https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Friday, 24 November 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode14

The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode14





گھنٹے کے اندر اندر 20 تیز رفتار سوار روانہ کر دیے گئے ان کا رہنما یہ محافظ تھا اور کمانڈر علی بن سفیان کا ایک نائب زاہدین تھا ان سواروں میں فخر المصری کو علی بن سفیان نے خاص طور پر شامل کیا تھا یہ فخر کی خواہش تھی کہ اسے بالیان اور موبی کے تعقب کے لیے بھیجا جائے یہ تو نہ علی بن سفیان کو علم بھی اور ان کے چھ وفادار ساتھی ہیں ادھر سے یہ 20 سوار روانہ ہوئے جن میں 21واں ان کا کمانڈر تھا ان کا ہدف لڑکیاں تھیں اور انہیں چھڑا کر لے جانے والے ادھر سے صلیبیوں کے 20 کمانڈو ا رہے تھے جن میں 21واں ان کا کمانڈر تھا ان کا بھی ہدف یہی لڑکیاں تھیں مگر ان کی کمزوری یہ تھی کہ وہ پیدل ا رہے تھے دونوں پارٹیوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ جن کے تعاقب میں وہ جا رہے ہیں وہ کہاں ہیں صلیبیوں کی کمانڈو پارٹی اگلے روز سورج غروب ہونے کے کچھ دیر پہلے خاصہ فاصلہ طے کر چکی تھی راستہ اوپر چڑھ رہا تھا وہ علاقہ نشیب و فراز کا تھا یہ لوگ بلندی پر گئے تو انہیں دور ایک میدان میں جہاں کھجور کے بہت سے درختوں کے ساتھ دوسری قسم کے درخت بھی تھے بے شمار اونٹ نظر ائے انہیں بٹھا بٹھا کر ان سے سامان اتارا جا رہا تھا 12 14 گھوڑے بھی تھے ان کے سوار فوجی معلوم ہوتے تھے باقی تمام شتربان تھے یہ 21 صلیبی رک گئے انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جیسے انہیں یقین نہ ا رہا ہو کہ وہ اونٹ اور گھوڑے ہیں یہی ان کی ضرورت تھی ان کے کمانڈر نے پارٹی کو روک لیا اور کہا ہم سچے دل سے صلیب پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائے ہیں وہ دیکھو صلیب کا کرشمہ یہ معجزہ ہے خدا نے اسمان سے تمہارے لیے سواری بھیجی ہے تم میں سے جس کے دل میں کسی گناہ کا یا فرض سے کوتاہی کا یا جان بچا کر بھاگنے کا خیال ہے وہ فورا نکال دو خدا کا بیٹا جو مظلوموں کا دوست اور ظالموں کا دشمن ہے تمہاری مدد کے لیے اسمان سے اتر ایا ہے سب کے شہروں پر تھکن کے جو اثار تھے وہ غائب ہو گئے اور چہروں پر رونق اگئی انہوں نے ابھی اس پہلو پر غور ہی نہیں کیا تھا کہ اتنے بے شمار اونٹوں اور گھوڑوں میں سے جن کے ساتھ اتنے زیادہ شتربان اور فوجی ہیں وہ اپنی ضرورت کے مطابق جانور کس طرح حاصل کریں گے یہ ایک س کے لگ بھگ اونٹوں کا قافلہ تھا جو محاز پر فوج کے لیے راشن لے کر جا رہا تھا چونکہ ملک کے اندر دشمن کا کوئی خطرہ نہیں تھا اس لیے قافلے کی حفاظت کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا گیا تھا صرف 10 گھوڑا سوار ساتھ بیچ دیے گئے تھے لڑکیوں کو جس رات ازاد کرایا گیا تھا اس سے اگلی رات وہ ایک جگہ رکے ہوئے تھے بالیان نے مووی سے کہا کہ ہم سات مرد ہیں اور تم ساتھ لڑکیاں ہو میرے ان چھ دوستوں نے میرا ساتھ بڑی دیانتداری سے دیا ہے میں ان کی موجودگی میں تمہارے ساتھ رنگ رلیاں مناتا رہا پھر بھی وہ نہیں بولے اب میں انہیں انعام دینا چاہتا ہوں تم ایک ایک لڑکی میرے ایک ایک دوست کے حوالے کر دو اور انہیں کہو کہ یہ تمہاری وفاداری کا تحفہ ہے یہ نہیں ہو سکتا مبی نے غصے سے کہا ہم فاحشہ نہیں ہیں میری مجبوری تھی کہ میں تمہارے ہاتھ میں کھلونا بنی رہی یہ لڑکیاں تمہاری خریدی ہوئی لونڈیاں نہیں ہیں میں نے تمہیں کسی وقت بھی شریف لڑکی نہیں سمجھا بالیان نے شاہانہ جلال سے کہا تم سب ہمارے لیے اپنے جسموں کا تحفہ لائیو یہ لڑکیاں معلوم نہیں کتنے مردوں کے ساتھ کھیل چکی ہیں ان میں سے ایک بھی مریم نہیں ہم اپنا فرض پورا کرنے کے لیے جسموں کا تحفہ دیتی ہیں موبی نے کہا ہم عیاشی کے لیے مردوں کے پاس نہیں جاتی ہمیں ہماری قوم اور ہمارے مذہب نے ایک فرض سونپائے اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہم اپنا جزم اپنا حسن اور اپنی عصمت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں ہمارا فرض پورا ہو چکا ہے اب تم جو کچھ کہہ رہے ہو یہ عیاشی ہے جو ہمیں منظور نہیں جس روز ہم عیاشی میں الجھ گئیں اس روز سے صلیب کا زوال شروع ہو جائے گا سلیب ٹوٹ جائے گی ہم اپنی عصمت کے شیشے کو توڑ دیتی ہیں تاکہ صلیب نہ ٹوٹے ہمیں ٹریننگ دی گئی ہے کہ ایک مسلمان سربراہ کو تباہ کرنے کے لیے 10 مسلمانوں کے ساتھ راتیں بسر کرنا جائز ہے اور قاری ثواب ہے مسلمانوں کے ایک مذہبی پیشوا کو اپنے جسم سے ناپاک کرنے کو ہم ایک عظیم کار خیر سمجھتی ہیں شتربان نہتے تھے ابھی چھاپہ مار اور شب خون مارنے والے میدان میں نہیں ائے تھے صلیبیوں کے یہ 21 ادمی پہلے چھاپہ مارتے یا اس سے پہلے صلاح الدین ایوبی نے شب خون کا وہ طریقہ ازمایا تھا جس میں تھوڑے سے سواروں نے سوڈانیوں کی فوج کے عقبی حصے پر حملہ کیا اور غائب ہو گئے تھے اس وار کرو اور بھاگو کے طریقے جنگ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے سلطان ایوبی نے تیز رفتار ذہین اور جسمانی لحاظ سے غیر معمولی طور پر صحت مند عسکریوں کے دستے تیار کرنے کا حکم دے دیا تھا اور دشمن کے ملک میں لڑاکا جاسوس بھیجنے کی سکیم بھی تیار کر لی تھی لیکن صلیبیوں کو ابھی شب خون اور چھاپوں کی نہیں سوجی تھی کسی نجی قافلے کو ڈاکو بعض اوقات لوٹ لیا کرتے تھے سرکاری قافلے ہمیشہ محفوظ رہتے تھے اسی لیے فوجوں کے رست کے قافلے بے خوف و خطر رواں دواں رہتے تھے اس سے پہلے بھی اسی محاز کے لیے دو بار رسد کے قافلے جا چکے تھے اور اسی علاقے سے گزرے تھے لہذا حفاظت اقدامات کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی تھی یہ قافلہ بھی خطروں سے بے پرواہ محاذ کو جا رہا تھا اور رات کے لیے یہاں پڑاؤ کر رہا تھا اس سے تھوڑی ہی دور قافلے کے لیے بہت بڑا خطرہ ا رہا تھا صلیبی کمانڈر نے اپنی پارٹی کو
