https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Saturday, 18 November 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 8

 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 8



ہمارے لشکر بحرہ روم کے اس پارے اکٹھے ہو رہے ہیں جو مرگئے سو مر گئے جو زندہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ شکست نہیں دھوکہ تھا تم اپنے خیمے میں واپس جاؤ لڑکیوں سے کہو کہ خیمے میں نہ پڑی رہیں بار بار صلاح الدین ایوبی سے ملیں اس کے سالاروں سے ملے بے تکلفی پیدا کریں مسلمان ہو جانے کا جہاں وہ جانتی ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے سب سے پہلے تو یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ ہوا کیا وہ بھی نے کہا کیا سوڈانیوں نے ہمیں دھوکہ دیا ہے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا ربن نے کہا میں نے حملے سے بہت پہلے مصر میں پھیلائے ہوئے اپنے جاسوسوں سے جو معلومات حاصل کی تھی وہ یہ ہیں کہ صلاح الدین ایوبی کو سوڈانیوں کے 50 ہزار محافظ لشکر پر بھروسہ نہیں حالانکہ یہ مسلمانوں کے وائس رائے مصر کی اپنی فوج ہے ایوبی نے ا کر مصری فوج تیار کر لی ہے سوڈانی اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے ان کے کمانڈر ناجی نے ہم سے مدد طلب کی تھی میں نے اس کا خط دیکھا تھا اور میں نے تصدیق کی تھی کہ یہ خط ناجی کا ہی ہے اور اس میں کوئی دھوکہ نہیں مگر ہمارے ساتھ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا دھوکا ہوا ہے مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ ہوا کیسے کس نے کیا میں یہ چھان بین کیے بغیر واپس نہیں جا سکتا شائع ہوگا اس نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ میں مسلمانوں کے گھروں کے اندر کے بھید معلوم کر کے ان کی بنیادیں ہلا دوں گا اب تصور کرم وہ بھی شہنشاہ کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی وہ مجھے سزائے موت سے کم سزا دے گا سلیب غیر مجھ پر الگ نازل ہوگا یہ سب جانتی ہوں وہ بھی نے کہا جذباتی باتیں نہ کرو عمل کی بات کرو مجھے بتاؤ کہ میں کیا کروں رابن کے اعصاب پر اپنا فرض اور شکست کا احساس اس حد تک کا غالب تھا کہ اسے یہ بھی احساس نہیں تھا کہ موبی جیسی دلکش لڑکی جس کے ایک ایک نقش اور جسم کے انگ انگ میں شراب کر تلسم بھرا ہوا تھا اس کے سینے سے لگی ہوئی ہے اور اس کے ریشم جیسے ملائم اور لمبے بال اس کے ادھے چہرے کو ڈھانپے ہوئے ہیں رب نے ان بالوں کے لمس کو ذرا سا محسوس کیا اور کہا مبی تمہارے یہ بال ایسی مضبوط زنجیریں ہیں جو صلاح الدین ایوبی کے گرد لپٹ گئیں تو تمہارا غلام ہو جائے گا لیکن تمہیں سب سے پہلے جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ کرسٹوفر اور اس کے ساتھیوں سے کہو کہ وہ تاجروں کے بیس میں ناجی کے پاس پہنچے اور معلوم کریں کہ اس کے لشکر نے بغاوت کیوں نہیں کی اور یہ راز فاش کس طرح ہوا کہ اس سے فائدہ اٹھا کر صلاح الدین ایوبی نے گنتی کے چند ایک دستے گھات میں بٹھا کر ہماری تین افواج کا بیڑا غرق کر دیا اور انہیں یہ بھی کہو کہ معلوم کریں کہ ناجی صلاح الدین ایوبی سے ہی تو نہیں مل گیا اور اس نے ہمارا یہی حشر کرانے کے لیے تو خط نہیں لکھا تھا اگر ایسا ہی ہوا ہے تو میں اپنے جنگی منصوبوں میں رد و بدل کرنا ہوگا مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اسلامیوں کی تعداد کتنی ہی توڑی کیوں نہ ہو انہیں ہم اسانی سے شکست نہیں دے سکتے ضروری ہو گیا ہے کہ ان کے حکمرانوں کا اور عسکری قیادت کا جذبہ ختم کیا جائے ہم نے تم جیسی لڑکیاں عربوں کے حربوں میں داخل کر دیے تم نے بات پھر لمبی کر دی ہے موبی نے اسے ڈرتے ہوئے کہا ہم اپنے گھر میں ایک بستر پر نہیں لیٹے ہوئے کہ بڑے مزے سے ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے رہیں ہم دشمن کے کیپ میں قید اور پابند ہیں باہر سنتری پھر رہے ہیں رات گزرتی جا رہی ہے ہمارے پاس لمبی باتوں کا وقت نہیں ہمارا مشن تباہ ہو چکا اب بتاؤ کہ ان حالات میں ہمارا مشن کیا ہونا چاہیے ہم ساتھ لڑکیاں اور چھ مرد ہیں ہم کیا کریں ایک یہ کہ ناجی کے پاس جائیں اور اس کے دھوکے کی چان بین کریں پھر کسے اطلاع دے تم کہاں ملو گے میں یہاں سے فرار ہو جاؤں گا رابن نے کہا لیکن فرار سے پہلے اس کیمپ اس کی نفری اور ایوبی کے ائندہ عزائم کے متعلق تفصیل معلوم کروں گا اس شخص کے متعلق ہمیں بہت چوکنہ رہنا ہوگا اس وقت اسلامی قوم میں یہ واحد شخص ہے جو صلیب کے لیے خطرہ ہے ورنہ اسلامی خلافت ہمارے جال میں اتی جا رہی ہے شاہ ایملیک کہتا ہے کہ مسلمان اتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ اب ان کو ہمیشہ کے لیے اپنے پاؤں میں بٹھانے کے لیے صرف ایک حلے کی ضرورت ہے اگر اس کا یہ عزم محض خوش