The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode24
وہ بھی جھک کر باہر اگیا وہ ذرا بوڑھا لگتا تھا اس کا چغا سرخ رنگ کا تھا اور اس کے سر پر تاج تھا ایک سانپ جو مصنوعی تھا اس کے دائیں کندھے پر کنڈلی مارے اور پھن پھیلائے بیٹھا تھا اور ایک بائیں کندھے پر دونوں سانپوں کے رنگ سیاہ تھے ام ارارہ پر ایسا روپ طاری ہوا کہ وہ سن ہو کے کھڑی رہی یہ ادمی جو اس قبیلے کا مذہبی پیشوا یا پیروہت تھا چبوترے کی سیڑھیاں اتر ایا وہ اہستہ اہستہ ام عرارہ تک ایا اور دونوں گھٹنے فرش پر رکھ کر اس نے لڑکی کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چوم لیے اس نے لڑکی سے عربی زبان میں کہا تم ہو وہ خوش نصیب لڑکی جسے میرے دیوتا نے پسند کیا ہے ہم تمہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں ام ارارہ بیدار ہو گئی اس نے روتے ہوئے کہا میں کسی دیوتا کو نہیں مانتی اگر تم دیوتاؤں کو مانتے ہو تو میں تمہیں انہی کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے چھوڑ دو مجھے یہاں کیوں لائے ہو یہاں جو بھی اتی ہے یہی کہتی ہے فروخت نے کہا لیکن اس پر اس مقدس جگہ کا راز کھلتا ہے تو کہتی ہے کہ میں یہاں سے جانا نہیں چاہتی میں جانتا ہوں تم مسلمانوں کے خلیفہ کی محبوبہ ہو مگر جس نے تمہیں پسند کیا ہے اس کے اگے دنیا کے خلیفے اور اسمانوں کے فرشتے سجدے کرتے ہیں تم جنت میں اگئی ہو اس نے چکرے کے اندر سے ایک پھول نکالا اور ام ارارہ کی ناک کے ساتھ لگا دیا ام ارارہ حرم کی شہزادی تھی اس نے ایسے ایسے عطر سونگھے تھے جو اس کی شہزادیوں کے سوا اور کوئی خواب میں بھی نہیں سونگھ سکتا تھا مگر اس پھول کی بو اس کے لیے انوکھی تھی یہ بھوک اس کی روح تک اتر گئی اس کی سوچوں کا رنگ ہی بدل گیا اس کی نظروں کے زاویے بدل گئے فروخت نے کہا یہ دیوتا کا تحفہ ہے اور اس نے پھول اس کی ناک سے ہٹا لیا ام ارارہ نے ہاتھ اہستہ اہستہ اگے کیا اور پروہت کا پھول والا ہاتھ پکڑ کر اپنی ناک کے قریب لے ائی پھول سونگ کر خمار الود اواز میں بولی کتنا دل نشین تحفہ ہے اپ یہ مجھے دیں گے نہیں کیا تم نے تحفہ قبول کر لیا ہے راحت نے پوچھا اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دی ہاں ام امارہ نے جواب دیا میں نے یہ تحفہ قبول کر لیا ہے اس نے پھول کو ایک بار پھر سونگا اور اس نے انکھیں بند کر لی جیسے اس کی مہک کو اپنے وجود میں جذب کرنے کی کوشش کر رہی ہو دیوتا نے بھی تمہیں قبول کر لیا ہے فروخت نے کہا اور پوچھا تم اب تک کہاں تھی لڑکی سوچ میں پڑ گئی جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہو سر ہلا کر بولی میں یہی تھی نہیں میں ایک اور جگہ تھی مجھے یاد نہیں کہ میں کہاں تھی تمہیں یہاں کون لایا ہے کوئی بھی نہیں ام ارارہ نے جواب دیا میں خود ائی ہوں تم گھوڑے پر نہیں ائی تھی نہیں لڑکی نے جواب دیا میں اٹھتی ہوئی ائی ہوں کیا راستے میں صحرا اور پہاڑ اور جنگل اور ویرانے نہیں تھے نہیں تو لڑکی نے بچوں کی سی شوخی سے جواب دیا ہر طرف سبزہ زار اور پھول تھے تمہاری انکھوں پر کسی نے پٹی نہیں باندھی تھی پٹی نہیں تو لڑکی نے جواب دیا میری انکھیں تو کھلی ہوئی تھیں اور میں نے رنگ برنگے پرندے دیکھے تھے پیارے پیارے پرندے فراہت نے اپنی زبان میں بلند اواز سے کچھ کہا ام ارارہ کے عقب سے چار لڑکیاں ائیں انہوں نے اس کے کپڑے اتار دیے وہ مادرزاد ننگی ہو گئی اس نے مسکرا کر پوچھا دیوتا مجھے اس حالت میں پسند کریں گے راحت نے کہا نہیں تمہیں دیوتا کے پسند کے کپڑے پہنائے جائیں گے لڑکیوں نے اس کے کندھوں پر چادر سی ڈال دی جو اتنی چھوڑی تھی کہ کندھوں سے پاؤں تک اس کا جسم مستور ہو گیا اس چادر کے کناروں پر رنگ دار رسیوں کے ٹکڑے تھے چادر اگے کر کے ان ٹکڑوں کو گانٹھیں دے دی گئی تھیں چادر نہایت موضوع چوغا بن گئی ام ارارہ کے بال ریشم جیسے ملائم اور سیاہی مائل بھورے تھے ایک لڑکی نے اس کے بالوں میں کنگھی کر کے اس کے شانوں پر پھیلا دیے اس سے اس کا حسن اور زیادہ بڑھ گیا نے اسے مسکرا کر دیکھا اور گھوم کر پتھر کے محب چہرے کی طرف چل پڑا دو لڑکیوں نے ام ارارہ کے ہاتھ تھام لیے اور پروہت کے پیچھے پیچھے چل پڑی ام ارارہ شہزادیوں کی طرح چل پڑی اس نے ادھر ادھر نہیں دیکھا کہ ماحول کیسا ہے اس کی چال میں اور ہی شان تھی عورتوں کا رگ اسے پہلے سے زیادہ تلسماتی اور پرسوز معلوم ہونے لگا وہ فرہت کے پیچھے ہاتھ لڑکیوں کے ہاتھوں پر رکھے چبوترے کی سیڑھیاں چڑھنے لگی فروخت پتھر کے پہاڑ جیسے چہرے کے منہ میں داخل ہو گیا ام ارارہ بھی تین سیڑھیاں چڑھ کر پتھر کے منہ میں جھک کر داخل ہو گئی دونوں لڑکیاں وہیں کھڑی تھیں ام ارارہ کا ہاتھ پیروہت نے تھام لیا منہ کی چھت اتنی اونچی تھی کہ وہ سیدھے چل رہے تھے حلق میں پہنچے تو اگے سیڑھیاں تھیں
