https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Sunday, 12 November 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 2

 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 2




رہے تھے شکست کے اسباب بڑے واضح ہیں مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نئی بھرتی لے کر گیا اگر میں زیادہ دیر انتظار کرتا اور مصر میں بیٹھا رہتا تو دشمن سارے شام میں پھیل جاتا میں نے فوج کی جس کمی کو نئے سپاہیوں سے پورا کیا ہے اس کے متعلق تم جانتے ہو لیکن میں اس بحث میں وقت ضائع نہیں کروں گا کہ اس کا ذمہ دار فلاں ہے اور وہ گناہ فلاں نے کیا ہے اگر جرم عائد کرنا ہے تو مجھ پر کرو فوج کو میں نے لڑایا ہے اگر چالیں غلط تھیں تو وہ میری تھیں اس کا کفارہ مجھے عطا کرنا ہے اور میں کروں گا فتح اور شکست ہر مارکے کا انجام ہوتا ہے اج ہم اس انجام سے دوچار ہوئے ہیں جس کے لیے تم ذہنی طور پر تیار نہیں تھے اس لیے تم سب کے چہروں پر اداسی اور انکھوں میں بے چینی ہے اگر تم مجھے شکست کی سزا دینا چاہتے ہو تو میں اس کے لیے بھی تیار ہوں میرے کانوں میں یہ اوازیں بھی پہنچ رہی ہیں کہ میری فوج شام میں جا کر ابرو ریزی لوٹ مار اور شراب خوری کی ادھی ہو گئی تھی مجھے یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ میں نے خلیفہ بغداد پر دہشت طاری کرنے کے لیے دانستہ شکست کھائی ہے اور میں شکست کو فتح میں بدل کر خلیفہ کو اپنا مرید بنانے کی کوشش کر رہا ہوں یہاں تک کہ مجھے فرعون تک کہا جا رہا ہے میں کسی بھی الزام کا جواب نہیں دوں گا ان الزامات کا جواب میری زبان نہیں میری تلوار دے گی میں الفاظ سے نہیں عمل سے ثابت کروں گا کہ یہ کس کے گناہ تھے جن کی سزا مجھے اور میرے مجاہدین کو ملی ہے اتنے میں دربان نے اطلاع دی کہ حماد سے قاصد ایا ہے سلطان ایوبی نے اسے فورا اندر بلایا گرد و غبار سے اٹے ہوئے اور تھکے چور قاصد نے سلطان ایوبی کو ان کے چھوٹے بھائی علی عدل کا پیغام دیا سلطان ایوبی نے اسے فورا اندر بلایا گرد و غبار سے اٹے ہوئے اور تھکن سے چوڑ کا صد نے سلطان ایوبی کو ان کے چھوٹے بھائی الادل کا پیغام دیا پیغام کھول کر پڑھا تو سلطان ایوبی کی انکھوں میں انسو اگئے سلطان نے پیغام ایک سالار کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ یہ پڑھ کر سب کو سناؤ جوں جوں سالار پیغام پڑھتا جا رہا تھا سب کی انکھوں میں چمک اتی جا رہی تھی سسکیوں کی طرح تین چار سرگوشیاں سنائی تھی زندہ باد زندہ باد یہ گنہگاروں کا کارنامہ ہے سلطان ایوبی نے کہا تم میں سے جو قاہرہ میں تھے نہیں جانتے کہلادل کے پاس کتنی فوس ہے تم یہ بھی نہیں جانتے کہ بال ڈون کے پاس 10 گنا زیادہ فوج تھی اس کے سوار ذرہ پوش تھے اس کے پیادے لوہے کے خود پہنے ہوئے تھے کیا الادل کے مجاہدین نے ثابت نہیں کر دیا کہ ہم شکست کو فتح میں بدل سکتے ہیں کیا تم مجھ سے یہ امید رکھتے ہو کہ سر پکڑ کر بیٹھ جاؤں اگلی جنگ کی تیاری کرو مجھے فوج کی ضرورت ہے تمہیں قبلہ اول پکار رہا ہے میں دشمن کے ساتھ کوئی سمجھوتا اور کوئی معاہدہ نہیں کروں گا الادل کے پیغام نے جہاں سلطان صلاح الدین ایوبی کو حوصلہ دیا وہاں تمام سالاروں وغیرہ کے بھی مضرو حوصلے تر و تازہ ہو گئے ان میں سے بعض کے دلوں میں سلطان ایوبی اور اس کی فوج کے خلاف شکوک و شبہات پیدا ہو چکے تھے اور وہ صاف ہو گئے سلطان صلاح الدین ایوبی کے چھوٹے بھائی الادل نے اسی ایک معرکے پر اکتفا نہیں کیا الادل نے اپنے دستوں کو 30 سے 40 کی نفری کے جیشوں میں تقسیم کر دیا اور انہیں اس علاقے میں لے گیا جہاں بالڈون کی فوج خیمہ زن تھی ارادل نے اپنے جیشوں کے کمانداروں کو شب خون مارنے اور غائب ہو جانے کی ہدایات دیں مقصد صرف یہ تھا کہ دشمن کو پریشان رکھا جائے تاکہ وہ پیش قدمی بھی نہ کر سکے اور ارام سے بیٹھ بھی نہ سکے صلیبی بادشاہ بالڈون پہلے ہی نقصان اٹھا چکا تھا وہ تو اس ارادے سے اتنی زیادہ فوج لے کر ایا تھا کہ دمش سے لے کر مصر تک کی تمام علاقے پر قبضہ کر لے گا اب اس کی حالت