The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode21
The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode21
میرے محکمے کی مصدقہ اطلاعت نے مجھے یقین دلایا ہے کہ اپ کے دو سالہ دور عمارت میں لوگوں کی ایسی ضروریات پوری ہو گئی ہیں جن کے متعلق انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا شہروں میں ایسے مطب نہیں تھے جہاں مریضوں کو داخل کرا کے علاج کیا جا سکتا لوگ معولی معمولی بیماریوں سے مر جاتے تھے اب سرکاری مطلب کھول دیے گئے ہیں درسگاہیں بھی کھول دی گئی ہیں تاجروں اور دکانداروں کی لوٹ کھسوٹ ختم ہو گئی ہے جرائم بھی کم ہو گئے ہیں اور اب لوگ اپنی مشکلات اور فریادیں اپ تک براہ راست پہنچا سکتے ہیں اپ کے یہاں انے سے پہلے لوگ سرکاری اہلکاروں اور فوجیوں سے خوفزدہ رہتے تھے اپ نے ان کے حقوق بتا دیے ہیں وہ اپنے اپ کو ملک و ملت کا حصہ سمجھنے لگے ہیں خلافت سے انہیں بے انصافی اور بے رحمی کے سوا کچھ نہیں ملا اپ نے انہیں ایسا عدل و انصاف اور وقار دیا ہے میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ قوم خلافت کی بجائے عمارت کے فیصلے کو قبول کرے گی میں نے قوم کو عدل و انصاف اور وقار دیا ہے یا نہیں سلطان ایوبی نے کہا میں نے قوم کے حقوق اسے دیے ہیں یا نہیں میں نہیں جانتا میں قوم کو ایک انتہائی بےہودہ روایت نہیں دینا چاہتا میں قوم کو شرک اور کفر نہیں دینا چاہتا ضروری ہو گیا ہے کہ اس روایت کو توڑ کر ماضی کے کوڑے کرکٹ میں پھینک دیا جائے جو مذہب کا حصہ بن گئی ہے اگر یہ روایت قائم رہی تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کل پرسوں میں بھی اپنا نام خطبے میں شامل کر دوں دیے سے دیے جلتا ہے لیکن میں اس دیے کو بجھا دینا چاہتا ہوں جو شرک کی روشنی کو اگے چلا رہا ہے قصر خلافت بدکاری کا اڈہ بنا ہوا ہے خلیفہ اس رات بھی شراب پیے ہوئے حرم کے حسن میں بدمس پڑا تھا جس رات سودانی فوج نے ہم پر حملہ کیا تھا اگر میری چال ناکام ہوتی تو مصر سے اسلام کا پرچم اتر جاتا جب اللہ کے سپاہی شہید ہو رہے تھے اس وقت بھی خلیفہ شراب پیے ہوئے تھا میں اسے احکام کے مطابق یہ بتانے گیا تھا کہ سلطنت پر کیا طوفان ایا ہوا ہے اور ہماری فوج نے اس کا دم خم کس طرح توڑا ہے تو اس نے مس سانڈ کی طرح جھوم کر کہا تھا شاباش ہم بہت خوش ہوئے ہم تمہارے باپ کو خصوصی قاصد کے ہاتھ مبارکباد اور انعام بھیجیں گے میں نے اسے کہا کہ شاہ خلیفۃ المسلمین میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے میں نے یہ فرض اپنے باپ کی خوشنودی کے لیے نہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خوشنودی کے لیے ادا کیا ہے اس بڈھے خلیفہ نے کہا صلاح الدین تم ابھی بچے ہو مگر کام تم نے بڑوں والا کر دکھایا ہے اس نے میرے ساتھ اس طرح بات کی تھی جیسے وہ مجھے اپنا غلام اور اپنے حکم کا پابند سمجھتا ہے یہ بے دین انسان قومی خزانے کے لیے سفید ہاتھی بنا ہوا ہے سلطان ایوبی نے خط نکال کر سب کو دکھایا اور کہا چھ سات دن گزر گئے ہیں نور الدین زنگی نے مجھے یہ پیغام بھیجا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ خلافت تین حصوں میں بٹ گئی ہے بغداد کی مرکزی خلافت کا دونوں ماتحت خلیفوں پر اثر ختم ہو چکا ہے اپ یہ خیال رکھیں کہ مصر کا خلیفہ خود مختار حاکم نہ بن جائے وہ سڑانیوں اور صلیبیوں سے بھی ساز باز کرنے سے گریز نہیں کرے گا میں سوچ رہا ہوں کہ خلافت صرف بغداد میں رہے اور زیلی خلیفے ختم کر دیے جائیں لیکن میں ڈرتا ہوں کہ ان لوگوں نے ہمارے خلاف سازشیں تیار کر رکھی ہیں اگر اپ مصر کے خلیفہ کی بادشاہی اس کے محل کے اندر ہی محدود رکھنے کی کوشش کریں گے تو میں اپ کو فوجی اور مالی امداد دوں گا احتیاط کی بھی ضرورت ہے کیونکہ مصر کے اندر وہاں حالات ٹھیک نہیں مصر میں ایک بغاوت اور بھی ہوگی شڈانیوں پر کڑی نظر رکھیں سلطان ایوبی نے خط پڑھ کر کہا اس میں کیا شک ہے کہ خلافت سفید اتی ہے کہ اپ دیکھتے نہیں کہ خلیفہ الازد دورے پر نکلتا ہے تو اپ کی ادھی فوج اس کی حفاظت کے لیے ہر طرف پھیلا دی جاتی ہے لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ خلیفہ کے راستے میں چادریں اور قالین بچھائیں خلیفہ کا حفاظتی دستہ دورے سے پہلے لوگوں کو دھمکیاں دے کر مجبور کرتا ہے کہ ان کی عورتیں اور جوان بیٹیاں خلیفہ پر پھول کی پتیاں پھینکیں اس کے دوروں پر خزانے کی وہ رقم تباہ کی جاتی ہے جو ہمیں سلطنت اسلامیہ کے دفاع اور توثیح کے لیے اور قوم کی فلاح و بہبود کے لیے درکار ہے اس کے علاوہ اس پہلو پر بھی غور کرو کہ ہم مصری عوام پر یہاں کے عیسائیوں اور دیگر غیر مسلموں پر یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام شہنشاہوں کا مذہب نہیں یہ عرب کے صحراؤں کے گدڑیوں کسانوں اور شتربانوں کا سچا مذہب ہے یہ انسان کو انسانیت کا وہ درجہ دینے والا مذہب ہے جو خدا کو عزیز ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خلیفہ کے خلاف کاروائی کرنے سے اپ کے خلاف یہ بہتان تراشی ہونے لگے کہ خلیفہ کی جگہ اپ خود حاکم بننا چاہتے ہیں شداد نے کہا سچ کی ہمیشہ مخالفت ہوئی ہے اور ہوتی رہے گی سلطان ایوبی نے کہا اج جھوٹ اور باطل کی جڑیں صرف اس لیے مضبوط ہو گئی ہیں کہ مخالفت اور مخالفانہ رد عمل سے ڈر کر لوگوں نے سچ بولنا چھوڑ دیا ہے حق کی اوازیں سینوں میں دب کر رہ گئی ہیں شاہانہ دوروں نے اور شہنشاہیت کے اظہار کے اوچھے طریقوں نے رعایہ کے دلوں سے وہ وقار ختم کر دیا ہے جو قوم کا ترہ امتیاز تھا عوام کو بھوکا رکھ کر