ENGLISH
He also bowed down and came out. He looked a little old. His robe was red and he had a crown on his head. A snake which was artificial was sitting on his right shoulder with a coil and spread out a feather and on one left shoulder were two snakes. The colors were black, and Umm Arara was so impressed that she stood listening. He took both her hands in his hands and kissed her and said to the girl in Arabic, "You are the lucky girl who has been liked by my god. We congratulate you." If you believe in the gods, then I tell you through them that leave me, why have you brought me here, whoever is here says this, said the sale, but the secret of this holy place is revealed to him. She says that I don't want to go from here, I know you are the beloved of the Caliph of Muslims, but the Caliph of the world and the angels of the heavens bow before the one who loved you. You have entered heaven. He took out a flower and placed it next to Umm Arara's nose. Umm Arara was the princess of the Haram. This hunger went down to his soul, the color of his thoughts changed, the angle of his eyes changed. She took the priest's hand with the flower and brought it close to her nose, smelled the flower and said in a loud voice, "What a lovely gift, you will give it to me, have you accepted the gift?" Umm Amara replied I have accepted this gift. She smelled the flower once more and she closed her eyes as if trying to absorb its fragrance into her being the god also accepted you. The sale said and asked where have you been till now, the girl got lost in thought as if she was trying to remember something, she shook her head and said this was it, no, I was in another place, I don't remember where I was, who brought you here. No one, Umm Arara replied, I am Ai myself, you did not come on a horse, no, the girl replied, I am getting up, Ain't there deserts, mountains, forests and deserts on the way? There were green fields and flowers everywhere, no one had tied a blindfold on your eyes, no blindfold, so the girl replied, My eyes were open and I saw colorful birds, dear dear birds, Farhat said loudly in his language. Said four girls came from behind Umm Arara, they took off her clothes, she became naked, she smiled and asked, will the gods like me in this state, Rahat said no, you will be dressed in the clothes that the gods like. He put a sheet on his shoulders, which was so loose that his body was covered from shoulders to feet. There were pieces of colored ropes on the edges of the sheet. Gayi Umm Arara's hair was soft like silk and inky brown. A girl combed her hair and spread it over her shoulders. The two girls held Umm Arara's hands and followed behind the priest. Umm Arara walked like a princess. She did not look around to see how the environment was. He began to look more talismanic and persuasive than Farhat, placing his hands on the girls' hands and climbing the steps of the platform. The two girls were standing there, Umm Arara's hand was held by Piruhit, the roof of the mouth was so high that they were walking straight, when they reached the throat, there were stairs ahead.