ENGLISH
Within an hour, 20 speedy riders were dispatched, their leader was this guard and a deputy of the commander, Ali bin Sufyan, was Zahidin. He should be sent to pursue Balyan and Mobi. This is not even known to Ali bin Sufyan and he has six loyal companions. From there, these 20 riders set out, including the 21st as their commander. Their target was the girls and rescue them. There were 20 commandos of the crusaders coming from here, in which the 21st was their commander, their target was the same girls, but their weakness was that they were coming on foot, none of the two parties knew who they were. In pursuit, where are they going? The commando party of the crusaders had covered a considerable distance the next day before sunset. Where there were many palm trees along with other kinds of trees, I saw numerous camels being saddled and unloaded from them. 12 14 horses were also there. They stopped and looked at each other as if they couldn't believe that they were camels and horses. That was all they needed. Look at the charisma of the cross, this is a miracle. God has sent a ride for you from the sky, whoever has in his heart the thought of a sin or neglecting his duty or running away for his life, immediately remove him, son of God, who is the friend of the oppressed. And the enemy of the oppressors has come down from the sky to help you. The signs of exhaustion on all the cities disappeared and the faces became radiant. They had not yet considered this aspect that so many camels and horses How will those who have so many camels and soldiers with them get the animals they need. There was no danger, so no special arrangements were made for the security of the convoy, only 10 horsemen were sold along. We are seven men and you are girls. These six friends of mine have supported me very faithfully. Give it to a friend and tell them that this is a gift of your loyalty. This can't be. Mabi said angrily, "We are not prostitutes. I was forced to be your toy. These girls are not your bought slaves. I have never considered you a noble girl, Balian said with royal glory, "All of you are a gift of your bodies to us. These girls have not known how many men they have played with. Not one of them is Maryam. We have given our bodies to fulfill our duty." Mobi said, "We don't go to men for pleasure. Our nation and our religion have entrusted us with a duty. To fulfill this duty, we use our pride, our beauty, and our innocence as weapons. Our duty is fulfilled." Now what you are saying is debauchery which we don't approve of. The day we get involved in debauchery, from that day the cross will begin to fall, the slab will break. We have been trained that it is permissible to spend the night with 10 Muslims in order to destroy a Muslim leader and it is a reward. The raiders and night-killers had not yet entered the field. These 21 men of the Crusaders raided first, or before Saladin Ayyubi had tried the night-killer method, in which a small number of horsemen attacked the rear of the Sudanese army. What else had disappeared was the fight-and-run method. Seeing the success of the war, Sultan Ayubi ordered the formation of troops of exceptionally fast, intelligent, and physically fit soldiers and marched into the enemy's country. The scheme of sending fighter spies was also prepared, but the crusaders were not yet tired of bloodshed and raids. Some private caravans were sometimes robbed by robbers. Government caravans were always safe, that's why the caravans of the army were safe. Before this, supply convoys had gone to the same front twice and had passed through the same area, so there was no need for security measures. A short distance away from him was encamping here, and there was great danger to the caravan.
