The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode18
اسمان گہری نیند سوئے ہوئے تھے لڑکی نے البرق سے کہا تھا کہ ہ والبرخ بوڑھے کی قیدی ہے اور اس پر ہر وقت نظر رکھتا ہے پھر بھی اس امید پر جا رہا تھا کہ لڑکی ضرور ائے گی ممکنہ خطروں سے نمٹنے کے لیے اس کے پاس ایک خنجر تھا اور عورت ایسا جادو ہے کہ جس پر طاری ہو جائے وہ کسی کی پرواہ نہیں کیا کرتا عقل و دانش اس کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں البرق پختہ عمر کا ادمی تھا مگر وہ نادان نوجوان بن گیا تھا اسے اندھیرے میں کھنڈر کے قریب ایک تاریک سایہ سر سے پاؤں تک لبادے میں لپٹا ہوا نظر ایا اور کھنڈر کے کھڑے سیاہ بھوت میں جذب ہو گیا وہ تیز تیز چلتا کھنڈر میں پہنچا گری ہوئی دیوار کے شگاف سے وہ اندر اگیا اگے اندھیرا کمرہ تھا چھت میں بڑی زور سے کوئی بہت بڑا پرندہ پھڑپھڑایا البرک نے ہوا کی تیز جھونکے محسوس کیے اور اچانک اس کے منہ پر تھپڑ پڑا اس کے ساتھ ہی اسے چھی چھی کی اوازیں سنائی دی وہ جان گیا کہ یہ بڑے چمگادڑ ہیں جن کے پنجے اس کا منہ نوچ ڈالیں گے وہ بیٹھ گیا اور پاؤں پر سرکتا کمرے سے نکل گیا کمرہ اڑتے چمگادڑوں سے بھر گیا تھا اگے صحن تھا جس کے ارد گرد گول برامدہ تھا البرک نے یہ بھی نہ سوچا کہ ایک خریدی ہوئی قیدی لڑکی جس پر ہر وقت نظر رکھی جاتی ہے اس ہیبت ناک کھنڈر میں کیسے ائے گی مگر برامدے میں کسی کے قدموں کی دبی دبی اہٹ نے اسے بتایا کہ یہاں کوئی موجود ہے اس نے کمر سے خنجر نکال کر ہاتھ میں لے لیا اس کے سر پر چمگادڑ اڑ رہے تھے پھڑپھڑانے کی اوازیں ڈراؤنی تھیں البرک نے اہستہ سے پکارا اصفہ لڑکی نے اسے اپنا نام بتا دیا تھا اور میلے میں یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ کس طرح فروخت ہوئی ہے اپ اگئے اسے اصفہ کی اواز سنائی دی وہ برامدے میں سے دوڑتی ائی اور البرگ کے ساتھ چپک گئی کہنے لگی اپ کی خاطر جان کو خطرے میں ڈال کر ائی ہوں مجھے جلدی واپس جانا ہے بوڑھے کو شراب میں نیند کا سفوف پلا کے ائی ہوں وہ جاگ نہ اٹھے کیا تم اسے شراب میں زہر نہیں پلا سکتی البرک نے پوچھا میں نے کبھی قتل نہیں کیا اصفہ نے کہا میں نے تو کبھی یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ اس طرح کسی غیر مرد سے ملنے اس ڈراؤنے کھنڈر میں اؤں گی البرک نے اسے بازوں میں جکڑ لیا اچانک ان کے پیچھے برامدار روشن ہو گیا جس کمرے میں سے البرگ گزر کے ایا تھا اس میں سے دو مشلیں نکلی یہ لکڑیوں کے سروں پر تیل میں بھگوئے ہوئے کپڑے لپیٹ کر بنائی گئی تھیں ان کے شعلے خاصے بڑے تھے البرک نے اصفہ کو اپنے پیچھے کر لیا اس کے ہاتھ میں خنجر تھا کیا یہ کھنڈر میں رہنے والی بدروحیں تھیں یا لڑکی کے تعاقب میں اس کا خاوند ا گیا تھا البرق ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ایک اواز کر جی دونوں کو قتل کر دو مسئلے قریب ائیں تو ان کے ناچتے شولوں میں البرک اور اصفہ کو چار ادمی نظر ائے ایک کے ہاتھ میں برچی اور تین کے پاس تلواریں تھیں انہوں نے مشعل زمین میں کاٹ دی کھنڈر کا صحن روشن ہو گیا چاروں ادمی البرگ کے گرد بھیڑیوں کی طرح اہستہ اہستہ چکر میں چلنے لگے اصفہ اس کے پیچھے تھی برامدے میں سے ایک اور اواز ائی مل گئے زندانہ چھوڑنا یہ لڑکی کے بوڑھے خاوند کی اواز تھی اصفہ البرگ کے عقب سے اگے اگئی اس نے حقارت اور غصے سے بوڑھے سے کہا اگے اؤ اور مجھے قتل کر دو میں تم پر لعنت بھیجتی ہوں میں اپنی مرضی سے یہاں ائی ہوں چاروں م*** ادمی ان کے گرد کھڑے تھے برچی والے نے برچی اہستہ اہستہ اصوہ کی طرف کی اور اس کی نوک اس کے پہلو سے لگا کر کہا مرنے سے پہلے برچھی کی نوک دیکھ لو لیکن تم سے پہلے یہ شخص تڑپ تڑپ کر تمہارے سامنے مرے گا جس کی خاطر تم یہاں ائی ہو اصفہ نے جھپٹا مار کر برچھی پکڑ لی اور جھٹکا دے کر برچی چھین لی اصفہ البرک سر الگ ہو گئی اور للکار کر کہا اؤ اگے اؤ میں دیکھتی ہوں کہ تم مجھ سے پہلے اس ادمی کو کس طرح قتل کرتے ہو البرک خنجر اگے کیے اس کے سامنے اگیا لڑکی نے برچی سے اس پر وار کیا جس سے اس نے پچی چھینی تھی وہ ادمی پیچھے کو بھاگا اس کے ساتھیوں نے البرک پر حملہ کرنے کی بجائے صرف پینترے بدلے وہ البرگ کو اسانی سے قتل کر سکتے تھے مگر وہ بڑھ کر حملہ نہیں کر رہے تھے اصفہ کی للکار گونج رہی تھی وہ بڑھ کر وار کرتی تھی مگر وار خالی جاتا تھا البرک نے ایک ادمی پر خنجر سے حملہ کیا تو دو ادمی اس کے پیچھے ائے اصفہ ایک ہی جست میں اس کے پیچھے ہو گئی اس کے ہاتھ میں لمبی برچی تھی جو تلوار کا مقابلہ کر سکتی تھی خنجر تلوار کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا بوڑھا ایک طرف کھڑا اپنے ادمیوں کو للکار رہا تھا تھوڑی سی دیر انہوں نے البرق اور اصفہ پر حملے کیے اصفہ ان پر ٹوٹ ٹوٹ پڑتی تھی البرق وار بچاتا تھا اور خنجر سے وار کرنے کی کوشش کرتا تھا مگر عجیب امر یہ تھا کہ لڑکی کے حملوں کے باوجود کوئی زخمی نہیں ہوا بوڑھے کے ادمیوں نے بھی تیغ زنی کے جوہر دکھائے مگر البرق اور اصفہ کو خراش تک نہ ائی اتنے میں بوڑھے نے کہا رک جاؤ اور لڑائی بند ہو گئی میں ایسی بے وفا لڑکی کو گھر میں نہیں رکھنا چاہتا بوڑھے نے کہا مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنی دلیر اور بہادر ہے اگر اسے میں زبردستی لے بھی گیا تو یہ مجھے قتل