Urdu
بلک میں پہنچے تو اگے سیڑھیاں تھیں وہ سیڑھیاں اتر گئے یہ ایک تہخانہ تھا جہاں قندیلے روشن تھیں اس کمرے میں بھی مہک تھی یہ کمرہ کشادہ نہیں تھا چھت اونچی نہیں تھی اس کی دیواریں اور چھت درختوں سے پتوں اور پھولوں سے ڈکی ہوئی تھیں فرش پر ملائم گھاس اور گھاس پر پھول تھے ایک کونے میں خوشنما سراہی اور پیالے رکھے تھے فراحت نے سراہی سے دو پیالے بھرے ایک ام ارارہ کو دیا دونوں نے پیالے ہونٹوں سے لگائے اور خالی کر دیے دیوتا کب ائے گا ام ارارہ نے پوچھا تم نے ابھی ہی سے پہچانا نہیں راحت نے کہا تمہارے سامنے کون کھڑا ہے ام حرارہ اس کے پاؤں میں بیٹھ گئی اور بولی ہاں میں نے پہچان لیا ہے تم وہ نہیں ہو جسے میں نے اوپر دیکھا تھا تم نے مجھے قبول کر لیا ہے ہاں پھراحت نے کہا اج سے تم میری دلہن ہو میں اپ کو اور کچھ نہیں بتا سکتا میرے باپ نے مجھے بتایا تھا کہ فرہت لڑکی کو پھول سنگھاتا ہے جس کی خوشبو سے لڑکی کے ذہن سے نکل جاتا ہے کہ وہ کیا تھی کہاں سے ائی ہے اور کس طرح لائی گئی ہے وہ فراحت کی ل**** بن جاتی ہے اور اسے دنیا کی گندی چیزیں بھی خوبصورت دکھائی دیتی ہیں پھراہت اسے تین راتیں اپنے ساتھ تہخانے میں رکھتا ہے یہ انکشاف ان پانچ سوڈانی حبشیوں میں سے ایک نے علی بن سفیان کے سامنے کیا جنہیں اس نے خلیفہ کے محافظ دستے میں سے نکالا تھا یہ پانچوں اسی قبیلے میں سے تھے جس قبیلے کے وہ چاروں تھے جنہوں نے ام ارارہ کو اغوا کیا تھا اپنے ساتھ لے جا کر علی بن سفیان نے ان پانچوں سے کہا تھا کہ چونکہ وہ اسی قبیلے کے ہیں جو تیسرے سال کے اخر میں جشن مناتا ہے اور وہ چھٹی پر چا رہے تھے اس لیے انہیں معلوم ہوگا کہ لڑکی کس طرح اغوا ہوئی ہے ان پانچوں نے کہا تھا کہ انہیں اغوا کا علم ہی نہیں علی بن سفیان نے انہیں یہ لالچ بھی دیا کہ وہ سچ بتا دیں تو انہیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی پھر بھی وہ لاعلمی کا اظہار کرتے رہے یہ قبیلہ وحشیانہ مزاج اور خونخواری کی وجہ سے مشہور تھا انہیں سزا کا ذرہ بھر ڈرنا تھا پانچوں بہت دلیری سے انکار کر رہے تھے اخر علی بن سفیان کو وہ طریقہ ازمانے پڑھے جو پتھر کو بھی پگھلا دیتے ہیں پانچوں کو الگ الگ کر کے علی بن سفیان انہیں اس جگہ لے گیا جہاں چیخیں اور اہ و بکا کوئی نہیں سنتا تھا مسلسل اذیت اور تشدد سے کوئی ملزم مر جائے تو کسی کو پرواہ نہیں ہوتی تھی یہ پانچوں سوڈانی بڑے ہی سخت جان معلوم ہوتے تھے وہ رات بھر اذیت سہتے رہے علی بن سفیان رات بھر جاگتا رہا اخر انہیں اس امتحان میں ڈالا گیا جو اخری حربہ سمجھا جاتا تھا یہ تھا چکر شکنجا رہٹ کی طرح چوڑے اور بہت بڑے پہیے پر ملزم کو الٹا لٹا کر ہاتھ رسیوں سے چکر کے ساتھ باندھ دیا جاتے تھے اور پاؤں ٹخنوں سے رسیاں ڈال کر فرش میں گاڑے ہوئے کیلوں سے کس دیے جاتے تھے پیے کو ذرا سا اگے چلایا جاتا تو ملزم کے بازو کندھے سے اور ٹانگیں کولوں سے الگ ہونے لگتی تھیں بعض اوقات ملزم کو کھینچ کر پئیے کو ایک جگہ روک لیا جاتا تھا اذیت کا یہ طریقہ ملزموں کو بے ہوش کر دیتا تھا سائہر کے وقت ایک ادھیڑ عمر حبشی نے علی بن سفیان سے کہا میں سب کچھ جانتا ہوں لیکن دیوتا کے ڈر سے نہیں بتاتا دیکھتا مجھے بہت بری موت ماریں گے کیا اس سے بڑھ کر کوئی بری موت ہو سکتی ہے جو میں تمہیں دے رہا ہوں علی بن سفیان نے کہا اگر تمہارے دیوتا سچے ہوتے تو وہ تمہیں اس شکنجے سے نکال نہ لیتے تم اگر مرنے سے ڈرتے ہو تو موت یہاں بھی موجود ہے تم بات کرو میرے ہاتھ میں ایک ایسا دیوتا ہے جو تمہیں تمہارے دیوتا سے بچا لے گا یہ سوڈانی حبشی کئی بار بے ہوش ہو چکا تھا اسے دیوتا تو نہیں موت صاف نظر ارہی تھی علی بن سفیان نے اس کی زبان کھول دی اور اسے شکنجے سے کھول کر کھلایا پلایا اور
ENGLISH
When we reached the bulk, there were stairs ahead, those stairs went down. It was a basement where the lamps were bright. There was also a smell in this room. This room was not spacious. The ceiling was not high. Its walls and ceiling were covered with trees, leaves and flowers on the floor. There were flowers on the soft grass and the grass. In one corner there were pleasant praises and bowls. Farahat gave two bowls full of praise to Umm Arara. They both put the bowls to their lips and emptied them. Rahat said, "Who is standing in front of you?" Umm Harara sat at his feet and said, "Yes, I have recognized you. You are not the one I saw above. You have accepted me." You are my bride, I can't tell you anything else. My father told me that Farhat gives a flower to a girl, the smell of which leaves the girl's mind as to what it was, where it came from and how it was brought. She becomes the daughter of Faraht and sees even the dirty things of the world as beautiful. Then Rahat keeps her in the dungeon with him for three nights. These five were from the same tribe as the four who had kidnapped Umm Arara and Ali bin Sufyan told them that since they were from the same tribe. who celebrates at the end of the third year and they wanted to go on a holiday so they would know how the girl was kidnapped. The five of them said that they did not know about the kidnapping. Ali bin Sufyan also lured them. that if they tell the truth, they will not be punished, yet they continued to express ignorance. This tribe was famous for its brutality and bloodthirstiness. Sufyan was tested by methods that melt even stones. After separating the five, Ali bin Sufyan took them to a place where no one could hear the screams and moans. These five Sudanese seemed to be very tough souls. They suffered all night. Ali bin Sufyan stayed awake all night. Finally, they were put to this test, which was considered as the last resort. The accused was lying upside down on the wheel and his hands were tied with ropes around the wheel and his feet were tied with ropes from the ankles to the nails driven into the floor. Sometimes the accused was dragged and held in one place. This method of torture made the accused unconscious. I don't tell because of the fear of seeing that I will die a very bad death. Can there be a worse death than what I am giving you? If you are afraid of dying, then death is also here. Talk to me. There is a god in my hand who will save you from your god. This Sudanese Abyssinian had fainted many times. He untied his tongue and fed him with the clamp
اور ارام سے لٹا دیا اس نے اعتراف کیا کہ ام ارارہ کو ان کے قبیلے کے چار ادمیوں نے اغوا کیا تھا وہ چاروں چھٹی چلے گئے تھے انہوں نے اغوا کی رات اور وقت بتا دیا تھا یہ پانچ حبشی جو علی بن سفیان کے قبضے میں تھے اس رات پہرے پر تھے اغوا کرنے والوں میں سے دو کو اندر انا تھا انہیں بڑے دروازے داخل کرنے کا انتظام انہوں نے کیا تھا اور انہیں اغوا اور فرار میں پوری مدد دی تھی اس حبشی نے بتایا کہ اس لڑکی کو دیوتا کی قربان گاہ پر قربان کیا جائے گا ہر تین سال بعد ان کا قبیلہ چار روزہ جشن مناتا ہے لیکن لڑکی اپنے قبیلے کی نہیں ہوتی شرط یہ ہے کہ لڑکی غیر ملکی ہو سفید رنگ کی ہو اونچے درجے کے خاندان کی ہو اور اتنی خوبصورت ہو کہ لوگ دیکھ کر ٹھٹک جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تین سال بعد تمہارا قبیلہ باہر سے ایک خوبصورت لڑکی کو اغوا کر کے لاتا ہے علی بن سفیان نے پوچھا نہیں یہ غلط ہے سوڈانی حبشی نے جواب دیا تین سال بعد صرف میلہ لگتا ہے لڑکی کی قربانی پانچ میلوں کے بعد یعنی ہر 15 سال بعد دی جاتی ہے مشہور یہی ہے کہ ہر تین سال بعد لڑکی قربان کی جاتی ہے اس نے اپنے باپ کے حوالے سے وہ جگہ بتائی جہاں قربانی دی جاتی تھی پھر احد کو وہ دیوتا کا بیٹا کہتا تھا جہاں میلہ لگتا تھا اس سے ڈیڑھ ایک میل جتنی دور ایک پہاڑی علاقہ تھا جہاں جنگل بھی تھا یہ علاقہ زیادہ وسیع اور عریض تھا اس کے متعلق مشہور تھا کہ وہاں دیوتا رہتے ہیں اور ان کی خدمت کے لیے جن اور پریاں بھی رہتی ہیں لوگ اس