https://www.toprevenuegate.com/fw914aktda?key=0f11092d807fc60cb1a71327fc38b17b

Thursday, 7 December 2023

23 The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode23

  The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode23



23  The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode23
ان کی عزت کا نشان ہوتا ہے لیکن اس کا حکم نہیں چل سکتا خصوصا اس صورت میں جب حالات جنگی ہیں اور دشمن کا خطرہ باہر سے بھی ہے اور اندر سے بھی موجود ہے میں تو یہاں تک مشورہ دوں گا کہ اس کے محافظ دستے کی نفری کم کر دیں سوڈانی حبشیوں کے جگہ مصری دستار رکھیں اور اس کے محل کے اخراجات کم کریں میں اس کے نتائج سے اگاہ ہوں ہمیں مقابلہ کرنا ہی پڑے گا ہمیں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے میں نے ہمیشہ اپنے اللہ پر بھروسہ کیا ہے سلطان ایوبی نے کہا خدائے ذوالجلال مجھے اس ذلت سے بھی بچا لے گا دربان اندر ایا سب نے اس کی طرف دیکھا اس نے کہا صحرا کے گ*** دستے کے کماندار اپنے تین سپاہیوں کے ساتھ ائے وہ دو سوڈانیوں کی لاشیں لائے ہیں سب نے دربان کی مداخلت کو اچھی نظر سے نہ دیکھا اس وقت سلطان ایوبی بڑے ہی اہم اور خفیہ اجلاس میں مصروف تھے لیکن سلطان نے درباری سے کہا انہیں اندر بھیج دو سلطان ایوبی نے اپنے دربان سے کہہ رکھا تھا کہ جب بھی اسے کوئی ملنے ائے وہ انہیں اطلاع دے اور اگر رات اسے جگانے کی ضرورت محسوس ہو تو فورا جگا لے سلطان کوئی بات کوئی ملاقات التوا میں نہیں ڈالا کرتے تھے عہدے دار اندر ایا اس کا چہرہ گرد سے اٹا ہوا اور تھکا تھکا نظر اتا تھا سلطان ایوبی نے اسے بٹھایا اور دربان سے کہا کہ اس کے لیے پینے کے لیے کچھ لے اؤ عہدے دار نے سلطان کو بتایا کہ اس کے گ*** سنتریوں نے چار سوڈانی حبشیوں سے ایک مغویہ لڑکی کو چھڑانے کی کوشش میں دو کو تیروں سے مار ڈالا ہے اور وہ لڑکی کو اٹھا کر بھاگ گئے ہیں عہدے دار نے بتایا کہ سنتریوں کے بیان کے مطابق لڑکی خانہ بدوش یا کسی عام گھرانے کی نہیں تھی وہ بہت ہی امیر لگتی تھی اور اس نے کہا کہ وہ خلیفہ کی ملکیت ہے معلوم ہوتا ہے سلطان ایوبی نے کہا خدائے ذوالجلال میری مدد کو اگیا ہے وہ باہر نکل گئے کمرے میں بیٹھے ہوئے سب حاکم ان کے پیچھے چلے گئے باہر زمین پر دو لاشیں پڑی تھیں ایک لاش پیٹ کے بل تھی اس کے پیٹھ میں تیر اترا ہوا تھا دوسری لاش کی گردن میں تیر پیوست تھا پاس تین سپاہی کھڑے تھے انہوں نے امیر مصر کو جو ان کا سالار اعلی بھی تھا شاید پہلی بار دیکھا تھا وہ فوجی انداز سے سلام کر کے پرے ہٹ گئے سلطانہ ایوبی نے ان کے سلام کا صرف جواب ہی نہیں دیا بلکہ ان سے ہاتھ ملایا اور کہا یہ شکار کہاں سے مار کے لائے ہو مومنو وہ سنتری نے جس نے چٹان سے تیر چلا کر دو ادمیوں کو مارا تھا سلطان ایوبی کو سارا واقعہ پوری تفصیل سے سنا دیا کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ لڑکی خلیفہ ہی کی داشتہ ہو سلطان ایوبی نے اپنے مشیروں سے پوچھا معلوم یہی ہوتا ہے علی بن سفیان نے کہا ان کے خنجر دیکھیے حسن دو خنجر سلطان ایوبی کو دکھائے جس وقت سپاہی واقعہ سنا رہا تھا علی بن سفیان لاشوں کی تلاشی لے رہا تھا انہوں نے سوڈان کا قبائلی لباس پہن رکھا تھا کپڑوں کے اندر ان کے کمر بند تھے جس کے ساتھ ایک خنجر تھا یہ خلیفہ کے حفاظت دی دستے کے خاص ساخت کے خنجر تھے ان کے دستوں پر کسر خلافت کی مہریں لگی ہوئی تھیں علی بن سفیان نے کہا اگر انہوں نے یہ خنجر چوری نہیں کیے تو یہ دونوں قصر خلافت کے حفاظت بھی دستے کے سپاہی ہیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ لڑکی وہی ہے جو خلیفہ کے حرم سے ہے اغوا ہوئی ہے اور اغوا کرنے والے خلیفہ کے محافظوں سے ہیں لاشیں اٹھواؤ اور خلیفہ کے پاس لے چلو سلطان ایوبی نے کہا پہلے یقین کر لیا جائے کہ یہ واقعی خلیفہ کے محافظوں میں سے ہیں علی بن سفیان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا زیادہ وقت نہیں