22 The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode22
اس دوران ام ارارہ جو عرب کے حسن کا شاہکار تھی خلیفہ الازد کے ساتھ بڑی معصومیت سے کچھ ایسی فحش حرکتیں کرتی رہی کہ الازد پر شراب کا نشہ دبنا ہو گیا اس کی ذہنی کیفیت اس لڑکی کے قبضے میں تھی رجب کی باتیں اور دلیلیں اس کے دماغ میں اترتی جا رہی تھیں اس کی زیادہ تر توجہ ام ارارہ پر مرکوز تھی رجب کی باتیں تو وہ ضمنی طور پر سن رہا تھا رجب نے صلاح الدین ایوبی پر ایک انتہائی بےہودہ وار کیا اس نے کہا اس نے ایک اور فریب کاری شروع کر رکھی ہے کسی خوبصورت اور جوان لڑکی کو پکڑ کر اس کی ابرو ریزی کرتا ہے اور چند دن عیش کر کے اسے یہ کہہ کر مروا دیتا ہے کہ یہ جاسوس ہے عیسائیوں کے خلاف قوم میں نفرت پیدا کرنے کے لیے اس نے فوج اور عوام میں یہ مشہور کر رکھا ہے کہ صلیبی اپنی لڑکیوں کو مصر میں جاسوسی کے لیے بھیجتے ہیں اور وہ بدکار عورتوں کو بھی یہاں بھیجتے ہیں جو قوم کا اخلاق تباہ کرتی ہیں میں اسی ملک کا باشندہ ہوں یہاں جتنے غیبہ خانے ہیں وہاں مصری اور سوڈانی عورتیں ہیں اگر کوئی عیسائی عورت ہے تو وہ کسی کی جاسوس نہیں یہ اس کا پیشہ ہے مجھے حرم کی تین چار لڑکیوں نے بتایا ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے انہیں اپنے گھر بلایا اور خراب کیا تھا ام ارارہ نے کہا خلیفہ بھڑک اٹھا اور کہا میرے حرم کی لڑکیاں تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا اس لیے کہ اپ کی بیماری میں یہ خبر اپ کے لیے اچھی نہیں تھی ام ارارہ نے کہا ابھی یہ بات میرے منہ سے بے اختیار نکل گئی ہے میں نے ایسا انتظام کر دیا ہے کہ اب کوئی لڑکی کسی کے بھلانے پر باہر نہیں جا سکتی میں اسے ابھی بلا کر درے لگواؤں گا خلیفہ نے کہا میں انتقام لوں گا انتقام لینے کے طریقے اور بھی ہیں رجب نے کہا اس وقت عوام صلاح الدین ایوبی کے ساتھ ہیں یہ لوگ اپ کے خلاف ہو جائیں گے تو کیا میں اپنی یہ توہین برداشت کر لوں خلیفہ نے کہا نہیں رجب نے کہا اگر اپ مجھے اجازت دیں اور میری مدد کریں تو میں صلاح الدین کو اسی طرح غائب کر دوں گا جس طرح اس نے مصر کی پرانی فوج کے سالاروں کو گم کیا تھا تم یہ کام کس طرح کرو گے خلیفہ نے پوچھا حشیشین یہ کام کر دکھائیں گے رجب نے کہا بہت زیادہ طلب کرتے ہیں اور رقم کا مطالبہ جس قدر ہوگا وہ میں دوں گا خلیفہ نے کہا تم انتظام کرو دو روز بعد جمعہ تھا قاہرہ کی جامع مسجد کے خطیب کو عیسی اہلکاری فقیہ نے کہہ دیا تھا کہ خطبے میں خلیفہ کا نام نہ لیا جائے یہ خطیب ترک تھے جن کا پورا نام تاریخ میں محفوظ نہیں وہ امیر العالم کے نام سے مشہور تھے اس دور کے دستاویزی ثبوت ایسے بھی ہیں جن کے مطابق خطیب امیر العالم نے کئی بار اس بدعت کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ خلیفہ کا نام خطبے سے حذف کیا گیا ایک روایت یہ بھی ہے کہ صلاح الدین ایوبی کو امیر العالم نے ہی مشورہ دیا تھا کہ اس بدعت کے خاتمے کے احکام جاری کریں اور دو بقائے نگار اس کا سرا عیسی اہلکاری فقیہ کے سر باندھتے ہیں ہو سکتا ہے یہ منصوبہ خطیب امیر العالم اور مذہبی امور کے مشیر عیسی الحکاری فقلی کے پیش نظر بھی ہو لیکن صلاح الدین ایوبی کی گفتگو کی جو دستاویزات مل چکی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دلیرانہ اقدام سلطان ایوبی کا ہی تھا بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت سچے مسلمان موجود تھے خطیب امیر العالم نے خطبے میں خلیفہ کا نام نہ لیا جامع مسجد میں صلاح الدین ایوبی درمیانی صفوں میں موجود تھا علی بن سفیان اس سے تھوڑی دور کسی صف میں بیٹھا تھا سلطان ایوبی کے متعدد دیگر مشیر اور معتمد بکھر کر عوام میں بیٹھے تھے تاکہ ان کا رد عمل بھانپ سکیں علی بن سفیان کے مخبروں کی بہت بڑی تعداد مسجد میں موجود تھی خلیفہ کا نام خطبے سے غائب کرنا ایک سنگین اقدام نہیں بلکہ خلافت کے احکام کے مطابق سنگین جرم تھا اس کا ارتکاب کر دیا گیا سربراہوں میں سے