ENAGLISH
Asman was fast asleep. The girl had told al-Baraq that she was a prisoner of the old man and was watching over him all the time. However, al-Baraq was going with the hope that the girl would definitely come. There was a dagger and a woman is such a spell that he who is cast on him does not care about anyone, wisdom and wisdom leave his side. The shadow appeared wrapped in a cloak from head to toe and was absorbed into the standing black ghost of the ruins. He walked fast and reached the ruins. Through a crack in the fallen wall, he entered. There was a dark room ahead. Alburak gasped. He felt a gust of wind and suddenly he was slapped in the face. At the same time he heard the sound of peeing. He knew that these were big bats whose claws were going to scratch his mouth. He sat down and feet. But Skuta left the room. The room was filled with flying bats. Ahead was a courtyard surrounded by a circle. Alberk did not even think how a bought captive girl, who was watched at all times, could get into this horrible ruin. But the muffled sound of someone's footsteps in the baramde told him that someone was here. He took out a dagger from his waist and took it in his hand. Bats were flying over his head. had told him her name and also told him how she had been sold in the fair. When he came he heard Isfa's voice. I have put the old man to sleep. I didn't even think that I would come to meet a non-man like this in this scary ruin. Alberk held him in his arms. They were made by wrapping oil-soaked cloths on the ends of the wood, their flames were particularly large. Al-Baraq had gone and was still thinking that by making a single sound, he would kill them both and bring them closer. Then, in their dances, Al-Baraq and Asfa saw four people, one of them had a spear in their hand and three had swords. The courtyard of the ruins cut into the ground was lit up. The four people started walking around the Alberg slowly like wolves. Isfa was behind her. Another voice was heard from the crowd. It was the voice of the girl's old husband, Isfa Alberg. He came forward from behind and said to the old man with contempt and anger, "Go ahead and kill me. I curse you. I have come here of my own free will." Ahista turned towards Aswa and placed its tip on his side and said, "Look at the tip of the spear before you die, but before you, this person will die in front of you, for the sake of which you have come here." He grabbed and jerked away the spear. Isfa Al-Barak turned away and challenged and said, "Go ahead. I see how you kill this person before me." Al-Barak raised his dagger in front of him. Struck him from whom he had snatched the pitch, the man ran back. Instead of attacking Albarak, his comrades only changed hands. They could have killed Albarg easily, but they did not attack more than Isfa's challenge. It was buzzing, she used to strike more and more, but the strike was empty. Al Barak attacked a man with a dagger, then two men followed him, and Isfa followed him in one stroke. Daggers were nothing compared to swords. The old man stood aside and challenged his men. For a while they attacked Al-Barq and Asfa. but the strange thing was that despite the girl's attacks, no one was injured. The old man's men also showed the essence of swordsmanship, but Al Baraq and Asfa were not even scratched. Meanwhile, the old man said to stop and the fight stopped. I don't want to keep such an unfaithful girl in the house, said the old man.