یہ تھی کہ ہر رات خیمہ گاہ کے کسی نہ کسی حصے پر تیروں کی بوچھاڑ ہوا کرتی تھی فوج کے بیدار ہونے تک حملہ اور غائب ہو جاتے تھے والڈون نے فوج کو تمام تر علاقے میں دور دور پھیلا دیا الادل کے چھاپہ ماروں کو پکڑنے کے لیے اس نے بھی ٹولیاں تیار کی جو رات کو گشت پر رہتی تھیں مگر ہر صبح والڈون کو یہ خبر سننی پڑتی کہ اج فلاں کیمپ پر حملہ ہوا یا فلاں ٹولی ماری گئی کیونکہ وہ علاقہ پہاڑی تھا اس لیے الادل کے چھاپہ مار جیش خوب فائدہ اٹھا رہے تھے مگر یہ فائدہ الادل کو بہت مہنگا پڑ رہا تھا چبا مار اتنی دلیری سے شب خون مارتے تھے کہ دشمن کے کیم کے اندر چلے جاتے اور ان میں سے چند ایک جاننے قربان کر دیتے تھے اس طریقہ جنگ اور اس قربانی سے الادل کو علاقہ فتح نہ کر سکا اور وہ دشمن کو وہاں سے پیچھے بھی نہیں ہٹا سکتا تھا لیکن یہ
888
ENGLISH
The reasons for the defeat are very clear. I made the mistake of taking new recruits. If I had waited longer and remained in Egypt, the enemy would have spread throughout Syria. Yes, you know about it, but I will not waste time arguing that so-and-so is responsible and so-and-so committed the crime. So she was mine, I have to give her atonement and I will. Victory and defeat are the end of every brand. And there is restlessness in the eyes. If you want to punish me with defeat, I am ready for that too. These voices are also reaching my ears that my army has gone to Syria and has become half of eyebrow-raising looting and drunkenness. I am also being told that I have deliberately defeated the Caliph of Baghdad in order to terrorize him and that I am trying to convert the defeat into a victory to make the Caliph his disciple, even calling me Pharaoh. Yes, I will not answer any accusation. My tongue will not answer these accusations. My sword will give. informed that a messenger had arrived from Hamad, Sultan Ayyubi immediately called him in. Dusty and tired, the messenger gave a message to Sultan Ayyubi about his younger brother Ali Adl. Sultan Ayyubi immediately called him in. Fatigued and exhausted, the centurion gave the message of his younger brother Al-Adil to Sultan Ayyubi. When he opened the message and read it, tears came to Sultan Ayyubi's eyes. The Sultan gave the message to a salar and said to read it and tell it to everyone. As Salar was reading the message, everyone's eyes were shining, three or four whispers were heard like sobs, long live long live, this is the work of sinners. Foss you don't even know that Baldon had 10 times his army his horsemen were armored his footmen were wearing iron themselves didn't the Mujahideen of Al Adal prove that we can turn defeat into victory. Do you expect me to sit down and prepare for the next battle? I need an army. The First Qibla is calling you. I will not make any compromises or agreements with the enemy. Ayyubi was encouraged. There, the morale of all the salars etc. was refreshed. Some of them had doubts and suspicions against Sultan Ayyubi and his army, and they were cleared. Bhai Al-Adl did not stop at this one battle. Al-Adl divided his troops into armies of 30 to 40 men and led them to the area where Baldwin's army was encamped. and give instructions to disappear. The purpose was only to keep the enemy distracted so that he could not advance or sit down from Aram. The crusader king Baldwin had already suffered losses. He had said that he would capture all the territory from Damascus to Egypt. Now his condition was that every