https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Monday, 20 November 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 10

 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 10





دوسرے اونٹ کے پاؤں کے نشان مل گئے علی بن سفیان نے انہیں کہا تمہارا جرم معمولی چوری چکاری نہیں تم ایک پوری سلطنت اور اس کی تمام ابادی کے لیے خطرہ ہو اس لیے میں تم پر ذرا بھر بھی رحم نہیں کروں گا کیا تم تاجر ہو ہاں سب نے سر ہلا کے کہا ہم تاجر ہیں جناب ہم بے گناہ ہیں علی بن سفیان نے کہا اپنے ہاتھوں کی الٹی طرف میرے سامنے کرو پانچوں نے ہاتھ الٹے کر کے اگے کر دیے علی نے سب کے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کی درمیانی جگہ کو دیکھا اور ایک ادمی کو کلائی سے پکڑ کر گھسیٹ لیا اسے کہا کمان اور ترکش کہاں چھپا رکھی ہے اس ادمی نے معصوم بننے کی بہت کوشش کی علی نے سلطان ایوبی کے محافظ کو اپنے پاس بلا کر اس کے بائیں ہاتھ کی الٹی طرف اسے دکھائی اس کے انگوٹھے کی الٹی طرف اس جگہ جہاں انگوٹھا ہتھیلی کے ساتھ ملتا ہے یعنی جہاں جوڑ ہوتا ہے وہاں ایک نشان تھا ایسا نشان اس ادمی کے انگوٹھے کے جوڑ پر بھی تھا علی نے اسے اپنے محافظ کے متعلق بتایا یہ سلطان کا بہترین تیر انداز ہے اور یہ نشان اسی کا ثبوت ہے کہ یہ تیر انداز ہے اس کے انگوٹھے کی الٹی طرف ایک مدھم سا نشان تھا جسے وہم بار بار کوئی چیز رگڑی جاتی ہے یہ تیروں کی رگڑ کے نشان تھے تیر دائیں ہاتھ سے پکڑا جاتا ہے کمان بائیں ہاتھ سے پکڑی جاتی ہے تیر کا اگلا حصہ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر ہوتا ہے اور جب تیر کمان سے نکلتا ہے تو انگوٹھے پر رگڑ کھا جاتا ہے ایسا نشان ہر ایک تیر انداز کے ہاتھ پہ روتا ہے علی بن سفیان نے اسے کہا ان پانچ میں تم اکیلے تیر انداز ہو کمان اور ترکش کہاں ہے پانچوں چپ رہے علی نے ان پانچ میں سے ایک کو پکڑ کر محافظوں سے کہا اس کو اس درخت کے ساتھ باندھ دو اسے کھجور کے درخت کے ساتھ کھڑا کر کے باندھ دیا گیا علی نے اپنے تیر انداز کے کان میں کچھ کہا تیر انداز نے کندھے سے کمان اتار کر اس میں تیر رکھا اور درخت سے بندھے ہوئے ادمی کا نشانہ لے کر تیر چھوڑا تیر اس ادمی کی دائیں انکھ میں اتر گیا وہ تڑپنے لگا علی نے باقی چار سے کہا تم میں کتنے ہیں جو صلیب کی خاطر اس طرح تڑپ تڑپ کر جان دینے کو تیار ہیں اس کی طرف دیکھو انہوں نے دیکھا وہ ادمی چیخ رہا تھا تڑپ رہا تھا اور اس کی انکھ سے خون بری طرح بہہ رہا تھا میں تم سب سے وعدہ کرتا ہوں علی بن سفیان نے کہا کہ باعزت طریقے سے تم سب کو سمندر پار بیچ دوں گا دوسرے اونٹ پر کون گیا ہے کہاں گیا ہے تمہارا اپنا ایک کماندار ہمارا اونٹ ہم سے چھین کر لے گیا ہے ایک ادمی نے کہا اور ایک لڑکی بھی علی بن سفیان نے کہا تھوڑی ہی دیر بعد علی بن سفیان کے فن نے ان سے اعتراف کروا لیا کہ وہ کون ہیں اور کیا ہیں مگر انہوں نے یہ جھوٹ بولا کہ لڑکی رات خیمے سے بھاگ گئی تھی اور اس نے بتایا کہ صلاح الدین ایوبی نے رات اسے اپنے خیمے میں رکھا تھا اس نے شراب پی رکھی تھی اور لڑکی کو بھی پلائی تھی اور لڑکی گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں ائی تھی اس کے تعاقب میں فخر المصری نام کا ایک کماندار ایا اور اس نے جب لڑکی کی باتیں سنی تو اسے ہمارے اونٹ پر بٹھا کر زبردستی لے گیا انہوں نے وہ تمام بہتان علی بن سفیان کو سنائے جو لڑکی نے سلطان ایوبی پر لگائے تھے علی نے مسکرا کر کہا تم پانچ تربیت یافتہ عسکری اور تیر انداز ہو اور ایک ادمی تم سے لڑکی بھی لے گیا اور اونٹ بھی اس نے انہی کی نشاندہی پر زمین میں دبائی ہوئی کمان اور ترکش بھی نکلوا لی ان چاروں کو خیمہ گاہ میں بھجوا دیا گیا پانچواں ادمی تڑپ تڑپ کر مر چکا تھا اونٹ کے پاؤں کے نشان صاف نظر ارہے تھے علی بن سفیان نے نہایت سرحد سے 10 سوار بلائے اور انہیں اپنی کمان میں لے کر اس طرف روانہ ہو گیا جدھر اونٹ گیا تھا مگر اونٹ کی روانگی اور اس کے تعاقب میں علی بن سفیان کی روانگی میں 14 15 گھنٹوں کا فرق تھا اونٹ تیز تھا اور اسے ارام کی بھی زیادہ ضرورت نہیں تھی اونٹ پانی اور خوراک کے بغیر چھ سات دن تر و تازہ رہ سکتا ہے اس کے مقابلے میں گھوڑوں کو راستے میں کئی بار ارام پانی اور خوراک کی ضرورت تھی ان عناصر نے تعقب ناکام بنا دیا اونٹ میں 14 15 گھنٹوں کا فرق پورا نہ ہونے دیا فخر المصری نے تعاقب کے پیش نظر قیام بہت کم کیا تھا علی بن سفیان کو راستے میں صرف ایک چیز ملی یہ ایک تھیلا تھا اس نے رک کر تھیلا اٹھایا کھول کر دیکھا اس میں کھانے پینے کی چیزیں تھیں اس تھیلے میں ایک اور تھیلا تھا اس میں بھی وہی چیزیں تھیں علی بن سفیان کے سوکھنے کی تیز حسن نے اسے بتا دیا کہ ان اشیاء میں حشیش ملی ہوئی ہے راستے میں اسے دو جگہ ایسے اثار ملے تھے جن سے پتہ چلتا تھا کہ یہاں اونٹ رکا ہے اور سوار یہاں بیٹھے ہیں کھجوروں کی گٹھلیاں پھلوں کے بیج اور چھلکے بھی بکھرے ہوئے تھے تھیلے نے اسے شک میں ڈال دیا اس کے ذہن میں یہ شک نہ ایا کہ فخر المصری کو حشیش کے نشے میں لڑکی اپنے محافظ کے طور پر ساتھ لے جا رہی ہے تاہم اس نے تھیلا اپنے پاس رکھا مگر تھیلے کی تلاشی اور قیام نے وقت ضائع کر دیا تھا فخر المصری اور مبی منزل پر بنا بھی پہنچتے اور راستے میں پکڑے بھی جاتے تو کوئی فرق نہ پڑتا
