The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 5
کسی گوئی کو امیر مصر نے رات بھر کا شرف باریابی بخشا ہے زکوئی کے خلاف حسد کی اگ پہلے ہی پھیلی ہوئی تھی اسے ائے ابھی بہت تھوڑا عرصہ گزرا تھا لیکن ناجی پہلے روز سی سے اسے اپنے ساتھ رکھنے لگا تھا اسے ذرا سی دیر کے لیے بھی اپنے اس حرم میں نہیں جانے دیا تھا جہاں اس کی دلپسند ناچنے والی جوان لڑکیاں رہتی تھی انہیں یہ تو معلوم نہ تھا کہ نہ جی اسے صلاح الدین ایوبی کو موم کرنے کی ٹریننگ دے رہا ہے اور وہ کسی بہت بڑے تخریبی منصوبے پر کام کر رہا ہے یہ رقاسائیں یہ دیکھ کر جل بن گئی تھیں کہ جی کوئی نے ناجی پر قبضہ کر لیا ہے اور اس کے دل میں ان کے خلاف نفرت پیدا کر دی ہے حرم کی دونوں لڑکیاں زکوئی کو ٹھکانے لگانے کی سوچتی رہتی تھی اب انہوں نے دیکھا کہ یہ کوئی کو امیر مصر نے بھی اتنا پسند کیا ہے کہ اسے رات بھر اپنے خیمے میں رکھا ہے تو وہ پاگل سی ہو گئی اسے ٹھکانے لگانے کا واحد طریقہ قتل تھا قتل کے دو ہی طریقے ہو سکتے تھے زہر یا کرائے کا قاتل جو اسے سوتے میں قتل کر ائے دونوں طریقے ممکن نہیں تھے کیونکہ یہ کوئی باہر نہیں نکلتی تھی اور زہر دینے کے لیے اس تک رسائی نہیں ہو سکتی تھی ان دونوں نے حرم کی سب سے زیادہ چالاک ملازمہ کو اعتماد میں لے رکھا تھا اسے انعام و اکرام دیتی رہتی تھی جب حسد کی انتہا نے ان کی انکھوں میں خون اتار دیا تو انہوں نے اس ملازمہ کو منہ مانگے انعام کا لالچ دے کر اپنا مدع بیان کر دیا یہ ملازمہ بڑی خرانٹ اور منی ہوئی عورت تھی اس نے کہا کہ سالار کی رہائش گاہ میں جا کر زکوئی کو زہر دینا ممکن نہیں موقع محل دیکھ کر اسے خنجر سے قتل کیا جا سکتا ہے اس کے لیے وقت چاہیے اس نے وعدہ کیا کہ وہ گوئی کی نقل و حرکت پر نظر رکھے گی ہو سکتا ہے کوئی موقع جلد نکل ائے اس جرائم پیشہ عورت نے یہ بھی کہا کہ اگر موقع نہ نکلا تو حشی شین کی مدد حاصل کی جائے گی مگر وہ معاوضہ بہت زیادہ لیتے ہیں دونوں لڑکیوں نے اسے یقین دلایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ معاوضہ دینے کو تیار ہیں ادھر ناجی بے حد و غصے کے عالم میں اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا کہ کوئی اسے ٹھنڈا کرنے کی بہت کوشش کر چکی تھی لیکن اس کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا اب مجھے اس کے پاس جانے دیں جی کوئی نہیں چوتھی بار کہا میں اسے شیشے میں اتار لوں گی بیکار ہے تاجی نے گرج کر کہا وہ کمبخت حکم نامہ جاری کر چکا ہے جس پر عمل بھی شروع ہو چکا ہے مجھے اس نے کہیں کا نہیں رہنے دیا اس پر تمہارا جادو نہیں چل سکا مجھے معلوم ہے کہ میرے خلاف یہ سازش کرنے والے لوگ کون ہیں وہ میری ابھرتی ہوئی حیثیت سے حسد کرتے ہیں میں امیر مصر بننے والا تھا میں نے یہاں کے حکمرانوں پر حکومت کی ہے حالانکہ میں معمولی سالار تھا اب میں سالار بھی نہیں رہا اس نے دربان کو اندر بلا کر کہا کہ ادرش کو بلا لائے اس کا ہم راز اور نائب ادرش ایا تو ناجی نے اس کے ساتھ بھی اسی موضوع پر بات کی اسے وہ کوئی نئی خبر نہیں سنا رہا تھا اور درش کے ساتھ وہ صلاح الدین ایوبی کے نئے حکم نامے پر تفصیلی تبادلہ خیال کر چکا تھا مگر دونوں اس کے خلاف کوئی کاروائی سوچ نہیں سکے تھے اب اس کے دماغ میں ایک کاروائی اگئی تھی اس نے ادرک سے کہا میں نے جوابی کاروائی کی سوچ لی ہے کیا بغاوت ناجی نے کہا ادرش چپ چاپ اسے دیکھتا رہا ناجی نے کہا تم حیران ہو گئے ہو کیا تمہیں شک ہے کہ یہ 50 ہزار سوڈانی فوج ہماری وفادار نہیں کیا یہ صلاح الدین ایوبی کی نسبت مجھے اور تمہیں اپنا حاکم اور بے خواہ نہیں سمجھتی کیا تم اپنی فوج کو یہ کہہ کر بغاوت پر امادہ نہیں کر سکتے کہ تمہیں مصریوں کا غلام بنایا جا رہا ہے اور مصر تمہارا ہے ادھرش نے گہری سانس لے کر کہا میں نے اسے اپنے نام پر غور نہیں کیا تھا بغاوت کا انتظام ایک اشارے پر ہو سکتا ہے لیکن مصر کی نئی فوج بغاوت کو تبا سکتی ہے اور اس فوج کو کمک بھی مل سکتی ہے حکومت سے ٹکر لینے سے پہلے ہمیں ہر پہلو پر غور کر لینا چاہیے میں غور کر چکا ہوں ناجی نے جواب دیا میں عیسائی بادشاہوں کو مدد کے لیے بلا رہا ہوں تم دو پیامبر تیار کرو انہیں بہت دور جانا ہے اؤ میری باتیں غور سے سن لو جی کوئی تم اپنے کمرے میں چلی جاؤ کوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور وہ دونوں ساری رات اپنے کمرے میں بیٹھے رہے صلاح الدین ایوبی نے دونوں فوجوں کو مدغم کرنے کا وقت سات روز مقرر کیا تھا کاغذی کاروائی ہوتی رہی ناجی پوری طرح تعاون کرتا رہا چار روز گزر چکے تھے اس دوران ناجی ایک بار پھر صلاح الدین ایوبی سے ملا لیکن اس نے کوئی شکایت نہ کی تفصیلی رپورٹ دیکھ کر صلاح الدین ایوبی کو مطمئن کر دیا کہ ساتویں روز دونوں فوجیں ایک ہو جائیں گی صلاح الدین ایوبی کے نائبین نے بھی اسے یقین دلایا کہ ناجی دیانتداری سے تعاون کر رہا ہے مگر علی بن سفیان کی رپورٹ کسی حد تک پریشان کن تھی اس کی انٹیلیجنس سروس نے رپورٹ دی تھی کہ سوڈانی فوج کے سپاہیوں میں بے اطمینانی اور ابتری سی پائی جاتی ہے وہ مصری فوج میں مدغم ہونے پر خوش نہیں ان کے درمیان یہ افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں کہ مصری فوج میں مدغم ہو کر ان کی حیثیت غلاموں کی سی ہو جائے گی انہیں مال غنیمت بھی نہیں ملے گا اور ان سے باربرداری کا کام لیا جائے گا اور سب سے بڑی بات یہ کہ انہیں شراب نوشی کی اجازت نہیں ہوگی علی بن سفیان نے یہ رپورٹیں صلاح الدین ایوبی تک پہنچا دی ایوبی نے اس سے کہا کہ لوگ طویل مدت سے عیش کر رہے ہیں انہیں نئی تبدیلی یقینا پسند نہیں ائے گی مجھے امید ہے کہ وہ نئے حالات اور ماحول کے عادی ہو جائیں گے اس لڑکی سے ملاقات ہوئی یا نہیں صلاح الدین ایوبی نے پوچھا نہیں
