https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Friday, 17 November 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 7

 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 7




سلطان ایوبی باہر نکلے ان کے تین سالار بھی ساتھ تھے باہر پانچ ادمی کھڑے تھے جن کے لمبے چغے دستاریں اور ڈیل ڈول بتا رہی تھی کہ تاجر ہیں اور سفر میں ہیں ان کے ساتھ ساتھ لڑکیاں تھیں ساتوں جوان تھیں اور ایک سے بڑھ کر خوبصورت ان محافظوں میں سے ایک نے جو سلطان پر تیر چلانے والے کی تلاش میں گئے تھے بتایا کہ انہوں نے تمام علاقہ چھان مارا انہیں کوئی ادمی نظر نہیں ایا دور پیچھے گئے تو یہ لوگ تین اونٹوں کے ساتھ ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے کیا ان کی تلاشی لی ہے ایک سالار نے پوچھا لی ہے محافظ نے جواب دیا یہ کہتے ہیں کہ یہ تاجریں ان کا سارا سامان کھلوا کر دیکھا ہے جامع تلاشی بھی لیے ان کے پاس ان خنجروں کے سوا کوئی ہتھیار نہیں اس نے پانچ خنجر سلطان ایوبی کے قدموں میں رکھ دی ہے مراکش کے تاجر ہیں ایک تاجر نے کہا سکندریہ تک جائیں گے دو روز گزرے ہمارا قیام یہیں سے 10 کوس پیچھے تھا پرسوں شام یہ لڑکیاں ہمارے پاس ائیں ان کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے انہوں نے بتایا کہ یہ سسلی کی رہنے والی ہے انہیں عیسائی فوج کا ہی کماندار گھروں سے پکڑ کر ساتھ لایا اور ایک بحری جہاز میں جا سوار کیا ان کے ماں باپ کو غریب میں یہ کہتے ہیں کہ بے شمار جہاز اور کشتیاں چل پڑی لڑکیوں والے جہاز میں چند اور کماندار قسم کے ادمی تھے اور ان کی فوج بھی تھی وہ سب ان لڑکیوں کے ساتھ شراب پی کر عیش و عشرت کرتے رہے اس ساحل کے قریب ائے تو جہازوں پر اگ کے گولے گرنے لگے تمام لوگ جہاز سے سمندر میں کودنے لگے ان لڑکیوں کو انہوں نے ایک کشتی میں بٹھا کر جہاز سے سمندر میں اتار دیا یہ بتاتی ہیں کہ انہیں کشتیاں چلانی نہیں اتی تھیں کشتی سمندر میں ڈولتی اور بھٹکتی رہی پھر ایک روز خود ہی ساحل سے الگ ہی ہمارا قیام ساحل کے ساتھ تھا یہ ہمارے پاس اگئی بہت ہی بری حالت میں تھی ہم نے انہیں پناہ میں لے لیا انہیں ہم دھدکار تو نہیں سکتے تھے ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں ارہی تھی کہ ان کا کیا کریں پیچھے پڑاؤ سے یہاں تک انہیں ساتھ لائے ہیں یہ سوار اگئے اور ہمارے سامان کی تلاشی لینے لگے ہم نے ان سے تلاشی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ سلطان صلاح الدین امیر مصر کا حکم ہے ہم نے ان کی منت سماجت کی کہ ہمیں اپنے سلطان کے حضور لے چلو ہم عرض کریں گے کہ ان لڑکیوں کو اپنی پناہ میں لے لیں ہم سفر میں ہیں انہیں کہاں کہاں لیے پھریں گے لڑکیوں سے پوچھا تو وہ سسلی کی زبان بول رہی تھیں وہ ڈری ڈری سی لگتی تھی ان میں سے دو تین اکٹھی ہی بولنے لگے صلاح الدین ایوبی نے تاجروں سے پوچھا کہ ان کی زبان کون سمجھتا ہے ایک نے بتایا کہ صرف میں سمجھتا ہوں یہ التجا کر رہی ہیں کہ سلطان انہیں پناہ میں لے لے کہتی ہیں کہ ہم تاجروں کے قافلے کے ساتھ نہیں جائیں گی کہیں ایسا نہ ہو کہ راستے میں ڈاکو ہمیں اٹھا کر لے جائے ادھر جنگ بھی ہو رہی ہے ہر طرف عیسائیوں اور مسلمانوں کے سپاہی بھاگتے دوڑتے پھر رہے ہیں ہمیں سپاہیوں سے بہت ڈر اتا ہے ہمیں جب گھروں سے اٹھایا گیا تھا تو ہم سب کواری تھی ان فوجیوں نے بحری جہاز میں ہمیں طوائفیں بنا رکھا ہے ایک لڑکی نے کچھ کہا تو اس کی زبان جاننے والے تاجر نے سلطان ایوبی سے کہا یہ کہتی ہے کہ ہمیں مسلمانوں کے بادشاہ تک پہنچا دو ہو سکتا ہے اس کے دل میں رحم ا جائے ایک اور لڑکی بول پڑی اس کی اواز رندھائی ہوئی تھی تاجر نے کہا یہ کہتی ہے کہ ہمیں عیسائی سپاہیوں کے حوالے نہ کیا جائے میں مسلمان ہو جاؤں گی بشرط کہ کوئی اچھی حیثیت والا مسلمان میرے ساتھ شادی کر لے دو تین لڑکیاں پیچھے کھڑی منہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں ان کے چہروں پر گھبراہٹ تھی بات کرتے شرماتی یا ڈرتی تھی صلاح الدین ایوبی نے تاجر سے کہا انہیں کہو کہ یہ عیسائیوں کے پاس نہیں جانا چاہتی ہم انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے یہ لڑکی جو کہہ رہی ہے کہ مسلمان ہو جائے گی بشرط کہ کوئی مسلمان اس کے ساتھ شادی کر لے اسے کہو کہ میں اس کی پیشکش قبول نہیں کر سکتا کیونکہ یہ خوف اور مجبوری کے عالم میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہے انہیں بتاؤ کہ انہیں مجھ پر اعتماد ہے تو میں انہیں اسلام کی بیٹیوں کی طرح پناہ میں لیتا ہوں اپنے دارالحکومت میں جا کر یہ انتظام کر دوں گا کہ انہیں عیسائی راہبوں یا کسی پادری کے پاس بھجوا دوں گا پادری یروشلم میں ہوں گے دوسری صورت یہ ہے کہ سب عیسائی قیدیوں کو ازاد کر دیا جائے گا تو میں کوشش کروں گا کہ ان کی شادیاں قابل اعتماد اور اچھی حیثیت کے فائدیوں کے ساتھ کر دوں انہیں یہ بھی بتا دو کہ کسی مسلمان کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ انہیں اجازت ہوگی کہ کسی مسلمان سے ملے ان کی ضروریات اور عزت کا خیال رکھا جائے گا تاجر نے لڑکیوں کو ان کی زبان میں سلطان ایوبی کی ساری باتیں بتائیں تو ان کے چہروں پر رونق اگئی وہ ان شرائط پر رضا مند ہو گئی تاجر شکریہ ادا کر کے چلے گئے صلاح الدین ایوبی نے لڑکیوں کے لیے الگ خیمے لگانے اور خیمے کے باہر ہر وقت ایک سنتری موجود رہنے کا حکم دیا وہ خیمے کی جگہ بتانے ہی لگے تھے کہ چھ سلیبی قیدی سلطان ایوبی کے سامنے لائے گئے وہ بہت ہی بری حالت میں تھے ان کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے کپڑوں پر خون بھی تھا اور ریت بھی ان کے چہرے لاشوں کی مانند تھے ان کے متعلق بتایا گیا کہ ڈیڑھ دو میل دور ساحل پر بے سد پڑے تھے وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں پر تیر رہے تھے ایک دن کشتی پانی بھر جانے سے ڈوب گئی یہ سب تیر کر ساحل تک پہنچے کشتی میں 22 ادمی سوار ہوئے تھے صرف یہ چھ زندہ بچے ان سے چلا نہیں جاتا تھا یہ صلیبی لشکر کے سپاہی تھے یہ سب دھڑام سے بیٹھ گئے ان میں سے ایک چہرے مرض سے لگتا تھا کہ معمولی سپاہی نہیں ہے وہ کرا رہا تھا اس کے کپڑوں پر خون کا ایک دھبہ بھی نہ تھا مگر زخمیوں سے زیادہ تکلیف میں معلوم ہوتا تھا