ENGLISH
The footprints of the second camel were found. Ali bin Sufyan said to them, "Your crime is not petty theft. You are a threat to an entire empire and all its inhabitants, so I will not show you any mercy. Are you a merchant?" All of them shook their heads and said, "We are merchants, sir, and we are innocent." Ali ibn Sufyan said, "Put the reverse side of your hands in front of me." He saw the place and dragged a man by the wrist and said to him, "Where are the bow and quiver hidden?" This man tried hard to be innocent. It was seen that there was a mark on the back side of his thumb where the thumb meets the palm i.e. where it joins. Such a mark was also on the thumb joint of this man. And this mark is the proof that he is an archer. There was a faint mark on the reverse side of his thumb which was rubbed by something repeatedly. These were the marks of rubbing of arrows. The arrow is held with the right hand and the bow with the left hand. The front part of the arrow is on the thumb of the left hand and when the arrow comes out of the bow, friction is eaten on the thumb. Where is the archer alone, bow and quiver? All the five remained silent. Ali took one of the five and told the guards to tie him to this tree. said something in his ear. The archer took the bow from his shoulder and put an arrow in it and aimed at a man tied to a tree. There are those who are willing to die for the sake of the cross like this, look at him, they saw that man screaming, writhing and bleeding badly from his eyes, I promise you all, Ali b. Sufyan said, "I will sell you all across the sea in an honorable way." After a while, the art of Ali bin Sufyan made him confess who and what he was, but he lied that the girl had run away from the tent at night, and he said that Salah al-Din Ayyubi had taken her to his tent at night. He had drunk wine and also fed the girl and the girl came in a state of panic and fear. A commander named Fakhr al-Masri followed her and when he heard the girl's words, he made her sit on our camel. They told Ali bin Sufyan all the slanders that the girl had made on Sultan Ayyubi. Ali smiled and said, "You are five trained soldiers and archers, and a man took the girl and the camel from you." On the indication of the bow and quiver pressed into the ground, they took out the four of them and sent them to the camp. The fifth person was dying of agony. The footprints of the camel were clearly visible. Ali bin Sufyan called 10 horsemen from the border and He took them under his command and left for the place where the camel had gone, but there was a difference of 14-15 hours between the departure of the camel and the departure of Ali bin Sufyan in pursuit of it. The camel was fast and it did not need much water. And without food it can stay fresh and fresh for six to seven days, compared to this, the horses needed fresh water and food many times on the way. Ali bin Sufyan found only one thing on the way, it was a bag, he stopped and picked up the bag, opened it and saw that it contained food and drink. These were the things Ali bin Sufyan's keen sense of smell told him that hashish was mixed with these things. On the way, he found traces in two places that showed that the camel had stopped here and the rider was sitting here. The seeds and peels of the fruits were also scattered. The bag made him suspicious. He had no doubt that Fakhr al-Masri was being taken by the girl under the influence of hashish as her bodyguard, but he kept the bag with him. But the search for the bag and the stay had wasted time, Fakhr al-Masri and Mabi had reached the destination and even if they had been caught on the way, it would not have mattered.

