https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Wednesday, 22 November 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 12

 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 12





رحمان مہیا کر دو تو وہ اپنے دین اور ایمان سے دستبردار ہو جاتے ہیں تم مسلمانوں کا ایمان اسانی سے خرید سکتے ہو اس نے عرب کے کئی عمرہ اور وزراء کی مثالیں دیں جنہیں صلیبیوں نے عورت شراب اور دولت سے خرید لیا تھا اور انہیں اپنا درپردہ دوست بنا لیا تھا کچھ دیر مسلمانوں کی کمزوریوں کا متعلق باتیں ہوئی پھر لڑکیوں کو ازاد ہوا اخر یہ طے پایا کہ 20 نہایت دلیر ادمی اس کام کے لیے روانہ کیے جائیں اور وہ اگلی شام تک روانہ ہو جائیں اسی وقت چار پانچ کمانڈروں کو بلایا گیا انہیں اصل مقصد اور مہم بتا کر کہا گیا کہ 20 ادمی منتخب کریں کمانڈروں نے تھوڑی دیر اس مہم کے خطروں کے متعلق بحث مباحثہ کیا ایک کمانڈر نے کہا ہم پہلے ہی ایسی ایک فورس تیار کر رہے ہیں جو مسلمانوں کے کیمپوں پر شب خون مارا کرے گی اور ان کے متحرک فوج پر بھی رات کو حملے کر کے پریشان کرتی رہے گی اس فورس کے لیے ہم نے چند ایک ادمی منتخب کیے ہیں لیکن یہ ادمی سو فیصد قابل اعتماد ہونے چاہیے اگستس نے کہا وہ ہماری تمہاری نظروں سے اوجل ہو کر یہ کام کریں گے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہ کریں اور واپس ا کر کہیں کہ وہ بہت کچھ کر کے ائے ہیں اپ یہ سن کر حیران ہوں گے ایک کمانڈر نے کہا کہ ہماری فوج میں ایسے سپاہی بھی ہیں جنہیں ہم نے جیل خانوں سے حاصل کیا ہے یہ ڈاکو چور اور راہزن تھے انہیں بڑی بڑی لمبی سزائیں دی گئی تھیں انہیں جیل خانوں میں مرنا ہی تھا ہم نے ان سے بات کی تو وہ جوش و خروش میں فوج میں اگئے اپ کو شاید یہ معلوم کر کے بھی حیرت ہو کہ ناکام حملے میں ان سزا یافتہ مجرموں نے بڑی بہادری سے کئی جہاز بچائے ہیں میں لڑکیوں کو مسلمانوں سے ازاد کرنے کی مہم میں ایسے تین ادمی بھیجوں گا مرخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں عیش و عشرت کا رجحان بڑھ گیا اور اتحاد ختم ہو رہا تھا عیسائیوں نے مسلمانوں کو اخلاقی تباہی تک پہنچانے میں ذہنی عیاشی کا ہر سامان مہیا کیا اب انہیں یہ توقع تھی کہ مسلمانوں کو ایک ہی حملے میں ختم کر دیں گے چنانچہ ان کے خلاف عیسائی دنیا میں نفرت کی طوفانی مہم چلائی گئی اور ہر کسی کو اسلام کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی اس کے جواب میں معاشرے کے ہر شعبے کے لوگ صلیبی لشکر میں شامل ہونے لگے ان میں پادری بھی شامل ہوئے اور ادھی مجرم بھی گناہوں سے توبہ کر کے مسلمانوں کے خلاف مصلح ہو گئے بعض ملکوں کے جیل خانوں میں جو مجرم لمبی قید کی سزائیں بھگت رہے تھے وہ بھی فوج میں بھرتی ہو گئے ان مجرموں کے متعلق عیسائیوں کا تجربہ غالبا اچھا تھا جس کے پیش نظر ایک کمانڈر نے لڑکیوں کو ازاد کرانے اور صلاح الدین کو قتل کرنے کے لیے قیدی مجرموں کا انتخاب کیا تھا صبح تک 20 انتہائی دلیر اور ذہین ادمی چن لیے گئے ان میں میگنہ نامی ریوز بھی تھا جسے روم کے جیل خانے سے لایا گیا تھا اس جاسوس کو جو ڈاکٹر کے بہروپ میں سلطان ایوبی کے کیمپ میں رہا اور فرار ہو کر ایا تھا اس کمانڈو پارٹی کا کمانڈر اور گائیڈ مقرر کیا گیا اس پارٹی کو یہ مشن دیا گیا کہ لڑکیوں کو مسلمانوں کی فیض سے نکالنا ہے اگر رابن اور اس کے چار ساتھیوں کو بھی ازاد کرایا جا سکے تو کرا لینا ورنہ ان کے لیے کوئی خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں دوسرا مشن یہ تھا کہ صلاح الدین کو قتل کیا جائے اس پارٹی کو کوئی عملی ٹریننگ نہ دی گئی صرف زبانی ہدایات اور ضروری ہتھیار دے کر اسی روز ایک بادبانی کشتی میں ماہی گیروں کے بیس میں روانہ کر دیا گیا جس وقت یہ کشتی اٹلی کے ساحل سے روانہ ہوئی صلاح الدین ایوبی سوڈانیوں کے بغاوت کو مکمل طور پر دبا چکے تھے سوڈانیوں کے بہت سے کمانڈر مارے گئے یا زخمی ہو گئے تھے اور بہت سے سلطان ایوبی کے دفتر کے سامنے کھڑے تھے انہوں نے ہتھیار ڈال کر شکست اور سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کر لی تھی وہ سلطان کے حکم کے منتظر تھے سلطان اندر بیٹھے اپنے سالاروں وغیرہ کو احکام دے رہے تھے علی بن سفیان بھی وہیں موجود تھا اس فتح میں اس کا بہت عمل دخل تھا صلیبیوں کو شکست دینے میں بھی اس کے نظام جاسوسی نے بہت کام کیا تھا بلکہ یہ دونوں کامیابیاں جاسوسی کے نظام کی ہی کامیابیاں تھی سلطان ایوبی کو جیسے اچانک کچھ یاد اگیا ہو انہوں نے علی بن سفیان سے کہا علی ہمیں ان جاسوس لڑکیوں اور ان کے ساتھیوں کے متعلق سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا وہ ابھی تک ساحل پر قیدی کیمپ میں ان سب کو فارن یہاں لانے کا بندوبست کرو اور تہخانے میں ڈال دو میں ابھی پیغام دیتا ہوں علی بن سفیان نے کہا ان سب کو یہاں پہرے میں بلوا لیتا ہوں سلطان اپ شاید ساتویں لڑکی کو بھول گئے ہیں وہ سوڈانیوں کے کماندار بالیان کے پاس تھی اس لڑکی سے جاسوسیوں اور بغاوت کا انکشاف ہوا تھا میں دیکھ رہا ہوں کہ باسیان ان کمانداروں میں سے نہیں ہے جو باہر موجود ہیں اور وہ زخمیوں میں بھی نہیں ہے بلکہ مرے ہوئے بھی میں دیکھ چکا ہوں وہاں بھی وہ موجود نہیں مجھے شک ہے کہ ساتویں لڑکی جس کا نام فخر المصری نے موبی بتایا ہے بالیان کے ساتھ کہیں روپوش ہو گئی ہے اپنا شک رفع کرو علی سلطان ایوبی نے کہا یہاں مجھے اب تمہاری ضرورت نہیں بالیان لاپتا ہے تو بہرہ روم کی طرف نکل گیا ہوگا صلیبیوں کے سوا اسے کون پناہ دے سکتا ہے بہرحال ان جاسوسوں کو تہ خانوں میں ڈالو اور اپنے جاسوس فورا تیار کر کے سمندر پار بھیج دو
