https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Thursday, 14 December 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode25

  The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode25





یہ لوگ عرب سے ائے تھے مصر اور سوڈان کی سیاست بازیوں اور عقائد کا ان پر کچھ اثر نہ تھا وہ صرف اسلام سے اگاہ تھے اور یہی ان کا عقیدہ تھا وہ ہر اس عقیدے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے تھے جسے وہ غیر اسلامی سمجھتے تھے انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک باطل یہ لوگ عرب سے ائے تھے مصر اور سوڈان کی سیاست بازیوں اور عقائد کا ان پر کچھ اثر نہ تھا وہ صرف اسلام سے اگاہ تھے اور یہی ان کا عقیدہ تھا وہ ہر اس عقیدے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے تھے جسے وہ غیر اسلامی سمجھتے تھے انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک باطل عقیدے کے خلاف لڑنے جا رہے ہیں اور ہو سکتا ہے انہیں اپنے سے زیادہ نفری سے مقابلہ کرنا پڑے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لڑائی خونریز ہو اور ان کے سامنے کوئی ٹھہر ہی نہ سکے اور بغیر لڑائی کے مہم سر ہو جائے انہیں سکیم سمجھا دی گئی اور ان کے ذہنوں میں پہاڑی علاقے کا اور ان پہاڑیوں کی بلندی جو زیادہ نہیں تھی اور ان میں گھری ہوئی قربان گاہ کا تصور بٹھا دیا گیا تھا 12 جانبازوں کو بھی ان کے ہدف کا تصور دیا گیا انہیں ٹریننگ بڑی سختی سے دی گئی تھی پہاڑیوں پر چڑھنا اور ریگستانوں میں دوڑنا بھوک اور پیاس اونٹ کی طرح برداشت کرنا ان کے لیے مشکل نہیں تھا قربانی کی رات کو چھ روز باقی تھے تین دن اور تین راتیں چھاپہ ماروں اور 500 سپاہیوں کو مشق کرائی گئی چوتھے روز چھاپہ ماروں کو اونٹوں پر روانہ کر دیا گیا اونٹوں کی میانہ چال سے ایک دن اور ادھی رات کا سفر تھا شدربانوں کو حکم دیا گیا تھا کہ چھاپماروں کو پہاڑی علاقے سے دور جہاں وہ کہیں اتار کر واپس ا جائیں 500 کے دستے کو تماشائیوں کے بحث میں دو دو چار چار کی ٹولیوں میں گھوڑوں اور اونٹوں پر روانہ کیا گیا انہیں جانور اپنے ساتھ رکھنے تھے ان کے ساتھ ان کے کماندار بھی اس بحث میں چلے گئے پورا چاند ابھرتا ا رہا تھا صحرا کی فضا شیشے کی طرح شفاف تھی میلے میں انسانوں کے ہجوم کا کوئی شمار نہ تھا کہیں نیم برہنا لڑکیاں رقص کر رہی تھیں اور کہیں گانے والیوں نے مجمع لگا رکھا تھا سب سے زیادہ بھیڑ اس چبوترے کے ارد گرد تھی جہاں لڑکیاں نیلام ہو رہی تھیں ایک لڑکی کو چبوترے پر لایا جاتا گاہک اسے ہر طرف سے دیکھتے اس کا منہ کھول کر دانت دیکھتے بالوں کو الٹا پلٹا کے دیکھتے جسم کی سختی اور نرمی محسوس کرتے اور بولی شروع ہو جاتی وہاں جوا بھی تھا شراب بھی تھی اگر وہاں نہیں تھا تو قانون نہیں تھا پوری ازادی تھی دور دور سے ائے ہوئے لوگوں کے خیمے میلے کے ارد گرد نصب تھے تماشائی مذہب اور اخلاق کی پابندیوں سے ازاد تھے انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان سے تھوڑی ہی دور جو پہاڑیاں ہیں ان میں ایک خوبصورت لڑکی کو ذبح کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور وہاں ایک انسان دیوتا بنا ہوا ہے وہ صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ ان پہاڑیوں میں گھرا ہوا علاقہ دیوتاؤں کا پایا تخت ہے جہاں جن اور بھوت پہرا دیتے ہیں اور کوئی انسان وہاں جانے کی سوچ بھی نہیں سکتا انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان کے درمیان اللہ کے 5 س سپاہی گھوم پھر رہے ہیں اور 12 انسان دیوتاؤں کے پایا تخت کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں صلاح الدین ایوبی کے 12 چھاپہ ماروں کو بتایا گیا تھا کہ پہاڑیوں کے اندرونی علاقے میں داخل ہونے کا راستہ کہاں ہے لیکن وہاں سے وہ داخل نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ وہاں پہرے کا خطرہ تھا انہیں بہت دشوار راستے سے اندر جانا تھا انہیں بتایا گیا تھا کہ پہاڑیوں کے ارد گرد کوئی انسان نہیں ہوگا مگر وہاں انسان موجود تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس حبشی نے علی بن سفیان کو غلط بتایا تھا کہ اس علاقے کے گرد کوئی پہرا نہیں ہوتا پہاڑیوں کا یہ خطہ ایک میل بھی لمبا نہیں تھا اور اسی قدر چوڑا تھا وہ چونکہ تربیت یافتہ چھاپہ مارتے اس لیے وہ بکھر کر اور احتیاط سے اگے گئے تھے ایک چھاپہ مار کو اتفاق سے ایک درخت کے قریب ایک متحرک سایہ نظر ایا چھاپہ مار چھپتا اور رینگتا اس کے عقب میں چلا گیا قریب جا کر اس پر جھپٹ پڑا اس کی گردن بازو کے شکنجے میں لے کر خنجر کی نوک اس کے دل پر رکھ دی گردن ڈھیلی چھوڑ کر اس سے پوچھا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو اور یہاں کسی قسم کا پیرا ہے وہ حبشی تھا چھاپہ مار عربی بول رہا تھا جو حبشی سمجھ نہیں سکتا تھا اتنے میں ایک اور چھاپہ مارا گیا اس نے بھی خنجر حبشی کے سینے پر رکھ دیا انہوں نے اشاروں سے پوچھا تو حبشی نے اشاروں میں جواب دیا جس سے شک ہوتا تھا کہ یہاں بہرا موجود ہے اس حبشی کی شہرگ کاٹ دی گئی اور چھاپہ مار اور زیادہ محتاط ہو کر اگے بڑھے یکلخت جنگل اگیا اگے پہاڑی تھی چاند اوپر اٹھتا ا رہا تھا لیکن درختوں اور پہاڑیوں نے اندھیرا کر رکھا تھا وہ پہاڑی پر ایک دوسرے سے ذرا دور اوپر چڑھتے گئے اندر کے علاقے میں جہاں لڑکی کو فروخت کے حوالے کیا گیا تھا کوئی اور ہی سرگرمی تھی پتھر کے چہرے کے سامنے چبوترے پر ایک قالین بچھا ہوا تھا اس پر چوڑے پھل والی تلوار رکھی تھی اس کے قریب ایک
