The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode16
اور ہدایات دے رہے تھے جب دو گھوڑے ان کے محافظ دستے کی بنائی ہوئی حد پر رکے انہیں محافظوں کے کمانڈر نے روک لیا تھا سوار میگنا نامر یوز اور منہ
بھی تھے دو گھوڑوں سے اترے تو گھوڑوں کی باگیں ان کے ساتھی نے تھام لی موبی نے کمانڈر سے کہا کہ وہ اپنے باپ کو ساتھ لائی ہے سلطان ایوبی سے ملنا ہے کمانڈر نے میگنو نام ریس سے بات کی اور ملاقات کی وجہ سے اس کی بات سنی ہی نہ ہو وہ یہ زبان سمجھتا ہی نہ تھا مبنی نے اپنا نام اسلامی بتایا تھا اس کے کمانڈر سے کہا اس سے بات کرنا بےکار ہے یہ گونگا اور بہرہ ہے ملاقات کا مقصد ہم سلطان کو یا اس کے کسی بڑے افسر کو بتائیں گے علی بن سفیان باہر ٹہل رہا تھا اس نے میگنا نامروز اور موبی کو دیکھا تو ان کے پاس اگیا اس نے السلام علیکم کہا تم موبی نے وعلیکم السلام کہا کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ سلطان سے ملنا چاہتے ہیں علی بن سفیان نے میگڈا نامر یوز سے ملاقات کی وجہ پوچھی تو موبی نے اسے بھی کہا کہ یہ میرا باپ ہے گونگا اور بہرہ ہے علی بن سفیان نے انہیں بتایا کہ سلطان بہت مصروف ہیں فارغ ہو جائیں گے تو ان سے ملاقات کا وقت لیا جائے گا اس نے کہا اب ملاقات کا مقصد بتائیں ہو سکتا ہے اپ کا کام سلطان سے ملے بغیر ہو جائے سلطان چھوٹی چھوٹی شکایتوں کے لیے ملاقات کا وقت نہیں نکال سکتے متعلقہ محکمہ از خود ہی شکایت رفع کر دیا کرتا ہے کیا سلطان ایوبی اسلام کی ایک مظلوم بیٹی کی فریاد سننے کے لیے وقت نہیں نکال سکیں گے مووی نے کہا مجھے جو کچھ کہنا ہے وہ میں انہی سے کہوں گی مجھے بتائے بغیر اپ سلطان سے نہیں مل سکیں گی علی بن سفیان نے کہا میں سلطان تک اپ کی فریاد پہنچاؤں گا وہ ضروری سمجھیں گے تو اپ کو اندر بلا لیں گے علی بن سفیان انہیں اپنے کمرے میں لے گیا وہ بھی نے شمالی علاقے کے کسی قصبے کا نام لے کر کہا دو سال گزرے سوڈانی فوج وہاں سے گزری میں بھی لڑکیوں کے ساتھ فوج دیکھنے کے لیے باہر اگئی ایک ایماندار نے اپنا گھوڑا موڑا اور میرے پاس ا کر میرا نام پوچھا میں نے بتایا تو اس نے میرے باپ کو بلایا اسے پرے لے جا کر کوئی بات کی کسی نے کماندار سے کہا کہ یہ گونگا اور بہرا ہے کماندار چلا گیا شام کے بعد چار سوڈانی فوجی ہمارے گھر ائے اور مجھے زبردستی اٹھا کر لے گئے اور کماندار کے حوالے کر دیا اس کا نام بالیان ہے وہ مجھے اپنے ساتھ لے ایا اور حرم میں رکھ لیا اس کے پاس چار اور لڑکیاں تھیں میں نے اسے کہا کہ میرے ساتھ باقاعدہ شادی کر لے لیکن اس نے مجھے شادی کے بغیر ہی بیوی بنائے رکھا دو سال اس نے مجھے اپنے پاس رکھا سوڈانی فوج نے بغاوت کی تو بالیان چلا گیا معلوم نہیں مارا گیا ہے یا قید میں ہے اپ کی فوج اس کے گھر میں ائی اور ہم سب لڑکیوں کو یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ تم سب ازاد ہو میں اپنے گھر چلی گئی میرے باپ نے شادی کرنی چاہی تو سب نے مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا کہتے ہیں کہ یہ حرم کی چھوڑی ہوئی ہڈی ہے وہاں لوگوں نے میرا جینا حرام کر دیا ہے ہم سرائے میں ٹھہرے ہیں سنا تھا کہ سلطان سوڈانیوں کو زمینیں اور مکان دے رہے ہیں مجھے اب بالیان کی داشتہ یا اس کی بیوی سمجھ کر یہاں زمین اور مکان دے دیں تاکہ میں اس قصبے سے نکل اؤں ورنہ میں خود کشی کر لوں گی یا گھر سے بھاگ کر کہیں طوائف بن جاؤں گی اگر اپ کو زمین سلطان سے ملے بغیر مل جائے تو سلطان سے ملنے کی کیا ضرورت ہے علی بن سفیان نے کہا ہاں موبی نے کہا پھر بھی ملنے کی ضرورت ہے اسے اپ عقیدت بھی کہہ سکتے ہیں میں سلطان کو صرف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ اس کی سلطنت میں عورت کھلونا بنی ہوئی ہے دولت مندوں اور حاکموں کے ہاں شادی کا رواج ختم ہو گیا ہے خدا کے لیے عورت کی عصمت کو بچاؤ اور عورت کی عظمت بحال کرو سلطان سے یہ کہہ کر شاید میرے دل کو سکون ا جائے گا میگنا نامر یوز اسی طرح خاموش بیٹھا رہا جیسے اس کے کان میں کوئی بات نہیں پڑ رہی علی بن سفیان نے مووی سے کہا کہ سلطان کو اجلاس سے فارغ ہونے دیں پھر ان سے ملاقات کی اجازت لی جائے گی یہ کہہ کر علی بن سفیان باہر نکل گیا وہ بہت دیر بعد ایا اور کہا کہ وہ سلطان سے اجازت لینے جا رہا ہے وہ سلطان ایوبی کے کمرے میں چلا گیا اور خاصی دیر بعد ایا اس نے موبی سے کہا کہ اپنے باپ کو سلطان کے پاس لے جاؤ اس نے انہیں سلطان ایوبی کا کمرہ دکھا دیا کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دونوں نے باہر کی طرف دیکھا وہ غالبا قتل کے بعد وہاں سے نکلنے