ENGLISH
The Emir of Egypt gave someone the honor of spending the night. Jealousy against Zakui had already spread. It had only been a little while, but Naji had kept him with him since the first day. He was also not allowed to enter his harem where his favorite dancing young girls lived. They did not know that Naji was training him to wax Salahuddin Ayyubi and that he was working on a huge subversive plan. These dancers were enraged to see that Ji Koi had taken over Naji and made her hate him in her heart. That this person was liked so much by the Emir of Egypt that he kept her in his tent for the whole night, then she became mad, the only way to dispose of her was to kill her. Killing her in her sleep was not possible either because she had no exit and could not be accessed to poison her. When the extremity of jealousy brought blood to his eyes, he lured this maid with a reward and declared himself as his suitor. It is not possible to go and poison Zakui. Chances are, seeing the palace, he can be killed with a dagger. This will take time. She promises that she will keep an eye on Goi's movements. The professional woman also said that if the opportunity doesn't work out, Hashi Shin's help will be sought, but they charge too much. Both girls assure her that they are willing to pay more. I was walking in my room and someone had tried hard to calm him down but his anger was increasing now let me go to him yes no one said for the fourth time I will take it down in the glass it is useless Taji thundered and said, "He has issued the damning order, the execution of which has already started. He did not let me stay anywhere. Your magic did not work on him. I know who are the people who are plotting this against me. They are mine." Jealous of the emerging position, I was going to be the Emir of Egypt, I have ruled over the rulers here, although I was a minor ruler, now I am not even a ruler anymore. And Naji talked to him on the same subject when Naib Idarsh also discussed with Darsh about the new decree of Salahuddin Ayyubi, but both of them had nothing against him. He could not think of an action, now an action came to his mind, he said to Adrik, I have thought of a counter action, is there a rebellion? That this 50 thousand Sudanese army is not loyal to us, doesn't it consider me and you as its ruler and ungrateful compared to Salah al-Din Ayubi? "Egypt is yours," Adarsh took a deep breath and said, "I didn't think about it in my name. The coup may be organized on a whim, but Egypt's new army may crush the coup and this army may also receive reinforcements from the government." "We must consider every aspect before we clash. I have considered," Naji replied. You go to your room. Someone went to her room and they both sat in their room all night. Salahuddin Ayyubi fixed the time for integrating the two armies for seven days. Paperwork was done. Naji fully cooperated for four days. During this time, Naji met Salahuddin Ayyubi once again, but he did not complain. After seeing the detailed report, he satisfied Salahuddin Ayyubi that on the seventh day the two armies would be united. Salahuddin Ayyubi's deputies also believed him. Dalaya said that Naji was cooperating faithfully, but Ali bin Sufyan's report was somewhat troubling. His intelligence service reported that the soldiers of the Sudanese army were disaffected and disaffected when they were integrated into the Egyptian army. Not happy, rumors were being spread among them that after being integrated into the Egyptian army, their status would become like slaves, they would not even get booty, and they would be forced to work as laborers, and the most important thing is that They will not be allowed to drink alcohol. Ali bin Sufyan conveyed these reports to Salah al-Din Ayyubi who told him that the people have been enjoying luxury for a long time and they will certainly not like the new change. Salahuddin Ayyubi asked if he met this girl or not