ENGLISH
Confirmed information from my department has convinced me that during your two years in the building, the needs of the people have been met which they never imagined that there were no clinics in the cities where patients were admitted and treated. It is possible that people used to die of minor diseases, now the government schools have been opened, schools have also been opened, the looting of merchants and shopkeepers has ended, crimes have also reduced and now people directly address their problems and complaints to you. Before you came here, people used to be afraid of government officials and soldiers. You have told them their rights. They have started to consider themselves as a part of the nation and the caliphate. Mullah Aap has given them such justice and dignity, I can say with certainty that the nation will accept the decision of the building instead of the caliphate. Have I given justice and dignity to the nation or not? I don't know whether the rights have been given to him or not. I don't want to give the nation a very senseless tradition. I don't want to give the nation shirk and disbelief. If this tradition continues, it is possible that tomorrow I will add my name to the sermon. Qasr Khilafah has become a base of corruption. The Caliph was drunk in the beauty of the Haram that night, the night the Sudanese army attacked us. If my trick had failed, the flag of Islam would have come down from Egypt. At that time, the Caliph was still drinking. I went to tell him according to the orders that what storm had come over the kingdom and how our army had broken his hold. He swung like Miss Sand and said. We are very happy. This old caliph said, "Salahaddin, you are still a child, but you have done the work of an adult." This irreligious person has become a white elephant for the national treasure. Sultan Ayyubi took out the letter and showed it to everyone and said that six or seven days have passed. Nooruddin Zangi has sent me this message. I have split the central caliphate of Baghdad, the influence of the two subordinate caliphs has ended. Take care that the caliph of Egypt does not become an independent ruler. that the caliphate should remain only in Baghdad and the Zali caliphs should be abolished, but I fear that these people have prepared conspiracies against us. I will give military and financial aid to Egypt. Caution is also needed because the situation inside Egypt is not good. There will be another rebellion in Egypt. Keep a close eye on the people. You do not see that when the Caliph al-Azd goes on a visit, half of your army is spread everywhere to protect him. The people are forced to spread sheets and carpets in the path of the Caliph. threatens to compel their women and young daughters to throw flower petals at the Caliph. During his visits, the amount of treasury which we have for the defense and strengthening of the Islamic Empire and for the welfare of the nation is destroyed. In addition to this, it is necessary to consider the aspect that we, the Egyptian people, have to prove to the Christians and other non-Muslims here that Islam is not the religion of emperors, it is the true religion of the donkey farmers of the Arab deserts and the scumbags. It is a religion that gives the status of humanity which is dear to God. It is also possible that by taking action against the Caliph, it will start to be slandered against you that you want to become the ruler instead of the Caliph. It has happened and will continue to happen. Sultan Ayubi said that the roots of falsehood and falsehood have become strong only because people have stopped speaking the truth due to fear of opposition and negative reaction. Travels and the lofty ways of expressing imperialism have removed from the hearts of the subjects that dignity which was the crowning distinction of the nation by starving the masses.