گزرا تھا علی بن سفیان کے ساتھ قصرہ خلافت کا ایک کماندار اگیا اسے دونوں لاشیں دکھائی گئیں اس نے انہیں پہچان لیا اور کہا یہ دونوں محافظ دستگے سپاہی ہیں گزشتہ تین روز سے چھٹی پر تھے ان کی چھٹی سات دن رہتی تھی کوئی اور سپاہی بھی ہے چھٹی پر سلطان ایوبی نے پوچھا دو اور ہیں کیا وہ ان کے ساتھ چھٹی پر گئے تھے اکٹھے گئے تھے کماندار نے جواب دیا اور ایک ایسا انکشاف کیا جس نے سب کو چونکا دیا اس نے کہا یہ سوڈان کے ایسے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو خونخواری میں مشہور ہے ان میں فرعون کے وقت کی کچھ رس میں چلی ا رہی ہیں یہ قبیلہ ہر تین سال بعد ایک جشن مناتا ہے یہ ایک میلہ ہوتا ہے جو تین دن اور تین راتیں رہتا ہے دن ایسے مقرر کرتے ہیں کہ چوتھی رات چاند پورا ہوتا ہے میلے میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جن کا اس قبیلے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ صرف عیاشی کے لیے جاتے ہیں میلے میں لڑکیوں کی خرید و فروخت کے لیے باقاعدہ منڈی لگتی ہے اس میلے سے ایک ماہ پہلے ہی ارد گرد بلکہ قاہرہ تک کے لوگ جن کی بیٹیاں جوان ہو گئی ہوں ہوشیار اور چوکس ہو جاتے ہیں وہ لڑکیوں کو باہر نہیں جانے دیتے ان دنوں خانہ بدوش بھی اس علاقے سے دور چلے جاتے ہیں لڑکیاں اغوا ہوتی ہیں اور اس میلے میں فروخت ہو جاتی ہیں یہ چاروں سوڈانی اسی میلے کے لیے چھ
ENGLISH
It is a sign of their respect, but their orders cannot be enforced, especially when the situation is war and the danger of the enemy is present from outside as well as from inside. Reduce Sudanese Abyssinians replace them with Egyptian dastar and reduce his palace expenses. God Almighty will save me from this humiliation too. The doorman came in. Everyone looked at him. He said, "The commander of the Desert Force along with his three soldiers, they have brought the dead bodies of two Sudanese." At that time, Sultan Ayyubi was busy in a very important and secret meeting, but the Sultan told the courtier to send them in. At night, if he felt the need to wake him up, the Sultan would wake him up immediately. The officials did not postpone any meeting. When he came in, his face was wrinkled and he looked tired. Sultan Ayubi sat him down and told the doorman that he Bring something to drink. The officer told the Sultan that his **** oranges had shot two of them with arrows in an attempt to rescue a kidnapped girl from four Sudanese negroes, and they had taken the girl and run away. The official said that according to the statement of the sentries, the girl was not a nomad or from any ordinary family, she looked very rich and he said that she was the property of the Khalifa. They went out, sitting in the room, all the rulers went behind them. There were two dead bodies on the ground. One dead body was lying on its stomach. An arrow was lodged in its back. The other dead body had an arrow stuck in its neck. Perhaps it was the first time they had seen the Amir of Egypt, who was also their ruler, they saluted him in a military style and moved away. The sentry who killed two men by shooting an arrow from a rock told Sultan Ayyubi the whole incident in full detail. Is it possible that that girl is the daughter of the Caliph? Sultan Ayyubi asked his advisors. Ali bin Sufyan asked, "Is this the case?" Ali bin Sufyan said, "Look at their daggers. Hasan showed two daggers to Sultan Ayubi. When the soldier was narrating the incident, Ali bin Sufyan was searching the bodies. They were wearing