امید ہے کہ وہ نئے حالات اور ماحول کے عادی ہو جائیں گے اس لڑکی سے ملاقات ہوئی یا نہیں صلاح الدین ایوبی نے پوچھا نہیں علی نے جواب دیا اس سے ملاقات ممکن نظر نہیں اتی میرے ادمی ناکام ہو چکے ہیں ناجی نے اسے قید کر رکھا ہے اس سے اگلی رات کا واقعہ ہے رات ابھی ابھی تاریک ہوئی تھی جی کوئی اپنے کمرے میں تھی نا جی اورش کے ساتھ اپنے کمرے میں تھا اسے گھوڑوں کے قدموں کی اوازیں سنائی دی اس نے پردہ ہٹا کر دیکھا باہر چراغوں کی روشنی میں اسے دو گھوڑا سوار گھوڑوں سے اترتے دکھائی دیے لباس سے وہ تاجر معلوم ہوتے تھے لیکن وہ گھوڑوں سے اتر کر ناجی کے کمرے کی طرف چلے تو ان کی چال بتاتی تھی کہ یہ تاجر نہیں اتنے میں ادرش باہر نکلا دونوں سوار اسے دیکھ کر رک گئے ادرش کو سپاہیوں کے انداز سے سلام کیا اور دروش نے ان کے گرد گھوم کر ان کے لباس کا جائزہ لیا پھر ان سے کہا کہ ہتھیار دکھاؤ دونوں نے پھرتی سے چگے کھولے اور ہتھیار دکھائے ان کے پاس چھوٹی تلواریں اور ایک ایک خنجر تھا ادرش انہیں اندر لے گیا دربان ایک طرف کھڑا تھا اسے کوئی گہری سوچ میں کھو گئی وہ کمرے سے نکلی اور ناجی کے کمرے کا رخ کیا مگر دربان نے اسے دروازے پر روک لیا اور کہا کہ اسے حکم ملا ہے کہ کسی کو اندر نہ جانے دو زکوئی کو وہاں ایسی حیثیت حاصل ہو گئی تھی کہ وہ کمانڈروں پر بھی حکم چلانے لگی تھی دربان کے روکنے سے وہ سمجھ گئی کہ کوئی خاص بات ہے اسے یاد ایا کہ دو راتیں پہلے ناجی نے اس کی موجودگی میں ادرش سے کہا تھا میں عیسائی بادشاہوں کو مدد کے لیے بلا رہا ہوں تم دو پیامبر تیار کرو انہیں بہت دور جانا ہے اور پھر اس نے زکوئی کو اپنے کمرے میں چلے جانے کو کہا تھا اور اس نے بغاوت کی باتیں بھی کی تھیں یہ سب کچھ سوچ کر وہ اپنے کمرے میں واپس چلی گئی اس کے اور ناجی کے خاص کمرے کے درمیان ایک دروازہ تھا جو دوسری طرف سے بند تھا اس نے دروازے کے ساتھ کان لگا دیے ادھر کی اوازیں دھیمی تھی اسے کوئی بات سمجھ نہ ائی کچھ دیر بعد اسے ناجی کی بڑی صاف اواز سنائی دی اس نے کہا ابادیوں سے دور رہنا اگر کوئی شک میں پکڑنے کی کوشش کرے تو سب سے پہلے یہ پیغام غائب کرنا جان پر کھیل جانا جو بھی راستے میں حائل ہو اسے ختم کر دینا تمہارا سفر چار دنوں کا ہے تین دنوں میں پہنچنے کی کوشش کرنا سنت یاد کر لو شمال مشرق دونوں ادمی باہر نکلے کہ کوئی بھی باہر اگئی اس نے دیکھا کہ وہ دونوں گھوڑوں پر سوار ہو رہے تھے ناجی اور ادرش بھی باہر کھڑے تھے سواروں کو الودا کہنے لگے ہوں گے سوار بہت تیزی سے روانہ ہو گئے ناجی نے جھکوئی کو دیکھا تو اسے بلا کر کہا میں باہر جا رہا ہوں کام بہت ہے تم ارام کرو اگر اکیلے دل نہ لگے تو حرم میں گھوم پھر انا ہاں مجھے کوئی نہیں کہا جب سے ائی ہوں باہر نہیں نکلی ناجی اور ادرش چلے گئے زکوئی نے چغا پہنا کمر بند میں خنجر اڑسا اور حرم کی طرف چل پڑی وہ جگہ چند سو گز دور تھی وہ ناجی پر یہ ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ وہ حرم میں گئی تھی دربان کو بھی اس نے یہی بتایا تھا حرم میں داخل ہوئی تو وہاں کی رہنے والیوں نے اسے حیران ہو کر دیکھا وہ پہلی دفعہ وہاں گئی تھی سب نے اس کا استقبال احترام اور پیار سے کیا ان دو لڑکیوں نے بھی اسے خوش امدید کہا جو اسے قتل کرانا چاہتی تھی اسی کوئی سب سے ملی ہر ایک کے ساتھ باتیں کی اور واپس چل پڑی وہ خرانٹ ملازمہ بھی وہیں تھی جسے اس کے قتل کے لیے کہا گیا تھا اس نے جیوئی کو بڑے غور سے دیکھا اسے کوئی باہر نکل گئی حرم والے مکان اور ناجی کی رہائش گاہ کا درمیانی علاقہ اونچا نیچا تھا اور ویران بھی زی کوئی حرم سے نکلی تو ناجی کی رہائش گاہ کی طرف جانے کی بجائے بہت تیز تیز دوسری سمت چل پڑی ادھر ایک پک ڈنڈی بھی تھی لیکن کوئی اس سے ذرا دور ہٹ کر جا رہی تھی اس سے 15 20 قدم پیچھے ایک سیاہ سایہ چلا جا رہا تھا وہ کوئی انسان ہی ہو سکتا تھا مگر سر سے پاؤں تک ایک لبادے میں لپٹا ہونے کی وجہ سے سیاہ بھوت لگتا تھا جیوئی کی رفتار تیز ہوئی تو اس بھوت نے اپنی رفتار اس سے بھی تیز کر دی اگے گھنی جھاڑیاں تھیں زکوئی ان میں روپوش ہو گئی سیاہ بود بھی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا وہاں سے کوئی اڑھائی تین سو گز کے اگے صلاح الدین ایوبی کی رہائش گاہ تھی جس کے ارد گرد فوج کے اعلی رتبوں کے افراد رہتے تھے ذکوئی کا رخ ادھر ہی تھا وہ گھنی جھاڑیوں میں سے نکلی ہی تھی کہ مائیں طرف سے سیاہ بھوت اٹھا چاندنی بڑی صاف تھی پھر بھی اس کا چہرہ نظر نہیں اتا تھا اس کے پاؤں کی اہٹ بھی نہیں تھی بھوت کا ہاتھ اوپر اٹھا چاندنی میں خنجر چمکا اور بجلی کی تیزی سے خنجر ذکوئی کے بائیں کندھے اور گردن کے درمیان اتر گیا زکوئی کی چیخ نہیں نکلی خنجر اس کے کندھے سے نکل گیا زکوئی نے اتنا گہرا زخم کھا کر بھی نہایت تیزی سے اپنے کمر بند سے خنجر نکالا بھوت نے اس پر دوسرا وار کیا تو زکوئی نے اس کے خنجر والے بازو کو اپنے بازو سے روک کر اپنا خنجر بھوت کے سینے میں گھومپ دیا اسے چیخ سنائی دی جو کسی عورت کی تھی زکوئی نے اپنا خنجر کھینچ کر دوسرا وار کیا جو بھوت کے پیٹ میں اتر گیا اس کے ساتھ ہی اس کے اپنے پہلو میں خنجر لگا لیکن زیادہ گہرا نہیں اترا بھوت چکرا کر گرا ذکوئی نے یہ نہیں دیکھا کہ اس پر حملہ کرنے والا کون تھا وہ دوڑ پڑی اس کے جسم سے خون بہ تیزی سے بہہ رہا تھا صلاح الدین ایوبی کا مکان اسے چاندنی میں نظر انے لگا ادھا فاصلہ طے کر کے اسے چک کر انے لگے اس کی رفتار سست ہونے لگی اور اس نے چلانا شروع کر