پیاز تھا عوام کو بھوکا رکھ کر ان پر زبردستی اپنی حکمرانی ٹھونس کر انہیں غلامی کی ان زنجیروں میں باندھا جا رہا ہے جنہیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے توڑا تھا ہمارے بادشاہوں نے قوم کو اس پستی تک پہنچا دیا ہے کہ یہ بادشاہ اپنی عیاشیوں کی خاطر صلیبیوں سے دوستانہ کر رہے ہیں ان سے پیسے مانگتے ہیں اور سلیبی اہستہ اہستہ چلتا چلے جا رہے ہیں اپ نے شداد مخالفت کی بات کی ہے ہمیں مخالفت سے نہیں ڈرنا چاہیے قابل صد احترام امیر سلطان ایوبی کے نائب سالار الناصر نے کہا ہم مخالفت سے نہیں ڈرتے اپ نے ہمیں میدان جنگ میں دیکھا ہے ہم اس وقت بھی نہیں ڈرے تھے جب ہم محاصرے میں لڑے تھے ہم بھوکے اور پیاسے بھی لڑے تھے صلیبیوں کے طوفان ہم نے اس حالت میں بھی روکے تھے جب ہماری تعداد کچھ بھی نہیں تھی مگر میں اپ کو اپ کی ہی کی ہوئی ایک بات یاد دلانا چاہتا ہوں اپ نے ایک بار کہا تھا کہ حملہ جو باہر سے اتا ہے اسے ہم قلیل تعداد میں بھی روک سکتے ہیں لیکن حملہ جو اندر سے ہوتا ہے اور جب حملہ اور اپنی قوم کے افراد ہوتے ہیں تو ہم ایک بار تو چونک اٹھتے اور سن ہو جاتے ہیں کہ یا خدائے ذوالجلال یہ کیا ہوا قابل احترام امیر مثل جب ملک حاکم ملک کے دشمن ہو جائیں تو اپ کی تلوار نیام کے اندر تڑپتی رہے گی باہر نہیں ائے گی اپ نے درست کہا ناصر سلطان ایوبی نے کہا میری تلوار نیام میں تڑپ رہی ہے یہ اپنے حاکموں کے خلاف باہر نہیں انا چاہتی میرے دل میں قوم کے حکمرانوں کا ہمیشہ احترام رہا ہے مگر ملک کا حکمران قوم کی عزت کا نشان ہوتا ہے قوم کے وقار کی علامت ہوتا ہے لیکن اپ سب غور کریں کہ ہمارے حکمرانوں میں کتنی کچھ عظمت اور کتنا کچھ وقار رہ گیا ہے میں صرف خلیفہ العادت کی بات نہیں کر رہا علی بن سفیان سے پوچھو اس کا محکمہ موصل حلب دمشق مکہ اور مدینہ منورہ کی جو خبریں لا رہا ہے وہ یہ ہیں کہ خلافت کی تعیش پرستی کی وجہ سے جہاں جہاں کوئی امیر محاکم ہے وہاں کا مختار کل بن گیا ہے سلطنت اسلامیہ ٹکڑوں میں بڑھتی جا رہی ہے خلافت اس قدر کمزور ہو گئی ہے کہ اس نے عمرہ اور حکام کو ذاتی سیاست بازیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے میں اس خطرے سے بے خبر نہیں کہ قوم کے بکھرے ہوئے شیرازے کو ہم جب یکجا کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ اور بکھرے گا ہمارے سامنے پہاڑ کھڑے ہو جائیں گے لیکن میں گھبراؤں گا نہیں اور مجھے امید ہے کہ اپ بھی نہیں گھبرائیں گے میں اپ کے مشورے کا احترام کروں گا لیکن میں ائندہ خلیفہ کے بلاوے پر صرف اس صورت میں جاؤں گا جب کوئی ضروری کام ہوگا فوری طور پر خطبے میں سے خلیفہ کا نام اور ذکر نکلوا رہا ہوں سب نے سلطان ایوبی کے اس اقدام کی حمایت کی اور اسے اپنی پوری مدد اور ہر طرح کی قربانی دینے کا یقین دلایا خلیفہ العزد اس وقت اپنے ایک خصوصی کمرے میں تھا جب قاصد نے اسے بتایا کہ صلاح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ اگر کوئی ضروری کام ہے تو میں ا سکتا ہوں ورنہ میں بہت مصروف ہوں خلیفہ اگ بگولا ہو گیا اس نے قاصد سے کہا کہ رجب کو میرے پاس بھیج دو رجب اس کے حفاظتی دستے کا کماندار تھا جس کا عہدہ نائب سالار جتنا تھا وہ مصر کی فوج کا افسر تھا اسے خلیفہ کے باڈی گارڈز کی کمان دی گئی تھی اس نے قصر خلافت اور خلیفہ کے حفاظتی دستوں میں چن چن کر سوڈانی حبشوں کو رکھا تھا وہ سلطان ایوبی کے مخالفین میں سے اور خلیفہ کے خوش امدیوں میں سے تھا اس وقت خلیفہ کے اس خصوصی کمرے میں ام ارارہ موجود تھی جب قاصد صلاح الدین ایوبی کا جواب لے کر ایا تھا اس نے خلیفہ سے کہا صلاح الدین ایوبی اپ کا نوکر ہے اپ نے اسے سر پہ جڑا رکھا ہے اب کیوں نہیں اسے معزول کر دیتے یا کیوں نہیں اپنے سپاہی بیچ کر اسے حراست میں یہاں بلوا لیتے اس لیے کہ اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے خلیفہ نے غصے کے عالم میں کہا فوج اس کی کمان میں ہے وہ میرے خلاف فوج استعمال کر سکتا ہے اتنے میں رجب اگیا اس نے جھک کر فرشی سلام کیا العادت نے غصے سے کامتی ہوئی اواز میں اسے کہا میں پہلے ہی جانتا تھا کہ یہ کمبخت