The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 13
اور اترتے نظر ائے یہ اس کی نشانی تھی کہ وہاں کوئی مردار ہے وہ علاقہ مٹی اور ریت کے ٹیلوں کا تھا صحرائی درخت بھی تھے چلتے چلتے وہ ان ٹیلوں میں داخل ہو گئے وہ راستہ اوپر ہوتا گیا اور ایک بلند جگہ سے انہیں ایک میدان نظر ایا جہاں گدوں کے غول اترتے ہوئے شور بپا کر رہے تھے ذرا اور اگے گئے تو نظر ایا یہ لاشیں ہیں بدبو بھی تھی یہ ان سوڈانیوں کی لاشیں تھیں جو بحرہ روم کے ساحل پر مقیم سلطان ایوبی کی فوج پر حملہ کرنے چلے تھے سلطان ایوبی کے جانباز سواروں نے راتوں کو ان کے عقبی حصے پر حملہ کر کے یہ کشت و خون کیا اور سوڈانی فوج کو تتر بتر کر دیا تھا یہاں سے اگے میلوں وسط میں لاشیں بکھری ہوئی تھیں سوڈانیوں کو اپنی لاشیں اٹھانے کی مہلت نہیں ملی تھی قیدیوں اور محافظوں کا قافلہ چلتا اور ذرا سا رخ بدل کر لاشوں اور گدھوں سے ہٹ گیا قافلہ جب وہاں سے گزر رہا تھا تو انہوں نے دیکھا کہ لاشوں کے ارد گرد ان کے ہتھیار بھی بکھرے ہوئے تھے ان میں کمانے اور ترکش تھے برچھیاں تلواریں اور ڈھالے بھی تھیں قیدیوں نے یہ ہتھیار دیکھ لیے انہوں نے اپس میں باتیں کی اور رابن نے اس لڑکی سے کچھ کہا جس نے مصری کمانڈر پر قبضہ کر رکھا تھا لاشیں اور ہتھیار دور دور تک پھیلے ہوئے تھے دائیں طرف ٹیلوں کے قریب سرسبز جگہ تھی پانی بھی نظر ارہا تھا سبزہ ٹیلوں کے اوپر تک گیا ہوا تھا لڑکی نے کمانڈر کو اشارہ کیا تو وہ اس کے قریب چلا گیا لڑکی نے کہا یہ جگہ بہت اچھی ہے یہیں رک جاتے ہیں مصری نے قافلے کا رخ پھیر دیا اور سرسبز ٹیلے کے قریب پانی کے چشمے پر جا رکا رات یہیں بسر کرنا تھی جب گھوڑوں اور اونٹوں سے اترے جانور پانی پر ٹوٹ پڑے رات گزارنے کے لیے اچھی جگہ دیکھی جانے لگی وہ ٹیلوں کے درمیان جگہ کشادہ بھی تھی اور وہاں سبزہ بھی تھا یہی جگہ منتخب کر لی گئی جب رات کا اندھیرا گہرا ہوا تو سب سو گئے مصری جاگ رہا تھا اور لڑکی بھی جاگ رہی تھی اس رات اسے خاص طور پر جاگنا اور مصری کمانڈر کو پوری طرح مدہوش کرنا تھا اسے جب خراٹوں کی اوازیں سنائی دینے لگی تو اپنے مصری کے پاس چلی گئی اس لڑکی کی خاطر وہ سب سے الگ اور دور ہٹ کر لیٹا تھا لڑکی اسے ٹیلے کی اوٹ میں لے گئی اور وہاں سے اور زیادہ دور جانے کی خواہش ظاہر کی مصری اس کی خواہشوں کا غلام ہو گیا تھا اسے احساس تک نہ تھا کہ اج رات لڑکی اسے ایک خاص مقصد کے لیے دور لے جا رہی ہے وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور لڑکی اسے تین ٹیلوں سے بھی پرے لے گئی وہ رکی اور مصری کو باہوں میں لے لیا مصری بے خود ہو گیا ادھر روبن نے جب دیکھا کہ کمانڈر جا چکا ہے اور دوسرے محافظ گہری نیند سوئے ہوئے ہیں تو اس نے لیٹے لیٹے اپنے ایک ساتھی کو جگایا اس نے ساتھ والے کو جگایا اس طرح رابن کے چاروں ساتھی جاگ اٹھے محافظ ان سے ذرا دور سوئے ہوئے تھے مصری کمانڈر کو لڑکی نے اتنا بے پرواہ کر دیا تھا کہ رات کو وہ سنتری کھڑا نہیں کرتا تھا پہلے رابن پیٹ کے بل رینگتا محافظوں سے دور چلا گیا اس کے بعد اس کے چاروں ساتھی بھی چلے گئے ٹیلے کی اوٹ میں ہو کر وہ تیز تیز چلنے لگے اور لاشوں تک پہنچ گئے ٹٹول ٹٹول کر انہوں نے تین کمانے اور ترکش اٹھائے اور ایک ایک برچی اٹھا لی اسی مقصد کے لیے انہوں نے لڑکی سے کہا تھا کہ وہ کمانڈر سے کہے کہ یہاں پڑاؤ کیا جائے وہ ہتھیار لے کر واپس ہوئے اب وہ اکٹھے تھے وہ سوئے ہوئے محافظوں کے قریب جا کھڑے ہوئے رابن نے ایک محافظ کے سینے میں برچھی مارنے کے لیے برچھی ذرا اوپر اٹھائی باقی چار بھی ایک محافظ کے باقی چار بھی ایک ایک محافظ کے سر پر کھڑے تھے یہ نہایت کامیاب چال تھی وہ بیک وقت چار محافظوں کو ختم کر سکتے تھے اور باقی 11 کے سنبھلنے تک انہیں بھی ختم کرنا مشکل نہیں تھا پیچھے تین شطربان تھے اور مصری کمانڈر وہ اسان شکار تھے رابن نے جو ہی برچی اوپر اٹھائی زناٹا سے سنائی دیا اور ایک تیر رابن کے سینے میں اتر گیا اور اس کے ساتھ ہی ایک تیر رابن کے اس ساتھی کے سینے میں لگا وہ ڈولے اور ان کے تین ساتھی ابھی دیکھ ہی رہے تھے کہ یہ کیا ہوا کہ دو اور تیر ائے اور دو اور قیدی اوندھے ہو گئے اخری قیدی بھاگنے کے لیے پیچھے کو مڑا تو ایک تیر اس کے پہلو میں اتر گیا یہ کام اتنی خاموشی سے ہو گیا کہ ان محافظوں میں سے کسی کی انکھ ہی نہ کھلی جن کے سروں پر موت ان کھڑی ہوئی تھی تیر انداز اگے ائے انہوں نے مشعلیں روشن کی یہ وہ دو محافظ تھے جنہوں نے اپنے کمانڈر سے کہا تھا کہ انہیں منزل پر جلدی پہنچنا چاہیے وہ دیانت دار تھے وہ سوئے ہوئے تھے جب چاروں قیدی ان کے قریب سے گزرے تو ان میں سے ایک کی انکھ کھل گئی تھی اس نے اپنے ساتھی کو جگایا اور قیدیوں کا تعقب دبے پاؤں کیا انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ اگر قیدیوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو انہیں تیروں سے ختم کر دیں گے مگر اس سے پہلے وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ یہ کیا کرتے ہیں اندھیرے میں انہیں جو کچھ نظر ارہا تھا وہ دیکھتے رہے قیدی ہتھیار اٹھا کر واپس ائے تو دونوں محافظ ا کر ٹیلے کے ساتھ چپ کر بیٹھ گئے جو ہی قیدیوں نے محافظوں کو برچھیاں مارنے کے لیے برچھیاں اٹھائیں انہوں نے تیر چلا دیے پھر چاروں کو ختم کر دیا انہوں نے اپنے کمانڈر کو اواز دی تو اسے لاپتا پایا اس اواز سے لڑکیاں جاگ اٹھی اور باقی محافظ بھی جاگ گئے لڑکیوں نے اپنے ادمیوں کی لاشیں دیکھی ہر ایک لاش میں ایک ایک تیر اترا ہوا تھا لڑکیاں خاموشی سے