اور راستے میں پکڑے بھی جاتے تو کوئی فرق نہ پڑتا سوڈالی لشکر میں ناجی ادرش اور ان کے ساتھ ہی جو زہر پھیلا چکے تھے وہ اثر کر گیا تھا فاطمی خلافت کے وہ فوجی سربرا جو برائے نام جرنیل اور دراصل حاکم بنے ہوئے تھے سلطان صلاح الدین ایوبی کو ایک ناکام امیر اور بےکار حاکم ثابت کرنا چاہتے تھے مسلمان حکمران حرم میں ان لڑکیوں کے اسیر ہو گئے تھے جن میں بیشتر عیسائی اور یہودی تھیں ان کے نام اسلامی تھے حکومت کا کاروبار خود ساختہ افسر چلا رہے تھے من مانی اور عیش و عشرت کر رہے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ صلاح الدین ایوبی جیسا کوئی مذہب پسند اور قوم پرست قید قوم کو جگا دے اور حکمران اور سلطانوں کو حرم کی جنت سے باہر لا کر حقائق کی دنیا میں لے ائے سلطان ایوبی کے پہلے معرکوں سے جو انہوں نے اپنے چچا شیرکو کی قیادت میں لڑے تھے یہ لوگ جان چکے تھے کہ اگر یہ شخص اقتدار میں اگیا تو اسلامی سلطنت کو مذہب اور اخلاقیات کی پابندیوں میں جکڑ لے گا لہذا انہوں نے ہر وہ داغ پھیلا جو سلطان ایوبی کو چاروں شانے چت گرا سکتا تھا انہوں نے درپردہ صلیبیوں سے تعاون کیا اور ان کے جاسوسوں اور تخریب کاروں کے لیے زمین ہموار کی اور اسی کے راستے میں چٹانے کھڑی کی اگر نوردین زنگی نہ ہوتے تو اج نہ صلاح الدین ایوبی کا تاریخ میں نام ہوتا نہ اج نقشے پر اتنے زیادہ اسلامی ممالک نظر اتے نوردین زنگی رحمت اللہ علیہ نے ذرا سے اشارے پر بھی سلطان ایوبی رحم اللہ تعالی علیہ کو کمک اور مدد بھیجی صلیبیوں نے مصری فوج کے سوڈانیوں کے بلاوے پر بحرہ روم سے حملہ کیا تو نور الدین زنگی نے اطلاع ملتے ہی خشکی پر صلیبیوں کی ایک مملکت پر حملہ کر کے ان کے اس لشکر کو مفلوج کر دیا جو مصر پر حملہ کرنے کے لیے جا رہا تھا یہ تو سلطان ایوبی کا نظام جاسوسی ایسا تھا کہ انہوں نے صلیبیوں کا بیڑا غرق کر دیا اب علی بن سفیان نے زنگی کی طرف برق رفتار قاصد یہ خبر دینے کے لیے دوڑا دیے کہ سوڈانیوں کی بغاوت کا خطرہ ہے اور ہماری فوج کم بھی ہے اور یہ فوج دو حصوں میں بٹ بھی گئی ہے قاصد پہنچ گئے تھے اور نوردین زنگی رحم اللہ علیہ نے خاصی فوج کو مصر کی طرف کوچ کا حکم دے دیا تھا بعض مرخین نے اس فوج کی تعداد 2ہز سوار اور پیادہ لکھی ہے اور کچھ اس سے زیادہ بتاتے ہیں بہرحال زنگی نے اپنی مشکلات اور ضروریات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سلطان ایوبی کی مشکلات اور ضروریات کو اہمیت اور اولیت دی مگر ان کی فوج کو پہنچنے کے لیے بہت سے دن درکار تھے مسلمان نام نہاد فوجی اور دیگر سرکردہ شخصیتوں نے دیکھا کہ مصر میں سلطان ایوبی کے خلاف بے اطمینانی اور بغاوت پھوٹ رہی ہے تو انہوں نے اسے ہوا دی درپردہ سوڈانیوں کو اکسایا اور اپنے مخبروں کے ذریعے یہ بھی معلوم کر لیا کہ سوڈانیوں کے سالاروں کو مروہ کر خفیہ طریقے سے دفن کر دیا گیا ہے سوڈانیوں کے لشکر کے کم رتبے والے کماندار سالار بن گئے اور صلاح الدین ایوبی کی اس قلیل فوج پر حملہ کرنے کے منصوبے بنانے لگے جو مصر میں مقیم تھی وہ سلطان ایوبی کی ادھی فوج اور سلطان کی دارالحکومت سے غیر حاضری سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے منصوبہ ایسا تھا جس کے تحت 50 ہزار سوڈانی فوج سیاہ گھٹا کی طرح مصر کے اسمان سے اسلام کی چاند کو روپوش کرنے والی تھی علی بن سفیان قاہرہ پہنچ گیا وہ جن کے تعاقب میں گیا تھا ان کا اس سے اگے کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا اس نے اپنے ان جاسوسوں کو بلایا جو اس نے سوڈانی ہیڈ کوارٹر اور فوج میں چھوڑ رکھے تھے ان میں سے ایک نے بتایا کہ گزشتہ رات ایک اونٹ ایا تھا اندھیرے میں جو کچھ نظر ا سکا وہ دو سوار تھے ایک عورت اور ایک مرد جاسوس نے یہ بھی بتایا کہ وہ کون سی عمارت میں داخل ہوئے تھے علی بن سفیان کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہاں چھاپہ مارتا سوڈانی فوج سلطنت اسلامیہ کی فوج تھی کوئی ازاد فوج نہیں تھی مگر علی نے اس خطرے کے پیش نظر چھاپہ نہ مارا کہ یہ جلدی پر تیل کا کام کرے گا اس کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ موبی اور فخر المصری کو گرفتار کرنا ہے بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ سوڈانی قیادت کے عزائم اور