ENGLISH
I hope he will get used to the new situation and environment." Salahuddin Ayyubi asked if he had met the girl. "No," Ali replied. "It doesn't seem possible to meet her. My men have failed. This is the incident of the next night, the night was just getting dark, someone was in his room, Naji was in his room with Orish, he heard the footsteps of horses, he removed the curtain and looked outside in the light of lamps, two horses. The riders appeared to be traders from the clothes seen dismounting from the horses, but when they got off the horses and walked towards Naji's room, their behavior indicated that this was not a trader. greeted them in the manner of and Darosh went around them and examined their clothes and then asked them to show them their weapons. The doorman was standing aside, she was lost in deep thought. She left the room and headed for Naji's room, but the doorman stopped her at the door and said that he had received an order not to let anyone in. It was achieved that she began to issue orders to the commanders as well. When the gatekeeper stopped her, she understood that there was something special. She remembered that two nights ago Naji had told Idarsh in her presence that I had called the Christian kings for help. rahahoon you prepare two messengers they have to go far and then he asked zakui to go to his room and he also talked about rebellion thinking all this she went back to her room and There was a door in the middle of Naji's special room, which was closed from the other side. He put his ear to the door. The sounds around him were soft. He did not understand anything. After a while, he heard Naji's clear voice. Stay away If anyone tries to catch you in doubt, first of all disappear this message Play for your life Eliminate whoever stands in your way Your journey is four days Try to reach in three days Sunnah Remember the North The two men came out and whoever came out, he saw that they were both riding horses. Naji and Idarsh were also standing outside. They must have started to say goodbye to the riders. Called and said, I am going out, there is a lot of work, calm down, if you don't feel alone, then I wandered around the harem, Anna, yes, no one said to me, since I have not gone out, Naji and Idarsh left. Ursa and walked towards the Haram, that place was a few hundred yards away. She wanted to show Naji that she had gone to the Haram. She had also told the gatekeeper the same thing. When she entered the Haram, the residents there surprised her. I saw that she had gone there for the first time and everyone welcomed her with respect and love. Those two girls who wanted to kill her also welcomed her. She was also there who was asked to kill him. Instead of going towards the residence, he walked very fast in the other direction. There was also a pick stick, but someone was moving away from it. A dark shadow was walking 15-20 steps behind it. It could be a human being. But it looked like a black ghost because it was wrapped in a cloak from head to toe. The speed of the ghost increased, so this ghost increased its speed even faster. There were thick bushes ahead. Disappeared from there some 300 yards away was the residence of Salahuddin Ayubi, surrounded by high-ranking members of the army. The ghost lifted up the moonlight, but his face was not visible. His feet were not even visible. The ghost's hand rose up, a dagger flashed in the moonlight, and with the speed of lightning, the dagger landed between Zakoi's left shoulder and neck. There was no scream, the dagger came out of his shoulder. Zakui quickly pulled the dagger from his belt, even after being so deeply wounded. The ghost struck him again, and Zakui blocked his dagger arm with his arm. He whirled around in the ghost's chest, he heard a woman's scream, Zakui drew his dagger and gave a second stab, which landed in the ghost's stomach. Gara Zakoi did not see who attacked him, he ran, blood was flowing rapidly from his body, he saw Salahuddin Ayubi's house in the moonlight, he walked half a distance and started to check him.