فہمی ثابت ہوا مجھے یہاں رہ کر ایوبی کی کمزوریاں دیکھنی ہیں اور تمہیں پانچ ادمیوں کے ساتھ مل کر سوڈانی لشکر کو بھڑکانا اور بغاوت کرانی ہے نہایت ضروری یہ ہے کہ ایوبی زندہ نہ رہے اگر وہ زندہ رہے تو ہمارے اس قید خانے میں زندہ رہے جہاں وہ عمر کی اخری گھڑی تک سورج نہ دیکھ سکے اور رات کو اسمان کا اسے ایک بھی تارا نظر نہ ائے تم پہلے اپنے خیمے میں جاؤ اور اپنی چھ لڑکیوں کو ان کا کام سمجھا دو انہیں خاص طور پر ذہن نشین کراؤ کہ اس ادمی کا نام علی بن سفیان ہے جسے ان ریشمی بالوں شربتی انکھوں اور اتنے دلکش جسموں سے ایسا بے قنار کرنا ہے وہ صلاح الدین کے کام کا نہ رہے اور اگر ہو سکے تو اس کے اور صلاح الدین ایوبی کے درمیان ایسے غلط فہمی پیدا کرتی ہے کہ ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں تم سب اچھی طرح جانتی ہو کہ دو مردوں میں غلط فہمی اور دشمنی کس طرح پیدا کی جاتی ہے جاؤ اور لڑکیوں کو مکمل ہدایات دے کر کرسٹوفر کے پاس بھیجو اسے میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ تیرے تیر کو ایوبی پر ہی ا کر خطا ہونا تھا اب اس گناہ کا کفارہ ادا کرو اور جو کام تمہیں سونپا گیا ہے وہ 100 فیصد پورا کرو رابن نے موبی کے بالوں کو چوم کر کہا تمہیں صلیب پر اپنی عزت بھی قربان کرنی پڑے گی
ENGLISH
Our armies are gathering across the Mediterranean. The dead and the living know that this was not a defeat but a betrayal. Go back to your tent. Tell the girls not to stay in the tent. "Increase the frankness met by his masters to convert to Islam where they know what they have to do. The first thing is to find out if it happened," he also said. "Did the Sudanese betray us?" "I can't say," said Raban, "the information I received from my spies in Egypt long before the attack is that Salah al-Din Ayyubi does not trust the 50,000 Sudanese bodyguards, even though it is the voice of the Muslims in Egypt." Ayyubi has prepared the Egyptian army, the Sudanese don't want to join it, their commander, Naji, asked us for help, I saw his letter and I confirmed that it was from Naji. And there is no deception in this, but we have been dealt the greatest deception in our history. I have to find out how and who did this. I will find out the secrets of the houses of the Muslims and shake their foundations. Now imagine what she must be going through in the heart of the emperor. He will punish me less than the death penalty. He also said, "Don't talk about sentimentality, talk about action, tell me what to do." Robin's nerves were so dominated by his sense of duty and defeat that he didn't even realize that a charming girl like Moby, whose every The figure and body parts were filled with alcohol, the talisman was attached to his chest and his soft and long hair like silk covered half of his face. Lord felt the touch of these hairs and said. Mabi, these hairs of yours are such strong chains that if wrapped around Salah al-Din Ayubi, you will become a slave. arrived near and find out why his army did not revolt and how the secret was revealed that Salahuddin Ayyubi took advantage of this and ambushed a few troops of the count and sunk the fleet of our three forces and Also tell me to find out that Naji did not meet Salah al-Din Ayyubi and he did not write a letter to make us do the same. It has been said that no matter how much the number of Islamists is broken, we cannot easily defeat them. It has become necessary to destroy the spirit of their rulers and military leadership. Mobi said to him fearfully, "We are not lying on a bed in our house, telling each other stories with great fun. We are imprisoned and bound in the enemy's cape. We don't have time for long talks. Our mission is ruined. Now tell us what should be our mission in these circumstances. We are girls and six men. What should we do? Then let me know where you will meet, I will escape from here, said Robin, but before escaping, I will find out the details about his presence in this camp and Ayubi's future intentions. We have to be very careful about this person. He is the only person in the nation who is a threat to the cross, otherwise the Islamic caliphate is falling into our trap. It