The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 6
اندازہ کھولا علی بن سفیان کھڑا تھا اس کے پیچھے اس کے اٹھ سوار اور دو قیدی کھڑے تھے علی اور قیدیوں کو صلاح الدین ایوبی نے سونے کے کمرے میں ہی بلا لیا اور علی سے ناجی کا پیغام لے کر پڑھنے لگا پہلے تو ان کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا پھر جیسے یک لخت خون جوش مار کر ان کے چہرے اور انکھوں میں چڑھ گیا ہو نا جی کا پیغام خاصہ طویل تھا اس نے لکھا تھا کہ فلاں دن اور فلاں رات یونانیوں رومیوں اور دیگر صلیبیوں کی بحریہ سے بہرہ روم کی طرف سے مصر میں فوجیں اتار کر حملہ کر دے حملے کی اطلاع ملتے ہی 50 ہزار سوڈانی فوج امیر مصر کے خلاف بغاوت کر دے گی مصر کی نئی فوج حملے اور بغاوت کا بیک وقت مقابلہ کرنے کے قابل نہیں اس کے عوض ناجی نے تمام تر مصر یا مصر کے بڑے حصے کی حکمرانی کی شرط پیش کی تھی صلاح الدین ایوبی نے پیغام لے جانے والے دونوں سواروں کو تہ خانے کی قید میں ڈال دیا اور اسی وقت اپنی نئی فوج کا دستہ بھیج کر ناچی اور اس کے تین نائبین کو ان کے مکانوں میں نظر بند کر کے پہرہ لگا دیا ناجی کے حرم کی تمام کی تمام عورتیں ازاد کر دی گئی اس کے ذاتی خزانے کو سرکاری خزانے میں ڈال دیا گیا اور ساری کارروائی خفیہ رکھی گئی صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کی مدد سے ناجی کے اس خط میں جو پکڑ لیا گیا تھا حملے کی تاریخ کو مٹا کر اگلی تاریخ لکھ دی دو ذہین ادمیوں کو یہ پیغام دے کر شاہ فرینک کی طرف روانہ کر دیا گیا ان ادمیوں کو یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ ناجی کے پیامبر ہیں انہیں روانہ کر کے اس سوڈانی فوج کو مصری فوج میں مدغم کرنے کا حکم روک لیا اٹھویں روز پیامبر واپس اگئے وہ ناجی کا پیغام دے ائے تھے اور فرینک کا جواب یعنی ناجی کے نام لے ائے تھے فرینک نے لکھا تھا کہ حملے کی تاریخ سے دو دن پہلے سوڈانی فوج بغاوت کر دے تاکہ صلاح الدین ایوبی کو صلیبیوں کا حملہ روکنے کی ہوشی نہ رہے علی بن سفیان نے صلاح الدین ایوبی کی اجازت سے ان دو پیامبروں کو نظر بند کر دیا یہ باعزت نظربندی تھی جس میں ان دونوں ادمیوں کے ارام اور بہترین خوراک وغیرہ کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا یہ ایک احتیاطی تد
ENGLISH
Ali Bin Sufyan was standing behind him, his eight riders and two prisoners were standing. The color turned yellow, then as if a single blood rose to his face and eyes with excitement. Naji's message was very long. 50,000 Sudanese troops will revolt against the Emir of Egypt as soon as the attack is reported, the new army of Egypt is not able to fight the invasion and rebellion at the same time. Salah al-Din Ayyubi, who had offered to rule over the greater part of Egypt, imprisoned the two horsemen carrying the message in a cellar, and at the same time sent a contingent of his new army to arrest Nachi and his three deputies in their homes. All the women of Naji's harem were detained and guarded. All the women of Naji's harem were freed. His personal treasure was put in the public treasury and the whole process was kept secret. I, who was captured, erased the date of the attack and wrote the next date. Two intelligent men were sent to King Frank with this message. The order to integrate the Sudanese army into the Egyptian army was stopped. On the eighth day, the Prophet returned. He had given Naji's message and brought Frank's answer, that is, Naji's name. Frank had written that two days before the date of the attack, the Sudanese army rebelled. so that Salahuddin Ayyubi would not have the sense to stop the attack of the crusaders. Ali bin Sufyan detained these two prophets with the permission of Salahuddin Ayyubi. It was arranged as a precautionary measure