لیے یہ باتیں مانتے تھے کہ ہر طرف صحرا اور اس میں جزیرے کی طرح کچھ علاقہ پہاڑی اور سرسبز تھا جو قدرت کا ایک عجوبہ تھا یہ دیوتاؤں کا مسکن ہی ہو سکتا تھا اس علاقے میں فرعونہ کے وقتوں کے کھنڈر تھے وہاں ایک جھیل بھی تھی جس میں چھوٹے مگرمچھ رہتے تھے قبیلے کا کوئی ادمی سنگین جرم کرے تو اسے پروہت کے حوالے کر دیا جاتا تھا فروخت اسے زندہ جھیل میں پھینک دیتا تھا جہاں مگرمچھ اسے کھا جاتے تھے پروہت انہی کھنڈروں میں رہتا تھا وہاں ایک بہت بڑا پتھر کا سر اور منہ تھا جس میں دیوتا رہتا تھا ہرپندرہویں سال کے اخری دنوں میں باہر سے ایک لڑکی اغوا کر کے لائی جاتی جو پیروہت کے حوالے کر دی جاتی تھی فروخت لڑکی کو ایک پھول سنگھاتا تھا جس کی خوشبو سے لڑکی کے ذہن سے نکل جاتا تھا کہ وہ کیا تھی کہاں سے ائی تھی اور اسے کون لایا تھا اس پھول میں کوئی نشہ اور بو ڈالی جاتی تھی جس کے اثر سے وہ فروخت کو دیوتا اور اپنا خاوند سمجھ لیتی تھی اسے وہاں کی گندی چیزیں بھی خوبصورت دکھائی دیتی تھیں لڑکی کی قربانی انہی کھنڈرات میں دی جاتی تھی لڑکی کو فروخت تہ خانے میں اپنے ساتھ رکھتا تھا اس جگہ چار مرد اور چار خوبصورت لڑکیاں رہتی تھیں ان کے سوا کسی کو پہاڑ کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی لڑکی کو کو جب قربان گاہ پر لے جایا جاتا تو اسے احساس ہی نہ ہوتا کہ اس کی گردن کاٹ دی جائے گی وہ فخر اور خوشی سے مرتی تھی اس کا دھڑ مگرمچھوں کی جھیل میں پھینک دیا جاتا اور بال کاٹ کر قبیلے کے ہر گھر میں تقسیم کر دیا جاتے تھے ان بالوں کو مقدس سمجھا جاتا تھا لڑکی کا سر خشک ہونے کے لیے رکھ دیا جاتا تھا جب گوشت ختم ہو کر صرف کھوپڑی رہ جاتی تو اسے ایک غار میں رکھ دیا جاتا تھا لڑکی کسی کو دکھائی نہیں جاتی تھی 15 سال پورے ہو رہے ہیں اب کہ لڑکی کی قربانی دی جائے گی اس حبشی نے کہا ہم نو ادمی مصر کی فوج میں بھرتی ہوئے تھے ہمیں چونکہ نیڈر اور وحشی سمجھا جاتا ہے اس لیے ہمیں خلیفہ کے محافظ دستے کے لیے منتخب کر لیا گیا دو مہینے گزرے ہم نے اس لڑکی کو دیکھا ایسی خوبصورت لڑکی ہم نے کبھی نہیں دیکھی تھی ہم سب نے فیصلہ کر لیا کہ اس لڑکی کو اٹھا لے جائیں گے اور قربانی کے لیے پیش کریں گے ہمارے ایک ساتھی نے جو کل مارا گیا ہے اپنے گاؤں جا کر قبیلے کے بزرگ کو بتا دیا تھا کہ اس بار قربانی کے لیے ہم لڑکی لائیں گے ہم نے لڑکی کو اغوا کر لیا ہے یہ قصہ صلاح الدین ایوبی کو سنایا گیا تو وہ گہری سوچ کھو گئے علی بن سفیان ان کے حکم کا منتظر تھا سلطان ایوبی نے نقشہ دیکھا اور کہا اگر جگہ یہ ہے تو یہ ہماری عملداری سے باہر ہے تم نے شہر کے پرانے لوگوں سے جو معلومات لی ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرعون تو صدیاں گزرے مر گئے ہیں لیکن فرعونیت ابھی باقی ہے بحیثیت مسلمان ہم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اگر دور نہ پہنچ سکیں تو قریبی پڑوس سے تو کفر اور شرک کا خاتمہ کریں اج تک معلوم نہیں کتنے والدین کی معصوم بیٹیاں قربان کی جا چکی ہیں اور اس میلے میں کتنی بیٹیاں اغوا ہو کر فروخت ہو جاتی ہیں ہمیں دیوتاؤں کا تصور ختم کرنا ہے لوگوں کو دیوتاؤں کا تصور دے کر نام نہاد مذہبی پیشوا لڑکیاں اغوا کر کے بدکاری اور عیاشی کرتے ہیں میرے مخبروں کے اطلاع نے یہ بےہودہ انکشاف کیا ہے کہ ہماری فوج کے کئی کماندار اور مصر کے پیسے والے لوگ اس میلے میں جاتے ہیں اور لڑکیاں خریدتے یا چند دنوں کے لیے کرائے پر لاتے ہیں علی بن سفیان نے کہا کردار کی تباہی کے علاوہ یہ خطرہ بھی ہے کہ سودانیوں کی برطرف فوج کے عسکری اس میلے میں زیادہ تع
ENGLISH
