The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode19
رکھا ہوا تھا اس نے ابھی کسی کو نہیں بتایا تھا کہ اس نے دوسری شادی کر لی ہے دوسری شادی معیوب نہیں تھی لیکن وہ ڈرتا تھا کہ دوست مذاق اڑائیں گے کہ اتنا عرصہ ایک بیوی کے ساتھ گزار کر 40 سال کی عمر میں نوجوان لڑکی کے ساتھ شادی کر لی مگر یہ بھید چھپ نہ سکا علی بن سفیان نے شہر میں اور فوجی کیمپوں کے ارد گرد اپنے جاسوس پھیلا رکھے تھے اسے یہ اطلاحی مل رہی تھیں کہ فوجی میلے کے بعد شہر میں جوا اور بدکاری بڑھ رہی ہے ایک روز ایک سراغ رسا نے علی بن سفیان کو یہ رپورٹ دی کہ گزشتہ تین مہینوں میں اس نے چار بار دیکھا ہے کہ خادم الدین البرک کے گھر سے رات اس وقت جب سب سو جاتے ہیں ایک عورت سیاہ لبادے میں لپٹی ہوئی نکلتی ہے وہ تھوڑی دور جاتی ہے تو ایک ادمی اس کے ساتھ ہو جاتا ہے سراغ رسا نے بتایا کہ دو بار اس نے یہیں تک دیکھا تیسری بار اس نے عورت کا پیچھا کیا وہ اس ادمی کے ساتھ ایک مکان میں چلی گئی وہاں سے کچھ دیر بعد نکلی اور اس ادمی کے ساتھ واپس چلی گئی اس سراغ رسا نے بتایا کہ اس نے عورت کو گزشتہ رات گھر سے نکلتے ایک ادمی کے ساتھ جاتے دیکھا تو تعقب کیا وہ اسی مکان میں داخل ہو گئی ذرا سی دیر بعد وہ ایک ادمی کے ساتھ مکان سے نکلی وہ دونوں شہر کے ایک بہت بڑے مکان میں داخل ہوئے سوراغ رساں مکان سے دور دور رہا بعض سا وقت گزر جانے کے بعد اس مکان سے ایک ایک کر کے 11 ادمی نکلے اخر میں یہ عورت ایک ادمی کے ساتھ نکلی سراغ رساں اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے تعاقب میں گیا البرگ کے مکان سے کچھ دور ادمی ایک اور طرف چلا گیا اور عورت البرگ کے مکان میں داخل ہو گئی سراغ رساں البرک جیسے حاکم کے گھر کے متعلق کوئی بات کہنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا لیکن علی بن سفیان کی ہدایات اور احکام بڑے ہی سخت تھے اس نے اپنے جاسوس مخبروں اور سراغ رسانوں سے کہہ رکھا تھا کہ وہ سلطان ایوبی کی کسی حرکت کو شک سے دیکھیں تو بھی اسے بتائیں اور وہ کسی کے رتبے کا لحاظ نہ کریں جہاں انہیں کسی قسم کا شک ہو خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو وہ علی بن سفیان کو تفصیل سے بتائیں یہ سبق جاسوسی کی ٹریننگ میں شامل تھا کہ جاسوسی کی کامیابی کا دارومدار ایسی ہی حرکتوں اور باتوں سے ہوتا ہے جنہیں بے معنی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اس سراغ رسا نے چار مرتبہ جو مشاہدہ کیا تھا وہ علی بن سفیان کے لیے اہم تھا وہ البرک کی بیوی کو اچھی طرح جانتا تھا وہ ایسی عورت نہیں تھی کہ راتوں کو کسی غیر مرد کے ساتھ باہر جائے البرک کی کوئی بیٹی جوان بھی نہیں تھی یہ تو کسی کو بھی علم نہ تھا کہ البرک نے ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ شادی کر لی ہے اس نے اس مسئلے پر بہت غور کیا اسے یہ خیال بھی اگیا کہ البرق اس کا دوست بھی ہے اسے حق پہنچتا ہے کہ اس کے دوست کے گھر میں کوئی گڑبڑ ہے تو اس کے لیے کچھ کرے مگر اس کے ذہن میں جو سوچ اور غالب تھی وہ یہ تھی کہ شہر میں مشکوک عورتوں کا ریلا سہا گیا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ البرق کسی بدکار عورت کے چکر میں اگیا ہو ایک طریقہ اس کے دماغ میں اگیا اس نے اپنے محکمے کی ایک عورت کو اس روپ میں البرب کے گھر میں بھیجا کہ وہ ایک مظلوم عورت ہے اس کا خاوند مر گیا ہے اور اس کے بیٹے اوارہ ہو گئے ہیں لہذا اس کی عیانت کی جائے ہدایت کے مطابق یہ عورت اس وقت البرگ کے گھر میں گئی جب وہ گھر میں نہیں تھا دوسری ہدایت کے مطابق وہ سارے گھر میں پھری تو اسے اصفہ نظر اگئی یہ عورت البرک کی پہلی بیوی سے ملی اپنی فریاد پیش کی اور کہا کہ وہ البرک کی پہلی بیوی سے اس کی سفارش کرے بدو ہاتھوں میں اس نے کہا اپ کی بیٹی کی شادی ہو گئی ہے یا ابھی کماری ہے اسے جواب ملا یہ میری بیٹی نہیں میرے خاوند کی دوسری بیوی ہے تین مہینے ہوئے انہوں نے شادی کی ہے علی بن سفیان کے لیے یہ اطلاع حیران کن تھی اس کے دل میں ہی شک پیدا ہو گیا کہ رات کو باہر جانے والی اس کی نئی بیوی ہی ہو سکتی ہے علی نے ایک عورت کے ہاتھ البرک کی پہلی بیوی کو پیغام بھیجا کہ وہ اسے کہیں باہر ملنا چاہتا ہے مگر البرغ کو پتہ نہ چلے اس نے یہ بھی کہلا بھیجا کہ ان کے گھر کے متعلق کوئی بہت ہی ضروری بات کرنی ہے علی نے ملاقات کے لیے ایک جگہ بھی بتا دی اور وقت وہ بتایا جب البرق دفتر میں مصروف ہوتا تھا وہ اگئی علی بن سفیان کے دل میں اس معزز عورت کا بہت ہی احترام تھا اس نے البرب کی بیوی سے کہا کہ اسے معلوم ہوا ہے کہ البرک نے دوسری شادی کر لی ہے بیوی نے جواب دیا خدا کا شکر ہے کہ اس نے دوسری شادی کی ہے چوتھی اور پانچویں نہیں کی باتیں کرتے کرتے علی بن سفیان نے پوچھا وہ کیسی ہے بہت خوبصورت ہے بیوی نے جواب دیا شریف بھی ہے علی بن سفیان نے پوچھا اپ کو اس پر کسی قسم کا شک تو نہیں کچھ دیر تک وہ گہری سوچ میں پڑی رہی علی نے کہا اگر میں یہ کہوں کہ وہ کبھی کبھی رات کو باہر جاتی ہے تو اپ برا تو نہ منائیں گی وہ مسکرائی اور کہنے لگی میں خود پریشان تھی کہ یہ بات کس سے کروں میرے خاوند کا یہ حال ہے کہ اس کا غلام ہو گیا ہے مجھ سے تو اب بات بھی نہیں کرتا