اگر کوئی مسجد میں نہیں تھا تو وہ خلیفہ العادت تھا نماز کے بعد سلطان ایوبی اٹھے خطیب کے پاس گئے ان سے مسافحہ کیا ان کے چغے کا بوسہ لیا اور کہا اللہ اپ کا حامی و ناصر ہو خطیب امیر العالم نے جواب دیا یہ حکم صادر فرما کر اپ نے جنت میں گھر بنا لیا ہے واپس چند قدم چل کر سلطان ایوبی رک گئے اور خطیب کے قریب جا کر کہا اگر اپ کو خلیفہ کا بلاوا ا جائے تو اس کے پاس جانے کے بجائے میرے پاس ا جائیے گا میں اپ کے ساتھ چلوں گا اگر امیر مصر گستاخی نہ سمجھیں امیر العالم نے کہا تو عرض کروں کہ باطل اور شرک کے خلاف عمل اور حق گوئی اگر جرم ہے تو اس کی سزا میں اکیلا بھگ دوں گا میں اپ کا سہارا نہیں ڈھونڈوں گا خلیفہ نے بلایا تو اکیلا جاؤں گا میں نے غلیظ کے نام کو اپ کے حکم سے نہیں خدا کے حکم سے حذف کیا ہے میں اپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں شام کے بعد صلاح الدین ایوبی علی بن سفیان بہاؤدین شدا
ENGLISH
During this time, Umm Arara, who was the masterpiece of Arab beauty, kept doing some obscene acts with Caliph Al-Azd with great innocence that Al-Azd became intoxicated with alcohol and his mental state was in the possession of this girl. His mind was getting more and more focused on Umm Arara, and he was listening to Rajab's words side by side. He captures a beautiful and young girl and plucks her eyebrows and kills her after a few days of luxury saying that she is a spy. It has been said that the Crusaders send their girls to Egypt to spy and they also send wicked women here who destroy the morals of the nation. If she is a Christian woman, she is not someone's spy. This is her profession. Three or four harem girls have told me that Salah al-Din Ayyubi had invited them to his house and spoiled them. Umm Arara said. Why didn't you tell me before, because this news was not good for you in your illness, Umm Arara said, "Now this thing has come out of my mouth without control. I have made such an arrangement that no girl should be forgotten by anyone." But I can't go out, I will call him now and arrest him. Khalifa said, "I will take revenge. There are other ways to take revenge." "Let me bear this insult," said the Caliph. "No." Rajab said, "If you give me permission and help me, I will make Saladin disappear in the same way that he made the leaders of the old army of Egypt disappear. You do this." How will you do it? The Caliph asked. The Hashishians will show this work. Rajab said they are asking for too much and I will give the amount of money demanded. The Caliph said you make arrangements. Two days later it was Friday. The jurist, Isa, had said that the name of the Caliph should not be mentioned in the sermon. This preacher was a Turk whose full name is not preserved in history. He was known as Amir al-Alam. had expressed his determination to eradicate this innovation several times and it was as a result of his efforts that the name of the Caliph was deleted from the sermon. Issue decrees to end the heresy and the two surviving writers tie his head to the head of Isa Nimili Fiqh. This plan may be in view of Khatib Amir al-Alam and adviser on religious affairs Isa al-Khari Fiqli, but Salah al-Din Ayyubi's conversation which Documents have been found, they show that this bold move was of Sultan Ayyubi, however, there is no doubt that there were true Muslims at that time. I was present, Ali bin Sufyan was sitting in a row a little away from him. Several