یہ باعزت نظربندی تھی جس میں ان دونوں ادمیوں کے ارام اور بہترین خوراک وغیرہ کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا یہ ایک احتیاطی تدبیر تھی تاکہ یہ راز فاش نہ ہو جائے صلاح الدین ایوبی نے بحرہ روم کے ساحل پر ان مقامات پر اپنی فوج کو چھپا دیا جہاں صلیبیوں کی بحریہ کو لنگر انداز ہونا اور فوجیں اتارنا تھی انہوں نے ان مقامات سے دور اپنی بحریہ بھی چھپا دی حملے میں ابھی کچھ دن باقی تھے ایک مورخ سراج الدین نے لکھا ہے کہ سوڈانی فوج نے صلیبیوں کے حملے سے پہلے ہی بغاوت کر دی جو صلاح الدین ایوبی نے طاقت سے نہیں بلکہ ڈپلومیسی اور حسن سلوک سے دبا لی بغاوت کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ باغیوں کو اپنا سالار ناجی کہیں نظر نہیں ارہا تھا اور اس کا کوئی نائب بھی سامنے نہ ایا وہ سب قید میں تھے مگر ایک اور معرف ہتھیاچی لکھتا ہے کہ سوڈانی فوج نے حملے کے بہت بعد بغاوت کی تھی تاہم یہ دونوں مرخ باقی واقعات پر متفق نظر اتے ہیں دونوں نے لکھا ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے ناجی اور اس کے نائبین کو قید میں سزائے موت دے کر رات کے وقت گمنام قبروں میں دفن کرا دیا تھا ان دونوں مورخوں اور تیسرے مرخ لین پول نے بھی صلیبیوں کی بحریہ کے اعداد و شمار ایک جیسے ہی لکھے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ خط میں دی ہوئی تاریخ کے عین مطابق صلیبیوں کی بحریہ جس میں فرینک کی یونان رومیوں اور سسلی کی بحریہ شامل تھی متحدہ کمان میں بحرہ روم میں نمودار ہوئی مرخوں کے اعداد و شمار کے مطابق جنگی جہازوں کی تعداد 150 تھی اس کے علاوہ 12 جنگی جہاز بہت بڑے تھے ان میں مصر میں اتارنے کے لیے فوج تھی اس فوج کا صلیبی کمانڈر ایڈریک تھا جن بدبانی کشتیوں میں رسد تھی ان کی تعداد کا صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکا جہاز دو قطاروں میں ا رہے تھے صلاح الدین ایوبی نے دفاع کی کمان اپنے پاس رکھی اس نے صلیبیوں کی بحریہ کو ساحل کے قریب انے دیا سب سے پہلے بڑے جہاز لنگر انداز ہوئے اچانک ان پر اگ برسنے لگی یہ بنجنےخوں سے پھینکی ہوئی مشلیں تھیں اور اگ کے گولے اور ایسے تیر بھی تھے جن کے پچھلے حصے جلتی ہوئی مشلوں کی مانند تھے مسلمانوں کی برسائی ہوئی اس اگ نے جہازوں اور کشتیوں کے بعد بانوں کو اگ لگا دی جہاز لکڑی کے بنے ہوئے تھے فورا جل اٹھے ادھر سے مسلمانوں کے چھپے ہوئے جہاز اگئے انہوں نے بھی اگ ہی برسائی یوں معلوم ہوتا تھا جیسے بہرہ روم جل رہا ہو سلیبیوں کے جہاز رخ موڑ کر ایک دوسرے سے ٹکرانے اور ایک دوسرے کو جگانے لگے ان میں سے صلیبی فوج سمندر میں کود گئی ان میں جو سپاہی ساحل کی طرف ائے وہ سلطان ایوبی کے تیر اندازوں کا نشانہ بنے ادھر نور الدین زنگی نے شاہ فرینک کی سلطنت پر حملہ کر دیا فرینک نے اپنی فوج کو مصر میں داخل کرنے کے لیے خشکی کے راستے روانہ کیا تھا فرینک سلیبیوں کی بحریہ کے ساتھ تھا اسے اپنے ملک پر حملے کی اطلاع ملی تو بڑی مشکل سے جان بچا کر اپنے ملک میں پہنچا مگر وہاں کی دنیا ہی بدل گئی تھی بحر روم میں صلیبیوں کا متحدہ بیڑا نظر اتش ہو گیا اور فوج جلد اور ڈوب کر ختم ہو گئی صلیبیوں کا ایک کمانڈر ایمرک بچ گیا اس نے ہتھیار ڈال کر صلح کی درخواست کی جو بہت بڑی رقم کے عوض منظور کر لی گئی یونانیوں اور سسلی والوں کے کچھ جہاز بچ گئے تھے صلاح الدین ایوبی نے انہیں اپنے جہاز واپس لے جانے کی اجازت دے دی مگر راستے میں ایسا طوفان ایا کہ تمام تر بچے کچھ جہاز غرق ہو گئے 19 دسمبر 1169 کے روز صلیبیوں نے اپنی شکست پر دستخط کیے اور صلاح الدین ایوبی کو تاوانہ ادا کیا بیشتر مرخین اور ماہرین حرب و ضرب نے صلاح الدین ایوبی کی اس فتح کا سہرا اس کی انٹیلیجنس سروس کے سربانہ ہے رقاصہ زکوئی کا ذکر اس دور کے ایک مراکشی واقعہ نگار اسد الاسدی نے کیا ہے اور علی بن سفیان کا تعارف بھی اسی وقائے نگار کی تحریر سے ہوا ہے خیر یہ تو ابتدا تھی صلاح الدین ایوبی کی زندگی پہلے سے زیادہ خطروں میں گر گئی صلیبیوں کے بحری بیڑے اور افواج کو بحرہ روم میں غرق کر کے صلاح الدین ایوبی ابھی مصر کے ساحلی علاقے میں ہی موجود تھے سات دن گزر گئے تھے صلیبیوں سے تاوان وصول کیا جا چکا تھا مگر بہرہ روم ابھی تک بچے کچے بحری جہازوں کو اور کشتیوں کو نگل اور انسانوں کو اگل رہا تھا صلیبی ملا اور سپاہ جلتے جہازوں سے سمندر میں کود گئی تھی دور سمندر کے وسط میں سات روز بعد بھی چند ایک جہازوں کے بعد بان پھڑپھڑاتے نظر اتے تھے ان میں کوئی انسان نہیں تھا پھٹے ہوئے باتبانوں نے جہازوں کو سمندر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا صلاح الدین ایوبی نے ان کی تلاشی کے لیے کشتیاں روانہ کر دی تھیں اور ہدایات دی تھیں کہ اگر کوئی جہاز یا کشتی کام کی ہو تو وہ رسوں سے گھسیٹ لائیں اور جو اس قابل نہ ہو ان میں سے سامان اور کام کی دیگر چیزیں نکالنا ہے کشتیاں چلی گئی تھیں اور جہازوں سے سامان لایا جا رہا تھا ان میں زیادہ تر اسلحہ اور کھانے پینے کا سامان تھا یا لاشیں سمندر میں لاشوں کا یہ عالم تھا کہ لہریں انہیں اٹھا اٹھا کر ساحل پر پٹخ رہی تھیں ان میں کچھ تو جلی ہوئی تھیں اور کچھ مچھلیوں کی کھائی ہوئی بہت سی ایسی تھیں جن میں تیر پیو
