The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode17
انی کا اظہار بھی کر دیا تھا سلطان ایوبی نے مسرت سے اسے کہا تھا اگر تماشائیوں کی تعداد ایک لاکھ ہو جائے تو ہمیں پانچ ہزار سپاہی تو مل ہی جائیں گے محکہ لوگ چھ روز پہلے ہی تماشہ گاہ میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے مگر علی بن سفیان پریشان نظر اتا تھا اس نے سلطان کے اگے اس پریشترم امیر علی بن سفیان نے کہا میں تماشائیوں کے ہجوم کو کسی اور زاویے سے دیکھ رہا ہوں میرے انداز کے مطابق اگر تماشائیوں کی تعداد ایک لاکھ ہوئی تو ان میں ایک ہزار جاسوس ہوں گے دیہات سے عورتیں بھی ارہی ہیں ان میں زیادہ تر سوڈانی ہیں ان میں اکثر کا رنگ اتنا گورا ہے کہ عیسائی عورت ان میں چھپ سکتی ہے میں تمہاری اس مشکل کو اچھی طرح سمجھتا ہوں والی سلطان نے کہا لیکن تم جانتے ہو کہ میں نے جس میلے کا انتظام کیا ہے وہ کیوں ضروری ہے تم اپنے محکمے کو اور زیادہ ہوشیار کر دو میں اس کے حق میں ہوں علی بن سفیان نے کہا یہ میلہ بہت ہی ضروری ہے میں نے اپنی پریشانی اپ کو پریشان کرنے کے لیے نہیں بتائی صرف یہلاع پیش کی ہے کہ یہ میلہ اپنے ساتھ کیا خطرہ لا رہا ہے قاہرہ میں عارضی قہبہ خانے کھل گئے ہیں جو ساری رات شائقین سے بھرے رہتے ہیں تماشائیوں میں سے بعض نے شہر کے باہر خیمے نصب کر لیے ہیں میرے گروہ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ ان میں بھی کمار بازوں اور عصمت فروشوں کے خیمے موجود ہیں کل میلے کا دن ہے ناشنے گانے والیوں نے تماشائیوں سے دولت کے ڈھیر اکٹھے کر لیے ہیں میلہ ختم ہو جائے گا تو یہ غلاظت بھی ہجوم کے ساتھ ہی صاف ہو جائے گی سلطان ایوبی نے کہا میں اس پر پابندی عائد نہیں کرنا چاہتا مصر کی اخلاقی حالت اچھی نہیں رقص اور عصمت فروشی ایک دو دنوں میں ختم نہیں کی جا سکتی ابھی مجھے زیادہ سے زیادہ تماشائیوں کی ضرورت ہے مجھے فوج تیار کرنی ہے اور تم جانتے ہو علی ہمیں بہت زیادہ فوج کی ضرورت ہے میں نے فوج اور انتظامیہ کے سربراہوں کے اجلاس میں یہ ضرورت وضاحت سے بیان کر دی تھی میں اپ کو اس وضاحت سے نہیں روک سکتا تھا امیر محترم علی بن سفیان نے کہا میری سراغ رسہ نگاہوں میں ان سربراہوں میں نصف ایسے ہیں جو ہمارے وفادار نہیں اب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان میں کچھ ایسے ہیں جو اپ کو اس گدی پر نہیں دیکھنا چاہتے اور باقی جو ہیں ان کی دلچسپیاں سوڈانیوں کے ساتھ ہیں میں نے ان میں سے ہر ایک کے پیچھے ایک ایک ادمی چھوڑ رکھا ہے میرے ادمی مجھے ان کی سرگرمیوں سے اگاہ کرتے رہتے ہیں کسی کی کوئی خطرناک سرگرمی سامنے ائی سلطانہ ایوبی نے پوچھا نہیں علی بن سفیان نے جواب دیا سوائے اس کے کہ یہ لوگ اپنی حیثیت اور رتبوں کو فراموش کر کے راتوں کو مشکوک خیموں اور ان مکانوں میں جاتے ہیں جو عارضی قہبہ خانے اور رقص گاہیں بن گئے ہیں دو نے تو ناچنے والی لڑکیوں کو گھروں میں بھی بلایا ہے ان سے زیادہ میرا دماغ ان دو بادبانی کشتیوں پر گھوم رہا ہے جو 10 روز گزرے بحرہ روم کے ساحل تک دیکھی گئی تھیں ان میں کیا خاص بات تھی سلطان ایوبی نے پوچھا اس وقت تک بہرہ روم کے ساحل سے فوج کو واپس بلا لیا گیا تھا وہاں ڈھکی چھپی جگہوں پر سمندر پر نظر رکھنے کے لیے بٹھا دیے گئے تھے علی بن سفیان نے ماہی گیروں اور صحرائی خانہ بدوشوں کے لباس میں ساحل پر انٹیلیجنس کے چند ادمی مقرر کر دیے تھے یہ اہتمام ایک تو اس لیے کیا گیا تھا کہ صلیبی اچانک حملہ نہ کر دیں اور دوسرے اس لیے کہ ادھر سے صلیبیوں کے جاسوس نہ ا سکیں مگر ساحل بہت لمبا تھا کہیں کہیں چٹانے بھی تھیں جہاں سمندر اندر ا جاتا تھا سارے ساحل پر نظر نہیں رکھی جا سکتی تھی 10 روز گزرے ایسی ہی ایک جگہ سے جہاں سمندر چٹانوں کے اندر ایا ہوا تھا دو بادبانی کشتیاں نکلتی دیکھی گئی تھیں وہ شاید رات کو ائی تھی انہیں جاتا دیکھ کر سلطان کے دو سوار سرپٹ گھوڑے دوڑاتے اس جگہ پہنچے جہاں سے کشتیاں نکل کر گئی تھیں وہاں کچھ بھی نہ تھا کوئی انسان نہیں تھا اور کشتیاں سمندر میں دور چلی گئی تھیں کشتیوں اور بادبانوں کی ساخت بتاتی تھی کہ یہ مصر کے ماہی گیروں کی نہیں سمندر پار کی معلوم ہوتی تھی سوار تھوڑی دور تک صحرا میں گئے انہیں کسی انسان کا سراغ نہیں ملا انہوں نے قاہرہ اطلاع بھجوا دی تھی کہ ساحل کے ساتھ دو مشکوک کشتیاں دیکھی گئی ہیں علی بن سفیان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ ریگزار میں انہیں ڈھونڈ لیتا جو کشتیوں میں سے اترے تھے اطلاع پہنچتے پہنچتے تین دن گزر گئے تھے یہ بھی یقین نہیں تھا