The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode15
سچا سنا تھا کہ خدا بے گناہوں کو سزا نہیں دیتا مگر مجھے خدا نے کس گناہ کی سزا دی تھی میرے بچوں کو کس گناہ کی سزا دی تھی میں پانچ سال اسی الجھن میں مبتلا رہا کچھ دن گزرے فوج کے دو افسر قید خانے میں ائے وہ اس کام کے لیے جس پر ہم ائے ہوئے ہیں ادمی تلاش کر رہے تھے میں اپنے اپ کو پیش نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ یہ بادشاہوں کے لڑائی جھگڑے تھے لیکن میں نے جب سنا کہ چند ایک عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے ازاد کرانا ہے تو میرے دل میں اپنی بہن کا خیال اگیا ہمیں بتایا گیا تھا کہ مسلمان قابل نفرت قوم ہیں میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے ازاد کراؤں گا تو خدا اگر سچا ہے تو میری بہن کو اس ظالم عیسائی کے پنجے سے چھڑا دے گا پھر فوجی افسروں نے کہا کہ ایک مسلمان بادشاہ کو قتل کرنا ہے تو میں نے اسے جزا کا کام سمجھا اور اپنے اپ کو پیش کر دیا مگر شرط یہ رکھی کہ مجھے اتنی رقم دی جائے جو میں اپنے کنبے کو دے سکوں انہوں نے رقم دینے کا وعدہ کیا اور یہ بھی کہا کہ تم سمندر پار مارے گئے تو تمہارے کنبے کو اتنی زیادہ رقم دی جائے گی کہ ساری عمر کے لیے وہ کسی کے محتاج نہیں رہیں گے اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف اشارہ کر کے کہا یہ دو میرے ساتھ قید خانے میں تھے انہوں نے بھی اپنے اپ کو پیش کر دیا ہم سے سینکڑوں باتیں پوچھی گئی ہم تینوں نے انہیں یقین دلایا کہ ہم اپنی قوم اور اپنے مذہب کو دھوکہ نہیں دیں گے میں نے دراصل اپنے کنبے کے لیے اپنی جان فروخت کر دی ہے قید خانے سے نکالنے سے پہلے ایک پادری نے ہمیں بتایا کہ مسلمانوں کا قتل عام تمام گناہ بخشوا دیتا ہے اور عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے ازاد کراؤ گے تو سیدھے جنت میں جاؤ گے میں نے پادری سے پوچھا کہ خدا کہاں ہے اس نے جو جواب دیا اس سے میری تسلی نہ ہوئی میں نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا ہمیں باہر نکالا گیا مجھے میرے گھر لے گئے میرے گھر والوں کو انہوں نے بہت سی رقم دی میں مطمئن ہو گیا اب میرے دوستو مجھے اپنا حلف پورا کرنا ہے میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ میرا خدا کہاں ہے کیا ایک مسلمان بادشاہ کو قتل کر کے خدا نظر ا جائے گا تم پاگل ہو کمانڈر نے کہا تم نے جتنی باتیں کی ہیں تم نے جتنی باتیں کی ہیں ان میں مجھے عقل کی ذرا سی بھو بھی نہیں ائی اس نے بڑی اچھی باتیں کی ہیں اس کے ایک ساتھی نے کہا میں اس کا ساتھ دوں گا مجھے ایک لڑکی کی ضرورت ہے میگنا نامرویوس نے لڑکیوں کی طرف دیکھ کر کہا میں لڑکی کی جان اور عزت کا ذمہ دار ہوں لڑکی کے بغیر میں صلاح الدین ایوبی تک نہیں پہنچ سکوں گا جب سے ایا ہوں سوچ رہا ہوں کہ صلاح الدین ایوبی کے ساتھ تنہائی میں کس طرح مل سکتا ہوں موبی اٹھ کر اس کے ساتھ جا کھڑی ہوئی اور بولی میں اس کے ساتھ جاؤں گی ہم تمہیں بڑی مشکل سے ازاد کرا کے لائے ہیں وہ بھی کمانڈر نے کہا میں تمہیں ایسی خطرناک مہم پر جانے کی اجازت نہیں دے سکتا مجھے اپنی عصمت کا انتقام لینا ہے مبین نے کہا میں صلاح الدین ایوبی کے خوابگاہ میں اسانی سے داخل ہو سکتی ہوں مجھے معلوم ہے کہ مسلمانوں کا رتبہ جتنا اونچا ہوتا ہے وہ خوبصورت لڑکیوں کا اتنا ہی زیادہ شیدائی ہو جاتا ہے صلاح الدین ایوبی کو محسوس تک نہ ہوگا کہ وہ اپنی زندگی میں اخری لڑکی دیکھ رہا ہے بہت دیر کی بحث و تکرار کے بعد میگنل ایم ریوز اپنے ایک ساتھی اور موبی کے ساتھ اپنی پارٹی سے رخصت ہوا سب نے انہیں دعاؤں کے ساتھ الودا کہا انہوں نے دو اونٹ لیے ایک پر موبی سوار ہوئی اور دوسرے پر دونوں مرد ان کے پاس مصر کے سکے تھے اور سونے کی اشرفیاں بھی دونوں مردوں نے چغلے اوڑ لیے تھے میگنا نامروز کی داڑھی خاصی لمبی ہو گئی تھی قید خانے میں دھوپ میں مشقت کر کے اس کا رنگ اٹلی کے باشندوں کی طرح گورا نہیں رہا تھا گورا نہیں رہا تھا بلکہ سیاہی مائل ہو گیا تھا اس سے اس پر شک نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ یورپی ہے بحث بدلنے کے لیے انہیں کپڑے دے کر بھیجا گیا تھا مگر ایک رکاوٹ تھی جس کا بظاہر کوئی علاج نہیں تھا وہ یہ کہ میگنہ نامر یوز اٹلی کی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتا تھا مبی مصر کی زبان بول سکتی تھی دوسرا جو ادمی