night there was a barrage of arrows on some part of the camp until the army woke up and disappeared. As he went, Waldoun spread the army far and wide across the region. To catch the raiders of Al-Adl, he also prepared bands that were on patrol at night, but every morning Waldoun had to hear the news that such and such a camp had been attacked. One or another group was killed because that area was hilly, so the raiders of Al-Adal were taking good advantage, but this advantage was costing Al-Adal very dearly. And some of them used to sacrifice their acquaintances because of this method of war and this sacrifice, Al-Adl could not conquer the area and he could not even drive the enemy back from there, but this
888
جلیبیوں کی اتنی بڑی فوج پیش قدمی کرنے کے قابل نہیں رہی تھی اگر والڈون پیش قدمی کرتا تو امنے سامنے جنگ میں الادل اتنی قلیل فوج سے اس کے سامنے دو گھنٹے سے بھی زیادہ ٹھہر نہ سکتا اس نے بال ڈون کے کیمپ میں کام کرنے والے مقامی لوگوں میں اپنے جاسوس بھی چھوڑ دیے تھے وہ دشمن کی ذرا ذرا سی حرکت کی اطلاع الادل کو دے دیتے تھے ایک بار ان جاسوسوں میں سے ایک نے صلیبیوں کے اس خشک گھاس کے پہاڑ جیسے انبار کو اگ لگا دی جو انہوں نے گھوڑوں کے لیے جمع کر رکھا تھا الادل کو یہ خبر مل چکی تھی کہ دمشق سے تھوڑی سی کمک ارہی ہے حلب سے کمک ملنے کی امید نہیں تھی برادران اسلام چند ایک یورپی مرخین نے صلیبی جنگوں کے زور کے متعلق لکھا ہے کہ رملہ کی شکست کے بعد اسلامی فوج کو ختم کر دیا گیا اس کے جو 10 سے بچ گئے تھے انہوں نے لوٹ مار کو پیشہ بنا لیا وہ صلیبیوں کے فوجی قافلوں کو لوٹ لیتے تھے لیکن اپ کو بتاتے چلیں کہ حقیقت تو یہ ہے کہ لوٹ مار خود سی بھی کرتے تھے زیادہ تر مورخین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ صلیبی فوج مقبوضہ علاقوں میں مسلمان قافلوں کو لوٹ لیا کرتی تھی اور یہ لوٹ مار اسی طرح کی جاتی تھی جیسے یہ کوئی فوجی ڈیوٹی ہو جن مسلمان دوستوں کے متعلق چند ایک مورخوں نے یہ لکھا ہے کہ وہ لوٹ مار کرنے لگے تھے دراصل وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے چھوٹے بھائی علدل کے چھاپہ مار جیش تھے جنہوں نے شاہ بالڈون کی اتنی بڑی فوج کو گوریلا اپریشن سے ایک ہی علاقے میں الجھا رکھا تھا ناظرین محترم جیسا کہ ہم اپ سے پہلے بھی گزارش کر چکے ہیں کہ شب خون یعنی گوریلا اپریشن سلطان کے چھوٹے بھائی الادر کو مہنگا پڑ رہا تھا اکثر جیش مسلسل وادیوں وغیرہ میں ہی گھومتے اور بھٹکتے رہتے تھے یہاں تک کہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی وہ اپنے اڈے پر واپس نہیں اتے تھے 888
اسد العصدی کی تحریر کے مطابق یہ مجاہدین چیتوں کی طرح شکار کی تلاش میں رہتے تھے اور جب شکار پر حملہ کرتے تو انہیں اپنی جانیں چلی جانے کا کوئی غم نہ ہوتا وہ دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش میں شہید اور شدید زخمی ہو جاتے ان مجاہدین کی راتیں دشت و بیاباں میں گزرتی اور وہ اپنے من پسند کھانوں سے اپنے اپ کو محروم رکھتے تھے مگر قاہرہ میں یہ پریپوگینڈا بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا تھا کہ اپنی فوج بدکار اور عیاش ہو چکی ہے اور رملہ کی شکست اسی کی سزا ہے کاہرا کی انٹیلیجنس کو یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ پریپوگینڈا کہاں سے اٹھ رہا ہے کیا یہ نئی سپاہیوں کی غیر محتاط بادوں کا نتیجہ ہے یا دشمن کے باقاعدہ ایجنٹ سرگرم ہیں یہ بھی دیکھا گیا کہ لوگ فوج میں بڑھتی ہونے سے ہچکچاتے تھے اس شکست سے پہلے مصریوں کا رویہ ایسا نہیں تھا علی بن سفیان اور غیاس بلبیز نے اپنے مخبروں اور جاسوسوں کا جال بچھا دیا مگر اس کے سوا کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ لوگ فوج کو ب**** کر رہے ہیں سلطان ایوبی کے خلاف بھی باتیں سنی سنائی جانے لگی تھیں وہ سیاریش سفید پوش جو