کہ کشتیوں سے کون اترا ہے علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کے اس سوال کے جواب میں کہ ان کشتیوں میں کیا خاص بات تھی یہ وضاحت کر دی اور کہا ہم میلے کی منادی ڈیڑھ مہینے سے کرا رہے ہیں ڈیڑھ مہینے میں خبر یورپ کے وسط تک پہنچ سکتی ہے اور وہاں سے جاسوس ا سکتے ہیں مجھے یقین کی حد تک شک ہے کہ تماشائیوں کے ساتھ صلیبیوں کے جاسوس میلے میں اگئے ہیں قاہرہ میں اس وقت لڑکیاں عارضی طور پر نہیں مستقل طور پر فروخت ہو رہی ہیں سلطان سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے خریدار معمولی حیثیت کے لوگ نہیں ہو سکتے ان خریداروں میں قاہرہ کے تاجر ہماری انتظامیہ اور فوج کے سربراہ اور نامی گرامی بردہ فروش شامل ہیں بکنے والی لڑکیوں میں صلیبیوں کی جاسوس لڑکیاں ہو سکتی ہیں اور یقینا ہوں گی سلطان ایوبی ان اطلاعؤں سے پریشان نہ ہوئے بہرائے روم میں صلیبیوں کو شکست دیے تقریبا ایک سال گزر گیا تھا علی بن سفیان نے سمندر پر جاسوسی کا انتظام کر رکھا تھا جو مضبوط اور 100 فیصد قابلل اعتماد نہیں تھا تاہ
ENGLISH
The people had already started gathering in the auditorium six days ago, so they were very happy, but Ali bin Sufyan looked worried. He had also expressed this concern to the Sultan. If the number of spectators becomes 100,000, then we will get 5,000 soldiers. Respected Amir Ali bin Sufyan said, "I am looking at the crowd of spectators from another angle. According to my opinion, if the number of spectators becomes 100,000, then among them. There will be a thousand spies, there are also women from the villages, most of them are Sudanese, most of them are so fair that a Christian woman can hide among them. Why is the fair that I have arranged is important, you should make your department more careful, I am in favor of it. Ali Bin Sufyan said, "This fair is very important. The only thing I've been told is the danger this festival brings with it. Temporary shelters have been opened in Cairo and are filled with spectators all night. Some of the spectators have set up tents outside the city. My group informed me. It is said that there are also tents of gamblers and prostitutes in them. Tomorrow is the day of the festival. The singers have collected heaps of wealth from the spectators. When the festival is over, this filth will also be cleaned up with the crowd. Sultan Ayyubi said, "I don't want to ban it. The moral condition of Egypt is not good. Dancing and prostitution cannot be abolished in a day or two. Now I need more spectators. I have to prepare an army and you know, Ali." We need a lot of army. I explained this need clearly in the meeting of the heads of the army and the administration. Half of them are not loyal to us, now I know very well that there are some of them who don't want to see you on this donkey and the rest of them have interests with the Sudanese. I have one person behind each of them. My people keep informing me of their activities. Sultana Ayubi asked no. Ali bin Sufyan replied, "Except that these people forget their status and rank and stay in suspicious tents at night." And go to the houses that have become temporary halls and dance halls. Two have even invited dancing girls to their homes. What was special about them? Sultan Ayyubi asked. By that time, the army had been recalled from the coast of Bahra Rum. There, they were stationed in hidden places to watch the sea. Ali bin Sufyan ordered fishermen and A few intelligence men were stationed on the coast dressed as desert nomads. This arrangement was made one so that the crusaders would not attack suddenly and the other so that the spies of the crusaders could not come from here, but the coast was very long. Somewhere there were rocks where the sea came in. It was not possible to keep an eye on the entire coast. After 10 days, two sailing boats were seen coming out from one such place where the sea came inside the rocks. They might have come at night. Seeing