The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 3
888
لینے ا گیا سپاہی نے اسے کوئی نئی ہدایات دی اور ساتھ لے گیا وہ پچھلے دروازے سے اندر داخل ہوئے مگر جاسوس کو گزشتہ رات والے کمرے کی بجائے ایک اور کمرے میں لے گئے اسے کمرے میں سیارےش بزرگ نظر نہ ایا دروازہ بند ہوا تو اس نے دروازے کی طرف دیکھا سپاہی بھی باہر نکل گیا تھا اس نے دروازے کو ہاتھ لگایا تو اسے پتہ چلا کہ دروازہ تو باہر سے بند کر دیا گیا ہے اس کمرے کی نہ تو کوئی کھڑکی تھی اور نہ ہی روشندان وہ سمجھ گیا کہ اسے پہچان لیا گیا ہے فرار ہونا اس کے لیے ناممکن تھا وہ سوچنے لگا کہ کیا کرے کافی دیر بعد دروازہ کھولا اور ان لڑکیوں میں سے ایک اندر ائی جنہیں سیاریش اپنی بیٹیاں بتاتا تھا اس لڑکی کا لباس عرب کے مسلمان لڑکیوں جیسا تھا اس کے نقش و نگار عرب اور یورپ کی طرح ملتے جلتے تھے وہ اندر ائی تو باہر سے کسی نے دروازہ بند کر کے زنجیر چڑھا دی کمرے میں قندیل چل رہی تھی جاسوس نے لڑکی کو دیکھا تو اس کی انکھیں جیسے حیرت سے ساکن ہو گئی ہوں لڑکی مسکرا رہی تھی پہچاننے کی کوشش کر رہے ہو لڑکی نے کہا اتنی جلدی بھول گئے تو میرے شہر سے بچ کر نکل ائے تھے مگر اپنے شہر ماکر میرے قیدی بن گئے اب تم یہاں سے نکل نہیں سکو گے جاسوس نے ایک لمبی سانس لی جس میں سکون بھی تھا اور اس ضرب بھی اسے تین سال پہلے کے وہ دن یاد اگئے جب اسے جاسوسی کے لیے اکا بھیجا گیا تھا ناظرین محترم اکا دراصل صلیبیوں کے قبضے میں مسلمانوں کا ایک شہر تھا وہاں عیسائیوں کا بڑا پادری رہتا تھا جسے صلیب اعظم کا محافظ کہتے تھے صلیبی بادشاہ جو اپنی فوجیں عرب علاقوں پر قبضہ کرنے کی غرض سے لے کر جاتے تھے اکا ضرور جاتے اور سلیب اعظم کے محافظ کو سلام کرتے تھے اس لیے جنگی لحاظ سے یہ جگہ بڑی اہم تھی علی بن سفیان نے وہاں اپنے جاسوس بیج رکھے تھے
888
The soldier gave him new instructions and took him along. They entered through the back door, but the spy was taken to another room instead of the room he had last night. He did not see the planetary elder in the room. Looking at the door, the soldier had also gone out. He touched the door and found that the door was locked from outside. There was no window or light in this room. He understood that he was recognized. It was impossible for him to escape. He started thinking about what to do. After a long time, he opened the door and one of the girls, whom Siyaresh called his daughters, came in. This girl was dressed like Arab Muslim girls. They were similar to Europe. When she entered, someone from outside closed the door and put a chain on it. The lamp was on in the room. The detective saw the girl, and his eyes were still as if surprised. The girl was smiling, trying to recognize her. The girl said, "You forgot so quickly that you escaped from my city, but after leaving your city, you became my prisoner. Now you will not be able to leave here." He remembered the days three years ago when he was sent to Akka to spy. Viewers Dear Akka was actually a Muslim city held by the Crusaders. There lived a high priest of the Christians called the Guardian of the Great Cross. The Arabs used to take them for the purpose of occupying the territories, and they used to go and salute the guard of Salib Azam, so this place was very important in terms of war. Ali bin Sufyan kept his spy badges there.