other advisors and confidants of Sultan Ayyubi were sitting scattered in the crowd to get a sense of their reaction. A large number of informants of Ali bin Sufyan were present in the mosque. Absent the name of the Prophet from the sermon is not a serious act, but according to the rules of the Caliphate, it was a serious crime. He shook hands with him, kissed his forehead and said, "Allah be your supporter and supporter." He went and said that if you are called by the Caliph, instead of going to him, you will go to me. To be honest, if it is a crime, I will suffer the punishment alone. I will not seek your help. If the Caliph calls me, I will go alone. I present Salah al-Din Ayyubi Ali bin Sufyan Bahauddin after the evening
سفیان بہاؤدین شداد اور چند ایک مشیروں سے دن کی رپورٹ لے رہے تھے سارے شہر میں شہریوں کے بیس میں مخبر اور جاسوس پھیلا دیے گئے تھے جنہوں نے لوگوں کی رائے معلوم کر لی تھی علی بن سفیان نے سلطانہ ایوبی کو بتایا کہ کہیں سے بھی انہیں ایسی اطلاع نہیں ملی جہاں کسی نے یہ کہا ہو کہ خطبے میں خلیفہ کا نام نہیں لیا گیا تھا علی بن سفیان کے بعد ادمیوں نے دو تین جگہوں پر یہ بھی کہا کہ جامع مسجد کے خطیب نے اج خطبے کے جمعہ میں خلیفہ کا نام نہیں لیا تھا یہ اس نے بہت برا کیا ہے اس پر کچھ ادمی اس طرح حیران ہوئے جیسے انہیں معلوم ہی نہیں کہ خطبے میں خلیفہ کا نام لیا گیا تھا یا نہیں ان میں سے چار پانچ نے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے خلیفہ خدا یا پیغمبر تو نہیں ان اطلاعات سے سلطان ایوبی کو اطمینان ہو گیا کہ عوام کے جس رد عمل سے اسے ڈرایا گیا تھا اس کا کہیں بھی اظہار نہیں ہوا سلطان ایوبی نے اس وقت سلطان نور الدین زنگی رحمت اللہ علیہ کے نام پیغام لکھا جس میں انہیں اطلاع دی کہ انہوں نے جمعہ کے خطبے سے خلیفہ کا نام نکلوا دیا ہے عوام کی طرف سے اچھے رد عمل کا اظہار ہوا ہے لہذا اپ بھی مرکزی خلافت کو خطبے سے خارج کر دیں اس لب لباب کا طویل پیغام لکھ کر انہوں نے حکم دیا کہ قاصد کو الس روانہ کر دیا جائے جو یہ پیغام نور الدین زنگی رحمت اللہ علیہ کو دیکھ کر واپس ا جائے اس کے بعد انہوں نے علی بن سفیان سے کہا خلیفہ کے محل میں جاسوسوں کو چوکنہ کر دیا جائے وہاں ذرا سی بھی مشکوک حرکت ہو تو فورا اطلاع دیں رجب کو سلطان ایوبی جانتا تھا اسے یہ بھی معلوم تھا کہ رجب خلیفہ کا منہ چڑھا نائب سالار ہے سلطان ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا رجب کے ساتھ ایک ادمی سائے کی طرح لگا رہنا چاہیے اس رات خلیفہ کی محفل عیش و ترب میں رجب نہیں تھا وہ سلطان ایوبی کے قتل کا انتظام کرنے چلا گیا تھا اسے حسن بن صباح کے حشیشین سے ملنا تھا خلیفہ روزمرہ کی طرح باہر کی دنیا سے بے خبر اور ام ارارہ کے تلسماتی حسن اور ناز و ادا میں گم تھا اسے کسی نے بتایا ہی نہیں کہ خطبے میں اس کا نام حذف ہو چکا ہے وہ خوش تھا کہ صلاح الدین ایوبی کے قتل کا انتظام ہونے والا ہے ام ارارہ نے اسے جلدی سلانے اور بے ہوش کرنے کے لیے زیادہ شراب پلا دی اور شراب میں خواب اور سفوف بھی ملا لیا اس بوڑھے سے جلدی چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے وہ یہی نسخہ استعمال کیا کرتی تھی اسے صلح کر اور قندیلیں بجھا کر وہ کمرے سے نکل گئی وہ اپنے مخصوص کمرے کی طرف جا رہی تھی جس میں رجب رات کو چوری چھپے اس کے پاس ایا کرتا تھا وہ کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ کباڑوں کے پیچھے سے کسی نے اس پر کمبل پھینکا اس کی اواز بھی نہ نکلنے پائی تھی کہ اس کے منہ پر جہاں پہلے ہی کمبل لپیٹ لیا گیا تھا ایک اور کپڑا باندھ دیا گیا اسے کسی نے کندھوں پر ڈال لیا اور کمرے سے نکل گیا یہ دو ادمی تھے وہ محل کی بھولل بھلئیوں اور چور راستوں سے واقف معلوم ہوتے تھے وہ اندھیری سیڑھیوں پر چڑھ گئے اوپر سے انہوں نے رسہ باندھ کر نیچے لٹکایا لڑکی کو کندھوں پر ڈالے ہوئے وہ ادمی رسے سے نیچے اتر گیا اس کے پیچھے دوسرا اترا اور دونوں اندھیرے میں غائب ہو گئے کچھ دور چار گھوڑے کھڑے تھے اور ان کے پاس دو ادمی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اندھیرے میں اتے دیکھا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ ایک نے کندھے پر کچھ اٹھا رکھا ہے وہ گھوڑوں کو اگے لے گئے سب گھوڑوں پر سوار ہو گئے ایک سوار نے لڑکی کو اپنے اگے ڈال لیا ان میں سے کسی نے کہا گھوڑوں کو ابھی دوڑانا نہیں ٹاپو سارے شہر کو جگا دیں گے گھوڑے اہستہ اہستہ چلتے گئے اور شہر سے نکل گئے یہ صلاح الدین ایوبی کا کام ہے رجب نے الاغل سے کہا قصر خلافت میں ہر کسی کی زبان پر یہی الفاظ ہیں کہ اس کے سوا کوئی بھی ایسی جرات نہیں کر سکتا ہر کسی کے کانوں میں یہ الفاظ رجب نہیں ڈالے تھے اسے جو ہی ام ارارہ کی گمشدگی کی اطلاع ملی تھی اس نے سارے محل میں گھوم پھر کر ہر کسی لڑکی کے متعلق پوچھا اور ہر کسی سے کہا تھا یہ سلطان ایوبی کا ہی کام ہے قصر صدارت کے اعلی حاکم سے ادنی ملازم تک انہی الفاظ کو دہرائے چلے جا رہے تھے اور جب یہ الفاظ خلیفہ العادت کے کانوں میں پڑے تو اس نے ذرا بھر سوچنے کی ضرورت نہ سمجھی کہ یہ الزام بے بنیاد ہو سکتا ہے اس کے کانوں میں یہ تو پہلے ہی ڈالا جا چکا تھا کہ سلطان ایوبی عورتوں کا شہدائی ہے ام ارارہ نے اسے یہ بتایا کہ سلطان ایوبی حرم کی چار لڑکیوں کو خراب کر چکا ہے خلیفہ نے اسی وقت اپنے خصوصی قاصد کو بلایا اور اسے کہا کہ امیر مصر کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ پردے میں لڑکی واپس کر دو میں کوئی کاروائی نہیں کروں گا جس وقت خلیفہ قاصد کو یہ پیغام دے رہا تھا اس وقت قاہرہ سے 10 12 میل دور تین شتر سوار قاہرہ کی طرف خرامہ خرامہ ا رہے تھے وہ مصر کی فوج کے
ENGLISH
Sufyan was taking the daily report from Bahauddin Shaddad and a few advisors. Informers and spies were spread throughout the city among the citizens who had ascertained the opinion of the people. No information was found where anyone said that the name of the Khalifa was not mentioned in the sermon. After Ali bin Sufyan, people also said in two or three places that the preacher of the Jamia Masjid did not mention the name of the Khalifa in the Friday sermon. Some of the people were surprised at this, as if they did not know whether the name of the Caliph was mentioned in the sermon or not. The Caliph is not God or the Prophet. From these reports, Sultan Ayubi was satisfied that the reaction of the people that he was afraid of was not expressed anywhere. He wrote in which he was informed that he has removed the name of the Caliph from the Friday sermon. There has been a good response from the people, so you should also remove the central caliphate from the sermon. ordered that the messenger should be sent to Als, who should return after seeing this message to Nur al-Din Zangi, may God's mercy be upon him. After that, he asked Ali bin Sufyan to alert the spies in the Caliph's palace. If there is any suspicious activity, report it immediately. Rajab was known by Sultan Ayyubi. He also knew that Rajab was the vice-president of the Caliph. Rajab was not in the luxurious party. He had gone to arrange the assassination of Sultan Ayyubi. He had to meet Hasan bin Sabah's Hashisheen. No one told him that his name had been deleted from the sermon. He was happy that the assassination of Salah al-Din Ayyubi was going to be arranged. She also mixed the dream and the sufof. She used the same recipe to get