بھی اس کے کپڑے لال سرخ ہو گئے تھے اور وہ بڑی مشکل سے قدم گھسیٹ رہی تھی اس کی منزل تھوڑی ہی دور رہ گئی تھی جہاں تک پہنچنا اس کے لیے ممکن نظر نہیں اتا تھا وہ مسلسل صلاح الدین ایوبی اور علی بن سفیان کو پکارے جا رہی تھی قریب کہیں ایک گ*** سنتری پر رہا تھا اسے اس کی اوازیں سنائی دیں تو وہ دوڑ کر پہنچا جی کوئی اس پر گر پڑی اور کہا مجھے امیر مصر تک پہنچا دو بہت جلدی بہت جلدی سنتری نے اس کا خون دیکھا تو اسے پیٹھ پر لاد کر دوڑ پڑا صلاح الدین ایوبی اپنے کمرے میں بیٹھا علی بن سفیان سے رپورٹ لے رہا تھا اس کے دو نائب بھی موجود تھے یہ رپورٹنگ کچھ اچھی نہیں تھی علی بن سفیان نے بغاوت کے خدشے کا اظہار کیا تھا جس پر غور ہو رہا تھا دربان گھبراہٹ کے عالم میں اندر ایا اور بتایا کہ ایک سپاہی ایک زخمی لڑکی کو اٹھائے باہر کھڑا ہے اور کہتا ہے کہ یہ لڑکی امیر مصر سے ملنا چاہتی ہے یہ سنتے ہی علی بن سفیان کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح کمرے سے نکل گیا اس کے پیچھے صلاح الدین ایوبی دوڑ پڑے اتنے میں لڑکی کو اندر لے ائے صلاح الدین ایوبی نے کہا طبیب اور جراہ کو فورا بلاؤ لڑکی کو صلاح الدین ایوبی نے اپنے پلنگ پر لٹا دیا ذرا سی دیر میں پلنگ پوش خون سے لال ہونے لگا کسی کو نہ بلاؤ لڑکی نے نہیف اواز میں کہا میں اپنا فرض ادا کر چکی ہوں تمہیں زخمی کس نے کیا ہے جی کوئی علی بن سفیان نے پوچھا پہلے ضروری باتیں سن لو مجھے کوئی نہیں کہا شمال مشرق کی طرف سوار دوڑا دو سوار جاتے نظر ائیں گے دونوں کے چغے بادامی رنگ کے ہیں اکا گھوڑا بادامی اور دوسرے کا سیاہ ہے وہ تاجر لگتے ہیں ان کے پاس سالار ناجی کا تحریری پیغام ہے جو عیسائی بادشاہ فرینک کو بھیجا گیا ہے ناجی کی یہ سوڈانی فوج بغاوت کرے گی مجھے اور کچھ بھی معلوم نہیں تمہاری سلطنت سخت خطرے میں ان دو سواروں کو راستے میں پکڑ لو تفصیل ان کے پاس ہے بولتے بولتے جی گوئی کو غشی انے لگی دو طبیب اگئے انہوں نے اسے کوئی کا خون بند کرنے کی کوششیں شروع کر دیں اس کے منہ میں دوائیاں ڈالی جن کے اثر سے وہ بولنے کے قابل ہو گئی وہ ضروری پیغام دے چکی تھی اس کے بعد اس نے دوسری ساری باتیں سنائی مثلا ناجی نے ادرش کے ساتھ کیا باتیں کی تھیں اسے کس طرح اپنے کمرے میں بیچ دیا گیا تھا ناجی کا غصہ اور بھاگ دوڑ دونوں سواروں کا انا وغیرہ پھر اس نے بتایا کہ اسے کچھ علم نہیں کہ اس پر حملہ کرنے والا کون تھا وہ موقع موضوع دیکھ کر ادھر ہی رپورٹ دینے کے لیے ارہی تھی کہ پیچھے سے کسی نے اسے خنجر گھوم دیا اس نے اپنا خنجر نکال کر حملہ اور پر حملہ کیا حملہ اور کی چیخ بتاتی تھی کہ وہ کوئی عورت ہے اس نے حملے کی جگہ بتائی اسی وقت اسی جگہ ادمی دوڑا دیے گئے جی کوئی نہیں کہا تھا کہ وہ زندہ نہیں ہو سکتی اس کے خنجر اس کے سینے اور پیٹ میں لگے تھے خون رک نہیں رہا تھا زیادہ تر خون تو پہلے ہی بہ گیا تھا کوئی نے صلاح الدین ایوبی کا ہاتھ پکڑا اور چوم کر کہا اللہ اپ کو اور اپ کی سلطنت کو سلامت رکھے اپ شکست نہیں کھا سکتے مجھ سے زیادہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ صلاح الدین ایوبی کا ایمان کتنا پختہ ہے پھر اس نے علی بن سفیان سے کہا میں نے کوتاہی تو نہیں کی اپ نے جو فرض مذشتوں پر تھا وہ میں نے پورا کر دیا ہے تم نے اس سے زیادہ پورا کیا ہے علی بن سفیان نے اسے کہا میرے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ناجی اس حد تک خطرناک کاروائی کرے گا اور تمہیں جان کی قربانی دینی پڑے گی میں نے تمہیں صرف مخبری کے لیے وہاں بھیجا تھا کاش میں مسلمان ہوتی جی کوئی نہیں کہا اس کے انسو نکل ائے اس نے کہا میرے اس کام کا جو بھی معاوضہ دینا ہے وہ میرے اندھے باپ اور سدا بیمار ماں کو دے دینا ان کی معذوریوں نے مجھے 12 سال کی عمر میں رقاصہ بنا دیا تھا زکوئی کا سر ایک طرف ڈھلک گیا انکھیں اد کھلی رہیں اور ہونٹ اسی طرح نیم با جیسے مسکرا رہی ہو طبیب نے نبس پر ہاتھ رکھا اور صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھ کر سر ہلایا زکوئی کی روح اس کے زخمی جسم سے ازاد ہو گئی تھی صلاح الدین ایوبی نے کہا یہ کسی بھی مذہب کی تھی اسے پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے اس نے اسلام کے لیے جان قربان کی ہے یہ ہمیں دھوکہ بھی دے سکتی تھی دربان نے بتایا کہ باہر ایک عورت کی لاش ائی ہے جا کر دیکھا وہ ایک ادھیڑ عمر کی عورت تھی جائے وہ قوت سے دو خنجر ملے تھے اس عورت کو کوئی نہیں پہچانتا تھا یہ ناجی کے حرم کی ملازمہ تھی جس نے انعام کے لالچ میں ا کر یہ کوئی پر قاتلانہ حملہ کیا تھا رات کو ہی زکوئی کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کر دیا گیا اور ملازمہ کی لاش گڑا کھود کر دفنا دی گئی دونوں کو خفیہ طریقے سے دفنایا گیا انہیں جب دفنایا جا رہا تھا صلاح الدین ایوبی نے نہایت اعلی نسل کے اٹھ جوان گھوڑے منگوائے اور اٹھ سوار منتخب کر کے انہیں علی بن سفیان کی کمان میں ناجی کے ان ادمیوں کے پیچھے دوڑا دیا جو ناجی کا پیغام لے کے جا رہے تھے زکوئی کون تھی وہ مراکش کی ایک رکاسہ تھی کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اس کا مذہب کیا تھا وہ مسلمان نہیں تھی عیسائی بھی نہیں تھی جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ علی بن سفیان صلاح الدین ایوبی کی انٹیلیجنس یعنی جاسوسی اور سراغ رسانی کا سربراہ تھا اسے دوسروں کے راز معلوم کرنے کے لیے کئی ڈھنگ اختیار کرنا پڑتے تھے صلاح الدین ایوبی اسے اپنے ساتھ مصر لایا تھا یہاں ا کر معلوم ہوا کہ سوڈانی فوج کا سالار ناجی سازشی اور شیطان ہے اس کے اندرون خانہ حالات معلوم کرنے کے لیے علی بن سفیان نے جاسوسوں کا جال بچھا دیا تھا اسے راز کی ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ ناجی حسن بن