تھا کہ یہ اتنی دلیر اور بہادر ہے اگر اسے میں زبردستی لے بھی گیا تو یہ مجھے قتل کر دے گی میں تمہیں اس کی پوری قیمت دوں گا البرک نے کہا کہو تم نے اسے کتنے میں خریدا تھا بوڑھا ہاتھ بڑھا کر اگے بڑھا اور البرق سے ہاتھ ملا کر پوچھا میرے پاس دولت کی کمی نہیں میں یہ لڑکی تمہیں بخش دیتا ہوں اسے تمہارے ساتھ اتنی محبت ہے کہ تمہاری خاطر اتنے سارے ادمی کے مقابلے میں اگئی ہے میں اسے اس لیے بھی تمہارے حوالے کرتا ہوں کہ یہ جنگجو نسل کی لڑکی ہے میں تاجر اور سوداگر ہوں یہ کسی تم جیسے جنگجو کے گھر میں اچھی لگے گی تیسری وجہ یہ ہے کہ تم سلطان صلاح الدین ایوبی کی حکومت کے حاکم ہو میں سلطان کا وفادار اور مرید ہوں میں تمہیں ناراض نہیں کرنا چاہتا جاؤ میں نے اسے طلاق دی اور اسے تم پر حلال کر دیا چلو دوستو انہیں اکیلا چھوڑ دو وہ مشلیں اٹھا کر چلے گئے البرک کی حیرت کی انتہا یہ تھی کہ اس کے پاؤں تلے زمین ہلنے لگی اسے یقین نہیں ارہا تھا وہ اسے بوڑھے کا فریب سمجھ رہا تھا اسے یہ خطرہ نظر ا رہا تھا کہ یہ لوگ راستے میں گھات لگا کر ان دونوں کو قتل کر دیں گے اصفہ کے ہاتھ میں پرچی تھی جو البرک نے لے لی اور کچھ دیر بعد کھنڈر سے نکلے وہ دائیں بائیں اور پیچھے دیکھتے تیزی سے چلنے لگے ذرا سی اٹھ سنائی دیتی تو وہ چونک کر رک جاتے ہر طرف اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کرتے اور اہستہ اہستہ چل پڑتے شہر میں داخل ہوئے تو ان کی جان میں جان ائی اصفہ نے رک کر بازو البرگ کے گلے میں ڈال دیے اور پوچھا اپ کو مجھ پر اعتماد ہے یا نہیں البرخ نے اسے سینے سے لگا دیا اس پہ جذبات کا اتنا غلبہ تھا کہ کچھ بول نہ سکا لڑکی نے اسے بے دام خرید لیا تھا اسے یہ تو اب پتہ چلا تھا کہ لڑکی اسے کیسی دیوانگی سے چاہتی ہے اور کتنی بہادر ہے دراصل وہ لڑکی کے حسن پر مر مٹا تھا اس کی بیوی اس کی ہم عمر تھی اصفہ کو دیکھ کر اس نے محسوس کیا کہ وہ بیوی اس کے کام کی نہیں اس دور میں جب عورت فروخت ہوتی تھی گھر میں بیوی کی کوئی اہمیت نہیں تھی بیک وقت چار بیویاں تو خاوند اپنا حق سمجھتا تھا لیکن جو پیسے والے ہوتے تھے وہ دو چار خوبصورت لڑکیاں بغیر نکاح کے رکھ لیتے تھے مسلمان عمرہ کو عورت نے ہی تباہ کیا تھا ان کے ہاں یہ بھی رواج تھا کہ ایک ادمی کی بیویاں خاوند کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ڈھونڈ ڈھونڈ کر خوبصورت لڑکیاں خامدوں کو بطور تحفہ پیش کرتی تھی البرک جب اصفہ کو ساتھ لیے گھر میں داخل ہوا تو سب سوئے ہوئے تھے صبح اس کی بیوی نے اپنے خاوند کے پلنگ پر اتنی حسین لڑکی دیکھی تو اسے ذرہ بھر محسوس نہ ہوا کہ اس کا سہاگ اجڑ گیا ہے بلکہ وہ خوش ہوئی کہ اس کے اتنے اچھے خاوند کو اتنی خوبصورت لڑکی مل گئی ہے اس کے ا جانے سے وہ کچھ فرائض سے سبک دوش ہو گئی تھی البرک کی حیثیت ایسی تھی کہ وہ ایسی ایک اور بیوی یادداشتہ رکھ سکتا تھا صلاح الدین ایوبی مسلمانوں کو عورت سے اور عورت کو مسلمانوں سے ازاد کرانا چاہتے تھے وہ ایک خاوند ایک بیوی کا حکم نافذ کرنا چاہتے تھے مگر ابھی وہ ہر اس امیر اور وزیر کو دشمن بنانے سے ڈرتے تھے جس نے کئی کئی لڑکیوں کو گھروں میں رکھا ہوا تھا عورت کے خریدار یہی لوگ تھے انہی کی دولت سے عورت کھلی منڈی میں نیلام ہوا کرتی تھی اغوا کی وارداتیں ہوتی تھیں قتل اور خون خرابے ہوتے تھے اور امرا اور حاکموں کی زن پرستی کا ہی نتیجہ تھا کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے لڑکیوں کی وساطت سے سلطنت اسلامیہ کی جڑوں میں زہر بھر دیا تھا اس کے علاوہ سلطان ایوبی کو یہ احساس بھی پریشان کیا رکھتا تھا کہ یہی عورت مردوں کے دوش بدوش کفار کے خلاف لڑا کرتی تھی مگر اب یہ عورت جو جہاد میں مرد کے لیے ادھی قوت تھی مرد کی تفریح اور عیاشی کا ذریعہ بن گئی ہے اس سے صرف یہ نہیں ہوا کہ قوم کی ادھی جنگ کی قوت ختم ہو گئی ہے بلکہ عورت ایک ایسا نشہ بن گئی ہے جس نے قوم کی مردانگی کو بےکار کر دیا ہے سلطان ایوبی عورت کی عظمت بحال کرنا چاہتے تھے انہوں نے ایک منصوبہ تیار کر رکھا تھا جس کے تحت وہ غیر شادی شدہ لڑکیوں کو باقاعدہ فوج میں بھرتی کرنا چاہتے تھے اسی کے تحت حرم بھی خالی کرنے تھے مگر ایسے احکام وہ اسی صورت نافذ کر سکتے تھے کہ سلطنت کی خلافت یا عمارت ان کے ہاتھ ا جائے یہ مہم بڑی دشوار تھی ان کے دشمنوں میں اپنوں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ جانتے تھے کہ قوم میں ایمان فروشوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے انہیں یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ ان کا ایک معتمد خاص اور حکومت کے رازوں کا رکھوالا خادم الدین البرق بھی ایک نوجوان حسینہ کو گھر لے ایا ہے اور یہ لڑکی اس کے اعصاب پر ایسی بری طرح چھا گئی ہے کہ اب وہ فرائض سلطنت سے بے پرواہ ہو سکتا ہے فوجی میلے میں مصر کے لوگ سلطان ایوبی کی فوجی طاقت سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ اسے اسلامی اور مصری فوج سمجھ کر اس سے متاثر ہوئے تھے سلطان ایوبی تقریریں کرنے والے حاکم نہیں تھے لیکن اس دن اتنے بڑے اجتماع سے انہوں نے خطاب کرنا ضروری سمجھا انہوں نے کہا کہ یہ فوج قوم کی عصمت کی محافظ ہے اور اسلام کی پاسبان ہے انہوں نے صلیبیوں کے عزائم تفصیل سے بیان کیے اور مصریوں کو بتایا کہ عرب میں مسلمان عمرہ اور حاکموں کے تعیش پرستی کی وجہ سے صلیبیوں نے وہاں مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے وہ قافلوں کو لوٹ لیتے ہیں مسلمان لڑکیوں کو اغوا کر کے بے ابرو کرتے پھرتے ہیں پھر انہیں بیچ ڈالتے ہیں
ENGLISH
It is so brave and brave that even if I take it by force, it will kill me. I will give you its full price. Al Barak said, "Tell me how much you bought it for." He asked holding hands, "I don't lack wealth. I give you this girl. She has so much love for you that she has come to compete with so many people for your sake. I also hand her over to you because she is a girl of warrior race." I am a merchant and a trader. It will look good in the house of a warrior like you. The third reason is that you are the ruler of Sultan Salahuddin Ayyubi's government. I am loyal and devoted to the Sultan. And made it lawful for you. Come on, friends, leave them alone. They picked up the torches and left. Albarak's surprise was that the ground began to shake under his feet. He couldn't believe it. It was seen that these people would ambush them on the way and kill them both. Isfa had a slip in her hand which Albarak took and after some time they came out of the ruins, they started walking fast, looking right and left and behind. When they heard it, they would stop in shock, try to look everywhere in the dark, and walk slowly when they entered the city, when they knew their lives, Isfa stopped and put her arms around Alberg's neck and asked him to trust me. Whether it is or not, Albarakh put her on his chest, he was so overcome by emotions that he could not say anything. The girl had bought him for nothing. He was obsessed with the girl's beauty, his wife was of his age, seeing Asfa, he felt that she was not for him. The husband considered it his right to have four wives, but those who had money would keep two or four beautiful girls without marriage. The Muslim Umrah was destroyed by the woman. Looking for beautiful girls to do, they used to present the Khamids as gifts. When Albarak entered the house with Asfa, everyone was asleep. It happened that her marriage was ruined, but she was happy that her good husband had found such a beautiful girl. Because of his departure, she was relieved of some duties. Salah al-Din Ayyubi wanted to free Muslims from women and women from Muslims. These were the people who bought women, women were auctioned in the open market with their wealth. had poisoned the roots of the Islamic Empire through girls. Apart from this, Sultan Ayyubi was also troubled by the feeling that this same woman used to fight against the infidels against men, but now this woman, who is fighting for men in Jihad. Half the strength of the man has become a source of entertainment and pleasure, not only has the nation lost half of its fighting power, but the woman has become an addiction that has made the nation's masculinity useless. Sultan Ayubi Wanting to restore the dignity of women, they had prepared a plan according to which they wanted to recruit unmarried girls in the regular army, according to which the harem was also to be