ان کے ساتھ گیا تھا وہ بھی مصر کی زبان نہیں جانتا تھا انہیں اس کا کوئی علاج کرنا تھا وہ رات کو ہی چل پڑے مبی راستے سے واقف ہو چکی تھی وہ قاہرہ ہی سے ائی تھی میگنا نامروز نے اس پر بھی ایک چغڑ ڈال دیا اور اس کے سر پر دوپٹے کی طرح چادر اڑا دی صبح کی روشنی میں سلطان ایوبی کے ان سواروں کا دستہ جو ان کے تعاقب میں گیا تھا گھوڑوں کے کھرے دیکھ کر روانہ ہو گیا یہ بہت سے گھوڑوں کے نشان تھے جو چھپ ہی نہیں سکتے تھے سب سے پہلے صلیبیوں کی پارٹی لڑکیوں کو ساتھ لے کر چل پڑی ان کی رفتار خاصی تیز تھی ان کے تعاقب میں جانے والوں کا سفر رک گیا کیونکہ رات کے وقت وہ زمین کو نہیں دیکھ سکتے تھے مگر صلیبیوں نے سفر جاری رکھا وہ ادھی رات کے وقت پڑاؤ کرنا چاہتے تھے وہ بہت جلدی میں تھے صبح کے دھندھلکے میں سریبی جو ادھی رات کے وقت رکے تھے چل پڑے ان کے تعاقب میں جانے والوں کی پارٹی صبح کی روشنی میں روانہ ہوئی میگنا نامر یوز نے عقلمندی کی تھی کہ وہ اونٹوں پر گیا تھا اونٹ بھوک اور پیاس کی پرواہ نہیں کرتا رکے بغیر گھوڑے کی نسبت بہت زیادہ سفر کر لیتا ہے اس سے میگنل نامر یوز کا سفر تیزی سے طے ہو رہا تھا سورج غروب ہونے میں ابھی دیر تھی جب انہیں لاشیں نظر ائیں علی بن سفیان کے نائب نے بالیان کی لاش پہچان لی اس کا چہرہ سلامت تھا اس کے قریب اس کے چھ دوستوں کی لاشیں پڑی تھی
ENGLISH
I had heard the truth that God does not punish the innocent, but for what sin did God punish me and what sin did my children punish? I was in the same confusion for five years. I did not want to offer myself for the work on which we came looking for men, because these were the battles of kings, but when I heard that some Christian girls were to be freed from the captivity of the Muslims, I thought of my sister in my heart. We were told that Muslims are a hateful people. I decided that I would free the Christian girls from the prison of Muslims. If God is true, save my sister from the clutches of this cruel Christian. Then the military officers said that they want to kill a Muslim king, so I considered it as a reward and offered myself, but the condition was that I should be given enough money that I can give to my family. He promised to give money and also said that if you are killed across the sea, your family will be given so much money that they will not be in need of anyone for the rest of their lives. We were asked hundreds of things. The three of us assured them that we will not betray our nation and our religion. I actually sold my life for my family. Before we were taken out of the prison, a priest told us that the massacre of Muslims forgives all sins and if Christian girls are freed from the prison of Muslims, they will go straight to heaven. I asked the priest where God is. I was not satisfied with the answer I gave, I put my hands on the cross and took an oath. I want to see where my God is, will God be seen by killing a Muslim king, you are crazy, the commander said. Ay, he has spoken very well, one of his colleagues said, I will support him, I need a girl. I will not be able to reach Al-Din Ayyubi since I came I am thinking how can I meet Salah Al-Din Ayyubi alone Mobi got up and went with him and said I will go with him we will free you with great difficulty. The commander said, "I can't allow you to go on such a dangerous campaign. I want to take revenge for my iniquity." The higher the rank, the more he becomes obsessed with beautiful girls. Salahuddin Ayyubi will not even realize that he is seeing the last girl in his life. He left his party with them. They all bade him good-bye with prayers. They took two camels, on one Mobi rode and on the other the two men. They had Egyptian coins and gold ashrafis. Namroz's beard had grown very long from toiling in the sun in the prison, and his color was no longer white like that of the Italians, but rather black, so that