کی ان معدود چند شخصیتوں میں سے ہیں جنہیں قتل کرنے کی کوششیں دشمنوں نے بھی کیں اور اپنانے بھی بلکہ اپنوں نے انہیں قتل کرنے کی غیروں سے زیادہ سازشیں کی یہ امر افسوسناک ہے کہ سلطان ایوبی کی داستان ایمان افروز کے ساتھ ساتھ ایمان فروشوں کی کہانی بھی چلتی ہے اس لیے صلاح الدین ایوبی نے بارہا کہا تھا تاریخ اسلام وہ وقت جلدی دیکھے گی جب مسلمان رہیں گے تو مسلمان ہی لیکن اپنا ایمان بیچ ڈالیں گے اور صلیبی ان پر حکومت کریں گے اج ہم وہ وقت دیکھ رہے ہیں سیف اللہ کی کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب سلطان ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے صلیبیوں کا متحدہ بیڑا بحرہ روم میں نظر اب و اتش کیا تھا ان کے کچھ بحری جہاز بچ کر نکل گئے تھے سلطان ایوبی بحرہ روم کے ساحل پر اپنی فوج کے ساتھ موجود رہے اور سمندر میں سے زندہ نکلنے والے صلیبیوں کو گرفتار کرتے رہے ان میں سات لڑکیاں بھی تھیں جن کا تفصیلی ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں مصر میں سلطان کی سوڈانی سپاہ نے بغاوت کر دی جسے سلطان نے دبا لیا انہیں سلطان زنگی کی بھیجی ہوئی کومت بھی مل گئی اب وہ صلیبیوں کے عزائم کو ختم کرنے کے منصوبے بنانے لگے بہرہ روم کے پار روم شہر کے مضافات میں صلیبی سربراہوں کی کانفرنس ہو رہی تھی ان میں شاہ اگوسٹس تھا شاہر ریمانڈ اور شہنشاہ لوئی ہفتم کا بھائی اور رابرٹ بھی اس کانفرنس میں سب سے زیادہ قہر و غضب میں ایا ہوا ایک شخص تھا جس کا نام ایمل ریک تھا وہ صلیبیوں کے اس متحدہ بیڑے کے کمانڈر تھا جو مصر پر فوج کشی کے لیے گیا تھا مگر صلاح الدین ایوبی ان پر ناگہانی افت کی طرح ٹوٹ پڑے اور اس بیڑے کے ایک بھی سپاہی کو مصر کے ساحل پر قدم نہ رکھنے دیا مصر کے ساحل پر جو صلیبی پہنچے وہ سلطان ایوبی کے ہاتھ میں جنگی قیدی تھے صلیبیوں کی کانفرنس میں ایمرک کے ہونٹ کم رہے تھے اس کا بیڑا غرق ہوئے 15 دن گزر گئے تھے وہ 15 دن اٹلی کے ساحل پر پہنچا تھا سلطان ایوبی کے اتشی تیر اندازوں نے اس کے جہاز کے بعد بان اور مستور جلا ڈالے تھے یہ تو اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے ملاؤں اور سپاہیوں نے اگ پر قابو پا لیا تھا اور وہ جہاز کو بچا لے گئے تھے مگر بادبانوں کے بغیر جہاز سمندر پر ڈولتا رہا پھر طوفان اگیا اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں رہی تھی بہت سے بچے کوچے جہاز اور کشتیاں اس طوفان میں غرق ہو گئی تھیں یہ ایک معجزہ تھا کہ ایمرک کا جہاز ڈولتا بھٹکتا ڈوب ڈوب کر ابھرتا اٹلی کے ساحل سے جا لگا تھا اس میں اس کے ملاحوں کا بھی کمال شامل تھا انہوں نے چپوں کے زور پر جہاز کو قابو میں رکھا تھا سائل پر پہنچتے ہی اس نے تمام الہوں اور سپاہیوں کو بے دری انعام دیا صلیبی سربراہ وہیں اس کے منتظر تھے وہ اس پر غور کرنا چاہتے تھے کہ انہیں دھوکہ کس نے دیا ہے ظاہر ہے کہ شخص سوڈانی سالار اور ناجی پر بھی ہو سکتا تھا اس کے خط کے مطابق انہوں نے حملے کے لیے بیڑا روانہ کیا تھا مگر ان کے ساتھ ناجی کا تحریری رابطہ پہلے بھی موجود تھا انہوں نے ناجی کی اس خط کی تحریر پہلے دو خطوں سے ملائی تو انہیں شک ہوا کہ یہ کوئی گڑبڑ ہے انہوں نے قاہرہ میں جاسوس بیج رکھے تھے مگر ان کی طرف سے بھی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی انہیں یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناچی اور اس کے سازشی سالاروں کو خفیہ طریقے سے مروا دیا اور رات کی تاریکی میں گمنام خبروں میں دفن کر دیا تھا اور صلیبی سربراہوں اور بادشاہوں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ا سکتی تھی کہ جس خط پر انہوں نے بیڑا روانہ کیا تھا وہ خط ناجی کا ہی تھا مگر حملے کی تاریخ سلطان ایوبی نے تبدیل کر