ENGLISH
It was a dignified detention in which special arrangements were made for these two men's peace and the best food etc. This was a precautionary measure so that the secret would not be revealed. Where the crusader fleet was supposed to anchor and disembark troops, they also hid their fleet away from these places. There were still a few days left for the attack. A historian, Sirajuddin, wrote that the Sudanese army rebelled before the crusader attack. One of the reasons for the failure of the revolt, which was suppressed by Salahuddin Ayyubi not by force but by diplomacy and kindness, was that the rebels could not see their leader, Naji, and none of his deputies came forward, they were all in prison. But another scholar, Hathiachi, writes that the Sudanese army rebelled long after the attack, but both of them seem to agree on the rest of the events. He was buried in anonymous graves at night. These two historians and the third Marquis Lane Poole have also written the same figures of the Crusader fleet. They write that according to the date given in the letter, the Crusader fleet in which Frank The navy of Greece, Romans and Sicily was included in the united command that appeared in the Mediterranean Sea. The Crusader commander was Adric. The number of ships carrying supplies could not be accurately estimated. The ships were coming in two lines. Before the big ships anchored, suddenly fire started raining on them. These were missiles thrown from the banjanekhs, and there were also fireballs and arrows whose backs were like burning missiles. This fire was rained by the Muslims. Then the ships were set on fire, the ships were made of wood, immediately caught fire, the hidden ships of the Muslims came from here, they also rained fire. They began to wake each other up, the crusaders jumped into the sea, among them the soldiers who went to the shore were the targets of Sultan Ayubi's archers, while Nur al-Din Zangi attacked the kingdom of King Frank, Frank sent his army to Egypt. I had set off by land to enter. Frank was with the Sylbian fleet. He was informed of an attack on his country, so he reached his country with great difficulty, but the world there had changed. Crusaders in the Mediterranean The united fleet was lost and the army was quickly drowned. One of the Crusaders' commanders, Americus, survived. Salah al-Din Ayyubi allowed them to take their ships back, but on the way there was such a storm that all the children were shipwrecked. Most historians and strategists attribute Salah al-Din Ayyubi's victory to his intelligence service. Raqsa Zakui is mentioned by Asad al-Asadi, a Moroccan chronicler of that period, and Ali bin Sufyan was also introduced by the same chronicler. This was the beginning. Salah al-Din Ayyubi's life fell into more danger than before. By drowning the Crusaders' fleet and forces in the Mediterranean Sea, Salah al-Din Ayyubi was still in the coastal region of Egypt. Seven days passed. A ransom had been received from the Crusaders, but the sea was still swallowing up the ships and boats and spitting out the people. After a few ships, the sails were seen fluttering, there was no human in them. The torn sails had left the ships at the mercy of the sea. Salahuddin Ayubi had sent boats to search for them and gave instructions that If any ships or boats are useful, they should be dragged by the ropes and those who are not able to do so, the goods and other things of work should be removed from them. It was a sign of bodies in the sea that the waves were lifting and smashing them on the shore, some of them were burnt and some of them were eaten by fish.