ENGLISH
Provide mercy and they give up their religion and faith. You can easily buy the faith of Muslims. We had made friends for a while and talked about the weaknesses of the Muslims, then the girls were freed. Finally, it was decided that 20 very brave men should be sent for this task and they should leave by the next evening. At the same time, four or five commanders were called. They were told the real purpose and the campaign and were asked to select 20 men. The commanders discussed for a while about the dangers of this campaign. We have selected a few men for this force, but these men must be 100% reliable, Augustus said, "They will disappear from our eyes and yours." They may do nothing and come back and say that they have done a lot. You will be surprised to hear that. These robbers were thieves and bandits, they were given long sentences, they had to die in prisons, we talked to them, they joined the army with enthusiasm, you may be surprised to know this. Although these convicted criminals have bravely saved many ships in the failed attack, I will send three such men in the campaign to free the girls from the Muslims. Christians had provided the Muslims with all the mental luxury to bring them to moral destruction. Now they expected to wipe out the Muslims in a single attack. was invited to participate in the war against Islam. In response to this, people from every sector of society started joining the Crusaders, including priests and even half-criminals who repented of their sins and became reformed against Muslims. Criminals who were serving long prison terms in the country's prisons also joined the army. The Christians' experience with these criminals was probably good, in view of which a commander decided to free the girls and kill Saladin. The prisoners were chosen. By morning, 20 of the bravest and most intelligent men had been chosen. Among them was Reeves, named Magna, who had been brought from the prison of Rome, a spy who had escaped in the camp of Sultan Ayubi in the guise of a doctor. Kariya was appointed as the commander and guide of this commando party. This party was given the mission to get the girls out of the hands of the Muslims. No need to take risks. The second mission was to kill Saladin. The party was given no practical training, only verbal instructions and the necessary weapons. By the time the boat left the coast of Italy, Salah al-Din Ayyubi had completely suppressed the Sudanese rebellion, many of the Sudanese commanders had been killed or wounded, and many were standing in front of Sultan Ayyubi's office. He had accepted the defeat and obeyed Sultan Ayyubi. He was waiting for the order of the Sultan. The Sultan was sitting inside giving orders to his chieftains etc. Ali bin Sufyan was also present there. His espionage system had worked a lot, but these two successes were the successes of the espionage system. As if Sultan Ayyubi had suddenly remembered something, he said to Ali bin Sufyan, Ali, it is time for us to think about these spy girls and their companions. He has not been found yet. Arrange to bring them all to the prison camp on the coast and put them in the dungeon. I am sending a message now. Forgotten she was with Balian, the commander of the Sudanese, from this girl spies and mutiny were revealed. I have been there and she is not there. I suspect that the seventh girl, whose name Fakhr al-Masri has told Mobi, is hiding somewhere with Balyan. Clear your doubt. Ali Sultan Ayyubi said, I don't need you here anymore. He must have gone to Rome. Who can shelter him but the Crusaders? Anyway, put these spies in the dungeons and immediately prepare your spies and send them across the sea.
