https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Thursday, 30 November 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 20

 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 20


 


جو ہی زخمی بیان دینے کے قابل ہوئے ان سے بیان لیے گئے ان سے یہ کہانی یوں بنی کہ البرک کی پہلی بیوی کو جب علی بن سفیان نے بتایا کہ اس کے خاوند کی دوسری بیوی مجتبی چال چلن کی ہے اور جاسوس معلوم ہوتی ہے تو وہ سخت غصے کے عالم میں گھر چلی گئی وہ اپنے خاوند کو اور اصفہ کو قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن علی بن سفیان نے اسے کہا تھا کہ جاسوسوں کو زندہ پکڑا جاتا ہے تاکہ ان کے چھپے ہوئے ساتھیوں کا سراغ لگایا جا سکے اس نے اپنے اپ پر قابو پایا اور اصفہ پر گہری نظر رکھنے لگی اس نے رات کا سونا بھی ترک کر دیا موقع دیکھ کر اس نے اس کے سونے والے کمرے کے اس دروازے میں چھوٹا سا سراخ کر لیا جو دونوں کمروں میں کھلتا تھا رات کو اس سوراخ میں سے انہیں دیکھتی رہتی دو راتیں تو اس نے یہی دیکھا کہ لڑکی البرگ کو شراب پلاتی اور عریانی کا پورا مظاہرہ کرتی تھی وہ سلطان ایوبی کی باتیں ایسے انداز سے کرتی تھی جیسے وہ اس کا پیر اور مرشد ہو صلیبیوں کو برا بھلا کہتی ہے اور وہی باتیں کرتی جو سلطان ایوبی کے جنگی منصوبے میں شامل تھیں البرک اسے بتاتا تھا کہ سلطان کیا کر رہا ہے اور کیا سوچ رہا ہے البرگ کی پہلی بیوی نے دو راتیں یہی کچھ دیکھا اور سنا تیسری رات وہ ناٹک کھیلا گیا جس کا البرک کی پہلی بیوی کو بےتابی سے انتظار تھا اصفہ نے البرگ کو شراب پلانی شروع کر دی اور اسے بالکل حیوان بنا دیا اصفہ دونوں پیالے اٹھا کر اور یہ کہہ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی کہ دوسری لاتیں وہ واپس ائی تو پیالوں میں شراب تھی اس نے ایک پیالہ البرق کو دے دیا دوسرا خود منہ سے لگا لیا اس کے بعد اس نے بے حد رنگی حرکتیں کی اور البرق بے سد لیٹ گیا اصفہ نے کپڑے پہنے اور البرک کو اہستہ اہستہ ہلایا وہ نہ بولا پھر اسے ہلایا ہاتھ سے اس کے پپوٹے اوپر کیے مگر اس کی انکھیں نہ کھلی اس نے پیالے دوسرے کمرے میں لے جا کر شراب میں بے ہوش کرنے والی کوئی چیز البرک کے پیالے میں ملا دی تھی اصفہ نے کپڑے پہنے اوپر سیاہ چادر اس طرح لے لی کہ سر سے پاؤں تک چھپ گئی ادھی رات ہونے کو تھی اس نے قندیل بجھائی اور باہر نکل گئی پہلی بیوی اگ بگولا ہو گئی اس نے خنجر اٹھایا اوپر لبادہ اوڑا وہ کمرے سے نکلنے لگی تو دیکھا کہ اصفہ ایک ملازمہ کے ساتھ کھسر پھسر کر رہی ہے اس سے پتہ چلا کہ ملازمہ کو اس نے ساتھ ملا رکھا ہے اصفہ باہر نکل گئی ملازمہ اپنے کمرے میں چلی گئی پہلی بیوی بڑے دروازے سے باہر نکل گئی وہ تیز تیز چلتی اصفہ کے تعقب میں گئی وہ اس کے قدموں کی اہٹ پر جا رہی تھی وہ صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کہاں جا رہی ہے اصفہ کو شاید اس کے قدموں کی اہٹ سنائی دی تھی وہ رک گئی پہلی بیوی اندھیرے میں اچھی طرح دیکھ نہ سکی وہ اصفہ کے قریب چلی گئی اور رک گئی اچانک امنے سامنے ا جانے سے پہلی بیوی فیصلہ نہ کر سکی کہ کیا کرے اس کے منہ سے نکل گیا کہاں جا رہی ہو اصفہ پہلی بیوی کو معلوم نہ تھا کہ لڑکی کی حفاظت کے لیے ایک ادمی چھپ چھپ کر اس کے ساتھ جاتا ہے جو کسی کو نظر نہیں اتا اصفہ نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور البرب کی پہلی بیوی سے ہنس کر کہا اب میرے پیچھے ائی ہیں یا کہیں جا رہی ہیں اتنے میں پیچھے سے کسی نے پہلی بیوی کو بازوں میں جکڑ لیا مگر اس عورت نے گرفت مضبوط ہونے سے پہلے ہی جسم کو زور سے جھٹکا دیا اور ازاد ہو گئی اس نے تیزی سے خنجر نکال لیا اس کے سامنے ایک ادمی تھا عورت نے اس پر وار کیا جو وہ بچا گیا ادمی نے ایسا وار کیا کہ خنجر عورت کے پہلو میں اتر گیا اس ادمی نے دیکھ لیا تھا کہ عورت کے پاس خنجر ہے وہ فورا پیچھے ہٹ گیا پہلی بیوی نے اصفہ پر حملہ کیا اور خنجر اس کی گردن اور کندھے کے درمیان اتار دیا لڑکی نے زور سے چیخ ماری ادمی نے پہلے بیوی پر وار کیا جو یہ عورت پھرتی سے بچا گئی اس نے وار کیا تو اس ادمی نے اس کا بازو اپنے بازو سے روک لیا اصفہ گر پڑی تھی البرب کی پہلی بیوی کو بھی گہرا زخم ایا تھا جو پہلو سے پیٹ تک چلا گیا تھا وہ ڈگمگانے لگی وہ ادمی اصفہ کو اٹھا کر کہیں چلا گیا علی بن سفیان کے دو جاسوس عمر اور اذر چھپ کر دیکھ رہے تھے انہیں معلوم نہیں تھا کہ دوسری عورت کون ہے عمر اس ادمی کے پیچھے چھپ چھپ کر گیا جو اصفہ کو اٹھا کر لے گیا تھا وہ اسی مکان میں لے گیا جہاں وہ جایا کرتی تھی وہاں سے عمر علی بن سفیان کو اطلاع دینے چلا گیا اظہر نے بتایا کہ وہ وہیں چھپا رہا زخمی عورت وہیں پڑی تھی وہاں کوئی اور نہ تھا اظہر اس عورت کے پاس جا کر بیٹھ گیا پیچھے سے کسی نے اس پر خنجر سے تین وار کیے اور حملہ اور بھاگ گیا اظہر وہیں بے ہوش ہو گیا شام تک البرغ کی پہلی بیوی اور اذر کی حالت بگڑ گئی جراہوں اور طبیبوں نے بہت کوشش کی مگر وہ زندہ نہ رہ سکے البرک کی بیوی نے علی بن سفیان سے کہا تھا کہ میں اپنے