there could be no doubt that he was He was sent with clothes to change the European debate, but there was one obstacle that seemed to have no remedy, that Magna Namar knew no other language than Italian, Mabi could speak the language of Egypt. Adami had gone with them, he also did not know the Egyptian language, they had to treat him, he had walked at night, he had become familiar with the route, he had come from Cairo, Magna Namroz threw a whip on him too. And threw a cloak over his head like a turban. In the morning light, the troop of Sultan Ayubi's horsemen who had gone in pursuit of him, saw the hooves of horses and set off. These were the marks of many horses that could not be hidden. The first party of crusaders set off with the girls, their speed was very fast. Wanting to halt in time, they were in a hurry In the mist of the morning Seribis who had halted at midnight set out The party of pursuers set out in the morning light Magna Namar Yus was wise enough to go on camels. A camel does not care about hunger and thirst, it travels much farther than a horse without stopping. This made the journey of Magniel Namar Yus faster. It was still late in the sunset when he saw the bodies. He recognized Balyan's body, his face was intact, and the bodies of six of his friends were lying near him
سفیان کے نائب نے بالیان کی لاش پہچان لی اس کا چہرہ سلامت تھا اس کے قریب اس کے چھ دوستوں کی لاشیں پڑی تھیں گردوں اور درندوں نے زیادہ تر گوشت کھا لیا تھا سوار حیران تھے کہ یہ کیا معاملہ ہے خون بتاتا تھا کہ انہیں مرے ہوئے زیادہ دن نہیں گزرے اگر یہ بغاوت کی رات مرے ہوتے تو خون کا نشان نہ ہوتا اور ان کی صرف ہڈیاں رہ جاتی یہ ایک معمہ تھا جسے کوئی نہ سمجھ سکا وہاں سے پھر گھوڑوں کے نشان چلے سواروں نے گھوڑے دوڑا دیے نصف میل تک گئے تو اونٹوں کے پاؤں کے نشان بھی نظر ائے وہ بڑھتے ہی چلے گئے سورج غروب ہوا تو بھی نہیں رکے کیونکہ اب مٹی کے اونچے نیچے ٹیلوں کا علاقہ شروع ہو گیا تھا جس میں ایک راستہ بل کھاتا ہوا گزرتا تھا اس کے علاوہ وہاں سے گزرنے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا صلیبی اسی راستے سے گزرے تھے اور بہرہ روم کی طرف چلے جا رہے تھے ٹیلوں کا علاقہ دور تک پھیلا ہوا تھا وہاں سے تعقب کرنے والے نکلے تو رک گئے کیونکہ اگے ریتلا میدان اگیا تھا صبح کے وقت چلے تو کسی نے کہا سمندر کی ہوا انے لگی ہے سمندر دور نہیں تھا مگر صلیبی ابھی تک نظر نہیں ارہے تھے راستے میں ایک جگہ کھانے کے بچے کچھ ایک ٹکڑوں سے پتہ چلا کہ رات یہاں کچھ لوگ رکے تھے گھوڑے بھی یہیں باندھے گئے تھے پھر یہ گھوڑے وہاں سے چلے زمین کو دیکھ کر تعقب کرنے والوں نے گھوڑوں کو ایڑیں لگا دی سورج اپنا سفر طے کرتا گیا اور اگے نکل گیا گھوڑوں کو ایک جگہ ارام دیا گیا پانی پلایا اور یہ دستہ روانہ ہو گیا سمندر کی ہوائیں تیز ہو گئی تھیں اور ان میں سمندر کی بو صاف محسوس ہوتی تھی پھر ساحل کی چٹانیں نظر انے لگیں زمین جتا رہی تھی کہ گھوڑے اگے اگے جا رہے ہیں اور یہ بے شمار گھوڑے ہیں ساحل کی چٹانیں گھوڑوں کی رفتار سے قریب ارہی تھی تعقب کرنے والوں کو ایک چٹان پر دو ادمی نظر ائے وہ اسی طرف دیکھ رہے تھے وہ تیزی سے سمندر کی طرف اتر گئے گھوڑے اور تیز ہو گئے چٹانوں کے قریب گئے تو انہیں گھوڑے روکنے پڑے کیونکہ کئی جگہوں سے چٹانوں کے پیچھے جایا جا سکتا تھا ایک ادمی کو چٹان پر چڑھ کے اگے دیکھنے کو بھیجا گیا وہ ادمی گھوڑے سے اتر کر دوڑتا گیا اور ایک چٹان پر چڑھنے لگا اوپر جا کر اس نے لیٹ کر دوسری طرف دیکھا اور پیچھے ہٹایا وہیں سے اس نے سواروں کو اشارہ کیا کہ پیدل اؤ سوار گھوڑوں سے اترے اور دوڑتے ہوئے چٹان تک گئے سب سے پہلے علی بن سفیان کا نائب اوپر گیا اس نے اگے دیکھا اور دوڑ کر نیچے اترا اس نے اپنے دستے کو بکھیر دیا اور انہیں مختلف جگہوں پر جانے کو کہا دوسری طرف سے گھوڑوں کے ہنہنانے کی اوازیں ارہی تھیں صلیبی وہاں موجود تھے یہ وہ جگہ تھی جہاں سمندر چٹانوں کو کاٹ کر اندر ا جاتا تھا اس پارٹی نے اپنی کشتی وہیں باندھی تھی وہ گھوڑوں سے اتر کر کشتی میں سوار ہو رہے تھے کشتی بہت بڑی تھی لڑکیاں کشتی میں