rid of this old man quickly. She used to visit him when she entered the room when someone threw a blanket on her from behind the trash. Her voice could not be heard, so another cloth was tied over her mouth where the blanket was already wrapped. Someone put her on his shoulders and left the room. These were two men. They seemed to be familiar with the palace's mazes and secret paths. They climbed the dark stairs. From the top, they tied a rope and hung the girl down on their shoulders. After that man got down from the rope, another one got down behind him and both of them disappeared in the darkness. Four horses were standing some distance away and two men were sitting beside them. They saw their companions in the dark and also saw that One of them carried something on his shoulder. They led the horses forward. They all got on the horses. They went and left the city. This is the work of Salahuddin Ayyubi. Rajab said to Al-Aghl that these words are on the tongue of everyone in Qasr Khilafat that no one except him can do such a dare. These words are not Rajab in everyone's ears. As soon as he got the information about the disappearance of Umm Arara, he went around the palace asking about every girl and told everyone that this is the work of Sultan Ayyubi, from the highest ruler of the presidential palace to the lowest employee. The words were being repeated and when these words reached the ears of Khalifa Al-Idaat, he did not feel the need to think that this accusation might be baseless, it had already been put in his ears that Sultan Ayyubid Umm Arara, the Martyr of Women, told him that Sultan Ayyubi had spoiled four girls in the Haram. At the same time, the Caliph called his special messenger and told him to go to the Emir of Egypt and tell him to return the girl in the veil. I will not take any action. At the time when the Caliph was giving this message to the messenger, three camel riders, 10 to 12 miles from Cairo, were coming towards Cairo.
وہ مصر کی فوج کے گ*** سنتری تھے مصر کے سیاسی حالات چونکہ اچھے نہیں تھے جاسوسوں اور تخریب کاروں کی سرگرمیاں رکنے کی بجائے بڑھتی جا رہی تھی سلطان ایوبی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ملک میں غداری اور بغاوت کی چنگاریاں بھی سلگ رہی ہیں اس سوڈانی فوج کی طرف سے جسے انہوں نے برترف کر دیا تھا خطرہ پوری طرح ٹالا نہیں تھا اس فوج کے کماندار عہدے دار اور سپاہی تجربہ کار عسکری تھے کسی بھی وقت ملک کے لیے خطرہ بن سکتے تھے سب سے بڑا خطرہ تو یہ تھا کہ سلطان ایوبی کے مخالفین نے صلیبیوں سے دوستانہ کر رکھا تھا ان کے جاسوسوں کو وہ پناہ اڈہ اور مدد مہیا کرتے تھے ان خطرات کے پیش نظر دارالحکومت سے بہت دور دور اور ہر طرف فوج کے چند ایک دستے رکھے گئے تھے ان کے گ*** سنتری دن رات صحراؤں اور ٹیلوں ٹیکریوں کے علاقوں میں گھوڑوں اور اونٹوں پر گشت کرتے رہتے تھے تاکہ انے والے خطرے کی اطلاع قبل از وقت دی جا سکے دو تین شتر سوار انہی دستوں کے گشت ہی سنتری تھے جو اپنی ذمہ داری کے علاقے میں گشت کر کے واپس ا رہے تھے اگے مٹی اور پتھروں کی پہاڑیوں اور چٹانوں کا وسیع علاقہ تھا جب وہ وادی میں سے گزر رہے تھے انہیں کسی عورت کی اہ و پکار سنائی دی اس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ لڑکی پر زبردستی کی جا رہی ہے ایک شتر سوار اترا اور اس چٹان پر چڑھ گیا جس کی دوسری طرف سے اوازیں ارہی تھیں اس نے چھپ کر دیکھا ادھر چار گھوڑے کھڑے تھے اور چار ادمی ہی تھے چاروں سوڈانی حبشی تھے ایک بڑی ہی خوبصورت لڑکی تھی جو دوڑی جا رہی تھی