The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 4
اور ٹوکرا لڑکیوں کے نیم دائرے کے سامنے رکھ دیا ساز سپیروں کی بین کی دھن بجانے لگے حبشی مست سانڈوں کی طرح پھنکارتے غائب ہو گئے ٹوکرے میں سے ایک بہت بڑی کلی اوپر کوٹھی اور پھول کی طرح کھل گئی اس پھول میں سے ایک لڑکی کا چہرہ نمودار ہوا اور پھر وہ اوپر کو اٹھنے لگی یوں لگتا تھا جیسے سرخ بادلوں میں سے چاند نکل رہا ہو یہ لڑکی اس دنیا کی معلوم نہیں ہوتی تھی اس کی مسکراہٹ بھی عرضی نہیں تھی اس کے بالوں کی چمک بھی مصر کی کسی لڑکی کی چمک نہیں لگتی تھی اور جب لڑکی نے پھول کی چوڑی پتیوں میں سے باہر قدم رکھا تو اس کے جسم کی لچک نے تماشائیوں کو مسہور کر لیا علی بن سفیان نے صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھا اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی صلاح الدین ایوبی نے مسکرا کر اس کے کان میں کہا مجھے توقع نہیں تھی کہ یہ اتنی خوبصورت ہوگی ناجی نے صلاح الدین ایوبی کے پاس ا کر کہا امیر مصر کا اقبال بلند ہو اس لڑکی کا نام زکوئی ہے اسے میں نے اپ کی خاطر سکندریہ سے بلایا ہے یہ پیشاور رقاصہ نہیں اور یہ عصمت فروش بھی نہیں رقص سے اسے پیارے شوقیہ ناچتی ہے کسی محفل میں نہیں جاتی میں اس کے باپ کو جانتا ہوں ساحل پر مچھلیوں کا کاروبار کرتا ہے یہ لڑکی اپ کی عقیدت مند ہے اپ کو پیغمبر مانتی ہے میں اتفاق سے اس کے گھر اس کے باپ سے ملنے گیا تو اس لڑکی نے استعداد کی کہ سنا ہے کہ صلاح الدین ایوبی امیر مصر بن کر ائے ہیں خدا کے نام پر مجھے ان سے ملوا دو میرے پاس اپنی جان اور رقص کے سوا کچھ بھی نہیں جو میں اس عظیم ہستی کے قدموں میں پیش کروں قابل صد احترام امیر میں نے اپ سے رقص و سرود کی اجازت اسی لیے مانگی تھی کہ اس لڑکی کو میں اپ کے حضور پیش کرنا چاہتا تھا اپ نے اسے بتایا تھا کہ میں اپنے سامنے کسی لڑکی کو رقص اور عریانی کی حالت میں نہیں دیکھ سکتا صلاح الدین ایوبی نے کہا یہ لڑکیاں جنہیں اپ ملبوس لائے ہیں بالکل ننگی ہیں علی مقام ناجی نے گھسیانا ہو کے جواب دیا میں نے بتایا تھا کہ امیر مصر رقص کو ناپسند فرماتے ہیں لیکن یہ کہتی تھی کہ میرا رقص پسند کریں گے کیونکہ میرے رقص میں دعوت گناہ نہیں یہ ایک باعثبت لڑکی کا رقص ہوگا میں ایوبی کے حضور اپنا جذب نہیں اپنا فن پیش کروں گی اگر میں مرد ہوتی تو ایوبی کی جان کی حفاظت کے لیے اس کے محافظ دستے میں شامل ہو جاتی اپ کہنا کیا چاہتے ہیں صلاح الدین ایوبی نے پوچھا اس لڑکی کو اپنے پاس بلا کر اسے خراج تحسین پیش کروں کہ تم اپنے جسم کو ہزاروں مردوں کے سامنے عریاں کر کے بہت اچھا ناچتی ہو اسے اس پر شاباش کہوں کہ اس نے مردوں کے جنسی جذبات بھڑکانے میں خوب مہارت حاصل کی ہے نہیں امیر مصر ناجی نے کہا میں اسے اپنے وعدے پر یہاں لایا ہوں اپ اسے شرف
ENGLISH
777
And the basket was placed in front of the semi-circle of girls. The instrument started playing the tune of the spiders' bean. appeared and then she started to rise up like the moon emerging from the red clouds. This girl did not seem to be of this world. Her smile was not even gentle. Her hair did not shine. And when the girl stepped out from among the broad leaves of the flower, the flexibility of her body mesmerized the onlookers. I did not expect it to be so beautiful. Naji went to Salahuddin Ayubi and said, May the Emir of Egypt be blessed. This girl's name is Zakoi. I have called her from Alexandria for your sake. She is not a dancer from Peshawar. She is not even a prostitute. When he went to meet his father, the girl said that she had heard that Salah al-Din Ayyubi had come to become the Emir of Egypt. Honorable Amir, I asked you for permission to dance and sing because I wanted to present this girl before you. "I can't see," Salahuddin Ayyubi said, "These girls you have brought are completely naked." Because invitation in my dance is not a sin, it will be the dance of an idolatrous girl. Hain Salahuddin Ayubi asked me to call this girl to me and pay tribute to her that she dances very well by exposing her body in front of thousands of men. Amir Misr Naji said, I have brought him here on my promise
777