ENGLISH
He had not yet told anyone that he had remarried. The second marriage was not invalid, but he was afraid that his friends would make fun of him for spending so long with one wife, and at the age of 40, a young girl. Ali bin Sufyan had spread his spies in the city and around the military camps. Rasa reported to Ali bin Sufyan that in the last three months he had seen four times that a woman wrapped in a black cloak came out of the house of Khadim al-Din al-Barak at night when everyone was asleep. A man gets along with her. The detective said that twice he saw her, the third time he followed the woman, she went to a house with the man, left after some time and returned with the man. The detective said that he saw the woman leaving the house last night with a man, so he followed her and entered the same house. After a while, she left the house with a man. After entering a very big house, the detective stayed far away from the house. After some time passed, 11 people came out of this house one by one. Finally, this woman came out with a person. The detective took advantage of the darkness to follow them. Some distance away from Albarak's house, Adami went to another side and the woman entered Albarak's house. He was strict. He told his spies, informers and detectives to tell him even if they saw any suspicious activity of Sultan Ayyubi and not to consider anyone's rank where they had any suspicion, however slight. If not, tell Ali bin Sufyan in detail. This lesson was included in spy training that the success of spying depends on such actions and words that are ignored as meaningless. What he observed was important to Ali Ibn Sufyan. He knew Al Barak's wife very well. She was not a woman who would go out at night with a non-man. Al Barak's daughter was not even young. No one knew this. Al Barak was married to a young girl. He thought about this issue a lot. He also thought that Al Barak was also his friend. But the dominant thought in his mind was that there was a lot of suspicious women in the city. A woman of the department was sent to the house of Albarb in the form that she is an oppressed woman. When he was not in the house, according to the second instruction, she went around the whole house and saw Asfa. He said, "Is your daughter married or is she still a virgin?" He got the answer, "She is not my daughter, but my husband's second wife. It has been three months since they got married." This news was surprising to Ali bin Sufyan in his heart. Suspecting that it might be his new wife who went out at night, Ali sent a message through a woman to Albarak's first wife that he wanted to meet her somewhere outside, but Albarak did not know, he also said that He sent that there was something very important to be done about his house. Ali also told him a place to meet and the time he told was when al-Baraq was busy in the office. He said to Albarab's wife that he had come to know that Albarak had married a second time. The wife replied, thank God that he had married a second time. Talking about the fourth and not the fifth, Ali bin Sufyan asked him. How is she? She is very beautiful, the wife replied. She is also handsome. Ali bin Sufyan asked, "Do you have any doubt about her?" She smiled and said, "I was worried about who to talk to. My husband has become a slave, so he doesn't even talk to me anymore."