ENGLISH
The statements were taken from those who were injured and were able to give a statement. From them, this story was made that when Ali bin Sufyan told Al Barak's first wife that her husband's second wife, Mujtabi, was known to be a spy. She went home in a fit of rage. She wanted to kill her husband and Isfa, but Ali bin Sufyan told her that spies are captured alive to trace their hidden accomplices, so she killed herself. and started keeping a close eye on Isfa, she also gave up sleeping at night. Seeing the opportunity, she made a small hole in the door of her bedroom that opened in both the rooms. After watching them for two nights, he saw that the girl was drinking alcohol in the albergue and showing full nakedness. Kirti, who was involved in Sultan Ayubi's war plan, used to tell her what the Sultan was doing and what he was thinking. The first wife of Albarg saw and heard the same thing for two nights. Eagerly waiting, Isfa started pouring alcohol to Alberg and made him a complete beast. Isfa took both the cups and went to the other room saying that the other kicks. When she returned, there was wine in the cups. He gave the other one and put it in his mouth. After that, he made a lot of colorful movements and Al Barq lay down. Isfa put on his clothes and shook Al Barq slowly. He didn't speak. His eyes did not open, he took the bowls to another room and mixed some anesthetic in Albarak's bowl. He extinguished the candle and went out. The first wife was startled. She picked up the dagger and threw her cloak on top. She started to leave the room and saw Asafa flirting with a maid. It was kept. Isfa went out. The maid went to her room. The first wife went out of the big door. She followed Isfa fast. She was following her footsteps. She just wanted to see where she was going. Yes, Isfa may have heard his footsteps, she stopped. The first wife could not see well in the dark. She went near Asfa and stopped. "Where are you going, Isfa?" He laughed and said, "Are you following me now or are you going somewhere?" Someone grabbed the first wife from behind, but before the grip was strong, she jerked her body hard and freed herself quickly. He pulled out a dagger and there was a man in front of him. The woman stabbed him and he was saved. The wife attacked Asfa and put the dagger between her neck and shoulder. The girl screamed loudly. The man first stabbed the wife. The woman escaped by moving. He then stabbed her and the man took her arm with his own. Asfa was stopped by Albarb's first wife who also got a deep wound that went from her side to her stomach. They did not know who the other woman was. Umar secretly followed the person who had picked up Isfa and took him to the same house where she used to visit. From there Umar went to inform Ali bin Sufyan. Azhar said that he was hiding there, the injured woman was lying there, there was no one else there, Azhar went and sat next to the woman, someone stabbed him three times with a dagger from behind and attacked him and ran away. Azhar became unconscious there till evening. Albarg's first wife and Azar's condition worsened. The surgeons and doctors tried hard but they could not survive.