Sudanese tribal clothes. was belted with a dagger attached to it. These were specially made daggers of the Caliph's security forces. The seals of the Caliphate were attached to their handles. Ali bin Sufyan said that if they had not stolen these daggers, these two The guards of the caliphate are also soldiers. It can be said that the girl is the one who is from the caliph's harem. She has been kidnapped and the kidnappers are from the guards of the caliph. Pick up the bodies and take them to the caliph. Sultan Ayyubi said first believe. It should be taken that these are indeed among the bodyguards of the Caliph, said Ali bin Sufyan, and he left. Not long after, Ali bin Sufyan was accompanied by a commander of the Qasra Caliphate, who was shown the two bodies, and recognized them and said Both guards are soldiers and were on leave for the last three days. Their leave was for seven days. There is another soldier on leave. He made a revelation that shocked everyone. He said that they belong to a tribe in Sudan that is famous for blood-thirstiness. They have some roots from the time of Pharaoh. This tribe celebrates a festival every three years. It is a festival that lasts for three days and three nights. The days are fixed so that on the fourth night the moon is full. People who are not related to this tribe also attend the festival. There is a regular market for the sale and purchase of girls. A month before this fair, people in the vicinity, even as far as Cairo, whose daughters have become young become alert and watchful, they do not allow girls to go out. They also go away from this area, the girls are kidnapped and sold in this fair. These four Sudanese are six for this fair.


ارد گرد بلکہ قاہرہ تک کے لوگ جن کی بیٹیاں جوان ہو گئی ہوں ہوشیار اور چوکس ہو جاتے ہیں وہ لڑکیوں کو باہر نہیں جانے دیتے ان دنوں خانہ بدوش بھی اس علاقے سے دور چلے جاتے ہیں لڑکیاں اغوا ہوتی ہیں اور اس میلے میں فروخت ہو جاتی ہیں یہ چاروں سڈانی اسی میلے کے لیے چھٹی پر گئے تھے میلہ تین روز بعد شروع ہو رہا ہے کیا ان کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ خلیفہ کے حرم کی لڑکی کو انہوں نے اغوا کیا ہوگا علی بن سفیان نے پوچھا میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کماندار نے جواب دیا یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان دونوں میں اس قبیلے کے لوگ جان کا خطرہ مول لے کر بھی لڑکیاں اغوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ خنخوار اتنے ہیں کہ اگر کسی لڑکی کے وارث میلے میں چلے جائیں اور اپنی لڑکی لینے کی کوشش کریں تو انہیں قتل کر دیا جاتا ہے لڑکیوں کے گاہکوں میں مصر کے امیر وزیر اور حاکم بھی ہوتے ہیں میلے میں ایسے عارضی خواہ بہانے بھی کھل جاتے ہیں جہاں جوا شراب اور عورت کے شدائی دولت لٹاتے ہیں اس جشن کی اخری رات بڑی پرسرار ہوتی ہے کسی خفیہ جگہ ایک نوجوان اور غیر معمولی طور پر حسین لڑکی کو قربان کیا جاتا ہے یہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ لڑکی کو کہاں اور کس طرح قربان کیا جاتا ہے یہ کام ان کا ایک مذہبی پیشوا جسے حبشی خدا بھی کہتے ہیں وہ کرتا ہے اس کے ساتھ بہت تھوڑے سے خاص ادمی اور چار پانچ لڑکیاں ہوتی ہیں لوگوں کو لڑکی کا کٹا ہوا سر اور خون دکھایا جاتا ہے جسے دیکھ کر یہ قبیلہ پاگلوں کی طرح ناشتہ اور شراب پیتا ہے خلیفہ نے محافظ دستے کا ناک میں دم کر رکھا تھا تمام تر محافظ دستہ دھوپ میں کھڑا تھا سورج غروب ہونے میں کچھ دیر باقی تھی اس دستے کو صبح کھڑا کیا گیا تھا کمانداروں اور عہدے داروں کو بھی کھانے کی