888
انہوں نے عیسائیوں کے بہروپ میں وہاں ایک خفیہ اڈہ بھی قائم کر رکھا تھا ان میں سے تین چار پکڑے گئے اور دو شہید بھی ہو گئے وہاں گئے زمین دوست کمانڈر نے مزید جاسوس مانگے ان میں سے اسے بھی بھیجا گیا تھا جو کہ اب مصر میں ایک کمرے میں بند تھا یہ جاسوس دماغی لحاظ سے تیز اور ہوشیار تھا وہ گھوڑے کی سواری کا اتنا ماہر تھا کہ فوجی نمائشوں اور میلوں میں حیران کر دینے والے کرتب دکھایا کرتا تھا اداکاری میں بھی مہارت رکھتا تھا اویسائی نام سے اکا میں داخل ہوا تھا اس نے وہاں کوئی اپنی دردناک کہانی سنائی اور بتایا کہ وہ حلب کی مسلمان فوج میں نئے سپاہیوں کو گھڑ سواری اور رسالے کی لڑائی کی ٹریننگ دیا کرتا تھا لیکن مسلمانوں نے اس کی نوجوان بہن کو اغوا کر کے اسے فوج سے نکال دیا اس کی اداکاری سے متاثر ہو کر اسے سواری کی ٹریننگ دینے کے لیے رکھ لیا گیا لیکن اس کے شاگرد فوجی نہیں تھے بلکہ نوجوان لڑکیاں تھیں اسے پتہ چلا کہ ان لڑکیوں کو مسلمان علاقوں میں جاسوسی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے یہ سب صلیبی جاسوس تھے وہ ان میں گھل مل گیا اور ان سے بڑی قیمتی معلومات حاصل کرنے لگا یہ لڑکی جو اب قاہرہ کے مضافات کے گاؤں میں سے کہہ رہی تھی کہ اب نہیں نکل سکو گے دراصل اکا میں اس کی شاگرد تھے وہ جاسوسی کا تجربہ رکھتی تھی اور گڑ سواری نہیں جانتی تھی علی بن سفیان کا یہ جاسوس اسے اچھا لگنے لگا تھا لڑکی نے یہاں تک ارادہ کر لیا تھا کہ وہ اس ادمی کی خاطر جاسوسی جیسا ذلیل پیشہ ترک کر دے گی اور اس کی بیوی بن کر باعزت طریقے سے زندگی گزارے گی اس مسلمان جاسوس نے محبت کا جواب محبت سے دیا تھا لیکن وہ اپنے فرض کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا اس صلیبی لڑکی نے اپنے کام میں دلچسپی لینا چھوڑ دی اور وہ اس جاسوس کی ہو کر رہ گئی ایک روز اکا میں دو مسلمان جاسوس پکڑے گئے ان میں سے ایک نے اپنے گروہ کے تمام ادمیوں
888
They had also established a secret base there in the guise of Christians, three or four of them were captured and two were martyred. Confined in a room, this spy was mentally sharp and clever. There he narrated some of his painful stories and said that he used to train new soldiers in the Muslim army of Aleppo in horse riding and musket fighting but the Muslims kidnapped his young sister and expelled him from the army. Inspired by him, he was hired to give riding training, but his students were not soldiers but young girls. He found out that these girls were being trained to spy in Muslim areas. I mingled and began to get valuable information from them. This girl who was now from a village on the outskirts of Cairo saying that she would not be able to leave now was actually her student in Akka, she had experience in espionage and not a horse rider. She knew that this spy of Ali bin Sufyan was starting to like her. The girl had even made up her mind that she would give up the humiliating profession of spying for the sake of this man and live an honorable life as his wife. had returned love with love but he could not neglect his duty. The crusader girl lost interest in her work and became that spy. One day two Muslim spies were caught in Akka. Oکی نشاندہی کر دی جنہیں وہ جانتا تھا ان میں یہ جاسوس بھی تھا عجیب بات یہ ہوئی کہ اس لڑکی نے اس سے پوچھا تم جاسوس تو نہیں ہو سکتے اور تم مسلمان بھی نہیں ہو مجھے پتہ چلا ہے کہ یہاں کا جاسوسی کا محکمہ تمہارے متعلق تفتیش کر رہا ہے اور تم پر نظر رکھی جا رہی ہے علی بن سفیان کا یہ جاسوس ہنس پڑا اور اس نے ان تمام الزامات کی تردید کر دی مگر وہ بے چین ہو گیا رات کو اپنے زمین دوست کمانڈر سے ملا کمانڈر نے اسے بتایا کہ گروہ کے بہت سے ادمیوں کی نشاندہی ہو چکی ہے اور بہتر ہے کہ وہ یہاں سے نکل جائے وہ کمانڈر کے گھر سے نکلا تو اسے پتہ چل گیا تھا کہ دو ادمی اس کے پیچھے پیچھے ارہے ہیں یہ دراصل ایسائیوں کی طرف سے اس کا تعقب تھا وہ چلتا گیا اور اسطبل میں داخل ہوا انہوں نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے وہ پھرتیلہ اور ہوشیار تھا وہ کود کر گھوڑے پر سوار ہوا اور ایک ادمی اس کے گھوڑے تلے کچلا گیا اور یوں وہ اکا سے بھاگ نکلا میں نے تمہیں پہچان لیا ہے اس لڑکی نے کہا اور وہ ایک دوسرے کو تین سال بعد دیکھ رہے تھے اس نے کہا کہ مجھے حیران نہیں ہونا چاہیے کہ تم اخر جاسوس ہو تین سال پہلے میں نے تمہاری محبت کے دھوکے میں ا کر جاسوسی چھوڑ دینے کا عہد کیا تھا تم مجھے بتا