کے خلاف خاوند کے ساتھ بات کروں تو وہ مجھے گھر سے نکال دے وہ کہے گا کہ میں حسد سے شکایت کر رہی ہوں یہ لڑکی صاف نہیں ہمارے گھر میں شراب کی بو بھی کبھی نہیں ائی تھی اب وہاں مٹکے خالی ہوتے ہیں شراب علی بن سفیان نے چونک کر پوچھا البرق شراب بھی پینے لگا ہے صرف پیتا نہیں بیوی نے کہا بدمست اور مدہوش ہو جاتا ہے میں نے چھ بار اس لڑکی کو رات کے وقت باہر جاتے اور بہت دیر بعد اتے دیکھا ہے میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جس رات لڑکی کو باہر جانا ہوتا ہے اس رات البرق بے ہوش ہوتا ہے صبح بہت دیر سے اٹھتا ہے لڑکی بدمعاش ہے اسے دھوکہ دے رہی ہے لڑکی بدمعاش نہیں علی بن سفیان نے کہا وہ جاسوس ہے وہ البرق کو نہیں قوم کو دھوکہ دے رہی ہے جاسوس بیوی نے چونک کر کہا میرے گھر میں جاسوس وہ اٹھ کھڑی ہوئی دانت پیس کر بولی اب جانتے ہیں کہ میں شہید کی بیٹی ہوں البرق پکا مسلمان تھا اس نے زندگی اسلام کے نام پر وقف کر رکھی تھی میں بچوں کو جہاد کے لیے تیار کر رہی ہوں اور اپ کہتے ہیں کہ میرے بچوں کا باپ ایک جاسوس لڑکی کے قبضے میں اگیا ہے میں اپنے بچوں کے باپ کو قربان کر سکتی ہوں قوم اور اسلام کو قربان ہوتا نہیں دیکھ سکتی میں دونوں کو قتل کر دوں گی علی بن سفیان نے اسے بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا اور اسے سمجھایا کہ ابھی یہ یقین کرنا ہے کہ لڑکی جاسوس ہے اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ البرق بھی جاسوسوں کے گروہ میں شامل ہو گیا ہے یا اسے شراب پلا کر صرف استعمال کیا جا رہا ہے اس عورت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جاسوسوں کو قتل نہیں گرفتار کیا جاتا ہے اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے متعلق پوچھا جاتا ہے علی بن سفیان نے اسے کچھ ہدایات دی اور اسے کہا کہ وہ لڑکی کی ہر حرکت پر نظر رکھے یہ عورت چلی گئی یوں معلوم ہوتا تھا جیسے علی بن سفیان کی ہدایات پر ٹھنڈے دل سے عمل کرے گی مگر اس کی چال اور اس کے انداز سے یہ بھی معلوم ہوتا تھا کہ کسی بھی وقت بے قابو ہو جائے گی وہ حرم کی عورت نہیں تھی وہ خاوند کی وفادار بیوی اور ملک و ملت پر جان نثار کرنے والی قوم کی بیٹی تھی خادم الدین البرق اور علی بن سفیان صرف رفیق کار ہی نہیں تھے ان کی گہری دوستی بھی تھی وہ ہم عمر تھے انہوں نے اکٹھے مار کے لڑے تھے دونوں سلطان ایوبی کے پرانے ساتھی تھے اتنی گہری دوستی کے باوجود البرخ نے علی بن سفیان سے دوسری شادی چھپا رکھی تھی علی کو معلوم ہوا تو اس نے البرغ کے ساتھ اس ضمن میں کوئی بات نہ کی وہ اس کی بیوی کی وساطت سے اس کے گھر کا معمہ حل کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا اس نے البرک کے مکان اور اس مکان کے درمیان اپنے جاسوسوں میں اضافہ کر دیا تھا جہاں البرک کی نئی بیوی رات کو جایا کرتی تھی البرک کی پہلی بیوی کے ساتھ باتیں کیے دو راتیں گزر گئی تھیں لڑکی باہر نہیں نکلی تھی جاسوس پوری پوری رات بیدار رہتے تھے تیسری رات نصف شب سے ذرا پہلے علی بن سفیان گہری نیند سویا ہوا تھا اس نے اپنے عملے اور اپنے ملازموں سے کہہ رکھا تھا کہ وہ جب چاہیں اسے جگہ سکتے ہیں وہ ان حاکموں سے مختلف تھا جو کسی کو ارام میں مخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے اس رات علی کو ملازم نے گہری نیند سے بیدار کیا اور کہا عمر ایا ہے گھبرایا ہوا ہے علی بن سفیان کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح کمرے سے نکلا صحن دو تین چھلانگوں میں عبور کیا اور ڈیوڑی سے باہر نکل گیا اس کے عملے کا ایک ادمی باہر کھڑا تھا اس نے کہا ملازم کو دوڑائیں 10بار سوار فورا منگوائیں اپنا گھوڑا جلدی تیار کریں پھر اپ کو بتاتا ہوں کہ کیا ہوا ہے علی بن سفیان نے ملازم کو 14 ملہ سوار اور اپنا گھوڑا اور تلوار لانے کو دوڑایا اور عمر سے پوچھا کہو کیا بات ہے عمر اور اذر نام کے دو جاسوس اصفہ کو دیکھنے کے لیے متعین تھے علی بن سفیان نے انہیں حکم دے رکھا تھا کہ لڑکی گھر سے نکل کر کہیں جائے تو اسے فورا اطلا دی جائے عمر بڑی خطرناک طلال لے کر ایا اس نے بتایا کہ تھوڑی دیر