سمندر پر بھیج دو زیادہ ضروری تو یہ ہے کہ اپنے جاسوس اپنے ہی ملک میں پھیلا دیے جائیں یہ مشورہ دینے والا سلطان نور الدین زنگی کی بھیجی ہوئی فوج کا سالار تھا اس نے کہا ہمیں صلیبیوں کی طرف سے اتنا خطرہ نہیں جتنا اپنے مسلمان عمرہ سے اپنے جاسوس ان کے ہارموں میں داخل کر دیے جائیں تو بہت سی سازشیں بے نقاب ہو جائیں گی اس نے تفصیل سے بتایا کہ یہ خود ساختہ حکمران کس طرح صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں سلطان زنگی رحمۃ اللہ علیہ اکثر پریشان رہتے ہیں کہ باہر کے حملوں کو روکیں یا اپنے گھر کو اپنے ہی چراغ سے جلنے سے بچائیں صلاح الدین ایوبی نے یہ رویدات غور سے سنی اور کہا اگر تم لوگ جن کے پاس ہتھیار ہیں دیانتدار اور اپنے مذہب سے مخلص رہے تو باہر حملے اور اندر کی سازشیں قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی تم اپنی نظر سرحدوں سے دور اگے لے جاؤ سلطنت اسلامیہ کی کوئی سرحد نہیں تم نے جس روز اپنے اپ کو اور خدا کے اس عظیم مذہب اسلام کو سرحدوں میں پابند کر لیا اس روز سے یوں سمجھو کہ تم اپنے ہی قید خانے میں قید ہو جاؤ گے پھر تمہاری سرحدیں سکڑنے لگیں گی اپنی نظریں بہرہ روم سے اگے لے جاؤ سمندر تمہارا راستہ نہیں روک سکتے گھر کے چراغوں سے نہ ڈرو یہ تو ایک پھونک سے گل ہو جائیں گے ان کی جگہ ہم ایمان کے چراغ روشن کریں گے ہمیں امید ہے کہ ہم ایمان فروشی کو روک لیں گے سلطان محترم سالار نے کہا ہم مایوس نہیں صرف دو لعنتوں سے بچو میرے عزیز رفیقو سلطان ایوبی نے کہا مایوسی اور ذہنی عیاشی انسان پہلے مایوس ہوتا ہے پھر ذہنی عیاشی کے ذریعے راہ فرار اختیار کرتا ہے اس دوران علی بن سفیان چاچو کا تھا اس نے فورا ایک قاصد بحر روم کی کیمپ کی طرف اس پیغام کے ساتھ روانہ کر دیا کہ رابن اس کے چار ساتھیوں اور لڑکیوں کو گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار کر کے 20 محافظوں کے پہرے میں دارالحکومت کو بیچ دو قاصد کو روانہ کر کے اس نے اپنے ساتھ چھ سات سپاہی لیے اور کماندار بالیان کی تلاش میں نکل گیا اس نے ان سوڈانی کمانداروں سے جو باہر بیٹھے تھے بالیان کے متعلق پوچھ لیا تھا سب نے کہا تھا کہ اسے لڑائی میں کہیں بھی نہیں دیکھا گیا تھا اور نہ ہی وہ اس فوج کے ساتھ گیا تھا جو بہرہ روم کی طرف سلطان کی فوج پر حملہ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی علی بن سفیان بالیان کے گھر گیا تو وہاں اس کی دو بوڑھی خاتمہوں کے سوا کوئی نہ تھا انہوں نے بتایا کہ بالیان کے گھر میں پانچ لڑکیاں تھیں ان میں جس کی عمر ذرا زیادہ ہو جاتی تھی اسے وہ غائب کر دیتا تھا اور اس کی جگہ جوان لڑکی لے اتا تھا ان خادماؤں نے بتایا کہ بغاوت سے پہلے اس کے پاس ایک فرنگی لڑکی ائی تھی جو غیر معمولی طور پر خوبصورت اور ہوشیار تھی والیان اس کا غلام ہو گیا تھا بغاوت کے ایک روز بعد جب سوڈانیوں نے ہتھیار ڈال دیے تو بالیان رات کے وقت گھوڑے پر سوار ہوا دوسرے گھوڑے پر اس فرنگی لڑکی کو سوار کیا اور معلوم نہیں دونوں کہاں روانہ ہو گئے ان کے ساتھ ساتھ گھوڑ سوار تھے حرم کی لڑکیوں کے متعلق بوڑھیوں نے بتایا کہ وہ گھر میں جو ہاتھ لگا اٹھا کر چلی گئی ہیں علی بن سفیان وہاں سے واپس ہوا تو ایک گھوڑا سرپٹ دوڑا ایا اور علی بن سفیان کے سامنے رکا اس پر فخر المصری سوار تھا کود کر گھوڑے سے اترا اور ہانپتی کامتی اواز میں بولا میں اپ کے پیچھے ایا ہوں میں بھی اسی بدبخت بالیان اور اس کافر لڑکی کو ڈھونڈ رہا تھا میں ان سے انتقام لوں گا جب تک ان دونوں کو اپنے ہاتھوں قتل نہیں کر لوں گا مجھے چین نہیں ائے گا میں جانتا ہوں وہ کدھر گئے ہیں میں نے ان کا پیچھا کیا ہے لیکن ان کے ساتھ ساتھ م*** محافظ ہیں میں اکیلا تھا وہ بحر روم کی طرف جا رہے ہیں مگر عام راستے سے ہٹ کر جا رہے ہیں اس نے علی بن سفیان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کہا خدا کے لیے مجھے صرف چار سپاہی دے دیں میں ان کے تعاقب میں جاؤں گا اور انہیں ختم کر کے اؤں گا علی بن سفیان نے اسے اس وعدے سے ٹھنڈا کیا کہ وہ اسے چار کی بجائے 20 سوار دے گا وہ ساحل سے اگے اتنی جلدی نہیں جا سکتے میرے ساتھ رہو علی بن سفیان مطمئن ہو گیا کہ یہ تو پتہ چل گیا ہے کہ وہ کس طرف گئے ہیں اس وقت بالیان اس صلیبی لڑکی کے ساتھ جس کا نام مووی تھا ساحل کی طرف جانے والے عام راستے سے ہٹ کر دور جا چکا تھا ان علاقوں سے وہ اچھی طرح واقف تھا اسے معلوم نہیں تھا کہ سوڈانی فوج اور اس کے کمانداروں کو صلاح الدین ایوبی نے معافی دے دی ہے ایک تو وہ سلطان کے عتاب سے بھاگ رہا تھا اور دوسرے یہ کہ وہ موبی جیسی حسین لڑکی کو نہیں چھوڑنا چاہتا تھا وہ سمجھتا تھا کہ دنیا کی حسین لڑکیاں صرف مصر اور سوڈان میں ہی ہیں مگر اٹلی کی اس لڑکی کے حسن اور دلکشی نے اسے اندھا کر دیا تھا اس کی خاطر وہ اپنا رتبہ اپنا مذہب اور اپنا ملک ہی چھوڑ رہا تھا لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ موبی اس سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی وہ جس مقصد کے لیے ائی تھی وہ ختم ہو چکا تھا گو مقصد تباہ ہو گیا تھا تاہم منہ بھی اپنا کام کر چکی تھی اس کے لیے اس نے اپنے جسم اور اپنی عزت کی قربانی دی تھی وہ ابھی تک اپنی عمر سے دگنی عمر کے ادمی کی عیاشی کا ذریعہ بنی ہوئی تھی مالیان اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ موبی اسے بری طرح چاہتی ہے مگر موبی
ENGLISH