ENGLISH
And looking down, it was a sign that there was a dead body there. The area was of mud and sand dunes. There were also desert trees. As they walked, they entered these dunes. The path went up and from a high place they saw a field. Where the swarms of donkeys were making a noise while coming down, they went a little further and saw that there were corpses. The cavalry attacked their rear at night and scattered the Sudanese army. Dead bodies were scattered for miles ahead. The caravan moved and turned slightly away from the corpses and the donkeys. When the caravan was passing by, they saw that their weapons were also scattered around the corpses. Among them were lances and quivers, spears, swords and shields. The prisoners saw these weapons, they talked among themselves and Robin said something to the girl who was holding the Egyptian commander. The bodies and weapons were spread far and wide. On the right side was a green area near the dunes. He had gone to the top of the green dunes. The girl pointed to the commander, so he went near him. The girl said, "This is a very good place. We will stop here." We had to stay here for the night when the animals dismounted from the horses and camels broke down on the water and a good place was seen for spending the night. When it got dark, everyone fell asleep. The Egyptian was awake and the girl was also awake. That night, she had to wake up especially and make the Egyptian commander completely intoxicated. When she heard snoring, she went to her Egyptian. Because he was lying far away from everyone else, the girl took him to the outer part of the mound and expressed his desire to go further away from there. The Egyptian had become a slave to his desires. She was taking him away for a special purpose. He kept walking with her and the girl took him beyond three dunes. And the other guards are fast asleep, so he woke up one of his comrades while lying down, he woke up the next one, thus Robin's four companions woke up, the guards were sleeping a little away from them. At night, he did not set up an orange tree. First, Robin crawled away from the guards on his belly, then his four companions also went to the outer edge of the mound. They picked up three bows and quivers and a spear each. For this purpose they asked the girl to tell the commander to encamp here. They returned with the weapons. Now they were together. They approached the sleeping guards. Standing up, Robin raised the javelin slightly to spear one of the defenders in the chest. The other four also stood on the head of one of the defenders. This was a very successful trick. It was not difficult to eliminate them until the remaining 11 were taken care of. There were three Shatrabans behind and the Egyptian commander was an easy victim. As soon as Rabin raised the spear, Zanata heard an arrow and an arrow landed in Rabin's chest and an arrow along with it. Robin's companion was hit in the chest by that bullet and his three companions were still watching what happened when two more arrows came and two more prisoners were blinded. I dismounted. This was done so quietly that not an eye was opened by any of the guards over whom death stood. The archers came forward and lighted their torches. They wanted to reach their destination quickly. They were honest. They were sleeping. When the four prisoners passed by them, one of them had his eyes open. He woke up his companion and pursued the prisoners. They intended to finish off the prisoners with arrows if they tried to escape, but before that they wanted to see what they would do. The two guards sat quietly by the mound, as soon as the prisoners raised their spears to spear the guards, they fired arrows and killed all four. They called out to their commander and found him missing. woke up and the rest of the guards also woke up, the girls saw the dead bodies of their men, there was an arrow in each dead body, the girls were silent.