ایک حبشی نے اسے پکڑ لیا اور اسے اپنے بازوں میں دبوچ کر اٹھا لیا اسے اپنے ساتھیوں کے درمیان کھڑا کر کے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل ہو گیا اس نے اپنے سینے پر ہاتھ بند کر کہا تم مقدس لڑکی ہو اپنے اپ کو تکلیف میں ڈال کر ہمیں گنہگار نہ کرو دیوتاؤں کا قہر ہمیں جلا ڈالے گا یا ہمیں پتھر بنا دے گا میں مسلمان ہوں لڑکی نے چلا کر کہا تمہارے دیوتاؤں پر لعنت بیچتی ہوئی مجھے چھوڑ دو ورنہ میں تم سب کو خلیفہ کے کتوں سے بوٹی بوٹی کروا دوں گی تم اب خلیفہ کی ملکیت نہیں ایک حبشی نے اسے کہا اب تم اس دیوتا کی ملکیت ہو جس کے ہاتھ میں اسمان کی بجلیوں کا قہر ناگوں کا زہر اور شیروں کی طاقت ہے اس نے تمہیں پسند کر لیا ہے اب جو کوئی تمہیں اس سے چھیننے کی کوشش کرے گا صحرا کی ریت چلا کر رکھ دے گی ایک حبشی نے دوسرے سے کہا میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ یہاں نہ رکھو مگر تم ارام کرنا چاہتے تھے اسے بندھا ہوا چلتے چلتے اور شام سے پہلے پہلے منزل پر لے جاتے کیا ہمارے گھوڑے تھک نہیں گئے تھے اب شی نے جواب دیا ہم کتنی رات کے جاگے ہوئے نہیں تھے اسے پھر باندھو اور چلو اس نے لڑکی کو دبوچ لیا اچانک اس کی پیٹھ میں ایک تیر اتر گیا اس سے لڑکی ڈھیلی ہو گئی لڑکی اسے دھکا دے کر بھاگنے لگی تو دوسرے ادمی نے اسے پکڑ کر گھسیٹا اور گھوڑوں کی اوٹ میں ہو گیا ایک اور تیر ایا جو ادمی کی گردن میں لگا وہ بری طرح تڑپنے لگا جس ادمی نے لڑکی کو پکڑا ہوا تھا وہ گھوڑے کی باگ پکڑ کر لڑکی اور گھوڑے کو نشے بھی جگہ لے گیا جو بالکل قریب تھی ایک حبشی اور بھی رہ گیا تھا وہ یہیں دوڑ کر نشیب میں اتر گیا تیر اس شتر سوار سنتری نے چلائے تھے جو چٹان پر چڑھ گیا تھا اس نے یہیں جو بیان دیا تھا اس میں کہا تھا کہ وہ دیوتاؤں کے نام سے ڈر گیا تھا لیکن لڑکی نے جب یہ کہا کہ میں مسلمان ہوں اور میں دیوتاؤں پر لعنت بھیجتی ہوں تو سنتری کا ایمان بیدار ہو گیا لڑکی نے جب خلیفہ کا نام لیا تو سنتری سمجھ گیا کہ یہ حرم کی لڑکی ہے اس کا لباس اس کی شکل و صورت اور اس کی ڈیل ڈول بتا رہی تھی کہ یہ معمولی درجے کی لڑکی نہیں اسے اغوا کیا جا رہا ہے اور اسے سوڈان میں لے جا کر فروخت کیا جائے گا سنتری کو یہ معلوم تھا کہ تھوڑے دنوں بعد سوڈانی حبشیوں کا ایک میلہ لگنے والا ہے جس میں لڑکیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے فوج کو سلطان ایوبی نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ عورت کی عزت کی حفاظت کی جائے گی ایک عورت کی عزت کو بچانے کے لیے ایک درجن ادمیوں کے قتل کی بھی اجازت تھی سنتری نے یہ ساری باتیں سامنے رکھ کر فیصلہ کیا کہ اس لڑکی کو بچانا ہے اس نے دو تیر چلائے اور دو حبشی مار ڈالے اس نے غلطی یہ کی کہ باقی دو حبشیوں کو پکڑنے کے لیے نیچے اتر ایا اپنے اونٹ پر سوار ہوا اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ بردہ فروشوں کا تعاقب کرنا ہے وہ تینوں اونٹوں کو دوڑاتے دوسری طرف گئے مگر انہیں چٹان کا چکر کاٹ کر جانا پڑا اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اونٹ گھوڑے کا تعقب کر سکتا ہے یا نہیں ان تینوں میں سے تیر کمان صرف اسی سنتری کے پاس تھا باقی دو کے پاس برچھیاں اور تلواریں تھیں اس جگہ پہنچے جہاں لڑکی اور حبشیوں کو دیکھا گیا تھا تو وہاں دو لاشوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا سوڈانی حبشی لڑکی کو بھی لے گئے تھے اور اپنے مرے ہوئے ساتھیوں کے گھوڑوں کو بھی شتر سواروں نے تعاقب میں اونٹ دوڑائے لیکن وہ ٹیلوں اور چٹانوں کا علاقہ تھا راستہ گھومتا اور مڑتا تھا انہیں بھاگتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دے رہے
ENGLISH