He confessed that Umm Arara was abducted by four people from his tribe. They had gone on vacation. They told the night and time of the abduction. These five Abyssinians were in the possession of Ali bin Sufyan. Two of the kidnappers who were on watch that night had Anna inside, he arranged for them to enter the big gate and gave them full assistance in the abduction and escape. Every three years, their tribe celebrates a four-day festival, but the girl does not belong to her tribe. The condition is that the girl is foreign, white, from a high-ranking family, and so beautiful that people are stunned. So this means that every three years your tribe kidnaps a beautiful girl from outside. Ali bin Sufyan asked, "No, this is wrong." After that, it is given after every 15 years. It is known that every three years a girl is sacrificed. He told about his father the place where the sacrifice was given. There was a hilly area about a mile and a half away from it where there was also a forest. This area was more extensive and wide. It was believed that there was a desert everywhere and some area like an island in it was mountainous and green, which was a wonder of nature. It could have been the abode of the gods. When a member of the tribe committed a serious crime, he was sold and thrown into the lake alive, where crocodiles ate him. In the last days of every fifteenth year, a god was abducted and brought from outside, who was handed over to Purohita. Ai was and who had brought her, some drug and smell was added to this flower, due to which she considered the seller to be a god and her husband, even the dirty things there looked beautiful. He used to keep the girl with him in the basement where four men and four beautiful girls lived, except for them no one was allowed to go inside the mountain. When the girl was taken to the altar, he did not realize that Her neck would be cut. She would die proudly and happily. Her torso would be thrown into a lake of crocodiles and the hair would be cut and distributed in every house of the tribe. When the meat was gone and only the skull was left, it was kept in a cave. Nine men were recruited into the Egyptian army. We were considered cowards and barbarians, so we were selected for the Caliph's guard. Two months passed. We saw this girl. We had never seen such a beautiful girl. All of us. decided to pick up this girl and offer her for sacrifice. One of our comrades who was killed yesterday went to his village and told the tribal elder that this time we will bring a girl for sacrifice. has abducted the girl. This story was narrated to Salah al-Din Ayyubi, he lost his deep thought. Ali bin Sufyan was waiting for his order. Sultan Ayyubi saw the map and said, "If this is the place, then it is beyond our jurisdiction. You From the information we have taken from the old people of the city, it is proved that the pharaoh has passed away after centuries but the pharaohism still remains. End polytheism, it is not known how many parents' innocent daughters have been sacrificed and how many daughters are kidnapped and sold in this festival. The report of my informants has revealed the nonsense that many commanders of our army and wealthy people of Egypt go to this fair and buy girls or hire them for a few days Ali bin Sufyan. He said that in addition to the destruction of character, there is also a danger that the soldiers of the dismissed army of the Sudanese are more involved in this festival