دو بیٹیوں کے ساتھ ایک گاؤں میں ٹھہرا تھا وہیں کا ہو کر رہ گیا گاؤں والوں نے اسے ایک مکان دے دیا تھا اس نے کھلی محفل میں بیٹھنے اور باتیں کرنے سے پرہیز شروع کر دیا تھا اسے مصریوں کے گناہ معاف کرانے کے لیے تین ماہ کا چلہ کرنا پڑا وہ اب مکان سے باہر تھوڑی سی دیر کے لیے نکلتا خاموش رہتا حاضرین کو ہاتھ لہرا کر سلام کرتا اور اندر چلا جاتا اس کے خاص مصاحبوں میں وہی سپاہی تھے جو اس کے ساتھ ائے تھے اور وہ دو ادمی بھی تھے جنہوں نے ٹیلوں کے علاقوں میں اس کے اگے سجدہ کیا تھا ان سب نے اس کی اتنی تشہیر کر دی تھی کہ دور کے لوگ بھی اس کی جھلک دیکھنے کو پہنچ جاتے تھے ایک شام علی بن سفیان کا ایک جاسوس اپنی خفیہ ڈیوٹی پر قاہرہ کے مضافات میں کسی بہروپے کے روپ میں گھوم رہا تھا شام ہو چکی تھی وہ نماز پڑھنے کے لیے ایک مسجد میں چلا گیا نماز کے بعد امام نے دعا مانگی جب دعا ختم ہوئی تو ایک نمازی نے رملہ کی شکست کی بات شروع کر دی اس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج کے خلاف وہی باتیں کی جو سیاہ ریش نے کی تھی اس نمازی نے سیاریش کا حوالہ اس طرح دیا کہ وہ غیب دان ہے اور وہ غیب کی خبریں دیتا ہے اس نے سفر کی پوری روداد سنائی اور بتایا کہ کس طرح غیب سے انہیں پانی اور کھجوریں ملی تھیں تمام نمازی حیران ہو کر اس کی باتیں سن رہے تھے اس نے مزید کہا کہ سلطان ایوبی اور اس کی فوج میں فرعونوں والی خصلتیں پیدا ہو گئی تھیں اور رملہ میں شکست کی اصل وجہ یہی تھی اور اس نے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ نہ تو وہ خود فوج میں بھرتی ہوں اور نہ ہی اپنے بچوں کو ہونے دیں یہ ادمی مسجد سے نکل کر گاؤں سے باہر کو چل پڑا علی بن سفیان کا جاسوس اس کے پیچھے چل پڑا اس سے پوچھا کہ وہ اس سالم سے کس طرح مل سکتا ہے اس نے اپنا مدع یوں بیان کیا کہ میں فوج میں ہوں تمہاری باتیں سن کر میرے دل میں یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ اپنی فوج کے گناہوں کی سزا مجھے لے ڈوبے گی میں بھی دمشق اور حلب کے
ENGLISH
Such a large army of Jalebeans had not been able to advance. If Waldoun had advanced, in a face-to-face battle, Aladdal would not have been able to stay in front of him for more than two hours with such a small army. They had left their spies among the people to report the slightest movement of the enemy to al-Adl. Al-Adl had received the news that a little reinforcement was coming from Damascus. There was no hope of getting
888
 reinforcements from Aleppo. Those who survived the 10 that were abolished, they made looting a profession, they used to loot the military convoys of the Crusaders, but let me tell you that the fact is that most of the historians did the looting themselves. It is confirmed that the crusader army used to loot the Muslim caravans in the occupied territories and this looting was done as if it was a military duty. In fact, they were the raiding party of Sultan Salahuddin Ayyubi's younger brother Aldal, who confused Shah Baldwin's large army in one area with guerilla operations. Dear viewers, as we have requested you before. That Shab Khoon i.e. guerilla operation was costing Sultan's younger brother Aladar, often the Jaish were constantly roaming and wandering in the valleys etc. even to fulfill their needs they did not return to their base by Asad Al Asadi According to this, these Mujahideen used to look for prey like cheetahs and when they attacked the prey, they did not feel sorry for losing their lives. The nights were spent in the desert and they deprived themselves of their favorite food, but this propaganda was growing rapidly in Cairo that their army had become corrupt and