https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Sunday, 19 November 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 9

 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 9



اگر تمہیں ملا بھی تو سونے چاندی کے دو دو ٹکڑے مل جائیں گے صلیبیوں کے جہازوں سے بے بہا خزانہ سلطان ایوبی کے ہاتھ ایا ہے وہ سب رات کے اندھیرے میں سینکڑوں اونٹوں پر لاد کر قاہرہ روانہ کر دیا گیا ہے جہاں سے دمشق اور بغداد چلا جائے گا سوڈانی لشکر کو سلطان نہاتا کر کے غلاموں میں بدل دینا چاہتا ہے پھر عرب سے فوج ا جائے گی اور تم مصری بھی غلام ہو جاؤ گے اس عیسائی کی ہر ایک بات فخر المصری کے دل میں اترتی جا رہی تھی اثر باتوں کا نہیں بلکہ موبی کے حسن اور حشیش کا تھا عیسائیوں نے یہ حربہ حسن بن صباح کے حشیشین سے سیکھا تھا موبی کو بالکل توقع نہیں تھی کہ یہ صورتحال پیدا ہو جائے گی کہ ایک مصری اس کے تعاقب میں اس کے دام میں ا جائے گا انہیں معلوم ہو گیا کہ فخر مصر کی زبان کے سوا کوئی زبان نہیں جانتا مبینے اپنے پانچوں ساتھیوں کو سنانا شروع کر دیا کہ رابن زخمی ہونے کا بہانہ کر کے زخمیوں کے خیمے میں پڑا ہے اور اس نے کہا ہے کہ ناجی سے مل کر معلوم کرو کہ اس نے بغاوت کیوں نہیں کی یا اس نے عقب سے صلاح الدین ایوبی پر حملہ کیوں نہیں کیا اور یہ بھی معلوم کرو کہ اس نے ہمیں دھوکہ تو نہیں دیا وہ باتیں کر رہی تھی تو فخر نے پوچھا یہ کیا کہہ رہی ہے یہ کہہ رہی ہے ایک نے جواب دیا اگر یہ شخص یعنی تم صلاح الدین کی فوج میں نہ ہوتے تو یہ تمہارے ساتھ شادی کر لیتی یہ مسلمان ہونے کو بھی تیار ہے لیکن کہتی ہے کہ اسے اب مسلمانوں پر بھروسہ نہیں رہا فخر نے بے تابی سے لپک کر لڑکی کو بازو سے پکڑا اور اپنی طرف گھسیٹ کر کہا اگر میں بادشاہ ہوتا تو خدا کی قسم تمہاری خاطر تخت اور تاج قربان کر دیتا اگر شرط یہی ہے کہ میں صلاح الدین ایوبی کی دی ہوئی تلوار پھینک دوں تو یہ لو اس نے کمر بند سے تلوار کھولی اور نیام سمیت لڑکی کے قدموں میں رکھ دی کہا میں اب سے ایوبی کا سپاہی اور کماندار نہیں ہوں مگر ایک شرط اور بھی ہے لڑکی نے کہا میں اپنا مذہب تمہاری خاطر ترک کر دیتی ہوں لیکن صلاح الدین ایوبی سے انتقام ضرور لوں گی کیا اسے میرے ہاتھوں قتل کرانا چاہتی ہو فخر نے پوچھا لڑکی نے اپنے ادمیوں کی طرف دیکھا سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اخر کرسٹوفر نے کہا ایک صلاح الدین ایوبی نا رہا تو کیا فرق پڑے گا ایک اور سلطان ا جائے گا وہ بھی ایسا ہی ہوگا مصریوں کو اخر غلام ہی ہونا پڑے گا تم ایک کام کرو سڈانیوں کے سالار ناجی کے پاس پہنچو اور یہ لڑکی اس کے سامنے کر کے اسے بتاؤ کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اصل میں کیا ہے اور اس کے ارادے کیا ہیں ان لوگوں کو تو یہ علم ہی نہیں تھا کہ ناجی کا صلیبیوں کے ساتھ رابطہ ہے اور منہ بھی اس کے ساتھ بات کرے گی لیکن انہیں یہ علم نہیں تھا کہ ناجی اور اس کے معتمد سالار خفیہ طریقے سے مروائے جا چکے ہیں اس تک لڑکی کو ہی جانا تھا اس کا اکیلے جانا ممکن نہیں تھا اتفاق سے انہیں فخر المصری مل گیا لہذا اسی کو استعمال کرنے کا فیصلہ ہو گیا یہ ادمی چونکہ سلطان ایوبی کی نظر میں اگئے تھے اس لیے ابھی اس کی نظر میں رہنا چاہتے تھے اس کے علاوہ انہوں نے موبی سے سن لیا تھا کہ ان کے شعبہ جاسوسی اور تخریب کاری کا سربراہ رابن اسی کیمپ میں ہے اور فرار ہوگا اس لیے وہ اسے مدد دینے کے لیے بھی وہاں موجود رہنا چاہتے تھے ان کے ارادے معلوم نہیں کیا تھے صلاح الدین ایوبی پر چلایا ہوا تیر خطا گیا تو انہیں سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا ان کا بہروپ اور ڈرامہ کامیاب رہا لیکن ان کا مشن تباہ ہو گیا تھا لہذا اب وہ بدلی ہوئی صورتحال اور اتفاقات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے فخر المصری حسن اور حشیش کے جال میں اگیا اس نے واپس کیمپین نہ جانے کا فیصلہ کر لیا تھا اسے یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ لڑکی کو لے کر روانہ ہو جائے ان لوگوں نے اسے اپنا ایک اونٹ دے دیا پانی کا ایک مشکیزہ دیا اور تھیلے میں کھانے کا بہت سارا سامان ڈال دیا ان اشیاء میں کچھ ایسی تھیں جن میں حشیش ملی ہوئی تھی موبی کو ان کا علم تھا فخر کو ایک لمبا چوغا اور تاجروں والی دستار پہنا دی گئی لڑکی اونٹ پر سوار ہوئی اس کے پیچھے فخر سوار ہوا اور اونٹ چل پڑا فخر گرد و پیش سے بے خبر تھا اور وہ اپنے ماضی سے بھی بے خبر ہو گیا صرف یہ احساس اس پر غالب تھا کہ روئ زمین کی حسین ترین لڑکی اس کے قبضے میں ہے جس نے سلطان کو ٹھکرا کر اسے پسند کیا ہے فخر نے موبی کو دونوں بازوں میں لے کر اس کی پیٹھ اپنے سینے سے لگا لی موبی نے کہا تم عیسائی کمانداروں اور اپنے سلطان کی طرح وحشی تو نہیں بنو گے میں تمہاری ملکیت ہوں جو چاہو کرو مگر میں پھر بھی تم سے نفرت کروں گی کہو تو میں اونٹ سے اتر جاتا ہوں فخر نے اسے اپنے بازوں سے نکال کر کہا مجھے صرف یہ بتا دو کہ تم مجھے دل سے چاہتی ہو یا محض مجبوری کے عالم میں میری پناہ لی ہے پناہ تمہیں ان تاجروں کی بھی لے سکتی تھی وہ بھی نے جواب دیا لیکن تم مجھے اتنے اچھے لگے کہ تمہاری خاطر مذہب تک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اس نے جذباتی باتیں کر کے فخر کے اعصاب پر قبضہ کر لیا اور رات گزرتی چلی گئی سفر کم و بیش پانچ دنوں کا تھا لیکن فخر المصری عام راستوں سے ہٹ کر جا رہا تھا