888
Among those he knew was this spy. The strange thing is that this girl asked him, "You can't be a spy and you are not even a Muslim. I have come to know that the spy department here is investigating you. This spy of Ali bin Sufyan laughed and denied all these accusations but he became restless. At night he met his friend the commander. The commander told him that the group's Many people have been identified and it is better for him to get out of here. When he left the commander's house, he found out that two people were following him. It was actually the Esaias who were following him. He went and entered the stable. They asked him where he was going. He was agile and smart. He jumped on a horse and a man was crushed under his horse and so he ran away from Akka. I recognized you. Yes, said the girl, and they were seeing each other after three years. She said, "I shouldn't be surprised that you're finally a spy. Three years ago, I was fooled by your love and vowed to quit spying." tell mene of the members of his group
بھی ہو شاید تمہارے ساتھ ا جاتی تمہارے بھاگ جانے کے بعد مجھے پتہ چلا تھا کہ تم مسلمان جاسوس تھے کیا اب تمہارے دل میں میرے لیے محبت نہیں رہی جاسوس نے پوچھا میں نے تمہاری محبت کی خاطر جاسوسی چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا تھا مگر تم نے میرے ارادوں کو کچھڑ ڈالا اور جاسوسی کی غلاظت میں مجھے چھوڑ ائے اور یوں مجھے تین سال گزر چکے ہیں اتنی لمبی مدت میں میں نے اپنے اپ کو بری طرح ناپاک کر لیا ہے اور اسلام کے خلاف نفرت میری روح میں اتر چکی ہے جس ادمی کے ساتھ ائی ہوں اسے میں نے ہی بتایا تھا کہ تم جاسوس ہو اگر میں تمہیں صحن میں سے گزرتے اتفاق سے نہ دیکھ لیتی تو ہم سب گرفتار ہو چکے ہوتے تمہیں میں نے پکڑوایا ہے یہ ادمی جو غائب دان اور مرشد بنا ہوا ہے یہ مسلمان ہے یا صلیبی مسلمان جاسوس نے پوچھا اب پوچھ کر کیا کرو گے لڑکی نے پوچھا جاسوسی کی ایک عادت بن چکی ہے جاسوس نے کہا میں مرنے سے پہلے جاننا چاہتا ہوں اور اب تو تمہارا کوئی راز فاش بھی نہیں ہو سکے گا یہ مسلمان ہے لڑکی نے کہا مسلمانوں کی کمزوریوں سے واقف ہے اس سادوں کا استاد ہے کمرے کا دروازہ کھولا اور سیارےش ایک ادمی کے ساتھ اندر ایا لڑکی سے بولا کہ اگر تمہاری بات پوری ہو چکی ہو تو باہر نکل جاؤ لڑکی جاسوس کو گہری نظروں سے دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی سیاریش نے جاسوس سے پوچھا کہ مجھے صرف یہ بتا دو کہ میرا راز کس کس کو معلوم ہے کیا تم نے علی بن سفیان کو بتا دیا ہے کہ میں مشکوک ادمی ہوں نہیں جاسوس نے جواب دیا میں جاسوس ضرور ہوں جاسوسی کے خیال سے یہاں نہیں ایا تھا سیاریش کے ہاتھ میں چمڑے کا چابلک یعنی ہنٹر تھا اس نے پوری طاقت سے جاسوس کو مارا اور کہا کہ میں سچ جاننا چاہتا ہوں اتنی دیر میں دروازہ زور سے کھلا اور وہی لڑکی اندر ائی اس نے سیاریش کے دونوں بازو پکڑ کر التجا کی اسے مت مارو یہ سب بتا دے گا میں کچھ بھی نہیں بتاؤں گا جاسوس نے کہا سیاریش نے جب گھمایا تو لڑکی دوڑ کر جاسوس کے اگے ہو گئی اور چلا کر بولی اس کے جسم کی چوٹ میرے دل کا زخم بن چکی ہے تم اسے بچانا چاہتی ہو دوسرے ادمی نے گرج کر پوچھا لڑکی نے روتے ہوئے کہا یہ کچھ نہ بتائے تو تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا سر تن سے جدا کر دو اسے اذیت دے کر نہ مارو لڑکی کو کھینچ کر باہر لے گئے پھر جاسوس پر تشدد شروع ہوا اسے رات بھر سونے نہ دیا گیا اس سے بہت سے سوالات پوچھے جا رہے تھے مگر سلطان صلاح الدین ایوبی کا یہ جانباز بت بنا چوٹ پر چوٹ کھائے جا رہا تھا سحر کا وقت تھا لڑکی پھر اس کمرے میں ائی اس وقت جاسوس نیم غشی کی حالت میں تھا وہ فرش پر پڑا تھا اسے تلوار کی نوک ہر جگہ چبوئی جا رہی تھی لڑکی اس کے اوپر لیٹ گئی اور چیخنے لگی یہ میں برداشت نہیں کروں گی میں تمہیں بتا چکی ہوں کہ یہ میری پہلی اور