ائندہ منصوبے معلوم کیے جائیں تاکہ پیش بندی کی جا سکے اس نے اپنے جاسوسوں کو نئی ہدایات جاری کی جاسوسوں میں غیر مسلم لڑکیاں بھی تھیں جو عیسائی یا یہودی نہیں تھی یہ قہبہ خانوں کی بڑی ذہین اور تیز طرار لڑکیاں تھیں مگر علی بن سفیان نے ان پر کبھی 100 فیصد بھروسہ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ دوغلا کھیل بھی سکتی تھی ان لڑکیوں سے بھی اس لڑکی یعنی موبی کا سراغ نہ مل سکا جس کے تعاقب میں علی ایا تھا چار روز علی بن سفیان دارالحکومت سے باہر مارا مارا پھرتا رہا اس کا دائرہ کار سوڈانی فوجی قیادت کے ارد گرد کا علاقہ تھا پانچویں رات وہ باہر کھلے اسمان تلے بیٹھا اپنے دو جاسوسوں سے رپورٹ لے رہا تھا اس کے تمام ادمیوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ کس وقت وہ کہاں ہوتا ہے اس کے گرد کا ایک ادمی ایک ادمی کو ساتھ لیے اس کے پاس ایا اور کہا کہ اپنا نام فقر المصری بتاتا ہے جھاڑیوں میں ڈگمگاتا گرتا اور اٹھتا تھا میں نے اس سے بات کی تو کہنے لگا کہ مجھے میری فوج تک پہنچا دو اس سے اچھی طرح بولا
ENGLISH
And even if they were caught on the way, it would not have mattered in the Sodali army. They wanted to prove Ayubi as a failed emir and a useless ruler. The Muslim rulers were captured by the girls in the harem, most of whom were Christians and Jews. Their names were Islamic. The government's business was run by self-appointed officials. They did not want a religious and nationalist prisoner like Salahuddin Ayyubi to wake up the nation and bring the rulers and sultans out of the paradise of the Haram to the world of facts from the first battles of Sultan Ayyubi. He had fought under the leadership of his uncle Shirku. These people knew that if this man came to power, he would bind the Islamic Empire in the restrictions of religion and morality, so they spread every stain that could bring down Sultan Ayyubi. They cooperated with the veiled crusaders and paved the way for their spies and saboteurs and put stones in their way. Nazar of the countries and Nooruddin Zangi, may God bless him and grant him peace, sent reinforcements and help to Sultan Ayyubi, may God bless him and grant him peace, even at the slightest hint. The Crusaders attacked from the Mediterranean Sea at the invitation of the Sudanese of the Egyptian army. By attacking a kingdom of and paralyzing their army that was going to attack Egypt, it was Sultan Ayyubi's espionage system that he sunk the fleet of the crusaders. The messengers rushed to the side to give the news that there is a danger of rebellion of the Sudanese and our army is also small and this army is divided into two parts. Some chroniclers have written the number of this army as 2,000 cavalry and infantry, and some say it is more than that. However, Zangi, not caring about his own difficulties and needs, gave importance and priority to the difficulties and needs of Sultan Ayubi. But it took many days for his army to arrive. Muslim so-called soldiers and other leading figures saw that discontent and rebellion against Sultan Ayyubi was breaking out in Egypt, so they fanned it and incited the Sudanese undercover and their informers. Through this, he also found out that the Sudanese chieftains had been secretly buried. They wanted to take advantage of half of Sultan Ayyubi's army and the Sultan's absence from the capital. The plan was that 50,000 Sudanese troops would hide the moon of Islam from the sky of Egypt like a black cloud. Ali Bin Sufyan On reaching Cairo he could find no further trace of those whom he had pursued. The camel had arrived. All that could be seen in the darkness were two riders, a woman and a man. The spy also told which building they had