گزری البرک کے گھر سے سیاہ چادر میں سر سے پاؤں تک لپٹی ہوئی ایک عورت نکلی 50 60 گز اگے گئی تو البرگ کے گھر سے اسی لباس میں ایک اور عورت نکلی وہ بہت تیز تیز اگلی عورت کے پیچھے چلی گئی جب اس سے ذرا دور رہ گئی تو اگلی عورت رک گئی دونوں جاسوس چھپے ہوئے تھے انہیں کوئی نہ دیکھ سکا وہ تعقب بھی چھپ کر کرتے تھے دونوں عورتوں میں نہ جانے کیا بات ہوئی ان میں سے ایک نے تاری بجائی کہیں قریب سے ایک ادمی نکلا اس نے بعد میں انے والی عورت کو پکڑنا چاہا عورت نے اس پر کسی ہتھیار کا وار کیا جو اندھیرے میں نظر نہیں اتا تھا اس ادمی نے بھی اس پر کسی ہتھیار سے وار کیا جو عورت پہلے ائی تھی اس کی اواز سنائی دی اسے اٹھا کر لے چلو دوسری عورت نے اس پر وار کیا اس کی چیخ سنائی دی دوسری عورت نے اس پر ایک اور وار کیا اور ادمی کا وار بچایا بھی دونوں عورتیں زخمی ہو گئی تھیں عمر علی بن سفیان کو اطلاع دینے دوڑ پڑا اذر وہیں چھپا رہا اسے یہ دیکھنا تھا کہ یہ لوگ کہاں جاتے ہیں
ENGLISH
If I talk to my husband against it, he will throw me out of the house. He will say that I am complaining out of jealousy. This girl is not clean. She has never even smelled alcohol in our house. Now the pots are empty. Liquor Ali bin Sufyan. Al-Baraq was shocked and asked, "Has al-Baraq also started drinking, not only does he drink, but he does not drink?" His wife said, "He becomes drunk and intoxicated. I have seen this girl six times going out at night and after a long time. I have also seen that the night The girl has to go out that night al-Baraq is unconscious and wakes up very late in the morning the girl is a rogue she is cheating him the girl is not a rogue Ali bin Sufyan said she is a spy she is deceiving the nation not al-Baraq the spy wife He was shocked and said that there is a spy in my house. She stood up and gritted her teeth and said now they know that I am the daughter of a martyr. And you say that the father of my children is possessed by a spy girl. I can sacrifice the father of my children. I cannot see the nation and Islam being sacrificed. I will kill them both. and explained to her that it is now to be believed that the girl is a spy and also to see whether Al Baraq has also joined the group of spies or she is being used by drinking alcohol. that spies are not arrested for murder and are asked about their other accomplices. Ali bin Sufyan gave him some instructions and told him to watch every movement of the girl. She would follow Sufyan's instructions with a cold heart, but it was clear from her behavior and manner that she would lose control at any time. Khadim al-Din al-Baraq and Ali bin Sufyan were not only friends, they were close friends, they were of the same age, they fought together, both were old companions of Sultan Ayyubi, despite such deep friendship, Al-Baraq Ali had hidden his second marriage with Ali bin Sufyan. When Ali found out, he did not discuss the matter with Albarg. He was busy trying to solve the mystery of his house through his wife. had increased his spies between his house and the house where Alberk's new wife used to spend the night. A little before midnight, Ali bin Sufyan was fast asleep. He had told his staff and servants that they could replace him whenever they wanted. That night, Ali was awakened from a deep sleep by the servant and said, ``Umar, is he nervous?'' A man was standing outside, he said, "Run the servant, call for 10 riders immediately, prepare your horse quickly, then I will tell you what happened." Tell me, two spies named Umar and Azar were assigned to see Isfa. Ali bin