ENGLISH
These people came from Arabia. The politics and beliefs of Egypt and Sudan had no influence on them. They were only aware of Islam and that was their belief. They stood up against every belief that they considered un-Islamic. It was told that they were false, these people came from Arabia, the politics and beliefs of Egypt and Sudan had no influence on them, they were only aware of Islam and that was their belief, they stood up against every belief that they had. They were told that they were going to fight against a false faith and that they might have to fight against a force larger than themselves, and that the fight might be bloody and that no one could stand before them. And that the campaign should start without a fight, the scheme was explained to them and the idea of ​​the mountainous area and the height of the hills which were not high and the altar surrounded by them was planted in their minds. 12 soldiers were also their targets. They were trained very hard. Climbing the hills and running through the deserts. It was not difficult for them to endure hunger and thirst like camels. There were six days left on the night of sacrifice. Three days and three nights were raided and 500 The soldiers were trained. On the fourth day, the raiders were sent off on camels. It was a day and half a night's journey by camels. A troop of 500 was sent out on horses and camels in groups of two or four in groups of spectators. They had to keep animals with them and their commanders also went into the discussion. The full moon was rising and the desert sky was glassy. As transparent as it was, there was no crowd of people in the fair. Somewhere half-naked girls were dancing and some were singers. The biggest crowd was around the platform where the girls were being auctioned. The customers who were brought to the platform would look at him from all sides, open his mouth and see his teeth, look at his hair turned upside down, feel the hardness and softness of his body and start talking. There was complete freedom. Tents of people from far and wide were pitched around the fair. The spectators were free from the restrictions of religion and morals. They did not know that in the hills that were not far away from them, preparations were being made to slaughter a beautiful girl. They are going and there is a human being who has become a god. They only knew that the area surrounded by these hills is the throne of the gods where jinns and ghosts guard and no human can even think of going there. It was not known that 5 soldiers of Allah were roaming among them and 12 humans had entered the limits of the Throne of the Gods. but they could not enter from there because there was a danger of guards, they had to go in through a very difficult way. They were told that there would be no people around the hills, but there were people there, which meant that he The Abyssinian had wrongly told Ali bin Sufyan that there was no guard around this area. This area of ​​hills was not even a mile long and was only as wide. They were scattered and carefully planted as trained raiders. A raider happened to see a moving shadow near a tree. The raider hid and crawled behind it. Leaving his neck loose, he asked him what are you doing here and there is some kind of para here. He was an Abyssinian. The raider was speaking Arabic, which the Abyssinian could not understand. He placed it on his chest. They asked him for signs, and the negro replied with signs that made him suspect that there was a deaf person here. The negro's head was cut off and he raided and being more careful, he moved forward. Rising up but obscured by the trees and hills they climbed the hill a little apart from each other in the inner area where the girl was offered for sale there was another activity on the platform in front of the rock face. A carpet was spread on it and a broad-bladed sword was placed near it