نے اپنی پارٹی کو ایک نشیب میں بٹھا لیا اور دو ادمیوں سے کہا کہ وہ جا کر یہ دیکھیں کہ قافلے میں کتنے اونٹ کتنے گھوڑے اور کتنے م*** ادمی اور خطرے کیا کیا ہیں پھر وہ رات کو حملہ کرنے کی سکیم بنانے لگا اس کے پاس ہتھیاروں کی کمی نہیں تھی جذبے کی بھی کمی نہیں تھی ہر ایک ادمی جان پر کھیلنے کو تیار تھا نصف سے بہت پہلے وہ دو ادمی واپس ائے جو قافلے کو قریب سے دیکھنے گئے تھے انہوں نے بتایا کہ قافلے کے ساتھ 10 ملہ سوار ہیں جو ایک ہی جگہ سوئے ہوئے ہیں گھوڑے الگ بندے ہیں شتربان ٹولیوں میں بٹ کر سوئے ہوئے ہیں سامان میں زیادہ تر بوریاں ہیں شدربانوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں یہ بڑی اچھی معلومات تھی کام مشکل نہیں تھا قافلے والے گہری نیند سوئے ہوئے تھے 10 عسکریوں کی انکھ بھی نہ کھلی کہ تلواروں اور خنجروں نے انہیں کاٹ کر رکھ دیا صلیبی چھاپہ ماروں نے یہ کام اتنی خاموشی اور اسانی سے کر لیا کہ بیشتر شتربانوں کی انکھ ہی نہ کھلی اور جن کی انکھ کھلی وہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ کیا ہو رہا ہے جس کے منہ سے اواز نکلی وہ اس کی زندگی کی اخری اواز ثابت ہوئی چھاپہ مارو نے شتربانوں کو حراسہ کرنے کے لیے چیخنا شروع کر دیا سوئے ہوئے شطربان گھبرا اور ہڑبڑا کر اٹھے اونٹ بھی بدک کر اٹھنے لگے صلیبیوں نے شتربانوں کا قتل عام شروع کر دیا بہت تھوڑے بھاگ سکے صلیبی کمانڈر نے چلا کر کہا یہ مسلمانوں کا راشن ہے تباہ کرو اور اونٹوں کو بھی ہلاک کر دو انہوں نے اونٹوں کے پیٹوں میں تلواریں گھونپنی شروع کر دی اونٹوں کے واویلے سے رات کانپنے لگی کمانڈر نے گھوڑے دیکھے 12 ہی تھے 10 سواروں کے لیے اور دو فالتو اس نے نو اونٹ الگ کر لیے سورج طلوع ہوا تو پڑاؤ کا منظر بڑا بھیانک تھا بے شمار لاشیں بکھری ہوئی تھیں بہت سے اونٹ مر چکے تھے کئی تڑپ رہے تھے کچھ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے ہر طرف خون ہی خون تھا جدھر نگاہ جاتی تھی اونٹ مرے ہوئے یا تڑپتے نظر اتے تھے راشن کی بوریاں پھٹی ہوئی تھیں اٹا اور کھانے کا دیگر سامان خون میں بکھرا ہوا تھا 12 کے 12 گھوڑے غائب تھے اور وہاں کوئی زندہ انسان موجود نہیں تھا چھاپہ مار دور نکل گئے ان کی سواری کی ضرورت پوری ہو گئی تھی اب وہ تیز رفتاری سے اپنے شکار کو ڈھونڈ سکتے تھے شکار دور نہیں تھا بالیان کا دماغ پہلے ہی موبی کے حسن اور جوانی اور شراب نے معوف کر رکھا تھا اب اس کے پاس سات حسین اور جوان لڑکیاں تھیں وہ خطروں کو بھول ہی گیا تھا وہ بھی اسے بار بار کہتی کہ اتنا زیادہ کہیں رکنا ٹھیک نہیں جتنی جلدی ہو سکے سمندر تک پہنچنے کی کوشش کرو ہمارا تعقب ہو رہا ہوگا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم سلیب کی بقا کے لیے مجھے استعمال کر رہی ہو بالیان کے احساسات اہستہ اہستہ جاگنے لگے کیا تم مجھے صلیب کا محافظ بنانا چاہتی ہو کیا تم ابھی تک شک میں ہو مبی نے کہا تم نے سلیب کے ساتھ کیوں دوستی کی ہے صلاح الدین ایوبی کی حکمرانی سے ازاد ہونے کے لیے بالیان نے کہا صلیب کی حفاظت کے لیے نہیں میں مسلمان ہوں لیکن اس سے پہلے میں سوڈانی ہوں میں سب سے پہلے صلیبی ہوں موبی نے کہا عیسائی ہوں اور اس کے بعد اس ملک کی بیٹیوں جہاں میں پیدا ہوئی تھی مبی نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا اسلام کوئی مذہب نہیں اسی لیے تم اپنے ملک کو اس پر ترجیح دے رہے ہو یہ تمہاری نہیں تمہاری مذہب کی کمزوری ہے تم میرے ساتھ سمندر پار چلو تو میں تمہیں اپنا مذہب دکھاؤں گی تم اپنے مذہب کو بھول جاؤ گے میں اس مذہب پر لعنت بھیجوں گا جو اپنی بیٹیوں کو غیر مردوں کے ساتھ راتیں بسر کرنے اور شراب پینے پلانے کو ثواب کا کام سمجھتا ہے بالیان اچانک بیدار ہو گیا اس نے کہا تم نے اپنی عصمت مجھ سے نہیں لٹائی بلکہ میری عصمت لوٹی ہے میں نے تمہیں نہیں بلکہ تم نے مجھے کھلونا بنائے رکھا ہے ایک مسلمان کا ایمان خریدنے کے لیے عصمت کوئی زیادہ قیمت نہیں لڑکی نے کہا میں نے تمہاری عصمت نہیں لوٹی تمہارا ایمان خریدا ہے مگر تمہیں راستے میں بھٹکتا ہوا چھوڑ کر نہیں جاؤں گی تمہیں ایک عظیم روشنی کی طرف لے جا رہی ہوں جہاں تمہیں اپنا مستقبل اور اپنی عاقبت ہیروں کی طرح چمکتی نظر ائے گی میں اس روشنی میں نہیں جاؤں گا بالیان نے کہا دیکھو بالیان مووی نے کہا مرد جنگجو مرد وعدے اور سودے سے پھرا نہیں کرتے تم میرا سودا قبول کر چکے ہو میں نے تمہارا ایمان خرید کر شراب میں ڈبو دیا ہے اور تمہیں منہ مانگی قیمت دی ہے اتنے دنوں سے تمہاری ل**** اور بے نگاہی بیوی بنی ہوئی ہو اس سودے سے پھرو نہیں ایک کمزور لڑکی کو دھوکا نہ دو تم نے مجھے وہ عظیم روشنی یہیں دکھا دی ہے جو تم مجھے سمندر پار لے جا کر دکھانا چاہتی ہو والیان نے کہا مجھے اپنا مستقبل اور اپنی عاقبت ہیروں کی طرح چمکتی نظر انے لگی ہے مبی نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو بالیان گرج کر بولا خاموش رہو لڑکی صلاح الدین ایوبی میرا دشمن ہو سکتا ہے لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دشمن نہیں ہو سکتا جن کا صلاح الدین ایوبی بھی نام لیوا ہے میں ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام پر مصر اور سوڈان قربان کر سکتا ہوں ان کے عظیم اور مقدس نام پر میں صلاح الدین ایوبی کے اگے ہتھیار ڈال سکتا ہوں میں تم کو کئی بار کہہ چکی ہوں کہ شراب کم پیا کرو مبی نے کہا ایک شراب دوسرے رات بھر جاگنا اور میرے جسم کے ساتھ کھیلتے رہنا دیکھو تمہارا دماغ بالکل بیکار ہو گیا ہے تم یہ