اجازت دی گئی تھی نہ پانی پینے کی رجب بار بار اتا اور اعلان کرتا تھا کہ لڑکی محافظوں کی مدد کے بغیر اغوا نہیں کی جا سکتی تھی جس کسی نے اغوا میں مدد کی ہے وہ سامنے ا جائے ورنہ تمہیں یہیں بھوکا اور پیاسا مار دیا جائے گا اگر لڑکی خود باہر گئی تو تم میں سے کسی نہ کسی نے ضرور دیکھی ہوگی ان دھمکیوں کا کچھ اثر نہیں ہو رہا تھا سب کہتے تھے کہ وہ بے گناہ ہے خلیفہ رجب کو ٹکنے نہیں دے رہا تھا اس نے رجب سے کہا تھا مجھے لڑکی کا افسوس نہیں پریشانی یہ ہے کہ جو اتنے کڑے پہرے سے لڑکی کو اغوا کر سکتے ہیں وہ مجھے بھی قتل کر سکتے ہیں مجھے یہ ثبوت چاہیے کہ لڑکی کو صلاح الدین نے اغوا کرایا ہے رجب نے ہی اغوا کا بہتان سلطان ایوبی کے سر تھوپا تھا مگر خلیفہ اسے کہہ رہا تھا کہ ثبوت لاؤ رجب ثبوت کہاں سے لاتا اس کی جان پر بن گئی تھی وہ ایک بار پھر محافظ دستے کے سامنے گیا غصے سے وہ باولا ہوا جا رہا تھا وہ کئی بار دی ہوئی دھمکی ایک بار پھر دینے ہی لگا تھا کہ دروازے پر کھڑے سنتریوں نے دروازے کھول دیے اور اعلان کیا امیر مصر تشریف لا رہے ہیں بڑے دروازے میں سلطان ایوبی کا گھوڑا داخل ہوا اس کے اگے دو محافظ سواروں کے گھوڑے تھے اٹھ سوار پیچھے تھے ایک دائیں اور ایک بائیں تھا ان کے پیچھے سلطان ایوبی کے حاکم اور مشیر تھے ان میں علی بن سفیان بھی تھا رجب نے خلیفہ کو اطلاع بھیج دی کہ سلطان ایوبی ائے ہیں سب نے دیکھا کہ سلطان ایوبی کے اس جلوس کے پیچھے چار پائیوں والی ایک گاڑی تھی جس کے اگے دو گھوڑے جتے ہوئے تھے گاڑی پر دو لاشیں پڑی تھیں ایک سیدھی دوسری الٹی تیر ابھی تک لاشوں میں اترے ہوئے تھے ان لاشوں کے ساتھ دو تین شتر سوار تھے جنہوں نے ان حبشوں کو مارا تھا خلیفہ باہر اگیا سلطان ایوبی اور اس کے تمام سوار گھوڑوں سے اترے سلطان ایوبی نے اسی احترام سے خلیفہ کو سلام کیا جس احترام کا وہ حقدار تھا جو کر اس سے مصافحہ کیا اور اس کا ہاتھ چ*** مجھے اپ کا پیغام مل گیا تھا کہ میں اپ کے حرم کی لڑکی واپس کر دوں سلطان ایوبی نے کہا میں اپ کے دو محافظوں کی لاشیں لایا ہوں یہ لاشیں مجھے بے گناہ ثابت کر دیں گی اور میں حضور کی خدمت اقدس میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ صلاح الدین ایوبی تو اپ کی فوج کا سپاہی نہیں ہے جس خلافت کی ایت نمائندگی کر رہے ہیں وہ اس کا بھیجا ہوا ہے خلیفہ نے صلاح الدین ایوبی کے تیور بھانپ لیے اس فاطم خلیفہ کا ضمیر گناہوں کے بوجھ سے کراہ رہا تھا وہ سلطان ایوبی کی باروم اور پرجلال شخصیت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا اس نے سلطان ایوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا میں تمہیں اپنے بیٹوں سے زیادہ عزیز سمجھتا ہوں صلاح الدین اندر اؤ میری حیثیت ابھی ملزم کی ہے سلطان ایوبی نے کہا مجھے ابھی صفائی پیش کرنی ہے کہ میں اغوا کا ملزم نہیں ہوں خدا ذوالجلال نے میری مدد فرمائی ہے اور دو لاشیں بھیجی ہیں یہ لاشیں بولیں گی نہیں ان کی خاموشی اور ان میں اترے ہوئے تیر گواہی دیں گے کہ صلاح الدین ایوبی اس جرم کا مجرم نہیں جو قصر خلافت میں سرزد ہوا ہے میں جب تک اپنے اپ کو بے گناہ ثابت نہ کر لوں اندر نہیں جاؤں گا وہ لاشوں کی طرف
ENGLISH
People around, even as far as Cairo, whose daughters have become young become cautious and watchful, they do not let the girls go outside. These days, the nomads also move away from the area. The girls are kidnapped and sold in this fair. These four Sidanis went on leave for this festival. The festival is starting after three days. Can it be said about them that they must have kidnapped the girl from the Caliph's harem? Ali bin Sufyan asked, I am not sure. I can say, the commander replied, I can say that in both of them, the people of this tribe try to abduct girls even at the risk of their lives, and they are so ruthless