اس کے قریب ایک چوڑا برتن رکھا تھا اور قالین پر پھول بکھرے ہوئے تھے اس کے قریب اگ جل رہی تھی چبوترے کے چاروں کناروں پر دیے جلا کر چراغاں کیا گیا تھا وہاں چار لڑکیاں گھوم رہی تھیں ان کا لباس دو دو چوڑے پتے تھے اور باقی جسم بہ رہنا چار حبشی تھے جنہوں نے کندھوں سے ٹخنہ تک سفید چادریں لپیٹ رکھی تھی ام ارارہ تہ خانے میں فروخت کے ساتھ تھی فروخت اس کے بالوں سے کھیل رہا تھا اور وہ مخمور اواز میں کہہ رہی تھی میں ان گوگ کی ماں ہوں تم ان گوک کے باپ ہو میرے بیٹے مصر اور سوڈانیوں کے بادشاہ بنیں گے میرا خون انہیں پلا دو میرے لمبے لمبے سنہری بال ان کے گھروں میں رکھ دو تم مجھ سے دور کیوں ہٹ گئے ہو میرے قریب اؤ فروخت اس کے جسم پر تیل کی طرح کوئی چیز ملنے لگا ان کو غالبا اس قبیلے کا نام تھا ایک عربی لڑکی کو نشے کے خمار نے اس قبیلے کی ماں اور پیروحت کی بیوی بنا دیا تھا وہ قربان ہونے کے لیے تیار ہو گئی تھی فروخت اخری رسومات پوری کر رہا تھا 12 چھاپہ مار رات کے کیڑوں کی طرح رینگتے ہوئے پہاڑیوں پر چڑھتے اترتے اور ٹھوکریں کھاتے ا رہے تھے بہت ہی دشوار گزارا علاقہ تھا بیشتر جھاڑیاں خاردار تھیں چاند سر پر اگیا تھا انہیں درختوں میں سے روشنی کی کرنیں دکھائی دینے لگی ان کرنوں میں انہیں حبشی کھڑا نظر ایا جس کے ایک ہاتھ میں برچھی اور دوسرے میں لمبوتری ڈال تھی وہ بھی دیوتاؤں کے پائے تخت کا پہرے دار تھا اسے خاموشی سے مارنا ضروری تھا وہ ایسی جگہ کھڑا تھا جہاں اس پر عقب سے حملہ نہیں کیا جا سکتا تھا امنے سامنے کا مقابلہ موضوع نہیں تھا ایک چھاپا مار جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گیا دوسرے نے اس کے سامنے ایک پتھر پھینکا جس نے گر کر اور لڑک کر اواز پیدا کی حبشی بدکا اور اس طرف ایا وہ جو ہی جھاڑی میں چھپے ہوئے چھاپا مار کے سامنے ایا اس کی گردن ایک بازو کے شکنجے میں اگئی اور ایک خنجر اس کے دل میں اتر گیا چھاپا مار کچھ دیر بہار رکے اور احتیاط سے اگے چل پڑے ام ارارہ قربانی کے لیے تیار ہو چکی تھی فروخت نے اخری بار اسے سینے سے لگایا اور اس کا ہاتھ تھام کر سیڑھیوں کی طرف چل پڑا باہر کے چار حبشی مردوں اور لڑکیوں کو پتھر کے سر اور چہرے کے منہ میں روشنی نظر ائی تو وہ منہ کے سامنے سجدے میں گر گئے فرہت نے اپنی زبان میں ایک اعلان کیا اور منہ سے اتر ایا ام ارارہ اس کے ساتھ تھی اسے وہ قالین پر لے گیا مرد اور لڑکیاں ان کے ارد گرد کھڑے ہو گئے ام ارارہ نے عربی زبان میں کہا میں انگوک کے بیٹیوں اور بیٹوں کے لیے اپنی گردن کٹوا رہی ہوں میں ان لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کر رہی ہوں میری گردن کاٹ دو میرا سر انگوک کے دیوتا کے قدموں میں رکھ دو دیوتا اس سر پر مصر اور سوڈان کا تاج رکھیں گے چاروں ادمی اور لڑکیاں ایک بار پھر سجدے میں گر گئی راحت نے ام ارارہ کو قالین پر دو زانوں بٹھا کر اس کا سر اگے جھکا دیا اور وہ تلوار اٹھا لی جس کا پھل پورے ہاتھ جتنا چوڑا تھا ایک چھاپہ مار جو سب سے اگے تھا رک گیا اس نے سرگوشی کر کے پیچھے انے والے کو روک لیا پہاڑی کی بلندی سے انہیں چبوترا اور پتھر کا سر نظر ایا چبوترے پر ایک لڑکی دو زانو بیٹھی ہوئی تھی جس کا سر جھکا ہوا تھا شفاف چاندنی چراغاں اور بڑی مشلوں نے سورج کی روشنی کا ساماں بنا رکھا تھا لڑکی کے پاس کھڑے ادمی کے ہاتھ میں تلوار تھی دوزانو بیٹھی ہوئی لڑکی پر رہنا تھی اس کے جسم کا رنگ بتا رہا تھا کہ حبشی قبیلے کی لڑکی نہیں ہے چھاپ مار دور تھے اور بلندی پر بھی تھے وہاں سے تیر خطا جانے کا خطرہ تھا مگر وہ جس پہاڑی پر تھے اس کے اگے ڈھلان نہیں تھی بلکہ سیدھی دیوار تھی جس سے اترنا ناممکن تھا وہ جان گئے کہ لڑکی قربان کی جا رہی ہے اور اسے بچانے کے لیے وقت اتنا تھوڑا ہے کہ وہ اڑ کر نہ پہنچے تو اسے بچا نہیں سکیں گے انہوں نے چوٹی سے نیچے دیکھا چاندنی میں انہیں ایک جھیل نظر ائی انہیں بتایا گیا تھا کہ وہاں ایک جھیل ہے جس میں مگر مچھ رہتے ہیں دائیں طرف ڈھلان تھی لیکن وہ بھی تقریبا دیوار کی طرح تھی وہاں جھاڑیاں اور درخت تھے انہیں پکڑ پکڑ کر اور ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر وہ ڈھالا اترے ان میں سے اخری جانباز نے اتفاق سے سامنے دیکھا چاندنی میں سامنے کی چوٹی پر اسے ایک حبشی کھڑا نظر ایا اس کے ایک ہاتھ میں ڈال تھی اور دوسرے ہاتھ میں برچھی جو اس نے تیر کی طرح پھینکنے کے لیے تان رکھی تھی چھاپہ ماروں پر چاندنی نہیں پڑ رہی تھی حبشی ابھی شک میں تھا اخری شاپہمار نے کمان میں تیر ڈالا رات کی خاموشی میں کمان کی اواز سنائی دی تیر حبشی کی شہراب میں لگا اور وہ لڑکتا ہوا نیچے ا رہا چھاپا مار ڈلان اترتے گئے گرنے کا خطرہ ہر قدم پر تھا فروخت نے تلوار کی دھار ام ارارہ کی گردن پر رکھی اور اوپر اٹھائی لڑکیوں اور مردوں نے سجدے سے اٹھ کر دو زانوں بیٹھتے ہوئے پرسوز اور دھیمی اواز میں کوئی گانا شروع کر دیا یہ ایک گونج تھی جو اس دنیا کی نہیں لگتی تھی