باری بخشیں گے یہ بڑی دور سے اس امید پر ائیے ذرا دیکھیے اسے اس کے رقص میں پیشاورانہ تاثر نہیں خود سپردگی ہے دیکھیے وہ اپ کو کیسی نظروں سے دیکھ رہی ہے بے شک عبادت صرف اللہ کی کی جاتی ہے لیکن یہ رقص کی اداؤں سے عقیدت سے مقبول نگاہوں سے اپ کی عبادت کر رہی ہے اپ اسے اپنے خیمے میں انے کی اجازت دے دیں تھوڑی سی دیر کے لیے اسے مستقبل کی وہ بات سمجھیں جس کی کوک سے اسلام کی پاسبانی کے لیے جانباز جنم لیں گے یہ اپنے بچوں کو بڑے فخر سے بتایا کرے گی کہ میں نے صلاح الدین ایوبی سے تنہائی میں باتیں کرنے کا کا شرف حاصل کیا تھا ناجی نے نہایت پر اثر الفاظ اور جذباتی لب و لہجے میں صلاح الدین ایوبی سے منوا لیا کہ یہ لڑکی جسے اس نے ایک بردہ فروش سے خریدا تھا شریف باپ کی باعث بت بیٹی ہے اس نے صلاح الدین ایوبی سے کہلوا لیا کہ اچھا اسے میرے خیمے میں بھیج دینا سے کوئی نہایت اہستہ اہستہ جسم کو بل دیتی اور بار بار صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھ کر مسکراتی تھی باقی لڑکیاں اس کے گرد تتلیوں کی طرح جیسے اڑ رہی ہوں یہ اچھل کود والا رقص نہیں تھا مشلوں کی روشنی میں کبھی تو یوں لگتا جیسے ہلکے نیلے شفاف پانی میں چلپریاں تیر رہی ہوں چاندنی کا اپنا ایک تاثر تھا صلاح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ گمسم بیٹھا کیا سوچ رہا تھا ناجی کے سپاہی جو شراب پی کر ہنگامہ برپا کر رہے تھے وہ بھی جیسے مر گئے تھے زمین اور اسمان پر وجد طاری تھا نہ جی اپنی کامیابی پر بے حد مسرور تھا اور رات گزرتی جا رہی تھی نصف شب کے بعد صلاح الدین ایوبی اس خوشنما خیمے میں داخل ہوا جو ناجی نے اس کے لیے نصب کرایا تھا اندر انہوں نے قالین بچھا دیے تھے پلنگ پر چیتے کی کھال کی مانند پلنگ پوشت تھا فانوس جو رکھوایا تھا اس کی ہلکی ندی روشنی صحرا کی شفاف چاندنی کی مانند تھی اور اندر کی فضا عطربیز تھی خیمے کے اندر ریشمی پردے اویزاں تھے ناجی صلاح الدین ایوبی کے ساتھ خیمے میں گیا اور پوچھا اسے ذرا سی دیر کے لیے بھیج دوں میں وعدہ خلافی سباور رکھتا ہوں بھیج دو صلاح الدین ایوبی نے کہا اور ناجی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا خیمے سے نکل گیا تھوڑا ہی وقت گزرا ہوگا کہ صلاح الدین ایوبی کے محافظوں نے ایک رکاسہ کو ان کے خیمے کی طرف اتے دیکھا خیمے کے ہر طرف مشعل روشن تھی روشنی کا یہ انتظام علی بن سفیان نے کرایا تھا تاکہ رات کے وقت محافظ گرد و پیش کو اچھی طرح دیکھ سکیں رقاصہ قریب ائی تو انہوں نے اسے پہچان لیا انہوں نے اسے رقص میں دیکھا تھا یہ وہی لڑکی تھی جو ٹوکرے میں سے نکلی تھی وہ زکوئی تھی وہ رقص کے اس لباس میں تھی جو توبہ شکن تھا اس میں وہ عریاں تھی
ENGLISH
777
They will take their turn in this hope from a long distance. Let's just look at her. There is no peshawar expression in her dance. It is self-surrender. See how she is looking at you. Of course, worship is only for Allah, but this is devotion through the performance of dance. She is worshiping you with popular eyes, please allow her to be brought into your tent. For a while, consider her as something of the future, from whose coke, warriors will be born for the protection of Islam. This will make your children proud. Naji persuaded Salahuddin Ayyubi with very effective words and emotional tone that this girl whom he bought from a slave seller. She had an idol daughter because of her noble father. She told Salahuddin Ayyubi that it would be good to send her to my tent. It was not a jumpy dance like butterflies flying, but in the light of the muskets sometimes it seemed like butterflies were swimming in light blue transparent water. The moonlight had an impression of its own. What was Gumsum thinking while sitting Naji's soldiers who were causing a riot after drinking alcohol, they were also dead, there was joy on the earth and the sky, Naji was very happy with his success and the night was passing after midnight. Salah al-Din Ayyubi entered the pleasant tent that Naji had installed for him. Inside, they had spread carpets on the bed like a leopard's skin. and the atmosphere inside was oppressive, the silk curtains were hanging inside the tent. Naji went to the tent with Salahuddin Ayyubi and asked him to send him away for a little while. He went out of the tent filling the four-quarters. It must have been a little while before Salahuddin Ayubi's guards saw a ruckus coming towards his tent. There were torches on all sides of the tent. This arrangement of light was arranged by Ali bin Sufyan so that during the night The guards could see the surroundings well and the dancer approached and they recognized her. They had seen her dancing. It was the same girl who came out of the basket. I was naked