is necessary, if this determination of his proves to be mere wishful thinking, I must stay here and see the weakness of Ayyubi, and you, together with five men, are to incite the Sudanese army and revolt. So live in this prison of ours where he cannot see the sun until the last hour of his life and he does not see a single star in the sky at night. First go to your tent and teach your six girls their work especially But keep in mind that the name of this person is Ali bin Sufyan, who is to be so irresistible with those silky hair, syrupy eyes and such a charming body that he is not of Salahuddin's work and if possible, between him and Salahuddin Ayyubi. Creates such a misunderstanding as to become enemies of each other. You all know very well how misunderstanding and enmity are created between two men. Go and send the girls to Christopher with full instructions to say my greetings to him and Also to say that your arrow had to hit Ayubi, now pay for this sin and complete the work assigned to you 100%. Will have to
ربن نے موبی کے بالوں کو چوم کر کہا تمہیں صلیب پر اپنی عزت بھی قربان کرنی پڑے گی لیکن خدائی یسو مسیح کی نظروں میں تم مریم کی طرح کنواری ہو گی اسلام کو جڑ سے اکھاڑنا ہے ہم نے یروشلم لے لیا ہے مصر بھی ہمارا ہوگا مبی روبن کے بستر سے نکلی اور خیمے کے پردے کے پاس جا کر پردہ اٹھایا باہر جھانکا اندھیرے میں اسے کچھ بھی نظر نہ ایا وہ باہر نکل گئی اور خیمے کی اوٹ سے دیکھا کہ سنتری کہاں ہے اسے دور کسی کے گنگنانے کی اواز سنائی دی یہ سنتری ہی ہو سکتا تھا موبی چل پڑی اور درختوں سے گزرتی قدم قدم پر پیچھے دیکھتی وہ ٹیلے تک پہنچ گئی اور اپنے خیمے کا رخ کر لیا نصف راستہ طے ہو گیا کہ اسے دو ادمیوں کی دبی دبی باتوں کی اوازیں سنائی دینے لگی یہ اوازیں اس کے خیمے کے قریب معلوم ہوتی تھی اسے یہ خطرہ نظر انے لگا کہ سنتری نے معلوم کر لیا ہے کہ ایک لڑکی غائب ہے اور وہ کسی دوسرے سنتری کو یا اپنے کمانڈر کو بلا رہا ہے اس نے سوچا کہ خیمے میں جانے کے بجائے اپنے ان پانچ ساتھیوں کے پاس چلی جائے جو مراکشی تاجروں کے بھیس میں کوئی ڈیڑھ ایک میل دور خیمزن تھے مگر اسے یہ خیال بھی اگیا کہ اس کی گمشدگی سے باقی لڑکیوں پر مصیبت ا جائے گی وہ تھی تو پوری چالاک پھر بھی ان پر پابندیاں سخت ہونے کا خطرہ تھا اور کوئی چارہ کار بھی نہ تھا وہ بھی ذرا اور اگے چلی گئی تاکہ دو ادمیوں کی باتیں سن سکے ان کی زبان وہ سمجھتی تھی یہ تو اس نے دھوکہ دیا تھا کہ وہ سسلی کی زبان کے سوا کوئی زبان نہیں سمجھتی وہ ادمی خاموش ہو گئے مبید تبے پاؤں اگے بڑھی اسے بائیں طرف قدموں کی اہٹ سنائی دی اس نے چونک کر دیکھا درختوں کے درمیان اسے ایک سیاہ سایہ جو کسی انسان کا تھا جاتا نظر ایا اس نے رخ بدل لیا اور ٹیلے کی طرف انے لگا مبی کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی تھی وہ ٹیلے پر چڑھنے لگی یلا اونچا نہیں تھا فورا ہی اوپر چلی گئی وہ تھی تو بہت ہوشیار لیکن ہر انسان ہر قدم پر پوری احتیاط نہیں کر سکتا وہ ٹیلے کی چوٹی پر کھڑی ہو گئی اس کے پس منظر میں ستاروں سے بھرا ہوا اسمان تھا سمندر اور صحرا کی فضا رات کو ائینے کی طرح شفاف ہوتی ہے درختوں میں جاتے ہوئے ادمی نے ٹیلے کی چوٹی پر ٹن مڑ درخت کے تنے کی طرح کا ایک سایہ دیکھا مبینے پہلو اس ادمی کی طرف کر دیا اس کے بال کھلے ہوئے تھے جنہیں اس نے ہاتھ سے پیچھے کیا اس کی ناک سینے کا ابھار اور لمبا لبادہ تاریکی میں بھی راز کو فاش کرنے لگا یہ ادمی رات کے سندریوں کا کماندار تھا وہ ادھی رات کے وقت کیمپ کی گشت پہ نکلا اور سنتریوں کو دیکھتا پھر رہا تھا یہ سنتریوں کی تبدیلی کا وقت تھا کماندار اس لیے زیادہ چوکس تھا کہ سلطان ایوبی تین سالاروں کے ساتھ کیمپ میں موجود تھا سلطان ڈسپلن کا بڑا ہی سخت تھا ہر کسی کو ہر لمحہ خطرہ لگا رہتا تھا کہ سلطان رات کو اٹھ کر گشت پر ا جائے گا کماندار سمجھ گیا کہ ٹیلے پر کوئی لڑکی کھڑی ہے اسی شام کمانداروں کو خبردار کیا گیا تھا کہ صلیبیوں نے جاسوسی اور تخریب کاری کے لیے لڑکیوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے یہ لڑکیاں صحرائی خانہ بدوشوں کے بہروپ میں بھی ہو سکتی ہیں اور ایسی غریب لڑکیوں کے بھیس میں بھی جو فوجی کیمپوں میں کھانے کی بھیک مانگنے اتی ہیں اور یہ لڑکیاں اپنے اپ کو مغویہ اور مظلوم ظاہر کر کے پناہ بھی مانگ سکتی ہیں کمانداروں کو بتایا گیا تھا کہ اج سات لڑکیاں سلطان کی پناہ میں ائی ہیں جنہیں بظاہر رحم کر کے مگر انہیں مشتبع سمجھ کر پناہ میں لے لیا گیا ہے اس کماندار نے یہ احکام سن کر اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا اللہ کرے ایسی کوئی لڑکی مجھ سے پناہ مانگے اور وہ دونوں ہنس پڑے تھے اب ادھی رات کے وقت جب سالار کیمپس ہو رہا تھا اسے ٹیلے پر ایک لڑکی کا کیولا نظر ا رہا تھا پہلے تو وہ ڈرا کہ یہ چڑیل یا جن ہو سکتا ہے اس نے نئے سنتری کو لڑکیوں کے خیمے پر کھڑا کر کے اسے بتایا تھا کہ اندر سات لڑکیاں ہیں اس نے پردہ اٹھا کر دیکھا تو دیے کی پیلی روشنی میں اسے سات بستر نظر ائے تھے ہر لڑکی نے منہ بھی کمبلوں میں ڈھانپ رکھا تھا سردی زیادہ تھی اس نے اندر جا کر یہ نہیں دیکھا تھا کہ ساتوں بستر خالی ہیں اور اس پر کمبل اس طرح رکھے گئے ہیں جیسے ان کے نیچے لڑکیاں سوئی ہوئی ہوں اسے معلوم نہیں تھا کہ ساتویں لڑکی ٹیلے پر اس کے سامنے کھڑی ہے وہ کچھ دیر سوچتا رہا کہ اسے اواز دے یا اس تک خود جائے یا اگر وہ جن چڑیل ہے تو اس کے غائب ہونے کا انتظار کرے تھوڑی سی
ENGLISH
Raban kissed Mobi's hair and said, "You will have to sacrifice your honor on the cross, but in the eyes of Jesus Christ, you will be a virgin like Mary. She got out of Ruben's bed and went to the curtain of the tent and lifted the curtain. She looked out. She did not see anything in the dark. It was possible that Mobi walked and looked back step by step through the trees, she reached the mound and turned to her tent. Halfway there, she started hearing the muffled voices of two people. As he seemed to be near the tent, he began to see the danger that the sentry had found out that a girl was missing and was calling another sentry or his commander. She was disguised as a Moroccan merchant and was a mile and a half away, but she also thought that her disappearance would cause trouble for the rest of the girls. And there was no choice. She also went a little further to hear the words of two men. Their language she understood. She had lied that she did not understand any language except the Sicilian language. They became silent. Mubid moved forward, he heard footsteps on his left side, he was startled, he saw a dark shadow between the trees, which belonged to a human being, he changed his direction and started towards the hill, not to take any risk. She wanted to climb the hill. It was not high. She immediately went up. She was very smart, but not everyone can be careful at every step. She stood on the top of the hill with the sky full of stars in the background. The sea and the desert air are as clear as a mirror at night. While going through the trees, Adam turned to the top of the hill and saw a shadow like the trunk of a tree. He pushed back his hand, his nose bulged his chest and his long cloak began to reveal the secret even in the dark. This man was the commander of the night sentries. It was time to change the Commander was more alert because Sultan Ayyubi was in the camp with three Salars. The Sultan was very strict in discipline. It was understood that a girl was standing on the mound. That same evening, the commanders were warned that the crusaders had started using girls for espionage and sabotage. These girls could also be disguised as desert nomads and such poor girls. The commanders were told that these seven girls had come to the shelter of the Sultan, who apparently took pity on them. But they have been taken into the shelter as they are considered to be misfits. After hearing these orders, this commander said to one of his colleagues, "God forbid, such a girl should seek refuge from me" and they both laughed. At first he was afraid that it might be a witch or a jinn. He made the new sentry stand on the girls' tent and told him that there were seven girls inside. He opened the veil and looked. So in the yellow light of the lamp, he saw seven beds, every girl had her face covered with blankets, it was very cold, he did not go inside and see that all seven beds were empty and the blankets were placed on them as if they were sleeping. He didn't know that the seventh girl was standing in front of him on the mound. He thought for a while whether to call her or go to her himself or if she was a witch then wait for her to disappear for a while.