کے لکھی تھی جاسوسوں کو ایسی معلومات کہیں سے بھی نہیں مل سکتی تھی یہ کانفرنس کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی امریک کے منہ سے بات تک نہیں نکلتی تھی وہ شکست خوردہ تھا غصے میں بھی تھا اور تھکا ہوا بھی تھا کانفرنس اگلے روز کے لیے ملتوی کر دی گئی رات کے وقت یہ تمام سربراہ شکست کا غم شراب میں ڈبو رہے تھے ایک ادمی اس محفل میں ایا اسے صرف ریمانڈ جانتا تھا وہ ریمانڈ کا قابل اعتماد جاسوس تھا وہ حملے کی شام مصر کے ساحل پر اترا تھا اس سے تھوڑی ہی دیر بعد صلیبیوں کا بیڑا ایا اور اس نے انکھوں کے سامنے یہ بیڑا سلطان ایوبی کی قلیل فوج کے ہاتھوں تباہ ہوتا دیکھا تھا یہ جاسوس مصر کے ساحل پر رہا اور اس نے بہت سی معلومات مہیا کر لی تھی ریمانڈ نے اس کا تعارف کرایا تو سب اس کے گرد جمع ہو گئے اس جاسوس کو معلوم تھا کہ صلیبی سربراہوں نے سلطان ایوبی کو قتل کرانے کے لیے رابن نام کا ایک ماہر جاسوس سمندر پر بھیجا تھا اور اس کی مدد کے لیے پانچ ادمی اور سات جوان اور خوبصورت لڑکیاں بھیجی گئی تھیں اس جاسوس نے بتایا کہ رابن زخمیوں کے ساتھ زخمی ہونے کا بہانہ کر کے صلاح الدین ایوبی کے کیمپ میں پہنچ گیا تھا اس کے پانچ ادمی تاجروں کے بیس میں تھے ان میں کرسٹوفر نام کے ایک ادمی نے ایوبی پر تیر چلایا
ENGLISH
And from his dead body, Saifullah was born. There is no shortage of rulers in history who were assassinated or assassinated, but Sultan Salahuddin Ayyubi (may God bless him and grant him peace) is one of the few figures in history who were assassinated. It is sad that the story of Sultan Ayyubi goes along with the story of those who sell faith, so Salahuddin Ayyubi has repeatedly said that history Islam will soon see the time when the Muslims will remain, the Muslims will sell their faith and the Crusaders will rule over them. A united fleet of crusaders was now seen in the Mediterranean. Some of their ships had escaped. Sultan Ayyubid remained with his army on the Mediterranean coast and captured the crusaders who escaped from the sea alive. There were also seven girls whom we have already mentioned in detail. In Egypt, the Sultan's Sudanese army revolted, which was suppressed by the Sultan. They also received the komat sent by Sultan Zangi. Across the Mediterranean, a conference of Crusader leaders was taking place on the outskirts of Rome. Among them was King Augustus, King Remand and brother of Emperor Louis VII. Emil Ric was the commander of the united fleet of crusaders who went to attack Egypt, but Salah al-Din Ayubi fell upon them like a sudden disaster and did not allow a single soldier of this fleet to set foot on the shores of Egypt. The crusaders who reached the shores of Sultan Ayubi were prisoners of war in the hands of Sultan Ayubi. At the Crusaders' conference, Emerick's lips were falling. 15 days after his fleet sank, he reached the shores of Italy 15 days later. had burnt the sails and masts after his ship, it was his good fortune that his mullahs and soldiers had controlled the fire and had saved the ship, but without sails the ship continued to sway on the sea. There was a storm, there was no way to escape it, many small ships and boats were drowned in this storm. It was a miracle that the American ship was floating off the coast of Italy. The sailors were also excellent. They kept