انہیں معلوم تھا کہ یہ ادمی اج رات کیا کریں گے مصری کمانڈر وہاں نہیں تھا اور ایک لڑکی بھی غائب تھی محافظوں کو معلوم نہیں تھا کہ جب ان قیدی جاسوسوں کے سینوں میں تیر داخل ہوئے تھے بالکل اسی وقت ان کے مصری کمانڈر کی پیٹھ میں ایک خنجر اتر گیا تھا اس کی لاش تیسرے ٹیلے کے ساتھ پڑی تھی اس رات سحرہ کی ریت خون کی پیاسی معلوم ہوتی تھی مصری کمانڈر اپنے محافظ دستے اور قیدیوں سے بے خبر اس لڑکی کے ساتھ چلا گیا اور لڑکی اسے خاصا دور لے گئی تھی اسے معلوم تھا کہ اس کے ساتھی ایک خونی ڈرامہ کھیلیں گے لڑکی مصری کو ایک ٹیلے کے ساتھ لے کے بیٹھ گئی اسی ٹیلے سے ذرا پرے بالیان اور اس کے چھ محافظوں نے پڑاؤ ڈال رکھا تھا ان کے گھوڑے کچھ دور بندھے ہوئے تھے بالیان موبی کو ساتھ لیے ٹیلے کی طرف ا گیا تھا اس کے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی موبی نے نیچے بچھانے کے لیے دری اٹھا رکھی تھی بالیان محافظوں سے دور جا کر عیش و عشرت کرنا چاہتا تھا اس نے دری بچھا دی اور موبی کو اپنے ساتھ بٹھا لیا وہ بیٹھے ہی تھے کہ رات کے سکوت میں انہیں قریب سے کسی کی باتوں کی اوازیں سنائی دی وہ چونکے اور دم ساد کر سننے لگے اواز کسی لڑکی کی تھی بالیان اور مبید دبے پاؤں اس طرف ائے اور ٹیلے کی اوٹ سے دیکھا انہیں دو سائے بیٹھے ہوئے نظر ائے صاف پتہ چلتا تھا کہ ایک عورت ہے اور ایک مرد منہ بھی اور زیادہ قریب ہوئی اور غور سے باتیں سننے لگی مصری کمانڈر کے ساتھ اس لڑکی نے ایسی واضح باتیں کی کہ موبی کو یقین ہو گیا کہ یہ اس کی ساتھی لڑکی ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ اسے قاہرہ لے جایا جا رہا ہے مصری نے جو حرکتیں اور باتیں کی وہ تو بالکل ہی صاف تھی کسی شک کی گنجائش نہیں تھی مبی جان گئی کہ مصری اس لڑکی کو اس کی مجبوری کے عالم میں عیاشی کا ذریعہ بنا رہا ہے مبی نے یہ بالکل نہ سوچا کہ ارد گرد کوئی اور بھی ہوگا اور اس نے جو ارادہ کیا ہے اس کا نتیجہ کیا ہوگا اس نے پیچھے ہٹ کر بالیان کے کان میں کہا یہ مصری ہے اور میرے ساتھ کی ایک لڑکی کے ساتھ عیش کر رہا ہے اس لڑکی کو بچا لو یہ مصری تمہارا دشمن ہے اور لڑکی تمہاری دوست اس نے بالیان کو اور زیادہ بھڑکانے کے لیے کہا یہ بڑی خوبصورت لڑکی ہے اسے بچا لو اور اپنے سفری حرم میں اضافہ کر لو بالیان شراب کیے ہوئے تھا اس نے کمر بند سے خنجر نکالا اور بہت تیزی سے اگے بڑھ کر خنجر مصری کمانڈر کی پیٹھ میں گھوم دیا خنجر نکال کر اسی تیزی سے ایک اور وار کیا لڑکی مصری سے ازاد ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی موبی دوڑی اور اسے اواز دی وہ دوڑ کر مبی سے لپٹ گئی مبینے اس سے پوچھا کہ دوسری کہاں ہے اس نے رابن اور دوسرے ساتھیوں کے متعلق بھی بتایا اور یہ بھی کہ 15 محافظوں کے پہرے میں ہے بالیان دوڑتا گیا اور اپنے چھ ساتھیوں کو بلا لایا ان کے پاس کمانے اور دوسرے ہتھیار تھے اتنے میں قیدیوں کے محافظوں میں سے ایک اپنے مصری کمانڈر کو اوازیں دیتا ادھر اگیا والیان کی ایک ساتھی نے تیر چلایا اور اس محافظ کو ختم کر دیا وہ لڑکی انہیں اپنی جگہ لے جانے کے لیے اگے اگے چل پڑی بالیان کو اخری ٹیلے کے پیچھے روشنی نظر ائی اس نے ٹیلے کی اوٹ میں جا کر دیکھا وہاں بڑی بڑی دو مشلیں جل رہی تھیں ان کے ڈنڈے زمین میں کھڑے ہوئے تھے ان کے اوپر والے سروں پر تیل میں بھگوئے ہوئے کپڑے لپٹے ہوئے تھے جو جل رہے تھے بالیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ اندھیرے میں ہی تھا اسے روشنی میں پانچ لڑکیاں الگ کھڑی نظر ارہی تھیں اور محافظ بھی دکھائی دے رہے تھے ان کے درمیان پانچ لاشیں پڑی تھیں جن میں تیر اترے ہوئے تھے موبی اور دوسری لڑکی کی سسکیاں نکلنے لگی مووی کے اکسانے پر بالیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تمہارا شکار ہے تیروں سے ختم کر دو ان کی تعداد اب 14 تھی یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ وہ روشنی میں تھے بالیان کے ساتھیوں نے کمانوں میں تیر ڈالے تمام تیر ایک ہی بار کمانوں سے نکلے دوسرے ہی لمحے کمانوں میں چھ اور تیرہ چکے تھے ایک ہی بار قیدیوں کے چھ محافظ ختم ہو گئے باقی ابھی سمجھ ہی نہ سکے تھے باقی ابھی سمجھ ہی نہ سکے تھے کہ یہ تیر کہاں سے ائے ہیں چھ اور تیروں نے چھ اور محافظوں کو گرا دیا باقی دو رہ گئے تھے ان میں سے ایک اندھیرے میں غائب ہو گیا دوسرا ذرا سست نکلا وہ بھی سوڈانیوں کے بیک وقت تین تیروں کا شکار ہو گیا تین شتربان رہ گئے تھے جو سامنے نہیں تھے وہ اندھیرے میں کہیں ادھر ادھر ہو گئے تھے مشلوں کی روشنی میں اب لاشیں ہی لاشیں نظر ارہی تھیں ہر لاش ایک ایک تیر لیے ہوئے تھی اور ایک میں تین تیر پیوست تھے مبی دوڑ کر لڑکیوں سے ملی اتنے میں انہیں ایک گھوڑے کے سرپٹ دوڑنے کی اوازیں سنائی دیں جو دور نکل گئیں بالیان نے کہا یہاں رکنا ٹھیک نہیں ان میں سے ایک بچ کر نکل گیا ہے وہ قاہرہ کی سمت کیا ہے فارن یہاں سے نکلو انہوں نے محافظوں کے گھوڑے کھولے اور اپنی جگہ گئے وہاں جا کر دیکھا کہ ایک گھوڑا بمازین غائب تھا اسے بچ کر نکل جانے والا محافظ لے گیا تھا وہ اپنے گھوڑوں تک نہیں جا سکا تھا چھپ کر ادھر چلا گیا جہاں اسے اٹھ کوڑے بندے نظر ائے زینے پاس ہی پڑی تھی اس نے ایک گھوڑے پر زین کسی اور بھاگ نکلا بالیان نے 14 گھوڑوں پر زینے کسوائیں سامان دو گھوڑوں پر لادا باقی گھوڑے ساتھ لیے اور روانہ ہو گئے لڑکیوں نے موبی کو سنایا کہ ان پر کیا بیتی ہے اور انہیں کہاں لے جایا جا رہا