کا راستہ دیکھ رہے تھے سلطان کمرے میں اکیلے تھے انہوں نے دونوں کو بٹھایا اور موبی سے پوچھا کیا تمہارا باپ پیدائشی گونگا اور بہرا ہے ہاں سلطان محترم مبی نے جواب دیا یہ اس کا پیدائشی نقص ہے سلطان ایوبی بیٹھے نہیں کمرے میں ٹہلتے رہے اور بولے میں نے تمہاری شکایت اور مطالبہ سن لیا ہے مجھے تمہارے ساتھ پوری ہمدردی ہے میں تمہیں یہاں زمین بھی دوں گا اور مکان بھی بنوا دوں گا سنا ہے تم کچھ اور بھی مجھ سے کہنا چاہتی ہو اللہ اپ کا اقبال بلند کرے موبی نے کہا اپ کو بتا دیا ہوگا کہ میرے ساتھ کوئی ادمی شادی نہیں کرتا لوگ مجھے حرم کی چچوڑی ہوئی ہڈی فاحشہ اور بدکار کہتے ہیں اور میرے باپ کو کہتے ہیں کہ اس نے بیٹی بیچ ڈالی تھی اپ مجھے زمین اور مکان تو دے دیں گے لیکن مجھے ایک خاوند کی ضرورت ہے جو میری عزت کی رکھوالی کرے اس نے جھجک کر کہا میں ایسی بات کہنے کی جرات نہیں کر سکتی لیکن اپنی ماں باپ کی ارزداشت اپ تک پہنچانا چاہتی ہوں کہ اگر اپ میری شادی نہیں کرا سکتے تو مجھے اپنے حرم میں رکھیں اپ میری عمر میری شکل و صورت اور میرا جسم دیکھیں کیا میں اپ کے قابل نہیں ہوں یہ کہہ کر اس نے میگنہ نامر یوز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دوسرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا اور سلطان ایوبی کی طرف اشارہ کیا کہ اشارہ شاید پہلے سے طے شدہ تھا میگنہ نامر یوز نے دونوں ہاتھ جوڑ کر سلطان ایوبی کی طرف کیے اور پھر موبی کے ہاتھ پکڑ کر
ENGLISH
And while giving instructions, when the two horses halted at the boundary made by his bodyguard, they were stopped by the commander of the bodyguards. She told the commander that she had brought her father with her to meet Sultan Ayyubi. Said to his commander, it is useless to talk to him, he is dumb and deaf. Then he said Salaam Alaikum, you Mobi said Waalaikum Salaam. The commander told him that he wanted to meet the Sultan. Ali bin Sufyan asked the reason for meeting Magda Namar Yuz, then Mobi also told him that this is my father who is dumb and deaf. Ali Bin Sufyan told him that the Sultan is very busy and he will take time to meet him when he is finished. Can't find an appointment time? The concerned department dismisses the complaint by itself. Will Sultan Ayubi not be able to find time to listen to the cry of an oppressed daughter of Islam? Mowi said, "Whatever I have to say, I will say it to them." You will not be able to meet the Sultan without telling him. Ali bin Sufyan said, I will convey your plea to the Sultan. He will consider it necessary and then invite you in. Two years passed by, the Sudanese army passed by and I went out with the girls to see the army. A believer turned his horse and came to me and asked my name. After taking him, someone said to the commander that he is dumb and deaf. The commander left. After evening, four Sudanese soldiers came to our house and took me by force and handed me over to the commander. His name is Balyan. He took me and kept me in the harem. He had four other girls. I told him to marry me regularly, but he kept me as his wife without marriage. For two years, he kept me with him. The Sudanese army rebelled. So Balian left, it is not known whether he was killed or in prison. Your army came to his house and threw all of us girls out of the house saying that you are all free. I went to my house. My father wanted to marry me. Everyone refused to accept me. They say that this is a bone left by the harem. People have forbidden me to live there. Or assume that I am his wife and give me land and a house here so that I can leave this town, otherwise I will commit suicide or run away from home and become a prostitute somewhere. Ali bin Sufyan said yes, Mobi said, she still needs to meet, you can also call it devotion. "The custom of marriage is over. For God's sake, save the chastity of woman and restore the dignity of woman. By saying this to the Sultan, perhaps my heart will be at peace." Ali bin Sufyan, who was falling, told the movie to let the Sultan finish the meeting and then he would