ENGLISH
A wide pot was placed near it and flowers were scattered on the carpet. A fire was burning near it. Lamps were lit on the four sides of the platform. There were four girls walking around. Abominable were four negroes who wore white sheets from shoulders to ankles. Umm Arara was with Sale in the basement. Sale was playing with her hair and she was saying in a drunken voice, "I am the mother of Ingog, you are in." Father of Gok, my sons will be kings of Egypt and the Sudanese. Give them my blood. Put my long golden hair in their homes. Why have you turned away from me? They began to meet, probably the name of this tribe was an Arab girl who had become the mother of this tribe and the wife of Piruht due to drunkenness. She was ready to be sacrificed. Sale was performing last rites. They were crawling up and down the hills and stumbling like insects. It was a very difficult area. Most of the bushes were thorny. The moon had risen overhead. They began to see rays of light coming from the trees. In these rays, they saw an Abyssinian standing. He had a spear in one hand and a lance in the other. He also guarded the throne of the gods. He had to be killed silently. He stood in a place where he could not be attacked from behind. The raider sat down hiding in the bushes, the other threw a stone in front of him, which fell and rattled and made a sound. Shikanje went into a trap and a dagger went into his heart. The raiders stopped for a while and walked cautiously forward. Umm Arara was ready for the sacrifice. When the four Abyssinian men and girls outside saw the light in the mouth of the stone head and face, they fell down in prostration in front of the mouth. He took it to the carpet and the men and girls stood around them. Umm Arara said in Arabic, "I am cutting my neck for the sons and daughters of Angok. I am paying atonement for the sins of these people. Cut my neck." Put my head at the feet of the god of Angok, the two gods will place the crown of Egypt and Sudan on this head. The four men and the girls once again fell into prostration. He took up the sword whose blade was as wide as a full hand. A raider who had sprung from the foremost halted. He whispered and stopped the pursuer. Zanu was sitting with her head bowed. Translucent moonlight lamps and large lamps made the sun shine. The man standing next to the girl had a sword in his hand. Dozanu was supposed to be on the sitting girl, telling the color of her body. that she is not a girl from the Abyssinian tribe. The raiders were far away and were on a high ground, there was a danger of the arrows going astray, but there was no slope in front of the hill they were on, but a straight wall from which it was impossible to get down. They knew that the girl He is being sacrificed and the time to save him is so short that they cannot save him unless they fly in. They looked down from the peak and saw a lake in the moonlight. They were told that there was a lake in which But the flies live, there was a slope on the right side, but it was almost like a wall, there were bushes and trees. On the top of the hill he saw a negro standing with a spear in one hand and a javelin in the other, which he held to throw like an arrow. There was no moonlight on the raiders. The negro was in doubt. I shot an arrow, the sound of a bow was heard in the silence of the night, the arrow hit the Abyssinian city, and he fell down as a boy. Aai girls and men got up from their prostrations and sat on their knees and began to sing in a low and deep voice, a sound that was not of this world.