777
وج طاری تھا نہ جی اپنی کامیابی پر بے حد مسرور تھا اور رات گزرتی جا رہی تھی نص شب کے بعد صلاح الدین ایوبی اس خوشنما خیمے میں داخل ہوا جو ناجی نے اس کے لیے نصب کرایا تھا اندر انہوں نے قالین بچھا دیا تھے پلنگ پر چیتے کی کھال کی مانند پلنگ پوشت تھا فانوس جو رکھو چاندنی کی مانند تھی اور اندر کی فضا عطربیز تھی خیمے کے اندر ریشمی پردے اویزاں تھے ناجی صلاح الدین ایوبی کے ساتھ خیمے میں گیا اور پوچھا اسے ذرا سی دیر کے لیے بھیج دوں میں وعدہ خلافی سے باہر رکھتا ہوں بھیج دو صلاح الدین ایوبی نے کہا اور ناجی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا خیمے سے نکل گیا تھوڑا ہی وقت گزرا ہوگا کہ صلاح الدین ایوبی کے محافظوں نے ایک رکاسہ کو ان کے خیمے کی طرف اتے دیکھا خیمے کے ہر طرف مشعل روشن تھی روشنی کا یہ انتظام علی بن سفیان نے کرایا تھا تاکہ رات کے وقت محافظ گرد و پیش کو اچھی طرح دیکھ سکیں رقاصہ قریب ائی تو انہوں نے اسے پہچان لیا انہوں نے اسے رقص میں دیکھا تھا یہ وہی لڑکی تھی جو ٹوکرے میں سے نکلی تھی وہ ذکوئی تھی وہ رقص کے اس لباس میں تھی جو توبہ شکن تھا اس میں وہ عریاں تھی محافظوں کے کمانڈر نے اسے روک لیا زکوئی نے اسے بتایا کہ اسے امیر مصر صلاح الدین ایوبی نے بلایا ہے کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ ان امیروں میں سے نہیں جو تم جیسی فاحشہ لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزارتے ہیں اپ ان سے پوچھ لیں جو کوئی نے کہا میں بن بلائے انے کی جرات نہیں کر سکتی ان کا بلاوا تمہیں کس طرح ملا تھا کمانڈر نے پوچھا سالار ناجی نے کہا ہے کہ تمہیں امیر مصر بلاتے ہیں جی کوئی نے کہا اپ کہتے ہیں تو میں واپس چلی جاتی ہوں امیر نے جواب طلبی کی تو خود بھگت لینا کمانڈر تسلیم نہیں کر سکتا تھا کہ صلاح الدین ایوبی نے اپنی خوابگاہ میں ایک رقاصہ کو بلوایا ہے وہ ایوبی کے کردار سے واقف تھا اس کے اس حکم سے بھی واقف تھا کہ ناچ نگانے والیوں سے تعلق رکھنے والے کو ایک سو درے لگائے جائیں گے کمانڈر شش و پنج میں پڑ گیا سوچ سوچ کر اس نے جرات کی اور صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں چلا گیا ایوبی اندر ٹہل رہے تھے کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ باہر ایک رقاصہ کھڑی ہے کہتی ہے کہ حضور نے اسے بلوایا ہے صلاح الدین ایوبی نے کہا اسے اندر بھیج دو کمانڈر باہر نکلا اور زکوئی کو اندر بھیج دیا محافظوں کی توقع تھی کہ ان کا امیر اور سالار اعظم اس لڑکی کو باہر نکال دے گا وہ سب اس کی گرجدار اواز سننے کے لیے تیار ہو گئے مگر انہیں ایسی کوئی اواز نہ سنائی تھی رات گزرتی جا رہی تھی اندر سے دھیمی دھیمی باتوں کی اوازیں سنائی دینے لگی محافظ دستے کا کمانڈر بے قراری کے عالم میں ادھر ادھر ٹہلنے لگا ایک محافظ نے اسے کہا کیا یہ حکم صرف ہمارے لیے ہے کہ کسی فاحشہ
ENGLISH
777
Vijtari was very happy with his success and the night was passing. The bed was covered like skin, the chandelier was like moonlight and the air inside was fragrant. There were silk curtains hanging inside the tent. Salahuddin Ayyubi said, "I'm keeping it outside. Send it to me." This arrangement of light was arranged by Ali bin Sufyan so that the guards could see the surroundings well at night. When the dancer approached, they recognized her. They had seen her dancing. Zakui was in a dance dress that was penitent and she was naked. The commander of the guards stopped her. Those who spend nights with prostitutes like you, you should ask them who said, "I don't dare to invite them, how did you get their invitation?" asked the commander. Someone said, "If you say so, then I will go back." When Amir asked for an answer, the commander could not admit that Salahuddin Ayyubi had invited a dancer to his bedroom. He was aware of Ayyubi's character. He was also aware of the order that one hundred stripes would be applied to those who belonged to the dancers. Scaredly said that there is a dancer standing outside saying that Huzur has called her. Salahuddin Ayubi said send her inside. The commander came out and sent Zakui inside. They all got ready to hear his thunderous voice, but they had not heard any such voice. As the night was passing, the voices of slow conversations were heard from inside. A guard who started walking said to him, is this order only for us or a prostitute?