ENGLISH

Sultan Ayyubi came out, his three salars were also with him, there were five men standing outside, with long robes and dastars, and the doll was telling that they were merchants and were on a journey. One of the guards who went in search of the one who shot the arrow at the Sultan said that they searched the whole area and did not see anyone. A salar has asked, the guard replied, saying that these merchants have searched all their goods and searched them thoroughly. They have no weapons except these daggers. They have placed five daggers at Sultan Ayyubi's feet. There are merchants from Morocco. A merchant said that they will go to Alexandria. Two days have passed. Our stay was 10 kos behind here. Yesterday evening, these girls were with us and their clothes were soaked. They said that she is from Sicily. The commander took them from their homes and brought them with them and boarded them in a ship. Their parents are poor and say that many ships and boats sailed with the girls. There were a few other commanders in the ship and their army as well. All of them continued drinking alcohol with these girls and when they came near this shore, fireballs started falling on the ships and all the people started jumping from the ship into the sea. They said that they did not know how to drive the boats. The boat was swaying and drifting in the sea. Then one day it was separated from the shore. We were staying along the shore. We couldn't take them, we didn't understand what to do with them. They brought them with us from the back camp. The riders came and searched our goods. We asked them the reason for the search. He told us that it is the order of Sultan Saladin, Amir of Egypt. We begged him to take us to our Sultan. When asked, she was speaking the language of Sicily, she sounded like Dri Dri. Two or three of them started speaking together. They want the Sultan to take them to shelter, they say that we will not go with the caravan of merchants, lest the robbers pick us up on the way, while there is a war going on, Christian and Muslim soldiers are running around everywhere. We are very afraid of the soldiers. When we were taken from our homes, we were all quarries. These soldiers made us prostitutes in the ship. A girl said something, and the merchant who knew her language told Sultan Ayyubi that she used to say. Let us reach the king of the Muslims, maybe he will have mercy in his heart. Another girl spoke, her voice was hoarse. Provided that a Muslim of good status will marry me, two three girls were standing behind, trying to hide their faces, their faces were nervous, they were shy or afraid to speak. She doesn't want to go. We can't force them to accept Islam. This girl who is saying that she will become a Muslim if a Muslim marries her, tell her that I can't accept her offer because of fear and compulsion want to accept Islam in the world. Tell them that they have faith in me, then I will shelter them as daughters of Islam. I will go to my capital and arrange to send them to Christian monks or a priest. The priests will be in Jerusalem. Otherwise, all the Christian prisoners will be released, so I will try to arrange their marriages with reliable and good-status benefactors. They will not be allowed to meet and neither will they be allowed to meet a Muslim. Their needs and honor will be taken care of. The merchant agreed and thanked them and left. Salahuddin Ayubi ordered separate tents for the girls and an orange guard to be present outside the tent at all times. They were brought in a very bad condition, their clothes were soaked, there was blood on their clothes and sand, their faces were like corpses. But while they were swimming, one day the boat sank due to water filling. They all swam to the shore. There were 22 people on board the boat. Only these six alive children did not leave them. They were soldiers of the crusader army. One of them had a sickly face, not an ordinary soldier.