خود سر اور سرکش ادمی ہے یہ صلاح الدین ایوبی میں نے اسے بلایا تو یہ کہہ کر انے سے انکار کر دیا کہ کوئی ضروری کام ہے تو اؤں گا ورنہ اپ کا بلاوا میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ میرے سامنے ضروری کام پڑے ہیں غصے میں بولتے بولتے اسے ہچکی ائی پھر کھانسی اٹھی اور اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا اس کا رنگ زرد ہو گیا اس حالت میں کمزور سی اواز میں کہا بدبخت کو یہ بھی احساس نہیں رہا کہ میں بیمار ہوں میرا دل مجھے لے بیٹھے گا یہ میرے لیے غصہ ٹھیک نہیں مجھے اپنی صحت کا غم کھائے جا رہا ہے اور اسے اپنے کاموں کی پڑی ہے اپ نے اسے کیوں بلایا تھا رجب نے پوچھا مجھے حکم دیجیے میں نے اسے صرف اس لیے بلایا تھا کہ اسے احساس رہے کہ اس کے سر پر ایک حاکم بھی ہے خلیفہ نے دل پر ہاتھ رکھے ہوئے کراہتی ہوئی اواز میں کہا تم ہی نے مجھے بتایا تھا کہ صلاح الدین خود مخ
ENGLISH
Onion was starving the people and imposing their rule on them by forcing them to bind them in the chains of slavery which were broken by our Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). They are befriending the Crusaders for the sake of the revelers, asking them for money, and the Slabs are slowly moving on. You have spoken of strong opposition. We should not be afraid of opposition. Not afraid of opposition You have seen us on the battlefield We were not afraid even when we fought in sieges We fought hungry and thirsty The storms of the Crusaders We held back even when we were outnumbered But I want to remind you of something that you have said. You once said that we can stop the attack that comes from outside even in small numbers, but the attack that comes from inside and when the attack and our nation If there are people, then we get shocked once and hear that, O God, what has happened, respected emir, like when the ruler of the country becomes the enemy of the country, then your sword will keep burning inside the Niam and will not come out. Nasir Sultan Ayyubi said, "My sword is burning in Niam. It is not out against my rulers. I don't want ego. I have always respected the rulers of the nation in my heart, but the ruler of the country is a sign of the nation's honor." It is a sign, but all of you should consider how much dignity and how much dignity is left in our rulers. I am not talking about Caliph Al-Idaat only. They are that because of the luxuries of the caliphate, wherever there is a rich court, the ruler of that place has become the ruler. The Islamic empire is growing in pieces. I am not unaware of the danger that when we try to unite the scattered Shiraz of the nation, it will be scattered more and mountains will stand in front of us, but I will not be afraid and I I hope you will not be alarmed, I will respect your advice, but I will only go on the call of the future Caliph if there is an urgent task. Sultan Ayyubi supported this initiative and assured him of his full support and every sacrifice. Caliph al-Azd was in one of his private rooms when the messenger told him that Salah al-Din Ayyubi had said that if there was any necessary work. So I can come, otherwise I am too busy. The Caliph became agitated. He said to the messenger, "Send Rajab to me." He was given the command of the Caliph's bodyguards. He selected the Sudanese Abyssinians in the Qasr Caliphate and the Caliph's security forces. Umm Arara was present when the messenger came with Salah al-Din Ayyubi's answer. She said to the Caliph, Salah al-Din Ayyubi is your servant. He would have called me here