Send them to the sea. It is more important to spread your spies in your own country. This advice was given by Sultan Nooruddin Zangi, the commander of the army sent. If his spies were let into their harems, many conspiracies would be exposed. He explained in detail how these self-styled rulers were playing into the hands of the Crusaders. Stop the attacks or save your house from burning with your own lamp. Salahuddin Ayyubi listened to these visions carefully and said if you people who have weapons remain honest and true to your religion, attacks from outside and conspiracies from inside will become part of the nation. You will not be able to distort it. Take your eyes away from the borders. The Islamic Empire has no borders. From the day you bound yourself and this great religion of God within the borders, consider it as if you are in your own prison. You will be imprisoned, then your borders will begin to shrink. Take your eyes beyond the sea. The sea cannot block your way. Do not be afraid of the lamps of the house. They will be destroyed with a single breath. We hope that we will stop the spread of faith. Sultan Salar said: "We are not disappointed. Just beware of two curses. My dear friend. Sultan Ayyubi said: Despair and mental debauchery. Man is disappointed first, then he escapes through mental debauchery." In the meantime Ali ibn Sufyan, who was his uncle, immediately sent a messenger to the Mediterranean camp with the message that Robin, four of his companions and the girls on horses or camels, would march to the capital under the guard of 20 guards. Dispatching two messengers, he took six or seven soldiers with him and went in search of the commander Balyan. He asked the Sudanese commanders who were sitting outside about Balyan. They all said that they had not seen him anywhere in the battle. had not gone nor did he go with the army which was sent to Bahrahrum to attack the Sultan's army. Ali bin Sufyan went to Balyan's house and there was no one there except his two old relatives, he said. That there were five girls in Balian's house, among them, the one who got a little older, he used to disappear and replace her with a young girl. Unusually beautiful and smart, Valian became his slave. One day after the rebellion, when the Sudanese surrendered, Balian rode on a horse at night, and on another horse, he mounted this Ferangi girl, and it is not known where they both went. There were horse riders along with them. About the girls of the harem, the old men said that they went to the house with their hands raised. When Ali bin Sufyan returned from there, a horse galloped and stopped in front of Ali bin Sufyan. But Fakhr al-Masri, who was riding, jumped down from his horse and said in a panting voice, “I have come after you. I'll do it China won't come I know where they've gone I've followed them but they've got f***ing guards with them I was alone They're going to the Mediterranean but off the beaten track As they were going, he placed his hand on Ali bin Sufyan's knees and said, "For God's sake, give me only four soldiers, I will go in pursuit of them and finish them off." Ali bin Sufyan calmed him down by promising that he He will give him 20 cavalry instead of four. They cannot go so fast from the coast. Stay with me. Ali bin Sufyan was satisfied that it was known where they had gone. Muwi had strayed away from the normal route to the coast, he was well acquainted with these areas, he did not know that the Sudanese army and its commanders had been pardoned by Salah al-Din Ayyubi. He was running away from and the other is that he did not want to leave a beautiful girl like Mobi. He thought that the most beautiful girls in the world are only in Egypt and Sudan, but the beauty and charm of this Italian girl blinded him. Because he was leaving his rank, his religion and his country, but he did not know that Mobi was trying to get rid of him. She had also done her job, she had sacrificed her body and her honor for it. She was still the object of pleasure for a man twice her age. Malian was under the impression that Mobi wanted her badly. Yes, but Moby