اور خیمے کے باہر ہر وقت ایک سنتری موجود رہنے کا حکم دیا وہ خیمے کی جگہ بتانے ہی لگے تھے کہ چھ سلیبی قیدی سلطان ایوبی کے سامنے لائے گئے وہ بہت ہی بری حالت میں تھے ان کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے کپڑوں پر خون بھی تھا اور ریت بھی ان کے چہرے لاشوں کی مانند تھے ان کے متعلق بتایا گیا کہ ڈیڑھ دو میل دور ساحل پر بے سد پڑے تھے وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں پر تیر رہے تھے ایک دن کشتی پانی بھر جانے سے ڈوب گئی یہ سب تیر کر ساحل تک پہنچے کشتی میں 22 ادمی سوار ہوئے تھے صرف یہ چھ زندہ بچے ان سے چلا نہیں جاتا تھا یہ صلیبی لشکر کے سپاہی تھے یہ سب دھڑام سے بیٹھ گئے ان میں سے ایک چہرے محرے سے لگتا تھا کہ معمولی سپاہی نہیں ہے وہ کرا رہا تھا اس کے کپڑوں پر خون کا ایک دھبہ بھی نہ تھا مگر زخمیوں سے زیادہ تکلیف میں معلوم ہوتا تھا اس نے ساتوں لڑکیوں کو غور سے دیکھا اور پھر کراہنے لگا یہ سلطان ایوبی کا حکم تھا کہ ہر ایک قیدی اسے دکھایا جائے چونکہ قیدی ابھی تک سمندر سے بچ کر نکل ہی رہے تھے اس لیے ہر ایک قیدی سلطان ایوبی کے سامنے لایا جاتا تھا سلطان نے ان قیدیوں کو بھی دیکھا کسی سے کوئی بات نہ کی البتہ اس قیدی کو جو سب سے زیادہ قرار رہا تھا اور جس کے جسم پر کوئی زخم بھی نہ تھا سلطان نے غور سے دیکھا اور اہستہ سے اپنے سالاروں سے کہا علی بن سفیان ابھی تک نہیں ایا ان تمام قیدیوں سے جو اب تک ہمارے پاس ا چکے ہیں بہت کچھ پوچھنا ہے ان سے معلومات لینی ہے انہوں نے اس قیدی کی طرف دیکھ کر کہا یہ ادمی کماندار معلوم ہوتا ہے اسے نظر میں رکھنا اور جب علی بن سفیان ائے تو اسے کہنا کہ اس سے تفصیلی پوچھ کش کرے معلوم ہوتا ہے اسے اندر کی چوٹیں ائی ہیں شاید پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں انہیں فورا زخمی قیدیوں کے خیموں میں پہنچا دو انہیں کھلاؤ بلاؤ اور ان کی مرہم پٹی کرو قیدیوں کو اس طرف لے جایا گیا جہاں صرف زخمی قیدیوں کے خیمے تھے لڑکیاں انہیں جاتا دیکھتی رہی پھر ان لڑکیوں کو بھی لے گئے فوج کے خیموں سے تھوڑی دور لڑکیوں کے لیے خیمہ نصب کیا جا رہا تھا وہاں سے کوئی سو قدم اور زخمی قیدیوں کے خیمے تھے وہاں بھی ایک خیمہ گاڑھا جا رہا تھا اور چھ نئے زخمی قیدی زمین پر لیٹے ہوئے تھے لڑکیاں ان کی طرف دیکھ رہی تھیں دونوں خیمے کھڑے ہو گئے لڑکیاں اپنے خیمے میں چلی گئیں اور زخمیوں کو ان کے اپنے خیمے میں ملے گئے ایک سنتری لڑکیوں کے خیمے کے باہر کھڑا ہو گیا لڑکیوں کے لیے کھانا اگیا جو انہوں نے کھا لیا پھر ایک لڑکی خیمے سے نکل کر اس خیمے کی طرف دیکھنے لگی جس میں نئے چھ زخمی قیدیوں کو لے گئے تھے اس کے چہرے پر اب گھبراہٹ اور خوف کا کوئی تاثر نہیں تھا سنتری نے اسے دیکھا اور اس نے سنتری کو دیکھا لڑکی نے مسکرا کر اشارہ کیا کہ وہ زخمیوں کے خیمے کی طرف جانا چاہتی ہے سنتری نے سر ہلا کر اسے روک دیا لڑکیوں کو خیمے سے دور جانے یا کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی لڑکیوں اور چھ زخمیوں کے خیمے کے درمیان بہت سے درخت تھے بائیں طرف مٹی کا ایک ٹیلا تھا جس پر جھاڑیاں تھیں سورج غروب ہو گیا پھر رات تاریک ہونے لگی کیمپ کے غلغپاڑے پر نیند غالب انے لگی اور پھر زخمیوں کے کراہنے کی اوازیں رات کے سکوت میں کچھ زیادہ ہی صاف سنائی دینے لگی دور پرے بہرہ روم کا شور دبی دبی مسلسل گونج کی طرح سنائی دے رہا تھا صلاح الدین ایوبی کے اس جنگی کیمپ میں جاگنے والوں میں چند ایک سنتری تھے یا وہ زخمی قیدی جنہیں زخم سونے نہیں دیتے تھے یا صلاح الدین ایوبی کے خیمے کے اندر چاند دن کا سامان تھا وہاں کسی کو نیند نہیں ائی تھی سلطان ایوبی کے تین سالار ان کے پاس بیٹھے تھے اور باہر محافظ دستہ بیدار تھا سلطان ایوبی نے ایک بار پھر کہا علی بن سفیان ابھی تک نہیں ایا ان کے لہجوں میں تشویش تھی انہوں نے کہا اس کا قاصد بھی نہیں ایا اگر کوئی گڑبڑ ہوتی تو اطلاع ا چکی ہوتی ایک سالار نے کہا معلوم ہوتا ہے وہاں سب ٹھیک ہے امید تو یہی رکھنی چاہیے صلاح الدین ایوبی نے کہا لیکن 50 ہزار کے لشکر نے بغاوت کر دی تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا وہاں ہماری نفری ڈیڑھ ہزار سوار اور 200700 پیادہ ہے ان کے مقابلے میں سوڈانی بہتر اور تجربہ کار عسکری ہیں اور تعداد میں بہت زیادہ ناجی اور اس کے سازشی ٹولے کے خاتمے کے بعد بغاوت ممکن نظر نہیں اتی ایک اور سالار نے کہا قیادت کے بغیر سپاہی بغاوت نہیں کریں گے پیش بندی ضروری ہے صلاح الدین ایوبی نے کہا