کے ساتھ تعلق رکھنا جرم ہے ہاں اس نے جواب دیا حکم صرف ماتحتوں کے لیے اور قانون صرف رعایہ کے لیے ہوتے ہیں امیر مصر کو درے نہیں لگائے جا سکتے بادشاہوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا کمانڈر نے جل کر کہا صلاح الدین ایوبی شراب بھی پیتا ہوگا ہم پر جھوٹی پارسائی کا روپ جماتا ہے ان کی نگاہوں میں صلاح الدین ایوبی کا جو بت تھا وہ ٹوٹ پھوٹ گیا اس بت پہ سے ایک عربی شہزادہ نکلا جو عیاش اور بدکار تھا اور پارسائی کے پردے میں گناہ کا مرتکب ہو رہا تھا دوسری طرف ناجی بہت خوش تھا صلاح الدین ایوبی کی خوشنودی کے لیے اس نے شراب سونگھی بھی نہیں تھی وہ اپنے خیمے میں بیٹھا مسرت سے جھوم رہا تھا اس کے سامنے اس کا نائب سالار ادرش بیٹھا تھا اس نے ناجی سے کہا اسے گئے بہت وقت گزر گیا ہے معلوم ہوتا ہے ہمارا تیر صلاح الدین ایوبی کے دل میں اتر گیا ہے میرا تیر خطا گھب گیا تھا ناجی نے قہقہ لگا کر کہا اگر یہ تیر خطا جاتا تو فورا یہیں لوٹ کے ہمارے پاس ا جاتا تم ٹھیک کہتے تھے اور درش نے کہا جی کوئی انسان کے روپ میں تلسم ہے معلوم ہوتا ہے یہ لڑکی حشیشین کے ساتھ رہی ہے ورنہ صلاح الدین ایوبی جیسا بدھ کبھی نہ توڑ سکتی میں نے اسے جو سبق دیے تھے وہ حشیشین کے کبھی وہم و گمان میں بھی نہیں ائے ہوں گے ناجی نے کہا اب صلاح الدین ایوبی کے حلق سے شراب اتارنی رہ گئی ہے ناجی کو باہر قدموں کی اہٹ سنائی دی وہ دوڑ کر باہر گیا وہ زکوئی نہیں تھی کوئی سپاہی جا رہا تھا ناجی نے دور سے صلاح الدین ایوبی کے خیمے کی طرف دیکھا پردے گرے ہوئے تھے اور باہر محافظ کھڑے تھے اس نے اندر جا کر ادرش سے کہا اب میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میری ذکوئی نے بت توڑ ڈالا ہے رات کا اخری پہر تھا جب ذکوئی صلاح الدین ایوبی کے خیمے سے نکلی ناجی کے خیمے میں جانے کی بجائے وہ دوسری طرف چلی گئی راستے میں ایک ادمی کھڑا تھا جس کا جسم سر سے پاؤں تک ایک ہی لبادے میں ڈھکا ہوا تھا اس نے دھیمی سی اواز میں سے کوئی کو پکارا وہ اس ادمی کے پاس چلی گئی وہ ادمی اسے ایک خیمے میں لے گیا بہت دیر بعد وہ اس خیمے سے نکلی اور ناجی کے خیمے کا رخ کر لیا نا جی اس وقت تک جاگ رہا تھا اور کئی بار باہر نکل کر صلاح الدین ایوبی کے خیمے کو دیکھ چکا تھا کہ ذکوئی نے صلاح الدین ایوبی کو پھانس لیا ہے اور اسے اسمان کی بلندیوں سے گھسیٹ کر ناجی کی ذہنیت کی پستیوں میں لے ائی ہے اترش اس نے کہا رات تو گزر گئی ہے وہ ابھی تک ائی نہیں وہ اب ائے گی بھی نہیں وہ درش نے کہا
ENGLISH
777
It is a crime to have a relationship with. Yes, he replied. Commands are only for subordinates and laws are only for subjects. The emirs of Egypt cannot be fenced. Kings have no role. The image of false piety sets upon us. In their eyes, the idol of Salah al-Din Ayyubi was broken and an Arab prince came out of this idol who was licentious and wicked and was committing a sin under the veil of piety. Salahuddin was so happy that he didn't even smell the wine to please Ayyubi. He was sitting in his tent swaying with joy. His viceroy Idarsh was sitting in front of him. Our arrow has landed in Salahuddin Ayyubi's heart. My arrow missed. Naji laughed and said, "If this arrow had missed, it would have returned to us immediately. You were right." Darsh said, "No human being." There is a talisman in the form of, it is known that this girl has been with the Hashishen, otherwise Salahuddin Ayyubi would never have broken the Buddha. It is left to remove the wine from the throat of Al-Din Ayubi, Naji heard footsteps outside, he ran outside, it was not Zakoi, a soldier was going. Naji looked at Salahuddin Ayubi's tent from a distance. The guards were standing, he went inside and said to Idarsh, "Now I can say with certainty that my Zakui has broken the idol." On the way she went, there was a man whose body was covered from head to toe in a single cloak. She called out to someone in a low voice. She went to him. He took her to a tent. She came out of that tent and turned to Naji's tent. Naji was awake by this time and had gone out many times to see Salahuddin Ayyubi's tent. Atarsh has dragged from the heights to the lowlands of Naji's mentality. He said that the night has passed. He has not come yet.