licentious and the defeat of Ramla was the punishment of Cairo. Intelligence did not know where this propaganda was coming from, whether it was the result of an incautious influx of new soldiers or whether regular enemy agents were active. The attitude of the Egyptians was not like this. Ali bin Sufyan and Ghiyas Balbeez laid a trap for their informers and spies, but nothing was known except that people were harassing the army. They also heard things against Sultan Ayyubi. She was about to leave, Siarish, the white man, who had stayed in a village with two daughters, remained there. The villagers had given him a house. He had to wait for three months to get the sin forgiven. Now he used to go out of the house for a while and remain silent, wave his hand and greet the audience and go inside. Among his special companions were the soldiers who came with him There were also two people who prostrated before him in the dunes. All of them publicized him so much that even people from far away came to catch a glimpse of him. On duty, he was wandering in the suburbs of Cairo in the form of a disguise. It was evening. He went to a mosque to pray. After the prayer, the imam asked for dua. He said the same things against the army of Sultan Salah al-Din Ayyubi that the Black Resh had done. As to how they had received water and dates from the unseen, all the worshipers were listening to him in amazement. He further said that Sultan Ayubi and his army had developed pharaonic traits and this was the real reason for the defeat in Ramla. And he also told the people that neither they themselves should join the army nor let their children do so. This person left the mosque and walked outside the village. How can he meet this Salim? He explained his claim as follows: I am in the army and after hearing your words, I have a fear in my heart that the punishment for the sins of my army will take me to Damascus. of Aleppo
888
میں بھی دمشق اور حلب کے محازوں پر تھا میں نے وہی گناہ کیے ہیں جن کا ذکر تمہارا مرشد کرتا ہے مجھے اس عالم بزرگ کے پاس لے چلو اگر وہ کہے گا کہ فوج سے بھاگ جاؤ تو میں بھاگ جاؤں گا اور جو خدمت کہے گا میں کروں گا میں خدا کے قہر سے ڈرتا ہوں اس نے اتنی منت سماجت کی کہ اس کے انسو نکل ائے میرے ساتھ چلو اس ادمی نے کہا لیکن کسی سے ذکر نہ کرنا کہ تم اس کے پاس گئے تھے وہ اج کر چلے میں ہیں کسی کے ساتھ بات نہیں کرتا گاؤں دور نہیں تھا وہ باتیں کرتے پہنچ گئے اور رات کافی گہری ہو چکی تھی سپاہی نے جاسوس کو اندھیرے میں کھڑا رہنے کو کہا اور اس مکان میں چلا گیا جہاں سیاریش سفید پوش رہتا تھا تھوڑی دیر بعد واپس ایا سپاہی نے کہا کہ وہ پیچھے والے دروازے سے اندر چلا جائے وہ خود اس کے اگے اگے چل پڑا صحن سے گزرے اور ایک کمرے میں داخل ہو گئے صحن میں روشنی تھی دونوں لڑکیاں جنہیں سیاہ ریش نے اپنی بیٹیاں بتایا تھا ایک اور کمرے میں تھی انہیں جب صحن میں قدموں کی اہٹ سنائی دی تو دونوں نے دریچے کا کواڑ ذرا سا کھول کر دیکھا ایک لڑکی اتنی چونکی کیس کے منہ سے اہ نکل گئی کیا ہوا دوسری لڑکی نے پوچھا کون ہے یہ شاید مجھے دھوکا ہوا ہے اس نے جواب دیا میں نے اس شخص کو کہیں پہلے بھی دیکھا ہے جاسوس نے کمرے میں جا کر سیاریش کے اگے سجدہ کیا اس نے وہی باتیں کی جو وہ سپاہی کے ساتھ کر چکا تھا اس کی انکھوں میں انسو اگئے سیاریش نے اپنی تسبیح اس کے سر پر پھیری اور مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگا کہ مجھے حکم دیں میں سلطان صلاح الدین ایوبی کو قتل کر دوں گا اتنے میں ایک اور ادمی اندر ایا وہ جاسوس کی باتیں غور سے سن رہا تھا اور اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا میرے گناہ اتنے زیادہ ہیں کہ مجھے راتوں کو نیند نہیں اتی جاسوس نے کہا میں نے حماد کے قریب ایک گاؤں میں ایک مسلمان گھرانے کی لڑکی کو اغوا کرنے کے لیے لڑکی کے جواں بھائی کو قتل کر دیا تھا اگر میں فوج میں نہ ہوتا تو مجھے جلاد کے حوالے کر دیا جاتا لیکن مجھے کسی نے پوچھا تک نہیں سیاریش نے انکھیں بند کر لیں اس کے ہونٹ ہل رہے تھے اس نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے پھر جاسوس کی طرف اشارہ کیا ذرا دیر بعد وہ مسکرایا اور اس نے انکھیں کھولیں جاسوس سے کہا بہت مشکل سے تمہارے ساتھ بات کرنے کی اجازت لی ہے غور سے سنو ہم تمہارے گناہ بخشوا دیں گے تم کل پھر یہاں انا کسی کے ساتھ ذکر نہ کرنا سیاریش پھر مراقبے میں چلا گیا سپاہی نے اور دوسرے ادمی نے جاسوس کو اٹھایا اور صحن میں لے جا کر اسے سیاریش کی ایسی معجزہ نما باتیں سنائیں جنہوں نے جاسوس کو مسحور کر لیا دونوں لڑکیاں دریچے کے کواڑ کی اوٹ سے اسے دیکھ رہی تھی یہ وہی معاملہ معلوم ہوتا ہے جو ہم پہلے بھی پکڑ چکے ہیں یہ جاسوس اپنے محکمے کے حق میں اعلی علی بن سفیان کو بتا رہا تھا وہی مراقبہ چلا جنات اور لوگوں کے جذبات کو قبضے میں لے کر ان پر اپنا جادو چلانا ہماری فوج کا ایک سپاہی جو کہ مجھے اس کے پاس لے گیا تھا وہ صرف فوج کے خلاف باتیں کر رہا تھا اور وہ اس قسم کی باتیں مسجد میں نمازیوں کے ساتھ کر رہا تھا اس نے میرے ساتھ جو باتیں کی ان سے پتہ چلتا تھا کہ اس کے کئیور ساتھی بھی ہیں وہ مسجدوں میں جا کر نمازیوں کو فوج کے خلاف اکساتے ہیں محاز کی جھوٹی باتیں سناتے ہیں اور زور اس بات پر دیتے ہیں کہ فوج میں بھرتی ہونا گناہ ہے انہیں ایسی باتیں مسجدوں میں نہیں کرنی چاہیے علی بن سفیان نے کہا کہ مسجد میں گئی ہوئی بات کو لوگ وحی کا درجہ دیتے ہیں لوگ جذبات کے غلام ہیں اسی کو مرشد مان لیتے ہیں جو کہ ان کے جذبات کو پہلے بھڑکائے پھر الفاظ میں ان کی تسکین کر دے تم کل پھر وہاں جاؤ مجھے وہ گاؤں اور مکان سمجھا دو ادھر ادھر دیکھ کر زیادہ سے زیادہ معلومات لانے کی کوشش کرنا تمہاری لائی ہوئی اطلاع کے بعد ہم وہاں چھاپا ماریں گے مجھے ڈر ہے کہ چھاپے سے وہاں کے لوگ مشتعل ہو جائیں گے جاسوس نے کہا سپاہی نے بتایا تھا کہ گاؤں کا بچہ بچہ اس کا مرید ہو چکا ہے اور دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لیے اتے ہیں ہمیں لوگوں کے ساتھ نہیں چلنا علی بن سفیان نے کہا لوگوں کے جذبات کا خیال صرف وہ حکمران رکھا کرتے ہیں جون پر حکومت کرنا چاہتے ہیں ایسے حکمران لوگوں کے جذبات سے کھیلا کرتے ہیں تاکہ عوام خوش رہے اور ان کے اگے سجدہ کرے ہمیں سلطنت اسلامیہ اور انہی لوگوں کے وقار کا تحفظ کرنا ہے حامی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کا غلام اور مرید نہیں بنانا چاہتے ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام کے پاسمان تم بھی اتنے ہی ہو جتنے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی جاسوس کے وہاں جانے کا وقت رات کا تھا علی بن سفیان نے بھیس بدلا اور اس گاؤں میں چلا گیا اس نے لوگوں کی عقیدت مندی کی بے تابیاں بھی دیکھ لیں لوگوں کی باتیں بھی سنی فوج کے خلاف طوفان اٹھایا جا
888

ENGLISH
I was also on the streets of Damascus and Aleppo. I have committed the same sins that your murshid mentions. Take me to this learned scholar. If he says to run away from the army, I will run away. I will do it. I am afraid of the wrath of God. The village was not far away, they talked and the night was quite dark. The soldier asked the spy to stand in the dark and went to the house where Siyaresh lived in white. He returned after a while. The soldier said, He went in through the back door. They both opened the window a little and saw one girl so shocked that she said "What happened?" The other girl asked who it is.