ENGLISH
Even if you find it, you will find two or two pieces of gold and silver. The immense treasure has come to the hands of Sultan Ayubi from the ships of the crusaders. The Sultan wants to bathe the Sudanese army and turn it into slaves, then the Arab army will leave and you Egyptians will also become slaves. The Christians had learned this tactic from Hasan bin Sabah's Hashish. Mobi had no idea that the situation would arise, that an Egyptian would follow him and fall into his trap. That Fakhr does not know any language except the language of Egypt, Mubayne began to tell his five companions that Robin was lying in the wounded tent pretending to be wounded and that he had said to meet Naji and find out that he had rebelled. Why didn't he attack Salahuddin Ayyubi from behind and also find out that he didn't cheat us? She was talking, so Fakhar asked what she was saying. Diya, if this person i.e. you were not in Saladin's army, she would have married you. She is also ready to become a Muslim, but she says that she no longer trusts Muslims. Fakhar eagerly grabbed the girl by the arm. And dragged him towards him and said, "If I were the king, I would sacrifice the throne and the crown for your sake. If the condition is that I throw away the sword given by Saladin Ayyubi, then take it." He placed it at the girl's feet and said, "I am not a soldier and commander of Ayyubid from now on, but there is one more condition." Do you want? Fakhr asked. The girl looked at her men. They all looked at each other. Finally, Christopher said, "If one Salahuddin Ayyubi does not live, what difference will it make? Another one will become a sultan. He will also be a slave to the Egyptians." You must do one thing, go to Naji, the leader of the Sidanis, and put this girl in front of him and tell him what Sultan Salahuddin Ayyubi really is and what his intentions are. These people did not know that Naji has contact with the Crusaders and Minah will also talk to her but they don't know that Naji and his confidants have been secretly killed so far the girl has to go and it is not possible for her to go alone. They found Fakhr al-Masri, so it was decided to use him. Since these people had come into the sight of Sultan Ayyubi, they wanted to stay in his sight. Besides, they had heard from Mobi that their espionage department And Rabin, the leader of the sabotage, is in the same camp and will escape, so they wanted to be there to help him. They did not know their intentions. The arrow shot at Salahuddin Ayyubi missed, so he took him in front of Sultan Ayyubi. His disguise and drama were successful, but his mission was destroyed, so now he was trying to take advantage of the changed situation and circumstances. He was advised to take the girl and leave. They gave him one of their camels, gave him a bottle of water and put a lot of food in the bag, some of which included hashish. Mobi was aware of them. Fakhar was dressed in a long robe and a dastar with merchants. The girl rode on a camel. Fakhar rode behind her and the camel moved. Fakhar was unaware of his surroundings and his past. Unaware, he was only overcome by the feeling that he was in possession of the most beautiful girl on the face of the earth, who had fallen in love with the Sultan. Mobi said, "You will not be savages like the Christian commanders and your sultan. I am your property. Do what you will, but I will still hate you. Say, 'I will get off the camel.'" Just tell me whether you want me from your heart or have taken refuge in me under duress. You could have taken refuge in these merchants too, he replied, but I like you so much that I decided to leave even religion for your sake. He got on Fakhr's nerves by speaking passionately and the night passed.