ENGLISH
Even her clothes had turned red and she was dragging her feet with great difficulty. Her destination was a short distance away where it did not seem possible for her to reach. Somewhere nearby, there was a g*** living on an orange tree. When he heard his voice, he ran to him. Someone fell on him and said, "Take me to Amir Misr very quickly, very quickly. The orange tree saw his blood, so he Salah al-Din Ayyubi was sitting in his room taking a report from Ali bin Sufyan. Two of his deputies were also present. The reporting was not good. Ali bin Sufyan had expressed his fear of rebellion, which was being considered The porter entered in panic and told that a soldier was standing outside carrying a wounded girl and said that this girl wanted to meet the Emir of Egypt. On hearing this, Ali bin Sufyan left the room like an arrow from a bow. Salahuddin Ayyubi ran after him and brought the girl inside. Salahuddin Ayyubi said call the doctor and the surgeon immediately. Salahuddin Ayyubi laid the girl on his bed. "Don't call me," the girl said in a low voice, "I have done my duty. Who injured you?" Ali bin Sufyan asked. His horses are almond-colored, one horse is almond and the other is black. They look like traders. They have a written message from Salar Naji, which has been sent to the Christian King Frank. The empire is in grave danger, catch these two riders on the way. They have the details. As they were talking, Ji Goi began to faint. Two doctors came and started trying to stop his blood. After she was able to speak, she had given the necessary message, after that she told all the other things, like what Naji had talked to Idarsh, how he had been sold in his room, Naji's anger and running away, both the riders. Anna etc. Then she said that she had no idea who was the one who attacked her, she saw the matter and came here to report that someone stabbed her with a dagger from behind, she took out her dagger and attacked her. She was attacked and her screams indicated that she was a woman. She told the place of the attack. At the same time, people rushed to that place. No one said that she could not be alive. Her daggers were stuck in her chest and stomach. The blood was not stopping, most of the blood had already flowed. Someone took Salahuddin Ayyubi's hand and kissed it and said, "May Allah protect you and your kingdom. You cannot be defeated. No one can tell you more than me that Salah." How strong is the faith of al-Din Ayyubi, then he said to Ali bin Sufyan, I have not failed you, I have fulfilled the duty that you had on the Muslims, you have fulfilled more than that, Ali bin Sufyan said to him, So I had no illusion that Naji would do such a dangerous act and you would have to sacrifice your life. I only sent you there to inform. I wish I was a Muslim. He said, "Whatever compensation I have for this work is to be given to my blind father and chronically ill mother. Their disabilities made me a dancer at the age of 12." Nimba was smiling as the doctor put his hand on the nibs and looked at Salahuddin Ayyubi and shook his head. Zakui's soul was freed from his wounded body. Salahuddin Ayyubi said it belonged to any religion with full honor She should be buried. She sacrificed her life for Islam. She could have deceived us. No one recognized him. It was the servant of Naji's harem who, lured by the reward, had made a murderous attack on him. At night, Zakui was buried with military honors and the servant's body was dug up and buried. Both of them were buried secretly. While they were being buried, Salah al-Din Ayyubi sent for eight young horses of the highest breed and selected eight horsemen and led them under the command of Ali bin Sufyan to run after Naji's men who had sent Naji's message. Who was Zakui who was being taken away? She was a rascal from Morocco. No one knows what her religion was. She was not a Muslim. She was not even a Christian. And he was the head of intelligence, he had to adopt many ways to find out the secrets of others. To do this, Ali bin Sufyan had laid a trap of spies. He found out that Naji Hasan bine speed started to slow down and he started shouting