the ship under control by the force of the ships. As soon as they arrived at Sile, they rewarded all the sailors and soldiers with a cruel reward. The crusader leaders were waiting for him. Who has given it? It is obvious that the person could have been the Sudanese salar and Naji according to his letter. When the writing was matched with the first two letters, they suspected that it was a mistake. They had kept spy badges in Cairo, but there was no information from them either, there was no one to tell them that Sultan Salahuddin Ayyubi danced and that had secretly put to death the conspirators and buried them in the darkness of the night in anonymous news, and not even in the imagination of the Crusader chiefs and kings could it have occurred to them that the letter on which they had sailed It was Naji's but the date of the attack was changed and written by Sultan Ayubi. The spies could not get such information from anywhere. He was also tired. The conference was adjourned for the next day. At night, all these chiefs were drowning in alcohol. One man in this gathering was known only as Remand. He was Remand's trusted spy. He attacked. He landed on the coast of Egypt on the evening of 1912. Shortly after that, the fleet of Crusaders arrived and he saw this fleet destroyed by Sultan Ayubi's small army before his eyes. When Remand introduced him, everyone gathered around him. The spy knew that the Crusader leaders had sent an expert spy named Robin to the sea to kill Sultan Ayubi and to help him. Five men and seven young and beautiful girls were sent. The spy said that Robin had arrived at Salah al-Din Ayubi's camp under the pretense of being wounded. Adami shot an arrow at Ayyubi
ایوبی پر تیر چلایا مگر تیر خطا گیا پانچوں ادمی پکڑے گئے اور ساتوں لڑکیاں بھی پکڑی گئی انہوں نے کہانی تو اچھی گھڑ لی تھی سلطان ایوبی نے لڑکیوں کو پناہ میں لے لیا اور پانچوں ادمیوں کو چھوڑ دیا مگر ایوبی کا ایک ماہر سراغ رساں جس کا نام علی بن سفیان ہے اچانک اگیا اور اس نے سب کو گرفتار کر لیا اور پانچ میں سے ایک ادمی کو سب کے سامنے قتل کرا کے دوسروں سے اقبال جرم کروا لیا جاسوس نے کہا میں نے اپنے متعلق بتایا تھا کہ میں ڈاکٹر ہوں اس لیے سلطان نے مجھے زخمیوں کی مرہم پٹی کی ڈیوٹی دے رکھی تھی وہیں مجھے یہ اطلاع ملی کہ سوڈانیوں نے بغاوت کی تھی جو دبا لی گئی ہے اور سوڈانی افسروں اور لیڈروں کو ایوبی نے گرفتار کر لیا ہے رابن چار ادمی اور چھ لڑکیاں ایوبی کی قید میں ہیں لیکن ابھی تک ساحل پر ہیں ساتویں لڑکی جو سب سے زیادہ ہوشیار ہے لاپتا ہے اس کا نام مبیتا ارطلات سے موبی کہلاتی ہے ایوب بی کیمپ میں نہیں ہے اور اس کا سراغ رسا علی بن سفیان بھی وہاں نہیں ہے میں بڑی مشکل سے نکل کر ایا ہوں بڑی زیادہ اجرت پر تیز رفتار کشتی مل گئی تھی میں یہ خبر دینے ایا ہوں کہ رابن اس کے ادمی اور لڑکیاں موت کے خطرے میں ہیں مردوں کا ہمیں فکر نہیں کرنا چاہیے لڑکیوں کو بچانا لازمی ہے اپ جانتے ہیں کہ سب جوان ہیں اور چنی ہوئی خوبصورت ہیں مسلمان ان کا جو حال کر رہے ہوں گے اس کا تصور اپ کر سکتے ہیں ہمیں یہ قربانی دینی پڑے گی شاہ او کاسٹس نے کہا اگر مجھے یقین دلایا جائے کہ لڑکیوں کو جان سے مار دیا جائے گا تو میں یہ قربانی دینے کے لیے تیار ہوں ریمانڈ نے کہا مگر ایسا نہیں ہوگا کہ مسلمان ان کے ساتھ وحشیوں کا سلوک کر رہے ہوں گے لڑکیاں ہم پر لعنت بھیج رہی ہوں گی میں