سوار ہو چکی تھی گھوڑے چھوڑ دیے گئے تھے اچانک ان پر تیر برسنے لگے تمام کو ہلاک نہیں کرنا تھا انہیں زندہ پکڑنا تھا بہت سے کشتی میں کود گئے اور کشتی کے چپو مارنے لگے پیچھے جو رہ گئے وہ تیروں کا نشانہ بن گئے تھے کشتی میں جانے والوں کو للکارا گیا مگر وہ نہ رکے وہاں سمندر گہرا تھا کشتی اہستہ اہستہ جا رہی تھی ادھر سے اشارے پر تیر اندازوں نے کشتی پر تیر برسا دیے جب پاؤں کی حرکت بند ہو گئی کھیروں کی دوسری باڑ اگئی پھر تیسری اور چوتھی باڑ لاشوں میں پیوست ہو گئی ان میں اب کوئی بھی زندہ نہ رہا کشتی وہیں ڈولنے لگی سمندر کی موجیں ساحل کی طرف اتی اور چٹانوں سے ٹکرا کر واپس چلی جاتی تھیں ذرا سی دیر میں کشتی ساحل پر واپس اگئی سواروں نے نیچے جا کر کشتی پکڑ لی وہاں صرف لاشیں تھیں لڑکیاں بھی مر چکی تھیں بعض کو دو دو تیر لگے تھے کشتی کو باندھ دیا گیا اور سواروں کا دستہ محاز کی طرف روانہ ہو گیا کیمپ دور نہیں تھا میگنل نام ریوس قاہرہ کی ایک سرائے میں قیام پذیر تھا اس سرائے کا ایک حصہ عام اور کمتر مسافروں کے لیے تھا اور دوسرا حصہ عمرہ اور اونچی حیثیت کے مسافروں کے لیے اس حصے میں دولت مند تاجر بھی قیام کرتے تھے ان کے لیے شراب اور ناچ نگانے والیاں بھی مہیا کی جاتی تھیں میگنا نام ریز اسی خاص حصے میں ٹھہرا موبی کو اس نے اپنی بیوی بتایا اور اپنے ساتھی کو معتمد ملازم موبی کی خوبصورتی اور جوانی نے سرائے والوں پر میگنا نمبر یوز کا روپ طاری کر دیا ایسی حسین اور جوان بیوی کسی بڑے دولت مندگی کی ہو سکتی تھی سرائے والوں نے اس کی طرف خصوصی توجہ دی موبی نے اپنے اپ کو مسلمان ظاہر کر کے صلاح الدین ایوبی کے گھر اور دفتر کے متعلق معلومات حاصل کر لی اس نے یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کو معافی دے دی ہے اور سوڈانی فوج توڑ دی ہے اسے یہ بھی پتہ چل گیا کہ سوڈانی سالاروں اور کمانداروں وغیرہ کے حرم خالی کر دیے گئے ہیں اور یہ بھی کہ انہیں زرعی زمینیں دی جا رہی ہیں یہ میگنہ نام ریوز کی غیر معمولی دلیری تھی یا غیر معمولی حماقت کہ وہ اس ملک کی زبان تک نہیں جانتا تھا پھر بھی اتنے خطرناک مشن پر اگیا تھا اسے اس قسم کے قتل کی اور اتنے بڑے رتبے کے انسان تک رسائی حاصل کرنے کی کوئی ٹریننگ نہیں دی گئی تھی
ENGLISH
Sufyan's deputy recognized Balyan's body. His face was intact. Near him lay the bodies of six of his friends. The kidneys and beasts had eaten most of the flesh. The riders wondered what was the matter. The blood told them that they were dead. Not many days had passed, if they had died on the night of the uprising, there would have been no sign of blood and only their bones would have remained. It was a mystery that no one could understand. The footprints of the camels were also seen and they continued to advance, even when the sun went down, they did not stop, because now the area of dunes had started under the soil, in which a path was going through, apart from passing through there and There was no way. The crusaders had passed through the same route and were going towards Bahra-Rum. The area of dunes stretched far away. When the pursuers left there, they stopped because the sandy plain was raised ahead. The sea breeze is blowing. The sea was not far away, but the Crusaders were not yet visible. At one place on the way, it was found that some people had stopped here at night, and the horses were also tied here. Then these horses left from there. Seeing the land, the pursuers put their heels on the horses, the sun continued its journey and went forward, the horses were given a rest and watered, and the troop set off. The smell was clear, then the rocks of the coast began to be seen, the ground was shining that the horses were moving forward and there were many horses, the rocks of the coast were approaching at the speed of the horses. They were looking in the same direction, the horses quickly went down towards the sea and got closer to the rocks, so they had to stop the horses because the rocks could be followed from many places. He got