emptied, but they could implement such orders only if The caliphate or the building of the empire fell into their hands. This campaign was very difficult. Among their enemies, there were more of them and they knew that the number of believers in the nation was increasing. They did not know that one of their confidants was there. Khadim al-Din al-Baraq, the keeper of private and government secrets, has also brought home a young Hasina, and this girl has got on his nerves so badly that now he can be careless about his royal duties. Ayyubi's army was not in awe of it, but was influenced by it considering it as an Islamic and Egyptian army. She is the protector of innocence and the guardian of Islam. There are Muslims who abduct girls and then sell them
سلطان ایوبی نے لوگوں کو قومی جذبے سے اگاہ کیا انہیں کہا کہ وہ فوج میں بھرتی ہو کر اپنی بیٹیوں کی عصمت اور اسلام کی عظمت کی پاسبانی کریں سلطان کی تقریب میں جوش تھا اور ایسا تاثر تھا کہ تماشائیوں کے دلوں میں ہلچل مچ گئی اور اسی روز جوان ادمی فوج میں بھرتی ہونے لگے 10 روز تک بھرتی ہونے والوں کی تعداد چھ ہزار ہو گئی اس میں کم و بیش ڈیڑھ ہزار جوان اپنے اونٹ ساتھ لائے تھے اور ایک ہزار کے قریب گھوڑوں اور خچروں سمیت ائے سلطان نے انہیں جانوروں کا معاوضہ فوری طور پر ادا کر دیا اور فوج نے ان کی ٹریننگ شروع کر دی میلے کے تین ماہ بعد سلطان کی فوج میں تین جرائم کی رفتار بڑھنے لگی چوری جوا بازی اور رات کی غیر حاضری یہ جرائم اس سے پہلے بھی ہوتے تھے لیکن نہ ہونے کے برابر تھے فوجی میلے کے بعد یہ وبا کی صورت اختیار کرنے لگے ان تینوں کی بنیاد جوا بازی تھی چوری کی وارداتیں اسی تک محدود تھیں کہ سپاہی سپاہی کی کوئی ذاتی چیز چرا کر بازار میں بیچ ڈالتا تھا مگر ایک رات فوج کے تین گھوڑے غائب ہو گئے سواروں اور سپاہیوں کی تعداد پوری تھی کوئی بھی غیر حاضر نہیں تھا اگر اس نقصان کو نظر انداز کر دیا جاتا تو اگلی بار 10 گھوڑے چوری ہو جاتے اعلی حکام تک رپورٹ پہنچی انہوں نے فوجوں کو تنبیہ کی سزا سے ڈرایا خدا سے ڈرایا مگر یہ تینوں جرائم پڑھتے گئے ایک رات ایک سپاہی پکڑا گیا وہ کہیں سے کیمپ میں ا رہا تھا اس سے پہلے رات کو غیر حاضر ہونے والے سپاہی چوری چھپے سنتریوں سے بچ کر نکل جاتے اور بچتے بچاتے ا جاتے تھے لیکن یہ سپاہی لڑکھڑاتا ا رہا تھا سنتری نے اسے دیکھ لیا اور اسے پکارا سپاہی رک گیا اور گر پڑا سنتری نے دیکھا کہ یہ خون میں نہایا ہوا تھا اسے اٹھا کر اپنے عہدے دار کے پاس لے گیا اس کی مرہم پٹی کی گئی مگر وہ زندہ نہ رہ سکا مرنے سے پہلے اس نے بتایا کہ وہ اپنی ایک ساتھی سپاہی کو قتل کر کے ایا ہے اور اس کی لاش کیمپ سے نصب کوس دور ایک خیمے میں پڑی ہے اس کے بیان کے مطابق وہاں تین خیمے تھے وہ لوگ خانہ بدوش تھے ان کے پاس خوبصورت عورتیں تھیں وہ ان عورتوں کی نمائش فوجیوں میں کرتے تھے رات کو سپاہی وہاں تک پہنچ جاتے تھے اور وہ دوسروں کو بتاتے تو وہ بھی چلے جاتے تھے وہ خانہ بدوش صرف عصمت فروش نہیں تھے ان کی ہر عورت اپنے فوجی گاہک کو یہ تاثر دیتی تھی کہ وہ اس پر فدا ہے اور اس کے ساتھ شادی کر لے گی باپ کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ انہوں نے سپاہیوں میں رقابت پیدا کر دی تھی اسی کا نتیجہ تھا کہ یہ دو سپاہی خانہ بدوشوں کے خیمے میں لڑ پڑے ایک مارا گیا اور دوسرا زخمی ہو کر ایا اور بیان دے کر مر گیا دوسرے سپاہی کی لاش لانے کے لیے ادمی روانہ کر دیے گئے ان کے ساتھ ایک کماندار بھی تھا مرنے والے سپاہی نے راستہ اور جگہ بتا دی تھی وہاں گئے تو دیکھا کہ سپاہی کی لاش پڑی ہے خیمے نہیں ہیں وہاں کے نشان بتا رہے تھے کہ یہاں سے خیمے اکھاڑے گئے ہیں رات کے وقت ان کی تلاش ممکن نہیں تھی سپاہی کی لاش اٹھا لائے اس حادثے کی رپورٹ سلطان ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کو دی گئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ فوج میں جرائم بڑھ گئے ہیں اور تین گھوڑے بھی چوری ہو چکے ہیں سلطان نے علی بن سفیان کو بلا کر کہا کہ وہ سپاہیوں کے بھیس میں اپنے سوراغ رساں فوج میں شامل کر کے معلوم کریں کہ یہ جرائم کیوں بڑھ رہے ہیں سلطان نے اس سلسلے میں البرک کو بھی حکم دیا اس کیوں کا جواب شہر کے اندر موجود تھا جہاں تک علی بن سفیان کے سراغ رسانوں کی رسائی محال تھی یہ ایک بہت بڑا قلا نما