in detention because the results of this would not be good. The Khalifa said in anger that the army is under his command, he can use the army against me. I said to him in a mocking voice, "I already knew that this wretch is a self-centered and rebellious person. This is Salahuddin Ayubi. I called him, so he refused saying that if there is any important work, then I will do it, otherwise I will call you." It doesn't mean anything to me because I have important work ahead of me.' No longer, I am sick, my heart will take me, this anger is not good for me, I am worried about my health and he has to do his work. Why did you call him? Rajab asked, give me orders. He was called so that he should realize that there is a ruler over his head. The Caliph placed his hand on his heart and said in a groaning voice, "You are the one who told me that Salah-ud-Din is self-righteous."
خود مختار ہوتا جا رہا ہے میں اسے بار بار یہاں بلانا چاہتا ہوں اسے حکم دینا چاہتا ہوں تاکہ اسے اپنے پاؤں کے نیچے رکھو یہ ضروری نہیں کہ کوئی ضروری کام ہی ہو تو میں اسے بلاؤں ام ارارہ نے شراب کا پیالہ اس کے ہونٹوں سے لگا کر کہا اپ کو 100 بار کہا ہے کہ غصے میں نہ ا جایا کریں اپ کے دل اور اصاب کے لیے غصہ ٹھیک نہیں اس نے سونے کی ایک ڈبیا میں سے نسواری رنگ کے سفوف میں سے ذرا سا خلیفہ کے منہ میں ڈالا اور پانی پلا دیا خلیفہ نے اس کے بکھرے ہوئے ریشمی بالوں میں انگلیاں الجھا کر کہا اگر تم نہ ہوتی تو میرا کیا ہوتا سب کو میری دولت اور رتبے سے دلچسپی ہے میری ایک بی بی بھی ایسی نہیں جس سے میری ذات کے ساتھ دلچسپی ہو تم تو میرے لیے فرشتہ ہو اس نے لڑکی کو اپنے قریب بٹھا کر بازو اس کی کمر میں ڈال دیا خلیفۃ المسلمین رجب نے کہا اب بڑے ہی نرم دل اور نیک انسان ہیں یہی وجہ ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے یہ گستاخی کی ہے اپ نے یہ بھی فراموش کر دیا ہے کہ وہ عربی نسل سے نہیں وہ اپ کی نسل سے نہیں وہ کرد ہے میں حیران ہوں کہ اسے اتنی بڑی حیثیت کس نے دے دی ہے اگر اس میں کچھ خوبی ہے تو صرف یہ ہے کہ وہ اچھا عسکری ہے میدان جنگ کا استاد ہے لڑنا بھی جانتا ہے اور لڑانا بھی جانتا ہے مگر یہ وصف اتنا اہم نہیں کہ اسے مصر کی عمارت سونپ دی جاتی اس نے سوڈان کی اتنی بڑی اور اتنی تجربہ کار فوج یوں توڑ کر ختم کر دیے جس طرح بچہ کوئی کھلونا توڑ دیتا ہے اپ ذرا غور فرمائیں کہ جب یہاں سوڈانی باشندوں کی فوج تھی ناجی اور ادرش جیسے سالار تھے تو رعایا اپ کے کتوں کے اگے بھی سجدے کرتی تھی سوڈانی لشکر کے سالار اپ کی دہلیز پر حاضر رہتے تھے اب یہ حال ہے کہ اپ اپنے ایک ماتحت کو بلاتے ہیں اور وہ انے سے انکار کر دیتا ہے رجب خلیفہ نے اچانک گرج کر کہا تم ایک مجرم ہو رجب کا رنگ پیلا پڑ گیا ام ارارہ بدک کر العادت سے الگ ہو گئی عاادت نے اسے پھر بازو کے گھیرے میں لے کر اپنے ساتھ لگا لیا اور پیار سے بولا کیا میں نے تمہیں ڈرا دیا ہے میں رجب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اج دو سال بعد مجھے بتا رہا ہے کہ ہماری پرانی فوج اور اس کے سالار اچھے تھے اور صلاح الدین کی بنائی ہوئی فوج خلافت کے حق میں اچھی نہیں کیوں رجب تم یہ بات پہلے بھی جانتے تھے جب کیوں رہے اب جب کہ امیر مصر اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے مجھے بتا رہے ہو کہ وہ خلافت کا باغی اور سرکش ہے میں حصور کے عتاب سے ڈرتا تھا رجب نے کہا سلطان ایوبی کا انتخاب بغداد کی خلافت نے کیا تھا یہ اپ کے مشورے سے ہی ہوا ہوگا میں خلافت کے انتخاب کے خلاف زبان کھولنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا اج امیر مصر کی گستاخی اور اس کے زیر اثر اپ کے دل کے دورے نے مجھے بھی مجبور کر دیا ہے کہ زبان کھولوں میں کب سے دیکھ رہا ہوں کہ صلاح الدین ایوبی کئی بار اپ کے حضور گستاخی کر چکا ہے میرا فرض ہے کہ اپ کو خطروں سے اگاہ کروں اور بچاؤں اس دوران ام ارارہ خلیفہ کے گالوں