that the Sultan's two riders galloped to the place where the boats had left, there was nothing, no people, and the boats had gone far into the sea. It was known that it was across the sea. The riders went into the desert for a short distance. They did not find any trace of a human being. They sent word to Cairo that two suspicious boats had been seen along the coast. I would have looked for those who had got off the boats. By the time the news arrived, three days had passed. It was not even sure who had got off the boats. explained and said that we have been promoting the fair for a month and a half, in a month and a half the news could reach the middle of Europe and spies could come from there. At present, girls in Cairo are being sold temporarily, not permanently. The Sultan may understand that his buyers cannot be ordinary people. These buyers include Cairo merchants, our administration and army chiefs, and famous wholesalers. Among the girls being sold, there might be spy girls of the crusaders and certainly there would be. Not strong and 100% reliable
اطلا مل گئی تھی کہ صلیبیوں نے مصر میں جاسوس اور تخریب کار بھیج رکھے ہیں ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ مصر کے متعلق ان کے منصوبے کیا ہیں بغداد اور دمشق سے انے والی اطلاعوں سے پتہ چلا تھا کہ صلیبیوں نے زیادہ تر دباؤ ادھر ہی رکھا ہوا ہے وہاں خصوصا شام میں وہ مسلمان عمرہ کو عیاشی اور شراب میں زنگی رحمت اللہ علیہ کی موجودگی میں صلیبی ابھی براہ راست ٹکر لینے کی جرات نہیں کر رہے تھے بہرہ روم میں جب صلاح الدین ایوبی نے ان کا بیڑا بما لشکر و غرق کر دیا تھا ادھر عرب میں سلطان زنگی نے صلیبیوں کے مملکت پر حملہ کر کے انہیں صلح پر مجبور کیا اور جزیہ وصول کر لیا تھا اس معرکے میں بہت سے صلیبی سلطان زنگی کی قید میں اگئے تھے جن میں رینارڈ نام کا ایک صلیبی سالار بھی تھا سلطان زنگی نے ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا تھا کیونکہ صلیبیوں نے مسلمان جنگی قیدیوں کو شہید کر دیا تھا اس کے علاوہ صلیبی عہد شکنی بھی کرتے تھے سلطان ایوبی کو اطمینان تھا کہ ادھر سلطان زنگی سلطنت اسلامیہ کی پاسبانی کر رہے ہیں پھر بھی وہ فوج تیار کر رہے تھے تاکہ صلیبیوں سے فلسطین لیا جائے اور عرب کی سرزمین کو کفار سے پاک کیا جائے اس کے ساتھ ہی وہ مصر کا دفاع مضبوط کرنا چاہتے تھے بیک وقت حملے اور دفاع کے لیے بے شمار فوج کی ضرورت تھی مصر میں بھرتی کی رفتار سلطان ایوبی کے عزائم کے مطابق سست تھی اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ سوڈانیوں کی جو فوج توڑ دی گئی تھی اس کے کماندار اور عہدے دار دیہات میں سلطان ایوبی کے خلاف پروپیگینڈا کرتے پھر رہے تھے اس فوج میں سے تھوڑی سی تعداد سلطان کی فوج میں وفاداری کا حلف اٹھا کر شامل ہو گئی تھی کچھ فوج مصر سے تیار کر لی گئی تھی اور کچھ سلطان زنگی نے بھیج دی تھی مصر کے لوگوں نے ابھی یہ فوج نہیں دیکھی تھی نہ ہی انہوں نے سلطان ایوبی کو دیکھا تھا سلطانہ ایوبی نے اس میلے کا اعلان کر کے اپنے فوجی سربراہوں اور ان کے ماتحت کمانداروں وغیرہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ باہر سے ائے ہوئے لوگوں سے ملیں اور پیار اور محبت سے ان کا اعتماد حاصل کریں انہیں باور کرائیں کہ وہ انہی میں سے ہیں اور ہم سب کا مقصد یہ ہے کہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سلطنت کو دور دور تک پھیلانا اور اسے صلیبی فتنے سے پاک کرنا ہے ملے سے ایک روز پہلے علی بن سفیان سلطان کو جاسوسوں کے خطرے سے اگاہ کر رہا تھا اس نے کہا امیر محترم مجھے جاسوسوں کا کوئی ڈر نہیں دراصل خطرہ اپنے ان کلمہ گو بھائیوں سے ہے جو کفار کے اس زمین دوز حملے کو کامیاب بناتے ہیں اگر ان کا ایمان مضبوط ہو تو جاسوسوں کا پورا لشکر بھی کامیاب نہیں ہو سکتا میلے کے تماشائیوں میں جو ناچنے والی لڑکیاں نظر ارہی ہیں وہ صلیبیوں کا جال ہیں تاہم میرا گروہ دن رات مصروف ہے اپنے ادمیوں سے یہ کہہ دو کہ کسی جاسوس کو جان سے نہ ماریں سلطان ایوبی نے کہا زندہ پکڑو جاسوس دشمن کے لیے انکھ اور کان ہوتا ہے لیکن ہمارے لیے وہ زبان ہے وہ تمہیں ان کی خبریں دے گا جنہوں نے اسے بھیجا ہے میلے کی صبح طلوع ہوئی وہ میدان بہت ہی وسیع تھا جس کے تین اطراف تماشائیوں کا ہجوم تھا جس طرف ریت کے ٹیلے تھے ادھر کسی کو