اپنی مووی اسے بری طرح چاہتی ہے مگر موبی اس سے نفرت کرتی تھی وہ چونکہ مجبور تھی اس لیے اکیلی بھاگ نہیں سکتی تھی وہ اس مقصد کے لیے بالیان کو ساتھ لیے ہوئے تھی کہ اسے اپنی حفاظت کی ضرورت تھی اسے بہرہ روم پار کرنا تھا یا رابن تک پہنچنا تھا اسے معلوم نہیں تھا کہ رابن اور اس کے ساتھی جو تاجروں کے بیس میں تھے پکڑے جا چکے ہیں اس مجبوری کے تحت وہ بالیان کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی تھی وہ کئی بار اسے کہہ چکی تھی کہ تیز چلو اور پڑاؤ کم کرو ورنہ پکڑے جائیں گے لیکن بالیان جہاں اچھی سایہ دار جگہ دیکھتا رک جاتا اس نے شراب کا ذخیرہ اپنے ساتھ رکھ لیا تھا ایک رات موبی نے ایک ترکیب سوچی اس نے بالیان کو اتنی زیادہ پلا دی کہ وہ بے سد ہو گیا ان کے ساتھ جو سات محافظ تھے وہ کچھ پرے سو گئے تھے مبی نے دیکھا تھا کہ ان میں ایک ایسا ہے جو جوان ہے اور سب پر چھایا رہتا ہے بالیان زیادہ تر اسی کے ساتھ ہر بات کیا کرتا تھا مبی نے اسے جگایا اور تھوڑی دور لے گئی اسے کہا تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کون ہوں کہاں سے ائی ہوں اور یہاں کیوں ائی تھی میں تم لوگوں کے لیے مدد لائی تھی تاکہ تم صلاح الدین ایوبی جیسے غیر ملکیوں سے ازاد ہو جاؤ مگر تمہارا یہ کماندار بالیان اس قدر عیاش ادمی ہے کہ اس نے شراب پی کر بدمست ہو کر میرے جسم کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا بجائے اس کے کہ وہ عقلمندی سے بغاوت کا منصوبہ بنا تھا اور فتح حاصل کرتا اس نے مجھے اپنے حرم کی ل**** بنا لیا اور اندھا دھند فوج کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایسی لاپرواہی سے حملہ کیا کہ ایک ہی رات میں تمہاری اتنی بڑی فوج ختم ہو گئی تمہاری شکست کا ذمہ دار یہ شخص ہے اب یہ میرے ساتھ صرف عیاشی کے لیے جا رہا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ میں اسے سمندر پار لے جاؤں اسے اپنی فوج میں رتبہ دلاؤں اور اس کے ساتھ شادی کر لوں مگر مجھے اس شخص سے نفرت ہے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر مجھے شادی ہی کرنی ہے اور اپنے ملک میں لے جا کر اسے فوج میں رتبہ ہی دلوانا ہے تو مجھے ایسے ادمی کا انتخاب کرنا چاہیے جو میرے دل کو اچھا لگے اور وہ ادمی تم ہو تم جوان ہو دلیر ہو عقلمند ہو میں نے جب سے تمہیں دیکھا ہے تمہیں چاہ رہی ہوں مجھے اس بوڑھے سے بچاؤ میں تمہاری ہوں سمندر پار چلو فوج کا رتبہ اور مال و دولت تمہارے قدموں میں ہوگا مگر اس ادمی کو یہیں ختم کرو وہ سویا ہوا ہے اسے قتل کر دو اور نکل چلیں یہاں سے اس نے محافظ کے گلے میں باہیں ڈال دی محافظ اس کے حسن میں گرفتار ہو گیا اس نے دیوانہ وار لڑکی کو اپنے بازوں میں جکڑ لیا وہ بھی اس جادوگری کی ماہر تھی وہ ذرا پرے ہٹ گئی محافظ اس کی طرف بڑھا تو عقب سے ایک برچھی اس کی پیٹھ میں اتر گئی اس کے منہ سے ہائے نکلی اور وہ پہلو کے بل لڑک گیا برچی اس کے پیٹھ سے نکلی اور اسے اواز سنائی دی نمک حرام کو زندہ رہنے کا حق نہیں لڑکی کی چیخ نکل گئی وہ اٹھی اور اتنا ہی کہنے پائی کہ تم نے اسے قتل کر دیا ہے کہ پیچھے سے ایک ہاتھ نے اس کے بازو کو جکڑ لیا اور جھٹکا دے کر اپنے ساتھ لے گیا اسے بالیان کے پاس پھینک کر کہا ہم اس شخص کے پالے ہوئے دوست ہیں ہماری زندگی اسی کے ساتھ ہے تم ہم میں سے کسی کو اس کے خلاف گمراہ نہیں کر سکتی جو گمراہ ہوا اس نے سزا پا لی والیان شراب کے نشے میں بے ہوش پڑا تھا تم لوگوں نے یہ بھی سوچا کہ تم کہاں جا رہے ہو مبین نے پوچھا سمندر میں ڈوبنے ایک نے جواب دیا تمہارے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے جہاں تک بالیان جائے گا ہم وہیں تک جائیں گے اور وہ دونوں جا کر لیٹ گئے دوسرے دن بالیان جاگا تو اسے رات کا واقعہ بتایا گیا موبی نے کہا کہ وہ مجھے جان کی دھمکی دے کر اپنے ساتھ لے گیا تھا والیان نے اپنی محافظوں کو شاباش دی مگر ان کی یہ بات سنی ان سنی کر دی کہ یہ لڑکی اسے گمراہ کر کے لے گئی تھی اور انہوں نے اس کی باتیں سنی تھی وہ موبی کے حسن اور شراب میں مدہوش ہو کر سب کچھ بھول گیا وہ بھی نے اسے ایک بار پھر کہا کہ تیز چلنا چاہیے مگر بالیان نے پرواہ نہ کی وہ اپنے اپ میں نہیں تھا وہ بھی اب ازاد نہیں ہو سکتی تھی اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ لوگ اپنے دوستوں کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے علی بن سفیان نے نہ جانے کیا سوچ کر ان کا تعاقب نہ کیا بغاوت کے بعد حالات کو معمول پر لانے کے لیے وہ سلطان ایوبی کے ساتھ بہت مصروف ہو گیا تھا ساحل کے کیمپ سے رابن اس کے چاروں ساتھیوں اور چھ لڑکیوں کو 15 محافظوں کی گارڈ میں قاہرہ کے لیے روانہ کر دیا گیا قاصد ان سے پہلے روانہ ہو چکا تھا قیدی اونٹوں پر تھے اور گارڈ گھوڑوں پر وہ معمول کی رفتار پر جا رہے تھے اور معمول کے مطابق پڑاؤ کر رہے تھے وہ بے خوف و خطر جا رہے تھے وہاں کسی دشمن کے حملے کا ڈر نہیں تھا قیدی نے ہتے تھے اور ان میں چھ لڑکیاں تھیں کسی کے بھاگنے کا بھی ڈر نہیں تھا مگر وہ یہ بول رہے تھے کہ یہ قیدی تربیت یافتہ جاسوس ہیں بلکہ یہ لڑاکا جاسوس تھے ان میں جو تاجروں کے بحث میں پکڑے ہوئے تھے وہ منجھے ہوئے تیر انداز اور تیزن تھے اور لڑکیاں محض لڑکیاں نہیں تھیں جنہیں وہ کمزور عورت سمجھ رہے تھے ان لڑکیوں کے جسمانی دلکشی یورپی رنگت کی جاذبیت جوانی اور ان کی بے حیائی ایسے ہتھیار تھے جو اچھے اچھے جابر حکمرانوں سے ہ
ENGLISH