سے گال رگڑتی رہی اور اس کی انگلیوں میں انگلیاں الجھا کر بچوں کی طرح کھیلتی رہی ایک بار اس نے خلیفہ کے گالوں کو ہاتھوں میں تھام کر پوچھا طبیعت بحال ہوئی خلیفہ نے اس کی ٹھوڑی کو چھیڑتے ہوئے کہا دوائی دے اتنا اثر نہیں کیا جتنا تیرے پیار نے کیا ہے خدا نے تجھے وہ حسن اور وہ جذبہ دیا ہے جو میرے ہر روک کے لیے اکثیر ہے اس نے ام ارارہ کا سر اپنے سینے پر ڈال کر رجب سے کہا روز قیامت جب مجھے جنت میں بھیجیں گے تو میں خدا سے کہوں گا کہ مجھے کوئی حور نہیں چاہیے مجھے ام ارارہ دے دو میں ارارہ صرف حسین ہی نہیں رجب نے کہا یہ بہت ہوشیار اور ذہین بھی ہے حضور کا حرم سازشوں کا گھر بنا ہوا تھا اس نے ا کر سب کو لگام ڈال دیے اب کسی کی جرات نہیں کہ کوئی عورت کسی عورت کے خلاف یا کوئی اہلکار کسر خلافت میں ذرا سی بھی گڑبڑ کرے یہ دونوں صلاح الدین ایوبی کے متعلق باتیں کر رہے تھے ام ارارہ نے کہا ان کی باتیں غور سے سنیں اور صلاح الدین ایوبی کو لگام ڈالیں تم کیا کہہ رہے تھے رجب خلیفہ نے پوچھا میں یہ عرض کر رہا تھا کہ میں نے اس ڈر سے زبان بند رکھی کہ امیر مصر کے خلاف کوئی بات خلافت کو گوارا نہ ہوگی رجب نے کہا صلاح الدین ایوبی قابل سالار ہو سکتا ہے مجھے صرف اس کا یہی وصف پسند ہے کہ میدان جنگ میں وہ اسلام کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیتا خلیفہ نے کہا ہمیں سلطان ایوبی جیسے ہی سالاروں کی ضرورت ہے جو خلافت اسلامیہ کا بقار میدان جنگ میں قائم رکھیں میں گستاخی کی معافی چاہتا ہوں خلیفۃ المسلمین رجب نے کہا خلافت نے ہمیں میدان جنگ میں نہیں ازمایا صلاح الدین ایوبی کے متعلق میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ وہ خلافت اسلامیہ کے وقار کے لیے نہیں لڑتا بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑتا ہے اپ فوج کے سالار سے سپاہی تک پوچھ لیں صلاح الدین انہیں یہ سبق دیتا رہتا ہے کہ وہ ایسی سلطنت اسلامیہ کے قیام کے لیے لڑیں جس کی سرحدیں لامحدود ہوں صاف ظاہر ہے کہ وہ ایسی سلطنت کے خواب دیکھ رہا ہے جس کا بادشاہ وہ خود
ENGLISH
is becoming independent I want to call him here again and again I want to command him to keep him under my feet It is not necessary that I call him for some urgent work Umm Arara put the cup of wine to his lips. He said, "You have been told 100 times not to get angry. Anger is not good for your heart and mind." He put a little bit of brown saffron from a gold box into the Khalifa's mouth and watered it. Caliph entangled his fingers in her tousled silken hair and said, "If you had not been there, what would have happened to me? Everyone is interested in my wealth and rank. There is not one of my wives who is interested in my self. You are an angel to me." Yes, he made the girl sit close to him and put his arm around her waist. Caliph Al-Muslimin Rajab said, "Now you are a very kind hearted and good person. That is the reason why Salahuddin Ayyubi did this insolence. You have also forgotten this." He is not of Arabic descent, he is not of your descent, he is Kurdish. He knows and also knows how to fight, but this attribute is not so important that if he was given the building of Egypt, he destroyed such a large and experienced army of Sudan as a child breaks a toy. Just think about it. That when there was an army of Sudanese people, there were chiefs like Naji and Idarsh, then the subjects used to prostrate before their dogs. Rajab refuses. Khalifa suddenly roared and said, "You are a criminal." Rajab's color turned pale. Have I scared you? I want to say to Rajab that he is telling me after two years that our old army and its leaders were good and the army built by Saladin is not good for the Caliphate. You knew this before, why did you stay now, when