entered. There was an army, not an independent army, but Ali did not raid in view of the danger that it would act as oil in a hurry. To find out the leadership's intentions and future plans so as to prevent it, he issued new instructions to his spies. Among the spies there were non-Muslim girls who were not Christian or Jewish. Bin Sufyan had never trusted her 100% because she could play duplicitous even from these girls, they could not find a trace of the girl i.e. Mobi whom Ali was chasing. His scope was the area around the Sudanese military leadership. On the fifth night, he was sitting outside under the open sky taking reports from his two spies. All his men knew where he was at what time. A man accompanied another man and came to him and said that his name is Faqr al-Masri. He used to stagger and fall in the bushes.
لگا کہ مجھے میری فوج تک پہنچا دو اس سے اچھی طرح بولا بھی نہیں چاہتا اس دوران فخر المصری بیٹھ گیا تھا تم وہی کا ایماندار ہو نا جو محاذ سے ایک لڑکی کے ساتھ بھاگے ہو علی بن سفیان نے اس سے پوچھا میں سلطان کی فوج کا بکوڑا ہوں فخر نے حقلاتی لڑکراتی زبان میں کہا سزائے موت کا حقدار ہوں لیکن میری پوری بات سن لیں ورنہ تم سب کو سزائے موت ملے گی علی بن سفیان اس کے لب و لہجے سے سمجھ گیا کہ یہ شخص نشے میں ہے یا نشے کی طلب نے اس کا یہ حال کر رکھا ہے وہ اسے اپنے دفتر میں لے گئے اور اسے وہ تھیلا دکھایا جو اسے راستے میں پڑا ملا تھا پوچھا یہ تھیلا تمہارا ہے اور تم اس سے یہ چیزیں کھاتے رہے ہو ہاں فخر مصری نے جواب دیا وہ مجھے اسی سے کھلاتی تھی اس کے سامنے وہ تھیلا بھی پڑا تھا جو تھیلے کے اندر سے نکلا تھا علی نے اس میں سے چیزیں نکال کر سامنے رکھ لی تھیں فخر نے یہ چیزیں دیکھیں تو جھپٹ کر مٹھائی کی قسم کا ایک ٹکڑا اٹھا لیا علی نے جھپٹ کر اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا فخر نے بے تابی سے کہا خدا کے لیے مجھے یہ کھانے دو میری جان اور روح اسی میں ہے مگر علی نے اس سے وہ ٹکڑا چھین لیا اور اسے کہا مجھے ساری واردات سناؤ پھر یہ ساری چیزیں اٹھا لینا فخر مصری نڈھال اور بے جان ہوا جا رہا تھا علی بن سفیان نے اسے ایک سفوف کھلا دیا جو حشیش کا توڑ تھا فخر نے اسے تمام تر واقعہ سنا دیا کہ وہ کیمپ سے لڑکی کے تعاقب میں کس طرح گیا تھا تاجروں نے اسے قہوہ پلایا تھا جس کے اثر سے وہ کسی اور ہی دنیا میں جا پہنچا تھا تاجروں یعنی صلیبی جاسوسوں نے اس سے جو باتیں کی تھیں وہ بھی اس نے بتائی اور پھر لڑکی کے ساتھ اس نے اونٹ پر جو سفر کیا تھا وہ اس طرح سنایا کہ وہ مسلسل چلتے رہے اونٹ نے بڑی اچھی طرح ساتھ دیا رات کو وہ تھوڑی دیر قیام کرتے تھے لڑکی اسے کھانے کو دوسرے تھیلے میں سے چیزیں دیتی تھی وہ اپنے اپ کو بادشاہ سمجھتا تھا لڑکی نے اسے اپنی محبت کا یقین دلایا اور شادی کا وعدہ کیا تھا اور یہ شرط رکھی تھی کہ وہ اسے سوڈانی کمانداروں کے پاس پہنچا دے وہ راستے میں ہی لڑکی کو شادی کے بغیر بیوی بنانے کی کوشش کرتا رہا لیکن لڑکی اسے اپنی باہوں میں لے کر پیار اور محبت میں ایسے ارادے اور خواہش کو مار دیتی فخری نے محسوس تک نہ کیا کہ لڑکی اسے حشیش اور اپنے حسن و شباب کے قبضے میں لیے ہوئے ہیں تیسرے پڑاؤ میں جب انہوں نے کھانے پینے کے لیے اونٹ روکا تو تھیلا غائب پایا جو اونٹ کے دوڑنے سے کہیں گر پڑا تھا لڑکی نے اس سے کہا کہ واپس چل کر تھیلا ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن فخر المصری نے کہا کہ وہ بھگوڑا فوجی ہے خدشہ ہے کہ اس کا تعاقب ہو رہا ہوگا لڑکی ضد کرنے لگی کہ تھیلا ضرور ڈھونڈیں گے فخر نے اسے یقین دلایا کہ بھوکا مرنے کا کوئی خطرہ نہیں راستے میں کسی ابادی سے کچھ لے لیں گے مگر لڑکی ابادی کے قریب جانا نہیں چاہتی تھی وہ کہتی تھی کہ واپس چلو فخر المصری نے اسے زبردستی اونٹ پر بٹھا لیا اور اس کے پیچھے بیٹھ کر اونٹ کو اٹھایا اور دوڑا دیا وہ سفر کی تیسری رات تھی اگلی شام وہ شہر سے باہر سوڈانیوں کے کماندار کے ہاں پہنچے مگر فخر المصری اپنے سر کے اندر ایسی بے چینی محسوس کرنے لگا جیسے کھوپڑی میں کیڑے رین رہے ہوں