تھوڑی سی دیر کے انتظار کے بعد بھی لڑکی غائب نہ ہوئی بلکہ وہ دو تین قدم اگے چلی اور پھر پیچھے کو چل پڑی اور پھر رک گئی کماندار جس کا نام فخر المصری تھا اہستہ اہستہ ٹیلی تک گیا اور کہا کون ہو تم نیچے اؤ لڑکی نے ہرن کی طرح چوکڑی بھری اور ٹیلے کی دوسری طرف اتر گئی فخر کو یقین اگیا کہ کوئی انسان ہے جن یا چڑیل نہیں وہ تنومند مرد تھا ٹیلا اونچا نہیں تھا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ٹیلے پر چڑھ گیا ادھر بھی اندھیر ائی تھا رات کی خاموشی میں اسے لڑکی کے قدموں کی اہٹ سنائی دی اور ٹیلے سے توڑتا اترا اور لڑکی کے پیچھے گیا لڑکی اور تیز دوڑ پڑی فاصلہ بہت تھا لیکن فخر مرد تھا فوجی تھا اور چیتے کی رفتار سے دوڑ رہا تھا ٹیلے کے پیچھے اونچی نیچی زمین خشک جھاڑیاں اور کہیں کہیں کوئی درخت تھا بہت سا دوڑ کر فخر المصری نے محسوس کیا کہ اس کے اگے تو کوئی بھی نہیں اس نے رک کر ادھر ادھر دیکھا اسے اپنے پیچھے اور بہت بائیں لڑکی کے قدموں کی اہٹ سنائی دی وہ تربیت یافتہ لڑکی تھی جہاں اسے حسن اور شباب کے استعمال کی تربیت دی گئی تھی وہاں اسے فوجی ٹریننگ بھی دی گئی تھی اور خنجر زنی کے داؤ پیش بھی سکھائے گئے تھے وہ ایک درخت کی اوٹ میں چھپ گئی تھی فخر اگے گیا تو وہ دوسری طرف دوڑ پڑی یہ تعاقب انکھ مچولی کی مانند تھا فخر کو اندھیرا پریشان کر رہا تھا موبی کے قدم خاموش ہو جاتے تو وہ رک جاتا قدموں کی اواز سنائی دیتی تو وہ توڑ پڑتا غصے سے وہ باولا ہوا جا رہا تھا اس نے یہ جان لیا کہ یہ کوئی جوان لڑکی ہے اگر بڑی عمر کی ہوتی تو اتنی تیز اور اتنا زیادہ نہ بھاگ سکتی تعقب میں فخر دو میل فاصلہ طے کر گیا مبی نے جھاڑیوں اور اونچی نیچی زمین سے بہت فائدہ اٹھایا اس کے مرد ساتھیوں کا ڈیرا قریب اگیا تھا وہ دوڑتی ہوئی وہاں تک جا پہنچی اس نے اپنے ادمیوں کو اوازیں دی وہ گھبرا کے جاگے اور خیمے سے باہر ائے ایک نے مشل جلا لی یہ ڈنڈے کے سرے پر لپیٹے ہوئے کپڑے تھے ان کی اگ کی روشنی بہت زیادہ تھی فخر نے تلوار سونت لی اور ہانپتا کانپتا ان کے سامنے جا کھڑا ہوا اس نے دیکھا کہ یہ پانچ ادمی لباس سے سفری تاجر نظر اتے ہیں اور مسلمان لگتے ہیں لڑکی ان میں سے ایک کی ٹانگوں کو دونوں بازوں میں مضبوطی سے پکڑے بیٹھی ہوئی تھی مشل کے ناشتے شعلے میں اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور خوف نظر ارہا تھا اس کا سینہ ابھر اور بیٹھ رہا تھا اس کی سانسیں بری طرح اکھڑی ہوئی تھیں یہ لڑکی میرے حوالے کر دو فخر المصری نے حکم کے لہجے میں کہا یہ ایک نہیں ایک ادمی نے التجا کے لہجے میں جواب دیا ہم نے تو سات لڑکیاں اپ کے سلطان کے حوالے کی ہیں اپ اسے لے جا سکتے ہیں نہیں مبی نے اس کی ٹانگوں کو اور مضبوطی سے پکڑتے ہوئے روتے ہوئے خوفزدہ لہجے میں کہا میں اس کے ساتھ نہیں جاؤں گی یہ لوگ عیسائیوں سے زیادہ وحشی ہیں ان کا سلطان انسان نہیں سانڈ ہے درندہ ہے اس نے میری ہڈیاں بھی توڑ دی ہیں میں اس سے بھاگ کر ائی کون سلطان فخر نے حیران سا ہو کے پوچھا وہی جسے تم صلاح الدین ایوبی کہتے ہو مبی نے جواب دیا وہ اب مصر کی عربی بولی بول رہی تھی یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے فخر نے کہا اور پوچھا یہ ہے کون تمہاری کیا لگتی ہے اندر ا جاؤ دوست باہر سردی ہے ایک ادمی نے فخر سے کہا تلوار نیاب میں ڈال لو ہم تاجر ہیں ہم سے اپ کو کیا خطرہ اؤ اس لڑکی کی بپتہ سن لو اس نے اہ بھر کے کہا میں اپ کے سلطان کو مرد مومن سمجھتا تھا مگر ایک خوبصورت لڑکی دیکھ کر وہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا وہ باقی چھ لڑکیوں کا بھی یہی حشر کر رہا ہوگا ان کا یہ حشر دوسرے سالاروں نے کیا ہے مووی نے کہا شام کو ان بیچاریوں کو اپنے خیمے میں لے گئے تھے اور انہیں بے سد کر کے خیمے میں ڈال دیا وہ خیمے میں بے ہوش پڑی ہیں فخر المصری تلوار نیام میں ڈال کر ان کے ساتھ خیمے