777
ناجی کی ذہنیت کی پستیوں میں لے ائی ہے اترش اس نے کہا رات تو گزر گئی ہے وہ ابھی تک ائی نہیں وہ اب ائے گی بھی نہیں وہ درش نے کہا امیر مصر اسے اپنے ساتھ لے جائے گا ایسے ہیرے کوئی شہزادہ واپس نہیں کیا کرتا تم نے اس پر بھی غور کیا ہے نہیں نہ جی نے کہا میں نے اپنی چال کا یہ پہلو تو سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ امیر مصر سے کوئی کے ساتھ باقاعدہ شادی کر لے ادھرش نے کہا اس صورت میں یہ خطرہ ہے کہ لڑکی ہمارے کام کی نہیں رہے گی وہ ہے تو ہوشیار ناجی نے کہا مگر رقاصہ کا کیا بھروسہ ورقاصہ کی بیٹی ہے اور تجربہ کار پیشہ ور ہے دھوکہ دے سکتی ہے وہ گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا کہ کوئی اس کے خیمے میں داخل ہوئی اس نے ہنس کر کہا اپنے امیر کے جسم کا وزن کرو اور لاؤ اتنا سونا اپ نے میرا یہی انعام مقرر کیا تھا نا پہلے بتاؤ ہوا کیا ہے ناچی نے بے تابی سے پوچھا جو اپ چاہتے تھے کوئی نے جواب دیا اپ کو یہ کس نے بتایا کہ صلاح الدین ایوبی پتھر ہے فولاد ہے اور وہ مسلمانوں کے اللہ کا سایہ ہے اس نے زمین پر پاؤں کا ٹڈا مار کر کہا وہ اس ریت سے زیادہ بے بس ہے جسے ہوا کے حلقے ہلکے جھونکے اڑاتے پھرتے تمہارے حسن کے جادو اور زبان کے تلسم نے اسے ریت بنایا ہے وہ درش نے کہا ورنہ یہ کمبخت چٹان تھا ہاں چٹان تھا جی کوئی نہیں کہا اب ریتلا ٹیلا بھی نہیں میرے متعلق کوئی بات ہوئی تھی نا جی نے پوچھا ہاں مجھے کوئی نے جواب دیا پوچھتا تھا کہ نا جی کہ ایسا ادمی ہے میں نے جواب دیا کہ مصر میں اگر اپ کسی پر اعتماد کرنا چاہیں تو وہ صرف ناجی ہی ہے اس نے پوچھا کہ تم اسے کس طرح جانتی ہو میں نے کہا کہ وہ میرے باپ کے گہرے دوست ہیں ہمارے گھر گئے تھے اور میرے باپ سے کہتے تھے کہ میں صلاح الدین ایوبی کا غلام ہوں مجھے سمندر میں کودنے کا حکم دیں گے تو کود جاؤں گا پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ باعث مت لڑکی ہو میں نے کہا اپ کی ل**** ہو اپ کا ہر حکم سر انکھوں پر کہنے لگا کچھ دیر میرے پاس بیٹھو میں اس کے پاس بیٹھ گئی پھر وہ اگر پتھر تھا تو بوم ہو گیا اور میں نے موم کو اپنے سانچے میں ڈال لیا اس سے رخصت ہونے لگی تو اس نے مجھ سے معافی مانگی کہنے لگا میں نے زندگی میں پہلا گناہ کیا ہے میں نے کہا یہ گناہ نہیں اپ نے میرے ساتھ دھوکہ نہیں کیا زبردستی نہیں کی مجھے بادشاہوں کی طرح حکم دے کر نہیں بلایا میں خود ائی تھی پھر بھی اؤں گی لڑکی نے ہر ایک بات اس طرح کھل کر سنائی جس طرح اس کا جسم حریا تھا ناجی نے جوش مسرت سے اسے اپنے بازوں میں لے لیا ادرش زکوئی کو خراج تحسین اور ناجی کو مبارکباد پیش کر کے خیمے سے نکل گیا صحرا کی اس پر اسرار رات کی کوک سے جو صبح نے جنم لیا وہ کسی بھی صحرائی صبح سے مختلف نہیں تھی مگر اس صبح کے اجالے
ENGLISH
777
Atarish brought Naji to the bottom of his mind. He said, "The night has passed. She has not come yet. She will not come now." He has not thought about it either. Nah Ji said, I had not thought about this aspect of my trick, that it is not possible that the Amir would get married to someone from Egypt. The girl will not be of any use to us, said the wise Naji, but what is the trust of the dancer. She is the daughter of a dancer and an experienced professional who can deceive. He was lost in deep thought when someone entered his tent. He laughed and said, "Weigh the body of your rich man and bring so much gold. You had fixed this reward for me, didn't you tell me what happened?" Nachi eagerly asked what you wanted. Al-Din Ayubi is stone and steel and he is the shadow of the Allah of the Muslims. He stomped his feet on the ground and said, "He is more helpless than the sand that is blown away by the winds of your beauty and the talisman of your language." It is made of sand, said Darsh, otherwise it was a damn rock, yes, it was a rock, no one said, now it is not even a sand dune. replied that if you want to trust anyone in Egypt, he is only Naji. He asked how you know him. I said that he is a close friend of my father. That I am Salahuddin Ayyubi's slave, if they order me to jump into the sea, I will jump. Then he asked me, "Don't be a girl." It took some time to sit next to me, I sat next to him, then if he was a stone, he became boom and I put the wax in my mold, he started to leave, then he apologized to me and said, I am the first in my life. What is the sin? I said it is not a sin. You did not deceive me. You did not force me. The body was free, Naji took it in his arms with joy, Idarsh paid tribute to Zakui and congratulated Naji and left the tent. It was not different but the light of this morning