ENGLISH

And he ordered that a sentry should be present outside the tent at all times. He was about to tell the place of the tent that six Silabi prisoners were brought before Sultan Ayubi. They were in a very bad condition. Their faces were like corpses in the sand. There were 22 people on board, only these six living children did not leave them. They were soldiers of the crusader army. They all sat down. but there was not a spot of blood, but he seemed to be in more pain than the wounded. He looked carefully at the seven girls, and then began to moan. It was Sultan Ayubi's order that each of the prisoners should be shown to him, as the prisoners had yet escaped from the sea. They were coming out, so every prisoner was brought before Sultan Ayyubi. The Sultan looked carefully and quietly said to his chieftains, Ali bin Sufyan has not come yet. We have to ask a lot of things from all the prisoners who have come to us so far. He looked at this prisoner and said: Admi commander seems to keep an eye on him and when Ali bin Sufyan comes, tell him to interrogate him in detail. Call and bandage them. The prisoners were taken to the side where only the tents of the wounded prisoners were. About a hundred steps and there were tents of wounded prisoners, there was also a tent being thickened and six new wounded prisoners were lying on the ground. The girls were looking at them. An orange found in his own tent stood outside the girls' tent, the food was served to the girls, which they ate. There was no longer any expression of panic and fear on the face. Santri looked at her and she saw Santri. The girl smiled and indicated that she wanted to go to the wounded tent. Santri nodded and stopped her. The girls were away from the tent. No one was allowed to go or meet anyone. There were many trees between the tents of the girls and the six wounded. On the left side was a mound of dirt with bushes on it. Then the moaning sounds of the wounded could be heard a little more clearly in the silence of the night. Far away, the noise of Bahrroom was heard like a continuous echo. There were a few oranges among those who were awake in this war camp of Salahuddin Ayyubi. Wounded prisoners whose injuries did not allow them to sleep or the moon and day inside Salah al-Din Ayubi's tent, no one slept there, Sultan Ayubi's three servants were sitting beside him and outside the guard was awake. Sultan Ayubi once again Ali Bin Sufyan said, "Not yet. Was there any concern in his tone?" He said, "Not even the messenger. If there was any disturbance, it would have been reported." Ayubi said, "But if the army of 50,000 revolts, it will be difficult to handle. We have 150,000 horsemen and 200,700 infantry. Compared to them, the Sudanese are better and more experienced soldiers, and Naji and his conspirators are much more in number." After the end of the uprising, another salar said that without leaاور تعداد میں بہت زیادہ ناجی اور اس کے سازشی ٹولے کے خادمے کے بعد بغاوت ممکن نظر نہیں اتی ایک اور سالار نے کہا قیادت کے بغیر سپاہی بغاوت نہیں کریں گے پیش بندی ضروری ہے صلاح الدین ایوبی نے کہا لیکن علی اجائے تو یہ پتہ چلے کہ پیش بندی کس قسم کی کی جائے صلیبیوں کو روکنے کے لیے تو سلطان ایوبی خود ائے تھے لیکن دارالحکومت میں سوڈانی فوج کی بغاوت کا خطرہ تھا علی بن سفیان کو سلطان ایوبی نے وہیں چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ سوڈانی لشکر پر نظر رکھے اور بغاوت کو اپنے خصوصی فن سے دبانے کی کوشش کرے اسے ابھی تک صلاح الدین ایوبی کے پاس ا کر وہاں کے احوال اور قوائف بتانے تھے مگر وہ نہیں ایا تھا جس سے سلطان ایوبی بے چین ہو رہے تھے جب وہ اپنے سالاروں کے ساتھ قاہرہ کی صورتحال سے متعلق باتیں کر رہے تھے ان کا تمام کیمپ گہری نیند سو