میں چلا گیا اندر جا کر بیٹھے تو ایک ادمی نے اگ جلا کر کہے کے لیے پانی رکھا اور اس میں جانے کیا کچھ ڈالتا رہا دوسرے ادمی نے فخر سے پوچھا کہ اس کا رتبہ کیا ہے اس نے بتایا کہ وہ کماندار اور عہدے دار ہے انہوں نے اس کے ساتھ بہت سی باتیں کی جن سے انہوں نے اندازہ کر لیا کہ یہ شخص عام قسم کا سپاہی نہیں اور ذمہ دار فرد ہے ذہین اور دلیر بھی ہے ان لوگوں میں سے ایک نے جو کرسٹوفر تھا فخر کو ساتھ لڑکیوں کے بالکل وہی کہانی سنائی جو صلاح الدین ایوبی کو سنائی تھی انہوں نے فخر کو یہ بھی بتایا کہ سلطان ایوبی نے ان کے متعلق کیا کہا تھا ان لڑکیوں نے سلطان کو یہ پیشکش بھی کی تھی کہ وہ اپنے گھروں کو تو واپس نہیں جا سکتی اور عیسائیوں کے پاس بھی نہیں جانا چاہتی اس لیے وہ مسلمان ہونے کو تیار ہیں بشرط کہ کوئی اچھے رطبوں والے عسکری ان کے ساتھ شادی کرنے ہم نے سنا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کردار کے لحاظ سے پتھر ہے ہم ہر روز سفر پر رہنے والے تاجر ہیں انہیں کہاں ساتھ لے کر تھے انہیں سلطان کے حوالے کر دیا گیا مگر سلطان نے اس لڑکی کے ساتھ جو سلوک کیا وہ
ENGLISH
Even after waiting for a while, the girl did not disappear, but she walked two or three steps forward and then walked back and then stopped. He was full like a deer and landed on the other side of the mound. Fakhr was sure that there was a human being, not a witch or a witch. He was a stout man. The mound was not high. He heard the footsteps of the girl and broke down from the hill and followed the girl and ran fast. The distance was far, but the pride was a man, a soldier, and he was running at the speed of a leopard. There was a tree somewhere. After running for a long time, Fakhr al-Masri felt that there was no one in front of him. He stopped and looked around. He heard the footsteps of a girl behind him and on the far left. She was trained in the use of shabab, there she was also given military training and she was also taught how to use daggers. The darkness was bothering Fakhr. Mobi's footsteps would be silent, then he would stop, the sound of footsteps would be heard, then he would break. If she had, she could not have run so fast and so far. In pursuit, Fakhr covered a distance of two miles. Mabi took great advantage of the bushes and the high and low ground. The camp of her male companions was near. They woke up in panic and came out of the tent. One of them lit a torch. These were clothes wrapped on the end of a stick. The light of their fire was very high. I saw that these five men looked like traveling merchants and looked like Muslims. The girl was sitting holding the legs of one of them firmly in both arms. Her face was showing panic and fear in the fire of Michelle's breakfast. His chest was heaving and he was sitting down, his breath was badly ragged. Hand over this girl to me. Fakhr al-Masri said in the tone of command, "This is not one, not one." Can you take him? No, Mabi said in a frightened voice, holding his legs and crying, I will not go with him. These people are more barbaric than Christians. He has also broken my bones. I ran away from him. Who is Sultan Fakhar? He was surprised and asked, "Is that the one you call Salahuddin Ayubi?" said and asked, "Who are you? What do you think? Come in, friend. It's cold outside." He said, "I used to think that your Sultan was a man of faith, but seeing a beautiful girl, he lost