She wanted him badly but Moby hated him because she was forced to and couldn't run away alone. She had to reach Robin, she did not know that Robin and his companions who were in the base of the traders had been caught. Under this compulsion, she was a toy in Balyan's hands. She had told him several times to go fast and stop short. Do it or you will be caught, but Balyan had kept a store of wine with him wherever he stopped looking for a good shady place. One night Mobi thought of a trick. There were seven guards, they had fallen asleep some distance away. Mabi noticed that among them there was one who was young and overshadowed. Balian used to talk mostly with him. Mabi woke him up and took him a little away. You know very well who I am, where I am from and why I am here. I brought help to you people so that you can be freed from foreigners like Salah al-Din Ayyubi, but this commander of yours, Balyan, is such a man of luxury that he got drunk and started playing with my body, instead of wisely planning a coup and winning, he made me the head of his harem and indiscriminately gave the army Divided into divisions and attacked with such carelessness that your large army was destroyed in a single night. This man is responsible for your defeat. I should take him to my army and marry him, but I hate this man. I should choose a person who pleases my heart and that person is you, you are young, brave, wise. Wealth and wealth will be at your feet, but finish this man here, he is sleeping, kill him and leave here. He put his arms around the guard's neck. He held her in his arms. She was also an expert in this sorcery. She moved away a little. The guard moved towards her. A javelin landed in her back from behind. A scream came out of her mouth and she fell on her side. The javelin hit her back. She came out and heard a voice. Namak Haram has no right to live. The girl screamed. She got up and could only say that you have killed her. A hand from behind grabbed her arm and shook her. Kar took it with him and threw it to Balyan and said, "We are this man's cherished friends. Our life is with him. You cannot mislead any of us against him. He who has gone astray has been punished with Valyan liquor." He was unconscious because of drunkenness. You people also thought where you were going. Mubeen asked. One who drowned in the sea replied that we have nothing to do with you. We will go as far as Baliyan goes. On the second day after lying down, Balian woke up and told him what had happened during the night. Mobi said that he had taken me with him by threatening to kill me. She had taken him astray and they had heard her words. He was intoxicated by Mobi's beauty and wine and forgot everything. No, she could not be free now. She had seen that these people did not hesitate to kill their friends. For he had become too busy with Sultan Ayubi. From the camp on the coast, Robin, his four companions and six girls, were sent to Cairo under a guard of 15 guards. The messenger had gone before them, the prisoners were on camels, and On the guard horses they were going at the usual speed and they were encamping as usual. There was no fear either, but they were saying that these prisoners were trained spies, but they were combat spies. Among them, those who were caught in the discussion of the merchants, they were skilled archers and sharpshooters, and the girls were not just girls, whom the weak woman. They understood that the physical attractiveness of these girls, the attractiveness of the European complexion, their youth and their promiscuity were weapons used by the oppressive rulers.
بے حیائی ایسے ہتھیار تھے جو اچھے اچھے جابر حکمرانوں سے ہتھیار ڈلوا لیتے تھے مسلمانوں کا کمانڈر مصری تھا اس نے دیکھا کہ ان چھ میں سے ایک لڑکی اس کی طرف دیکھتی رہتی ہے اور وہ جب اسے دیکھتا ہے تو لڑکی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ا جاتی ہے یہ مسکراہٹ اس مصری کو موم کر رہی تھی شام کے وقت انہوں نے پہلا پڑاؤ کیا تو سب کو کھانا دیا گیا اس لڑکی نے کھانا نہ کھایا کمانڈر کو بتایا گیا تو اس نے لڑکی کے ساتھ بات کی لڑکی اس کی زبان بولتی اور سمجھتی تھی لڑکی کے انسو نکل ائے اس نے کہا کہ وہ اس کے ساتھ علیحدگی میں بات کرنا چاہتی ہے رات کو جب سب سو گئے تو کمانڈر اٹھا اس نے لڑکی کو جگایا اور الگ لے گیا لڑکی نے اسے بتایا کہ وہ ایک مظلوم لڑکی ہے اور اسے فوجیوں نے ایک گھر سے اغوا کیا اور اپنے ساتھ رکھا پھر اسے جہاز میں اپنے ساتھ لائے جہاں وہ ایک افسر کی داشتہ بنی رہی دوسری لڑکیوں کے متعلق اس نے بتایا کہ ان کے ساتھ اس کی ملاقات جہاز میں ہوئی تھی انہیں بھی اغوا کر کے لایا گیا تھا اچانک جہازوں پر اگ برسنے لگی اور جہاز چلنے لگا ان لڑکیوں کو ایک کشتی میں بٹھا کر سمندر میں ڈال دیا گیا کشتی انہیں ساحل پر لے ائی جہاں انہیں جاسوس سمجھ کر قید میں ڈال دیا گیا یہ وہی کہانی تھی جو تاجروں کے بیس میں جاسوسوں نے ان لڑکیوں کے متعلق صلاح الدین ایوبی کو سنائی تھی مصری گارڈ کمانڈو کو معلوم نہیں تھا وہ یہ کہانی پہلی بار سن رہا تھا اسے تو حکم ملا تھا کہ یہ خطرناک جاسوس ہیں انہیں قاہرہ لے جا کر سلطان کے ایک خفیہ محکمے کے حوالے کرنا ہے اس حکم کے پیش نظر وہ ان لڑکیوں کی یا اس لڑکی کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا اس نے اس لڑکی کو اپنی مجبوری بتا دی اسے معلوم نہیں تھا کہ لڑکی کی ترکش میں ابھی بہت سے تیر باقی ہیں لڑکی نے کہا میں تم سے کوئی مدد نہیں مانگتی تم