Sufyan had ordered them that if the girl leaves the house and goes somewhere, she should be immediately dismissed. Umar came with a very dangerous Talal. It was said that after a while, a woman wrapped in a black cloak from head to toe came out of Albarak's house. After 50-60 yards, another woman in the same dress came out of Albarak's house. She followed the next woman very fast. The two spies were hiding and no one could see them. They were also following secretly. I don't know what happened between the two women. He wanted to catch the woman who came later, the woman hit him with a weapon that was not visible in the dark. This man also hit him with a weapon. The second woman stabbed him, he heard her scream, the second woman stabbed him again and Adami was saved, but both women were injured, Umar ran to inform Ali bin Sufyan, Azar was hiding there, he wanted to see it. Where do these people go?
سوچنا تھا کہ یہ لوگ کہاں جاتے ہیں علی بن سفیان نے اس قسم کے ہنگامی حالات کے لیے تیز رفتار اور تجربہ کار لڑاکا سواروں کا ایک دستہ تیار کر رکھا تھا یہ سوار اپنے گھوڑوں کے قریب سوتے تھے زینے اور ہتھیار ان کے پاس رہتے تھے انہیں یہ مشق کرائی جاتی تھی کہ رات کے وقت ضرورت پڑنے پر وہ چند منٹوں میں تیار ہو کر ضرورت کی جگہ پہنچیں وہ اس قدر تیز ہو گئے تھے کہ علی بن سفیان کے ملازم نے دستے کے کماندار کو اطلاع دی کہ 14 سوار بھیج دو تو وہ علی بن سفیان کے کپڑے بدلنے اور اس کا گھوڑا تیار ہونے تک پہنچ گئے علی بن سفیان کی قیادت اور عمر کی رہنمائی میں وہ واردات کی جگہ پہنچے دو سواروں کے ہاتھوں میں ڈنڈوں کے ساتھ تیل میں بھیگے ہوئے کپڑوں کی مشلیں تھیں وہاں دو لاشیں پڑی تھیں علی بن سفیان نے گھوڑے سے اتر کر دیکھا ایک البرغ کی پہلی بیوی تھی اور دوسرا اذر تھا ازر یعنی عمر کا ساتھی دونوں زندہ تھے اور خون میں ڈوبے ہوئے تھے حاضر نے بتایا کہ وہ البرک کی بیوی کو پھینک کر چلے گئے تو ان کے پاس اگیا اچانک پیچھے سے کسی نے اس پر خنجر کے تین وار کیے وہ سنبھل نہ سکا حملہ اور بھاگ گیا ازر نے بتایا کہ دوسری عورت البرگ کے گھر کی طرف نہیں گئی بلکہ ادھر گئی ہے جہاں وہ پہلے جایا کرتی تھی عمر کو اس گھر کا علم تھا علی بن سفیان نے دو سواروں سے کہا کہ وہ دونوں زخمیوں کو فورا جراہ کے پاس لے جائیں اور ان کا خون روکنے کی کوشش کریں باقی سواروں کو وہ عمر کی رہنمائی میں اس مکان کی طرف لے گیا جہاں اصفہ پہلے کئی بار جاتے دیکھی گئی تھی وہ پرانے زمانے کا بڑا مکان تھا اس سے ملحق کئی اور مکان تھے پچھواڑے سے گھوڑے کے ہن ہنارے کی اواز ائی علی نے اپنے سواروں کو مکان کے دونوں طرف سے پیچھے بھیجا دو سواروں کو مکان کے سامنے کھڑا کر دیا اور کہا کہ کوئی بھی اندر سے نکلے اسے پکڑ لو بھاگنے کی کوشش کرے تو پیچھے سے تیر مارو اور ختم کر دو سوار ابھی چکر کاٹ کر پچھواڑے کی طرف جا ہی رہے تھے کہ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دینے لگے علی بن سفیان نے ایک سوار سے کہا سرپٹ جاؤ اپنے کماندار سے کہو کہ اس مکان کو گھیرے میں لے کر اندر داخل ہو جائے اندر کے تمام افراد کو گرفتار کر لے سوار کیمپ کی طرف روانہ ہو گیا علی بن سفیان نے بلند اواز سے اپنے سواروں کو حکم دیا ایڑ لگاؤ تعقب کرو ایک دوسرے کو نظر میں رکھو اور اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی یہ رسالے کے چنے ہوئے گھوڑے تھے ان کے سوار سلطان ایوبی سے کئی بار خراج تحسین حاصل کر چکے تھے مفرور بھی شاہ سوار معلوم ہوتے تھے ان کے گھوڑوں کے ٹاپو بتاتے تھے کہ اچھی نسل کے بہت تیز دوڑنے والے کوڑے ہیں یہ شہر کا علاقہ تھا جہاں مکانوں کی رکاوٹیں تھیں گلیاں تھیں جو گھوڑوں کی دوڑ کے لیے کشادہ نہیں تھی ان سے اگے کھلا میدان تھا اندھیرے میں گھوڑے نظر نہیں اتے تھے ان کی اوازوں پر تعاقب ہو رہا تھا وہ جب کھلے میدان میں گئے تو ان کا چھپنا مشکل ہو گیا افق کے پس منظر میں وہ سایوں کی طرح صاف نظر انے لگے