نہ تمہیں ان تاجروں کی بھی لے سکتی تھی وہ بھی نے جواب دیا لیکن تم مجھے اتنے اچھے لگے کہ تمہاری خاطر مذہب تک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اس نے جذباتی باتیں کر کے فخر کے اعصاب پر قبضہ کر لیا اور رات گزرتی چلی گئی سفر کم و بیش پانچ دنوں کا تھا لیکن فخر المیصری ام راستوں سے ہٹ کر جا رہا تھا کیونکہ وہ بکوڑا فوجی تھا موبی کو نیند انے لگی اس نے سر پیچھے فخر کے سینے پر رکھ دیا اور گہری نیند سو گئی اونٹ چلتا رہا فخر جاگتا رہا صلاح الدین ایوبی صبح کی نماز پڑھ کے فارغ ہوئے ہی تھے کہ دربان نے اطلاع دی کہ علی بن سفیان ایا ہے سلطان دوڑ کر باہر نکلے ان کے منہ سے علی بن سفیان کے سلام کے جواب سے پہلے یہ الفاظ نکلے ادھر کی کیا خبر ہے ابھی تک خیریت ہے علی بن سفیان نے جواب دیا مگر سوڈانی لشکر میں بے اطمنانی پڑتی جا رہی ہے میں نے اس لشکر میں اپنے جو مخبر چھوڑے تھے ان کی اطلاع سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے کسی ایک بھی کماندار نے قیادت سنبھال لی تو بغاوت ہو جائے گی صلاح الدین ایوبی اسے اپنے خیمے میں لے گئے علی بن سفیان کہہ رہا تھا ناجی اور اس کے سرکردہ سالاروں کو تو ہم نے ختم کر دیا ہے لیکن وہ مصری فوج کے خلاف سوڈانیوں میں نفرت کا جو زہر پھیلا گئے تھے اس کا اثر ذرا بھر کم نہیں ہوا ان کی بی اطمینانی کی دوسری وجہ ان کے سالاروں کی گمشدگی ہے میں نے اپنے مخبروں کی زبانی یہ خبر مشہور کرا دی ہے کہ ان کے سالار بہرہ روم کے محاذ پر گئے ہوئے ہیں مگر امیر محترم مجھے شک ہوتا ہے کہ سوڈانیوں میں شکوک اور شبہات پائے جاتے ہیں جیسے انہیں علم ہو گیا ہے کہ ان کے سالاروں کو قید کر لیا گیا ہے اور مار بھی دیا گیا ہے اگر بغاوت ہو گئی تو مصر میں ہمارے جو دستے ہیں وہ اسے دبا دیں گے صلاح الدین ایوبی نے پوچھا کیا وہ 50 ہزار تجربہ کار فوج کا مقابلہ کر سکیں گے مجھے شک ہے مجھے یقین ہے کہ ہماری قلیل فوج چھڑانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی علی بن سفیان نے کہا میں اس کا بندوبست کر ایا ہوں میں نے عالی مقام نور الدین زنگی کی طرف دو تیز رفتار قاصد بھیج دیے ہیں میں نے پیغام بھیجا ہے کہ مصر میں بغاوت کی فضا پیدا ہو رہی ہے اور ہم نے جو فوج تیار کی ہے وہ تھوڑی ہے اور اس میں سے ادھی فوج محاز پر ہے متوقع بغاوت کو دبانے کے لیے ہمیں کمک پیشی جائے مجھے ادھر سے کمک کی امید کم ہے سلطان ایوبی نے کہا پرسوں ایک قاصد یہ خبر لایا کہ زنگی نے فرینکوں پر حملہ کر دیا تھا یہ حملہ انہوں نے ہماری مدد کے لیے کیا تھا فرینکیوں کے عمرہ اور فوجی قائدین بحر روم میں صلیبیوں کے اتحادی بیڑے میں تھے اور فرینکیوں کی کچھ فوج مصر میں داخل ہو کر عقب سے حملہ کرنے اور ہمارے سوڈانی لشکر کی پشت پناہی کے لیے مصر کی سرحد پر اگئی تھی محترم زنگی نے ان کے ملک پر حملہ کر کے ان کے سارے منصوبے کو ایک ہی وار میں برباد کر دیا ہے اور شاہ فرینک کے بہت سے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے انہوں نے صلیبیوں سے کچھ رقم بھی وصول کی ہے صلاح الدین ایوبی خیمے کے اندر ٹہلنے لگے جذباتی لہجے میں بولے سلطان زنگی کے قاصد کی زبانی وہاں کے کچھ ایسے حالات معلوم ہوئے جنہوں نے مجھے پریشان کر رکھا ہے کہ اپ صلیبی ادھر یلغار کریں گے علی بن سفیان نے پوچھا مجھے صلیبیوں کی یلغار کی ذرا بھر بھی پرواہ نہیں ہے سلطان ایوبی نے جواب دیا پریشانی یہ ہے کہ کفار کی یلغار کو روکنے والے شراب کے مشکوں میں ڈوب گئے ہیں اسلام کے قلے کے پاسبان حرم میں قید ہو گئے ہیں عورت کی زلفوں نے انہیں پابند زنجیر کر دیا ہے علی چچا اسد الدین شیر کو کو اسلام کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی کاش وہ اج زندہ ہوتے میدان جنگ میں مجھے وہی لائے تھے ہم نے بڑے مشکل وقت دیکھے ہیں علی میں نے شیر کو کی فوج کے ہراول دستے کی کمان کی ہے میں ان کے ساتھ صلیبیوں کے محاصرے میں تین مہینے رہا ہوں مجھے شیر کو ہمیشہ سبق دیا کرتے تھے کہ گھبراہٹ اور خوف سے بچنا تائید ایزدی اور رضائے الہی کا قائل رہنا اور اسلام کا علم بلند رکھنا میرے شیر کوہ کی کمان میں مصریوں اور صلیبیوں کی مشترک فوج کے خلاف بھی لڑا ہوں سکندریہ میں محاصرے میں رہا ہوں شکست میرے سر پر اگئی تھی میرے مٹھی بھر عسکری بددل ہوتے جا رہے تھے میں نے کس طرح ان کے حوصلے اور جذبے تر و تازہ رکھے یہ میرا خدا ہی بہتر جانتا ہے تان کے چچا شیراکو نے حملہ اور ہو کر محاصرہ توڑا تم یہ کہانی اچھی طرح جانتے ہو ایمان فروشوں نے کفار کے ساتھ مل کر ہمارے لیے کیسے کیسے طوفان کھڑے کیے مگر میں گھبرایا نہیں دل نہیں چھوڑا مجھے سب کچھ یاد ہے سلطان علی بن سفیان نے کہا اس قدر معرکہ ارائیوں اور قتل و غارت کے بعد توقع تھی کہ مصری راہ راست پر ا جائیں گے مگر ایک غدار مرتا ہے تو ایک اور اس کی جگہ لے لیتا ہے میرا مشاہدہ یہ ہے کہ غدار کمزور خلافت کی پیداوار ہوتے ہیں اگر فاطمی خلافت حرم میں گمنا ہوتی تو اج اپ صلیبیوں سے یورپ میں لڑ رہے ہوتے مگر ہمارے غدار بھائی انہیں سلطنت اسلامیہ سے باہر نہیں جانے دے رہے جب بادشاہ عیش و عشرت میں پڑ جائیں تو رعایہ میں بھی کچھ لوگ بادشاہی کے خواب دیکھنے لگتے ہیں وہ کفار سے طاقت اور مدد