یہ ایک گونج تھی جو اس دنیا کی نہیں لگتی تھی پہاڑیوں میں گھری ہوئی اس تنگ سی وادی میں ایک ایسا تلسم طاری ہوا جا رہا تھا جو باہر کے کسی بھی انسان کو یقین د** سکتا تھا کہ یہ انسانوں کی نہیں دیوتاؤں کی سرزمین ہے فروخت تلوار کو اوپر لے گیا اب تو ایک دو سانسوں کی دیر تھی تلوار نیچے کو انے ہی لگی تھی کہ ایک تیر پروہت کی بغل میں دھنس گیا اس کا تلوار والا ہاتھ ابھی نیچے نہیں گرا تھا کہ تین تیر بیک وقت اس کے پہلو میں اتر گئے لڑکیوں کی چیخیں سنائی دی مرد کسی کو اوازیں دینے لگے تیروں کی ایک اور باڑائی جس نے دو مردوں کو گرا دیا لڑکیاں جدھر منہ ایا دوڑ پڑی ام ارارہ اس شور و غل اور اپنے گرد تڑپتے ہوئے اور خون میں ڈوبے ہوئے جسموں سے بے نیاز سر جھکائے بیٹھی تھی چھاپا مار بہت تیز دوڑتے ائے چبوترے پر چڑھے اور ام ارارہ کو ایک نے اٹھا لیا وہ ابھی تک نشے کی حالت میں باتیں کر رہی تھی ایک جانباز نے اپنا کرتا اتار کر اسے پہنا دیا اسے لے کر چلے ہی تھے کہ ایک طرف سے 12 13 حبشی برچھیاں اور ڈھالیں اٹھائے دوڑتے ائے چھاپہ مار پہ گھر گئے ان میں چار کے پاس تیر کمانے تھی انہوں نے تیر برسائے باقی چھاپہ مار ایک طرف چھپ گئے اور جب حبشی اگے ائے تو عقب سے ان پر حملہ کر دیا ایک تیر انداز نے کمان میں سے فیتے والا تیر نکالا فیتے کو اگ لگائی اور کمان میں ڈال کر اوپر کو چھوڑ دیا تیر دور اوپر جا چکا تو اس کا شعلہ جو رفتار کی وجہ سے دب گیا تھا رفتار ختم ہوتے ہی بھڑکا اور نیچے انے لگا میلے کی رونق ابھی مان نہیں پڑی تھی تماشائیوں میں سے 5 س تماشائی میلے سے الگ ہو کر اس پہاڑی خطے کی طرف دیکھ رہے تھے انہیں دور فضا میں ایک شعلہ سا نظر ایا جو بھڑک کر نیچے کو جانے لگا وہ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہوئے ان کے کماندار ساتھ تھے پہلے تو وہ اہستہ اہستہ چلے تاکہ کسی کو شک نہ ہو ذرا دور جا کر انہوں نے گھوڑے دوڑا دیے تماشائی میلے میں شراب جوئے اور ناچنے گانے والی لڑکیوں اور عصمت فروش عورتوں میں اتنے مگن تھے کہ کسی کو کانو کان خبر نہ ہوئی کہ ان کے دیوتاؤں پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے چھاپہ مارنے اس خطرے کی وجہ سے اتشین تیر چلا دیا تھا کہ حبشیوں کی تعداد زیادہ ہوگی مگر فوج وہاں پہنچی تو وہاں 12 13 لاشیں حبشیوں کی اور دو لاشیں چھاپہ مار شہید ہوں گی پڑی تھی وہ برچھیوں سے شہید ہوئے تھے کمانداروں نے وہاں کا جائزہ لیا پتھر کے منہ میں گئے اور تہ خانے میں جا پہنچے وہاں انہیں جو چیزیں ہاتھ لگی وہ اٹھا لی ان میں ایک پھول بھی تھا جو قدرتی نہیں بلکہ کپڑے سے بنایا گیا تھا احکام کے مطابق فوج کو وہیں رہنا تھا لیکن پہاڑیوں میں چھپ کر چھاپہ ماروں نے ام ارارہ کو گھوڑے پر ڈالا اور قاہرہ کی طرف روانہ ہو گئے صبح طلوع ہوئی میلے کی رونق ختم ہو گئی تھی بیشتر تماشائی رات شراب پی پی کر ابھی تک مدہوش پڑے تھے دکاندار جانے کس کے لیے مال اسباب باندھ رہے تھے لڑکیوں کے بیپاری بھی جا رہے تھے صحرا میں روانہ ہونے والوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں میلے کے قریب جو گاؤں تھا وہاں کے لوگ بے تابی سے اس لڑکی کے بالوں کا انتظار کر رہے تھے جسے رات قربان کیا گیا تھا اس قبیلے کے لوگ جو دور دراز دیہات کے رہنے والے تھے پہاڑی جگہ سے دور کھڑے دیوتاؤں کے مسکن کی طرف دیکھ رہے تھے ان کے بڑے بوڑھے انہیں بتا رہے تھے کہ ابھی فروخت ائے گا وہ دیوتاؤں کی خوشنودی کا پیغام لائے گا اور ان میں بال تقسیم کرے گا مگر ابھی تک کوئی نہیں ایا تھا دیوتاؤں کے مسکن پر سکوت طاری تھا اس منتظر ہوجوم کو معلوم نہ تھا کہ وہاں فوج مقیم ہے اور اب وہاں سے دیوتاؤں کا کوئی پیغام نہیں ائے گا دن گزرتا گیا قبیلے کے جن نوجوانوں نے قربانی کی باتیں سنی تھی انہیں شک ہونے لگا کہ یہ سب جھوٹ ہے دن گزر گیا سورج انہی پہاڑیوں کے پیچھے جا کر ڈوب گیا کسی میں اتنی جرت نہیں تھی کہ وہاں جا کر دیکھتا کہ فروخت کیوں نہیں ایا طبیب کو بلا لاؤ سلطان ایوبی نے کہا لڑکی پر نشے کا اثر ہے ام ارارہ اس کے سامنے بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی میں انگوٹ کی ماں ہوں تم کون ہو تم دیوتا نہیں ہو میرا شوہر کہاں ہے میرا سر کاٹو اور دیوتا کو دے دو مجھے میرے بیٹوں پر قربان کر دو وہ بولے جا رہی تھی مگر اب اس پر غنودگی بھی طاری ہو رہی تھی اس کا سر ڈول رہا تھا طبیب نے اتے ہی اس کی کیفیت دیکھی اور اسے کوئی دوائی نہ دی ذرا سی دیر میں اس کی انکھیں بند ہو گئیں اسے لٹا دیا گیا اور وہ گہری نیند سو گئی سلطان ایوبی کو تفصیل سے بتایا گیا کہ پہاڑی خطے میں کیا ہوا اور وہاں کیا ملا ہے انہوں نے اپنے نائب سالار الناصر اور بہاؤدین شداد کو حکم دیا کہ 500 سوار لے جائیں ضروری سامان لے جائیں اور اس بت کو مسمار کر دیں مگر اس جگہ کو فوج کے گھیرے میں رکھیں حملے کی صورت میں مقابلہ کریں اگر وہ لوگ دب جائیں اور لڑ نہ سکیں تو انہیں وہ جگہ دکھا کر پیار اور محبت سے سمجھائیں کہ یہ محض ایک فریب تھا شداد نے اپنی ڈائری میں جو عربی زبان میں لکھی گئی تھی اس