ENGLISH
They knew what these men would do at night. The Egyptian commander was not there and a girl was also missing. The guards did not know that when the arrows entered the chests of these imprisoned spies, at the same time an Egyptian commander was shot in the back. The dagger had come down, her body was lying next to the third mound. That night, the sands of the morning seemed thirsty for blood. The Egyptian commander, unaware of his guards and prisoners, went with the girl and the girl had taken him far away. It was said that his companions would play a bloody drama. The girl took the Egyptian and sat down by a mound. A little beyond the same mound, Balian and his six guards were encamped. Their horses were tied some distance away. He had gone to the mound, he had a bottle of wine in his hand, and Mobi had picked up the darii to lay down. When they were in the silence of the night, they heard the sounds of someone's words nearby. They were shocked and breathless and started listening to the voice of a girl. It was clear that there was a woman and a man. It also became clear that she was being taken to Cairo, the actions and words of the Egyptian were very clear, there was no room for any doubt. Hai Mabi didn't think at all that there would be anyone else around and what would be the result of what he had planned. He stepped back and whispered into Balian's ear, "This is an Egyptian and he's having sex with a girl next to me." Yes, save this girl, this Egyptian is your enemy and the girl is your friend, he said to provoke Balyan more, this is a very beautiful girl, save her and add to your traveling harem. took out a dagger and moved forward very quickly and spun the dagger in the Egyptian commander's back. The suspect asked him where the other one was. He also told about Robin and other companions and that it was guarded by 15 guards. Balian ran and called six of his companions. One of the guards stepped forward, calling out to his Egyptian commander. One of Valian's comrades fired an arrow and finished off the guard. The girl moved forward to lead them to her place. Going to the outer part of the mound, he saw two big torches burning, their sticks standing in the ground, cloths soaked in oil wrapped around their upper ends, which were burning, Balian was in the dark with his companions. He could see five girls standing separately in the light and the guards were also visible. Five bodies were lying between them with arrows in them. Mobi and the other girl started sobbing. Kill the victim with arrows. Their number was now 14. It was their misfortune that they were in the light. Balyan's companions put arrows in the bows. Once the six guards of the prisoners were gone, the rest could not understand, the rest could not understand where these arrows came from. I disappeared. The other one turned out to be a bit slower. He was also hit by three arrows at the same time from the Sudanese. Three Shatrabans were left who were not in front. The dead body was carrying one arrow and three arrows were stuck in one. Mabi ran and met the girls. Meanwhile, they heard the sound of a galloping horse which went away. Balyan said it is not right to stop here. He has gone, what is the direction of Cairo? Farn, get out of here. He hid and went there, where he saw the whip lying next to the saddle. He saddled another horse and ran away. told what was happening to them and where they were being taken