ENGLISH
She also replied, "I could not take you for those merchants, but I like you so much that I decided to give up religion for your sake." And it was more than five days, but Fakhr al-Maisri was going out of the way because he was a bad soldier. Mobi started to sleep. He put his head back on Fakhar's chest and fell into a deep sleep. The camel kept walking. Fakhar was awake. Ayyubi had just finished the morning prayer when the porter reported that Ali bin Sufyan is the Sultan. He ran out and before Ali bin Sufyan answered the greeting, these words came out: What is the news here? Ali bin Sufyan replied, "But the Sudanese army is becoming restless. The information of the informants I left in this army shows that if any of their commanders take over the leadership, there will be a rebellion." Salah al-Din Ayyubi took him to his tent. Ali bin Sufyan was saying that Naji and his leaders have been eliminated, but the poison of hatred they had spread among the Sudanese against the Egyptian army had little effect. The second reason for their dissatisfaction is the disappearance of their chieftains. I have made this news known through my informants that their chieftain has gone to the Bahrah-Rum front, but dear Amir, I doubt that the Sudanese have doubts. And there are doubts as they have learned that their leaders have been captured and killed. If there is a rebellion, our forces in Egypt will suppress it. 50,000 veterans will be able to withstand the army. I doubt it. I am sure that our small army will not be able to withstand the Redemptions. Ali Bin Sufyan said: I have arranged it. Speedy messengers have been sent. I have sent a message that there is an atmosphere of rebellion in Egypt and that the army we have prepared is small and half of it is on the front lines. "I have little hope of reinforcements from here," said Sultan Ayubi, "the day before yesterday a messenger brought the news that Zangi had attacked the Franks. This attack was done to help us. I was and some army of the Franks had entered Egypt and marched to the border of Egypt to attack from the rear and support our Sudanese army. His Excellency Zangi invaded his country and thwarted all his plans at one blow. They have destroyed and occupied many territories of Shah Frank, they have also received some money from the Crusaders. Ali bin Sufyan asked, "I do not care at all about the invasion of the Crusaders." The guards of the fort of Islam have drowned. They have been imprisoned in the sanctuary. We have seen hard times, Ali. I have commanded the vanguard of the Lion's army. I have been with them for three months in the siege of the Crusaders. Be convinced of Yazidi and God's will and keep the knowledge of Islam high. I have fought against the combined army of Egyptians and Crusaders under the command of my lion. I have been under siege in Alexandria. Defeat was on my head. How did I keep their morale and spirits fresh? Only God knows best. Tan's uncle Shirako attacked and broke the siege. You know this story very well. How did you raise the storm, but I did not panic, I did not lose heart, I remember everything, said Sultan Ali bin Sufyan, after so many battles and killings, it was expected that the Egyptians would go to the right path, but when one traitor dies, another one dies. It takes its place. My observation is that the traitors are the product of a weak caliphate. If the Fatimid caliphate had been lost in the Haram, they would have been fighting the Crusaders in Europe, but our traitorous brothers are not letting them out of the Islamic Empire when the king If they fall into luxury, some people even among the subjects start dreaming of kingdom.