اہستہ اہستہ وہ حقیقی دنیا میں اگیا وہ سمجھ نہ سکا کہ یہ حشیش نہ ملنے کا اثر ہے اس کی تصوراتی بادشاہی اور ذہن میں بسائی ہوئی جنت تھیلے میں کہیں ریگزار میں گر گئی تھی لڑکی نے اس کے سامنے کماندار کو صلیبیوں کا پیغام دیا اور اسے بغاوت پر اکسایا فخر پاس بیٹھا سنتا رہا اور اس کے ذہن میں کیڑے بڑے ہو کر تیزی سے رینگنے لگے نشہ اتر چکا تھا اسے یاد انے لگا کہ وہ محاز سے بھاگ ایا ہے لڑکی یعنی موبی کو یہی خوش فہمی ہوگی کہ فخر پر نشہ طاری ہے چنانچہ اس نے بے خوف کماندار سے یہ بھی کہہ دیا کہ سلطان ایوبی اور علی بن سفیان کے درمیان یہ غلط فہمی پیدا کرنی ہے کہ وہ ظاہری طور پر نیک بنے پھرتے ہیں مگر عورت اور شراب کے دلدادہ ہیں ان کی اس طویل گفتگو میں بغاوت کی باتیں بھی ہوئیں اس وقت تک فخر المصری پوری طرح بیدار ہو چکا تھا لیکن سر کے اندر کی بے چینی اسے بہت پریشان کر رہی تھی لڑکی نے کماندار سے کہا کہ اگر بغاوت کرنی ہے تو وقت ضائع نہ کریں سلطان ایوبی محاز پر ہے اور الجھا ہوا ہے لڑکی نے یہ جھوٹ بولا کہ صلیبی تین چار دنوں بعد دوسرا حملہ کرنے والے سلطان ایوبی کو یہاں سے بھی فوج محاز پر بلانی پڑے گی کماندار نے لڑکی کو بتایا کہ چھ سات دنوں تک سوڈانی لشکر یہاں کی فوج پر حملہ کر دے گا فخر یہ ساری گفتگو سنتا رہا ادھی رات کے بعد اسے الگ کمرے میں بھیج دیا گیا جہاں اس کے سونے کا انتظام تھا لڑکی اور کماندار دوسرے کمرے میں رہے درمیان میں دروازہ تھا جو بند کر دیا گیا اسے نیند نہیں ارہی تھی اس نے دروازے کے ساتھ کان لگائے تو اسے ہنسی کی اواز ہی سنائی دی پھر لڑکی کے یہ الفاظ سنائی دیے اسے حشیش کے زور پر جہاں تک لائی ہوں اور اس کی محبوبہ بنی رہی ہوں مجھے ایک محافظ کی ضرورت تھی حشیش کا تھیلا راستے میں گر پڑا ہے اگر صبح اسے خوراک نہ ملی تو یہ پریشان کرے گا اس کے بعد فخر نے دوسرے کمرے سے جو اوازیں سنی وہ اسے صاف بتا رہی تھیں کہ شراب پی جا رہی ہے اور بدکاری ہو رہی ہے بہت دیر بعد اسے کماندار کی اوازنائی دی
ENGLISH
I felt that he should take me to my army. I didn't even want to speak to him. Meanwhile, Fakhr al-Masri was sitting. Are you the one who ran away from the front with a girl? Fakhar said in a boyish language, "I deserve the death penalty, but listen to my whole story, otherwise you all will get the death penalty." They took him to his office and showed him the bag that he found lying on the road. When she was feeding, there was a bag in front of her which had come out from inside the bag. Ali had taken out things from it and placed them in front of her. When Fakhr saw these things, he grabbed a piece of sweets. Fakhar put his hand on his hand and eagerly said, "For God's sake, let me eat this. My life and soul is in it." The Egyptian was becoming exhausted and lifeless. Ali bin Sufyan gave him a bag of hashish. Fakhr told him the whole story of how he had gone from the camp in pursuit of the girl. He was transported to another world due to the effect of which he also told what the merchants i.e. crusade spies had told him and then he narrated the journey he had taken with the girl on a camel in such a way that they continued to walk. The camel supported him very well. At night, they used to stay for a while. The girl used to give him food from another bag. He thought of himself as a king. He kept trying to make the girl his wife without marriage on the way, but the girl would take her in her arms and kill such intention and desire in love and Fakhri did not even realize it. Did the girl take him in possession of hashish and her beauty? At the third stop, when they stopped the camel for food and drink, they found the bag missing, which had fallen somewhere from the camel's running. The girl told him to go back. They find the bag, but Fakhr al-Masri said that he is a fugitive soldier, there is a fear that he might be being pursued. The