ہماری فوج اور ہمارے دوسرے لوگوں کا سوڈانی سابقہ فوجیوں کے ساتھ ملنا جلنا اور جشن منانا ٹھیک نہیں یہ مشترکہ تفریح ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے علی بن سفیان نے ذرا جھجک کر کہا اور لڑکی کو قربان ہونے سے پہلے بچانا اور خلیفہ کے حوالے کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس نے بے بنیاد اور لغف ہے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں علی سلطان ایوبی نے کہا میری توجہ اپنی ذات پر نہیں مجھے کوئی کتنا ہی حقیر کہے اسلام کی عظمت کے فروغ اور تحفظ کو نہیں بھول سکتا میری ذات کچھ بھی نہیں اور تم بھی یاد رکھو علی اپنی ذات سے توجہ ہٹا کر سلطنت کے استحکام اور فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز رکھو اسلام کی عظمت کا امین خلیفہ ہوا کرتا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خلیفہ اپنی ذات میں گم ہوتے گئے اور اپنے نفس کا شکار ہو گئے اب ہماری خلافت اسلام کی بہت بڑی کمزوری بن گئی ہے صلیبی ہماری اس کمزوریوری کو استعمال کر رہے ہیں اگر تم کامیابی سے اپنے فرائض نبھانا چاہتے ہو تو اپنی ذات اور اپنے نفس سے دستبردار ہو جاؤ خلیفہ نے مجھ پر جو الزام عائد کیا ہے اسے میں نے بڑی مشکل سے برداشت کیا ہے میں اوچھے وار جواب دے سکتا تھا مگر میرا وار بھی اچھا ہوتا پھر میں ذاتی سیاست بازی میں الجھ جاتا مجھے خطرہ یہی نظر ارہا ہے کہ ملت اسلامیہ کسی دور میں جا کر اپنے ہی حکمرانوں کی ذاتی سیاست بازیوں خود پسندی نفس پرستی اور اقتدار کی ہوس کی نظر ہو جائے گی گستاخی کی معافی چاہتا ہوں محترم امیر علی بن سفیان نے کہا اگر اپ اس لڑکی کو قربان ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو حکم صادر فرما دیجئے وقت بہت تھوڑا ہے پرسوں سے میلا شروع ہو رہا ہے فوج میں یہ حکم فورا پہنچا دو کہ اس میلے میں کسی فوجی کو شریک ہونے کی اجازت نہیں سلطان ایوبی نے نائب سالار کو بلا کر کہا خلاف ورزی کرنے والے کو اس کے عہدے اور رتبے سے قطع نظر 50 کوڑے سرعام لگائے جائیں گے اس حکم کے بعد سکیم بننے لگی متعلقہ حکام کو سلطان ایوبی نے بلا لیا تھا انہوں نے سب سے کہا تھا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس تلسم کو توڑنا ہے یہ جگہ فرعونیت کی اخری نشانی معلوم ہوتی ہے پہلے فوج کشی زیر بحسائی جو اس وجہ سے خارج از بحث کر دی گئی کہ اس قبیلے کے لوگ اسے اپنے اوپر باقاعدہ حملہ سمجھیں گے لڑائی ہوگی جس میں میلہ دیکھنے والے بے گناہ لوگ بھی مارے جائیں گے اور عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کا خطرہ بھی ہے یہ حل بھی پیش کیا گیا کہ اس سوڈانی حبشی کو رہنما کے طور پر ساتھ رکھا جائے اور اس جگہ چھاپہ مار بھیجے جائیں جہاں لڑکی کو قربان کیا جائے گا سلطان ایوبی نے حبشی کو ساتھ لے جانا پسند نہیں کیا کیونکہ دھوکے کا خطرہ تھا اس وقت تک سلطان ایوبی کے حکم کے مطابق چھاپہ ماروں اور شب خون مارنے والوں کا ایک دستہ تیار کیا جا چکا تھا اسے مسلسل جنگی مشکن سے تجربہ کار بنا دیا گیا تھا کہ وہ جانبازوں کا دستہ تھا جنہیں جذبے کے لحاظ سے اس قدر پختہ بنا دیا گیا تھا کہ وہ اس پر فخر محسوس کرنے لگے کہ انہیں جس مہم پر بھیجا جائے گا اس سے وہ زندہ واپس نہیں ائیں گے نائب سالار الناصر اور علی بن سفیان کے مشوروں سے یہ طے ہوا کہ صرف 12 چھاپہ مار اس پہاڑی جگہ کے اندر جائیں گے جہاں پروہت رہتا ہے اور لڑکی قربان کی جاتی ہے حبشی کی دی ہوئی معلومات کے مطابق اس رات میلے میں زیادہ رونق ہوتی ہے کیونکہ وہ میلے کی اخری رات ہوتی ہے قبیلے کے لوگوں کے سوا کسی اور کو معلوم نہیں ہوتا کہ لڑکی قربان کی جا رہی ہے جسے معلوم ہوتا ہے وہ یہ نہیں بتاتا کہ قربان گاہ کہاں ہے ان معلومات کی روشنی میں یہ طے کیا گیا کہ 500 سپاہی میلہ دیکھنے والوں کے بحث میں تلواروں وغیرہ سے مسلح ہو کر اس رات میلے میں موجود ہوں گے ان میں سے 200 کے پاس تیر کمان ہوں گے اس زمانے میں ان ہتھیاروں پر پابندی نہیں تھی چھاپہ ماروں کے ذہنوں میں واضح تصور کی صورت میں وہ جگہ نقش کر دی جائے گی وہ براہ راست حملہ نہیں کریں گے چھاپہماروں کی طرح پہاڑی علاقے میں داخل ہوں گے پہرہ داروں کو خاموشی سے ختم کریں گے اور اصلی جگہ پہنچ کر اس وقت حملہ کریں گے جب لڑکی قربان گاہ میں لائی جائے گی اس سے قبل حملے کا یہ نقصان ہو سکتا ہے کہ لڑکی کو تہ خانے میں ہی غائب یا ختم کر دیا جائے گا یہ معلوم ہو گیا تھا کہ قربانی ادھی رات کے وقت پورے چاند میں دی جاتی ہے 500 سپاہیوں کو اس وقت سے پہلے قربان گاہ والی پہاڑیوں کے ارد گرد پہنچنا تھا چھاپہ ماروں کے لیے گھیرے میں ا جانے یا مہم ناکام ہونے کی صورت میں یہ ہدایت دی گئی کہ وہ فیتے والا ایک اتشی تیر اوپر کو چلائیں گے اس تیر کا شعلہ دیکھ کر یہ 500 نفری حملہ کر دے گی اسی وقت 12 جاں باز منتخب کر لیے گئے اور اس فوج میں سے جو دو سال پہلے نور الدین زنگی رحمت اللہ علیہ نے سلطان ایوبی کی مدد کے لیے بھیجی تھی 5 س ذہین اور بے خوف سپاہی عہدے دار اور کماندار منتخب کر لیے گئے