He was the c*** of the Egyptian army because the political conditions of Egypt were not good, the activities of spies and subversives were increasing instead of stopping. Sultan Ayyubi knew very well that the sparks of treason and rebellion were burning in the country. The danger was not completely averted from the Sudanese army which they dismissed, the commanders, officers and soldiers of this army were experienced soldiers. They could become a threat to the country at any time. The biggest danger was that The opponents of Sultan Ayyubi had befriended the crusaders, and they provided shelter and support to their spies. Sentries used to patrol the deserts and hilly areas on horses and camels day and night so as to give early warning of impending danger. On their way back, there was a vast area of mud and stone hills and rocks. As they were passing through the valley, they heard the cry of a woman. It was clear that the girl was being forced by a camel. The rider dismounted and climbed on the rock from which the voices were coming from the other side. He peeped and there were four horses and four men. The four were Sudanese Abyssins. There was a very beautiful girl who was running. He caught her and lifted her up in his arms and made her stand between his companions and knelt before him. The anger of the gods will burn us or turn us into stone, I am a Muslim, the girl shouted, cursing your gods, leave me, otherwise I will have you all mauled by the Caliph's dogs, you are now the property of the Caliph. No, a negro said to him, now you are the property of the god who has in his hands the fury of lightning, the venom of snakes and the strength of lions. The sand will drive it away. One negro said to the other, I told you not to keep it here, but you wanted to calm it down. Shay replied, "How many nights have we not been awake, tie it again and let's go." He grabbed the girl, suddenly an arrow landed in her back, the girl got loose, the girl pushed her and started to run away. He grabbed the horse and dragged it into the horse's saddle. Another arrow hit the man's neck. The man who was holding the girl was in agony. A negro was near, and there was one more left, and he ran down into the valley. The arrows were shot by the camel-riding Santri, who had climbed the rock. But when the girl said that I am a Muslim and I curse the gods, Santri's faith was awakened. When the girl mentioned the name of Khalifa, Santri understood that she was a harem girl, her dress, her appearance. And her deal-doll was telling that this is no ordinary girl, she is being kidnapped and will be taken to Sudan and sold. Santri knew that a few days later there was going to be a festival of Sudanese Abyssinians. Sultan Ayubi had ordered the army to protect the honor of a woman. The killing of a dozen people was also allowed to protect the honor of a woman. He decided to save the girl. He shot two arrows and killed two negroes. He made the mistake of getting down to catch the other two negroes. They went to the other side by running the three camels, but they had to go around the rock. He did not even think whether the camel could follow the horse or not. They had spears and swords and reached the place where the girl and the Abyssinians were seen, and there was nothing but two corpses. The Sudanese Abyssinians had also taken the girl and the horses of their dead comrades. But it was an area of dunes and rocks, the road twisted and turned and they could hear the trotting of horses.