اگر میری مدد کرو گے تو میں تمہیں روک دوں گی کیونکہ تم مجھے اتنے اچھے لگتے ہو کہ میں اپنی خاطر تمہیں کسی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتی میرا کوئی غم خوار نہیں میں ان لڑکیوں کو بالکل نہیں جانتی اور ان ادمیوں کو بھی نہیں جانتی تم مجھے رحم دل بھی لگتے ہو اور میرے دل کو بھی اچھے لگتے ہو اس لیے تمہیں یہ باتیں بتا رہی ہوں اتنی خوبصورت لڑکی کے منہ سے اس قسم کی باتیں سن کر کون سا مرد اپنے اپ میں رہ سکتا ہے یہ لڑکی مجبور ہوئی تھی رات کی تنہائی بھی تھی مصری کی مردانگی پگھلنے لگی اس نے لڑکی کے ساتھ دوستانہ باتیں شروع کر دی لڑکی نے ایک اور تیر چلایا اور صلاح الدین ایوبی کے کردار پر زہر اگلنے لگی اس نے کہا میں نے تمہارے گورنر صلاح الدین ایوبی کو اپنی مظلومیت کی ایک کہانی سنائی تھی مجھے امید تھی کہ وہ میرے حال پر رحم کرے گا مگر اس نے مجھے اپنے خیمے میں رکھ لیا اور شراب پی کر میرے ساتھ بدکاری کرتا رہا اس وحشی نے میرا جسم توڑ دیا ہے شراب پی کر وہ اتنا وحشی بن جاتا ہے کہ اس میں انسانیت ہی نہیں رہتی مصری کا خون کھولنے لگا اس نے بدک کر کہا ہمیں کہا گیا تھا کہ صلاح الدین ایوبی مومن ہے فرشتہ ہے شراب اور عورت سے نفرت کرتا ہے مجھے اب اسی کے پاس لے جایا جا رہا ہے لڑکی نے کہا اگر تمہیں یقین نہ ائے تو رات کو دیکھ لینا کہ میں کہاں ہوں گی وہ مجھے قید خانے میں نہیں ڈالے گا اپنے حرم میں رکھ لے گا مجھے اس ادمی سے ڈر اتا ہے اس قسم کی بہت سی باتوں سے لڑکی نے اس مصری کے دل میں صلاح الدین ایوبی کے خلاف نفرت پیدا کر دی اور وہ پوری طرح مصری پر چھا گئی اس کے دل اور دماغ پر قبضہ کر لیا مصری کو معلوم نہیں تھا کہ یہی ان لڑکیوں کا ہتھیار ہے لڑکی نے اخر میں کہا اگر تم مجھے اس ذلیل زندگی سے نجات د** دو تو میں ہمیشہ کے لیے تمہاری ہو جاؤں گی اور میرا باپ تمہیں سونے کی اشرفیوں سے مالا مال کر دے گا اس نے اس کا طریقہ یہ بتایا میرے ساتھ سمندر پار بھاگ چلو کشتیوں کی کمی نہیں میرا باپ بہت امیر ادمی ہے میں تمہارے ساتھ شادی کر لوں گی اور میرا باپ تمہیں نہایت اچھا مکان بہت سی دولت دے گا تم تجارت کر سکتے ہو مصری کو یہ یاد رہ گیا تھا کہ وہ مسلمان ہے اس نے کہا کہ وہ اپنا مذہب ترک نہیں کر سکتا لڑکی نے ذرا سوچ کر کہا میں تمہارے لیے اپنا مذہب چھوڑ دوں گی اس کے بعد وہ فرار اور شادی کا پروگرام بنانے لگے لڑکی نے اسے کہا میں تم پر زور نہیں دیتی اچھی طرح سوچ لو میں صرف جاننا چاہتی ہوں کہ میرے دل میں تمہاری جو محبت پیدا ہو گئی ہے اتنی تمہارے دل میں پیدا ہوئی ہے یا نہیں اگر تم مجھے قبول کرنے پر امادہ ہو سکتے ہو تو سوچ لو اور کوشش کرو کہ قاہرہ تک ہمارا سفر لمبا ہو جائے ہم ایک بار وہاں پہنچ گئے تو پھر تم میری بو بھی نہیں سونگ سکو گے لڑکی کا مقصد صرف اتنا تھا کہ سفر لمبا ہو جائے اور تین دنوں کے بجائے چھ دن راستے میں ہی گزر جائیں اس کی وجہ یہ تھی کہ رابن اور اس کے ساتھی فرار کی ترکیبیں سوچ رہے تھے وہ اس کوشش میں تھے کہ رات کو سوئے ہوئے محافظوں کے ہتھیار اٹھا کر انہیں قتل کیا جائے جو ناممکن سا کام تھا یا ان کے گھوڑے چرا کر بھاگ جائے ابھی تو پہلا ہی پڑاؤ تھا ان کی ضرورت یہ تھی کہ سفر لمبا ہو جائے تاکہ وہ اطمینان سے سوچ سکیں اس مقصد کے لیے انہوں نے اس لڑکی کو استعمال کیا کہ وہ محافظوں کے کمانڈر کو قبضے میں لے لے لڑکی نے پہلی ملاقات میں ہی یہ مقصد حاصل کر لیا اور مصری کو منہ مانگی قیمت دے دی مصری
ENGLISH
Immorality was the weapon that defeated the oppressive rulers. This smile was waxing this Egyptian. In the evening they made their first stop, everyone was given food. This girl did not eat. The commander was told, so he spoke to the girl. The girl spoke and understood his language. Tears came from the girl and she said that she wanted to talk to her separately. At night when everyone was asleep, the commander woke up and took the girl apart. abducted from a house and kept her with him and then brought her with him on a plane where she became the mistress of an officer. Suddenly, fire started pouring on the ships and the ship started moving. These girls were put in a boat and thrown into the sea. The boat brought them to the shore where they were imprisoned as spies. had told Salah al-Din Ayyubi about these girls. The Egyptian guard commando did not know that he was hearing this story for the first time. He had received orders that they were dangerous spies. In view of this order, he could not help these girls or this girl. You don't ask for help. If you help me, I will stop you because you look so good to me that I don't want to put you in any trouble for my own sake. I don't know, you seem kind to me and my heart is good too, that's why I am telling you these things, what man can stay in himself after hearing such words from the mouth of such a beautiful girl, this girl was forced. There was also the solitude of the night. The masculinity of the Egyptian began to melt. He started talking friendly with the girl. The girl shot another arrow and started pouring poison on the character of Salahuddin Ayyubi. I had told a story of I hoped that he would take pity on my condition