چکا تھا مگر وہ ساتوں لڑکیاں جاگ رہی تھیں جنہیں سلطان ایوبی نے پناہ میں لے لیا تھا ایک بار سنتری نے خیمے کا پردہ اٹھا کر دیکھا اندر دیا جل رہا تھا پردہ ہٹتے ہی لڑکیاں خراٹے لینے لگی سنتری نے دیکھا کہ وہ پوری سات ہیں اور سو رہی ہیں تو اس نے پردہ گرا دیا اور خیمے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا خیمے کے پردے کے ساتھ جو لڑکی تھی اس نے نیچے سے پردہ ذرا اوپر اٹھایا پردہ اہستہ سے چھوڑ کر اس نے ساتھ والی کے کان میں کہا بیٹھ گیا ہے ساتھ والی نے اگلی لڑکی کے ان میں کہا بیٹھ گیا ہے اور اسی طرح کانو کانوں یہ اطلاع ساتوں لڑکیوں تک پہنچ گئی کہ سنتری بیٹھ گیا ہے ایک لڑکی جو خیمے کے دوسرے دروازے کے ساتھ تھی اہستہ سے اٹھ بیٹھی اور بستر سے نکل گئی بستر زمین پر بچھے تھے اس نے اوپر لینے والے کمبل اس طرح بستر پر ڈال دیے جیسے نیچے لڑکی لیٹی ہوئی ہے وہ پاؤں پر سرکتی خیمے کے دروازے تک گئی پردہ ہٹایا اور باہر نکل گئی باقی چھ لڑکیوں نے اہستہ اہستہ خراٹے لینے شروع کر دیے سنتری کو معلوم تھا کہ یہ سمندر سے بچ کر نکلی ہوئی پناہ گزین لڑکیاں ہیں کوئی خطرناک قیدی تو نہیں وہ بیٹھ کر اونگتا رہا لڑکی دبے پاؤں ایسے رخ پر ٹیلے کی طرف چلی گئی جس رخ سے اس کے اور سنتری کے درمیان خیمہ ائل رہا ٹیلے کے پاس پہنچ کر اس نے خیمے کا رخ کر لیا جس میں چھ نئے قیدی رکھے گئے تھے رات تاریک تھی وہاں کچھ درخت تھے سنتری اب ادھر دیکھتا بھی تو اسے لڑکی نظر نہ اتی لڑکی بیٹھ گئی اور پاؤں پر سرک سرک کر اگے بڑھنے لگی اگے ریت کی ڈھیریاں سی تھیں وہ ان کی اوٹ میں سرکتی ہوئی خیمے کے قریب پہنچی اگر وہاں ایک سنتری ٹہل رہا تھا لڑکی ایک ڈھیری کے پاس لیٹ گئی سنتری اسے سیاہ سائے کی طرح نظر ا رہا تھا اب وہ دو سنتریوں کے درمیان تھی ایک اس کے اپنے خیمے کا اور دوسرا زخمیوں کے خیمے کا ڈر یہ تھا کہ زخمیوں کا سنتری اس طرف اگیا تو وہ پکڑی جائے گی بہت دیر انتظار کے بعد سنتری دوسرے زخمیوں کی طرف چلا گیا لڑکی ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتی خیمے تک پہنچ گئی اور پردہ اٹھا کر اندر چلی گئی اندر اندھیرا تھا دو تین زخمی اہستہ اہستہ کرا رہے تھے شاید ان میں سے کسی نے خیمے کا پردہ اٹھتا دیکھ لیا تھا اس نے نحیف اواز میں پوچھا کون ہے لڑکی نے منہ سے کی لمبی اواز نکالی اور سرگوشی میں پوچھا رابن کہاں ہے اسے جواب ملا ادھر سے تیسرا لڑکی نے تیسرے ادمی کے پاؤں ہلائے تو اواز ائی کون ہے لڑکی نے جواب دیا موبی روبن اٹھ بیٹھا ہاتھ لمبا کر کے لڑکی کو بازو سے پکڑا اور اسے اپنے بستر میں گھسیٹ لیا اسے اپنے پاس بٹھایا اور کمبل ڈال دیا سنتری نہ ائے میرے ساتھ لگی رہو اس نے لڑکی کو اپنے ساتھ لگا لیا اور کہا میں اس اتفاق پر حیران ہو رہا ہوں کہ ہماری ملاقات ہو گئی ہے یہ ایک معجزہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے یسو مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے ہم نے بہت بری شکست کھائی ہے لیکن یہ سب دھوکہ تھا یہ وہی زخمی قیدی تھا جو دوسرے سے الگ تھلگ اور چہرے مہرے اور جسم جس سے معمولی سپاہی نہیں بلکہ اعلی رتبے کا لگتا تھا صلاح الدین ایوبی نے بھی کہا تھا کہ یہ کوئی معمولی سپاہی نہیں اس پر نظر رکھنا علی بن سفیان اس سے تفتیش اور تحقیقات کرے گا تم کتنے کچھ زخمی ہو لڑکی نے اس سے پوچھا کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹی میں بالکل ٹھیک ہوں روبن نے جواب دیا خراش تک نہیں ائی انہیں بتایا کہ اندر کی چوٹیں اور سینے کے اندر شدید درد ہے لیکن میں بالکل تندرست ہوں پھر یہاں کیوں اگئے ہو لڑکی نے پوچھا میں نے بہت کوشش کی کہ مصر میں داخل ہو جاؤں اور سوڈانی لشکر تک پہنچ سکوں لیکن ہر طرف اسلامی فوج پھیلی ہوئی ہے کوئی راستہ نہیں ملا ان پانچ زخمیوں کو اکٹھا کیا ان کے ساتھ زخمی بن کر یہاں اگیا اب فرار کی کوشش کروں گا جو ابھی ممکن نظر نہیں اتی اس نے ذرا غصے سے کہا مجھے دو سوالوں کا جواب دو ایوبی کو میں نے زندہ دیکھا ہے کیوں کیا تیر ختم ہو گئے تھے یا وہ حرام خور بزدل ہو گئے ہیں اور دوسرا سوال یہ کہ تم سات کی سات لڑکیاں مسلمانوں کے قید میں کیوں اگئی کیا وہ پانچوں مر گئے ہیں یا بھاگ گئے ہیں وہ زندہ ہیں روبن موبی نے کہا تم کہتے ہو خدائے یسو مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے لیکن میں یہ کہتی ہوں کہ ہمارا خدا ہمیں کسی گناہ کی سزا

ENGLISH