کی بیوی نے علی بن سفیان سے کہا تھا کہ میں اپنے خاوند کو قربان کر سکتی ہوں قوم اور ملک کی عزت کو قربان ہوتا نہیں دیکھ سکتی اس نے قوم کے نام پر جان دے دی سلطان ایوبی کے حکم سے خادم الدین البرک کو قید خانے میں ڈال دیا گیا اس نے یقین دلانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اس نے یہ جرم دانستہ نہیں کیا وہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں بے وقوف بن گیا تھا مگر یہ ثابت ہو چکا تھا کہ اس نے حکومت اور افواج کے راز شراب اور حسین لڑکی کے نشے میں دشمن کے جاسوسوں تک پہنچائے ہیں سلطان ایوبی قتل کا جرم بخش سکتا تھا شراب خوری اور عیاشی اور دشمن کو راز دینے کے جرائم نہیں بخشا کرتا تھا اصفہ سے اس روز کوئی بیان نہ لیا گیا اس پر زخم کا اتنا اثر نہیں تھا جتنا خوف کا تھا وہ جاسوس لڑکی تھی سپاہی نہیں تھی اسے شہزادی کے روپ میں شہزادوں سے بھید لینے کی ٹریننگ دی گئی تھی اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ اس کا یہ حشر بھی ہو سکتا ہے اس پر زیادہ خوف اس کا تھا کہ وہ مسلمانوں کی قیدی ہے اور مسلمان اسے بہت خراب کریں گے ایک خطرہ یہ بھی اسے نظر ایا کہ مسلمان اس کے زخم کا علاج نہیں کریں گے اس نے اس خطرے کا اظہار ہر اس ادمی سے کیا جو اس کے قریب گیا وہ ڈرے ہوئے بچے کی طرح روتی تھی علی بن سفیان نے اسے بہت تسلی دی کہ اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو کسی مسلمان زخمی عورت کے ساتھ کیا جاتا ہے مگر وہ سلطان ایوبی سے ملنا چاہتی تھی اخر سلطان کو بتایا گیا سلطان ایوبی اس کے پاس گئے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا اس حالت میں وہ اسے اپنی بیٹی سمجھتا ہے میں نے سنا تھا کہ سلطان ایوبی تلوار کا نہیں دل کا بادشاہ ہے اصفہ نے روتے ہوئے کہا اتنا بڑا بادشاہ جسے شکست دینے کے لیے عیسائیوں کے سارے بادشاہ اکٹھے ہو گئے ہیں ایک مجبور لڑکی کو دھوکہ دیتے اچھا نہیں لگتا ان لوگوں سے کہو کہ مجھے فارن زہر دے دیں میں اس حالت میں کوئی اذیت برداشت نہیں کر سکوں گی کہو تو میں ہر وقت تمہارے پاس موجود رہوں گا سلطان ایوبی نے کہا میں تمہیں دھوکہ بھی نہیں دوں گا اذیت بھی نہیں دوں گا مگر وعدہ کرو کہ تم بھی مجھے دھوکہ نہیں دو گی تم ذرا اور بہتر ہو لو طبیب نے کہا ہے کہ تم ٹھیک ہو جاؤ گی اگر تمہیں اذیت دینی ہوتی تو میں اسی حالت میں قید خانے میں ڈال دیتا تمہارے زخم پر نمک ڈالا جاتا تم چیخ چیخ اور چلا چلا کر اپنے جرم اور اپنے ساتھیوں سے پردے اٹھاتی مگر ہم کسی عورت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا کرتے البرک کی بیوی مر گئی ہے لیکن تمہیں زندہ رکھنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے میں ٹھیک ہو جاؤں گی تو میرے ساتھ کیا سلوک کرو گے اس نے پوچھا یہاں تمہیں کوئی مرد اس نظر سے نہیں دیکھے گا کہ تم ایک نوجوان اور خوبصورت لڑکی ہو سلطان ایوبی نے کہا تم یہ خدشہ دل سے نکال دو تمہارے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو اسلامی قانون میں لکھا ہے اس مکان کی تلاشی لی گئی تھی جہاں اصفہ جایا کرتی تھی وہ کسی کا گھر نہیں تھا جاسوسوں کا اڈا تھا اندر استبل بنا ہوا تھا اندر سے پانچ ادمی برامد ہوئے انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا ان پانچ نے ان چاروں نے جنہیں تعقب میں پکڑا گیا تھا جرم کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیا اخر انہیں اس تہ خانے میں لے گئے جہاں پتھر بھی بول پڑتے تھے بوڑھے نے تسلیم کر لیا کہ اس نے لڑکی کو دانے کے طور پر پھینک کر البرگ کو پھانسا تھا اس نے سارا قصہ سنا دیا دوسروں نے بھی بہت سے پردے اٹھائے اور اس مکان کا راز فاش کیا جسے شہر کے لوگ احترام کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اس مکان میں بہت سی لڑکیاں رکھی گئی تھیں جو دو مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھی ایک جاسوسی کے لیے اور دوسری حاکموں اور اونچے گھرانے کے مسلمان حاکموں کا اخلاق تباہ کرنے کے لیے وہ مکان جاسوسوں اور تخریب کاروں کا تھا ان جاسوسوں نے یہ بھی بتایا کہ سلطان