ان بھوکے پیاسے تھکے اور ہارے ہوئے لوگوں کو لہریں جہاں کہیں ساحل پر لا پھینکتی وہ وہیں نڈھال ہو کر گر پڑتے اور مسلمان انہیں پکڑ لاتے تھے ساحل کی میلوں لمبائی میں یہی عالم تھا سلطان ایوبی نے اپنی سپاہ کو مصر کے سارے ساحل پر پھیلا دیا اور انتظام کیا تھا کہ جہاں بھی کوئی قیدی سمندر سے نکلے اسے وہیں خوش کپڑے اور خوراک دی جائے اور جو زخمی ہوں ان کی مرہم پٹی بھی وہیں ہو جائے اس اہتمام کے بعد قیدیوں کو ایک جگہ جمع کیا جا رہا تھا صلاح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار ساحلی علاقے میں گھوم پھر رہے تھے وہ اپنے خیمے سے کوئی دو میل دور نکل گئے اگے چٹانی علاقہ اگیا چٹانوں کی ایک سمت سمندر اور عقب میں صحرا تھا یہ سرسب صحرا تھا جہاں کھجور کے علاوہ دوسرے اقسام کے صحرائی درخت اور جھاڑیاں تھی سلطان ایوبی گھوڑے سے اترے اور پیدل چٹانوں کے دامن میں چل پڑے محافظ دستے کے چار سوار ان کے ساتھ تھے انہوں نے اپنا گھوڑا محافظوں کے حوالے کیا اور انہیں وہیں ٹھہرنے کو کہا ان کے ساتھ تین سالار تھے ان میں ان کا رفیق خاص بہاؤدین شداد بھی تھا وہ اس معرکے سے ایک ہی روز پہلے عرب سے ان کے پاس ایا تھا انہوں نے بھی گھوڑے محافظوں کے حوالے کیے اور سلطان کے ساتھ ساتھ چلنے لگے موسم سر تھا سمندر میں تالا تم نہیں تھا لہریں اتی تھیں اور چٹانوں سے دور ہی واپس چلی جاتی تھی ایوبی ٹہلتے ٹہلتے دور نکل گئے اور محافظ دستے کی نظروں سے اوجل ہو گئے ان کے اگے پیچھے اور بائیں طرف اونچی نیچی چٹانے اور دائیں طرف ساحل کی ریت تھی وہ ایک چٹان پر کھڑے ہو گئے جس کی بلندی دو اڑھائی کھستی انہوں نے بحر روم کی طرف دیکھا یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سمندر کی نیلاہٹ سلطان ایوبی کی انکھوں میں اتر ائی ہو ان کے چہرے پر فتح و نصرت کی مسرت تھی اور ان کی گردن کچھ زیادہ ہی تنگ گئی تھی انہوں نے ناک سکیڑ کر کپڑا ناک پر رکھ لیا اور بولے کس قدر تعفن ہے ان کی اور سالاروں کی نظریں ساحل پر گھومنے لگی پھڑپھڑانے کی اوازیں سنائی دی پھر ہلکی ہلکی چیخیں اور سیٹیاں سی سنائی دی اوپر سے تین چار گد پر پھیلائے اترتے دکھائی دیے اور چٹان کی اوٹ میں جدھر ساحل تھا اتر گئے صلاح الدین ایوبی نے کہا لاشیں ہیں ادھر گئے تو 15 20 گز دور گد تین لاشوں کو کھا رہے تھے ایک گرد ایک کھوپڑی پنجوں میں دبوچ کر اڑا اور جب فضا میں چکر کاٹا تو کھوپڑی اس کے پنجوں سے چھوٹ گئی اور صلاح الدین ایوبی کے سامنے ان گری کھوپڑی کی انکھیں کھلی ہوئی تھیں جیسے صلاح الدین ایوبی کو دیکھ رہی ہوں چہرے اور بالوں سے صاف پتہ چلتا تھا کہ کسی صلیبی کی کھوپڑی ہے ایوبی کچھ دیر کھوپڑی کو دیکھتے رہے پھر انہوں نے اپنے سالاروں کی طرف دیکھا اور کہا ان لوگوں کی کھوپڑیاں مسلمانوں کی کھوپڑیوں سے بہتر ہے یہ ان کھوپڑیوں کا کمال ہے کہ ہمارے خلافت عورت اور شراب کی عادی ہوتی جا رہی ہے صلیبی چوہوں کی طرح سلطنت اسلامیہ کو ہڑپ کرتے چلے جا رہے ہیں ایک سالار نے کہا اور ہمارے بادشاہ انہیں جزیہ دے رہے ہیں شداد نے کہا فلسطین پر صلیبی قابض ہیں سلطان کیا ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ ہم فلسطین سے انہیں نکال سکیں گے خدا کی ذات سے مایوس نہ ہو شداد صلاح الدین ایوبی نے کہا ہم اپنے بھائیوں کی ذات سے مایوس ہو چکے ہیں ایک اور سالار بولا تم ٹھیک کہتے ہو صلاح الدین ایوبی نے کہا حملہ جو باہر سے ہوتا ہے اسے ہم روک سکتے ہیں کیا تم میں سے کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ کفار کے اتنے بڑے بحری بیڑے تم اتنی تھوڑی طاقت سے نظر اتش کر کے ڈبوسکو گے یا تم نے شاید اندازہ نہیں کیا کہ اس بیڑے میں جو لشکر ا رہا تھا وہ سارے مصر پر مکھیوں کی طرح چھا جاتے اللہ نے ہمیں ہمت دی اور ہم نے کھلے میدان میں نہیں بلکہ صرف گھات لگا کر اس لشکر کو سمندر کی تہ میں گم کر دیا مگر میرے دوستو حملہ جو اندر سے ہوتا ہے اسے تم اسانی سے نہیں روک سکتے جب تمہارا اپنا بھائی تم پر وار کرے گا تو تم پہلے یہ سوچو گے کہ کیا تم پر واقعی بھائی نے وار کیا ہے تمہارے بازو میں اس کے خلاف تلوار اٹھانے کی طاقت نہیں ہوگی اگر تلوار اٹھاؤ گے اور اپنے بھائی سے تیغ ازمائی کرو گے تو دشمن موقع غنیمت جان کر دونوں کو ختم کر دے گا وہ اہستہ اہستہ ساحل پر چٹان کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے چلتے چلتے رک گئے جھک کر ریت سے کچھ اٹھایا اور ہتھیلی پر رکھ کر سب کو دکھایا یہ ہتھیلی جتنی بڑی صلیب تھی جو سیاہ لکڑی کی بنی ہوئی تھی اس کے ساتھ ایک مضبوط دھاگا تھا انہوں نے ان لاشوں کے بکھرے ہوئے اعضاء کو دیکھا جنہیں گرد کھا رہے تھے پھر کھوپڑی کو دیکھا جو گد کے پنجوں سے ان کے سامنے گری تھی وہ تیز تیز قدم اٹھاتے کھوپڑی تک گئے تین گیند کھوپڑی کی ملکیت پر لڑ رہے تھے صلاح الدین ایوبی کو دیکھ کر پرے چلے گئے صلاح الدین ایوبی نے صلیب کھوپڑی پر رکھ دی اور دوڑ کر اپنے سالاروں سے جا ملے کہنے لگے میں نے صلیبیوں کے قیدی افسر سے باتیں کی تھیں اس کے گلے میں بھی سلیب تھی اس نے بتایا کہ صلیبی لشکر میں جو بھرتی ہوتا ہے اس سے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا جاتا ہے کہ وہ صلیب کے نام پر جان کی بازی لگا کر لڑے گا اور وہ