down from his horse and ran and climbed a rock. He lay down and looked to the other side. Before Ali bin Sufyan's deputy went up, he looked ahead and ran down, he dispersed his troops and told them to go to different places. There was a place where the sea cut through the rocks and came in. The party had moored their boat there. They got off their horses and were getting into the boat. The boat was very big. It started raining not to kill all of them but to capture them alive Many jumped into the boat and started to thrash the boat, those who stayed behind were the targets of arrows The people in the boat were challenged but they did not stop there the sea was deep. The boat was going slowly, on a signal from here, the archers shot arrows at the boat, when the movement of the feet stopped, the second fence of the custards fell, then the third and fourth fences were attached to the bodies, and no one was left alive in the boat. The waves of the sea started rolling towards the shore and hit the rocks and went back. After a while, the boat returned to the shore. The sailors went down and caught the boat. There were only dead bodies. The boat was moored and the horsemen set off for Mahaz. The camp was not far away. Magnal Rius was staying at an inn in Cairo, one part of which was for ordinary and inferior travelers and the other part was for Umrah and high status. Wealthy merchants also used to stay in this part for the passengers, and they were also provided with wine and dancing girls. Magna named Riz stayed in this particular part. Beauty and youth made the innkeepers look like Magna No. Such a beautiful and young wife could have belonged to someone of great wealth. The innkeepers paid special attention to her. Having obtained information about the house and office, he also found out that Sultan Ayubi had pardoned the Sudanese and disbanded the Sudanese army. have gone and also that they are being given agricultural lands. It was the extraordinary courage or the extraordinary stupidity of Meghna Reeves that he did not even know the language of this country yet went on such a dangerous mission to kill him like this. And no training was given to gain access to a man of such high rank
وہ ذہنی لحاظ سے انتشار اور خلفشار کا مریض تھا پھر بھی وہ صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے ایا جس کے ارد گرد محافظوں کا پورا دستہ موجود رہتا تھا اس کے دستے کے کمانڈر نے اسے کہا تھا کہ تم پاگل ہو تم نے جتنی باتیں کی ہیں ان میں مجھے ذرا سی بھی عقل کی بو نہیں ائی بظاہر محکمہ نام رویوس پاگل ہی تھا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بڑے ادمیوں کو قتل کرنے والے عموما پاگل ہوتے ہیں اگر پاگل نہیں تو ان کے ذہنی توازن میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوتی ہے یہی کیفیت اٹلی کے اس سزا یافتہ ادمی کی تھی اس کے پاس ایک ہتھیار ایسا تھا جو ڈھال کا کام بھی دے سکتا تھا یہ تھی موبی موبی صرف مصر کی زبان ہی نہیں جانتی تھی بلکہ اسے اور اس کی مری ہوئی چھ ساتھی لڑکیوں کو مصری اور عربی مسلمان کے رہن سہن تہذیب و تمدن اور دیگر معاشرتی اونچ نیچ کے متعلق لمبے عرصے کے لیے ٹریننگ دی گئی تھی وہ مسلمان مردوں کی نفسیات سے بھی واقف تھی اداکاری کی ماہر تھی اور سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ مردوں کو انگلیوں پر نچانا اور بوقت ضرورت اپنا پورا جسم ننگا کر کے کسی مرد کو پیش کرنا بھی جانتی تھی یہ تو کوئی نہیں بتا سکتا کہ بند کمرے میں میگنہ نام ریوز موبی اور ان کے ساتھی نے کیا باتیں کی اور کیا منصوبہ بنایا البتہ ایسا ثبوت پرانی تحریروں میں ملتا ہے کہ چار روز سرائے میں قیام کے بعد میگنہ نامرویس باہر نکلا تو اس کی داڑھی دھلی دھلائی تھی اس کے چہرے کا رنگ سوڈانیوں کی طرح گہرا تھا جو مصنوعی ہو سکتا تھا لیکن مصنوعی لگتا نہیں تھا اس نے معمولی قسم کا چوغا اور سر پر معمولی قسم کا رومال اور امامہ باندھ رکھا