get permission to meet him. He went to Sultan Ayubi's room and after a long time he told Mobi to take his father to the Sultan. He showed them Sultan Ayubi's room. Probably looking for a way out after the murder, the sultan was alone in the room, he sat them both down and asked Mubi, "Is your father born mute and deaf?" Yes, the Sultan replied, "It is his birth defect." Sultan Ayubi sat down. No, he kept walking in the room and said, I have heard your complaint and demand. I have full sympathy with you. I will also give you land and build a house here. I heard that you want to tell me something else. God bless you. Mobi said, "I must have told you that no one will marry me. People call me a prostitute and a wicked person. They say to my father that he sold his daughter. Give me land and house." I will give but I need a husband who will protect my honor. Keep me in your harem, look at my age, my appearance and my body. After saying that I am not worthy of you, he put his hand on the shoulder of Meghna Namar Yuz and put his other hand on his chest and pointed to Sultan Ayyubi. The gesture was probably premeditated. Meghna Namar Yuz folded both hands towards Sultan Ayubi and then took Mobi's hand.
مووی کے ہاتھ پکڑ کر سلطان ایوبی کی طرف بڑھائے جیسے کہ وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری بیٹی کو قبول کر لو میرا کوئی حرم نہیں لڑکی سلطان ایوبی نے کہا میں ملک سے حرم قہبہانے اور شراب ختم کر رہا ہوں بات کرتے کرتے انہوں نے اپنی جیب سے ایک سکہ نکالا اور ہاتھ میں اچھالنے لگے انہوں نے کہا میں عورت کی عزت کا محافظ بننا چاہتا ہوں یہ کہتے کہتے وہ دونوں کی پیٹھ پیچھے چلے گئے اور سکہ ہاتھ سے گرا دیا تن کی اواز ائی تو میگنہ نامر یوز نے چونک کر پیچھے دیکھا اور پھر فورا ہی سامنے دیکھنے لگا صلاح الدین ایوبی نے تیزی سے اپنے کمر بند سے ایک فٹ لمبا خنجر نکال کر اس کی نوک میگنا نامر یوز کے گردن پر رکھ دی اور موبی سے کہا یہ شخص میری زبان نہیں سمجھتا اسے کہو کہ اپنے ہاتھ سے اپنا ہتھیار پھینک دے اس نے ذرا سی پس و پیش کی تو یہاں سے تم دونوں کی لاشیں اٹھائی جائیں گی وہ بھی کی انکھیں حیرت اور خوف سے کھل گئیں اس نے اداکاری کا کمال دکھانے کی کوشش کی اور کہا میرے باپ کو ڈرا دھمکا کر اپ مجھ پر کیوں قبضہ کرنا چاہتے ہیں میں تو خود ہی اپنے اپ کو پیش کر رہی ہوں تم جب محاز پر میرے سامنے ائی تھیں تو تم میری زبان نہیں بولتی تھی سلطان ایوبی نے کہا اور خنجر کی نوک میگنہ نامر یوز کی گردن پر رکھے رکھی اس نے کہا کیا تم اتنی جلدی یہاں کی زبان بولنے لگی ہو اسے کہو ہتھیار فورا باہر نکال دے موبی نے اپنی زبان میں میگنا نامریوز سے کچھ کہا تو اس نے چغے کے اندر ہاتھ ڈال کر خنجر باہر نکالا جو اتنا ہی لمبا تھا جتنا سلطان ایوبی کا تھا سلطان نے اس کے ہاتھ سے خنجر لے لیا اور اپنا خنجر اس کی گردن سے ہٹا کر کہا باقی چھ لڑکیاں کہاں ہیں اپ نے مجھے پہچاننے میں غلطی کی ہے موبی نے کانپتی ہوئی اواز میں کہا میرے ساتھ کوئی اور لڑکی نہیں اب کون سی لڑکیوں کی بات کر رہے ہیں مجھے خدا نے انکھیں دی ہیں سلطان ایوبی نے کہا اور خدا نے مجھے ذہن بھی دیا ہے جس میں وہ چہرے نقش ہو جاتے ہیں جنہیں ایک بار انکھ دیکھ لیتی ہے تمہارا چہرہ جو ادھا نقاب میں ہے میں نے پہلے بھی دیکھا ہے تمہیں اور تمہارے ساتھی کو خدا نے اتنا ناقص دین دیا ہے کہ جس کام کے لیے تم ائے تھے تم اس قابل نہیں سرائے میں تم دونوں خاوند اور بیوی تھے یہاں ا کر تم باپ اور بیٹی بن گئے مگر تم ہو کچھ بھی نہیں اور تمہارا ایک ساتھی باہر گھوڑے کے پاس کھڑا ہے اور وہ تمہارا نوکر نہیں اسے گرفتار کر لیا گیا ہے یہ کمال علی بن سفیان کا تھا اسے موبی نے بتایا کہ وہ سرائے میں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ ان دونوں کو اپنے کمرے میں بٹھا کر باہر نکل گیا اور گھوڑے پر سوار ہو کر سرائے میں چلا گیا تھا سرائے والوں سے اس نے ان کے حلیے بتا کر پوچھا تو اسے بتایا گیا تھا کہ وہ میاں بیوی ہیں اور ان کے ساتھ ان کا نوکر ہے اسے یہ بھی بتایا گیا کہ انہوں نے بازار سے کچھ کپڑے بھی خریدے تھے جن میں لڑکی کا برقہ نما چوگا اور جوتے بھی تھے انہوں نے علی بن سفیان سے کہا تھا کہ وہ میاں بیوی ہے اس نے اور کوئی تفتیش نہیں کی ان کے کمرے کا تالا توڑ کر ان کے سامان کی تلاشی لی اور اس سے