8
88
 Maybe I am deceived. She replied, "I told this person." It has been seen before that the spy went into the room and prostrated before Siyaresh, he said the same things he had done to the soldier, tears came to his eyes, Siyaresh placed his rosary on his head and smiled on his head. He kept his hand and said, "Give me an order, I will kill Sultan Salahuddin Ayyubi". I don't sleep at night, the spy said. I killed the younger brother of a Muslim girl in a village near Hamad to kidnap her. If I wasn't in the army, I would have been handed over to the executioner. But no one even asked me. Siaresh closed his eyes, his lips were moving, he raised both his hands and pointed to the detective. After a while, he smiled and opened his eyes. Listen carefully, we will forgive your sins tomorrow. Don't mention ego here with anyone. Siyaresh then went into meditation. Narrate miraculous stories that captivated the detective. The two girls were watching him through the window frame. This appears to be the same case that we have caught before. It was the same meditation, taking possession of the emotions of the jinn and the people and working their magic on them. The things he was doing with the worshipers showed me that he has many accomplices who go to the mosques and incite the worshipers against the army. That enlisting in the army is a sin, they should not do such things in mosques. Ali bin Sufyan said that people consider what happened in the mosque as revelation. First provoke them and then appease them with words. You go there again tomorrow. Make me understand that village and house. Look around and try to get as much information as possible. After the information you bring, we will raid there. The people there will be enraged, said the spy. The soldier had told that the child of the village has become his disciple and people from far and wide come to visit him. We should not go with the people. Only those rulers care about the feelings of those who want to rule June. Such rulers play with people's feelings so that the people will be happy and bow down to them. We have to protect the dignity of the Islamic Empire and these people. We don't want to make Salahuddin Ayyubi a slave and follower, we want to tell them that you are as close to Islam as Sultan Salahuddin Ayyubi was when the spy went there at night. Ali bin Sufyan disguised himself and went to that village. He went to see the eagerness of devotion of the people, heard the words of the people and raised a storm against the army
888
سے ہو چکا ہے اور دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لیے اتے ہیں ہمیں لوگوں کے ساتھ نہیں چلنا علی بن سفیان نے کہا لوگوں کے جذبات کا خیال صرف وہ حکمران رکھا کرتے ہیں جون پر حکومت کرنا چاہتے ہیں ایسے حکمران لوگوں کے جذبات سے کھیلا کرتے ہیں تاکہ عوام خوش رہے اور ان کے اگے سجدہ کرے ہمیں سلطنت اسلامیہ اور انہی لوگوں کے وقار کا تحفظ کرنا ہے حامی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کا غلام اور مرید نہیں بنانا چاہتے ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام کے پاسمان تم بھی اتنے ہی ہو جتنے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی جاسوس کے وہاں جانے کا وقت رات کا تھا علی بن سفیان نے بیس بدلا اور اس گاؤں میں چلا گیا اس نے لوگوں کی عقیدت مندی کی بے تابیاں بھی دیکھ لیں لوگوں کی باتیں بھی سنی فوج کے خلاف طوفان اٹھایا جا رہا تھا ہجوم مکان کے سامنے تھا دروازہ کھولا اور ایک سفید ریش ادمی پرانے سے چغے میں ملبوس دروازے سے نکلالا سفید ریش ادمی ہاتھ میں لاٹھی لیے گاؤں سے نکل گیا ایک طرف سے ایک گڑ سوار ایا سفید ریش ادمی گھوڑے پر سوار ہو گیا اور قاہرہ کی طرف چلا گیا جو ادمی گھوڑا لایا تھا وہ گاؤں کی طرف چلا گیا علی بن سفیان اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور سفید رے سوار کے پیچھے چل پڑا مگر اس نے اپنے اور اس کے درمیان کچھ فاصلہ رکھا سفید ریش نے کئی بار پیچھے دیکھا علی بن سفیان اس کے پیچھے جاتا رہا اگے جا کر سفید ریش نے قاہرہ کے راستے کے بجائے گھوڑا دوسرے راستے میں ڈال دیا علی بن سفیان اس کے پیچھے رہا سفید ریش کی بے چینی صاف ظاہر ہونے لگی فاصلہ 15 20 قدم کرایا گیا اور وہ اب شہر میں تقریبا داخل ہو