تھا موبی سر سے پاؤں تک سیاہ برقہ نما لبادے میں تھی اور اس کے چہرے پر باریک نقاب اس طرح پڑا تھا کہ ہونٹ اور ٹھوڑی ڈکی ہوئی تھی پیشانی تک چہرہ ننگا تھا پیشانی پر اس کے بھورے ریشمی بال پڑے ہوئے تھے اور اس کا حسن ایسا نکھرا ہوا تھا کہ راہ جاتے لوگ رک کر دیکھتے تھے ان کا ساتھی معمولی سے لباس میں تھا جس سے پتہ چلتا تھا کہ نوکر ہے سرائے کے باہر دو نہایت اعلی نسل کے گھوڑے کھڑے تھے یہ سرائے والوں نے میگنہ نامر یوز کے لیے اجرت پر منگوائے تھے کیونکہ اس نے کہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ سیر کے لیے جانا چاہتا ہے میکنا نامر یوز اور موبی گھوڑوں پر سوار ہو گئے اور جب گھوڑے چلے تو ان کا ساتھی نوکروں کی طرح پیچھے پیچھے چل پڑا صلاح الدین ایوبی اپنے نائبین کو سامنے بٹھائے سوڈانیوں سے متعلق احکامات دے رہے تھے اور یہ کام بہت جلدی ختم کرنا چاہتے تھے کیونکہ انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ سلطان زنگی رحمت اللہ علیہ کی بھیجی ہوئی فوج مصر کی نئی فوج اور وفادار سوڈانیوں کو ساتھ ملا کر ایک فوج بنائیں گے اور فوری طور پر یروشلم پر چڑھائی کریں گے بہرہ روم کی شکست کے بعد جبکہ سلطان زنگی نے فرینکیوں کو بھی شکست دے دی تھی ایک لمبے عرصے تک صلیبیوں کے سنبھلنے کا کوئی امکان نہیں تھا ان کے سنبھلنے سے پہلے ہی سلطان ایوبی ان سے یروشلم چھیننے کا منصوبہ بنا چکے تھے اس سے پہلے وہ سوڈانیوں کو زمینوں پر اباد کر دینا چاہتے تھے تاکہ کھیتی باڑی میں الجھ جائیں اور ان کی بغاوت کا امکان نہ رہے نئی فوج کی تنظیم نو اور ہزارہ سوڈانیوں کو زمینوں پر اباد کرنے کا کام اسان نہیں تھا ان دونوں کاموں میں خطرہ یہ تھا کہ سلطان ایوبی کی فوج اور اپنی انتظامیہ میں ایسے اعلی افسر موجود تھے جو انہیں مصر کی عمارت کے سربراہ کی حیثیت سے نہیں دیکھ سکتے تھے سوڈانیوں کی فوج کو توڑ کر بھی سلطان ایوبی نے اپنے خلاف خطرہ کھڑا کر لیا تھا اس فوج کے چند ایک اعلی حکام زندہ تھے انہوں نے سلطان کی اطاعت قبول کر لی تھی مگر علی بن سفیان کی انٹیلیجنس بتا رہی تھی کہ بغاوت کی راکھ میں ابھی کچھ چنگاریاں موجود ہیں انٹیلیجنس کی رپورٹ یہ بھی تھی کہ ان کے باغی سربراہوں کو اپنی شکست کا اتنا افسوس نہیں تھا جتنا صلیبیوں کی شکست کا لمح ہے کیونکہ وہ بغاوت دب جانے کے بعد بھی صلیبیوں سے مدد لینا چاہتے تھے اور مصر کی انتظامیہ اور فوج کے دو تین اعلی حکام کو سوڈانیوں کی شکست کا افسوس تھا کیونکہ وہ اس لگائے بیٹھے تھے کہ صلاح الدین ایوبی مارا جائے گا یا بھاگ جائے گا یہ ایمان فروشوں کا ٹولہ تھا لیکن سلطان ایوبی کا ایمان مضبوط تھا انہوں نے مخالفین سے واقف ہوتے ہوئے بھی ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی ان کے ساتھ نرمی سے اور خلوص سے پیش اتے رہے کسی محفل میں انہوں نے ان کے خلاف کوئی بات نہ کی اور جب کبھی انہوں نے ماتحتوں اور فوج سے خطاب کیا تو ایسے الفاظ کبھی نہ کہے کہ میں اپنے مخالفین کو مزہ چکھا دوں گا کبھی دھمکی امیز یا تنزیہ الفاظ استعمال نہیں کیے البتہ ایسے الفاظ اکثر ان کے منہ سے نکلتے تھے جیسے اگر کسی ساتھی کو ایمان بیچتا دیکھو تو اسے روکو اسے یاد دلاؤ کہ وہ مسلمان ہے اور اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کرو تاکہ وہ دشمن کے اثر سے ازاد ہو جائے لیکن درپردہ وہ مخالفین کی سرگرمیوں سے باخبر رہتے تھے علی بن سفیان کا محکمہ بہت ہی زیادہ مصروف ہو گیا تھا سلطان ایوبی کو زیر زمین سیاست کی اطلاعیں باقاعدگی سے دی جا رہی تھی اب اس محکمے کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ گئی تھی محافظوں اور شتربانوں کے قتل کی اطلاع بھی قاہرہ ا چکی تھی اس سے پہلے جاسو سب کا گروہ جس میں لڑکیاں بھی تھیں محافظوں سے نامعلوم افراد نے ازاد کرا لیا تھا ان دو واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ ملک میں صلیبی جاسوس اور چھاپہ مار
ENGLISH