that if the heirs of a girl go to a fair and take their girl. If they try to take it, they are killed. Among the clients of the girls are the rich ministers and rulers of Egypt. In the festival, such temporary excuses are also opened where gambling, alcohol and women's wealth are wasted. The last night of this celebration is big. The mystery is that in a secret place, a young and unusually beautiful girl is sacrificed. No one knows where and how the girl is sacrificed. He does so, accompanied by a few special men and four or five girls. The people are shown the severed head of the girl and the blood, seeing which the tribe eats and drinks like madmen. All the guards were standing in the sun. There was some time left for the sunset. The troops were raised in the morning. Commanders and officers were also allowed to eat and drink. Rajab repeatedly called and announced. It was said that the girl could not be abducted without the help of the guards. Whoever helped in the abduction should come forward, otherwise you will be killed here with hunger and thirst. If the girl went out by herself, one of you must have You must have seen that these threats had no effect. Everyone said that he was innocent. Khalifa was not letting Rajab stay. He told Rajab that I do not feel sorry for the girl. The problem is that the girl was abducted with such a tight guard. They can kill me too. I want proof that the girl was abducted by Salah al-Din. It was Rajab who slandered Sultan Ayubi about the abduction, but the Caliph was telling him to bring proof. He went to the front of the guard once again, he was getting angry, he was about to repeat the threat he had given many times, when the sentries standing at the door opened the doors and announced the Emir of Egypt. Coming to the big gate, the horse of Sultan Ayyubi entered, in front of him were the horses of two guard riders, eight riders were behind, one on the right and one on the left. sent a message to the Caliph that Sultan Ayubi was there. Everyone saw that behind the procession of Sultan Ayubi was a four-legged chariot with two horses in front of it. Two corpses were lying on the chariot. I dismounted with the bodies of two or three camel riders who had killed the Abyssinians. The Caliph went out. Sultan Ayyubi and all his horsemen dismounted. Sultan Ayyubi saluted the Caliph with the respect he deserved. He shook hands with him and shook his hand. I had received your message that I should return the girl of your harem. Sultan Ayubi said, "I have brought the bodies of two of your bodyguards. These bodies will prove me innocent." will give and I consider it necessary to request in the service of Holy Prophet that Salahuddin Ayyubi is not a soldier of your army, the caliphate he is representing, he is sent by him. The conscience of this Fatim Khalifa was groaning with the burden of sins, he was not able to face Sultan Ayyubi's noble and glorious personality. Sultan Ayubi said, "I have to come clean now that I am not accused of kidnapping. God has helped me and sent two corpses. These corpses will not speak because of their silence and the arrows that landed in them." I will testify that Salahuddin Ayyubi is not guilty of the crime committed in Qasr Khilafat. I will not go inside until I prove myself innocent.