تو اج اپ صلیبیوں سے یورپ میں لڑ رہے ہوتے مگر ہمارے غدار بھائی انہیں سلطنت اسلامیہ سے باہر نہیں جانے دے رہے جب بادشاہ عیش و عشرت میں پڑ جائیں تو رعایہ میں بھی کچھ لوگ بادشاہی کے خواب دیکھنے لگتے ہیں وہ کفار سے طاقت اور مدد حاصل کرتے ہیں ایمان فروشی میں وہ اس قدر اندھے ہو جاتے ہیں کہ کفار کے عزائم اور اپنی بیٹیوں کی عصمتیں تک بلا دیتے مجھے انہی لوگوں سے ڈراتا ہے صلاح الدین ایوبی نے کہا اللہ نہ کرے اسلام کا نام جب بھی ڈوبا مسلمانوں کے ہاتھوں ڈوبے گا ہماری تاریخ غداروں کی تاریخ بنتی جا رہی ہے یہ رجھان بتا رہا ہے کہ ایک روز مسلمان جو برائے نام مسلمان ہوں گے اپنی سرزمین کفار کے حوالے کر دیں گے اگر اسلام کہیں زندہ رہا تو وہاں مسجدیں کم اور قہبہ خانے زیادہ ہوں گے ہماری بیٹیاں صلیبیوں کی طرح بال کھلے چھوڑ کر بے حیا ہو جائیں گی کفار انہیں اسی راستے پر ڈال رہے ہیں بلکہ ڈال چکے ہیں اب مصر سے پھر وہی طوفان اٹھ رہا ہے علی تم اپنے محکمے کو اور مضبوط اور وسیع کرو میں نے اپنے رفیقوں سے کہہ دیا ہے کہ دشمن کے علاقوں میں جا کر شب خون مارنے اور خبریں لانے کے لیے تن و مند اور ذہین جوانوں کا انتخاب کرو صلیبی اس محاذ کو مضبوط اور پراثر بنا رہے ہیں تم فوری طور پر جاسوسی جنگ کی تیاری کرو فوری طور پر کرنے والا کام یہ ہے کہ سمندر سے کئی ایک صلیبی بچ کر نکلے ہیں ان میں زیادہ تر زخمی ہیں اور جو زخمی نہیں ہیں وہ کئی کئی دن سمندر میں ڈوبنے اور تیرنے کی وجہ سے زخمیوں سے بھی بدتر ہیں ان سب کا علاج معالجہ ہو رہا ہے میں نے سب کو دیکھا ہے تم بھی انہیں دیکھ لو اور اپنی ضرورت کے مطابق ان سے معلومات حاصل کرو سلطان ایوبی نے دربان کو بلا کر ناشتے کے لیے کہا اور علی بن سفیان سے کہا کل کچھ زخمی اور کچھ اچھی بھلی لڑکیاں میرے سامنے لائی گئی تھیں چھ تو سمندر سے نکلے ہوئے قیدی ہیں ان میں ایک پر مجھے شک ہے کہ وہ سپاہی نہیں ہے اور رتبے اور عہدے والا ادمی ہے سب سے پہلے اسے پانچ تاجر سات عیسائی لڑکیوں کے ساتھ لائے تھے انہوں نے علی بن سفیان کو لڑکیوں کے متعلق وحی کچھ بتایا جو تاجروں نے بتایا تھا سلطان ایوبی نے کہا میں نے لڑکیوں کو دراصل حراست میں لیا ہے لیکن انہیں بتایا کہ میں انہیں پناہ میں لے رہا ہوں لڑکیوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ غریب گھرانوں کی لڑکیاں اور پھر ان کا یہ بیان کہ انہیں ایک جلتے ہوئے جہاز میں سے کشتی میں بٹھا کر سمندر میں اتارا گیا اور کشتی انہیں ساحل پر لے ائی مجھے شکوک میں ڈال رہا ہے میں نے انہیں الگ خیمے مرکب اور سنتری کھڑا کر دیا ہے تم ناشتے کے فورا بعد اس قیدی اور ان لڑکیوں کو دیکھو اخر میں صلاح الدین ایوبی نے مسکرا کر کہا کل دن کے وقت ساحل پر ٹہلتے ہوئے مجھ پر ایک تیر چلایا گیا ہے جو میرے پاؤں کے درمیان ریت میں لگا انہوں نے تیر علی بن سفیان کو دیکھ کر کہا علاقہ چٹانی تھا محافظ تلاش اور تعقب کے لیے بہت توڑے مگر انہیں کوئی تیر انداز نظر نہیں ایا اس علاقے سے انہیں یہ پانچ تاجر ملے جنہیں محافظ میرے پاس لے ائے انہوں نے یہ سات لڑکیاں بھی میرے حوالے کی اور چلے گئے وہ چلے گئے علی بن سفیان نے حیرت سے کہا اپ نے انہیں جانے کی اجازت دے دی معاوضو نے ان کی سامان کی تلاشی لی تھی سلطان ایوبی نے کہا ان سے کوئی ایسی چیز برامد نہیں ہوئی جس سے ان پر شک ہوتا علی بن سفیان تیر کو غور سے دیکھتا رہا اور بولا سلطان اور سراغ رساں کی نظر میں بڑا فرق ہوتا ہے میں سب سے پہلے ان تاجروں کو پکڑنے کی کوشش کروں گا علی بن سفیان صلاح الدین ایوبی کے خیمے سے باہر نکلا تو دربان نے اسے کہا کہ کماندار اطلاع لایا ہے کہ کل ساتھ عیسائی لڑکیاں قید میں ائی تھیں ان میں سے ایک لاپتا ہے کیا سلطان کو یہ اطلاع دینا ضروری ہے کہ کوئی اہم واقعہ تو نہیں کہ سلطان کو پریشان کیا جائے علی بن سفیان گہری سوچ میں پڑ گیا کماندار جو اطلاع دینے ایا تھا اس نے علی بن سفیان کے قریب ا کر اہستہ سے کہا ایک عیسائی لڑکی کا لاپتا ہو جانا تو اتنا اہم واقعہ نہیں مگر اہم یہ ہے کہ فخر المصری نام کا کماندار بھی رات