777
نے اپنے تاریک سینے میں ایک راز چھپا لیا تھا جس کی قیمت اس سلطنت اسلامیہ جتنی تھی جس کے قیام اور استحکام کا خواب صلاح الدین ایوبی نے دیکھا اور اس کی تعبیر کا عزم لے کر جوان ہوا تھا گزشتہ رات اس صحرا میں جو واقعہ ہوا اس کے دو پہلو تھے ایک پہلو سے ناجی اور ادرش واقع تھے دوسرے پہلو سے صلاح الدین ایوبی کا محافظ دستہ واقف تھا اور صلاح الدین ایوبی اس کا سراغ رساں اور جاسوس علی بن سفیان اور ذکوئی تین ایسے افراد تھے جو اس واقعے کے دونوں پہلوں سے واقف تھے صلاح الدین ایوبی اور اس کے سٹاف کو ناچی نے نہایت شان و شوکت اور عقیدت مندی سے رخصت کیا سوڈانی فوج دو رویا کھڑی صلاح الدین زندہ باد کے نعرے لگا رہی تھی صلاح الدین ایوبی نے نعروں کے جواب میں بازو لہرانے مسکرانے اور دیگر تکلفات کی پرواہ نہ کی ناجی سے ہاتھ ملایا اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا دی ان کے پیچھے ان کے محافظوں اور دیگر سٹاف کو بھی گھوڑے دوڑانے پڑے اپنے مرکزی دفتر میں پہنچ کر وہ علی بن سفیان اور اپنے ایک نائب کو اندر لے گئے اور دروازہ اندر سے بند کر لیا وہ سارا دن کمرے میں بند رہے سورج غروب ہوا رات تاریک ہو گئی کمرے کے اندر کھانا تو درکنار پانی بھی نہیں گیا رات خاصی گزر چکی تھی جب تینوں باہر نکلے اور اپنے اپنے گھروں کا روانہ ہوئے علی بن سفیان ان سے الگ ہوا تو محافظوں کے دستے کے کمانڈر نے انہیں روک لیا اور کہا محترم ہمارا فرض ہے کہ حکم مانے اور زبانیں بند رکھیں لیکن میرے دستے میں ایک مایوسی اور بے اطمینانی پیدا ہو گئی ہے خود میں بھی اس کا شکار ہو رہا ہوں کیسی مایوسی محافظ کہتے ہیں کہ ایک فوج کو شراب پینے کی اجازت ہے تو ہمیں اس سے کیوں منع کیا گیا ہے کمانڈر نے کہا اگر اپ میری شکایت کو گستاخی سمجھیں تو سزا دے دے لیکن میری شکایت سن لے ہم اپنے امیر کو خدا کا برگزیدہ انسان سمجھتے تھے اور اس پر دل و جان سے فدا تھے مگر رات اس کے خیر میں ایک رکا سا گئی تھی علی بن سفیان نے اس کی بات پوری کرتے ہوئے کہا تم نے کوئی گستاخی نہیں کی گناہ امیر کرے یا غلام سزا میں تو کوئی فرق نہیں گناہ بہرحال گناہ ہے میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ رقاصہ اور امیر مصر کی خفیہ ملاقات کے ساتھ گناہ کا کوئی تعلق نہیں تھا یہ کیا تھا ابھی نہیں بتاؤں گا اہستہ اہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تم کو سب معلوم ہو جائے گا کہ رات کیا ہوا تھا اس نے کمانڈر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا میری بات غور سے سنو عامر
ENGLISH
777
had hidden a secret in his dark chest which was worth as much as the Islamic Empire whose establishment and stability Salah al-Din Ayyubi had dreamed of and was young with the determination to realize it. There were two sides of Naji and Idarsh on one side, Salah al-Din Ayyubi's bodyguard was aware of the other side and Salah al-Din Ayyubi was his detective and detective Ali Bin Sufyan and Zakui were three people who were aware of both aspects of this incident. Salahuddin Ayyubi and his staff were sent off by Nachi with great pomp and devotion. He did not care, shook hands with Naji, saddled his horse, his guards and other staff also had to run horses after him. After reaching his main office, he took Ali bin Sufyan and one of his deputies inside and the door was locked from inside. They stayed locked in the room all day, the sun set, the night became dark, there was no food inside the room, not even water. The commander of the guards stopped him and said, "Sir, it is our duty to obey orders and keep our tongues