And after the large number of Naji and the servants of his conspiratorial group, rebellion did not seem possible. What kind of preemption should be done? Sultan Ayyubi himself came to stop the Crusaders, but there was a threat of rebellion by the Sudanese army in the capital. He tried to suppress it with special art. He still had to go to Salah al-Din Ayyubi and tell him about the situation there, but he did not come, which made Sultan Ayyubi anxious when he discussed the situation in Cairo with his chieftains. All their camp was sleeping deeply, but the seven girls who had been sheltered by Sultan Ayubi were awake. Santri saw that they were all seven and sleeping, so he dropped the curtain and sat next to the tent. In Vali's ear, he said, "He has sat down," and in the next girl's ear, he said, "He has sat down." In the same way, the news reached the seven girls that Santri had sat down. A girl who was next to the other door of the tent slowly got up She sat and got out of the bed. The bed was lying on the floor. She put the blankets on the bed as if the girl was lying on the bottom. Santri started snoring. He knew that these were refugee girls who had escaped from the sea. They were not dangerous prisoners. He sat and muttered. There was a tent in the middle. On reaching the mound, he turned to the tent in which six new prisoners were kept. The night was dark. There were some orange trees. Even if he looked around, he did not see the girl. The girl sat down and walked around on her feet. She started moving forward, there were piles of sand in front of them, she reached near the tent, sliding in her coat. There was an orange strolling there. The girl lay down next to a pile. The orange looked like a black shadow to her. There was one in the middle of her own tent and the other one of the wounded tent. The fear was that the wounded sentry would be caught if she went to that side. After waiting for a long time, the sentry went to the other wounded. She reached and lifted the curtain and went inside. It was dark inside. Two or three injured people were slowly crying. Perhaps one of them had seen the curtain of the tent being lifted. She asked in a low voice who it is. The girl made a long sound from her mouth and He asked in a whisper where Robin was, he got an answer from here, the third girl moved the feet of the third person, then the girl answered, Moby Robin sat up, held the girl by the arm and dragged her to his bed. She sat next to me and put a blanket on her, don't come, stay with me. accepted our success, we have suffered a very bad defeat, but it was all a lie. It was the same wounded prisoner who was isolated from the others and his face and body were not ordinary soldiers, but he looked like a high-ranking soldier. Salahuddin Ayyubi also said. That this is not an ordinary soldier, keep an eye on him, Ali bin Sufyan will investigate and investigate him. How much are you injured? The girl asked him, "No bone is broken, I am perfectly fine." I have internal injuries and severe pain in the chest but I am completely healthy then why did you come here the girl asked I tried so hard to enter Egypt and reach the Sudanese army but the Islamic army is spread everywhere, there is no way. I did not find it. I collected these five injured people and came here with them injured. Now I will try to escape, which does not seem possible. They were finished or those haram eaters have become cowards and the second question is why seven of you seven girls were imprisoned by the Muslims. Are all five of them dead or have they fled? Are they alive? Christ approves of our success but I say that our God punishes us for any sindership, the soldiers will not revolt, the preemption is necessary, Salahuddin Ayyubi said.