but he kept me in his tent and drank alcohol and fornicated with me. This barbarian has broken my body. There is no humanity left in him. The Egyptian's blood began to boil. He cursed and said, "We were told that Salah al-Din Ayubi is a believer, an angel, and hates alcohol and women. I am now being taken to him," said the girl. If you don't believe me, see where I will be at night. He will not put me in prison, he will keep me in his harem. I am afraid of this man. Hatred against Salah al-Din Ayyubi and it completely covered the Egyptian, took possession of his heart and mind. The Egyptian did not know that this was the weapon of these girls. Give me salvation and I will be yours forever and my father will enrich you with gold coins. I will marry you and my father will give you a very nice house and a lot of wealth. You can trade. The Egyptian remembered that he was a Muslim. He said that he could not give up his religion. Kar said that I will leave my religion for you, after that they started to make plans for escape and marriage. Is this much born in your heart or not? If you can be willing to accept me, think and try to make our journey to Cairo long. Once we get there, you won't even be able to smell me. The girl's only purpose was to make the journey longer and spend six days on the way instead of three, because Robin and his companions were thinking of escape plans in an effort to sleep at night. To take up the arms of the defenders and kill them, which was an impossible task, or to steal their horses and run away. This was the first stop. They needed a long journey so that they could think with peace of mind. He used the girl to capture the commander of the guards.
لڑکی نے پہلی ملاقات میں ہی یہ مقصد حاصل کر لیا اور مصری کو منہ مانگی قیمت دے دی مصری کوئی ایسا بڑا رتبے والا ادمی نہیں تھا معمولی سا عہدے دار تھا اس نے کبھی خواب میں بھی اتنی حسین لڑکی نہیں دیکھی تھی کہاں ایک چیت کی جاگتی لڑکی جو اس کے تصوروں سے بھی زیادہ خوبصورت تھی اس کی ل**** بن گئی تھی وہ اپنا اپ اپنا فرض اور اپنا مذہب ہی بھول گیا وہ ایک لمحے کے لیے بھی لڑکی سے الگ نہیں ہونا چاہتا تھا اس پاگل پن میں اس نے صبح کے وقت پہلا حکم یہ دیا کہ جانور بہت تھکے ہوئے ہیں لہذا اج سفر نہیں ہوگا محافظوں اور شتربانوں کو اس حکم سے بہت خوشی ہوئی وہ محاز کی سختیوں سے اگتائے ہوئے تھے انہیں منزل تک پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں تھی وہ دن بھر ارام کرتے رہے گپ شپ لگاتے رہے اور ان کا کمانڈر اس لڑکی کے پاس بیٹھا بدمست ہوتا جا رہا تھا دن گزر گیا رات ائی اور جب سب سوئے ہوئے تھے تو مصری لڑکی کو ساتھ لیے وہ دور چلا گیا لڑکی نے اسے اسمان پر پہنچا دیا صبح جب یہ قافلہ چلنے لگا تو مصری کمانڈر نے راستہ بدل دیا اپنے دستے سے اس نے کہا کہ اس طرف اگلے پڑاؤ کے لیے بہت خوبصورت جگہ ہے قریب ایک گاؤں بھی ہے جہاں مرغیاں اور انڈے مل جائیں گے اس کا دستہ اس پر بھی خوش ہوا کہ کمانڈر انہیں عیش کرا رہا ہے البتہ اس دستے میں دو عسکری ایسے تھے جو کمانڈر کی ان حرکتوں سے خوش نہیں تھے انہوں نے اسے کہا کہ ہمارے پاس خطرناک قیدی ہیں یہ سب جاسوس ہیں انہیں بہت جلدی حکومت کے حوالے کر دینا چاہیے بلاوجہ سفر لمبا کرنا ٹھیک نہیں مصری نے انہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ جلدی پہنچوں یا دیر سے جواب طلبی ہوئی تو مجھ سے ہوگی دونوں خاموش تو ہو گئے لیکن وہ الگ جا کر اپس میں کھسر پھسر کرتے رہے ناظرین اج کی کرسٹ میں اتنا ہی ہماری نئی ویڈیوز سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے اس چینل کو سبسکرائب کر کے نیچے موجود بیل ائیکن کو ضرور پریس کیجئے گا اپ سے ملاقات ہوگی
ENGLISH
The girl achieved this goal in the very first meeting and gave the Egyptian the asking price. The girl who was more beautiful than his imagination had become his love, he forgot himself, his duty and his religion. The first order in the morning was that the animals were very tired, so the journey would not take place. The guards and the camels were very happy with this order. They continued to chat and their commander sat next to the girl and was getting angry. The day passed and night came and when everyone was asleep, the Egyptian took the girl with him and went away. The girl took him to the sky in the morning. When the convoy started moving, the Egyptian commander changed the route to his troops. He said that there is a very beautiful place for the next stop. There is also a village nearby where chickens and eggs will be found. However, there were two soldiers in this squad who were not happy with the actions of the commander. Masri silenced them by saying that it is my responsibility to arrive early or if the answer is asked late, it will be from me. To stay updated with our new videos, please subscribe to our channel and press the bell icon below.

No comments:

Post a Comment