girl insisted that they will definitely find the bag. But the girl didn't want to go near Abadi, she used to say, let's go back. Fakhr al-Masri forced her to sit on the camel and sitting behind her, lifted the camel and made it run. It was the third night of the journey. The next evening, she left the city. They reached the commander of the Sudanese outside, but Fakhr al-Masri began to feel anxiety inside his head, as if insects were crawling in his skull. Slowly, he entered the real world. And the paradise in the mind had fallen somewhere in the bag. The girl gave the message of the crusaders to the commander in front of him and incited him to rebel. Fakhar sat and listened and the worms in his mind grew and crawled fast. When he had finished, he started to remember that he had run away from Mahaz. The girl, that is, Mobi, would have this happy understanding that pride is intoxicated, so he also told the fearless commander that this misunderstanding between Sultan Ayubi and Ali bin Sufyan. It has to be established that he is outwardly virtuous but is fond of women and alcohol. In their long conversation there were also talks of rebellion. By that time, Fakhr al-Masri had fully awakened, but the anxiety inside his head was very disturbing. The girl who was disturbing said to the commander that if there is to be a rebellion, then don't waste time. Sultan Ayubi is on the move and is confused. The commander told the girl that the Sudanese army would attack the army here for six to seven days. Fakhar kept listening to the whole conversation. After midnight, he was sent to a separate room where the girl was supposed to sleep. And the commander stayed in the other room, there was a door in the middle, which was closed, he was not sleeping, he put his ear to the door, then he heard the sound of laughter, then he heard these words of the girl. I am and becoming his lover I needed a bodyguard Hashish bag has fallen on the way If he does not get food in the morning it will disturb him After that the voices heard by Fakhar from the other room were telling him clearly. After a long time he was informed by the commander that there was drinking and debauchery
ہے اسے قید میں ڈال دیتے ہیں یا ختم کرا دیتے ہیں لڑکی نے اس کی تائید کی فخر المصری پوری طرح بیدار ہو گیا اور وہاں سے نکل بھاگنے کی سوچنے لگا رات کا پچھلا پہر تھا وہ اس کمرے سے نکلا اس کا دماغ ساتھ نہیں دے رہا تھا کبھی تو دماغ صاف ہو جاتا مگر زیادہ دیر ماؤف رہتا صب کی روشنی پھیلنے تک وہ خطرے سے دور نکل گیا تھا اب اسے دور تعقب کا خطرہ تھا دونوں طرف اسے موت نظر ارہی تھی اپنی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتا تو بھی مجرم تھا اور اگر سوڈانی پکڑ لیتے تو فورا قتل کرتے تھے وہ دن بھر فرعونہ کے کھنڈروں میں چھپا رہا حشیش کی طلب خوف اور غصہ اس کے جسم اور دماغ کو بیکار کر رہا تھا رات تک وہ چلنے پھرنے سے بھی معذور ہوا جا رہا تھا پھر اسے یہ بھی احساس نہ رہا کہ یہ دن ہے رات اور وہ کہاں ہے اس کے دماغ میں یہ ارادہ بھی ایا کہ اس عیسائی لڑکی کو جا کر قتل کر دے یہ سوچ بھی ائی کہ اونٹ یا گھوڑا مل جائے اور وہ محاذ پر سلطان ایوبی کے قدموں میں جا گرے مگر جو بھی سوچ اتی اس پر اندھیرا چھا جاتا تھا جو اس کی انکھوں کے سامنے ا کر ہر چیز تاریک کر دیتا تھا اسی حالت میں اسے یہ ادمی ملا وہ چونکہ جاسوس تھا اس لیے تربیت کے مطابق اس نے فخر المسٹری کے ساتھ دوستی اور ہمدردی کی باتیں کی اور اسے علی بن سفیان کے پاس لے ایا تصدیق ہو گئی کہ سوڈانی لشکر حملہ اور بغاوت کرے گا اور یہ کسی بھی لمحے ہو سکتا ہے علی بن سفیان سوچ رہا تھا کہ مقام کمانڈاروں کو فورا چوکنہ کرے اور سلطان ایوبی کو اطلاع دے مگر وقت ضائع ہونے کا خطرہ تھا اتنے میں اسے پیغام ملا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی بلا رہے ہیں وہ حیران ہو کر چل پڑا کہ سلطان کو تو وہ محاز پر چھوڑ ایا ہے وہ سلطان ایوبی سے ملا تو سلطان نے بتایا کہ مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ ساحل پر صلیبی جاسوسوں کا ایک گروہ موجود ہے اور ان میں سے کچھ ادھر بھی اگئے ہوں گے محاز پر میرا کوئی کام نہیں رہ گیا تھا میں کمان اپنے رفیقوں کو دیکھ کر یہاں اگیا اس قدر بے چین تھا کہ میں یہاں بہت بڑا خطرہ محسوس کر رہا تھا یہاں کی کیا خبر ہے علی بن سفیان نے انہیں ساری خبر سنا دی اور کہا اگر اپ چاہیں تو میں زبان کا ہتھیار استعمال کر کے بغاوت کو روکنے کی کوشش کروں یہ سلطان زنگی کی مدد انے تک ملتوی کرا دوں میں جاسوسوں کو بھی استعمال کر سکتا ہوں ہماری فوج بہت کم ہے حملے کو نہیں روک سکے گی سلطان ایوبی ٹہلنے لگے ان کا سر جھکا ہوا تھا وہ گہری سوچ میں کھو گئے تھے اور علی بن سفیان انہیں دیکھ رہا تھا سلطان نے رک کر کہا علی تم اپنی زبان اور اپنے جاسوس استعمال کرو لیکن حملے روکنے کے لیے نہیں بلکہ حملے کے حق میں سوڈانیوں کو حملہ کرنا چاہیے مگر رات کے وقت جب ہماری فوج خیموں میں سوئی ہوئی ہوگی علی بن سفیان نے حیرت سے سلطان کو دیکھا سلطان نے کہا یہاں کے تمام کمانداروں کو بلوا لو اور تم بھی ا جاؤ سلطان ایوبی نے علی بن سفیان کو یہ ہدایت بڑی سختی سے دی سب کو یہ بتا دینا کہ میرے متعلق ان کے سوا کسی کو معلوم نہ ہو کہ میں محاذ سے یہاں اگیا ہوں سوڈانیوں سے میری یہاں موجودگی کو پوشیدہ رکھنا بے حد ضروری ہے میں بڑی احتیاط سے خفیہ طریقے سے ایا ہوں
ENGLISH
They put him in prison or kill him. The girl supported him. Fakhr al-Masri woke up completely and started thinking of running away. It was late at night. He left the room. Sometimes his mind would be clear, but he remained free for a long time. Until the light of day spread, he had gone away from the danger. Now he was in danger of being chased from afar. He was facing death on both sides. If the Sudanese caught him, they used to kill him immediately. He was hiding in the ruins of Pharaoh all day long. Fear and anger were making his body and mind useless. By night, he was unable to even walk. He did not realize that it was day or night and where he was. He also thought that he should go and kill this Christian girl. He also thought that a camel or a horse would be found and he would go to the front of Sultan Ayyubi. He fell, but whatever thought he had, darkness fell upon him, which darkened everything in front of his eyes. In this condition, he found this man. Since he was a spy, according to his training, he befriended Fakhr al-Mistri and He spoke sympathetically and brought him to Ali bin Sufyan. It was confirmed that the Sudanese army would attack and revolt and it could happen at any moment. But there was a danger of losing time. Meanwhile, he received a message that Sultan Salahuddin Ayyubi was calling him. I had heard that there was a group of Crusader spies on the coast and some of them must have come here too. I had nothing left to do on the coast. Ali bin Sufyan told him all the news and said, "If you want, I can use the weapon of language to try to stop the rebellion. I will postpone it until Sultan Zangi helps me." I can also use our army is too small and will not be able to stop the attack. Use language and your spies, but not to stop the attack, but in favor of the attack, the Sudanese should attack, but at night when our army will be sleeping in the tents. Ali Bin Sufyan looked at the Sultan with surprise. Summon him and you too go. Sultan Ayubi gave this instruction to Ali bin Sufyan very strictly, to tell everyone that no one but them should know about me, that I have come here from the front. Concealment is extremely important


No comments:

Post a Comment