اس کے ساتھی لاشوں کے ہتھیار اٹھانے گئے تھے مگر معلوم نہیں وہ کس طرح مارے گئے مووی نے کہا ایوبی کے کیمپ میں میری اور رابن کی ملاقات اچانک ہو گئی تھی اس نے کہا تھا کہ مجھے یوں نظر ارہا ہے کہ یسو مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے ورنہ ہم اس طرح خلاف توقع نہ ملتے اج ہماری ملاقات بالکل خلاف توقع ہو گئی ہے لیکن میں یہ نہیں کہوں گی کہ ہم سے ناراض معلوم ہوتا ہے ہم نے جس کام میں ہاتھ ڈالا وہ چوپٹ ہوا بہرہ روم میں ہماری فوج کو شکست ہوئی اور مصر میں ہماری دوست سوڈانی فوج کو شکست ہوئی ادھر رابن اور کرسٹوفر جیسے دلیر اور قابل ادمی اور ان کے اتنے اچھے ساتھی مارے گئے معلوم نہیں ہمارا انجام کیا ہوگا ہمارے جیتے جی تمہیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بالیان نے کہا میرے شہروں کا کمال تم نے دیکھ لیا ہے جس وقت قیدیوں کا قافلہ لاشوں کے پاس ٹیلوں میں رکا ہوا تھا اس وقت ساحل پر سلطان ایوبی کی فوج کے کیمپ میں تین ادمی داخل ہوئے وہ اٹلی کی زبان بولتے تھے ان کا لباس اٹلی کے دیہاتیوں جیسا تھا ان کی زبان کوئی نہیں سمجھتا تھا اٹلی کے جنگی قیدیوں سے معلوم کیا گیا انہوں نے بتایا کہ یہ اٹلی سے ائے ہیں اور اپنی لڑکیوں کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں یہ یہاں کے سالار سے ملنا چاہتے ہیں انہیں بہاؤدین شداد کے پاس پہنچا دیا گیا صلاح الدین ایوبی کی غیر حاضری میں شداد کیمپ کمانڈر تھا اٹلی کا ایک جنگی قیدی بلایا گیا وہ مصر کی زبان بھی جانتا تھا اس کی وساطت سے ان ادمیوں کے ساتھ باتیں ہوئیں ان تین ادمیوں میں ایک ادھیڑ عمر تھا اور دو جوان تھے تینوں نے ایک ہی جیسی بات سنائی تینوں کی ایک ایک جوان بہن کو صلیبی فوجی ان کے گھروں سے اٹھا لائے تھے انہیں کسی نے بتایا تھا کہ وہ لڑکیاں مسلمانوں کے کیمپ میں پہنچ گئی ہیں یہ اپنی بہنوں کی تلاش میں ائے ہیں انہیں بتایا گیا کہ یہاں سات لڑکیاں ائی تھیں انہوں نے بھی یہی کہانی سنائی تھی مگر ساتوں جاسوس نکلیں ان تینوں نے کہا کہ ہماری بہنوں کا جاسوسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ہم تو غریب اور مظلوم لوگ ہیں کسی سے کشتی مانگ کر اتنی دور ائے ہیں ہم غریبوں کی بہنیں جاسوسی کی جرات کیسے کر سکتی ہیں ہمیں ان سات لڑکیوں کا کچھ پتہ نہیں معلوم نہیں وہ کون ہوں گی ہم تو اپنی بہنوں کو ڈھونڈ رہے ہیں ہمارے پاس کوئی اور لڑکی نہیں شداد نے بتایا یہی سات لڑکیاں تھیں جن میں سے ایک لاپتا ہو گئی تھی اور باقی چھ کو پرسوں سب یہاں روانہ کر دیا گیا ہے اگر انہیں دیکھنا چاہتے ہو تو قاہرہ چلے جاؤ ہمارا سلطان رحم دل انسان ہے تمہیں لڑکیاں دکھا دے گا نہیں ایک نے کہا ہماری بہنیں جاسوس نہیں وہ ساتھ کوئی اور ہوں گی ہماری بہنیں سمندر میں ڈوب گئی ہوں گی یا ہمارے ہی فوجیوں نے انہیں اپنے پاس رکھا ہوا ہوگا بہاؤدین شداد نیک خصلت انسان تھا اس نے ان دیہاتیوں کی مظلومیت سے متاثر ہو کر ان کی خاطر تواضع کی اور انہیں عزت سے رخصت کیا اگر وہاں علی بن سفیان ہوتا تو ان تینوں کو اتنی اسانی سے نہ جانے دیتا اس کی سراغ رساں نظریں بھانپ لیتی کہ یہ تینوں جھوٹ بول رہے ہیں تینوں چلے گئے کسی نے بھی نہ دیکھا کہ وہ کہاں گئے ہیں وہ چلتے ہی گئے اور شام تک چلتے ہی رہے کیمپ سے دور جہاں کوئی خطرہ نہ تھا وہ چٹانوں کے اندر چلے گئے وہاں ان جیسے 18 ادمی بیٹھے ان کا انتظار کر رہے تھے ان تینوں میں جو ادھیڑ عمر تھا وہ میگنل نام ریوز تھا یہ صلیبیوں کی وہ کمانڈو پارٹی تھی جسے لڑکیوں کو ازاد کرانے اور اگر ممکن ہو سکے تو سلطان ایوبی کو قتل کرنے کا مشن دیا گیا تھا ان تینوں نے کیمپ سے کچھ اور ضروری معلومات بھی حاصل کر لی تھیں یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ صلاح الدین ایوبی یہاں نہیں قاہرہ میں ہے شداد کے ساتھ باتیں کرتے جہاں انہیں یہ معلوم ہو گیا تھا کہ لڑکیاں قاہرہ کو روانہ کر دی گئی ہیں وہاں انہوں نے یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ ان کے ساتھ پانچ مرد قیدی بھی ہیں یہ پارٹی ایک بڑی کشتی میں ائی تھی انہوں نے کشتی ساحل پر ایسی جگہ باندھی تھی جہاں سمندر چٹان کو کاٹ کر اندر تک گیا ہوا تھا ان لوگوں کو اب قاہرہ کے لیے روانہ ہونا تھا مگر سواری نہیں تھی یہ تین ادمی جو کیمپ میں گئے تھے یہ بھی دیکھائے تھے کہ اس فوج کے گھوڑے اور اونٹ کہاں بنے ہوئے ہیں انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ کیمپ سے جانور چوری کرنا اسان نہیں 21 گھوڑے یا اونٹ چوری نہیں کیا جا سکتے تھے ابھی سورج طلوع ہونے میں بہت دیر تھی وہ پیدل ہی چل پڑے اگر انہیں سواری مل جاتی تو وہ قیدیوں کو راستے میں ہی جا لینے کی کوشش کرتے اب وہ یہ سوچ کر پیدل چلے کہ قاہرہ میں جا کر قیدیوں کو چھڑانے کی کوشش کریں گے سب جانتے تھے کہ یہ زندگی اور موت کی مہم ہے صلیبی فوج کے سربراہ اور شاہوں نے انہیں کامیابی کی صورت میں جو انعام دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اتنا زیادہ تھا کہ کوئی کام کیے بغیر اپنے کنبوں سمیت ساری عمر ارام اور بے فکری کی زندگی بسر کر سکتے تھے میگنہ نامروز کو جیل خانے سے لایا گیا تھا اسے ڈاکہ زنی کے جرم میں 30 سال سزائے قید دی گئی تھی اس کے ساتھ دو اور قیدی تھے جن میں سے ایک کی سزا 24 سال اور دوسرے کی 27 سال تھی اس زمانے میں قید خانے قصاب خانے ہوتے تھے مجرم کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا بڑی ظالمانہ مشقت لی جاتی تھی اور مویشیوں کی طرح کھانے کو بیکار خوراک دی جاتی تھی قیدی رات کو بھی ارام نہیں کر سکتے تھے ایسی قید سے موت بہتر تھی ان تینوں کو انعام کے علاوہ سزا معاف کرنے کا وعدہ دیا گیا تھا صلیب پر حلف لے کر انہیں