the Amir of Egypt has strengthened his roots, you are telling me that he is a rebel and rebel of the caliphate. I was afraid of the rebuke of Hashur. It must have happened with your advice. I could not dare to open my tongue against the election of the caliphate, but the arrogance of the Emir of Egypt and your heart attack under his influence have forced me to open my tongue. Since when I see that Saladin Ayyubi has insulted you many times, it is my duty to warn you of the dangers and save you. Once she held Khalifa's cheeks in her hands and asked him to feel better. Khalifa teased his chin and said, "Give medicine, it didn't do as much as your love did. God gave you that beauty and that passion." He placed Umm Arara's head on his chest and said to Rajab, "On the Day of Resurrection, when you send me to Paradise, I will say to God that I do not want any Huar. Give me Umm Arara, I am Arara." Not only Hussain. They were talking about Salahuddin Ayyubi, Umm Arara said, listen to their words carefully and restrain Salahuddin Ayyubi. What were you saying? Rajab Khalifa asked, I was saying that I kept his mouth shut for fear that anything against the Emir of Egypt would be acceptable to the caliphate. Rajab said that Salah al-Din Ayyubi may be a worthy ruler. I only like this attribute of him that he does not allow the flag of Islam to be undermined on the battlefield. The Caliph said, "We need leaders like Sultan Ayyubi who will maintain the Islamic caliphate on the battlefield. I apologize for being rude. Caliph Al-Muslimeen Rajab said that the Caliphate did not test us on the battlefield. I want to say this about Salah al-Din Ayyubi." I dare say that he does not fight for the prestige of Islamic Caliphate, but fights for his own prestige. It is obvious that he dreams of an empire of which he himself is the king
کر رہا ہے اس نے صلاح الدین ایوبی کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیےد ہزار سواروں اور اتنے ہی پیادہ عسکریوں کی فوج بھیجی تھی کیا اس نے خلیفہ بغداد کی اجازت سے یہ فوج بھیجی تھی کیا خلافت کا کوئی ایلچی اپ سے مشورہ لینے ایا تھا کہ مصر میں فوج کی ضرورت ہے یا نہیں جو کچھ ہوا خلافت سے بالا ہوا واپس اسی لیے نہیں بھیجے گئی کہ یہ کمک مصر پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی اور اسی لیے یہاں رکھی گئی ہے رجب نے کہا مصر کی پرانی فوج کے سپاہیوں کو کسان اور بھکاری بنانے کے لیے یہ کمک ائی تھی ناجی ادرش کاکیش عبد یزدان ابھی زر اور ان جیسے اٹھ اور سالار کہاں ہیں حضور نے کبھی سوچا نہیں ان سب کو صلاح الدین ایوبی نے خفیہ طور پر قتل کرا دیا تھا ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ صلاح الدین ایوبی سے زیادہ قابل سالار تھے یہ قتل کس کی گردن پر ہے صلاح الدین ایوبی نے حاکموں کی مجلس میں کہا تھا کہ خلیفہ مصر نے ان سب کو غداری اور بغاوت کے جرم میں سزائے موت دی ہے جھوٹ خلیفہ نے بھڑک کر کہا سفید جھوٹ مجھے صلاح الدین نے بتایا تھا کہ یہ سب غدار ہیں میں نے اسے کہا تھا کہ گواہ لاؤ اور مقدمہ چلاؤ اس نے مقدمہ چلائے بغیر وہ فیصلہ خود کیا جو خلافت کی مہر کے بغیر بےکار ہوتا ہے رجب نے کہا ان بدقسمت سالانوں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے صلیبی بادشاہ سے رابطہ قائم کیا تھا ان کا مقصد کچھ اور تھا وہ یہ تھا کہ صلیبیوں سے بات چیت کر کے جنگ و جدل ختم کیا جائے اور ہم اپنے ملک اور رعایہ کی خوشحالی اور فلاح بےبود کی طرف توجہ دے سکیں اپ شاید تسلیم نہ کریں مگر یہ حقیقت ہے کہ صلیبی ہمیں اپنا دشمن نہیں سمجھتے وہ ہمارے خلاف جنگی طاقت صرف اس لیے تیار رکھتے ہیں کہ نور الدین زنگی اور شرح کو جیسے مسلمان سے انہیں حملے کا خطرہ رہتا ہے شرک کو