سے لاپتا ہے رات کے سندریوں نے بتایا کہ وہ لڑکیوں کے خیمے تک گیا تھا وہاں سے زخمیوں کے خیموں کی طرف گیا اور پھر کہیں نظر نہیں ایا رات کو گشت پر نکلا تھا علی بن سفیان نے ذرا سوچ کر کہا یہ اطلاع سلطان تک ابھی نہ جائے رات کے اس وقت کے تمام سنتریوں کو اکٹھا کرو جب فخر گشت پر نکلا تھا اس نے سلطان ایوبی کے محافظ دستے کے کماندار سے کہا کہ کل سلطان کے ساتھ جو محافظ ساحل تک گئے تھے انہیں لاؤ وہ وہیں تھے چاروں سامنے اگئے تو علی بن سفیان نے انہیں کہا کل جہاں تم نے تاجروں اور لڑکیوں کو دیکھا تھا وہاں فارن پہنچو اگر وہ تاجر ابھی تک وہیں ہیں تو انہیں حراست میں لے لو اور وہیں میرا انتظار کرو اور اگر جا چکے ہوں تو فورا واپس لاؤ محافظ روانہ ہو گئے تو علی بن سفیان لڑکیوں کے خیمے تک گئے چھ لڑکیاں باہر بیٹھی تھیں اور سنتری کھڑا تھا علی نے لڑکیوں کو اپنے سامنے کھڑا کر کے عربی زبان میں پوچھا ساتویں لڑکی کہاں ہے لڑکیوں نے ایک دوسرے کی منہ کی طرف دیکھا اور سر ہلایا علی بن سفیان نے کہا تم سب ہماری زبان سمجھتی ہو لڑکیاں اسے حیران سا ہو کر دیکھتی رہی علی ان کے چہروں اور ٹیل ڈول سے شک میں پڑ گیا تھا وہ لڑکیوں کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور عربی زبان میں کہا
ENGLISH
So, they were fighting the crusaders in Europe, but our traitorous brothers are not letting them go out of the Islamic kingdom. They are so blinded by the preaching of faith that they even call out the ambitions of the infidels and the sins of their daughters. I am afraid of these people. History is becoming the history of traitors. This trend is telling that one day Muslims who are nominal Muslims will hand over their land to infidels. If Islam survives somewhere, there will be fewer mosques and more tombs. Our daughters are the crusaders. Just like leaving their hair open, they will become indecent. The infidels are putting them on the same path. They have already put them on the same path. Now the same storm is rising again from Egypt. Choose fit and intelligent young men to go into the enemy's territory to kill blood at night and bring news. Crusaders are making this front strong and influential. That many crusaders have escaped from the sea, most of them are injured and those who are not injured are worse than the injured due to drowning and swimming in the sea for many days, they are all being treated. Sultan Ayyubi called the porter and asked him for breakfast and said to Ali bin Sufyan, "Yesterday some wounded and some good girls were brought before me. One of them, I suspect, is not a soldier but a person of rank and position. First, he was brought by five merchants with seven Christian girls. They told Ali bin Sufyan something about the girls. The traders had told that Sultan Ayyubi said that I have actually detained the girls but told them that I am sheltering them. They were put in a boat from the ship and put into the sea and the boat brought them to the shore. Salah al-Din Ayyubi smiled and said yesterday while strolling on the beach an arrow was shot at me which stuck in the sand between my feet. He saw the arrow Ali bin Sufyan and said the area was rocky, too much for the guard to search and pursue. But they didn't see any archers from this area, they found these five traders who were brought to me by the guards, they also handed over these seven girls to me and left. Sultan Ayyubi said that they did not find anything that would make them suspicious. I will try to capture these merchants first. When Ali bin Sufyan came out of Salah al-Din Ayyubi's tent, the