ایسے مسکرا رہی ہو طبیب نے نبس پر ہاتھ رکھا اور صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھ کر سر ہلایا جی کوئی کی روح اس کے زخمی جسم سے ازاد ہو گئی تھی صلاح الدین ایوبی نے کہا یہ کسی بھی مذہب کی تھی اسے پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے اس نے اسلام کے لیے جان قربان کی ہے یہ ہمیں دھوکہ بھی دے سکتی تھی دربان نے بتایا کہ باہر ایک عورت کی لاش ائی ہے جا کر دیکھا وہ ایک ادھیڑ عمر کی عورت تھی جائے وقوت سے دو خنجر ملے تھے اس عورت کو کوئی نہیں پہچانتا تھا یہ ناجی کے حرم کی ملازمہ تھی جس نے انعام کے لالچ میں ا کر یہ کوئی پر قاتلانہ حملہ کیا تھا رات کو ہی زکوئی کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کر دیا گیا اور ملازمہ کی لاش گڑا کھود کر دفنا دی گئی دونوں کو خفیہ طریقے سے دفنایا گیا انہیں جب دفنایا جا رہا تھا صلاح الدین ایوبی نے نہایت اعلی نسل کے اٹھ جوان گھوڑے منگوائے اور اٹھ سوار منتخب کر کے انہیں علی بن سفیان کی کمان میں ناجی کے ان ادمیوں کے پیچھے دوڑا دیا جو ناجی کا پیغام لے کے جا رہے تھے زکوئی کون تھی وہ مراکش کی ایک رقا سا تھی کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اس کا مذہب کیا تھا وہ مسلمان نہیں تھی عیسائی بھی نہیں تھی جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ علی بن سفیان صلاح الدین ایوبی کی انٹیلیجنس یعنی جاسوسی اور سراغ رسانی کا سربراہ تھا اسے دوسروں کے راز معلوم کرنے کے لیے کئی ڈھنگ اختیار کرنا پڑتے تھے صلاح الدین ایوبی اسے اپنے ساتھ مصر لایا تھا یہاں ا کر معلوم ہوا کہ سوڈانی فوج کا سالار ناجی سازشی اور شیطان ہے اس کے اندرون خانہ حالات معلوم کرنے کے لیے علی بن سفیان نے جاسوسوں کا جال بچھا دیا تھا اسے راز کی ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ ناجی حسن بن صباح کے فدائیوں کی طرح مخالفین کو حسین لڑکیوں اور حشیش سے پھانسی اپنا گرویدہ بناتا یا مروا دیتا تھا علی بن سفیان نے تلاش بسیار کے بعد کسی کی وساطت سے یہ کوئی کو مراکش سے حاصل کیا اور خود ہی بردہ فروش کا بہروپ دھار کر اسے ناجی کے ہاتھ بیچ دیا اس لڑکی میں ایسا جادو تھا کہ ناجی اسے صلاح الدین ایوبی کو پھانسنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا مگر خود ہی اس لڑکی کے دام میں پھنس گیا پھنسا بھی ایسا کہ اس کے سامنے وہ اپنے نائب سالار کے ساتھ راز کی باتیں کرتا رہا اس نے جیگوئی کو جشن کی رات صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں بھی بھیج دیا اور اپنی اس فتح پر بے حد مسرور تھا کہ صلاح الدین ایوبی کا اس نے بت توڑ دیا ہے اب وہ اسی لڑکی کے ہاتھوں اسے شراب بھی پلا سکے گا اور پھر اسے اپنا مرید بنا لے گا مگر اس کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ ہو سکا کہ جی کوئی صلاح الدین ایوبی ہی کی جاسوسا تھی وہ اسے خیمے میں رپورٹنگ دیتی رہی اور صلاح الدین ایوبی سے ہدایات لیتی رہی تھی اس کے خیمے سے نکل کر زکوئی دوسری طرف چلی گئی تھی جہاں اسے منہ سر لپیٹے ایک ادمی ملا تھا وہ ادمی علی بن سفیان تھا جس نے اسے کچھ اور ہدایات دی تھی اس کے بعد اسے کوئی ناجی کے گھر سے باہر نہ نکل سکی اس لیے وہ علی بن سفیان کو کوئی رپورٹ نہ دے سکی اخر اسے موقع مل گیا اور وہ ایسی خبر لے کر وہاں سے نکلی جو خدا کے سوا کسی اور کو معلوم نہ تھی یہ ذکوئی کی بد نصیبی تھی کہ حرم میں اس کے خلاف اس لیے سازش ہو رہی تھی کہ اس نے ناجی پر قبضہ کر لیا ہے یہ سازش کامیاب ہو گئی اور کوئی قتل ہو گئی لیکن وہ اطلاع پہنچانے تک زندہ رہی اس کے مرنے سے کچھ عرصہ بعد وہ معاوضہ جو علی بن سفیان نے اس کے ساتھ طے کیا تھا صلاح الدین ایوبی کی طرف سے انعام اور وہ رقم جو علی بن سفیان نے ناجی سے برتا فروش کے بحث میں زکوئی کی قیمت کے طور پر وصول کی تھی مراکش میں سے کوئی کے معذور والدین کو ادا کر دی گئی موت کی اس رات کے ستارے ٹوٹ گئے اور صبح طلوع ہوئی تو علی بن سفیان اٹھ سواروں کے ساتھ انتہائی رفتار سے شمال مشرق کی طرف جا رہا تھا ابادیاں دور پیچھے رہ گئی تھیں اسے معلوم تھا کہ فرینک کے ہیڈ کوارٹر تک پہنچنے کا راستہ کون سا ہے رات انہوں نے گھوڑوں کو تھوڑی دیر ارام دیا تھا یہ عربی گھوڑے تھکے ہوئے بھی تازہ دم لگتے تھے دور افق پر کھجور کے چند ایک درختوں میں علی کو دو گھوڑے جاتے نظر ائے اس نے اپنی پارٹی کو راستہ بدلنے اور اوٹ میں ہونے کے لیے کیلوں کے ساتھ ساتھ ہو جانے کو کہا وہ صحرا کا رازدان تھا بھٹکنے کا اندیشہ نہ تھا اس نے رفتار اور تیز کر دی اگلے دو سواروں اور ان کی پارٹی میں کم و بیش چار میل کا فاصلہ تھا یہ فاصلہ طے ہو گیا مگر گھوڑے تھک گئے اور جب کھجوروں کے درختوں تک پہنچے تو دو سوار دو میل دور کی ایک پہاڑی کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے ان کے گھوڑے بھی شاید تھک گئے تھے دونوں سوار اترے اور نظروں سے اوجل ہو گئے وہ پہاڑوں کی اوٹ میں بیٹھ گئے ہیں علی بن سفیان نے کہا اور راستہ بدل دیا فاصلہ کم ہوتا گیا اور جب فاصلہ چند سو گز رہ گیا تو دونوں سوار اوٹ سے سامنے ائے انہوں نے گھوڑوں کے سرپٹ دوڑنے کا شور سن لیا تھا وہ توڑ کر غائب ہو گئے علی بن سفیان نے گھوڑے کو ایڑ لگائی تھکے ہوئے گھوڑے نے وفاداری کا ثبوت دیا اور رفتار تیز کر دی باقی گھوڑے بھی تیز ہو گئے پہاڑی کے اندر گئے تو دونوں سوار وہاں سے جا چکے تھے مگر دور نہیں گئے تھے وہ شاید گھبرا بھی گئے تھے اگے ریتری چٹانیں تھیں انہیں راستہ نہیں مل رہا تھا کبھی دائیں جانتے تو کبھی بائیں