خلیفہ کا ضمیر گناہوں کے بوجھ سے کراہ رہا تھا وہ سلطان ایوبی کی باروم اور پرجلال شخصیت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا اس نے سلطان ایوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا میں تمہیں اپنے بیٹوں سے زیادہ عزیز سمجھتا ہوں صلاح الدین اندر اؤ میری حیثیت ابھی ملزم کی ہے سلطان ایوبی نے کہا مجھے ابھی صفائی پیش کرنی ہے کہ میں اغوا کا ملزم نہیں ہوں خدائے ذوالجلال نے میری مدد فرمائی ہے اور دو لاشیں بھیجی ہیں یہ لاشیں بولیں گی نہیں ان کی خاموشی اور ان میں اترے ہوئے تیر گواہی دیں گے کہ صلاح الدین ایوبی اس جرم کا مجرم نہیں جو قصر خلافت میں سرزد ہوا ہے میں جب تک اپنے اپ کو بے گناہ ثابت نہ کر لوں اندر نہیں جاؤں گا وہ لاشوں کی طرف چل پڑے خلیفہ کھچا ہوا ان کے پیچھے پیچھے گیا تھوڑی دور ساڑھےچ سو نفری کا محافظ دستہ کھڑا تھا سلطان ایوبی نے لاشیں اٹھوا کر اس دستے کے سامنے رکھ دی اور بلند اواز سے کہا اٹھ اٹھ سپاہی اگے اؤ اور لاشوں کو دیکھ کر بتاؤ کہ یہ کون ہے پہلے کماندار اور عہدے دار ائے انہوں نے لاشیں دیکھ کر ان کے نام بتائے اور کہا یہ ہمارے دستے کے سپاہی تھے ان کے بعد اٹھ سپاہی ائے انہوں نے بھی لاشوں کو دیکھ کر کہا کہ یہ ان کے ساتھی تھے اٹھ اور سپاہی ائے پھر اٹھ اور ائے اسی طرح اٹھ اٹھ سپاہی اتے رہے اور بتاتے رہے کہ یہ لاشیں ان کے فلاں فلاں ساتھیوں کی ہیں صلاح الدین خلیفہ نے کہا میں نے مان لیا کہ یہ لاشیں قصر خلافت کے دو محافظوں کی ہیں میں اس سے ا کے سننا چاہتا ہوں کہ انہیں کس نے ہلاک کیا ہے صلاح الدین نے اس گ*** سنتری سے جس نے انہیں ہلاک کیا تھا کہا کہ اپنا بیان دہرائے اس نے سارا واقعہ خلیفہ کا سنا دیا وہ ختم کر چکا تو سلطان ایوبی نے خلیفہ سے کہا لڑکی میرے پاس نہیں لائی گئی وہ سوڈانی حبشیوں کے میلے میں فروخت ہونے کے لیے گئی ہے خلیفہ کھسیانہ ہوا جا رہا تھا اس نے سلطان ایوبی سے کہا کہ وہ اندر چلے سلطان ایوبی نے اندر جانے سے انکار کر دیا اور کہا میں اس لڑکی کو زندہ یا مردہ برامد کر کے اپ کے حضور حاضری دوں گا ابھی میں اتنا ہی کہوں گا کہ حرم کی ایک ایسی لڑکی کا ایک ہوا جو تحفے کے طور پر ائی تھی اور جو اپ کی منکوحہ بیوی نہیں داشتہ تھی میرے لیے ذرہ بھر اہمیت نہیں رکھتی خداوند نے مجھے اس سے اہم فرائض سونپیں میری پریشانی یہ نہیں کہ ایک لڑکی اغوا ہوئی ہے خلیفہ نے کہا اصل پریشانی یہ ہے کہ اس طرح لڑکیاں اغوا ہونے لگی تو ملک میں قانون کا کیا حشر ہوگا اور میری پریشانی یہ ہے کہ سلطنت اسلامیہ اغوا ہو رہی ہے سلطان ایوبی نے کہا اب زیادہ پریشان نہ ہوں میرا شعبہ سراغ رسانی لڑکی کو برامد کرنے کی پوری کوشش کرے گا خلیفہ سلطان ایوبی کو ذرا پرے لے گیا اور کہا صلاح الدین میں ایک عرصے سے دیکھ رہا ہوں کہ تم مجھ سے کھچے کھچے رہتے ہو میں نجم الدین ایوب یعنی سلطان ایوبی کے والد محترم کا بہت احترام کرتا ہوں مگر تمہارے دل میں میرے لیے ذرہ بھر احترام نہیں اور مجھے اج بتایا گیا ہے کہ جامع مسجد کے خطیب امیر العالم نے یہ گستاخی کی ہے کہ خطبے سے میرا نام ہٹا دیا ہے مجھے رجب نے یہ بتایا ہے کہ میں اسے اس گستاخی کی سزا دے سکتا ہوں میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس نے تمہاری شہ پر تو ایسا نہیں کیا میری شہ پر نہیں میرے حکم پر