چند ایسی اشیاء برامد ہوئی جنہوں نے شک کو یقین میں بدل دیا علی بن سفیان سمجھ گیا کہ سلطان ایوبی سے ان کا تنہائی میں ملنے کا مطلب کیا ہو سکتا ہے اس نے ان کے گھوڑے دیکھے تھے اعلی نسل کے تیز رفتار گھوڑے تھے سرائے والے سے ان کے گھوڑوں کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ یہ تینوں مسافر اونٹوں پر ائے تھے اور یہ گھوڑے لڑکی نے یہ کہہ کر منگوائے تھے کہ نہایت اچھے ہوں اور تیز رفتار ہوں سرائے والے نے یہ بھی بتایا کہ لڑکی کا خاوند گونگا ہے اور نوکر بھی گونگا معلوم ہوتا ہے وہ کسی سے بات نہیں کرتا دراصل وہ بھی یہاں کی زبان نہیں جانتا تھا علی بن سفیان نے واپس ا کر دیکھا کہ اجلاس ختم ہو گیا ہے تو وہ سلطان ایوبی کے پاس چلا گیا اسے ان کے متعلق بتایا اور کہانی بھی سنائی جو لڑکی نے اسے سنائی تھی پھر سرائے سے جو معلومات اس نے حاصل کی تھیں اور ان کے سامان سے جو مشکوک چیزیں برامد کی تھیں وہ دکھائیں اور اپنی رائے یہ دی کہ اب کو قتل کرنے کے لیے ائے ہیں اپ سے تنہائی میں ملنا چاہتے ہیں انہوں نے یہ منصوبہ بنایا ہوگا کہ اپ کو قتل کر کے نکل جائیں گے جتنی دیر میں کسی کو پتہ چلے گا اتنی دیر میں وہ تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر شہر سے دور جا چکے ہوں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ اپ کو اتنی خوبصورت لڑکی کے چکر میں ڈال کر خوابگاہ میں قتل کرنا چاہتے ہو سلطان ایوبی سوچ میں پڑ گئے پھر کہا انہیں ابھی گرفتار نہ کرو میرے پاس بھیج دو علی بن سفیان نے انہیں اندر بھیج دیا اور خود سلطان کے کمرے کے دروازے کے ساتھ لگا کھڑا رہا اس نے محافظ دستے کے کمانڈر کو بلا کر کہا ان دونوں گھوڑوں کو اپنے گھوڑوں کے ساتھ باندھ دو اور زینے اتار دو ان کے ساتھ جو ادمی ہے اسے اپنی حراست میں بٹھا لو اس کی تلاشی لو اس کے کپڑوں کے اندر خنجر ہوگا وہ اس سے لے لو ان احکام پر عمل ہو گیا میگنا نامرویوس کا ساتھی گرفتار ہو گیا اس سے ایک خنجر برامد ہوا گھوڑوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا اور جب انہیں سلطان ایوبی کے کمرے میں داخل کیا گیا تو باتوں باتوں میں سلطان نے ایک سکہ فرش پر پھینک کر یقین کر لیا کہ یہ شخص بہرا نہیں سکے کی اواز پر اس نے فورا پیچھے مڑ کر دیکھا تھا صلاح الدین ایوبی نے لڑکی سے کہا اسے کہو کہ میری جان صلیبیوں کے خدا کے ہاتھ میں نہیں میرے اپنے خدا کے ہاتھ میں موبی نے اپنی زبان میں میگنا نامر یوز سے بات کی تو اس نے چونک کر کچھ کہا مبین سلطان ایوبی سے کہا یہ کہتا ہے کیا اپ کا خدا کوئی اور ہے اور کیا
ENGLISH
He held the hands of Mowi and moved them towards Sultan Ayubi as if he was saying, "Accept my daughter. I have no harem." He took out a coin from his pocket and started tossing it in his hand. He said, "I want to be the protector of a woman's honor." They both went behind their backs and dropped the coin from their hands. Salahuddin Ayubi quickly took out a one-foot-long dagger from his belt and placed its tip on the neck of Magna Namar Yuz and said to Mobi, "This man does not understand my language, tell him to keep his hands." Throw away your weapon. He backed away a little, then the bodies of both of you will be taken from here. He also opened his eyes with surprise and fear. "Why do you want to possess me? I am presenting myself. When you came before me on the throne, you did not speak my language," Sultan Ayubi said and placed the tip of the dagger on the neck of Meghna Namar Yuz. He said, "Are you so quick to speak the language of this place? Tell him to take out the weapon immediately." Mobi said something to Magna Namriuz in his own language, so he put his hand inside the chaghe and took out a dagger, which was as long as Sultan Ayubi. Ka Tha Sultan took the dagger from her hand and removed his dagger from her neck and said where are the other six girls you have mistakenly recognized me Mobi said in a trembling voice there is no other girl with me now which one? Speaking of girls, God has given me eyes, said Sultan Ayyubi, and God has also given me a mind in which the faces that the eye sees once are your face, which is half-veiled. I have seen that God has given you and your partner such a poor religion that you are not worthy