انہیں بچانے کی کوشش کروں گا یہ بھی ہو سکتا ہے رابرٹ نے کہا کہ مسلمان ان لڑکیوں کے ساتھ اچھا سلوک کر کے ہمارے خلاف جاسوسی کے لیے استعمال کرنے لگے بہرحال ہمارا یہ فرض ہے کہ انہیں قید سے ازاد کرائیں میں اس کے لیے اپنا ادھا خزانہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہوں یہ لڑکیاں صرف اس لیے قیمتی نہیں کہ یہ لڑکیاں ہیں جاسوس نے کہا وہ دراصل تربیت یافتہ ہے اتنے خطرناک کام کے لیے ایسی لڑکیاں ملتی کہاں ہیں اپ کسی جوان لڑکی کو ایسے کام کے لیے تیار نہیں کر سکتے کہ وہ دشمن کے پاس جا کر اپنا اپ دشمن کے حوالے کر دیں دشمن کی عیاشی کا ذریعہ بنے اور جاسوسی اور تخریب کاری کرے اس کام میں عزت و سب سے پہلے دینی پڑتی ہے اور یہ خطرہ تو ہر وقت لگا رہتا ہے کہ جو ہی دشمن کو پتہ چلے گا کہ یہ لڑکی جاسوس ہے تو اسے اذیتیں دی جائیں گی پھر اسے جان سے مار دیا جائے گا ان لڑکیوں کو ہم نے زر کثیر سرو کر کے حاصل کیا ہے پھر ٹریننگ دی انہیں بڑی محنت سے مصر اور عرب کی زبان سکھائی تھی ایک ہی بار سات تجربہ کر لڑکیوں کو ضائع کرنا عقلمندی نہیں کیا تم اعتماد سے کہہ سکتے ہو کہ لڑکیوں کو ایوبی کے کیمپ سے نکالا جا سکتا ہے اگسٹس نے پوچھا جی ہاں جاسوس نے کہا نکالا جا سکتا ہے اس کے لیے غیر معمولی طور پر دلیر اور پختہ کار ادمیوں کی ضرورت ہے مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دو دنوں تک رابن اور اس کے چار ادمی اور لڑکیوں کو قاہرہ لے جائیں وہاں سے نکالنا بہت ہی مشکل ہوگا اگر ہم وقت ضائع نہ کریں تو ہم انہیں کیمپ میں ہی شامل لیں گے اپ مجھے 20 ادمی دے دیں میں ان کی رہنمائی کروں گا لیکن ادمی ایسے ہوں جو جان پر کھیلنا جانتے ہوں ہمیں ہر قیمت پر ان لڑکیوں کو واپس لانا ہے امرک نے گرج کر کہا اس پر بہرہ روم میں جو پیتی تھی وہ اس کا انتقام لینے کو پاگل ہوا جا رہا تھا وہ صلیبیوں کے متحدہ بیڑے اور اس بیڑے میں سوار لشکر کا سپریم کمانڈر بن کر اس امید پر گیا تھا کہ مصر کی فتح کا سہرا اس کے سر بنے گا مگر صلاح الدین ایوبی نے اسے مصر کے ساحل کے قریب بھی نہ جانے دیا وہ جلتے ہوئے جہاز میں زندہ جل جانے سے بچا تو طوفان نے گھیر لیا اب بات کرتے اس کے ہونٹ کانپتے تھے اور وہ زیادہ تر باتیں میں اس پر مکے مار کر یا اپنی ران پر زور زور سے ہاتھ مار کر اپنے جذبات کا اظہار کرتا تھا اس نے کہا میں لڑکیوں کو بھی لاؤں گا اور صلاح الدین کو بھی قتل کرا دوں گا میں انہی لڑکیوں کو مسلمانوں کی سلطنت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے استعمال کروں گا میں سچے دل سے اپ کی تائید کرتا ہوں شاہ ایملک ریمانڈ نے کہا ہمیں تربیت یافتہ لڑکیوں کو اتنی اسانی سے ضائع نہیں کرنا چاہیے نام کریں گے اپ سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ شاہ کے ہر منہ میں ہم کتنی لڑکیاں داخل کر چکے ہیں کئی مسلمان گورنر اور امیران لڑکیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں بغداد میں یہ لڑکیاں عمرہ کے ہاتھوں ایسے متعدد افراد کو قتل کرا چکی ہیں جو صلیب کے خلاف نعرہ لے کر اٹھے تھے مسلمانوں کے خلافت کو ہم نے عورت اور شراب سے تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ان میں اتحاد نہیں رہا وہ عیش و عشرت میں غرق ہوتے جا رہے ہیں صرف دو ادمی ہیں جو اگر زندہ رہے تو ہمارے لیے مستقل خطرہ بنے رہیں گے ایک نور الدین زنگی اور دوسرا صلاح الدین ایوبی اگر ان دونوں میں سے ایک بھی زیادہ دیر تک زندہ رہا تو ہمارے لیے اسلام کو ختم کرنا اسان نہیں ہوگا اگر صلاح الدین ایوبی نے سوڈانیوں کے بغاوت دوا لی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص اس حد سے زیادہ خطرناک ہے جس حد تک ہم
ENGLISH