نہیں جانے دیا گیا تھا جنگی دفت بجنے لگے گھوڑوں کے ٹاپوں کی اوازیں اس طرح سنائی دی جیسے سیلابی تھریا ارہا ہو گرد اسمان کی طرف اٹھ رہی تھی یہ دو ہزار سے زیادہ گھوڑے تھے پہلا گھوڑا سوار میدان میں داخل ہوا یہ صلاح الدین ایوبی تھے ان کے دونوں طرف علمبردار تھے اور پیچھے سواروں کا دستہ تھا گھوڑوں پر پھولدار چادریں ڈالی گئی تھیں ہر سوار کے ہاتھ میں پرچی تھی برچھی کے چمکتے ہوئے پھل کے ساتھ رنگین کپڑے کی چھوٹی سی جھنڈی تھی ہر سوار کی کمر سے تلوار لٹک رہی تھی گھوڑے ہلکی چال چلے ا رہے تھے سوار گردنیں تانے اور سینے پھلائے بیٹھے تھے ان کے چہروں پر جلالی اثر تھا ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے یہ تماشائیوں کے دم بخود ہجوم سے اعلی اور برتر ہوں ان کی ان بان دیکھ کر تماشائیوں پر خاموشی طاری ہو گئی تھی ان پر روپ چھا گیا تھا تماشائی نیم دائرے میں کھڑے تھے ان کے پیچھے تماشائی گھوڑوں پر بیٹھے تھے اور ان کے پیچھے کے تماشائی اونٹوں پر بیٹھے تھے ایک ایک گھوڑے اور ایک ایک اونٹ پر دو دو تین تین ادمی بیٹھے تھے ان کے اگے ایک جگہ شامیانہ لگایا گیا تھا جس کے نیچے کرسیاں رکھی تھیں یہاں اونچی حیثیت والے تماشائی بیٹھے تھے ان میں تاجر بھی تھے سلطان کی حکومت کے افسر اور شہر کے معززین بھی ان میں قاہرہ کی مسجدوں کے امام بھی بیٹھے تھے انہیں سب سے اگے بٹھایا گیا تھا کیونکہ سلطان ایوبی مذہبی پیشواؤں اور علماء کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ ان کی موجودگی میں ان کی اجازت کے بغیر بیٹھتے بھی نہیں تھے ان میں سلطان کے وہ افسر بھی بیٹھے تھے جو انتظامیہ کے تھے لیکن ان کا تعلق فوج سے تھا سلطان نے انہیں خاص طور پر کہا تھا کہ ان ظوامان میں بیٹھ کر ان کے ساتھ دوستی پیدا کریں ان میں خادم الدین البرق بھی تھا علی بن سفیان کے بعد یہ دوسرا ادمی تھا جو سلطان ایوبی کے خفیہ منصوبوں مملکت اور فوج کے ہر رات سے واقف تھا اس کا کام ہی ایسا تھا اور اس کا عہدہ سالار جتنا تھا جنگ کے منصوبے اور نقشے اسی کے پاس ہوتے تھے اس کی عمر
ENGLISH
It was reported that the Crusaders had sent spies and subversives into Egypt, but it was not yet known what their plans were for Egypt. It is kept there, especially in Syria, those Muslims were enjoying Umrah and drunkenly in the presence of God's mercy. On the other hand, Sultan Zangi in Arabia attacked the kingdom of the crusaders and forced them to make peace and received tribute. Sultan Zangi did not release these prisoners because the crusaders had martyred the Muslim prisoners of war, besides the crusaders also broke the oath. were preparing to take Palestine from the Crusaders and cleanse the land of Arabia from the infidels. At the same time, they wanted to strengthen the defense of Egypt. One of the reasons why Sultan Ayyubi's ambitions were slow was that the commanders and officers of the Sudanese army that had been disbanded were roaming around the villages propagandizing against Sultan Ayyubi. I took the oath of allegiance and joined. Some of the army had been prepared from Egypt and some had been sent by Sultan Zangi. The people of Egypt had not yet seen this army, nor had they seen Sultan Ayubi. By announcing the fair, he instructed his army chiefs and their subordinate commanders etc. to meet the people from outside and win their trust with love and affection and make them believe that they belong to them and that we all belong to them. The purpose is to spread the kingdom of God and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) far and wide and to cleanse it from the Crusades. A day before the meeting, Ali bin Sufyan was informing the Sultan about the danger of spies. I have no fear of spies, in fact, the danger is from my speaking brothers who make this ground attack of the infidels successful, if their faith is strong, even the whole army of spies cannot succeed. Look, they are a trap of crusaders, but my group is busy day and night. He will give you the news of those who have sent him. The morning of the fair dawned, the field was very wide, crowded with spectators on three sides, on one side of which