of the work for which you have come. A companion of yours is standing outside by the horse and he is not your servant. He has been arrested. It belonged to Kamal Ali bin Sufyan. And he went to the inn on a horse. He asked the innkeepers about their status. He was told that they were husband and wife and that they had a servant with them. He also bought some clothes, including the girl's burqa-like robe and shoes. He told Ali bin Sufyan that they were husband and wife. This led to a few things that turned doubt into certainty. Ali ibn Sufyan understood what his meeting with Sultan Ayyubi in solitude might mean. When the innkeeper was asked about their horses, he told that these three travelers had come on camels and the girl had ordered these horses saying that they were very good and fast. The innkeeper also told that the girl's husband was dumb. And the servant also seems to be dumb, he does not speak to anyone, in fact he did not know the language here. Ali bin Sufyan returned and saw that the meeting was over, so he went to Sultan Ayyubi and told him about them. And he told the story that the girl had told him, then he showed the information he had obtained from the inn and the suspicious things he had found from their belongings and gave his opinion that they had come to kill him. I want to meet. They must have planned to kill you and leave the city before anyone finds out. That those people want to kill you in the bedroom by putting you in the circle of such a beautiful girl, Sultan Ayyubi fell into thinking and then said, "Don't arrest them now, send them to me." standing by the door of the guard, he called the commander of the guard and said, "Tie these two horses to your own horses and unsaddle them; take the man who is with them into custody; search his clothes." There will be a dagger inside. The Sultan threw a coin on the floor and was convinced that this man could not be deaf. He immediately looked back at the sound. In the hand of Mobi, he spoke to Magna Namar Yuz in his own language, and he was shocked and said something.
کے ہاتھ میں مووی نے اپنی زبان میں میگنہ نامر یوز سے بات کی تو اس نے چونک کر کچھ کہا مبین سلطان ایوبی سے کہا یہ کہتا ہے کیا اپ کا خدا کوئی اور ہے اور کیا مسلمان بھی خدا کو مانتے ہیں اسے کہو مسلمان اس خدا کو مانتے ہیں جو سچا ہے اور سچے عقیدے والوں کو عزیز رکھتا ہے سلطان ایوبی نے کہا مجھے کس نے بتایا کہ تم دونوں مجھے قتل کرنے ائے ہو میرے خدا نے اگر تمہارا خدا سچا ہوتا تو تمہارا خنجر مجھے ہلاک کر چکا ہوتا میرے خدا نے تمہارا خنجر میرے ہاتھ میں دے دیا ہے اس نے ایک تلوار کہیں سے نکالی اور چند اور اشیاء انہیں دکھا کر کہا یہ تلوار اور چیزیں تمہاری ہیں یا تمہارے ساتھ سمندر پار سے ائی ہیں تم سے پہلے یہ مجھ تک پہنچ گئی ہیں میں اتنا نامر یوز حیرت سے اٹھ کھڑا ہوا اس کی انکھیں ابل کر باہر اگئیں جتنی باتیں ہوئیں وہ موبی کی وساطت سے ہوئی میگنا نامر یوز نے بولنا شروع کر دیا اور وہ صرف اپنی زبان بولتا سمجھتا تھا خدا کے متعلق یہ باتیں سن کر اس نے کہا یہ شخص سچے عقیدہ کا معلوم ہوتا ہے میں اس کی جان لینے ایا تھا لیکن اب میری جان اس کے ہاتھ میں ہے اسے کہو کہ تمہارے سینے میں ایک خدا ہے وہ مجھے دکھائے میں اس خدا کو دیکھنا چاہتا ہوں جس نے اسے اشارہ دے دیا ہے کہ ہم اسے قتل کرنے ائے ہیں سلطان ایوبی کے پاس اتنی لمبی چوڑی باتوں کا وقت نہیں تھا انہیں چاہیے تھا کہ ان دونوں کو جلاد کے حوالے کر دیتے لیکن انہوں نے دیکھا کہ یہ شخص بھٹکا ہوا معلوم ہوتا ہے اگر یہ پاگل نہیں تو یہ ذہنی طور پر گمراہ ضرور ہے چنانچہ انہوں نے اس کے ساتھ دوستانہ انداز سے باتیں شروع کر دی اس دوران علی بن سفیان اندر اگیا وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ سلطان خیریت سے تو ہے سلطان ایوبی نے مسکرا کر کہا سب ٹھیک ہے علی میں نے ان سے خنجر لے لیا ہے علی بن سفیان سکون کی اہ بھر کر باہر چلے گئے میگنو نامر یوز نے کہا بیشتر اس کے کہ سلطان میری گردن تن سے جدا کر دے میں اپنی زندگی کی کہانی سنانے کی مہلت چاہتا ہوں سلطان نے اجازت دے دی میگنو نامر یوز نے بالکل وہ کہانی جو رات صحرا میں اس