مکان تھا مصریوں کا ایک کنبہ نہیں بلکہ پورا خاندان اس میں رہتا تھا اس مکان اور مکینوں کو شہر میں عزت حاصل تھی کیونکہ یہاں خیرات بہت تقسیم ہوتی تھی ناداروں کو یہاں سے مالی مدد ملتی تھی فوجی میلے میں اس خاندان نے سلطان ایوبی کو اشرفیوں کی دو تھیلیاں فوج کے لیے پیش کی تھیں یہ سوداگر خاندان تھا مصر میں سلطان ایوبی کے انے سے پہلے یہ مکان سوڈانی فوج کے بڑے رتبے والوں اور انتظامیہ کے حاکموں کی مہمان گاہ بنا رہا تھا سوڈانیوں کو سلطان ایوبی نے ا کر ختم کیا تو اس خاندان کی وفاداریاں حکومت کے ساتھ رہیں اور یہ سلطان ایوبی کا وفادار ہو گیا جس روز سلطان ایوبی نے البرک اور علی بن سفیان کو حکم دیا کہ فوج میں جرائم کی وبا کی وجوہات معلوم کریں اس سے اگلی رات اس مکان کے کمرے میں 10بار ادمی بیٹھے تھے شراب کا دور چل رہا تھا کمرے میں ایک بوڑھا ادمی داخل ہوا اسے دیکھ کر سب اٹھ کھڑے ہوئے اس کے ساتھ ایک بڑی خوبصورت لڑکی تھی جس کا ادھا چہرہ نقاب میں تھا کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر دیا گیا اور لڑکی نے نقاب اٹھا دیا وہ بوڑھے کے ساتھ بیٹھ گئی کل امیر مصر تک اطلاع پہنچ گئی ہے کہ فوج میں جوئے بازی اور بدکاری بڑھ گئی ہے بوڑھے نے کہا ہماری اج کی یہ نشست بہت اہم ہے امیر نے سپاہیوں کے بیس میں فوج میں سراغ رساں شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے ہمیں ان سراغ رسانوں کو ناکام کرنا ہے تازہ اطلاع بڑی ہی امید افضل ہے دو مصری سپاہیوں نے ایک عورت پر لڑ کر ایک دوسرے کو قتل کر دیا ہے یہ ہماری کامیابی کی ابتدا ہے تین مہینوں میں صرف ایک مسلمان سپاہی نے دوسرے کو قتل کیا اور خود بھی قتل ہوا ہے ایک ادمی نے بوڑھے کی بات
ENGLISH
Sultan Ayubi informed the people of the national spirit and told them to join the army and protect the innocence of their daughters and the greatness of Islam. Day by day, young men began to be recruited into the army. By 10 days, the number of recruits had reached 6,000, in which more or less 1,500 young men had brought their camels and about 1,000 horses and mules, and the Sultan immediately paid them compensation for the animals. Three months after the fair, three crimes began to increase in the Sultan's army: theft, gambling and night absence. After the military fair, it started to become an epidemic. The basis of these three was gambling. The incidents of theft were limited to the fact that a soldier used to steal some personal belongings of a soldier and sell them in the market. But one night, three army horses disappeared. The number of horsemen and soldiers was full, no one was absent. If this loss had been ignored, next time 10 horses would have been stolen. The report reached the higher authorities. They threatened the troops with a warning. While reading the crimes, one night a soldier was caught, he was staying somewhere in the camp. Before that, the soldiers who were absent at night used to sneak out from the oranges and escape, but this soldier was staggered by oranges. Saw it and called out to him. The soldier stopped and fell. The sentry saw that it was bathed in blood. He picked it up and took it to his officer. that he had killed one of his fellow soldiers and his body was lying in a tent far away from the camp. According to his statement, there were three tents there. They used to perform in the army, the soldiers would reach there at night and when they told others, they would also leave. The nomads were not just prostitutes. And she will marry him. The father's investigation revealed that they had created rivalry among the soldiers. As a result, these two soldiers fought in the nomads' tent, one was killed and the other was injured. He died. People were sent to bring the dead body of another soldier. There was a commander with them. It was said that the tents had been torn down from here and it was not possible to find them at night. The body of the soldier was brought and the report of this accident was given to Sultan Ayubi (may Allah have mercy on