ایوبی کی فوج میں انہوں نے اتنے ادمی بھرتی کرا دیے ہیں جنہوں نے سپاہیوں میں جوئے بازی کی عادت پختہ کرتی ہے وہ ہاری ہوئی بازی جیتنے کے لیے ایک دوسرے کے پیسے چراتے چور بن جاتے ہیں شہر میں انہوں نے 5 س سے کچھ زیادہ فاحشہ عورتیں پھیلا دی ہیں جو نوجوانوں کو پھانس کر انہیں عیاشی کی راہ پر ڈال رہی ہیں خفیہ قمار خانے بھی کھول دیے گئے ہیں ان لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ سوڈانیوں کو سلطان کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے جنہیں فوج سے نکال دیا گیا ہے سب سے اہم انکشاف یہ تھا کہ انہوں نے چھ ایسے مسلمان افسروں کے نام بتائے جو سلطان ایوبی کی حکومت میں اہم حیثیت رکھتے تھے مگر سلطان کے خلاف کام کر رہے تھے اصفہ عیسائی لڑکی تھی اس کا نام فلی مینگو بتایا گیا وہ یونانی تھی اسے 13 سال کی عمر سے اس جاسوسی کی ٹریننگ دی جا رہی تھی اسے مصر کی زبان سکھائی گئی ایسی سینکڑوں لڑکیاں مسلمان علاقوں میں استعمال کرنے کے لیے تیار کی گئی تھیں جنہیں چوری چھپے ادھر بھیجا گیا تھا اس لڑکی نے بھی کچھ نہ چھپایا 15 روز بعد اس کا زخم ٹھیک ہو گیا اسے جب بتایا گیا کہ اسے سزائے مات دی جا رہی ہے تو اس نے کہا خوشی سے یہ سزا قب
ENGLISH
His wife said to Ali bin Sufyan that I can sacrifice my husband, I cannot see the honor of the nation and the country being sacrificed. He gave his life in the name of the nation. He tried his best to assure that he did not commit this crime deliberately, he had become a fool in the hands of these people, but it was proved that he had given the secrets of the government and the forces to the liquor and Hussain girl. Sultan Ayyubi could have pardoned the crime of murder, drunkenness and debauchery, and did not pardon the crimes of giving secrets to the enemy. No statement was taken from Isfa that day. She was a spy girl, not a soldier, she was trained to steal secrets from princes in the form of a princess. And the Muslims would harm her very badly. She also saw that the Muslims would not treat her wound. She expressed this danger to every person who came near her. She cried like a frightened child. Ibn Sufyan reassured her that she would be treated the same as a Muslim wounded woman, but she wanted to see Sultan Ayyubi. He put his hand and said that in this condition he considers her as his daughter. I heard that Sultan Ayubi is not the king of the sword but of the heart. It is not good to cheat a girl, tell these people to give me foreign poison, I will not be able to bear any pain in this condition, then I will be with you all the time. I won't give it but promise that you won't cheat me either. You should get better. The doctor said that you will be fine. If I had to torture you, I would have put salt in your wound in prison. You used to shout and scream and hide your crime and your friends but we don't treat any woman like that. Albarak's wife is dead but every effort is being made to keep you alive. I will be fine. So what will you do with me, he asked. No man will see you here because you are a young and beautiful girl. Sultan Ayubi said, remove this fear from your heart. The house where Isfa used to go was searched, it was not a house of anyone, it was a den of spies, a stable was built inside, five people came out from inside and they were arrested. He refused to confess the crime and finally they were taken to the basement where even stones could speak. The old man admitted that he had thrown the girl as a bait and hung him in the albergue. He told the whole story to others. also lifted many veils and revealed the secret of this house which