ENGLISH
It was a sound that was not of this world. In this narrow valley surrounded by hills, there was a talisman that could make any outsider believe that this was the land of gods and not humans. Sale took the sword up, and now it was a couple of breaths late. The sword was about to go down when an arrow sank into the priest's armpit. His sword hand had not yet fallen down when three arrows landed in his side at the same time. The screams of the girls were heard, the men began to shout to someone, another volley of arrows felled two men, the girls ran wherever they came, Umm Arara, unfazed by the noise and the writhing and blood-soaked bodies around her. She was sitting with her head bowed, the attackers ran very fast and climbed on the platform and someone picked up Umm Arara, she was still talking in a drunken state. From the side 12 13 Abyssinians carrying spears and shields ran towards the raiders and four of them had to shoot arrows. Asaz took out an arrow with a string from his bow, ignited the string and put it in the bow and let it go up. The excitement was not yet believed. Five of the spectators were separated from the festival and were looking towards this mountainous region. The commanders were with them, but at first they walked slowly so that no one would suspect, then they went a little far and made the horses run. That the resurrection has broken on their gods. Due to the threat of raiding, Atshin had fired arrows that the number of Abyssinians would be more, but when the army reached there, there were 12 13 bodies of Abyssinians and two bodies would have been martyred in the raid. They were martyred by spears. The commanders examined there. They went to the mouth of the stone and reached the basement. There they picked up the things they could touch. Among them was a flower which was not natural but made of cloth. According to the orders, the army was supposed to stay there, but the raiders hiding in the hills put Umm Arara on a horse and left for Cairo. When the morning dawned, the excitement of the fair was over. Most of the spectators were still drunk after drinking alcohol all night. The goods were being packed for the girls. The people of this tribe who lived in distant villages were standing far away from the mountain place looking towards the abode of the gods. He would divide the hair, but no one had come yet. There was silence in the abode of the gods. The waiting crowd did not know that the army was stationed there and no message from the gods would come from there. The day passed. They started to doubt that it was all a lie. The day passed and the sun went down behind the same hills. No one had the courage to go there and see why there was no sale. Call the doctor. Sultan Ayubi said the girl. But there is the effect of intoxication. Umm Arara was sitting in front of him and was saying, I am the mother of Ingot, who are you, you are not a god, where is my husband, cut off my head and give it to the god. but now he was getting drowsy, his head was shaking, the doctor immediately saw his condition and did not give him any medicine. The sleepy Sultan Ayyubi was told in detail what had happened in the mountainous region and what had been found there. He ordered his viceroy Al-Nasir and Bahauddin Shaddad to take 500 horsemen to carry the necessary supplies and demolish the idol, but he Keep the place surrounded by the army. In case of attack, fight back. If the people are overwhelmed and cannot fight, show them the place and explain with love and affection that it was just an illusion. Shaddad in his diary written in Arabic It was