اخری محبت ہے سلطان صلاح الدین ایوبی کے جاسوس نے نیم بے ہوشی کی حالت میں اپنی مری ہوئی اواز میں بولا تم چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنے فرض سے بھٹک جاؤں یہ اذیتیں میرے فرض کا حصہ ہیں تم اپنے مذہب پر قربان ہو جاؤ اور مجھے اپنے مذہب دین اسلام پر قربان ہونے دو لڑکی پاگل ہوئی جا رہی تھی اسے ایک بار پھر گھسیٹ کر باہر لے گئے سیاریش نے حکم دیا کہ اس بدبخت لڑکی کو کسی کمرے میں بند کر دو دوسری جانب شہر میں ادھا دن گزر چکا تھا علی بن سفیان اس جاسوس کے انتظار میں بیزار ہوا جا رہا تھا ایک روز پہلے اس نے جس ادمی کو سفید داڑھی کی بہروپ میں پکڑا تھا اسے بھی گزشتہ رات قید خانے میں ایسی ہی اذیتیں دی گئی تھیں اور اس نے بتا دیا تھا کہ یہ سیاریش کون ہے اور اس کی اصلیت اور اس کا مشن کیا ہے دن کے پچھلے پہر علی بن سفیان نے اس شک کی بنا پر کہ اس کا جاسوس پکڑا نہ گیا ہو اس نے فوج کا ایک چھاپہ مار جیش تیار کیا اس مکان کے متعلق پتہ چل چکا تھا کہ یہ جاسوسوں کا اڈہ بن چکا ہے چھاپا مال اس قدر تیزی سے ائے کہ گاؤں میں کسی کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا وہ گھوڑوں سے اتر کر بندروں کی طرح مکان کی دیواریں پھلانگ کر دروازے توڑ کر اندر داخل ہو گئے اندر جتنے ادمی تھے انہیں پکڑ لیا گیا علی بن سفیان کے جاسوس کی اب یہ حالت تھی کہ بے ہوش پڑا تھا اور اس پر نزا کی کیفیت طاری تھی دوسرے کمرے میں اس لڑکی کی لاش پڑی تھی ایک خنجر اس کے دل میں اترا ہوا تھا سیاریش کو اس ہجوم کے سامنے کھڑا کیا گیا جو گاؤں کے اندر اور باہر جمع تھا اسے کہا گیا کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ اس کی اصلیت کیا ہے اور کس مقصد کے تحت فوج اور سلطان کو ب**** کرنا چاہتا تھا دوسری صلیبی لڑکی کو سامنے کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ لڑکی مسلمان نہیں بلکہ صلیبی ہے یہ بھی سب کو بتایا گیا کہ ٹیلوں کے علاقے میں اگ کے قریب جاپانی اور کھجوریں پڑی ہوئی تھیں وہ اس کے گروہ کے ادمی نے رکھی تھی علی بن سفیان نے اپنے تہخانے میں اس ادمی اور اس کے
888
Maybe I would go with you after you ran away. I found out that you were a Muslim spy. Do you no longer have love for me in your heart? The spy asked. swindled my intentions and left me in the filth of espionage and thus three years have passed. I told him that you are a spy, if I had not seen you by chance, we would all have been arrested. Is it a Crusader Muslim, the spy asked, what will you do by asking now? The girl asked. It has become a habit of spying. He said that he is aware of the weaknesses of the Muslims. He is the teacher of the simple. He opened the door of the room and Kaletesh came in with a man. Sayarish asked the spy, "Just tell me who knows my secret. Have you told Ali bin Sufyan that I am a suspicious person, no?" Siyareesh had a leather whip i.e. Hunter in his hand, he hit the detective with all his strength and said that I want to know the truth. After a while, the door opened loudly and the same girl came in. She held both of Siyareesh's arms and pleaded with him Don't kill me, I will tell you everything, I won't tell you anything, said the detective. When Siyareesh turned around, the girl ran in front of the detective and shouted, "The injury on her body has become a wound on my heart. You want to save her." The other man shouted and asked the girl while crying and said if she doesn't tell anything, then with a single stroke of the sword, cut her head from her body, don't torture her and kill her. He was not allowed to sleep all night and many questions were being asked to him, but this veteran idol of Sultan Salahuddin Ayyubi was being hurt after being injured. It was dawn time. He was lying on the floor, the point of the sword was being chewed all over him. The girl lay on him and started screaming, "I will not bear it. I have told you that this is my first and last love." In a half-unconscious state, he said in his dead voice, "Go away, lest I stray from my