was looked upon with respect by the townspeople. Many girls were kept in this house which was used for two purposes, one for espionage and the other for the rulers and high families. In order to destroy the morals of the Muslim rulers, that house belonged to spies and saboteurs. These spies also told that they had recruited so many people in the army of Sultan Ayubi who instilled the habit of gambling among the soldiers. They steal each other's money to win gambling and become thieves. They have spread more than 500 prostitutes in the city, who are hooking young people and putting them on the path of debauchery. Secret gambling dens have also been opened. People also reported that Sudanese were being incited against the Sultan who had been expelled from the army. The most important revelation was that they named six Muslim officers who were important in Sultan Ayyubi's government but the Sultan Working against Isfa was a Christian girl, her name was told to be Flemingo, she was Greek, she was trained as a spy from the age of 13, she was taught the Egyptian language, hundreds of such girls were used in Muslim areas. were prepared which were secretly sent here. This girl also did not hide anything. After 15 days her wound was healed.
نے کہا خوشی سے یہ سزا قبول کرتی ہوں میں نے سلیب کا مشن پورا کر دیا ہے اسے جلاد کے حوالے کر دیا گیا دوسروں کی ابھی ضرورت تھی ان کی نشاندہی پر چند اور لوگ پکڑے گئے جن میں چند ایک مسلمان بھی تھے ان سب کو سزائے موت دی گئی البرک کو ایک سو بیت کی سزا دی گئی جو وہ برداشت نہ کر سکا اور مر گیا اس کے بچوں کو سلطان ایوبی نے سرکاری تحویل میں لے لیا ان کے لیے سرکاری خرچ پر ملازمہ اور عطالیق مقرر کر دیے گئے وہ البرگ کے بچے نہیں ایک مجاہد کے بچے تھے ان کی ماں شہید ہو گئی تھی جون 1171 عیسوی کا وہ دن مصر کی گرمی سے جل رہا تھا جس دن خلیفہ العادت کے قاصد نے ا کر صلاح الدین ایوبی کو پیغام دیا کہ خلیفہ یاد فرما رہے ہیں سلطان ایوبی کے تیور بدل گئے انہوں نے قاصد سے کہا خلیفہ کو بادل سلام کہنا کہ بہت ضروری کام ہے تو بتا دیں میں ا جاؤں گا اس وقت مجھے ذرا سی بھی فرصت نہیں انہیں یہ بھی کہنا کہ میرے سامنے جو کام پڑے ہیں وہ حضور کے دربار میں حاضری دینے کی نسبت زیادہ ضروری اور اہم ہے قاصد چلا گیا اور سلطان ایوبی بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگے وہ فاطم خلافت کا دور تھا مصر میں اس خلافت کا خلیفہ العادت تھا اس دور کا خلیفہ بادشاہ ہوتا تھا جمعہ کے خطبے میں ہر مسجد میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد خلیفہ کا نام لیا جاتا تھا عیش و عشرت کے سوا ان لوگوں کے پاس کوئی کام نہ تھا اگر نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ اور صلاح الدین ایوبی رحمت اللہ علیہ نہ ہوتے یا وہ بھی دوسرے امرا اور وزراء کی طرح خوش امدید اور ایمان فروش ہوتے تو اس دور کے خلیفوں نے تو سلطنت اسلامیہ کو بیچ کھایا تھا الازد ایک ایسا ہی خلیفہ تھا صلاح الدین ایوبی مصر میں گورنر بن کر ائے تو ابتدا میں خلیفہ نے انہیں کئی بار بلایا تھا سلطان ایوبی سمجھ گئے کہ خلیفہ انہیں صرف اس لیے بلاتا ہے کہ انہیں یہ احساس رہے کہ حاکم ایوبی نہیں خلیفہ ہے وہ سلطان ایوبی کا احترام کرتا تھا انہیں اپنے ساتھ بٹاتا تھا مگر اس کا انداز شاہانہ اور لب و لہجہ افسرانہ ہوتا تھا اس نے سلطان ایوبی کو جب بھی بلایا بلا مقصد بلایا اور رخصت کر دیا صلیبیوں کو بہرہ روم میں شکست دے کر اور سوڈانی فوج کی بغاوت کو ختم کر کے صلاح الدین ایوبی نے خلیفہ کو ٹالنا شروع کر دیا تھا انہوں نے خلیفہ کے محل میں جو شان و شوکت دیکھی تھی اس نے ان کے سینے میں اگ لگا رکھی تھی مال میں زر و جواہرات کا یہ عالم تھا کہ کھانے پینے کے برتن سونے کے تھے شراب کی سراہی اور پیالوں میں ہیرے جڑے ہوئے تھے حرم لڑکیوں سے بھرا پڑا تھا ان