نے اپنی پارٹی کمانڈر اور اپنے ساتھیوں کو سنائی تھی من سلطان ایوبی کو سنا دی اب کے اس نے صلیب پر لٹکتے ہوئے حضرت عیسی علیہ السلام کے بت کماری مریم کی تصویر اور پادریوں کے اس خدا سے جس سے وہ پادری کی اجازت کے بغیر بات بھی نہیں کر سکتا تھا بیزاری کا اظہار اور زیادہ شدت سے کیا اور کہا مرنے سے پہلے مجھے خدا کی ایک جھلک دکھلا دو میرے خدا نے بچوں کو بھی بھوکا مار دیا ہے میری ماں کو اندھا کر دیا ہے میری بہن کو شرابی وحشیوں کا قیدی بنا دیا ہے اور مجھے 30 سالوں کے لیے قید خانے میں بند کر دیا ہے میں وہاں سے نکلا تو موت کے منہ میں ا پڑا سلطان میری جان تیرے ہاتھ میں ہے مجھے سچا خدا دکھا دے میں اس سے فریاد کروں گا اس سے انصاف مانگوں گا تیری جان میرے ہاتھ میں نہیں سلطان ایوبی نے کہا میرے خدا کے ہاتھ میں ہے اگر میرے ہاتھ میں ہوتی تو اس وقت تک تم میرے جلاد کے پاس ہوتے میں تمہیں وہ سچا خدا دکھا دوں گا جو تیری گردن مارنے سے مجھے روک رہا ہے لیکن تجھے اس خدا کا سچا عقیدہ قبول کرنا ہوگا ورنہ خدا تمہاری فریاد نہیں سنے گا اور انصاف بھی نہیں ملے گا سلطان ایوبی نے اس کا خنجر اس کی گود میں پھینک دیا اور خود اس کے پاس جا کر اس کی طرف پیٹ کر کے کھڑے ہو گئے مووی سے کہا اسے کہو میں اپنی جان اس کے حوالے کرتا ہوں یہ خنجر میری پیٹھ میں گھونپ دے میں اتنا نامر یوز نے خنجر ہاتھ میں لے لیا اسے غور سے دیکھا سلطان ایوبی کی پیٹھ پر نگاہ دوڑائی اٹھا اور سلطان کے سامنے چلا گیا اسے سر سے پاؤں تک دیکھا یہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کی جلالی شخصیت کا اثر تھا یا سلطان کی انکھوں کی چمک میں اسے سچا خدا نظر اگیا کہ اس کے ہاتھ کانپے اس نے خنجر سلطان ایوبی کے قدموں میں رکھ دیا وہ دوزانو ہو کر بیٹھ گیا اور سلطان کا ہاتھ چوم کر زار و قطار رونے لگا موبی سے کہا اسے کہو یا تو یہ خود خدا ہے یا اس نے خدا کو اپنے سینے میں قید کر رکھا ہے اسے کہو مجھے اپنا خدا دکھا دو سلطان ایوبی نے اسے اٹھایا اور سینے سے لگا کر اپنے ہاتھ سے اس کے انسو پوچھے وہ تو بھٹکا ہوا انسان تھا اس کے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھر دی گئی تھی اور اسلام کے خلاف زہر ڈالا گیا تھا پھر حالات نے اسے اپنے مذہب سے بیزار کیا یہ ایک قسم کا پاگل انسان تھا اور ایک تشنگی تھی جو اسے ایسی خطرناک مہم پر لے ائی تھی سلطان ایوبی اسے بے گناہ سمجھتے تھے لیکن اسے ازاد بھی نہ کیا بلکہ اپنے پاس رکھ لیا موبی باقاعدہ ٹریننگ لے کر ائی تھی اور مفرور جاسوسا تھی یہ وہ ساتویں لڑکی تھی جس نے صلیبیوں کا پیغام سوڈانیوں تک پہنچایا اور بغاوت کرائی تھی وہ ملک کی دشمن تھی اسے اسلامی قانون نہیں بخش سکتا تھا سلطان نے اسے اور اس کے ساتھی کو علی بن سفیان کے حوالے کر دیا تفتیش میں دونوں نے اقبال جرم کر لیا اور یہ بھی بتا دیا کہ رسد کے قافلے کو انہوں نے ہی لوٹا تھا اور لڑکیوں کو بھی انہوں نے ہی ازاد کرایا تھا اور محافظ دستے کو ہلاک کیا تھا اور بالیان اور اس کے ساتھیوں کو بھی انہوں نے ہی ہلاک کیا تھا یہ تفتیش تین دن جاری رہی اس دوران میگنا نامروز کا دماغ روشن ہو چکا تھا ایک بار اس نے سلطان ایوبی سے پوچھا
ENGLISH
In the hand of Mowi, he spoke to Meghna Namar Yuz in his own language, so he was shocked and said something to Mubeen Sultan Ayyubi. We believe in what is true and loves those who believe in the truth. Sultan Ayyubi said, "Who told me that you two have come to kill me. By God, if your God was true, your dagger would have killed me. By God, your dagger would have killed me." He took out a sword from somewhere and showed them some other things and said, "These swords and things are yours, or have they come with you from across the sea? They have reached me before you." He got up, his eyes were boiling and came out. All the things that happened were through the mediation of Mobi. Magna Namar Yuz started speaking and he thought he was only speaking his own language. After hearing these things about God, he said, "This man is of the true faith." It is known that I came to take his life but now my life is in his hands tell him that there is a god in your chest he shows me I want to see the god who has given him the signal that we should kill him Alas, Sultan Ayyubi did not have time for such long talks, he should have handed them both over to the