وہ چار تھے انہوں نے کم و بیش ایک س گز کا فاصلہ حاصل کر لیا تھا وہ پہلو میں پہلو جا رہے تھے علی بن سفیان کے حکم پر دو سواروں نے اسی رفتار سے گھوڑے دوڑاتے تیر چلائے تیر شاید خطا گئے تھے بھاگنے والے دانشمند معلوم ہوتے تھے تیر ان کے قریب سے یا درمیان سے گزرے تو انہوں نے گھوڑے پھیلا دیے وہ اکٹھے جا رہے تھے ان کے گھوڑے کھلنے لگے نہایت اچھے طریقے سے گھوڑے ایک دوسرے سے خاصے دور ہٹ گئے علی بن سفیان کا دستہ بہت تیز تھا فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا مگر بھاگنے والوں کے گھوڑے اور زیادہ ایک دوسرے سے ہٹتے جا رہے تھے اگے کھجور کے پیڑوں کا جھنڈا گیا ان کے گھوڑے وہاں اس طرح ایک دوسرے سے دور ہٹ گئے کہ دو دائیں طرف اور دو کھجوروں کے بائیں طرف ہو گئے یہ جگہ اونچی تھی گھوڑے اوپر اٹھے اور غائب ہو گئے تعقب کرنے والے بلندی پر گئے تو انہیں اگے جو جاگتے سائے نظر ائے وہ ایک دوسرے سے بہت ہی دور ہو گئے تھے پھر وہ اتنی دور دور ہو گئے کہ ان کے رخی بدل گئے علی بن سفیان جان گیا تھا کہ وہ اس کے سواروں کو منتشر کرنا چاہتے ہیں علی نے بلند اواز سے کہا ہر سوار کے پیچھے تقسیم ہو جاؤ ایک دوسرے کو بتا دو ایڑ لگاؤ فاصلہ کم کرو کمانوں میں تیر ڈالو سوار تقسیم ہو گئے سب نے کندھوں سے کمانے اتار کر تیر ڈال لیے اور تقسیم ہو کر ایک ایک گھوڑے کے پیچھے لگ گئے ان کے گھوڑوں کی رفتار اور تیز ہو گئی ٹاپوں کے شور و غل میں کمانوں سے تیر نکلنے کی اوازیں سنائی دی کسی نے للکار کر کہا ایک کو مار لیا گھوڑا بے قابو ہو گیا ہے ادھر علی بن سفیان کے ساتھ جو دو سوار تھے انہوں نے بیک وقت تیر چلائے اندھیرے میں تیر خطا جانے کا ڈر تھا اور تیر خطا جا بھی رہے تھے پھر بھی انہوں نے ایک اور گھوڑے کو نشانہ بنا لیا یہ گھوڑا بے قابو ہو کر اور گھوم کر پیچھے کو ایا ایک سوار نے اس کی گردن میں برچھی ماری دوسرے نے اپنے گھوڑے سے جھک کر اس کے پیٹ میں پرچ
ENGLISH
Wondering where these people went, Ali bin Sufyan had prepared a troop of swift and experienced horsemen for such emergencies. It was practiced that if needed at night, they would be ready and reach the place of need in a few minutes. They reached the place where Ali bin Sufyan had changed his clothes and his horse was ready. Under the leadership of Ali bin Sufyan and Umar, they reached the scene of the incident. The two horsemen had sticks and oil-soaked cloths in their hands. There were two dead bodies. Ali Bin Sufyan got down from the horse and saw that one was Albarg's first wife and the other was Azar, i.e. Umar's companion. Both were alive and covered in blood. Suddenly, someone stabbed him three times from behind, he could not handle the attack and ran away. Azar told that the other woman did not go to Alberg's house, but went to where she used to go before. Knowing this, Ali bin Sufyan asked two horsemen to immediately take the two wounded to Jarrah and try to stop their bleeding. It was a big house of the old days. There were many other houses adjacent to it. The sound of horse honking from the rear, Ali sent his riders behind from both sides of the house, made two riders stand in front of the house and said that someone If he tries to run away, shoot an arrow from behind and finish it. The two horsemen were just going round and going to the rear, when they heard the sound of running horses. Ali bin Sufyan told one of the horsemen to gallop. Tell your commander to surround this house and enter it. Arrest all the people inside. The horseman left for the camp. Keep in view and he saddled his horse. These were the chosen horses of the magazine. Their riders had received many tributes from Sultan Ayubi. Even the fugitives were known as royal riders. There are very fast runners. This