ENGLISH
It is not right for our army and our other people to mingle and celebrate with Sudanese ex-soldiers. This joint entertainment can be dangerous for the country. It is also important to do so that he knows that he has baseless and nonsense. I do not care about it. Ali Sultan Ayyubi said, I am not focused on myself, no matter how much someone despises me, the promotion and protection of the greatness of Islam. Can't forget my self is nothing and you also remember Ali divert your attention from your self and concentrate on the stability and welfare of the empire. They got lost and became victims of their own selves. Now our caliphate has become a great weakness of Islam. I have borne the accusation that has been brought against me with great difficulty. By going, the personal politics of your own rulers, self-interest, selfishness and lust for power will be seen. The time is very short, the fair is starting from the day after tomorrow, send this order to the army immediately that no soldier is allowed to participate in this fair. Regardless, 50 whips will be applied in public. After this order, the scheme started to form. Sultan Ayubi called the relevant authorities. He told everyone that our goal is to break this talisman. First, the military massacre was discussed, which was ruled out because the people of this tribe would consider it a regular attack on them. It was also proposed that this Sudanese negro be taken along as a guide and sent on a raid to the place where the girl would be sacrificed. By this time a force of raiders and night-killers had been prepared under the orders of Sultan Ayyubi, who had been seasoned by continuous combat, and were a force of veterans who had become so strong in spirit. It was given that he began to feel proud that he would not return alive from the expedition on which he would be sent, and on the advice of the viceroy Al-Nasir and Ali bin Sufyan, it was decided that only 12 raiders would enter the mountainous region. They will go to where the priest lives and the girl is sacrificed. According to the information given by the Abyssinian, there is more excitement in the festival on this night because it is the last night of the festival. In the light of this information, it was decided that 500 soldiers armed with swords etc. would be present at the fair that night, among the fair goers. 200 will have bows and arrows in those days, these weapons were not banned. The place will be mapped out in the minds of the raiders with a clear vision. They will not attack directly. Kill the dars quietly and arrive at the actual location and attack when the girl is brought to the altar before the attack may result in the girl disappearing or being eliminated in the basement. It was known that the sacrifice was offered at midnight on the full moon, and 500 soldiers were to arrive before that time around the hills containing the altar, instructing the raiders in case they were surrounded or the expedition failed. It was said that they will fire a stringed arrow upwards, seeing the flame of this arrow, it will attack 500 people. 5 intelligent and fearless soldiers sent to help Sultan Ayyubi were selected as officers and commanders.

No comments:
Post a Comment