ENGLISH
His comrades went to collect weapons from the corpses but it is not known how they were killed. Mowi said that Robin and I had a sudden meeting in Ayubi's camp. Otherwise, we would not have met in such a contrary way, but our meeting has been completely contrary to expectation, but I will not say that he seems to be angry with us. Our friend Sudanese army was defeated in Egypt, while brave and capable people like Robin and Christopher and their good companions were killed, we don't know what will happen to us, no one can touch you while we are alive. I have seen that when the convoy of prisoners was stopped in the dunes near the corpses, three men entered the camp of Sultan Ayubi's army on the coast. They spoke the Italian language. It was understood from the prisoners of war of Italy, they said that they came from Italy and were looking for their girls. Shaddad was the commander of the camp, a prisoner of war from Italy was called, he also knew the language of Egypt, and through him, there were talks with these men. One of these three men was middle-aged and two were young. A young sister was picked up from her home by the Crusaders who was told by someone that the girls had reached the Muslim camp and were looking for their sisters. They were told that there were seven girls here. It was told, but the seven spies came out. The three of them said that our sisters have nothing to do with espionage. We are poor and oppressed people. We have come so far after asking someone for a boat. We don't know anything about the seven girls, we don't know who they are, we are looking for our sisters, we don't have any other girls. If you want to see them, go to Cairo. Our sultan is a kind hearted person and will show you the girls. He must have kept them with him. Bahauddin Shaddad was a man of good character. The tracking eyes of the three would have realized that these three were lying. The three left. No one saw where they had gone. They kept on walking and kept walking until evening, away from the camp where there was no danger. They went inside the rocks. There were 18 men like him sitting there waiting for him. Among the three, a middle-aged man named Magnil named Reeves was a commando party of crusaders who had been given the mission to free the girls and kill Sultan Ayubi if possible. The three of them had also got some other necessary information from the camp and found out that Salahuddin Ayyubi was not here but in Cairo. When they went there, they also found out that there were five male prisoners with them. This party had come in a big boat. Now he was supposed to leave for Cairo, but he did not have a ride. These three men who went to the camp had also seen where the horses and camels of this army were kept. They also saw that it was not easy to steal animals from the camp. 21 horses. Or the camels could not be stolen. It was too late for the sun to rise. They walked on foot. If they had found a ride, they would have tried to take the prisoners on the way. Now they walked, thinking that they would go to Cairo. They all knew that it was a life-and-death campaign. Omar could live a peaceful and carefree life. Meghna Namroz was brought from the jail and sentenced to 30 years for robbery along with two other prisoners, one of whom was sentenced to 24 years and the other He was 27 years old. In those days, prisons were slaughterhouses. Criminals were not considered human beings. They were subjected to cruel labor and were given useless food like cattle. Prisoners could not rest even at night. Death was caused by such imprisonment. It was better that these three had been given a promise of remission of punishment in addition to the reward by taking an oath on the cross