his faith. He must be doing the same fate to the other six girls. This fate has been done by other princes." They took them to their tent and put them in the tent without help. They were lying unconscious in the tent. He kept water for it and kept adding something to it. The other man proudly asked him what his rank was. He told him that he was a commander and an officer. This man is not an ordinary soldier and is a responsible individual, intelligent and brave as well. One of those people who was Christopher told Fakhar exactly the same story about the girls as he had told Salahuddin Ayyubi. He also told Fakhar that What Sultan Ayyubi had said about them, these girls had also offered to the Sultan that they could not go back to their homes and did not want to go to the Christians, so they were ready to become Muslims, provided that there were good rabbis. We had heard that Sultan Salah al-Din Ayyubi is a stone in character. We are traders who travel every day. What he treated
مگر سلطان نے اس لڑکی کے ساتھ جو سلوک کیا وہ اس کی زبانی سن لو فخر المصری نے لڑکی کی طرف دیکھا تو لڑکی نے کہا ہم بہت خوش تھیں کہ خدا نے ہمیں ایک فرشتے کی پناہ دی ہے سورج غروب ہونے کے بعد سلطان کا ایک محافظ ایا اور مجھے کہا کہ سلطان بلا رہا ہے میں باقی چھ لڑکیوں کی نسبت ذرا زیادہ خوبصورت ہوں مجھے توقع نہیں تھی کہ تمہارا ایوبی مجھے بری نیت سے بلا رہا ہے ایچ لی گئی سلطان ایوبی نے شراب کی سراہی کھولی ایک پیالہ اپنے اگے رکھا اور ایک مجھے دیا میں عیسائی ہوں شراب سو بار پیے بہری جہاز میں عیسائی کمانداروں نے میرے جسم کو کھلونا بنائے رکھا ہے صلاح الدین ایوبی کوئی نئی چیز نہیں تھی لیکن ایوبی کو میں فرشتہ سمجھتی تھی میں اس کے جسم کو اپنے ناپاک جسم سے دور رکھنا چاہتی تھی مگر وہ ان عیسائیوں سے بدتر نکلا جو مجھے بحری جہاز میں لائے تھے اور جب ان کا جہاز ڈوبنے لگا تو انہوں نے ہمیں ایک کشتی میں ڈال کر سمندر میں اتار دیا ان میں سے کسی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا ہمارے جسم نچھڑے ہوئے تھے اور ہڈیاں چٹخی ہوئی تھیں خدا نے ہمیں بچا لیا اور اس ادمی کی پناہ میں پھینک دیا جو فرشتے کے روپ میں درندہ ہے مجھے سلطان نے ہی بتایا تھا کہ میرے ساتھ کی باقی چھ لڑکیاں اس کے سالاروں کے خیموں میں ہیں میں نے سلطان کے پاؤں پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ شادی کر لو اس نے کہا کہ اگر تم مجھے پسند کرتی ہو تو شادی کے بغیر تمہیں اپنے حرم میں رکھ لوں گا اس نے میرے ساتھ وحشیوں کو برتاؤ کیا شراب میں بدمست تھا اس نے مجھے اپنے ساتھ لٹا لیا جو ہی اس کی انکھ لگی میں وہاں سے بھاگ گئی اگر میری بات کا اعتبار نہ ائے تو اس کے محافظوں سے پوچھ لو اس دوران ایک ادمی نے فخر کو کہوہ پہ لایا ذرا سی دیر بعد فخر کا مزاج بدلنے لگا اس نے نفرت سے قہقہا لگایا اور کہا ہمیں حکم دیتے ہیں کہ عورت اور شراب سے دور رہو اور خود شراب پی کر راتیں عورتوں کے ساتھ گزارتے ہیں فخر محسوس ہی نہ کر سکا کہ لڑکی کی کہانی محض بے بنیاد ہے اور نہ ہی وہ یہ محسوس کر سکا کہ اس کا مزاج کیوں بدل گیا ہے اسے حشیش پلا دی گئی تھی اس پر ایسا نشہ طاری ہو چکا تھا جسے وہ نشہ نہیں سمجھتا تھا وہ اب اپنے تصوروں میں بادشاہ بن چکا تھا لڑکی کے چہرے پر مشل کے شعلے کی روشنی ناچ رہی تھی اس کے بکھرے ہوئے سیاہی مائل بھورے بال چمک رہے تھے وہ فخر کو پہلے سے زیادہ حسین نظر انے لگی اس نے بے تاب ہو کر کہا تم اگر چاہو تو میں تمہیں پناہ میں لیتا ہوں نہیں لڑکی ڈر کے پیچھے ہٹ گئی اور بولی تم بھی میرے ساتھ اپنے سلطان جیسا سلوک کرو گے تو مجھے اپنے خیمے میں لے جاؤ گے اور میں ایک بار پھر تمہارے