was an area of the city where there were barriers of houses and streets that were not wide enough for horses to race. There was an open field ahead of them. When they went to the open field, it became difficult for them to hide. In the background of the horizon, they became clear like shadows. There were four of them. They had gained a distance of about one yard. On the orders of Sufyan, two horsemen shot arrows while the horses were running at the same speed. The arrows might have gone astray. In a very good way, the horses moved very far from each other, Ali bin Sufyan's army was very fast, the distance was getting smaller, but the horses of the fugitives were moving further and further apart. There they moved away from each other in such a way that two became on the right and two on the left of the palm trees. This place was high. The horses rose up and disappeared. They were very far away, then they were so far away that they changed sides. Ali bin Sufyan knew that they wanted to disperse his riders. Ali said in a loud voice, split up behind each rider. Tell them, put your heels on, reduce the distance, put arrows in your bows, the riders split up, they all took off their bows and shot arrows and split up, one by one, they went after the horses. The sounds of arrows coming out of the bows were heard in Ghul. Someone challenged him and said, "One has been killed. The horse has become uncontrollable. On the other hand, the two riders who were riding with Ali bin Sufyan fired arrows simultaneously. They were afraid of missing the arrow in the darkness. The arrows were going astray, yet they hit another horse. This horse became uncontrollable and wheeled back. One rider thrust a javelin into his neck.
گرا نہیں سوار زندہ پکڑنا تھا علی کے ایک سوار نے بازو بڑھا کر ایک سوار کی گردن جکڑ لی نیچے گھوڑا زخمی تھا وہ رکتے رکتے رک گیا اس پر ایک ادمی سوار تھا اور ایک لڑکی جسے سوار نے اگے بٹھا رکھا تھا لڑکی شاید بے ہوش تھی صحرا کی تاریک رات میں اب کسی سر پر دوڑتے گھوڑے کے ٹاپوٹ نہیں سنائی دیتے تھے سواروں کی اوازیں اور اہستہ اہستہ چلتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دیتے تھے سوار ایک دوسرے کو پکار رہے تھے ان کی اوازوں سے پتہ چلتا تھا کہ انہوں نے بھاگنے والوں کو پکڑ لیا ہے علی بن سفیان نے سب کو اکٹھا کر لیا بھاگنے والے پکڑے گئے تھے ان کے دو گھوڑے زخمی تھے ان گھوڑوں کو مرنے کے لیے صحرا میں چھوڑ دیا گیا بھاگنے والے پانچ تھے چار ادمی اور ایک لڑکی لڑکی گر پڑی تھی بھاگنے والوں میں سے ایک نے کہا ہمارے ساتھ تم لوگ جو سلوک کرنا چاہو کر لو مگر یہ لڑکی زخمی ہے ہم امید رکھیں گے کہ تم اسے پریشان نہیں کرو گے ایک گھوڑے کی زین کے ساتھ مشل بندی ہوئی تھی کھول کر جلائی گئی لڑکی کو دیکھا گیا بہت ہی خوبصورت اور نوجوان لڑکی تھی اس کے کپڑے خون سے سرخ ہو گئے تھے اس کے کندھے پر گردن کے قریب خنجر کا گہرا زخم تھا اس سے اتنا خون نکل گیا تھا کہ لڑکی کا چہرہ لاش کی طرح سفید اور انکھیں بند ہو گئی تھیں علی بن سفیان نے زخم میں ایک کپڑا ٹھونس کر اوپر ایک اور کپڑا باندھ دیا اور اسے ایک گھوڑے پر ڈال کر سوار سے کہا کہ جلدی جراہ تک پہنچے وہاں جلدی کا تو سوال ہی نہیں تھا وہ شہر سے میلوں دور نکل گئے تھے قیدیوں میں سے ایک بوڑھا تھا یہ قافلہ جب قاہرہ پہنچا تو صبح طلوع ہو رہی تھی سلطان کو رات کے واقعے کی اطلاع مل گئی تھی علی بن سفیان ہسپتال پہنچ گیا جرا اور طبیب قیدی لڑکی کی مرہم پٹی میں اور ہوش میں لانے میں مصروف تھے سوار نے اسے تھوڑی دیر پہلے پہنچا دیا تھا البرگ کی پہلی بیوی اور اذر ہوش میں اگئے تھے مگر ان کی حالت تسلی بخش نہیں تھی سلطان ایوبی ہسپتال میں موجود تھا اس نے علی بن سفیان کو الگ کر کے کہا میں بہت