میں عربی مصری مراکشی سوڈانی اور ترک لڑکیوں کے ساتھ ساتھ عیسائی اور یہودی لڑکیاں بھی تھیں یہ اس قوم کا خلیفہ تھا جسے ساری دنیا میں اللہ کا پیغام پھیلانا تھا اور جسے دنیائے کفار کی محب جنگی قوت کا سامنا تھا سلطان ایوبی کو خلیفہ کی کچھ اور باتیں بھی کھائی جا رہی تھیں ایک یہ کہ خلیفہ کا ذاتی حفاظت بھی دستہ سوڈانی حبشیوں اور قبائلیوں کا تھا جن کی وفاداری مشکوک تھی دوسرے یہ کہ خلیفہ کے دربار میں سوڈانیوں کی باغی اور برطرف کی ہوئی فوج کے کماندار اور نائب سالار خصوصی حیثیت کے مالک تھے صلاح الدین ایوبی کی ہدایت پر علی بن سفیان نے قصر خلافت میں نوکروں اور اندر کے دیگر کام کرنے والوں کے بحث میں اپنے جاسوس بھیج دیے تھے اور خلیفہ کے حرم کی دو عورتوں کو بھی اعتماد میں لے کر جاسوسی کے فرائض سونپے گئے تھے ان جاسوسوں کے اطلاعوں کے مطابق خلیفہ سوڈانی کمانداروں کے زیر اثر تھا وہ ساڑھے 65 سال کی عمر کا بوڑھا تھا لیکن خوبصورت عورتوں کی محفل میں خوش رہتا تھا اس کی اسی کمزوری سے صلاح الدین ایوبی کے مخالفین فائدہ اٹھا رہے تھے سال کے دوسرے تیسرے مہینے میں خلیفہ کے حرم میں ایک جوان اور غیر معمولی طور پر حسین لڑکی کا اضافہ ہوا تھا حرم کی جاسوس عورتوں نے علی بن سفیان کو بتایا تھا کہ تین چار ادمی ائے تھے جو عربی لباس میں تھے وہ اس لڑکی کو لائے تھے ان کے پاس بہت سے تحفے بھی تھے لڑکی بھی تحفے کے طور پر ائی تھی اس کا نام ام ارارہ بتایا گیا تھا اس پہ خوبی یہ تھی کہ خلیفہ العادت پر اس نے جادو سا کر دیا تھا بہت ہی چالاک اور ہوشیال لڑکی تھی سلطان ایوبی کو قصر خلافت کی ان تمام خرافات کا علم تھا مگر حکومت پر اس کی گرفت ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوئی تھی کہ وہ خلیفہ کے خلاف کوئی کاروائی کر سکتے ان سے پہلے کے گورنر اور امیر خلیفہ کے اگے جھکے رہتے تھے اسی لیے مصر بغاوتوں کی سرزمین بن گیا تھا وہاں اسلامی خلافت تو تھی مگر اسلام کا پرچم سرنگوں ہوتا جا رہا تھا فوج سلطنت اسلامیہ کی تھی مگر سوڈانی جرنیل شہری حکومت کی باگ دوڑ ہاتھ میں لیے ہوئے تھے اور ان کا رابطہ صلیبیوں کے ساتھ تھا انہی کی بدولت قاہرہ اور اسکندریہ میں عیسائی کنبے اباد ہونے لگے تھے ان میں
ENGLISH
said, "I gladly accept this punishment. I have completed the mission of the slab. He was handed over to the executioner. Others were still needed. On their identification, a few more people were caught, including a few Muslims. All of them were punished." Death was given to Al Barak, he was punished with one hundred bayt, which he could not bear and died. His children were taken into official custody by Sultan Ayubi. No, there were children of a Mujahid, their mother was martyred. That day of June 1171 AD was burning with the heat of Egypt, on that day, the messenger of Caliph Al-Idaat sent a message to Salah al-Din Ayyubi that the Caliph was remembering Sultan Ayyubi. They changed their views and told the messenger to say Badal Salam to the Khalifa that it is very important work, so let me know that I will go at that time. It is more necessary and important than giving. The messenger left and Sultan Ayubi began to walk restlessly in the room. It was the period of the Fatim Caliphate in Egypt. The Caliph of this Caliphate was Al-Idaat. And after the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) the name of Caliph was taken. These people had nothing to do except for luxury, if it were not for Nur al-Din Zangi, may God bless him and grant him peace, and Salah al-Din Ayyubi, may God bless him and grant him peace, or those other princes and If the caliphs of that era had sold the Islamic Empire if they were as welcoming and faithful as the ministers, Al-Azd was one such caliph. They said that the caliph called them only to make them