شداد نے اپنی ڈائری میں جو عربی زبان میں لکھی گئی تھی اس واقعے کو یوں بیان کیا ہے کہ وہ 5 س سواروں کے ساتھ وہاں پہنچے رہنمائی اس فوج کے کماندار نے کی جو پہلے ہی وہاں موجود تھا سینکڑوں سوڈانی حبشید دور دور کھڑے تھے ان میں سے بعض گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھے ان کے پاس برچھیاں تلواریں اور کمانے تھیں ہم نے اپنے تمام تر سواروں کو اس پہاڑی جگہ کے ارد گرد اس طرح کھڑا کر دیا کہ ان کے منہ باہر کی طرف اور ان کی کمانوں میں تیر تھے اور جن کے پاس کمانے نہیں تھیں ان کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں خطرہ خون ریز لڑائی کا تھا میں الناصر کے ساتھ اندر گیا بت کو دیکھ کر میں نے کہا کہ فرعونہ کی یادگار ہے حبشیوں کی لاشیں پڑی تھیں ہر جگہ گھوم پھر کر دیکھا دو پہاڑیوں کے درمیان ایک کھنڈر تھا جو فرعونوں کے وقتوں کی خوشنما عمارت تھی دیواروں پر اس زمانے کی تحریریں تھیں الفاظ لکیروں والی تصویروں کی مانند تھے کوئی شبہ نہ رہا کہ یہ فرعون کی جگہ تھی دیوار جیسی ایک پہاڑی کے دامن میں جھیل تھی جس کے اندر اور باہر دو دو قدم لمبے مگرمچھ تھے جھیل کا پانی پہاڑی کے دامن کو کاٹ کر پہاڑی کے نیچے چلا گیا تھا پانی کے اوپر پہاڑی کی چھت تھی جگہ خوفناک تھی ہمیں دیکھ کر بہت سارے مگرمچھ کنارے پر اگئے اور ہمیں دیکھنے لگے میں نے سپاہیوں سے کہا حبشوں کی لاشیں جھیل میں پھینک دو یہ بھوکے ہیں وہ لاشیں گھسیٹ کر لائے اور جھیل میں پھینک دی مگر مچھروں کی تعداد کا اندازہ نہیں پوری فوج تھی لاشوں کے سر باہر رہے اور یہ سر پانی میں دوڑتے پہاڑی کے اندر چلے گئے پھر راحت کی لاش ائی اس نے دوسرے انسانوں کو مگر مچھوں کے اگے پھینکا تھا ہم نے اسے بھی جھیل میں پھینک دیا وہ سپاہی 4 سوڈانی لڑکیوں کو لائے وہ کہیں چھپی ہوئی اور عریاں تھیں کمر کے ساتھ ایک پتہ اگے پیچھے بنا تھا میں نے اور الناصر نے منہ پھیر لیے سپاہیوں سے کہا کہ انہیں مستور کرو جب ان کے جسم کپڑوں میں چپ گئے تو دیکھا وہ بہت خوبصورت تھی روتی تھی ڈرتی تھی ہمارے ترجمان کو انہوں نے وہاں کا حال اپنی زبان میں بیان کیا جو بہت شرمناک تھا مسلمان کو عورت ذات کا یہ حال برداشت نہیں کرنا چاہیے عورت اپنی ہو کسی اور کی ہو کافر ہو اسلام اسے بیٹی کہتا ہے ان چار لڑکیوں کا بیان ظاہر کرتا تھا کہ وہ فرعونہ کو خدا مانتی ہیں ان کا قبیلہ انسان کو خدا مانتا ہے یہ جگہ خوشنما تھی سارے صحرا میں سرسبز تھی اندر پانی کا چشمہ تھا جس نے جھیل بنائی درخت تھے جنہوں نے سایہ دیا کسی فرعون کو یہ مقام پسند ایا تو اسے تفریح کا مقام بنایا اپنی خدائی کے ثبوت میں یہ بت بنایا اس میں تہخانہ رکھا اور یہاں عیش کی اسمان نے کوئی اور رنگ دکھایا سورج ادھر سے ادھر ہو گیا فرعونہ کے ستارے ٹوٹ گئے اور مصر میں دوسرے باطل مذہب ائے اخر میں حق کی فتح ہوئی اور مصر نے کلمہ لا الہ الا اللہ سنا اور
ENGLISH
Shaddad, in his diary, which was written in Arabic, described the incident as saying that he arrived there with 5 horsemen, led by the commander of the army who was already there, and hundreds of Sudanese Habsheeds were stationed far and wide among them. Some of them were riding on horses and camels, they had spears, swords and bows. They had no money, they had spears in their hands, there was a danger of a bloody fight. There was a ruin which was a beautiful building from the time of the Pharaohs. On the walls there were writings of that time. The words were like pictures with lines. There was no doubt that this was the place of the Pharaoh. There was a lake at the foot of a hill like a wall, with two inside and outside. There were crocodiles two feet long. The water of the lake cut the foot of the hill and went down the hill. Above the water was the roof of the hill. The place was terrible. Seeing us, many crocodiles came to the shore and started looking at us. I told the soldiers, "Abyssinians." Throw the corpses in the lake. They are hungry. They dragged the corpses and threw them in the lake, but the number of mosquitoes was not estimated. The whole army was there. threw the other humans in front of the flies, we also threw him into the lake, those soldiers brought 4 Sudanese girls, they were hiding somewhere and were naked. He told us to mask them. When their bodies were hidden in their clothes, we saw that they were very beautiful, they were crying, they were afraid. It should be done. A woman belongs to someone else. Be it a disbeliever. Islam calls her a daughter. The statement of these four girls showed that they believed Pharaoh to be God. Their tribe believed man to be God. There was a spring that made a lake, there were trees that gave shade. A pharaoh liked this place, so he made it a place of entertainment. He made this idol as proof of his divinity. The stars of the pharaohs were broken and the other false religion in Egypt finally won the victory of the truth and Egypt heard the word ``There is no god but Allah.''