executioner, but he saw that this man seemed lost, if not insane, then mentally deranged. So they started talking to him in a friendly manner, while Ali bin Sufyan came in. He wanted to see if the Sultan was doing well. Sufyan went out with a sigh of relief. Magno Namar Yuz said, "Rather than the Sultan cutting off my neck from his body, I want time to tell the story of my life." The Sultan gave permission. In the desert, he had told his party commander and his companions, Man Sultan Ayyubi, now he had the image of Mary, the idol of Jesus hanging on the cross, and the God of the priests that he would allow him to be a priest. Couldn't even talk without expressing disgust and said more strongly and said before I die, show me a glimpse of God. My God has starved even the children. My mother has been blinded. has made me a prisoner and locked me in a prison for 30 years. "Your life is not in my hands." Sultan Ayubi said, "It is in the hands of my God. If it were in my hands, by that time you would be with my executioner. I will show you the true God who is preventing me from killing you." You have to accept the true belief of this God, otherwise God will not hear your cry and justice will not be served. Said to Muwi, tell him, I surrender my life to him, stab this dagger in my back. It was the effect of the glorious personality of Sultan Salahuddin Ayyubi, may God bless him and grant him peace, or he saw the true God in the brightness of the Sultan's eyes, so that his hands trembled and he placed the dagger at Sultan Ayyubi's feet. He went and kissed the Sultan's hand and began to weep bitterly and said to Mobi, "Say to him, either this is God himself or he has imprisoned God in his chest. Tell him, show me your God." He was a misguided person, hatred against Muslims was filled in his heart and poison was poured against Islam, then circumstances made him disgusted with his religion. He is a kind of crazy person. And there was a thirst that brought her on such a dangerous expedition. Sultan Ayubi considered her innocent but did not free her but kept her with him. The message of the Crusaders was conveyed to the Sudanese and they had revolted. She was an enemy of the country. Islamic law could not forgive her. The Sultan handed her and her companion over to Ali bin Sufyan. that they had looted the supply convoy and they had also freed the girls and had killed the security forces and they had also killed Balian and his companions. This investigation continued for three days during which Magna Namruz's mind was enlightened once he asked Sultan Ayyubi
کیا تھا یہ تفتیش تین دن جاری رہی اس دوران میگنہ نامر یوز کا دماغ روشن ہو چکا تھا ایک بار اس نے سلطان ایوبی سے پوچھا کیا اپ نے اس لڑکی کو مسلمان کر کے حرم میں داخل کر لیا ہے اج شام کو اس سوال کا جواب دوں گا سلطان ایوبی نے جواب دیا شام کے وقت سلطانہ ایوبی نے میگنا نامر یوز کو ساتھ لیا اور کچھ دور لے جا کر ایک لکڑی کے دو تختے پڑے تھے ان پر سفید چادریں پڑی ہوئی تھیں سلطان ایوبی نے چادروں کو ایک طرف سے اٹھا دیا اور میگنہ نامر یوز کو دکھایا اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا اس کے سامنے موبی کی لاش پڑی تھی اور دوسرے تختے پر اس کے ساتھی کی لاش تھی سلطان ایوبی نے موبی کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کھینچا گردن کندھے سے جدا تھی انہوں نے میگن نامریو سے کہا میں اسے بخش نہیں سکتا تھا تم اسے اپنے ساتھ لائے تھے کہ میں اس کے حسن اور جسم پر فدا ہو جاؤں گا مگر اس کا جسم مجھے ذرہ بھر بھی اچھا نہیں لگا تھا یہ ناپاک جزم تھا اب یہ اچھا لگ رہا ہے اب جب کہ اس جسم سے اتنی حسین شکل و صورت جدا ہو چکی ہے مجھے یہ بہت اچھی لگ رہی ہے اللہ اس کے گناہ معاف کرے سلطان میگنہ نام ریوس نے پوچھا اپ نے مجھے کیوں بخش دیا ہے اس لیے کہ تم مجھے قتل کرنے ائے تھے سلطان ایوبی نے جواب دیا مگر یہ میرے قوم کے کردار کو قتل کرنے ائی تھی اور تمہارا یہ ساتھی بھی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بہت سے لوگوں کا