him) and it was also told that crimes had increased in the army and three horses. The Sultan called Ali bin Sufyan and asked him to join his detectives in the army disguised as soldiers to find out why these crimes are increasing. The Sultan also ordered Al Barak in this regard. The answer was inside the city, where it was impossible for Ali ibn Sufyan's spies to reach. Charity was distributed a lot, poor people got financial help from here, in the military fair, this family presented two bags of Ashrafis to Sultan Ayubi for the army. This was a merchant family. The Sudanese were being built as a guest house for the rank-and-file and administrative rulers. The Sudanese were killed by Sultan Ayubi, so the loyalties of this family remained with the government and it became loyal to Sultan Ayubi. Diya told them to find out the reasons for the epidemic of crimes in the army. The next night, 10 people were sitting in the room of this house. There was a period of alcohol. An old man entered the room and everyone stood up. There was a girl with half of her face in a niqab. As soon as she entered the room, the door was closed and the girl lifted the niqab. She sat next to the old man. Yesterday, the report reached the Amir of Egypt that gambling and immorality has increased in the army, old man. said, "This seat of ours is very important. The emir has ordered to add spies to the army in the base of the soldiers. We have to defeat these spies. The latest information is very hopeful. Two Egyptian soldiers fought over a woman." This is the beginning of our success. In three months, only one Muslim soldier killed another and he himself was also killed.
کی بات کاٹ کر کہا کامیابی کی یہ رفتار بہت سست ہے کامیابی ہم اسے کہیں گے جب ایوبی کا کوئی نائب سالار اپنے سالار کو قتل کر دے گا میں کامیابی اسے کہوں گا جب کوئی سالار یا نائب سالار صلاح الدین ایوبی کو قتل کر دے گا بوڑھے نے کہا مجھے معلوم ہے کہ ایک ہزار سپاہی قتل ہو جائیں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ہمارا مطمئن نظر ایوبی کا قتل ہے اپ سب کو پچھلے سال کے دونوں واقعات یاد ہوں گے ساحل پر سلطان ایوبی پر تیر چلایا گیا تھا وہ خطا گیا روم سے ادمی ائے وہ ایسے ناکام ہوئے کہ سب کے سب مارے گئے اور ایک بدبخت مسلمان ہو گیا اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے یہ کہ سلطان کو قتل کرنا اتنا اسان نہیں جتنا اپ لوگ سمجھتے ہیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایوبی قتل ہو جائے تو اس کا جانشین اس سے زیادہ سخت اور کٹر مسلمان ثابت ہو اس لیے یہ طریقہ زیادہ بہتر ہے کہ اس کی فوجوں اور اس خوبصورت تباہی کے راستے پر ڈال دو جس پر سلیب کے پرستاروں نے بغداد اور دمشق کے مسلمان امراء اور حاکموں کو ڈال دیا ہے سلیم کی پرستاروں اور سوڈانیوں کو شکست کھائے ایک سال گزر گیا ہے ایک نے کہا اس ایک سال میں اپ نے کیا کیا ہے محترم اپ بڑا لمبا راستہ اختیار کر رہے ہیں دو ادمیوں کا قتل بے حد لازمی ہے ایک صلاح الدین ایوبی اور دوسرا علی بن سفیان اگر علی بن سفیان کو ختم کر دیا جائے تو ایوبی اندھا اور بہرا ہو جائے گا ایک اور نے کہا میں نے وہ انکھیں حاصل کر لی ہیں جو سلطان ایوبی کے سینے کے ہر ایک راز کو دیکھ سکتی ہیں بوڑھے نے کہا اور اس لڑکی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا جو اس کے ساتھ ائی تھی بوڑھے نے کہا یہ ہیں وہ انکھیں دیکھ لو ان انکھوں میں کیا جادو ہے تم سب نے صلاح الدین ایوبی کے ایک حاکم خادم الدین البرگ کا نام سنا ہوگا تم میں سے بعض نے اسے دیکھا بھی ہوگا صرف دو ادمی ہیں جو صلاح الدین ایوبی کے سینے میں دیکھ سکتے ہیں ایک علی اور دوسرا حلبرگ علی بن سفیان کو قتل کرنا حماقت ہوگی میں نے جس طرح البرب پر قبضہ کر لیا ہے اسی طرح علی پر بھی کر لوں گا البرک اپ کے قبضے میں ا چکا ہے ایک نے پوچھا ہاں بوڑھے نے لڑکی کے ریشمی بالوں کو ہاتھ سے چھیڑ کر کہا میں نے اسے ان زنجیروں میں جکڑ لیا ہے میں نے اج اپ سب کو چند اور باتیں بتانے کے علاوہ یہ خوشخبری بھی سنانے کے لیے بلایا ہے ہمیں جلدی برخواست ہونا ہے کیونکہ ہم سب کا ایک جگہ اکٹھا ہونا ٹھیک