were sand dunes, and no one was allowed to pass. The sound of the tops of the horses was heard as if a flood was rising towards the sky. There were more than two thousand horses. The first horseman entered the field. The horses were draped with flowery mantles.Each rider had a slip in his hand.A small flag of colorful cloth with the shining fruit of the spear was hanging from each rider's waist.The horses were moving lightly. They were sitting on the floor, there was a glorious effect on their faces, it seemed as if they were higher and superior than the crowd of spectators. There were spectators behind them sitting on horses and spectators behind them were sitting on camels, one horse and one camel two two three three people were sitting in front of them a canopy was placed under which chairs were placed here. High-ranking spectators were seated, among them were merchants, officials of the Sultan's government and dignitaries of the city, among them were the imams of the mosques of Cairo. They did not even sit in his presence without his permission. Sultan's officers who belonged to the administration but were related to the army were also sitting among them. Among them was Khadim al-Din al-Baraq, after Ali bin Sufyan, he was the second person who was aware of the secret plans of Sultan Ayubi, the state and the army every night. He used to have the plans and maps of his age
جنگ کے منصوبے اور نقشے اسی کے پاس ہوتے تھے اس کی عمر 40 سال کے قریب تھی وہ عرب کے مردانہ حسن اور جلال کا پیکر تھا جسم توانہ اور چہرہ ہشاش بشاش تھا البرک کے ساتھ ایک لڑکی بیٹھی تھی بہت ہی خوبصورت لڑکی تھی وہ نوجوان تھی لڑکی کے ساتھ ایک ادمی بیٹھا تھا جس کی عمر 60 سال سے کچھ زیادہ تھی وہ کوئی امیر کبیر تاجر لگتا تھا البرق کئی بار اس لڑکی کی طرف دیکھ چکا تھا ایک بار لڑکی نے بھی اسے دیکھا تو مسکرا دی پھر بوڑھے کی طرف دیکھا اور اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی گھوڑے تماشائیوں کے سامنے سے گزر گئے تو شتر سوار اگئے اونٹوں کو گھوڑوں کی طرح رنگدار چادروں سے سجایا گیا تھا ہر سوار کے ہاتھ میں ایک لمبا نیزہ اور اس کے پھل سے ذرا نیچے تین تین انچ چوڑے اور ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ لمبے دو رنگے کپڑے جھنڈیوں کی طرح بندھے ہوئے تھے ہوا میں وہ پھڑپڑاتے بہت ہی خوبصورت لگتے تھے ہر سوار کے کندھوں سے ایک کمان اویزاں اور اونٹ کی زین کے ساتھ رنگین ترکش بندی تھی اونٹوں کی گردنیں خم کھا کر اوپر کو اٹھی ہوئی اور سر جیسے فخر سے اونچے ہو گئے تھے سواروں کی شان نرالی تھی گڑ سواروں کی طرح ہر شتر سوار سامنے دیکھ رہا تھا ان کی انکھیں بھی دائیں بائیں نہیں دیکھتی تھیں یہ اونٹ انہی اونٹوں جیسے تھے جن پر تماشائی بیٹھے ہوئے تھے لیکن فوجی ترتیب فوجی چال اور فوجی سواروں کے نیچے وہ کسی اور جہان کے لگتے تھے البرک نے اپنے پاس بیٹھی ہوئی لڑکی کو ایک بار پھر دیکھا اب کی لڑکی نے اسے انکھوں میں انکھیں ڈال کر دیکھا اس کی انکھوں میں ایسا جادو تھا کہ البرک نے اپنے اپ میں بجلی کا جھٹکا سا محسوس کیا لڑکی کے ہونٹوں پر شرم و حیا کا تبسم اگیا اور اس نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے بوڑھے کو دیکھا تو اس کا تبسم نفرت میں بدل گیا البرک کی ایک بیوی تھی جس میں سے اس کے چار بچے تھے وہ شاید اس بیوی کو بھول گیا تھا وہ لڑکی کے اس قدر قریب بیٹھا تھا کہ لڑکی کا اٹھا ہوا ریشمی نقاب ہوا سے اڑ کر کئی بار البرک کے سینے سے لگا ایک بار اس نے نقاب ہاتھ سے پرے کیا تو لڑکی نے شرما کر معذرت کی البرک مسکرایا لیکن منہ سے کچھ نہ کہا شتر سواروں کے پیچھے پیادہ فوج ا رہی تھی ان میں تیر اندازوں اور تیغ زنوں کے دستے تھے ان کی ایک ہی جیسی چال ایک ہی جیسے ہتھیار اور ایک ہی جیسا لباس تماشائیوں پر وہی تاثر طاری کر رہا تھا جو سلطان ایوبی کرنا چاہتے تھے سپاہیوں کے چہرے پر تندرستی اور توانائیوں کی رونق تھی اور وہ خوش و خرم اور مطمئن نظر اتے تھے یہ ساری فوج نہیں صرف منتخب دستے تھے ان کے پیچھے منجنیقیں ا رہی تھیں جنہیں گھوڑے گھسیٹ رہے تھے ہر منجنیق دستے کے پیچھے ایک ایک گھوڑا گاڑی تھی جس میں بڑے بڑے پتھر اور ہانڈیوں کی قسم کے برتن رکھے تھے ان میں تیل جیسی کوئی چیز بھری ہوئی تھی جو