زخمیوں کو اکٹھا کیا ان کے ساتھ زخمی بن کر یہاں اگیا اب فرار کی کوشش کروں گا جو ابھی ممکن نظر نہیں اتی اس نے ذرا غصے سے کہا مجھے دو سوالوں کا جواب دو ایوبی کو میں نے زندہ دیکھا ہے کیوں کیا تیر ختم ہو گئے تھے یا وہ حرام خور بزدل ہو گئے ہیں اور دوسرا سوال یہ کہ تم سات کی سات لڑکیاں مسلمانوں کے قید میں کیوں اگئی کیا وہ پانی موبی نے کہا تم کہتے ہو خدائی یسو مسیح کو ہماری کامیابی منظور رہے لیکن میں یہ کہتی ہوں کہ ہمارا خدا ہمیں کسی گناہ کی سزا دے رہا ہے صلاح الدین اس لیے زندہ ہے کہ تیر اس کے پاؤں کے درمیان ریت میں لگا تھا کیا تیر کسی لڑکی نے چلایا تھا رب نے پوچھا کرسٹوفر کہاں تھا اسی نے چلایا تھا مگر کرسٹوفر کا تیر خطا گیا رابن نے حیرت سے تڑپ کر پوچھا وہ کرسٹوفر جس کی تیر اندازی نے شاہ اگسٹس کو حیران کر دیا اس کی ذاتی تلوار انعام میں لی تھی یہاں ا کر اس کا نشانہ اتنا چکھ گیا کہ چھ فٹ لمبا اور تین فٹ چوڑا صلاح الدین اس کے تیر سے بچ گیا بدبخت کے ہاتھ ڈر سے کانپ گئے ہوں گے فاصلہ زیادہ تھا مبی نے کہا اور کرسٹوفر کہتا تھا کہ تیر کمان سے نکلنے ہی لگا تھا کہ کھلی ہوئی انکھ میں مچھر پڑ گیا اسی حالت میں اس کا تیر نکل گیا پھر کیا ہوا جو ہونا چاہیے تھا وہ بھی نے کہا صلاح الدین ساحل پر گیا تو اس کے ساتھ تین کمانڈر تھے اور چار محافظوں کا دستہ تھا وہ ہر طرف پھیل گئے یہ تو ہماری خوش قسمتی تھی کہ علاقہ چٹانی تھا کرسٹوفر بچ کے نکل ایا اور پھر ہمیں اتنا وقت مل گیا کہ ترکش اور کمان ریت میں دبا کر اوپر اونٹ بٹھا دیا سپاہی اگئے تو کرسٹوفر نے انہیں بتایا کہ وہ پانچوں مراکش کے تاجر ہیں اور یہ لڑکیاں سمندر سے نکل کر ہماری پناہ میں ائی ہیں مسلمان سپاہیوں نے ہمارے سامان کی تلاشی لی انہیں تجارتی سامان کے سوا کچھ نہیں ملا وہ ہم سب کو سلطان ایوبی کے سامنے لے گئے ہم نے یہ ظاہر کیا کہ ہم سسلی کی زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتی کرسٹوفر نے ایوبی سے کہا کہ وہ ہماری زبان جانتا ہے ہم ساتن لڑکیوں نے شہروں پر گھبراہٹ اور خوف پیدا کر لیا مبی نے رابن کو وہ ساری باتیں بتائی جو سلطان ایوبی کے ساتھ ہوئی تھی یہ سات لڑکیاں اور پانچ ادمی جو مراکشی تاجروں کے بحث میں تھے حملے سے سے دو روز پہلے ساحل پر اتارے گئے تھے پانچوں ادمی صلیبیوں کے تجربہ کار جاسوس اور کمانڈو تھے اور لڑکیاں بھی جاسوس تھیں جاسوسی کے علاوہ ان کے ذمے یہ کام بھی تھا کہ مسلمان سالاروں کو اپنے جال میں پھانسے وہ خوبصورت تو تھی ہی انہیں جاسوسی اور ذہنوں کی تقریب کاری کی خاص ٹریننگ دی گئی تھی اس ٹریننگ میں اداکاری خاص طور پر شامل تھی پانچ مردوں کا یہ مشن تھا کہ صلاح الدین ایوبی کو ختم کرنا اور ناجی کے ساتھ رابطہ رکھنا یہ لڑکیاں مصر کی زبان روانی سے بول سکتی تھی لیکن انہوں نے ظاہر نہیں ہونے دیا رابن اس شعبے کا سربرا اسے ناجی تک پہنچتا تھا مگر صلاح الدین ایوبی اور علی بن سفیان کی چال نے یہاں کے حالات کا رخ ہی الٹا کر دیا کیا تم صلاح الدین کو جال میں نہیں پھانس سکتی رابی نے پوچھا ابھی تو یہاں پہلی رات ہے مووی نے کہا اس نے ہمارے متعلق جو فیصلہ دیا ہے اگر وہ سچے دل سے دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مرد نہیں پتھر ہے اگر اسے ہمارے ساتھ کوئی دلچسپی ہوتی تو کسی ایک لڑکی کو اپنے خیمے میں بلا لیتا اسے قتل کرنا بھی اسان نہیں وہ ایک ہی بار ساحل پر ایا تھا مگر تیر خطا گیا وہ سالاروں اور محافظوں کے نرغے میں رہتا ہے ادھر ایک سنتری ہمارے سر پر کھڑا ہے اور محافظوں کے پورے دستے نے صلاح الدین کے خیمے کو گھیر رکھا ہے وہ پانچوں کہاں ہے رابن نے پوچھا تھوڑی دور ہے موبی نے جواب دیا وہ ابھی یہی رہیں گی سنو مووی روبن نے کہا اس شکست نے مجھے پاگل کر دیا ہے میرے ضمیر پر اتنا بوجا پڑا ہے جیسے اس شکست کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف تو سب سے لیا گیا ہے لیکن ایک سپاہی کے حلق میں اور میرے حلف میں زمین اور اسمان جتنا فرق ہے میرے رتبے کو سامنے رکھو میرے فرائض کو دیکھو ادھی جنگ مجھے زمین کے نیچے سے اور پیٹھ کے پیچھے سے وار کر کے جیتنی تھی مگر میں اور تم ساتھ اور وہ پانچ اپنا فرض ادا نہیں کر سکے مجھ سے یہ صلیب جواب مانگ رہی ہے اس نے گلے میں ڈالی ہوئی سلیب ہاتھ میں لے کر کہا میں اسے اپنے سینے سے جدا نہیں کر سکتا اس نے موبی کے سینے پر ہاتھ پھیر کر اس کی صلیب ہاتھ میں لے لی اور کہا تم اپنے ماں باپ کو دھوکہ دے سکتی ہو اس سلیب سے انکھیں نہیں چرا سکتی اس نے جو فرض تمہیں سونپا ہے وہ پورا کرو خدا نے جو تمہیں حسن دیا ہے وہ چٹانوں کو پھاڑ کر تمہیں راستہ دے دے گا میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ ہماری اچانک اور غیر متوقع ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے

ENGLISH

I collected the injured and came here with them injured. Now I will try to escape, which does not seem possible yet. He said angrily, answer me two questions. Or those haram eaters have become cowards and the second question is why seven girls out of seven of you were imprisoned by the Muslims, did that water? Saladin is being punished for some sin. Saladin is alive because the arrow stuck in the sand between his feet. Was the arrow shot by a girl? inquired yearningly that Christopher, whose archery had surprised King Augustus, had taken his personal sword as a prize, and hit it so well that Saladin, six feet tall and three feet broad, escaped his arrow. The poor man's hands must have trembled with fear, the distance was great, said Mabi, and Christopher used to say that the arrow was about to come out of the bow, when a gnat fell into his open eye. He also said that Saladin went to the coast and there were three commanders with him and a squad of four guards. They spread out everywhere. It was our luck that the area was rocky. The quiver and the bow were buried in the sand and the camel was placed on top. When the soldiers came, Christopher told them that they were all five Moroccan merchants and that these girls had come out of the sea to shelter us. Nothing was found. They took us all before Sultan Ayubi. We pretended that we knew no other language than Sicilian. Christopher told Ayubi that he knew our language. We seven girls filled the cities with panic and fear. Mabi told Robin all that had happened to Sultan Ayubi. These seven girls and five men who had been in the discussion of Moroccan merchants had been washed ashore two days before the attack. The five men were experienced spies of the Crusaders and There were commandos and the girls were also spies. Apart from espionage, they also had the task of ensnaring Muslim nobles in their nets. The mission of the five men involved was to eliminate Salah al-Din Ayubi and keep in touch with Naji. These girls could speak the Egyptian language fluently, but they did not let it appear. Robin, the head of this department, reached Naji but Salah The trick of Al-Din Ayubi and Ali bin Sufyan turned the situation here upside down. Can't you trap Salah-ud-Din in the net? Rabi asked, "It's the first night here." Sincerely given, it means that he is not a man, but a stone. If he had any interest in us, he would have invited a girl to his tent. It is not easy to kill her. He came to the beach only once, but the arrow. He is wrong, he lives in the narga of salars and guards. Meanwhile, an orange stands at our head, and the entire body of guards surrounds Saladin's tent. Where are the five of them? "I will stay," said Robin. "This defeat has driven me mad. My conscience is so burdened that I am responsible for this defeat. I have taken an oath with my hands on the cross, but a soldier's throat." The difference between me and my oath is as much as the earth and the sky. Put my rank in front. Look at my duties. Half the battle was to be won by stabbing me from under the ground and behind the back, but I and you together and those five did not fulfill their duty. This cross is asking me for an answer. You can deceive your parents, you cannot hide your eyes from this slab, fulfill the duty that he has entrusted to you, God who has given you beauty will tear the rocks and give you a way. I tell you again that our sudden and The unexpected meeting is proof that we will succeed


No comments:

Post a Comment