مرتضی معاف کرنے کا وعدہ دیا گیا تھا صلیب پر حلف لے کر انہیں پارٹی میں شامل کیا گیا تھا جس پادری نے ان سے حلف لیا تھا اس نے انہیں بتایا کہ وہ جتنے مسلمانوں کو قتل کریں گے اس سے 10 گنا ان کے گناہ بخشے جائیں گے اور اگر انہوں نے صلاح الدین ایوبی کو قتل کیا تو ان کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے اور اگلے جہاں خدائے یسو مسیح انہیں جنت میں جگہ دیں گے یہ معلوم نہیں کہ یہ تینوں قید خانے کے جہنم سے ازاد ہونے کے لیے موت کی اس مہم میں شامل ہوئے تھے یا اگلے جہان جنت میں داخل ہونے کے لیے یا انعام کا لالچ انہیں لے ایا تھا یا وہ نفرت جو ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف ڈالی گئی تھی بہرحال وہ عزم کے پختہ معلوم ہوتے تھے اور ان کا جوش و خروش بتا رہا تھا کہ وہ کچھ کر کے ہی مصر سے نکلیں گے یا جانے قربان کر دیں گے باقی 18 تو فوج کے منتخب ادمی تھے انہوں نے جلتے ہوئے جہازوں سے جانے بچائی تھی اور بڑی مشکل سے واپس گئے تھے وہ مسلمانوں سے اس ذلت امیز شکست کا انتقام لینا چاہتے تھے انعام کا لالچ تو تھا ہی یہی جذبہ تھا جس کے جوش سے وہ اندھے کی منزل کی سمت پیدل ہی چل پڑے دوپہر کے وقت ایک گھوڑا سوار صلاح الدین ایوبی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے جاروکا گھوڑے کا پسینہ چھوٹ رہا تھا اور سوار کے منہ سے تھکن کے مارے بات نہیں نکل رہی تھی وہ گھوڑے سے اترا تو گھوڑے کا سارا جسم بڑی زور سے کانپا گھوڑا گر پڑا اور مر گیا سوار نے اسے ارام دیے بغیر اور پانی پلائے بغیر ساری رات اور ادھا دن مسلسل دوڑایا تھا سلطان ایوبی کے محافظوں نے سوار کو گہرے میں لے لیا اسے پانی پلایا اور جب وہ بات کرنے کے قابل ہوا تو اس نے کہا کہ کسی سالار یا کماندار سے ملا دو سلطان ایوبی خود ہی باہر اگئے تھے سوار انہیں دیکھ کر اٹھا اور سلام کر کے کہا سلطان کا اقبال بلند ہو بری خبر لایا ہوں سلطان ایوبی اسے اندر لے گئے اور کہا خبر جلدی سناؤ قیدی لڑکیاں بھاگ گئی ہیں ہمارا پورا دستہ مارا گیا ہے اس نے کہا مرد قیدیوں کو ہم نے جان سے مار دیا ہے میں اکیلا بچ کے نکلا ہوں مجھے یہ معلوم نہیں کہ حملہ اور کون تھے ہم مشلوں کی روشنی میں اور وہ اندھیرے میں تھے اندھیرے سے تیر ائے اور میرے تمام ساتھی ختم ہو گئے یہ قیدیوں کے محافظوں کے دستے کا وہ ادمی تھا جو اندھیرے میں غائب ہو گیا تھا اور سوڈانیوں کا گھوڑا کھول کر بھاگ ایا تھا اس نے گھوڑے کو بلا روکے سر پر دوڑایا تھا اور اتنا طویل سفر ادھے سے بھی تھوڑے وقت میں طے کر لیا تھا سلطان صلاح الدین نے علی بن سفیان اور فوج کے ایک نائب سالار کو بلا لیا وہ ائے تو اس ادمی سے کہا کہ اب وہ ساری بات سنائے اس نے کیمپ سے روانگی کے وقت سے بات شروع کی اور اپنے کمانڈر کے متعلق بتایا کہ وہ ایک قیدی لڑکی کے ساتھ دل بہلاتا رہا اور قیدیوں سے لاپرواہ ہو گیا پھر راستے میں جو کچھ ہوتا رہا اور اخر میں جو کچھ ہوا اس نے سنا دیا مگر وہ یہ نہ بتا سکا کہ حملہ اور کون تھے سلطان ایوبی نے علی بن سفیان اور نائب سالار سے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ صلیبی چھاپہ مار مصر کے اندر موجود ہیں ہو سکتا ہے علی بن سفیان نے کہا یہ صحرائی ڈاکو بھی ہو سکتے ہیں اتنی خوبصورت یہ لڑکیاں ڈاکوں کے لیے بڑی کشش تھی تم نے اس کی بات غور سے نہیں سنی سلطان ایوبی نے کہا اس نے کہا ہے کہ مرد قیدی لاشوں کے ہتھیار اٹھا لائے تھے اور محافظوں کو قتل کرنے لگے تھے محافظوں میں سے دو نے انہیں تیروں سے ہلاک کر دیا اس کے بعد ان پر حملہ ہوا اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ صلیبی چھاپہ مار ان کے تعاقب میں تھے وہ کوئی بھی تھے سلطان محترم نائب سالار نے کہا فوری طور پر کرنے والا کام یہ ہے کہ اس عسکری کو رہنمائی کے لیے ساتھ بھیجا جائے اور کم از کم 20 گھوڑا سوار جو تیز رفتار ہو تعاقب کے لیے بھیجا جائے یہ بعد کی بات ہے کہ وہ کون تھے میں اپنے ایک نائب کو ساتھ بھیجوں گا علی بن سفیان نے کہا اس عسکری کو کھانا کھلاؤ سلطان ایوبی نے کہا اسے تھوڑی دیر ارام کر لینے دو اتنی دیر میں 20 سوار تیار کرو اور تعاقب میں روانہ کرو اگر ضرورت سمجھو تو زیادہ سوار بھیج دو میں نے جہاں سے گھوڑا کھولا تھا وہاں اٹھ گھوڑے بندھے ہوئے تھے محافظ نے کہا وہاں کوئی انسان نہیں تھا حملہ اور ہی ہو سکتے ہیں اگر گھوڑے اٹھ تھے تو وہ بھی اٹھ ہی ہوں گے چھاپا ماروں کی تعداد زیادہ نہیں ہو سکتی نائب سالار نے کہا ہم انشاءاللہ انہیں پکڑ لیں گے یہ یاد رکھو کہ وہ چھاپہ مار ہے سلطان ایوبی نے کہا اور لڑکیاں جاسوس ہیں اگر تم ایک جاسوس چھاپہ مار کو پکڑ لو تو سمجھ لو تم نے دشمن کے دو عسکری پکڑ لیے ہیں میں ایک جاسوس کو ہلاک کرنے کے لیے دشمن کے دو عسکریوں کو چھوڑ سکتا ہوں ایک عورت کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی مگر ایک جاسوس اور تخریب کا اور عورت اکیلی پورے ملک کا بیڑا غرق کر سکتی ہے یہ لڑکیاں بے حد خطرناک ہیں اگر وہ مصر کے اندر رہ گئیں تو تمہارا پورا کا پورا لشکر بیکار ہو جائے گا ایک جاسوس یا جاسوسا کو پکڑنے یا جان سے مارنے کے لیے اپنے ایک س سپاہی قربان کر دو یہ سودا پھر بھی سستا ہے چھاپہ مار اگر نہ پکڑے جائیں تو مجھے پرواہ نہیں ان لڑکیوں کو ہر قیمت پر پکڑنا ہے ضرورت سمجھو تو تیروں سے انہیں ہلاک کر دو زندہ نکل کر نہ جائیں