ENGLISH
Wherever the waves threw these hungry, thirsty, tired and defeated people to the shore, they would fall down there and the Muslims would capture them. This was the knowledge along the miles of the coast. Sultan Ayubi spread his army along the entire coast of Egypt. And it was arranged that wherever a prisoner came out of the sea, he should be given good clothes and food, and those who were wounded should be bandaged there. The horsemen were traveling along the coast. They went about two miles from their tent. In front of them there was a rocky area. On one side of the rocks was the sea and on the back was the desert. He dismounted from his horse and walked to the foot of the rocks. Four horsemen of the guards were with him. He had come to them from Arabia the day before this battle. They also handed over their horses to the guards and started walking with the Sultan. The Ayubes went away at a walk and disappeared from the sight of the guards. Before them, behind and on the left, there were high and low rocks and on the right the sand of the beach. They stood on a rock two and a half feet high. looked at, it seemed as if the blueness of the sea had descended on Sultan Ayubi's eyes, his face was full of victory and victory and his neck was a little narrower, he pinched his nose and put the cloth on his nose He said, "How stinking is it?" Their eyes and those of the Salars began to wander on the shore, and heard the sound of fluttering, then they heard a faint scream and a whistle. Al-Din Ayyubi said there are corpses, then he went there, 15-20 yards away, jackals were eating three corpses. One of them caught a skull in its claws and flew away. The eyes of the fallen skull were open as if looking at Salahuddin Ayyubi, it was clear from the face and hair that it was the skull of a crusader. It is better than the skulls of Muslims. It is the perfection of these skulls that our caliphate is becoming addicted to women and alcohol. Crusaders are devouring the Islamic Empire like rats. said, "The Crusaders are occupying Palestine, Sultan, can we hope that we will be able to drive them out of Palestine, do not despair of God's presence." Shaddad Salah al-Din Ayyubi said, "We have become disappointed in the presence of our brothers." Another salar said, "You You are right, Salahuddin Ayyubi said, "We can stop the attack from outside. Did any of you imagine that you would sink such a large fleet of infidels with such a small force? Or maybe you did?" I did not realize that the army that was in this fleet would have swarmed all over Egypt like flies. Allah gave us courage and we did not attack in the open field but only ambushed this army and lost it at the bottom of the sea. Friends, you cannot easily stop the attack that comes from within, when your own brother will attack you, you will first think if you are really attacked by your brother, your arm does not have the strength to raise a sword against him. If you pick up your sword and challenge your brother, the enemy will take advantage of the opportunity to kill them both. After placing it and showing it to everyone, it was a palm-sized cross made of black wood with a strong thread attached to it. It had fallen in front of him, he took a quick step and went to the skull, three balls were fighting over the ownership of the skull. Seeing Salahuddin Ayyubi, they moved away. He spoke to the prisoner officer of the crusaders who also had a slab around his neck. Ga and that