اس نے خلیفہ کا نام خطبے سے حاضر کیا ہے سلطان ایوبی نے کہا صرف اپ کا نام نہیں بلکہ ہر اس خلیفہ کا نام خطبے سے ہٹا دیا گیا ہے جو اپ کے بعد ائے گا اور جو اس کے بعد ائے گا کیا یہ حکم فاطمی خلافت کو کمزور کرنے کے لیے جاری کیا گیا ہے خلیفہ نے پوچھا مجھے شک ہے کہ یہاں عباسی خلافت لائی جا رہی ہے حضور بہت بوڑھے ہو گئے ہیں سلطان ایوبی نے کہا قران نے شراب کو اسی لیے حرام کیا ہے کہ اس سے دماغ معوف ہو جاتا ہے سلطان نے ذرا پسیج کر کہا سلطان نے کہا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کل سے اپ کے محافظ دستے میں رد و بدل ہوگا اور رجب کو میں واپس لے کر اپ کو نیا کماندار دوں گا لیکن میں رجب کو یہیں رکھنا چاہتا ہوں خلیفہ نے کہا میں حضور سے درخواست کرتا ہوں کہ فوجی معاملات میں دخل دینے کی کوشش نہ کریں سلطان ایوبی نے کہا اور علی بن سفیان کی طرف متوجہ ہوا جو پانچ حبشی محافظوں کو ساتھ لیے ا رہا تھا یہ پانچوں اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں علی بن سفیان نے کہا میں نے اس دستے سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس قبیلے کے کوئی ادمی یہاں ہوں تو باہر ا جائیں یہ پانچ صفوں سے باہر اگئے ان کے متعلق مجھے ان کے کماندار نے بتایا ہے کہ پرسوں سے چھٹی پر جا رہے تھے میں انہیں اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں لڑکی کا اغوا میں ان کا ہاتھ ہو سکتا ہے صلاح الدین ایوبی نے رجب کو بلا کر کہا کل یہاں دوسرا کماندار ارہا ہے اب میرے پاس ا جائیں گے میں اپ کو منجنیقوں کی کمان دینا چاہتا ہوں رجب کے چہرے کا رنگ بدل گیا ام ارارہ کو گھوڑے پر ڈالے ہوئے جب وہ دو حبشی اتنے دور نکل گئے جہاں انہیں تعقب کا خط
ENGLISH
The Caliph's conscience was groaning with the burden of sins, he was not able to face the noble and glorious personality of Sultan Ayyubi, he placed his hand on Sultan Ayyubi's shoulder and said, "I consider you dearer than my sons, Salahuddin, come to me." The status of the accused is now, Sultan Ayubi said, I have to come clean now that I am not accused of kidnapping. God has helped me and sent two bodies. These bodies will not speak. They will say that Saladin Ayyubi is not guilty of the crime that has been committed in Qasr Khilafat. I will not go inside until I prove myself innocent. They walked towards the bodies. A bodyguard of 100 people was standing. Sultan Ayubi picked up the dead bodies and placed them in front of the body and said in a loud voice, "Get up, soldiers, come forward and look at the bodies and tell them who this is. First, the commanders and officials." They saw the bodies. He told them their names and said that these were soldiers of our troop. After them, the soldiers got up. They also saw the bodies and said that these were their companions. Get up and the soldiers got up again. That these corpses belong to his so-and-so companions, Salahuddin Khalifa said, "I have accepted that these corpses belong to the two guards of Qasr Khilafat. I want to hear from him who