دور ہٹتے گئے اور خاموش ہو گئے شتر سواروں نے دونوں لاشیں اونٹوں پر لا دیں اور واپس اگئے انہیں معلوم تھا کہ یہ لاشیں کس کی ہیں یہ عام قسم کے بردہ فروشوں کی بھی ہو سکتی تھی انہیں اٹھانا ضروری نہ تھا لیکن لڑکی خلیفہ کی معلوم ہوتی تھی اس لیے لاشیں اٹھانا ضروری سمجھا گیا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اغوا کرنے والے کون ہیں صلاح الدین ایوبی پریشانی اور غصے کے عالم میں ٹہل رہے تھے کمرے میں ان کے مشیر اور معتمد بیٹھے تھے یہ ان کے دوست بھی تھے وہ سر جھکائے بیٹھے تھے سلطان ایوبی اپنے اپ کو ہمیشہ قابو میں رکھتے تھے وہ کبھی جذباتی نہیں ہوئے تھے وہ سب پی جایا کرتے تھے اور ذہن کو پوری طرح قابو میں رکھ کر سوچا اور فیصلہ کیا کرتے تھے ایسے حالات نے بھی انہیں ازمایا تھا جن میں جابر جنگجو بھی ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں وہ محاصروں میں بھی لڑے تھے اور اس حال میں بھی معاشرے میں رہے تھے کہ ان کے سپاہیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے اور قلے میں کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ رہا تھا اور سپاہیوں کے ترکش بھی خالی ہو گئے تھے ان کے سپاہی اس انتظار میں تھے کہ وہ ہتھیار ڈال کر انہیں اس اذیت اور موت سے بچا لیں گے لیکن سلطان ایوبی نے صرف اپنا حوصلہ ہی مضبوط نہ رکھا بلکہ سپاہیوں میں بھی نئی روح پھونکتی مگر اس روز سلطان ایوبی کو اپنے اوپر قابو نہیں رہا تھا چہرے پر غصہ بھی تھا گھبراہٹ بھی تھی یہی وجہ تھی کہ سب خاموش بیٹھے تھے اج پہلی بار میرا دماغ میرا ساتھ چھوڑ گیا ہے انہوں نے کہا کیا یہ ممکن نہیں کہ اپ خلیفہ کے اس پیغام کو نظر انداز کر دیں ان کے نائب سالار الناصر نے کہا میں اسی کوشش میں مصروف ہوں سلطان ایوبی نے کہا لیکن الزام کی نوعیت دیکھو جو مجھ پر عائد کیا گیا ہے میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکیاں گواہ کروائی ہے استغفر اللہ اللہ مجھے معاف کرے اس نے میری توہین میں کوئی کسر نہیں چھوڑی پیغام بلکہ دھمکی قاصد کی زبانی بھیجی ہے وہ مجھے بلا لیتا میرے ساتھ براہ راست بات کرتا میں پھر بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اپ اپنے اپ کو ٹھنڈا کیجیے بہاؤدین شداد نے کہا میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا واقعی حرم سے کوئی لڑکیاں ہوا ہوئی ہے سلطان ایوبی نے کہا یہ جھوٹ معلوم ہوتا ہے اسے پتہ چل گیا ہوگا کہ میں نے خطبے محسوس کا نام نکلوا دیا ہے اس کے جواب میں اس نے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا کہ میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکی اغوا کرائی ہے انتقام لینے کی کوشش کی سلطان ایوبی نے عیسی الحکاری فقیہ سے کہا ایک حکم نامہ مصر کی تمام مسجدوں کے نام جاری کر دو کہ ائندہ کسی مسجد میں خطبے میں خلیفہ کا ذکر نہیں کیا جائے گا
ENGLISH
They moved away and became silent. The camel riders put the two bodies on the camels and came back. They knew whose bodies these bodies belonged to. They could have been those of ordinary traffickers. Therefore, it was considered necessary to pick up the dead bodies to find out who the kidnappers were. Sultan Ayyubi always kept himself under control, he never got emotional, he used to drink everything and thought and made decisions keeping his mind fully under control. They also fought in sieges and remained in the society even though the morale of their soldiers was broken and there was nothing left to eat and drink in the fort and the quivers of the soldiers were also empty. His soldiers were waiting for him to surrender and save them from this torture and death, but Sultan Ayyubi not only kept his courage strong, but also breathed new spirit into the soldiers, but Sultan Ayyubi could not control himself that day. There was anger on the face, there was also panic, that was the reason why everyone was sitting silently, but for the first time my mind has left me. said, "I am engaged in the same effort." Sultan Ayyubi said, "But look at the nature of the accusation that has been made against me. I have made a girl from his harem a witness. Astaghfir Allah, may Allah forgive me. He left no stone unturned in insulting me." The message, rather the threat, has been sent by the mouth of the messenger. He would call me and talk directly with me. I will still advise you to cool yourself down. Sultan Ayyubi said, "This seems to be a lie. He must have known that I had leaked the name of Khutbe Khist. In response, he falsely accused me that I had kidnapped a girl from his harem to take revenge." Sultan Ayyubi asked Isa al-Hakiri the jurist to issue a decree to all the mosques in Egypt that henceforth the Caliph will not be mentioned in the sermon in any mosque.

No comments:
Post a Comment