ENGLISH
He seated his party in a depression and asked two men to go and see how many camels, how many horses and how many men were in the caravan and what was the danger. Then he began to plan a night attack. There was no lack of weapons and there was no lack of spirit. Every man was ready to play for his life. Long before half time, the two men who had gone to see the convoy came back and told that there were 10 Mullahs with the convoy. Those who are sleeping in the same place, the horses are tied separately, the camels are sleeping in groups, most of the goods are sacks, the camels have no weapons, this was very good information, the work was not difficult, the caravans were fast asleep Before they even opened their eyes, they were cut down by swords and daggers. The crusaders did this so quietly and easily that most of the Shatrabans did not even open their eyes, and those who did not understand what was happening. The sound that came out of his mouth proved to be the last sound of his life. The raiders started shouting to scare the Shatrabans. They managed to escape very little. The crusader commander shouted and said, "This is the ration of the Muslims. Destroy it and kill the camels too. They started stabbing their swords into the stomachs of the camels. The night began to tremble from the howling of the camels. The commander saw the horses. There were 10 for riders and two spares. He separated nine camels. When the sun rose, the scene at the camp was terrible. Countless bodies were scattered. Many camels were dead. Many were dying. There was blood everywhere you looked, the camels were dead or dying, the sacks of ration were torn, flour and other food items were scattered in blood, 12 of the 12 horses were missing and there was no living human being. Gone, their need for a ride was fulfilled, now they could find their prey at high speed, the prey was not far away. There were girls, he had forgotten the dangers, she also told him again and again that it is not good to stay so long, try to reach the sea as fast as possible, we must be being followed, so it means that you must survive for the slab. You are using me, Balyan's feelings are slowly waking up, do you want to make me the guardian of the cross, are you still in doubt, Mabi said, why have you befriended Salib to be free from Salahuddin Ayyubi's rule? Balian said not to protect the cross I am a Muslim but before that I am a Sudanese I am a crusader first Mobi said I am a Christian and then the daughters of the country where I was born Mbi took her hand in hers I took it and said that Islam is not a religion, that's why you are giving priority to your country over it, it is not yours but your religion's weakness. I will curse the religion which considers it a reward for letting its daughters spend the night with non-men and drink alcohol. No, but you have made me a toy. Chastity is not a high price to buy the faith of a Muslim. Taking you to where you will see your future and destiny shining like diamonds, I will not go into that light, Balyan said, Look, Balyan Movie said, Men are warriors, men don't go away with promises and deals, you have accepted my deal. Yes, I have bought your faith and drowned it in alcohol and I have given you the price you asked for. For so many days, you have become your **** and blind wife. Do not walk away from this deal. The great light that you want to show me by taking me across the ocean has been shown here, Valian said, "I am seeing my future and my destiny shining like diamonds." Salah al-Din Ayyubi may be my enemy, but I cannot be the enemy of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, whose name is Salah al-Din Ayyubi. In his great and holy name, I surrender before Salahuddin Ayyubi. I have told you many times to drink less alcohol. Mabi said, one drink, the other stay up all night and play with my body. Look at your mind at all. You are useless