میں بھی سلیب تھی اس نے بتایا کہ صلیبی لشکر میں جو بھرتی ہوتا ہے اس سے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا جاتا ہے کہ وہ سلیب کے نام پر جان کی بازی لگا کر لڑے گا اور وہ روئ زمین سے اخری مسلمان کو بھی ختم کر کے دم لے گا اس حلف کے بعد ہر لشکری کے گلے میں سلیب لٹکا دی جاتی ہے یہ صلیب مجھے ریت سے ملی ہے معلوم نہیں کس کی تھی تاکہ اس کی روح صلیب کے بغیر نہ رہے اس نے صلیب کی خاطر جان دی ہے سپاہی کو سپاہی کے حلف کا احترام کرنا چاہیے سلطان شہداد نے کہا یہ تو اپ کو معلوم ہے کہ صلیبی یروشلم کے مسلمان باشندوں کو کتنا کچھ احترام کر رہے ہیں وہاں سے مسلمان بیوی بچوں کو ساتھ لے کر بھاگ رہے ہیں ہماری بیٹیوں کی ابرو لوٹی جا رہی ہے ہمارے قیدیوں کو انہوں نے ابھی تک نہیں چھوڑا مسلمان جانوروں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں کیا ہم ان عیسائیوں سے انتقام نہیں لیں گے انتقام نہیں صلاح الدین ایوبی نے کہا ہم فلسطین لیں گے مگر فلسطین کے راستے میں ہمارے اپنے حکمران حائل ہیں وہ چلتے چلتے رک گئے اور بولے کفار نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر سلطنت اسلامیہ کے خاتمے کا حلف اٹھایا ہے میں نے اپنے اللہ کے حضور کھڑے ہو کر اور ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر قسم کھائی ہے کہ فلسطین ضرور لوں گا اور سلطنت اسلامیہ کی سرحدیں افق تک لے جاؤں گا مگر میرے رفیق کو مجھے اپنی تاریخ کا مستقبل کچھ روشن نظر نہیں اتا ایک وقت تھا کہ عیسائی بادشاہ تھے ہم جنگجو اب ہمارے بزرگ بادشاہ بنتے جا رہے ہیں اور عیسائی جنگجو دونوں قوموں کا رجحان دیکھ کر میں کہہ رہا ہوں کہ ایک وقت ائے گا جب مسلمان بادشاہ بن جائیں گے مگر عیسائی ان پر حکومت کریں گے مسلمان اسی میں بدمست رہیں گے کہ ہم بادشاہ ہیں ازاد ہیں مگر وہ ازاد نہیں ہوں گے میں فلسطین لے لوں گا مگر مسلمانوں کا رجھان بتا رہا ہے کہ وہ فلسطین گواہ بیٹھیں گے عیسائیوں کی کھوپڑی بڑی تیز ہے 50 ہزار سوڈانی لشکر کو کون پال رہا تھا ہماری خلافت اپنی استین میں ناجی نام کا سانپ پالتی رہی ہے میں پہلا امیر مصر ہوں جس نے دیکھا ہے کہ یہ لشکر ہمارے لیے نہ صرف بیکار ہے بلکہ خطرناک بھی ہے اگر ناجی کا خط پکڑا نہ جاتا تو اج ہم سب اس لشکر کے ہاتھوں مارے جا چکے ہوتے یا اس کے قیدی ہوتے اچانک ہلکا سا زناٹا سنائی دیا اور ایک تیر صلاح الدین ایوبی کے دونوں پاؤں کے درمیان ریت میں لگا جدھر سے تیر ایا تھا اس طرف صلاح الدین ایوبی کی پیٹھ تھی سالاروں میں سے کوئی بھی ادھر نہیں دیکھ رہا تھا سب نے بدق کر اس طرف دیکھا جہاں سے تیر ایا تھا ادھر نوکیلی چٹانیں تھیں تینوں سالار اور صلاح الدین ایوبی دوڑ کر ایک ایسی چٹان کی اوٹ میں ہو گئے جو دیوار کی طرح اموتی تھی انہیں توقع تھی کہ اور بھی تیر ائیں گے تیروں کے سامنے میدان میں کھڑے رہنا کوئی بہادری نہیں تھی شداد نے منہ میں انگلیاں رکھ کر زور سے سیٹی بجائی محافظ دستہ پارے کاب تھا ان کے گھوڑوں کے سر پر ٹاپو سنائی دیے اس کے ساتھ ہی تینوں سالار اس طرف دوڑ پڑے جس طرف سے تیر ایا تھا وہ بکھر کر چٹانوں پر چڑھ گئے چٹانے زیادہ اونچی نہیں تھی صلاح الدین ایوبی بھی ان کے پیچھے چلے گئے ایک سالار نے انہیں دیکھ لیا اور کہا سلطان اپ سامنے نہ ائے مگر سلطان ایوبی رکے نہیں محافظ پہنچ گئے صلاح الدین ایوبی نے انہیں کہا ہمارے گھوڑے یہیں چھوڑ دو اور چٹانوں کے پیچھے جاؤ ادھر سے ایک تیر ایا ہے جو کوئی نظر ائے اسے پکڑ لاؤ سلطان ایوبی چٹان کے اوپر گئے تو انہیں اونچی نیچی چٹانے دور دور تک پھیلی ہوئی نظر ائی وہ اپنے سالاروں کو ساتھ لیے پچھلی طرف اتر گئے اور ہر طرف گھوم پھر کر اور چٹانوں پر چڑھ کر دیکھا کسی انسان کا نشان تک نظر نہ ایا محافظ چٹانی علاقے کے اندر اوپر اور ادھر ادھر گھوڑے دوڑا رہے تھے صلاح الدین ایوبی نیچے اتر کر وہاں گئے جہاں ریت میں تیر گڑا ہوا تھا انہوں نے اپنے رفیقوں کو بلایا اور تیر پر ہاتھ مارا تیر گر پڑا سلطان ایوبی نے کہا دور سے ایا ہے اس لیے پاؤں میں لگا ہے ورنہ گردن یا پیٹھ پہ لگتا ریت میں بھی زیادہ نہیں اترا انہوں نے تیر اٹھا کر دیکھا اور کہا صلیبیوں کا ہے حشیشین کا نہیں سلطان کی جان خطرے میں ہے ایک سالار نے کہا اور ہمیشہ خطرے میں رہے گی صلاح الدین ایوبی نے ہنس کر کہا میں بحر روم میں کفار کی وہ کشتیاں دیکھنے نکلا تھا جو ملاہوں کے بغیر ڈول رہی ہیں مگر میرے عزیز دوستو کبھی نہ سمجھنا کہ صلیبیوں کی کشتی ڈول رہی ہے وہ پھر ائیں گے گھٹاؤں کی طرح گرجتے ائیں گے اور برسیں گے بھی لیکن وہ زمین کے نیچے سے اور پیٹھ کے پیچھے سے بھی وار کریں گے ہمیں اب صلیبیوں سے ایسی جنگ لڑنی ہے جو صرف فوجیں نہیں لڑیں گی میں جنگی تربیت میں ایک اضافہ کر رہا ہوں یہ فن حرب و ضرب کا نیا باب ہے اسے جاسوسوں کی جنگ کہتے ہیں سلطان ایوبی تیر ہاتھ میں لیے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور اپنے کیمپ کی طرف چل پڑے ان کے سالار بھی گھوڑوں پر سوار ہو گئے ان میں سے ایک نے سلطان کے دائیں طرف اپنا گھوڑا کر دیا ایک نے بائیں کو اور ایک نے اپنا گھوڑا ان کے بالکل پیچھے اور قریب رکھا تاکہ کسی بھی طرف سے تیر ائے تو صلاح الدین ایوبی تک پہنچ نہ سکے صلاح الدین ایوبی نے اس تیر