porter told him that the commander had brought word that the Christian girls who had been taken prisoner yesterday were missing one of them. Is it necessary to inform the Sultan that there is no important event to disturb the Sultan? Ali Bin Sufyan fell into deep thought. Disappearance is not such an important event, but the important thing is that the commander named Fakhr al-Masri also goes missing at night. Ali bin Sufyan was out on a patrol at night and thought for a moment and said, "Don't let this information reach the Sultan yet. Gather all the guards at that time of night. When Fakhr went on a patrol, he said to the commander of Sultan Ayyubi's guard that tomorrow Bring the guards who had gone with the Sultan to the coast. They were there. When the four came forward, Ali ibn Sufyan said to them, "Tomorrow, reach the place where you saw the merchants and the girls. If the merchants are still there, take them into custody." And wait for me there, and if they have gone, bring them back immediately. The guards left, Ali bin Sufyan went to the girls' tent, six girls were sitting outside and the orange was standing. Where is the girl? The girls looked at each other's faces and shook their heads. Ali bin Sufyan said, "You all understand our language." He stood back and said in Arabic
اور عربی زبان میں کہا ان لڑکیوں کے کپڑے اتار کر ننگا کر دو اور 12 وحشی قسم کے سپاہی بلاؤ تمام لڑکیاں بدک کر پیچھے کو مڑی دو تین نے بیک وقت بولنا شروع کر دیا وہ عربی زبان بول رہی تھی لڑکیوں کے ساتھ تم ایسا سلوک نہیں کر سکتے ایک نے کہا ہم تمہارے خلاف نہیں لڑیں علی بن سفیان کی ہنسی نکل گئی اس نے کہا میں تمہارے ساتھ بہت اچھا سلوک کروں گا تم نے جس طرح ایک ہی دھمکی سے عربی بولنی شروع کر دی ہے اب بغیر کسی دھمکی کے یہ بتا دو کہ ساتویں لڑکی کہاں ہے سب نے لاعلمی کا اظہار کیا علی نے کہا میں اس سوال کا جواب لے کر رہوں گا تم نے سلطان پر ظاہر کیا ہے کہ تم ہماری زبان نہیں جانتی اب تم ہماری زبان ہماری طرح بول رہی ہو کیا میں تمہیں چھوڑ دوں گا اس نے سنتری سے کہا انہیں خیمے کے اندر بٹھا دو رات کی سندری اگئے تھے فخر المصری کی گشت کے وقت کے سنتریوں سے علی بن سفیان نے پوچھ گش کی اخر لڑکیوں کے خیمے والے سندری نے بتایا کہ فخر رات اسے یہاں کھڑا کر کے زخمیوں کے خیموں کی طرف گیا تھا تھوڑی دیر بعد اسے اس کی اواز سنائی دی کون ہو تم نیچے ا جاؤ سنتری نے ادھر دیکھا تو اندھیرے میں اسے کچھ بھی نظر نہ ایا سامنے مٹی کے ٹیلے پر اسے ایک ادمی کا سایہ سا نظر ایا اور وہ سایہ وہیں غائب ہو گیا علی بن سفیان فارن وہاں گیا یہ ٹیلا ساحل کے قریب تھا اس کی مٹی ریت لی تھی ایک جگہ سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہاں کوئی اوپر گیا ہے وہاں زمین پر دو قسم کے پاؤں کے نشان تھے ایک نشان تو مرد کا تھا جس نے فوجیوں والا جوتا پہن رکھا تھا دوسرا نشان چھوٹے جوتے کا تھا اور زنانہ لگتا تھا زمین کچی اور ریتلی تھی زنانہ نشان جدھر سے ایا تھا علی بن سفیان ادھر کو چل پڑا یہ نشان اسے خیمے تک لے گئے جہاں موبی روبن سے ملی تھی اس نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور اندر چلا گیا اس کی چہرہ شناس نگاہوں نے زخمی قیدیوں کو دیکھا سب کے چہرے بانپے رابن بیٹھا ہوا تھا اس نے علی بن سفیان کو دیکھا اور فورا ہی کراہنے لگا جیسے اسے درد کا اچانک دورہ پڑا ہو علی نے اسے کندھے سے پکڑ کر اٹھا لیا اور خیمے سے باہر لے گیا اس سے پوچھا رات کو ایک قیدی لڑکی اس خیمے میں ائی تھی کیوں ائی تھی روبن اسے ایسی نظروں سے دیکھنے لگا جن میں حیرت تھی اور ایسا تاثر بھی جیسے وہ کچھ سمجھا ہی نہ ہو علی بن سفیان نے اسے اہستہ سے کہا کیا تم میری زبان سمجھتے ہو دوست میں تمہاری زبان سمجھتا ہوں بول سکتا ہوں لیکن تمہیں میری