دیکھو تمہارا دماغ بالکل بیکار ہو گیا ہے تم یہ بھی بھول گئے ہو کہ میں تمہاری بیوی ہوں میں کسی فاحشہ صلیبی کا خاوند نہیں ہو سکتا اس کی نظر شراب کی بوتل پر پڑی اس نے بوتل اٹھا کر پرے پھینک دی اور اٹھ کھڑا ہوا اس نے اپنے دوستوں کو بلایا وہ توڑتے ائے اس نے کہا یہ لڑکیاں اور یہ لڑکی بھی تمہارے قیبی ہیں انہیں واپس ظاہر لے چلو قاہرہ ایک نے حیران ہو کے کہا اب قہرہ جانا چاہتے ہیں ہاں اس نے کہا قاہرہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں اس ریگزار میں کب تک بھٹکتے رہو گے کہاں جاؤ گے چلو گھوڑوں پر زینے کسو اور ہر لڑکی کو ایک ایک گھوڑے کی پیٹھ پر باندھ کے لے چلو صحرا میں اونٹ کا سفر بے اواز پا ہوتا ہے گھوڑوں کے ٹاپوں کی ہلکی ہلکی اوازیں سنائی دیتی ہیں لیکن اونٹ کے پاؤں خدا نے ایسے بنائے ہیں کہ ہلکی سی اواز بھی پیدا نہیں ہوتی بالیان جس وقت مووی کے ساتھ باتیں کر رہا تھا اسے محسوس تک نہ ہوا کہ ایک اونٹ ایک چھوٹے سے ریتلے ٹیلے کی اوٹ میں کھڑا ان دونوں کو اور چھ لڑکیوں کو اور ان چھ ادمیوں کو دیکھ رہا ہے وہ صلیبی کمانڈر پارٹی کا ایک ادمی تھا اس پارٹی کا کمانڈر عقلمند ادمی تھا بالیان کے ڈیرے سے تقریبا نصف میل دور اس نے پڑاؤ کیا تھا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کا شکار اس سے نصف میل دور ہے اس نے فوجی دانشمندی سے کام لیتے ہوئے رات کو تین ادمیوں کو یہ ڈیوٹی دی تھی کہ وہ اونٹوں پر سوار ہو کر دور دور تک گھوم ائے اور جہاں انہیں کوئی خطرہ یا کام کی کوئی چیز نظر ائے ا کر اطلاع دیں اس کام کے لیے اونٹ کی سواری موضوع سواری تھی کیونکہ اس کے پاؤں کی اواز نہیں ہوتی تینوں سوار مختلف سمتوں کو چلے گئے تھے یہ سارا علاقہ ایسا تھا کہ پڑاؤ کے لیے نہایت اچھا تھا اس لیے کمانڈر نے سوچا تھا کہ یہاں کسی اور نے بھی ڈیرے ڈال رکھے ہوں گے ایک شتر سوار کو روشنی سی نظر ائی تو وہ اس طرف چل پڑا یہ ایک چھوٹی سی مشل تھی جو بالیان کے عارضی کیمپ میں جل رہی تھی شتر سوار اگے گیا تو ایک ٹیلے کے پیچھے ہو گیا یہ اتنا ہی اونچا تھا کہ اونٹ پر سوار ہو کر اگے دیکھا جا سکتا تھا اونٹ اور سوار اس کے پیچھے چپ گئے تھے اسے ہلکی ہلکی روشنیوں میں سے لڑکیاں نظر انے لگی جو بالیان کے فوجی دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگا رہی تھیں ان سے کچھ دور ایک اور لڑکی ایک ادمی کے ساتھ باتیں کرتی نظر ائی ذرا پرے باہر سے گھوڑے بندھے ہوئے تھے ان میں وہ گھوڑے بھی تھے جو ان لوگوں نے قیدیوں کے محافظوں کو قتل کر کے حاصل کیے تھے صلیبی شتر سوار نے اونٹ کو موڑا کچھ دور تک اہستہ اہستہ چلا اور پھر اونٹ دوڑا دیا اونٹ کے لیے نصف میل کا فاصلہ کچھ بھی نہیں تھا سوار نے اپنی پارٹی کو خوشخبری سنائی کہ شکار ہمارے قدموں میں ہے کمانڈر نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا شتر سوار سے ہدف کی تفصیل پوچھی اور پارٹی کو پیدل چلا دیا گھوڑے کے قدموں کی اواز سے شکار کے چکر نہ ہو جانے کا خطرہ تھا جس وقت یہ پارٹی والیان کے ڈیرے تک پہنچی بالیان حکم دے چکا تھا کہ ایک ایک لڑکی کو گھوڑے کے پیٹھ پر باندھ دو اس کے دوست حیرت زدہ ہو کر بالیان کو دیکھ رہے تھے کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے انہوں نے اس کے ساتھ بحث شروع کر دی اور وقت ضائع ہوتا رہا بالیان نے انہیں بڑی مشکل سے قائل کیا کہ جو کچھ کہہ رہا ہے ہوش ٹھکانے رکھ کر کہہ رہا ہے اور قاہرہ چلے جانے میں ہی مصلحت اور عافیت ہے لڑکیاں پریشانی کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھیں بالیان کے ادمی انہیں گھوڑوں پر زینے ڈالی اور لڑکیوں کو پکڑ لیا اچانک ان پر افت ٹوٹ پڑی بالیان نے بلند اواز سے بار بار کہا ہم ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں لڑکیوں کو قاہرہ لے کر جا رہے ہیں وہ حملہ اور کو سلطان ایوبی کے فوجی سمجھ رہا تھا لیکن ایک خنجر نے اس کے دل میں اتر کر اسے خاموش کر دیا اس کے دوست اتنے زیادہ ادمیوں کے ایسے اچانک حملے کا مقابلہ نہ کر سکے سنبھلنے سے پہلے ہی ختم ہو گئے صلیبیوں کا چھاپا کامیاب تھا لڑکیاں ازاد ہو چکی تھیں چھاپا مار فورا انہیں اپنی جگہ لے گئے انہوں نے کمانڈر کو پہچان لیا وہ بھی ان کی پارٹی کا جاسوس تھا انہوں نے رات وہیں بسر کرنے کا فیصلہ کیا اور پہرے کے لیے دو سنتری کھڑے کر دیے جو ڈیرے کے ارد گرد گھومنے لگے سلطان ایوبی کے بھیجے ہوئے سوار اس جگہ سے ابھی دور تھے جہاں سے قیدی لڑکیاں بالیان کے ادمیوں نے رہا کرائی تھیں رات کو بھی چلے جا رہے تھے وہ تعقب میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے رہنما ان کے ساتھ تھا وہ راستہ اور جگہ بھولا نہیں تھا وہ انہیں اسی جگہ لے گیا جہاں ان پر حملہ ہوا تھا ایک مشل جلا کر دیکھا گیا وہاں رابن اور اس کے ساتھیوں کی لاشیں اور ان کے محافظوں کی لاشیں پڑی تھیں یہ چینی پھاڑی اور کھائی ہوئی تھی اس وقت بھی سہرائی لومڑیاں اور گیدڑ انہیں کھا رہے تھے سواروں کو دیکھ کر یہ درندے بھاگ گئے دن کے وقت انہیں گد کھاتے رہے تھے محافظ اپنے کمانڈر کو اس جگہ لے گیا جہاں اس نے گھوڑا کھولا تھا وہاں سے مشل کی روشنی میں زمین دیکھی گئی گھوڑے کے قدموں کے نشان نظر ارہے تھے اور سمت کی نشاندہی کر رہے تھے جدھر یہ گئے تھے مگر رات کے وقت ان کے نشانوں کو دیکھ دیکھ کر چلنا بہت مشکل تھا وقت ضائع ہونے کا اور بھٹک جانے کا ڈر تھا رات کو وہیں قیام کیا گیا صلیبی پارٹی کے کیمپ میں سب جاگ رہے تھے وہ بہت خوش تھے کمانڈر نے فیصلہ کیا تھا کہ سحر کی تاریکی میں بہرہ روم کی طرف روانہ ہو جائیں گے