ENGLISH
Smiling like this, the doctor put his hand on the nibs and looked at Salahuddin Ayyubi and shook his head. She has sacrificed her life for Islam. She could have deceived us. The gatekeeper said that there was a dead body of a woman outside. She was a middle-aged woman. He did not know that it was the servant of Naji's harem who, being lured by the reward, had made a murderous attack on this person. At night, Zakui was buried with military honors and the maid's body was dug up and buried. He was buried in a secret way. While he was being buried, Salah al-Din Ayyubi sent for eight young horses of a very high breed and selected eight riders and sent them under the command of Ali bin Sufyan to run after the men of Naji who carried the message of Naji. Who was Zakui? She was from Raqqa, Morocco. No one knows what her religion was. She was not a Muslim. She was not even a Christian. Salah al-Din Ayyubi brought him to Egypt with him, and here he found out that the leader of the Sudanese army, Naji, is a conspirator and a devil. Ali bin Sufyan had laid a trap of spies for him. He found out one thing of the secret that Naji Hassan bin Sabah used to hang his opponents with beautiful girls and hashish to make them hostages or kill them. After that, through someone's mediation, someone got it from Morocco and sold her to Naji by pretending to be a slave seller. This girl was so magical that Naji wanted to use her to trap Salah al-Din Ayubi, but he himself He was trapped in the trap of this girl, so trapped that in front of her, he kept talking secrets with his vice-salar. He also sent Jigoi to the tent of Salahuddin Ayubi on the night of the celebration and was extremely happy with his victory. It was said that he has broken the idol of Salahuddin Ayyubi, now he will be able to give him wine at the hands of this girl and then he will make her his mureed, but even his angels could not know that there is no Salahuddin Ayyubi. As a spy, she kept reporting to him in the tent and taking instructions from Salah al-Din Ayyubi, leaving his tent, Zakui went to the other side, where he found a man with his face wrapped, that man was Ali bin Sufyan, who told him something else. After giving the instructions, no one could leave Naji's house, so she could not give any report to Ali bin Sufyan. No, it was the bad luck of Zakui that there was a conspiracy against him in the harem because he had captured Naji. Some time later the compensation which Ali ibn Sufyan had settled with him was the reward from Salah al-Din Ayyubi and the money that Ali ibn Sufyan had received from Naji as the price of the zakuy in the discussion of Burta Furosh from Morocco. The stars of that night of death paid to the disabled parents of Kui broke, and when the morning dawned, Ali bin Sufyan was riding north-east with eight horsemen at great speed. The Abadians were left far behind. What is the way to reach the headquarters of the night, they had given the horses a little rest, these Arabian horses looked fresh even though they were tired. told him to change course and get along with the nails in order to be in Oat. He was the secret of the desert, not afraid of going astray. This distance was covered but the horses got tired and when they reached the palm trees two riders were going along a hill two miles away. Ali bin Sufyan said, "Have you sat down in the camel?" and changed the way, the distance was getting shorter and when the distance was few hundred yards, the two riders came in front of the camel. Ali bin Sufyan went and saddled the horse. The tired horse showed loyalty and accelerated. The rest of the horses also sped up and went inside the hill. The two riders had left there but did not go far. They might have been scared. There were rocky cliffs ahead, they could not find their way, sometimes they knew the right and sometimes the left

No comments:
Post a Comment