shut, but there is a disappointment and dissatisfaction in my troops, and I am also suffering from it." An army is allowed to drink alcohol, so why is it forbidden to us? The commander said, "If you consider my complaint to be insolent, then punish me, but listen to my complaint. We considered our Amir to be God's chosen person and our heart was on him." And he sacrificed his life, but the night was a short stop in his good. Ali Bin Sufyan fulfilled his words and said, "You have not done any insolence. Whether the sin is a rich man or a slave, there is no difference in the punishment. A sin is a sin anyway. I assure you that sin had nothing to do with the secret meeting between the dancer and the Emir of Egypt. I will not tell you what it was. Slowly, as time passes, you all will know what hapاطمینانی پیدا ہو گئی ہے خود میں بھی اس کا شکار ہو رہا ہوں کیسی مایوسی محافظ کہتے ہیں کہ ایک فوج کو
شراب پینے کی اجازت ہے تو ہمیں اس سے کیوں منع کیا گیا ہے کمانڈر نے کہا اگر اپ میری شکایت کو گستاخی سمجھیں تو سزا دے دیں لیکن میری شکایت سن لیں ہم اپنے امیر کو خدا کا برگزیدہ انسان سمجھتے تھے اور اس پر دل و جان سے فدا تھے مگر رات اس کے خیر میں ایک رکا سا گئی تھی علی بن سفیان نے اس کی بات پوری کرتے ہوئے کہا تم نے کوئی گستاخی نہیں کی گناہ امیر کرے یا غلام سزا میں تو کوئی فرق نہیں گناہ بہرحال گناہ ہے میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ رقاصہ اور امیر مصر کی خفیہ ملاقات کے ساتھ گناہ کا کوئی تعلق نہیں تھا یہ کیا تھا ابھی نہیں بتاؤں گا اہستہ اہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تم کو سب معلوم ہو جائے گا کہ رات کیا ہوا تھا اس نے کمانڈر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا میری بات غور سے سنو عامر بن صالح تم پرانے عسکری ہو اچھی طرح جانتے ہو کہ فوج اور فوج کے سربراہوں کے کچھ راز ہوتے ہیں جن کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے رپاسہ کا امیر مصر کے خیمے میں جانا بھی ایک راز ہے اپنے جابازوں کو کسی شک میں نہ پڑنے دو اور کسی سے ذکر تک نہ ہو کہ رات کو کیا ہوا تھا علی بن سفیان کی قابلیت اور کارناموں سے یہ کمانڈر اگاہ تھا مطمئن ہو گیا اور اس نے اپنے دستے کے شکوک رفع کر دیے اگلے روز صلاح الدین ایوبی دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے کہ انہیں اطلاع دی گئی کہ ناجی ملنے ایا ہے صلاح الدین ایوبی کھانے سے فارغ ہو کر ناجی سے ملے ناجی کا چہرہ بتا رہا تھا کہ گھبرایا ہوا ہے اور غصے میں بھی ہے اس نے حق لانے کے لہجے میں کہا قابل صد احترام امیر کیا یہ حکم اپ نے جاری کیا ہے کہ سوڈانی محافظ فوج کی 50 ہزار نفری مصر کی اس فوج میں مدغم کر دی جائے جو حال ہی میں تیار ہوئی ہے ہاں نا جی صلاح الدین ایوبی نے تحمل سے جواب دیا میں نے کل سارا دن اور رات کا کچھ حصہ صرف کر کے اور بڑی گہری سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ تحریر کیا ہے کہ جس فوج کے تم سالار ہو اسے مصر کی فوج میں اس طرح مدغم کر دیا جائے کہ ہر دستے میں سوڈانیوں کی نفری صرف 10 فیصد ہو اور تمہیں یہ حکم بھی مل چکا ہوگا کہ تم اب اس فوج کے سالار نہیں ہو گے تم فوج کے مرکزی دفتر میں ا جاؤ گے علی مقام ناچی نے کہا مجھے کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے اگر تمہیں یہ فیصلہ پسند نہیں تو فوج سے الگ ہو جاؤ صلاح الدین ایوبی نے کہا معلوم ہوتا ہے میرے خلاف سازش کی گئی ہے ناجی نے کہا اپ کے بلند دماغ اور گہری نظر کو چھان بین کر لینی چاہیے مرکز میں میرے بہت سے دشمن ہیں میرے دوست صلاح الدین ایوبی نے کہا میں نے یہ فیصلہ صرف اس لیے کیا ہے کہ میری انتظامیہ اور فوج سے سازشوں کا خطرہ ہمیشہ کے لیے نکل جائے اور میں نے یہ فیصلہ اسی لیے کیا ہے کہ فوج میں کسی کا عہدہ کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو اور کتنا ہی ادنی کیوں نہ ہو وہ شراب نہ پیے ہلڑ بازی نہ کرے اور فوجی جشنوں میں ناچ گانے نہ ہو لیکن الجہ ناچی نے کہا میں نے حضور سے اجازت لے لی تھی اور میں نے شراب اور ناچ گانے کی اجازت صرف اس لیے دی تھی کہ اس فوج کو اس کی اصل حالت میں دیکھ سکوں جس سے تم ملت اسلامیہ کی فوج کہتے ہو میں 50 ہزار نفری