ENGLISH
Look, your mind has become completely useless. You have even forgotten that I am your wife. I cannot be the husband of a whore crusader. His eyes fell on the wine bottle. He picked up the bottle and threw it away. He called his friends and they broke him. He said, these girls and this girl are also yours. Bring them back. Let's go to Cairo. One of them was surprised and said now they want to go to Cairo. Yes, he said, Cairo does not need to be surprised. Where will you go? Let's saddle the horses and take each girl on the back of a horse. Let's go. The camel's journey in the desert is soundless. God has made it so that even the slightest sound is not produced. When Balyan was talking with Movi, he did not even notice that a camel standing in a small sand dune was standing in front of the two of them and six girls and these six. He was watching the men. He was a man of the crusader commander's party. The commander of this party was a wise man. He was camped about half a mile from Balian's camp. He had no idea that his victim was half a mile from him. Far away, he, acting with military wisdom, had given the duty of three men at night to ride on camels and roam far and wide and report to them wherever they saw any danger or something of interest. So the camel ride was the subject of the ride because there was no sound of his feet. The three riders had gone in different directions. This whole area was very good for camping, so the commander thought that someone else should camp here. A camel rider saw a light and he walked towards it. It was a small torch that was burning in the temporary camp of Balyan. He could see the camels and the riders behind him, and in the dim lights he could see the girls chatting with Balian's military friends. While talking, the horses were tied a little outside, among them were the horses that these people had obtained by killing the guards of the prisoners. A distance of half a mile was nothing to a camel. The rider informed his party that the hunt was at our feet. The commander did not waste a moment asking the camel rider for details of the target and sent the party on foot. There was a danger of the victim not being able to get round, when the party reached Valian's camp, Balian had ordered that one girl should be tied on the horse's back. His mind is broken, they started arguing with him and time was wasted. Balian convinced him with great difficulty that he was saying what he was saying in a secret place and it was expedient and safe to go to Cairo. The girls were looking at him worriedly, Balyan's men saddled them on their horses and grabbed the girls. The attack was thought to be Sultan Ayubi's soldiers, but a dagger struck him in the heart and silenced him. His friends could not withstand such a sudden attack by so many men. The Crusaders' raid was successful. The girls were freed and the raiders immediately took them to their place. They recognized the commander who was also a spy of their party. The riders sent by Sultan Ayyubi were still far from the place where the captive girls had been released by the people of Balyan. They were going even at night. They did not want to waste time in pursuit. Not having forgotten the place, he led them to the place where they had been attacked. A torch was lit, and there lay the bodies of Robin and his companions, and the bodies of their bodyguards. The sugar was torn and eaten. And the jackals were eating them. Seeing the riders, these beasts fled. During the day, the jackals were eating them. The guard led his commander to the place where he had untied the horse. From there, in the light of the torch, the ground was seen. The footprints of the horse. They were watching and indicating the direction where they had gone, but at night it was very difficult to walk by seeing their marks, there was fear of losing time and getting lost. Everyone was awake, they were very happy.