چکے تھے سفید ریش سوار نے گھوڑا روک لیا علی بن سفیان نے بھی گھوڑا اس کے قریب جا کر روکا تم کوئی راہزن معلوم ہوتے ہو سفید رے سوار نے کہا اور خنجر نکالا علی بن سفیان نے دیکھا کہ اس کی سفید داڑھی سے اس کی عمر 70 برس سے اوپر لگتی ہے مگر چہرہ انکھیں اور دانت بتاتے تھے کہ وہ 40 سے بھی کم ہے علی بن سفیان بھی بہروپیے کے روپ میں تھا اس نے اپنے کمر بند سے سوا گز لمبی تلوار لٹکا رکھی تھی اس نے بجلی چمکنے جیسی پھرتی سے تلوار نکال لی داڑھی اتار دو اس نے سفید ریش کے پہلو میں تلوار رکھ کر کہا اور میرے اگے اگے چل پڑو سفید ریش کی انکھیں ٹھہر گئیں علی بن سفیان نے تلوار کی نوک اس کی کنپٹی پر رکھ کر داڑھی میں الجھائی اور جھٹکا دیا وہاں سے داڑھی چہرے سے الگ ہو گئی ادھا چہرہ ننگا ہو گیا علی بن سفیان نے اپنی داڑھی اتار دی اور بولا ہم ایک دوسرے کو بڑی اچھی طرح سے جانتے ہیں وہ شہری انتظامیہ کا کوئی اعلی حاکم تو نہیں تھا اس کے متعلق علی بن سفیان تک یہ خبریں پہنچی تھیں کہ وہ معزول کی ہوئی فاطمی خلافت کا زمین دوست کارندہ ہے اس خلافت کو جس کی گدی قاہرہ میں تھی جسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے اٹھ سال پہلے ختم کر دیا تھا اور فاطمی خلافت کا اخری خلیفہ الازد تھا جس نے حشیشین صلیبیوں اور سوڈانیوں کے ساتھ گٹچور کر رکھا تھا سلطان ایوبی نے سلطان نور الدین زنگی مرحوم کے ساتھ بات کر کے اس خلافت کو معزول کیا اور عمارت مصر کو خلافت بغداد کے تحت کر دیا تھا معزول شدہ فاطمی خلافت کے پیروکار ابھی تک زمین دوست کاروائیوں میں مصروف تھے رملہ کی شکست ان کے لیے زری موقع تھا چنانچہ سلطان صلاح الدین ایوبی اور اس کی فوج کو بدکار عیاش لٹیرا اور شکست کا ذمہ دار ثابت کرنے کی مہم میں فاطمی خفیہ طریقوں سے سرگرم ہو گئے تھے
888
ENGLISH
It has been done since and people from far and wide come to visit him. We should not walk with the people. Ali bin Sufyan said that only the rulers care about the feelings of the people. Such rulers want to rule June with the feelings of the people. We play so that the people will be happy and prostrate before them. We have to protect the dignity of the Islamic Empire and these people. As Sultan Salahuddin Ayyubi went there at night, Ali bin Sufyan changed his base and went to this village. The crowd was being raised in front of the house, the door was opened and a white-haired man dressed in an old robe came out of the door. The white-haired man left the village with a stick in his hand. And went to Cairo, the man who had brought the horse went to the village. Ali bin Sufyan mounted his horse and followed the white-haired rider, but he kept some distance between him and the white-haired rider several times. He saw Ali bin Sufyan following him and going forward, White Resh put his horse on another path instead of the Cairo route. Ali Bin Sufyan followed him. Now they had almost entered the city, the white-haired rider stopped the horse. Ali bin Sufyan also went near him and stopped the horse. You look like a bandit. From his beard, his age seems to be more than 70 years, but his face, eyes and teeth said that he is less than 40. Ali bin Sufyan was also in the form of a rich man. He took out his sword with a movement like shining, take off his beard, he placed the sword on the side of the white resh and said, "Go ahead of me." The eyes of the white resh remained. Then the beard separated from the face and half of the face became bare. Ali bin Sufyan took off his beard and said: We know each other very well. He was not a high ruler of the city administration. News had reached Sufyan that he was a supporter of the deposed Fatimid Caliphate, whose mace was in Cairo, and which had been abolished by Sultan Salah al-Din Ayyubi eight years earlier, and the last Caliph of the Fatimid Caliphate was al-Azd, who The Hashishian had colluded with the Crusaders and the Sudanese. Sultan Ayyubi talked with the late Sultan Nur al-Din Zangi and deposed this caliphate and placed Egypt under the caliphate of Baghdad. The defeat of Ramla was a golden opportunity for them, so the Fatimis became active in secret ways in the campaign to make Sultan Salah al-Din Ayyubi and his army responsible for the evil Ayash Latira and the defeat.
888

No comments:

Post a Comment