مجنکھوں سے پھینکی جاتی تھی جہاں یہ برتن گرتا تھا وہ کئی ٹکڑوں میں ٹوٹ کر سیال مادے کو باہر سی جگہ پر بکھیر دیتا تھا اس پر اتشی تیر چلائے جاتے تو سیال مادہ شعلے بن جاتا تھا سلطان ایوبی کی قیادت میں یہ سوار اور پیادہ دستے نیم دائرے میں کھڑے اور بیٹھے ہوئے تماشائیوں کے اگے سے دور اگے نکل گئے صلاح الدین ایوبی راستے سے واپس اگئے ان کے گھوڑے کے اگے علمبرداروں کے گھوڑے دائیں بائیں اور پیچھے محافظوں کے گھوڑے اور ان کے پیچھے نائب سالاروں کے گھوڑے تھے سلطان نے ایک گھوڑا روک لیا کود کر اترے اور تماشائیوں کو ہاتھ ہوا میں لہرا کر سلام کرتے شامیانے کے نیچے چلے گئے وہاں بیٹھے ہوئے تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوئے سلطان ایوبی نے سب کو سلام کیا اور اپنی نشست پر بیٹھ گئے سوار اور پیادہ دست دور اگے جا کر ٹیلوں کے عقب میں چلے گئے میدان خالی ہو گیا ایک گھڑ سوار سرپٹ گھوڑا دوڑاتا ایا اس کے ایک ہاتھ میں گھوڑے کی لگام اور دوسرے میں اونٹ کی رسی تھی اونٹ گھوڑے کی رفتار کے ساتھ توڑتا ا رہا تھا میدان کے وسط میں ا کر گھڑ سوار گھوڑے پر کھڑا ہو گیا اس نے باگے چھوڑ دی وہ اچھل کر اونٹ کی پیٹ پر کھڑا ہو گیا وہاں سے کود کر گھوڑے کے پیٹ پر اگیا اور وہاں سے زمین پر کود گیا چند قدم گھوڑے اور اونٹ کے ساتھ بھاگا پھر کود کر گھوڑے پر سوار ہوا گھوڑے اور اونٹ کی رفتار میں کوئی فرق نہیں ایا تھا گھوڑے کی پیٹھ سے وہ اونٹ کی پیٹھ پر چلا گیا اور دور اگے جا کر غائب ہو گیا خادم الدین البرق دائیں کو ذرا سا جھکا اس کے منہ اور لڑکی کے سر کے درمیان دو تین انچ کا فاصلہ رہ گیا تھا لڑکی نے اسے دیکھا البرق مسکرایا اور لڑکی شرما گئی بوڑھے نے دونوں کو دیکھا اس کے بوڑھے ماتھے کے شکن گہرے ہو گئے اچانک ٹیلوں کے پیچھے سے ہانڈیوں کی طرح کے مٹی کے وہ برتن جو گھوڑا گاڑیوں پر لدے ہوئے تھے اوپر کو جاتے اگے اتے اور میدان میں گرتے نظر ائے برتن ٹوٹتے تھے تو تیل اچھل کر بکھر جاتا تھا کم و بیش 1 برتن گرے اور ان سے نکلا ہوا مادہ تقریبا ای س گز لمبائی اور اسی قدر چوڑائی میں بکھر گیا ایک ٹیلے پر چھ تیر انداز نمودار ہوئے انہوں نے جلتے ہوئے فیتوں والے تیر چلائے جو سیال مادے والی جگہ گر گئے فورا وہ تمام جگہ ایک ایسا چھولا بن گئی جو گھوڑے کی پیٹھ تک بلند اور کوئی ایک سو گز تک پھیلا ہوا تھا ایک طرف سے چار گھڑ سوار پوری رفتار سے دوڑتے ائے شعلے کے قریب ا کر وہ رکے نہیں رفتار کم بھی نہ کی چاروں شعلے میں چلے گئے تماشائی دم بخود تھے کہ وہ جل جائیں گے مگر وہ اتنے
ENGLISH
The plans and maps of the war were with him. He was about 40 years old. He was the figure of the masculine beauty and glory of the Arabs. He had a strong body and a handsome face. There was a girl sitting next to Al Barak. She was a very beautiful girl. She was young. A man was sitting next to the girl, whose age was a little more than 60 years old, he seemed to be a rich businessman. The smile disappeared as the horses passed in front of the spectators as the camel riders came. Long two-colored cloths were tied like flags and they looked very beautiful fluttering in the wind. A bow hung from each rider's shoulders and a colorful quiver was attached to the camel's saddle. They were raised with pride. The glory of the riders was unique. Like the camel riders, every camel rider was looking in front. Their eyes did not look right or left. These camels were like the same camels on which the spectators were sitting, but the military order was military and military. Beneath the riders, they seemed to be from another world. Alberk looked at the girl sitting next to him once again, now the girl looked him in the eyes, there was such magic in her eyes that Alberk felt an electric shock in himself. He felt a smile of shame and modesty on the girl's lips and when she saw the old man sitting next to her, her smile turned into hatred. Albarak had a wife from whom he had four children, he probably forgot this wife. He was sitting so close to the girl that the girl's raised silk veil flew from the wind and hit Albarak's chest several times. Once he removed the veil with his hand, the girl blushed and apologized. The infantry was coming behind the