ENGLISH
I was also a Slab. After this oath, a slab is hung around the neck of every soldier. I found this cross in the sand. Sultan Shahdad said, "You know how much the Crusaders are respecting the Muslim residents of Jerusalem. Muslim wives and children are running away from there. Our daughters' eyebrows are being stolen from us." They have not released the prisoners yet. Muslims are living like animals. Will we not take revenge from these Christians? No revenge. They stopped and said, "The infidels have put their hands on the cross and sworn to end the Islamic Empire. I have sworn standing before my God and placing my hands on my chest that I will definitely take Palestine and the borders of the Islamic Empire will reach the horizon. I will take it, but my friend, I do not see the future of our history bright. There was a time when Christians were kings, we warriors are now becoming our elders, and seeing the trend of Christian warriors in both nations, I am saying that once upon a time. It will come when Muslims will become kings, but Christians will rule over them, Muslims will remain angry that we are kings, we are free, but they will not be free. The heads of gay Christians are very sharp. Who was feeding the 50 thousand Sudanese army? If Naji's letter had not been caught, we would all have been killed by this army or taken prisoner. Salahuddin Ayyubi's back was on the side, none of the Salars were looking this way. Amouti was like a wall. They expected more arrows to come. It was not brave to stand in the field in front of the arrows. Shaddad put his fingers in his mouth and whistled loudly. At the same time, the three salars ran towards the direction from which the arrow had come, they scattered and climbed on the rocks, the rocks were not very high. Salahuddin Ayyubi also followed them. But Sultan Ayyubi did not stop. The guards arrived. Salahuddin Ayyubi told them to leave our horses here and go behind the rocks. An arrow has come from here. Whoever sees it, catch it. They went down to the rear with their salars, and after going round and round on the rocks, they saw no sign of a human being. Ayyubi got down and went to the place where the arrow was buried in the sand. He called his friends and hit the arrow. The arrow fell. Sultan Ayyubi said, "It came from a distance, so it hit the foot, otherwise it hit the neck or the back and it also hit the sand." It didn't land much, he raised his arrow and said, "It belongs to the Crusaders, not to the Hashishians. The Sultan's life is in danger." A salar said, "And it will always be in danger." but my dear friends, never think that the Crusaders' ship is rocking, they will come roaring like knees and raining, but they will strike from under the ground and from behind their backs. Now we have to fight a war against the Crusaders that will not be fought only by armies. And marching towards their camp, their chieftains also mounted their horses, one of them placed his horse on the right side of the Sultan, one on the left, and one kept his horse just behind them and close to them so that from either side The arrow could not reach Salahuddin Ayyubi