realize that Ayyubi was not the caliph. After defeating the Crusaders in Bahra Rum and ending the rebellion of the Sudanese army, Salah al-Din Ayyubi had started avoiding the Caliph. He had put a fire in his chest, there was a wealth of jewels, that the utensils of food and drink were made of gold, the cups of wine were studded with diamonds, the harem was full of girls, among them Arabs, Egyptians, Moroccans, Sudanese and Turks. Along with the girls, there were also Christian and Jewish girls. It was the caliph of this nation who had to spread the message of Allah to the whole world and who was facing the loving war force of the infidel world. That the Caliph's personal security was also a contingent of Sudanese Abyssinians and tribesmen, whose loyalty was doubtful. Second, that the commanders and viceroys of the rebel and dismissed army of the Sudanese in the Caliph's court had a special status under the direction of Salah al-Din Ayubi. Ali bin Sufyan had sent his spies to discuss the servants and other workers in the palace of Caliphate, and two women of the Caliph's harem were also entrusted with spying duties. According to the reports of these spies, Caliph Sudani He was under the influence of commanders. He was an old man of 65 and a half years of age, but he was happy in the company of beautiful women. The opponents of Salah al-Din Ayyubi were taking advantage of this weakness. In the second and third months of the year, a young and An unusually beautiful girl had been added. The spy women of the harem had told Ali bin Sufyan that there were three or four people who were in Arabic clothes. They had brought this girl. They also had many gifts. It was said that her name was Umm Arara, her quality was that she had cast a spell on Caliph Al-Idaat, she was a very clever and clever girl. His grip was not yet strong enough that he could take any action against the caliph. The governors and emirs before him were bowing to the caliph, that's why Egypt became a land of revolts. It was happening that the army belonged to the Islamic Empire, but the Sudanese generals were in control of the civil government and they were in contact with the Crusaders. Thanks to them, Christian families began to settle in Cairo and Alexandria.

Urdu
ہونے لگے تھے ان میں جاسوس بھی تھے صلاح الدین ایوبی نے سوڈانی فوج کو تو ٹھکانے لگا دیا تھا مگر ابھی چند ایک سڑانی جرنیل موجود تھے جو کسی بھی وقت خطرہ بن کر ابھر سکتے تھے انہوں نے قصر خلافت میں عصر و رسوخ پیدا کر رکھا تھا سلطان ایوبی ابھی خلافت کی تعیش پرست گدی کو اس ڈر سے نہیں چھیڑنا چاہتے تھے کہ خلافت کے متعلق کچھ لوگ جذباتی تھے اور کچھ حامی تھے ان میں خوش امدیوں کے ٹولے کی اکثریت تھی اس اکثریت میں وہ اعلی حکام بھی تھے جو مصر کی عمارت کی توقع لگائے بیٹھے تھے مگر یہ حیثیت سلطان صلاح الدین ایوبی کو مل گئی سلطان ایوبی ان حالات میں جہاں ملک جاسوسوں اور غداروں سے بھرا پڑا تھا اور صلیبیوں کے جوابی حملے کا خطرہ بھی تھا ان اعلی اور ادنی حکام کو اپنا دشمن نہیں بنانا چاہتا تھا جو خلافت کے پروردہ تھے مگر جون 1171 عیسوی کے ایک روز جب خلیفہ نے انہیں بلایا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا انہوں نے دربان سے کہا علی بن سفیان بہاؤدین شداد عیسی نقیحہ اور الناصر کو میرے پاس جلدی سے بھیج دو یہ چاروں سلطان ایوبی کے خصوصی مشیر اور معتمد تھے سلطان ایوبی نے انہیں کہا ابھی ابھی خلیفہ کا قاصد مجھے بلانے ایا تھا میں نے جانے سے انکار کر دیا ہے میں نے اپ کو یہ بتانے اور رائے دینے کے لیے بلایا ہے کہ میں جمعہ کے خطبے سے خلیفہ کا نام نکلوا رہا ہوں یہ اقدام ابھی قبل از