سلطان کے قبضے میں ا جاؤں گی ہم تو اب دوسری چھ لڑکیوں کو بچانے کی سوچ رہے ہیں ایک تاجر نے کہا ہم ان کی عزت بچانا چاہتے تھے مگر ہم سے بھول ہوئی فخر الدین کی نگاہیں لڑکی پر جمی ہوئی تھیں اس نے اتنی خوبصورت لڑکی کبھی نہیں دیکھی تھی خیمے میں خاموشی طاری ہو گئی جسے کرسٹوفر نے توڑا اس نے کہا تم عرب سے ائے ہو یا مصری ہو مصری فخر نے کہا میں دو جنگیں لڑ چکا ہوں اس لیے مجھے یہ عہدہ دیا گیا ہے سوڈانی فوج کہاں ہے جس کا سالار ناجی ہے کرسٹوفر نے پوچھا اس فوج کا ایک سپاہی بھی ہمارے ساتھ نہیں ایا فخر نے جواب دیا جانتے ہو ایسا کیوں ہوا ہے کرسٹوفر نے کہا سوڈانی انہیں صلاح الدین ایوبی کی عمارت اور کمان کو تسلیم نہیں کیا وہ فوج اپنے اپ کو ازاد سمجھتی ہے ناچی نے سلطان ایوبی کو بتا دیا تھا کہ وہ مصر سے چلے جائیں کیونکہ وہ غیر ملکی ہیں اسی لیے ایوبی نے مشرقیوں کی فوج بنائی اور لڑانے کے لیے یہاں لے ایا
ENGLISH
But listen to what the Sultan treated the girl. Fakhr al-Masri looked at the girl and the girl said, "We were very happy that God has given us the shelter of an angel. After sunset, a protector of the Sultan." Aya and said to me that the Sultan is calling. I am a little more beautiful than the other six girls. I did not expect that your Ayubi is calling me with bad intentions. Gave me I am a Christian Drunk a hundred times on a deaf ship Christian commanders made my body a toy Saladin Ayyubi was nothing new But Ayyubi I considered an angel I wanted to keep his body away from my unclean body But he turned out to be worse than the Christians who brought me in the ship, and when their ship began to sink, they put us in a boat and put us out into the sea. God saved us and threw us under the shelter of this man who is a beast in the form of an angel. It was the Sultan who told me that the other six girls with me were in the tents of his nobles. He said, "Marry me." He said, "If you like me, I will keep you in my harem without marriage." I ran away from there if you don't believe what I said, then ask his bodyguards. Meanwhile, a man brought Fakhar to him. After a while, Fakhar's mood started to change. orders him to stay away from women and alcohol and himself spends nights with women after drinking alcohol Pride could not feel that the girl's story was baseless nor could he realize why his mood had changed. Yes, he had been given hashish, he had become intoxicated, which he did not think of as intoxication, he had now become a king in his imagination. The light of the torch danced on the girl's face. She was shining and she started looking more handsome than before. She eagerly said, "If you want, I will take you under my shelter, no." You will take me to your tent and I will once again be in the possession of your Sultan. Now we are thinking of saving the other six girls. A businessman said, "We wanted to save their honor, but we forgot Fakhruddin." His eyes were fixed on the girl. He had never seen such a beautiful girl. There was a silence in the tent which was broken by Christopher. He said, "Are you from Arab or Egyptian?" This position has been given, where is the Sudanese army whose commander is Naji? Didn't that army consider itself free? Nachi told Sultan Ayyubi to leave Egypt because they are foreigners, so Ayyubi created an army of easterners and brought them here to fight.

No comments:

Post a Comment