کو برطرف نہیں کر سکتا مصری فوج میں اسے مدغم کر کے اس کے کردار کو سدھار دوں گا اور یہ بھی سن لو کہ ہم میں کوئی مصری سوڈانی شامی اور عجمی نہیں ہے ہم مسلمان ہیں ہمارا جھنڈا ایک اور مذہب ایک ہے امیر عالی مرتبت نے یہ تو سوچا ہوتا کہ میری حیثیت کیا رہ جائے گی جس کے تم اہل ہو صلاح الدین ایوبی نے کہا اپنے ماضی پر خود ہی نگاہ ڈالو ضروری نہیں کہ اپنے کارستانیوں کی داستان مجھ سے سنو فورا واپس جاؤ اپنی فوج کی نفری سامان جانوروں سامان خرد و نوش وغیرہ کے کاغذات تیار کر کے میرے نائب کے حوالے کر دو سات دن کے اندر اندر میرے حکم کی تعمیل مکمل ہو جائے ناچی نے کچھ کہنا چاہا لیکن صلاح الدین ایوبی ملاقات کے کمرے سے نکل گئے
ENGLISH
777
Satisfaction has arisen, I am also suffering from it, what a disappointment. The guard says that an army is allowed to drink alcohol, so why is it forbidden to us? Give but listen to my complaint. We considered our Amir to be God's chosen person and we were devoted to him with all our heart and soul, but the night had come to a halt in his welfare. Ali bin Sufyan fulfilled his words and said: The sin of impudence does not matter whether it is a rich man or a slave. There is no difference in the punishment. A sin is still a sin. I assure you that the sin had nothing to do with the secret meeting between the dancer and the Emir of Egypt. I will not tell you what it was. At the same time, you will all know what happened that night. There are those whose protection is the duty of all of us. Rapasa's going to the Emir of Egypt's tent is also a secret. This commander was satisfied with the achievements and he cleared the doubts of his troops. Mile Naji's face was showing that he was nervous and angry. He said in a tone of truth, "Honorable Emir, have you issued this order that 50,000 members of the Sudanese Defense Forces will be integrated into this army of Egypt?" should be done which has recently been prepared Yes Naji Salahuddin Ayyubi patiently replied I have spent the whole day and part of the night yesterday and after much deep thought I have written this decision that the army which You are the leader, it should be integrated into the army of Egypt in such a way that the number of Sudanese in each unit is only 10% and you have also received the order that you will no longer be the leader of this army. Jauge Ali Muqam Nachi said for what crime am I being punished if you don't like this decision then leave the army Salahuddin Ayyubi said it seems a conspiracy has been made against me A deep look should be investigated. I have many enemies at the center. My friend Salahuddin Ayyubi said that I have taken this decision only to remove the threat of conspiracies from my administration and the army forever and I have taken this decision. That is why, no matter how high or low the position of someone in the army, he should not drink alcohol, should not play, and should not dance in military celebrations. and I gave permission to drink and dance only to see this army in its original state, which you call the army of the Nation of Islam. I cannot dismiss 50 thousand people. I will correct his character by doing it and also listen that there is no Egyptian, Sudanese, Syrian or foreigner among us, we are Muslims, our flag is one and the same religion. Salah al-Din Ayyubi said, "Take a look at your past; it is not necessary to listen to the story of your deeds from me. Go back immediately and prepare the documents of your army's personnel, animals, food and drink, etc. and hand them over to my deputy." Please complete my order within seven days Nachi wanted to say something but Salahuddin Ayyubi left the meeting room.pened that night.'' But he put his hand and said listen to me carefully, Amir
777

No comments:
Post a Comment