بہت خوش تھے کمانڈر نے فیصلہ کیا تھا کہ سحر کی تاریکی میں بہرہ روم کی طرف روانہ ہو جائیں گے اس وقت میگنا نام ریوس نے کہا کہ مقصد ابھی پورا نہیں ہوا صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنا باقی ہے کمانڈر نے کہا کہ یہ اس صورت میں ممکن تھا کہ وہ لڑکیوں کے پیچھے قاہرہ چلے جاتے اب وہ قہرہ سے بہت دور ہیں اس لیے قتل کی جاتی ہے یہ میری مہم ہے جسے موت کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا میںگنا نامر ریوس نے کہا میں نے صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے کا حلف اٹھایا تھا مجھے ایک ساتھی اور ایک لڑکی کی ضرورت ہے یہ فیصلہ مجھے کرنا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے کمانڈر نے کہا سب پر فرض ہے کہ میرا حکم مانے میں کسی کے حکم کا پابند نہیں محکمہ نامر یوز نے کہا تم سب خدا کے حکم کے پابند ہو کمانڈر نے اسے ڈانٹ دیا میگنا نامر ایوس کے پاس تلوار تھی وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کمانڈر پر تلوار سونت لی اس کے ساتھی درمیان میں اگئے مگنا نامرویوس نے کہا میں خدا کا دھتکارا ہوا انسان ہوں میں گناہ اور بے انصافی کے درمیان بھٹک رہا ہوں کیا تم جانتے ہو مجھے 30 سالوں کے لیے قید خانے میں کیوں کیا گیا تھا پانچ سال گزرے میری ایک بہن جس کی عمر 16 سال تھی اغوا کر لی گئی تھی میں غریب ادمی ہوں میرا باپ مر چکا ہے ماں اندھی ہے میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں محنت مشقت کر کے ان سب کا پیٹ پالتا تھا میں نے گرجے میں سلیب پر لڑکے ہوئے یسو مسیح کے بت سے بہت دفعہ پوچھا تھا کہ میں غریب کیوں ہوں میں نے کبھی گناہ نہیں کیا میں دیانتداری سے اتنی محنت کرتا ہوں مگر میرے کنبے کے پیٹ پھر بھی خالی رہتے ہیں میری ماں کو خدا نے کیوں اندھا کیا ہے یسو مسیح نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا اور جب کماری بہن اغوا ہو گئی تو میں نے گرجے میں جا کر کنواری مریم کی تصویر سے پوچھا تھا کہ میری کماری بہن کے کنوارے پن پر تجھے کیوں ترس نہیں ایا وہ معصوم تھی اس پر خدا نے یہ ظلم کیا تھا کہ اسے خوبصورتی دے دی تھی مجھے یسو مسیح نے بھی کوئی جواب نہیں دیا مجھے کنواری مریم نے بھی کوئی جواب نہیں دیا ایک روز مجھے ایک بہت ہی امیر ادمی کے نوکر نے بتایا کہ تمہاری بہن اس امیر ادمی کے گھر میں ہے وہ عیاش ادمی ہے کماریوں کو اغوا کراتا ہے تھوڑے دن ان کے ساتھ کھیلتا ہے اور انہیں کہیں غائب کر دیتا ہے لیکن وہ ادمی بادشاہ کے دربار میں بیٹھتا ہے لوگ اس کی عزت کرتے ہیں بادشاہ نے اسے رتبے کی تلوار دی ہے گنہگار ہوتے ہوئے خدا اس پر خوش ہے دنیا کا قانون اس کے ہاتھ میں کھلونا ہے میں اس کے گھر گیا اور اپنی بہن واپس مانگی اس نے مجھے دھکے دے کر اپنے محل سے نکال دیا میں پھر گرجے میں گیا یسو مسیح کے بت اور کنواری مریم کی تصویر کے اگے رویا خدا کو پکارا مجھے کسی نے جواب نہیں دیا میں گرچی میں اکیلا تھا پادری اگیا اس نے مجھے ڈانٹ کر گرجے سے نکال دیا کہنے لگا یہاں سے دو تصویریں چوری ہو چکی ہیں نکل جاؤ ورنہ پولیس کے حوالے کر دوں گا میں نے حیران ہو کر اس سے پوچھا کیا یہ خدا کا گھر نہیں ہے اس نے جواب دیا تو مجھ سے پوچھے بغیر خدا کے گھر میں کیسے ائے اگر گناہوں کی معافی مانگنی ہے تو میرے پاس اؤ اپنا گناہ بیان کرو میں خدا سے کہوں گا کہ تمہیں بخش دے تم خدا سے براہ راست کوئی بات نہیں کر سکتے جاؤ نکلو یہاں سے اور میرے دوستو مجھے خدا کے گھر سے نکال دیا گیا وہ ایسے لہجے میں بول رہا تھا کہ سب پر سناٹا طاری ہو گیا لڑکیوں کے انسو نکل ائے صحرا کی ریت کے سکوت میں اس کی باتوں کا اثر سب پر تلسم بن کر طاری ہو گیا وہ کہہ رہا تھا میں پادری کو یسو مسیح کے بدھ کو کماری مریم کی تصویر کو اور اس خدا کو جو مجھے گرجے میں نظر نہیں ایا شک کی نظروں سے دیکھتا نکل ایا تھا گھر گیا تو اندھی ماں نے پوچھا میری بچی ائی کہ نہیں میری بیوی نے پوچھا میرے بچوں نے پوچھا میں بھی بت اور تصویر کی طرح چپ رہا مگر میرے اندر سے ایک طوفان اٹھا اور میں باہر نکل گیا میں سارا دن گھومتا پھرتا رہا شام کے وقت میں نے ایک خنجر خریدا اور دریا کے کنارے ٹہلتا رہا رات اندھیری ہو گئی اور بہت دیر بعد میں ایک طرف چل پڑا مجھے اس محل کی بتیاں نظر ائیں جہاں میری بہن قید تھی میں بہت تیز چل پڑا اور اس محل کے پچھواڑے چلا گیا میں اتنا چالاک اور ہوشیار ادمی نہیں تھا لیکن مجھ میں چالاکی اگئی میں پچھلے دروازے سے اندر چلا گیا محل کے کسی کمرے میں شور شرابہ تھا شاید کچھ لوگ شراب پی رہے تھے میں ایک کمرے میں داخل ہوا تو ایک نوکر نے مجھے روکا میں نے خنجر اس کے سینے پر رکھ دیا اور اپنی بہن کا نام بتا کر پوچھا کہ وہ کہاں ہے نوکر مجھے اندر سیڑھیوں سے اوپر لے گیا اور وہ ایک کمرے میں داخل کر کے کہنے لگا کہ یہاں ائے میں اندر گیا تو میرے پیچھے دروازہ بند ہو گیا کمرہ خالی تھا دروازہ کھلا اور بہت سے لوگ اندر داخل ہو گئے ان کے پاس تلواریں اور ڈنڈے تھے میں نے کمرے کی چیزیں اٹھا اٹھا کر ان پر پھینکنی شروع کر دی بہت توڑ پھوڑ کی انہوں نے مجھے