camel riders, among them there were troops of archers and spearmen. There was a glow of health and energy on his face and he looked happy and satisfied. It was not the whole army, but only selected troops. Behind them were catapults which were dragged by horses. I kept large stones and vessels of the type of handis filled with something like oil, which was thrown from the slings, and where the vessel fell, it broke into pieces and scattered the fluid on the outside. When the arrows were fired, the fluid turned into flames. Under the leadership of Sultan Ayyubi, these horsemen and infantry advanced far ahead of the spectators standing and seated in a semi-circle. The horses on the right and left and behind were the horses of the guards and behind them the horses of the viceroys. Ayyubi greeted everyone and took his seat. The horsemen and footmen moved away and went behind the hills. The rope was broken by the camel with the speed of the horse and the rider stood on the horse in the middle of the field. From there he jumped to the ground, ran a few steps with the horse and the camel, then jumped and mounted the horse. There was no difference in the speed of the horse and the camel. Gia Khadimuddin Al-Barq bent his right a little, there was a gap of two or three inches between his mouth and the girl's head. The girl saw him. Al-Barq smiled and the girl blushed. Suddenly, from behind the dunes, those earthen pots like handis, which were loaded on horse-carts, went up and fell on the field. The substance that came out was scattered over a length of about 100 yards and the same width. Six archers appeared on a mound. It was back-high and stretched for a hundred yards. On one side, four horsemen were running at full speed near the flame. They did not stop, nor did they slow down. But that's it
مگر وہ اتنے وسیع شعلے میں دوڑتے نظر ا رہے تھے اخر وہ چاروں شعلے میں سے نکل گئے تماشائیوں نے داد و تحسین کا وہ شور بلند کیا کہ اسمان پھٹنے لگا دو سواروں کے کپڑوں کو اگ لگی ہوئی تھی دونوں بھاگتے گھوڑوں سے ریت پر گرے اور تھوڑی دور لڑکیاں کھاتے گئے ان کے کپڑوں کی اگ بجھ گئی البرخ اس شوروغل اور سواروں کے کمالات سے نظریں پھیرے ہوئے لڑکی کو دیکھ رہا تھا لڑکی اس کی طرف دیکھتی اور ذرا مسکرا کر بوڑھے کو دیکھنے لگتی تھی بوڑھا اٹھ کر جانے کیوں چلا گیا لڑکی اسے جاتا دیکھ رہی تھی البرگ کو معلوم تھا کہ لڑکی بوڑھے کے ساتھ ائی ہے اس نے لڑکی سے پوچھا تمہارے والد صاحب کہاں چلے گئے ہیں یہ میرا باپ نہیں لڑکی نے جواب دیا میرا خاوند ہے خاوند البرک نے حیرت سے پوچھا کیا یہ شادی تمہارے والدین نے کرائی ہے اس نے مجھے خریدا ہے لڑکی نے اداس لہجے میں کہا وہ کہاں گیا ہے البرک نے پوچھا ناراض ہو کے چلا گیا ہے لڑکی نے جواب دیا اسے شک ہو گیا ہے کہ میں اپ کو دلچسپی سے دیکھتی ہوں کیا تم واقعی مجھے دلچسپی سے دیکھتی ہو البرک نے رومانی انداز سے پوچھا لڑکی کے ہونٹوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ ا گئی دھیمی سے اواز میں بولی میں اس بوڑھے سے تنگ اگئی ہوں اگر کسی نے مجھے اس سے نجات نہ دلائی تو میں خودکشی کر لوں گی میدان میں سوار اور پیادہ فوجی حیران کن کرتب دکھا رہے تھے اور حرب و ضرب کے مظاہرے کر رہے تھے تماشائیوں نے جنگی مظاہرے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے انہوں نے صرف سوڈانی فوج دیکھی تھی جو خزانے کے لیے سفید ہاتھی بنی ہوئی تھی اس کے کماندار بادشاہوں کی طرح باہر نکلتے تھے ان کے ساتھ اگر فوج کا دستہ ہو تو وہ دیہات کے لیے مصیبت بن جاتے تھے مویشی تک کھول کر لے جاتے تھے کسی کے پاس اچھی نسل کا اونٹ گھوڑا دیکھتے تو زبردستی لے جاتے تھے لوگوں کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ فوج رعایا پر ظلم و تشدد کرنے کے لیے رکھی جاتی ہے لیکن سلطان کی فوج بہت مختلف تھی ایک تو وہ دستے تھے جو مظاہرے میں شریک تھے باقی فوج کو سلطان کی ہدایات کے مطابق تماشائیوں میں پھیلا دیا گیا تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل کر ان پر یہ تاثر پیدا کریں کہ فوجی ان کے بھائی ہیں اور انہی میں سے ہیں بدتمیزی یا بداخلاقی کرنے والے فوجی کے لیے بڑی سخت سزا