He was mentally deranged and disturbed, yet he came to kill Salah al-Din Ayyubi, surrounded by a whole body of guards. I did not smell any sense in them. Apparently, the department named Royos was crazy. It is a historical fact that those who kill big people are usually crazy, if not crazy, then there must be something wrong with their mental balance. This was the situation of this Italian convict. He had a weapon that could also serve as a shield. It was Mobi. She was trained for a long time about the Arab Muslim way of life, culture and other social ups and downs. She was also familiar with the psychology of Muslim men. And when needed, she also knew how to expose her whole body to a man. No one can tell what Meghna Reeves Mobi and his partner discussed and planned in the closed room. It is said that after staying in the inn for four days, Magna Namrovis came out, his beard was washed, his face was dark like Sudanese, which could be artificial, but it did not look artificial. Mobi was wearing a headscarf and an imama, and she was wearing a black burqa-like robe from head to toe, and her face was covered with a thin veil, her lips and chin were pursed, and her face was bare up to her forehead. and his beauty was so bright that people passing by would stop and look at his companion, who was dressed modestly, which showed that he was a servant. Namar had called for the wages for Yuz because he said he wanted to go for a walk with his wife, so Namar Yuz and Moby got on the horses and when the horses moved, his partner followed like servants. Salah al-Din Ayyubi was sitting in front of his deputies giving orders about the Sudanese and wanted to finish this job very quickly because he had decided that the army sent by Sultan Zangi, may Allah bless him and grant him peace, would accompany the new army of Egypt and the loyal Sudanese. They would combine to form an army and immediately march on Jerusalem. Sultan Ayyubi had planned to take Jerusalem from them before he wanted to settle the Sudanese on the lands so that they would be involved in farming and there would be no possibility of their rebellion, the reorganization of the new army and the Hazara Sudanese settled on the lands. The task was not easy. The danger in both of these tasks was that there were senior officers in Sultan Ayyubi's army and administration who could not see him as the head of the building of Egypt. A few high officials of this army were alive and they had accepted the Sultan's obedience, but the intelligence of Ali bin Sufyan was telling that there were still some sparks in the ashes of the rebellion. It was said that their rebel leaders did not regret their defeat as much as the defeat of the Crusaders, because they wanted to get help from the Crusaders even after the rebellion was suppressed, and two or three high officials of the Egyptian administration and army were disappointed by the defeat of the Sudanese. It was a pity because they were thinking that Salah al-Din Ayyubi would be killed or run away. It was a group of traitors, but Sultan Ayyubi's faith was strong. He did not take any action against them even though he was aware of the opponents. He treated them gently and sincerely and never spoke against them in any gathering and whenever he addressed the subordinates and the army, he never uttered such words as "I will make my opponents taste fun" and never threatened them. or did not use derogatory words, but such words often came out of their mouths like if you see a fellow selling faith, stop him, remind him that he is a Muslim and treat him like a Muslim so that he is free from the influence of the enemy. But behind the scenes, they were aware of the activities of the opponents. Ali bin Sufyan's department had become very busy. Sultan Ayubi was being regularly informed about the underground politics. Now the responsibility of this department had increased more. The news of the killing of the Shatrabans had also reached Cairo before the Jasu Sab group, which included girls, had been freed by unknown persons from the guards.