پکڑ لیا مجھے مارا پیٹا اور میں بے ہوش ہو گیا جب ہوش میں ایا تو ہتکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا میرے خلاف الزام یہ تھے کہ میں نے ڈاکا ڈالا بادشاہ کے درباری کا گھر برباد کیا اور تین ادمیوں کو قتل کی نیت سے زخمی کیا میری فریاد کسی نے نہ سنی اور مجھے 30 سال سزائے قید دے کر قید خانے کے جہنم میں پھینک دیا گیا ابھی پانچ سال پورے ہوئے ہیں میں انسان نہیں رہا تم قید خانے کی سختیاں نہیں جانتے دن کے وقت مویشوں کے جیسا کام لیتے ہیں اور رات کو کتوں کی طرح زنجیر ڈال کر کوٹھڑی میں بند کر دیتے ہیں مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میری اندی ماں زندہ ہے یہ مر چکی ہے بیوی بچوں کا بھی کچھ پتہ نہیں تھا مجھے خطرناک ڈاکو سمجھ کر کسی سے ملنے نہیں دیا جاتا تھا
ENGLISH
The commander was very happy. The commander had decided that he would leave for Bahraum in the darkness of dawn. At that time, Magna Reus said that the goal was not yet achieved. The commander said that in this case, the killing of Salah al-Din Ayyubi remained. It was possible that they would have followed the girls to Cairo, now they are far away from Cairo, so they are killed. I took an oath, I need a partner and a girl, I have to decide what we have to do. The commander reprimanded him. Magna Namravius ​​had a sword with him. He stood up and swung the sword at the commander. His companions intervened. I have been. Do you know why I was imprisoned for 30 years? Five years have passed. My sister who was 16 years old was kidnapped. I am a poor person. My father is dead. My mother is blind. My little ones. Children are children. I worked hard to feed them all. I was a boy on the cross in the church. I asked the idol of Jesus Christ many times why I am poor. I have never committed a sin. My stomachs are still empty. Why has God made my mother blind? Jesus Christ did not give me any answer. And when the virgin sister was kidnapped, I went to the church and asked the image of the Virgin Mary. Why didn't you pity her virginity? She was innocent. God had wronged her by giving her beauty. Even Jesus Christ did not answer me. Even the Virgin Mary did not answer me. One day, a very rich Adami's servant told that your sister is in the house of this rich Adami. I respect him, the king has given him a sword of rank. Being a sinner, God is pleased with him. The law of the world is a toy in his hands. I went to his house and asked for my sister back. Then I went to the church and cried in front of the idol of Jesus Christ and the image of the Virgin Mary. Get out, otherwise I will hand you over to the police. I was surprised and asked him if this is not God's house. Tell me your sin, I will ask God to forgive you. You can't talk to God directly. Get out of here, my friends. I have been expelled from God's house. The tears of the girls came out in the silence of the desert sand. The effect of his words became a talisman on everyone. I didn't see it. I went out looking with suspicious eyes. When I went home, the blind mother asked my daughter. My wife asked me. My children asked me. I went out I wandered all day In the evening I bought a dagger and strolled by the river The night grew dark and after a long time I walked aside I saw the lights of the palace where my sister was imprisoned I was very I walked fast and went to the back of the palace. I was not that clever and smart person but I got clever. A servant stopped me, I put the dagger on his chest and told him my sister's name and asked where she was. When I went in, the door was closed behind me, the room was empty, the door was opened and many people entered, they had swords and sticks, I started to pick up the things in the room and throw them at them. They vandalized me a lot. They caught me and beat me and I was unconscious. When I regained consciousness I was handcuffed and shackled. The charges against me were that I had robbed the king's courtier's house and injured three people with intent to murder. No one listened to my cry and I was sentenced to 30 years of imprisonment and thrown into the hell of prison. Five years have already passed. I did not know that my mother was alive, she was dead, I did not know anything about my wife and children. I was considered a dangerous robber and was not allowed to meet anyone.

No comments:

Post a Comment