مقرر کی گئی تھی خادم الدین البرق جو سلطان ایوبی کی جنگی مشاورتی محکمے کا سربراہ اور رازدان تھا سلطان کی ہدایات اور میلے کے شور و غل سے بالکل ہی لا تعلق ہو گیا تھا لڑکی ایک جادو بن کر اس کی عقل پر غالب اگئی تھی اس نے لڑکی میں دلچسپی کا اظہار کیا اسے لڑکی نے قبول کر لیا تھا اس سے دونوں کے لیے سہولت پیدا ہو گئی تھی البرب نے کہیں ملنے کو کہا تو لڑکی نے جواب دیا وہ خریدی ہوئی ل**** ہے اور اس بوڑھے نے اسے قید میں رکھا ہوا ہے اس پر ہر وقت نظر رکھتا ہے لڑکی نے یہ بھی بتایا کہ بوڑھے کے گھر چار بیویاں ہیں البرک نے اپنے رتبے کو فراموش کر دیا عشق باز نوجوان کی طرح اس نے ملاقات کی وہ جگہیں بتانا شروع کر دی جہاں اوارہ ادمیوں کے سوا کوئی نہیں جاتا تھا ان جگہوں میں سے ایک جگہ لڑکی کو پسند اگئی اس شہر سے باہر قدیمم زمانے کا کوئی کھنڈر تھا البرپ نے لڑکی سے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ اسے بوڑھے سے ازاد کرانے کی کوشش کرے گا تیسری رات البرق گھر سے نکلا وہ حاکمہ کی شان سے گھر سے نکلا کرتا تھا مگر اس رات وہ چوروں کی طرح باہر نکلا ادھر ادھر دیکھا اور وہ ایک طرف چل پڑا قاہرہ پر سکوت طاری تھا فوجی میلہ ختم ہوئے دو دن گزر گئے تھے باہر سے ائے ہوئے تماشائی جا چکے تھے سرکاری حکم کے تحت عارضی قہبہ خانے اٹھا دیے گئے تھے علی بن سفیان کا محکمہ اب یہ سراغ لگاتا پھر رہا تھا کہ باہر سے ائی ہوئی کتنی لڑکیاں اور کتنے مشکوک لوگ شہر یا مضافاتی دیہات میں رہ گئے ہیں میلے کا مقصد پورا ہو گیا تھا دو ہی دنوں میں چار ہزار جوان فوج میں بھرتی ہو گئے تھے اور مزید بھرتی کی توقع تھی
ENGLISH
But they were seen running in such a wide flame. At last, all four of them came out of the flame. The spectators raised such a noise that the sky started to burst. The clothes of the two riders were on fire. A short distance away, the girls went to eat and their clothes went out. Al-Barakh was looking at the girl, distracted by the noise and the marvels of the riders. The girl looked at him and looked at the old man with a smile. Alberg was watching him go. He knew that the girl had come with the old man. He asked the girl where did your father go. This is not my father. The girl replied, it is my husband. Albarak asked in surprise, "Is this marriage your parents?" He has bought me. The girl said in a sad tone, "Where has he gone?" "Do you see?" asked Albarak in a romantic manner. A shy smile appeared on the girl's lips. She spoke in a low voice. Spectators had never seen war demonstrations before, they had only seen the Sudanese army, which was a white elephant for the treasure, its commanders walking out like kings. If there was an army team with them, they would become trouble for the villages. but the Sultan's army was very different. One was the troops who participated in the demonstration. create the impression that the soldiers are their brothers and among them severe punishment was prescribed for a soldier who misbehaves or misbehaves. The noise was completely detached. The girl became a spell and overcame his intellect. He expressed his interest in the girl, which was accepted by the girl. When asked to meet somewhere, the girl replied that she is bought and this old man has kept her in prison and keeps an eye on her all the time. The girl also told that the old man has four wives in his house. Forgetting rank, like a young lover, he began to tell of the places he met where no one but strays went. One of those places the girl liked. Outside the city there was an ancient ruin called Alburp. He also promised the girl that he would try to free her from the old man. On the third night, Al-Baraq left the house. Cairo was silent, two days had passed since the military fair had ended, the spectators from outside had gone, the temporary shelters had been removed under the official order, Ali bin Sufyan's department was now tracking that from outside. How many girls and how many suspicious people are left in the city or in the suburban villages?

No comments:
Post a Comment