دیر سے یہاں ہوں میں نے البرگ کو بلانے کے لیے ادمی بھیجا تو اس نے عجیب بات بتائی وہ کہتا ہے کہ البرق ہوش میں نہیں اس کے کمرے میں شراب کے پیالے اور سراہی پڑی ہے کیا وہ شراب بھی پینے لگا ہے اسے اتنا بھی ہوش نہیں کہ اس کی بیوی گھر سے باہر زخمی پڑی ہے میں نے اس کی بیوی سے ابھی کوئی بات نہیں کی طبیب نے منع کر دیا ہے اس کی ایک نہیں دو بیویاں زخمی ہیں علی بن سفیان نے کہا یہ لڑکی جسے ہم نے سحرہ میں جا کے پکڑا ہے البرغ کی دوسری بیوی ہے ذرا زخمیوں کو بولنے کے قابل ہونے دیں ہم نے بہت بڑا شکار مارا ہے البرق سورج نکلنے کے بعد جاگا ملازم کے بتانے پر وہ دوڑتا ایا اس کی دونوں بیویاں زخمی پڑی تھیں اسے چاروں جاسوس دکھائے گئے وہ بوڑھے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا اسے وہ اصفہ کا بوڑھا خاوند سمجھتا رہا تھا ایوبی نے یہ واردات اپنی تحویل میں لے لی کیونکہ یہ جاسوسوں کے پورے گروہ کی واردات تھی اور اس میں اس کا معتمد ملوث تھا جسے فوج کے تمام راز اور ائندہ منصوبے معلوم تھے
ENGLISH
The rider did not fall and was to be caught alive. One of Ali's riders stretched out his arms and grabbed the rider's neck. The horse was injured. In the dark night of the desert, no one could hear the hooting of a running horse, the sound of the riders and the hooting of the horses were heard, the riders were calling to each other. Ali bin Sufyan gathered them all together. The fugitives were caught. Two of their horses were injured. These horses were left in the desert to die. There were five fugitives, four men and a girl. A girl fell among the fugitives. One of them said, "Do whatever you want with us, but this girl is injured. We will hope that you will not disturb her. A mussel was tied to the saddle of a horse. It was opened and burned. The girl was seen very badly." There was a beautiful and young girl, her clothes were red with blood, there was a deep dagger wound on her shoulder near the neck, so much blood had flowed out that the girl's face was white as a corpse and her eyes were closed. He stuck a cloth in the wound and tied another cloth on top and put it on a horse and told the rider to hurry to Jarrah, there was no question of haste. They had gone miles away from the city. One of the prisoners was an old man. When this caravan reached Cairo, it was dawn. The Sultan had received the news of the incident of the night. Ali bin Sufyan reached the hospital, and the doctors were busy dressing the prisoner and bringing her to consciousness. The rider reached her a little earlier. Daya was the first wife of Alberg and Azar had regained consciousness but their condition was not satisfactory. Sultan Ayyubi was in the hospital. When sent, he told a strange thing. He says that Al-Baraq is not conscious. There are cups of wine and glasses lying in his room. Has he started drinking? He is not even aware that his wife is injured outside the house. There is nothing to talk to his wife yet. The doctor has forbidden it. Not one but two of his wives are injured. Ali bin Sufyan said, "This girl whom we caught at dawn is the second wife of Albergh. She is able to speak to the wounded." Let it happen. We have killed a big victim. Al-Baraq woke up after the sun came up. When the servant told him, he ran. Did his two wives get injured? He was shown the four spies. He was very surprised to see the old man. Tha Ayubi took this incident into his custody because it was the operation of a whole group of spies and his confidant was involved who knew all the secrets and future plans of the army.

No comments:
Post a Comment