ENGLISH
Murtaza was promised to be forgiven, and he was recruited into the party by swearing an oath on the cross. And if they killed Salahuddin Ayyubi, all their sins will be forgiven and next time God Jesus Christ will give them a place in heaven. either to enter Paradise in the next world or the lure of reward or the hatred that was instilled in their hearts against the Muslims, however, they seemed firm in their determination and expressed their enthusiasm. It was said that they would leave Egypt only after doing something or sacrifice themselves. The remaining 18 were selected men of the army. They had saved their lives from burning ships and returned with great difficulty. They wanted to take revenge, the temptation of the reward was the same spirit with which they walked towards the blind man's destination. He was unable to speak due to exhaustion, he got off the horse, the whole body of the horse trembled violently, the horse fell down and died. The guards took the rider into the deep and gave him water, and when he was able to speak, he said, "I met a salar or commander, Sultan Ayyubi himself had come out." Iqbal got up and brought bad news. Sultan Ayubi took him inside and said, tell the news quickly, the girls prisoners have escaped, our entire squad has been killed. It is not known who else attacked us in the light of the torches and they were in the dark. He had run away without stopping the horse and had completed such a long journey in less than half of the time. He asked him to tell the whole thing now. He started talking from the time of his departure from the camp and told about his commander that he kept having fun with a prisoner girl and became careless about the prisoners, then what happened on the way and finally. He told me what happened, but he could not tell who the attack was or who it was. Sultan Ayyubi told Ali bin Sufyan and the deputy salar that this meant that the crusaders were inside Egypt, perhaps Ali bin Sufyan. Said these could be desert robbers. These girls were so beautiful that they were a great attraction for the robbers. You did not listen to him carefully. Sultan Ayyubi said he said that the men had brought the weapons of the dead bodies and killed the guards. Two of the guards killed him with arrows after which they were attacked, showing that the Crusader raiders were in pursuit, whoever they were, the Sultan said. The task is to send this soldier along to lead and at least 20 horsemen who are fast to follow. It is a matter of the latter who they were. He said, feed this soldier. Sultan Ayubi said, let him rest for a while. Prepare 20 horsemen in this time and send him in pursuit. If you think necessary, send more horsemen. The guard said that there was no human being there and the attack could have happened if the horses had risen, they too would have risen. The number of raiders cannot be large. Yes, Sultan Ayyubi said, and girls are spies. If you capture a spy raider, understand that you have captured two enemy soldiers. I can release two enemy soldiers to kill a spy. A woman belongs to someone. Nothing can spoil anything but a spy and sabotage and a woman alone can sink a whole country's fleet. These girls are extremely dangerous. If they stay inside Egypt, your whole army will be useless to catch a spy or a spy. Or sacrifice one of your soldiers to kill them. This deal is still cheap. Raid if they are not captured. I don't care. These girls must be captured at any cost. go

No comments:
Post a Comment