قاتل بنا اور تم نے میرا خون بہا کر خدا کو دیکھنا چاہا تھا چند ہی دنوں بعد میگنا نامر یوز سیف اللہ بن گیا جو بعد میں سلطان ایوبی کے محافظ دستے میں شامل ہوا اور جب سلطان ایوبی خالق حقیقی سے جا ملے تو سیف اللہ نے زندگی کے اخری 17 برس سلطان صلاح الدین ایوبی کی قبر پر گزار دیے اج کسی کو بھی معلوم نہیں کہ سیف اللہ کی قبر کہاں ہے قاہرہ سے ڈیڑھ دو میل دور جہاں ایک طرف ریت کے ٹیلے اور باقی ہر طرف صحرا ریت کے سمندر کی مانند اس وقت تک پھیلا ہوا تھا انسانوں کے سمندر تلے دب گیا تھا یہ لاکھوں انسانوں کا ہجوم تھا ان میں شتر سوار بھی تھے اور گھوڑا سوار بھی بہت سے لوگ گدھوں پر بھی سوار تھے تعداد ان کی زیادہ تھی جن کے پاس کوئی سواری نہیں تھی لا تعداد ہجوم چار پانچ دنوں سے صحرا کی اس وسعت میں جمع ہونا شروع ہو گیا تھا اہرہ کے بازاروں میں بھیڑ اور رونق زیادہ ہو گئی تھی سرائے بھر گئی تھی یہ لوگ دور دور سے اس سرکاری منادی پر ائے تھے کہ چھ سات روز بعد قاہرہ کے مضافاتی ریگستان میں مصر کی فوج گڑ سواری شتر سواری دوڑتے گھوڑوں اور اونٹوں سے تیر اندازی اور بعض سے جنگی کمالات کا مظاہرہ کرے گی منادی میں یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ غیر فوجی لوگ بھی ان مظاہروں میں جس کسی کو چاہیں تیغ زنی کشتی دوڑتے گھوڑوں کی لڑائی اور تیر اندازی وغیرہ کے لیے للکار کر مقابلہ کر سکتے ہیں یہ مرادی صلاح الدین ایوبی نے کرائی تھی اس کے دو مقصد تھے ایک یہ کہ لوگوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیب ملے گی اور دوسرے یہ کہ جو لوگ ابھی تک سلطان کو فوجی لحاظ سے کمزور سمجھتے ہیں ان کے شکوک رفع ہو جائیں گے
ENGLISH
What was this investigation continued for three days during which the mind of Meghna Namar Yuz was enlightened, once he asked Sultan Ayyubi, have you converted this girl to Islam and admitted her to the Haram. Ga Sultan Ayyubi replied: In the evening, Sultana Ayyubi took Meghna Namar Yuz with him and took him some distance away. There were two wooden boards with white sheets on them. Namar showed Yuz, his face changed color, Mobi's body was lying in front of him and on the other board was the body of his partner. Sultan Ayubi put his hand on Mobi's head and pulled him back. He said, "I could not forgive her. You brought her with you, that I would sacrifice myself for her beauty and body, but I did not like her body even an iota. It was an impure thing. Now it looks good. That such a beautiful figure has been separated from this body, I like it very much. May Allah forgive his sins. Sultan Meghna Naam Reus asked why you have forgiven me because you came to kill me, Sultan Ayyubi. replied, but it was to kill the character of my nation and this friend of yours also became the murderer of many people under a well-thought-out plan and you wanted to see God by shedding my blood. Allah became who later joined Sultan Ayyubi's bodyguard and when Sultan Ayyubi met Khaliq Haqiji, Saifullah spent the last 17 years of his life at the grave of Sultan Salahuddin Ayyubi. Where is his grave, one and a half to two miles from Cairo, where sand dunes on one side and the desert spread like a sea of sand on all sides until then, it was buried under the sea of people, it was a crowd of millions of people, including camel riders. There were also horse riders, many people were also riding on donkeys, the number of them was more than those who did not have any rides. It was too much, the inn was full. These people had come from far and wide for the official announcement that six or seven days later, the Egyptian army would march in the desert on the outskirts of Cairo. It was also announced in the Karegi Manadi that even non-military people can compete in these demonstrations by challenging anyone they want to compete in swordsmanship, wrestling, horse racing, archery etc. This was done by Salahuddin Ayubi. It had two objectives, one is to encourage people to join the army and the other is to clear the doubts of those who still consider the Sultan to be weak militarily.

No comments:
Post a Comment