مر گیا تو صلاح الدین ایوبی کو اپنی جگہ چھوڑ گیا یہ شخص شرح کو کب پروردہ ہے اس نے ساری عمر عیسائی قوم سے لڑتے اور اسلام کے دشمن پیدا کرتے اور دشمنوں میں اضافہ کرتے گزاری ہے اگر صلاح الدین کی جگہ مصر کا امیر کسی اور کو مقرر کیا جاتا تو اج عیسائی بادشاہ اپ کے دربار میں دوستوں کی طرح اتے قتل و غارت نہ ہوتا اتنے پرانے اور تجربہ کار سالار قتل ہو کر گمنام نہ ہو جاتے مگر رجب خلیفہ نے کہا صلیبیوں نے بہرہ روم سے حملہ جو کیا تھا صلاح الدین ایوبی نے ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ صلیبی اپنے دفاع کے لیے حملے میں پہل کرنے پر مجبور ہو گئے رجب نے کہا صلاح الدین ایوبی کو معلوم تھا کہ حملہ اور ا رہا ہے کیونکہ حالات اسی نے پیدا کیے تھے اسی لیے اس نے حملہ روکنے یعنی دفاع کا انتظام پہلے ہی کر رکھا تھا یہ شخص فرشتہ تو ہے نہیں کہ اسے غیب کا حال معلوم ہو گیا تھا اس نے ایک ایسا ناٹک کھیلا تھا جس میں ہزارہا بچے یتیم اور ہزارہا عورتیں بیوہ ہو گئی اس پر اپ نے اسے میری موجودگی میں خراج تحسین پیش کیا تھا پھر اس نے سوڈانی فوج کو جواب کی وفادار تھی جنگی مشق کے بہانے رات کو باہر نکالا اور اندھیرے میں اس پر اپنی نئی فوج سے حملہ کر دیا مشہور یہ کیا کہ ناجی کی فوج نے بغاوت کر دی تھی اس پر بھی اپ نے اسے خراج تحسین پیش کیا اب اتنے سادہ دل اور مخلص ہیں کہ اپ اس چال اور اس دھوکے کو سمجھ ہی نہ سکے
ENGLISH
Did he send an army of 1,000 horsemen and the same number of foot soldiers to strengthen the hands of Salah al-Din Ayubi? Did he send this army with the permission of Caliph Baghdad? Whether the army is needed or not, what happened above the caliphate was not sent back because these reinforcements were sent to strengthen the grip on Egypt and that is why they are kept here. Rajab said to the soldiers of the old army of Egypt. This reinforcement was given to make peasants and beggars Naji Idarsh Kakeesh Abd Yazdan Abhi Zar and where are Ut and salar like them, Huzoor never thought. That he was a more capable ruler than Salah al-Din Ayyubi, on whose neck is this murder? A white lie. Saladin told me that they are all traitors. I told him to bring witnesses and prosecute him. It was that they had established contact with the Crusader king, their purpose was something else, that was to end the war by negotiating with the Crusaders and we could focus on the prosperity and well-being of our country and subjects. You may not admit it, but it is a fact that the Crusaders do not consider us as their enemy, they keep their war power ready against us only because Nur al-Din Zangi and Shahrah are in danger of being attacked by the Muslims. Ayyubid was left in his place. When did this man grow up? He has spent his whole life fighting the Christian nation and creating enemies of Islam and adding to the number of enemies. Christian kings would not have been killed like friends in your court and such old and experienced rulers would not have been killed and become anonymous. Rajab said that Salah al-Din Ayyubi knew that the attack was coming because he had created the situation, that is why he had already organized the defense to stop the attack. This person is not an angel, is he not aware of the unseen, he played such a drama in which thousands of children became orphans and thousands of women became widows, for this you paid tribute to him in my presence. He took the Sudanese army out at night under the pretense of a war exercise and attacked it with his new army in the dark. Are you so simple-hearted and sincere that you cannot understand this trick and this deception?

No comments:
Post a Comment