An arrow was shot at Ayyubi but the arrow missed. The five men were caught and the seven girls were also caught. They had made up the story well. His name is Ali bin Sufyan, he suddenly appeared and he arrested everyone and killed one of the five people in front of everyone and made the others guilty. There I was informed that the Sudanese had revolted, which had been suppressed, and that the Sudanese officers and leaders had been arrested by Ayubi. Robin, four men and six girls were in Ayubi's custody. But still on the beach, the seventh girl who is the smartest is missing, her name is Mabita, called Mubi from Artalat. I have come to tell you that Robin, his men and the girls are in danger of death. The men are not to be worried about. "They are beautiful. You can imagine what the Muslims are doing to them. We will have to make this sacrifice," Shah O'Castus said. "I'm ready for that," said Remand, "but it won't be. The Muslims are treating them like savages. The girls are cursing us. I'll try to save them. It could also happen," said Robert. They treated us well and started using them for espionage against us. However, it is our duty to release them from prison. I am ready to spend half of my wealth for this. He said that she is actually trained. Where are such girls found for such a dangerous job? You cannot train a young girl for such a job that she goes to the enemy and gives herself to the enemy to become a source of pleasure for the enemy. Do espionage and sabotage, respect must be given first in this work, and there is always a danger that the enemy who finds out that this girl is a spy will be tortured and then killed. We have acquired these girls by spending a lot of money, then we trained them, we taught them Egyptian and Arabic languages with great effort. It is not wise to waste the girls after seven experiments at once. Can you confidently say that the girls Can be taken out of Ayubi's camp, asked Augustus? Yes, said the spy, it can be taken out. Take his four men and the girls to Cairo. It will be very difficult to get them out. If we don't waste time, we will join them in the camp. You give me 20 men. "But I know how to play. We have to get these girls back at all costs," the American growled. Having become the supreme commander, he went in the hope that he would be credited with the victory of Egypt, but Saladin Ayyubi did not allow him to go near the coast of Egypt. Now his lips trembled while talking and he used to express his feelings by punching him or slapping his hand on his thigh in most of the conversations. I will use these girls to destroy the roots of the Muslim Empire. I support you with all my heart. knows very well how many girls we have entered into every mouth of the Shah. Many Muslim governors and emirs are playing in the hands of girls. We have divided the caliphate of the Muslims into three parts with women and alcohol. They are no longer united. They are drowning in luxury. One will remain Nuruddin Zangi and the other Salahuddin Ayyubi. If either of them survives for a long time, it will not be easy for us to destroy Islam. That this person is more dangerous than we think

No comments:
Post a Comment