ار بھی گھوڑوں پر سوار ہو گئے ان میں سے ایک نے سلطان کے دائیں طرف اپنا گھوڑا کر دیا ایک نے بائیں کو اور ایک نے اپنا گھوڑا ان کے بالکل پیچھے اور قریب رکھا تاکہ کسی بھی طرف سے تیر ائے تو صلاح الدین ایوبی تک پہنچ نہ سکے صلاح الدین ایوبی نے اس تیر پر ذرا بھی پریشانی کا اظہار نہ کیا جو کسی نے انہیں قتل کرنے کے لیے چلایا تھا اپنے رفیق سالاروں کو اپنے خیمے میں بٹھائے ہوئے وہ بتا رہے تھے کہ جاسوس اور شب خون مارنے والے دستے کس قدر نقصان کرتے ہیں وہ کہہ رہے تھے میں علی بن سفیان کو ایک ہدایت دے چکا ہوں لیکن اس پر عمل درامد نہیں ہو سکا کیونکہ فورا ہی مجھے اس حملے کی خبر ملی اور عمل درامد دھرا کر دھرا رہ گیا تم سب فوری طور پر یوں کرو کہ اپنے سپاہیوں اور ان کے عہدے داروں میں سے ایسے افراد منتخب کرو جو دماغی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط اور صحت مند ہو باریک بین دور اندیش قوت فیصلہ رکھنے والے جانباز قسم کے ادمی چنو میں نے علی کو ایسے ادمیوں کی جو صفات بتائی تھی وہ سب سن لو ان میں اونٹ کی مانند زیادہ سے زیادہ دن بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی قوت ہو جیتے کی طرح جھپٹ نہ جانتے ہو عقاب کی طرح ان کی نظریں تیز ہوں خرگوش اور ہرن کی طرح دوڑ سکتے ہوں م*** دشمن سے ہتھیار کے بغیر بھی لڑ سکیں ان میں شراب اور کسی دوسری نشہ اور چیز کی عادت نہ ہو کسی لالچ میں نہ ائیں عورت کتنی ہی حسین مل جائے اور ذر جواہرات کے انبار ان کے قدموں میں لگا دیے جائیں وہ نظر اپنے فرض پر رکھیں اپنے دوستوں اور ان کے کمانداروں کو خاص طور پر ذہن نشین کرا دیں کہ عیسائی بڑی ہی خوبصورت اور جوان لڑکیوں کو جاسوسی کے لیے اور فوجوں میں بے اطمینانی پھیلانے کے لیے اور عسکریوں کو جذبے کے لحاظ سے بیکار کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں میں نے مسلمانوں میں یہ کمزوری دیکھی ہے کہ عورت کے اگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں میں مسلمان عورت کو ان مقاصد کے لیے دشمن کے علاقے میں کبھی نہیں بھیجوں گا ہم اسمتوں کے محافظ ہیں عصمت کو ہتھیار نہیں بنائیں گے علی بن سفیان نے چند ایک لڑکیاں رکھی ہوئی ہیں لیکن وہ مسلمان نہیں اور وہ عیسائی بھی نہیں مگر میں میں عورت کا قائل نہیں محافظ دستے کا کمانڈر خیمے میں ایا اور اطلاع دی کے محافظ کچھ لڑکیوں اور ادمیوں کو ساتھ لائے دوستو اج کے لیے اتنا ہی اسی کہانی کی اگلی قسط کے ساتھ بہت جلد حاضر ہوں گے نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا اگلی ملاقات تک کے لیے ہمارا اور اپ کا اللہ نگہبان
ENGLISH
They also mounted their horses, one of them placed his horse on the right side of the Sultan, one on the left, and one kept his horse just behind them and close so that if he swam from either side, Saladin would not reach Ayubi. Salah al-Din Ayyubi did not show the slightest concern about the arrow that someone had shot to kill him, sitting his comrades in his tent telling them how much damage spies and night-killing troops would have done. They were saying, "I have given an instruction to Ali bin Sufyan, but it could not be carried out because immediately I got the news of this attack and the action was halted. And choose from among their officials such persons who are strong and healthy in mind and body, who have insight, foresight, and judgment. They have the strength to endure hunger and thirst for more days like a camel, they do not know how to swoop like a living animal, their eyes are sharp like an eagle, they can run like a rabbit and a deer, they can run away from the enemy even without a weapon. They should not be addicted to alcohol and any other intoxicants and things, and should not be tempted by any temptation. No matter how beautiful a woman is found, and piles of jewels should be placed at their feet, they should keep an eye on their duty, their friends and their commanders. Note in particular that Christians are using very beautiful and young girls for espionage and to spread disaffection in the army and to demoralize the soldiers. I saw this weakness in Muslims. I will never send a Muslim woman to the enemy's territory for these purposes. We are the protectors of the virtues. And he is not a Christian either, but I am not convinced of the woman. The commander of the security force came to the tent and informed that the security guards have brought some girls and men with them. Friends, that's all for today. The next episode of the same story will be here very soon. Please express your opinion in the comment section. May Allah protect us and you until the next meeting

No comments:
Post a Comment