duty. These tortures are part of my duty. You should sacrifice yourself to your religion and I should sacrifice myself to my religion, Islam." The two girls were going crazy and they dragged her out once more. Sayarish ordered that the unfortunate girl should be locked in a room and on the other side, half a day had passed in the city. Ali bin Sufyan was tired of waiting for this spy. The man whom he had captured the day before in the guise of white beard had been subjected to similar tortures in the prison last night and he had revealed who this Siyaresh was and his origin and his mission. Ali bin Sufyan suspected that his spy had not been caught, so he organized a raiding party of the army. The goods came so fast that no one in the village had a chance to handle them, they got off their horses, jumped over the walls of the house like monkeys, broke the doors and entered inside. Now it was in a state of unconsciousness and the state of Niza was upon him. In another room lay the dead body of the girl with a dagger lodged in her heart. Siyaresh was made to stand in front of the crowd that was in and out of the village. He was asked to tell the people what his origin was and for what purpose he wanted to destroy the army and the Sultan. It was also told to everyone that there were Japanese and date palms lying near the fire in the dune area. They were kept by the leader of his group. Ali bin Sufyan kept this leader and his
ا کو سامنے کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ لڑکی مسلمان نہیں بلکہ صلیبی ہے یہ بھی سب کو بتایا گیا کہ ٹیلوں کے علاقے میں اگ کے قریب جاپانی اور کھجوریں پڑی ہوئی تھیں وہ اس کے گروہ کے ادمی نے رکھی تھی علی بن سفیان نے اپنے تہخانے میں اور اس کے گروہ سے جو باتیں اگلوائی تھیں ان سے پتہ چلا کہ اس نے محاز سے بھاگے ہوئے نئے فوجیوں کو اپنے اثر میں لے رکھا تھا یہ تمام لوگ مسجدوں اور ان جگہوں پر جہاں لوگ اکٹھے ہوتے تھے مصر کی فوج کے خلاف باتیں کرتے تھے ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ قوم اور فوج کے درمیان شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں اس محن میں مصر کی انتظامیہ کے چند ایک حاکم بھی شامل تھے اور معزول شدہ فاطمی خلافت کے خفیہ پیروکار بھی مختصر یہ کہ دشمن تو اس مہم میں شریک تھا ہی خود وہ مسلمان بھی اس میں شامل ہو گئے تھے جن کا کوئی نہ کوئی مفاد وابستہ تھا جب کبھی فوج اور قوم نے نفرت پیدا ہو گئی سمجھ لو کہ سلطنت اسلامیہ کا زوال شروع ہو گیا سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا سلطان صلاح الدین ایوبی نے حکم دیا کہ تمام مساجد کے اماموں کو رملہ کی شکست کے اصل اسباب بتانے کا حکم دیا جائے
88 8
He was brought forward and told that this girl was not a Muslim but a crusader. It was also told to everyone that there were Japanese trees and palm trees lying near the tree in the dune area. They were placed by the leader of his group, Ali bin Sufyan. In the dungeon and from his group, it was revealed that he had taken under his influence new soldiers who had escaped from the Mahaz, all of whom were speaking against the Egyptian army in the mosques and other places where people gathered. Their aim was only to create suspicions between the nation and the army. Some of the rulers of Egypt's administration were also involved in this campaign and the secret followers of the deposed Fatimid Caliphate were also involved. In short, the enemy was in this campaign. As soon as he was a participant, those Muslims who had one or the other interest were involved in it. When the army and the nation started to hate each other, understand that the decline of the Islamic Empire began. Sultan Salahuddin Ayyubi said Sultan Salahuddin. Ayyubi ordered that the imams of all mosques should be ordered to tell the real reasons for the defeat of Ramla

No comments:
Post a Comment