نہیں اس لڑکی کو تم سب شاعر جانتے ہو مجھے بالکل امید نہیں کہ یہ اتنی استادی سے یہ ڈرامہ کھیل لے گی اس کی عمر دیکھیے پختہ نہیں ہے میں پورا ایک سال ایسے موقع کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا کہ علی بن سفیان یا البرگ کو یا دونوں کو پھانس سکوں میں ان سے ملا کبھی نہیں کیونکہ میں ان کی شناخت میں نہیں انا چاہتا تھا فوجی حکام کو سلطان شہریوں سے دور رکھتا ہے اخر اس نے فوجی میلے کا اعلان کیا اور مجھے پتہ چل گیا کہ اس نے اپنے فوجی کمانداروں سالاروں اور عہدے داروں سے کہا ہے کہ میلے میں وہ شہریوں میں بیٹھیں اور ان سے باتیں کریں اور ان پر اپنا رب نہیں بلکہ اعتماد پیدا کریں مجھے علی بن سفیان کہیں نظر نہیں ایا اس لڑکی کو میں اپنے ساتھ لے گیا تھا البرق نظر اگیا اس کے ساتھ دو کرسیاں خالی تھیں میں نے لڑکی کو اس کے قریب بٹھا دیا اسے میں اٹھ مہینوں سے استادی طریقے سکھا رہا تھا مجھے اپنا بوڑھا خاوند اور اپنے اپ کو خریدی ہوئی مظلوم لڑکی بتا کر اس نے البرک جیسے مومن کو اپنی خوبصورتی میں گرفتار کر لیا
ENGLISH
He interrupted and said that the pace of success is very slow. We will call it success when a vice-salar of Ayubi kills his salar. I will call it success when a salar or vice-salar kills Salahuddin Ayubi. He said, "I know that even if a thousand soldiers are killed, it does not matter. Our contentment is the killing of Ayubi. You all will remember the two incidents of last year. An arrow was shot at Sultan Ayubi on the beach. He was shot from Rome. People, they failed in such a way that all of them were killed and one wretch became a Muslim. This shows that killing the Sultan is not as easy as you people think. His successor should prove to be a tougher and staunch Muslim than him, so this way is better to put his armies on the path to the beautiful destruction on which the worshipers of Salib have put the Muslim princes and rulers of Baghdad and Damascus, Salim. A year has passed since defeating the fans and the Sudanese. One of them said, "What have you done in this one year, sir? You are taking a long way. It is absolutely necessary to kill two people, one is Salahuddin Ayubi and the other is Ali bin Sufyan." If Ali bin Sufyan is killed, Ayyubi will become blind and deaf. Another said, "I have acquired eyes that can see every secret of Sultan Ayyubi's chest," said the old man, and the girl's back. But the old man put his hand to the one who came with him and said, "Look at those eyes, what magic is in those eyes. You all must have heard the name of Khadimuddin Albarg, one of Salahuddin Ayyubi's rulers. Some of you must have seen him. There are two men who can see in the chest of Salah al-Din Ayyubi, one is Ali and the other is Halbarg. It would be foolish to kill Ali bin Sufyan. One of them asked, yes, the old man touched the girl's silky hair with his hand and said, "I have tied her in these chains. I have called you all to tell you a few more things, and also to tell you this good news. Let us leave quickly." It has to happen because it is not right for all of us to come together in one place. You all know this girl as a poet. I have absolutely no hope that she will play this drama with such skill. Look at her age. I am not mature. I have been looking for such an opportunity for a whole year. I went around saying that Ali bin Sufyan or Alberg or both of them were never met in the hanging coins because I did not want to identify them. The Sultan kept the military authorities away from the citizens. I came to know that he has asked his military commanders, chiefs and officials to sit among the citizens in the fair and talk to them and instill trust in them and not in their Lord. I did not see Ali Bin Sufyan anywhere. I had taken Al-Baraq along with me. Two chairs were empty with him. I sat the girl near him. captured a believer like Albarak in his beauty
.jpg)
No comments:
Post a Comment