وقت ہوگا شداد نے کہا خلیفہ کو لوگ پیغمبر سمجھتے ہیں رائے عامہ ہمارے خلاف ہو جائے گی ابھی تو لوگ اسے پیغمبر سمجھتے ہیں سلطان ایوبی نے کہا تھوڑے ہی عرصے بعد وہ اسے خدا سمجھنے لگیں گے اسے پیغمبری اور خدائی دینے والے ہم لوگ ہیں جو خطبے میں اس کا نام خدا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ لیتے ہیں کیوں عیسی نقی ہے اپ کیا مشورہ دیتے ہیں میں اپ کی تائید کرتا ہوں عیسی اہلکاری فقیہ نے جواب دیا کوئی بھی مسلمان خطبے میں کسی انسان کا نام برداشت نہیں کر سکتا انسان بھی ایسا جو شراب عورت اور ہر طرح کے گناہ کا شیدائی ہے یہ الگ بات ہے کہ صدیوں سے خلیفہ کو پیغمبروں کا درجہ دیا جا رہا ہے چونکہ شہری اور مذہبی امور کا ذمہ دار ہوں اس لیے یہ نہیں بتا سکتا کہ سیاسی اور فوجی لحاظ سے اپ کے فیصلے کا رد عمل کیا ہوگا اور رد عمل شدید ہوگا بہاؤدین شداد نے کہا اور ہمارے خلاف ہوگا اس کے باوجود میں یہی مشورہ دوں گا کہ یہ بدعت ختم ہونی چاہیے یا خلیفہ کو پکا مسلمان بنا کر لوگوں کے سامنے لایا جائے جو مجھے ممکن نظر نہیں اتا رائے عامہ کو مجھ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے علی بن سفیان نے کہا جو جاسوسی اور سراغ رسانی کے شعبے کا سربراہ تھا اس نے ملک کے اندر جاسوسوں اور مخبروں کا جال بچھا رکھا تھا اس نے کہا عام لوگوں نے خلیفہ کی کبھی صورت نہیں دیکھی وہ الازد کے نام سے نہیں صلاح الدین ایوبی کے نام سے واقف ہیں
ENGLISH
There were spies among them. Salahuddin Ayyubi had put the Sudanese army at bay, but there were still a few Sudanese generals who could emerge as a threat at any time. Sultan Ayyubi did not want to shake the luxuriant ass of the caliphate yet, fearing that some people were sentimental about the caliphate and some were supporters. Among them were the majority of the crowd of cheerleaders. They were expecting, but Sultan Salahuddin Ayyubi got this status. Sultan Ayyubi did not want to make the high and low officials his enemies in the circumstances where the country was full of spies and traitors and there was also the risk of a counterattack by the Crusaders. He was the guardian of the caliphate, but one day in June 1171 AD, when the caliph called him, he flatly refused. Sultan Ayyubi, who was the adviser and confidant, said to him, "Just now the Caliph's messenger came to call me. I have refused to go. I have called you to inform and give your opinion that I have been omitting the name of the Caliph from the Friday sermon." Yes, this move will be premature. Shaddad said that people consider Caliph as a prophet. Public opinion will be against us. Now, people consider him as a prophet. We are the people who mention his name in the sermon along with God and the Messenger of Allah, may God bless him and grant him peace. Why is Jesus pure? What do you advise? I support you. The name of man cannot be tolerated, even a man who is addicted to alcohol, women and all kinds of sins. It is a different matter that for centuries the Caliphs have been given the status of prophets because they are responsible for civil and religious affairs, so it is not. I can tell you what will be the reaction of your decision politically and militarily and the reaction will be severe, said Bahauddin Shaddad, and it will be against us. It should be brought before the people, which I do not see possible. Who knows the public opinion better than me, said Ali bin Sufyan, who was the head of the department of espionage and intelligence. He said that the common people have never seen the face of the Caliph, they are familiar with the name of Salah al-Din Ayyubi, not Al-Azd.

No comments:

Post a Comment