ان کا قبیلہ انسان کو خدا مانتا ہے یہ جگہ خوشنما تھی سارے صحرا میں سرسبز تھی اندر پانی کا چشمہ تھا جس نے جھیل بنائی درخت جنہوں نے سایہ دیا کسی فرعون کو یہ مقام پسند ایا تو اسے تفریح کا مقام بنایا اپنی خدائی کے ثبوت میں یہ بت بنایا اس میں تہخانہ رکھا اور یہاں عیش کی اسمان نے کوئی اور رنگ دکھایا سورج ادھر سے ادھر ہو گیا فرعونہ کے ستارے ٹوٹ گئے اور مصر میں دوسرے باطل مذہب ائے اخر میں حق کی فتح ہوئی اور مصر نے کلمہ لا الہ الا اللہ سنا اور خدا کے حضور سرخرو ہوا لیکن کسی نے نہ جانا کہ باطل ان پہاڑیوں میں زندہ رہا الحمدللہ ہم نے خدائے عزوجل سے رہنمائی لی باطل کا یہ نقش بھی اکھاڑا اور اس ریگزار کو پاک کیا اس جگہ کو سواروں کے گھیرے میں لے کر فوج نے پتھر کے اس ہیبت ناک بدھ کو مسمار کر دیا چبوترا بھی گرا دیا تہخانہ ملبے سے بھر دیا باہر سینکڑوں حبشی حیران اور خوفزدہ کھڑے تھے کہ یہ کیا ماجرہ ہے ان سب کو بلا کر اندر لے جایا گیا کہ یہاں کچھ بھی نہیں تھا چاروں لڑکیاں ان کے حوالے کی گئیں چاروں کے باپ اور بھائی وہاں موجود تھے انہوں نے اپنی اپنی لڑکی لے لی انہیں بتایا گیا کہ یہاں ایک بدکار ادمی رہتا تھا وہ مگرمچوں کو کھلا دیا گیا ہے ان سینکڑوں حبشوں کو اکٹھا بٹھا کر ان کی زبان میں واز دیا گیا وہ سب خاموش رہے انہیں اسلام کی دعوت دی گئی وہ پھر بھی خاموش رہے کبھی کبھی شک ہوتا تھا جیسے ان کی انکھوں میں خون اتر ایا ہے انہیں یہ الفاظ دھمکی کے لہجے میں کہے گئے کہ اگر تم سچے خدا کو دیکھنا چاہتے ہو تو ہم تمہیں دکھائیں گے اگر تم اسی جگہ کو جہاں تم بیٹھے ہو اپنے جھوٹے خداؤں کا گھر کہتے رہو گے تو ہم ان پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کر کے ریت کے ساتھ ملا دیں گے پھر تم دیکھو گے کہ کون سا خدا سچا ہے
ENGLISH
Their tribe believes that man is God. This place was pleasant. The entire desert was green. There was a spring of water inside that made a lake. Trees that gave shade. A Pharaoh liked this place, so he made it a place of entertainment. I made an idol and placed a dungeon in it, and here the sky of luxury showed a different color, the sun turned from here to there, the stars of Pharaoh were broken, and other false religions in Egypt. He became red in the presence of God, but no one knew that falsehood was alive in these hills. This terrible Buddha was destroyed, the platform was also demolished, the basement was filled with debris, hundreds of Abyssinians were standing outside in shock and fear, wondering what this was all about. The father and brother of the four were there. They took their own girl. They were told that a wicked man lived here. He was fed to the crocodiles. Hundreds of Abyssinians were gathered together and they were all cursed. Be silent, they were invited to Islam. They still remained silent. Sometimes they doubted as if blood had come to their eyes. These words were said to them in a threatening tone that if you want to see the true God, we will show you. If you continue to call the place where you are sitting as the home of your false gods, We will crush those mountains and mix them with sand, then you will see which god is true.

No comments:

Post a Comment