زبان میں جواب دینا ہوگا روبن اس کا منہ دیکھتا رہا علی نے سندری سے کہا اسے خیمے سے باہر رکھو علی بن سفیان خیمے کے اندر چلا گیا اور قیدیوں سے ان کی زبان میں پوچھا رات کو لڑکی اس خیمے میں کتنی دیر رہی تھی اپنے اپ کو اذیت میں نہ ڈالو سب چپ رہے مگر ایک اور دھمکی سے ایک زخمی نے بتا دیا کہ لڑکی خیمے میں ائی تھی اور رابن کے پاس بیٹھی یا لیٹ رہی تھی یہ زخمی سمندر میں جلتے جہاز میں سے کوتا تھا اس نے اگ کا بھی اور پانی کا بھی قہر دیکھا تھا وہ اتنا زخمی نہیں تھا جتنا خوفزدہ تھا وہ کسی اور مصیبت میں پڑنے کے لیے تیار نہیں تھا اس نے بتایا کہ اسے یہ معلوم نہیں کہ رابن اور لڑکی کے درمیان کیا باتیں ہوئیں اور لڑکی کون تھی اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ رابن کا عہدہ کیا ہے وہ اس کے صرف نام سے واقف تھا اس نے یہ بھی بتا دیا کہ رابن اس کیمپ میں انے تک بالکل تندرست تھا یہاں ا کر وہ اس طرح کے رہنے لگا جیسے اسے اچانک کسی بیماری کا دورہ پڑ گیا علی بن سفیان ایک محافظ کی رہنمائی میں ان پانچ ادمیوں کو دیکھنے چلا گیا جو تاجروں کے بہروپ میں کچھ دور خیمہ زن تھے محافظوں نے انہیں الگ بٹھا رکھا تھا علی کو انہوں نے پہلے یہ اطلاع دی کہ ان کے پاس کل دو اونٹ تھے مگر اج ایک ہی ہے 
ENGLISH
And he said in Arabic language, take off these girls' clothes and strip them naked and call 12 barbaric soldiers. All the girls turned around and started speaking simultaneously. One of them said, "We did not fight against you." Ali bin Sufyan laughed and said, "I will treat you very well." Where is the seventh girl? Everyone expressed ignorance. Ali said, I will answer this question. You have shown the Sultan that you do not know our language. He told the sentry to sit inside the tent and two night sentries had come. Ali bin Sufyan questioned the sentries during Fakhr al-Masri's patrol. After a while he heard his voice. Who are you? Come down. Santri looked around and saw nothing in the darkness. He saw the shadow of a man on the mound in front of him and that shadow. Ali bin Sufyan Farn disappeared there. He went there. This mound was near the coast. Its soil was sand. It was clear from one place that someone had gone up there. There were two types of footprints on the ground. One mark was a man. It belonged to the one who was wearing a soldier's shoe. He lifted the curtain of the tent and went inside. His familiar eyes saw the wounded prisoners. Robin was sitting with his face turned. He saw Ali bin Sufyan and immediately started moaning as if he had a sudden attack of pain. Ali. took him by the shoulder and led him out of the tent. He asked him why a captive girl had come to the tent at night. Ruben looked at her with a look of wonder and an expression as if he understood something. No, Ali bin Sufyan said to him quietly, "Do you understand my language, friend? I understand your language. I can speak, but you have to answer in my language." Ruben kept looking at his face. Bin Sufyan went inside the tent and asked the prisoners in their language how long the girl had been in that tent at night. And she was sitting or lying by Robin's side. This wounded man was crawling out of a burning ship in the sea. He had seen the fury of fire and water. He was not so much injured as he was scared. He said that he did not know what had happened between Robin and the girl and who the girl was. He did not even know what Robin's position was. He was completely healthy in this camp until he came here as if he suddenly had an attack of some disease. 

No comments:

Post a Comment