دو واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ ملک میں صلیبی جاسوس اور چھاپہ مار موجود ہیں اور یہ بھی ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں یہاں کے باشندوں کی پشت پناہی اور پناہ حاصل ہے ابھی یہ اطلاع نہیں پہنچی تھی کہ چھاپہ ماروں اور لڑکیوں کو عین اس وقت ختم کر دیا گیا ہے جب وہ کشتی میں سوار ہو رہے تھے چھاپہ ماروں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فوج کے دو نہ کر دیے گئے اور انٹیلیجنس کے نظام کو اور زیادہ وسیع کر دیا گیا تھا صلاح الدین ایوبی قدر پریشان بھی تھے وہ کیا عزم لے کر مصر میں ائے تھے اور اب سلطنت اسلامیہ کے استحکام اور وسعت کے لیے انہوں نے کیا کیا منصوبے بنائے تھے مگر ان کے خلاف زمین کے اوپر سے بھی اور زمین کے نیچے سے بھی ایسا طوفان اٹھا تھا کہ ان کے منصوبے لرزنے لگے تھے انہیں پریشانی یہ تھی کہ مسلمانوں کی تلوار مسلمانوں کی گردن پر لٹک رہی تھی سلطنت اسلامیہ کے خلافت بھی سازشوں کے جال میں الجھ کر سازشوں کا حصہ اور اعلی کار بن گئی تھی زن اور زر نے عرب کی سرزمین کو ہلا ڈالا تھا سلطان ایوبی اس سے بھی بے خبر نہیں تھے کہ انہیں قتل کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں لیکن اس پر وہ کبھی پریشان نہیں ہوئے تھے کہا کرتے تھے کہ میری جان اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کی ذات باری کو جب زمین پر میرا وجود بیکار لگے تو مجھے اٹھا لے گا لہذا انہوں نے اپنے طور پر اپنی حفاظت کا کبھی فکر نہیں کیا تھا یہ تو ان کی فوجی انتظامیہ کا بندوبست تھا کہ ان کے گرد محافظوں کے دستے اور انٹیلیجنس کے ادمی موجود رہتے اور علی بن سفیان تو اس معاملے میں بہت چوکس تھا ایک تو یہ اس کی ڈیوٹی تھی دوسرے یہ کہ وہ سلطان ایوبی کو اپنا پیر و مرشد سمجھتا تھا
ENGLISH
Two incidents proved that there were Crusader spies and raiders in the country, and it appeared that they had the support and shelter of the natives. When he was boarding the boat, the army was not divided and the intelligence system was expanded to prevent raiders. Salahuddin Ayyubi was also worried. They had come to Egypt and now what plans had they made for the stability and expansion of the Islamic Empire, but such a storm arose against them from above the earth and from below the earth that their plans began to shake. The problem was that the sword of the Muslims was hanging on the neck of the Muslims, the caliphate of the Islamic Empire was also entangled in the web of conspiracies and became a part of the conspiracies and became the supreme car. They were not unaware that there were conspiracies to kill them, but they were never worried about it. They used to say that my life is in the hands of Allah. Therefore, he had never worried about his own safety. It was the arrangement of his military administration that he was surrounded by guards and intelligence officers, and Ali bin Sufyan was very vigilant in this matter. His duty was that he considered Sultan Ayubi as his peer and mentor

No comments:
Post a Comment