killed them." ** He asked the sentry who had killed him to repeat his statement. He told the whole incident to the Caliph. When he had finished, Sultan Ayubi said to the Caliph, "The girl was not brought to me; she was to be sold at the Sudanese Abyssinian fair." Caliph Khasiana was leaving. He asked Sultan Ayyubi to go inside. Sultan Ayyubi refused to go inside and said, "I will bring this girl alive or dead and bring her to your presence. I will say this much for now." A girl from the harem who was brought as a gift and who was not your beloved wife is not important to me. God has given me more important duties. My concern is not that a girl was kidnapped. Hai Khalifa said that the real problem is that if girls start being kidnapped like this, what will be the fate of the law in the country and my problem is that the Islamic Empire is being kidnapped. The Caliph took Sultan Ayyubi a little further and said, "I have seen for a long time that you are very close to me. I have great respect for Najamuddin Ayyub, the respected father of Sultan Ayyubi, but You do not have an iota of respect for me and I have been told that the preacher of the Jama Masjid, Amirul Alam, has made the insolence of removing my name from the sermon. Rajab has told me that I can punish him for this insolence. Yes, I want to ask you that he did not do this on your behalf, not on my behalf, on my order, he has mentioned the name of the Caliph in the sermon. has been removed from the one who will come after you and the one who will come after him. Has this order been issued to weaken the Fatimid Caliphate? Sultan Ayyubi said that the Qur'an has forbidden alcohol because it makes the mind go away. "I will take Rajab back and give you a new commander, but I want to keep Rajab here," said the Caliph. Ali bin Sufyan said, "I addressed this group and said, 'If there are any people of this tribe here, let them get out of the five ranks.'" Regarding them, their commander has told me that they were going on leave the day before yesterday, I am taking them with me, they may have had a hand in the kidnapping of the girl. I want to give you the command of the Manjaniqs. Rajab's face changed color, putting Umm Arara on the horse, when the two negroes went so far that they had a letter of pursuit.
اگر اسے وہ ازاد بھی کر دیں تو وہ اس ریگستان سے زندہ نہیں نکل سکے گی انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ اسے بے ابرو نہیں کرنا چاہتے اگر ان کی نیت ایسی ہوتی تو وہ اس کے ساتھ وحشیوں جیسا سلوک کر چکے ہوتے ام ارارہ حیران تھی کہ انہوں نے اسے اب تک چھیڑا بھی نہیں تھا انہیں تو جیسے احساس ہی نہیں تھا کہ اتنی دل کش لڑکی ان کے رحم و کرم پر ہے ان میں سے ایک نے جو مارا جا چکا تھا مرنے سے پہلے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر التجا کی تھی کہ وہ تڑپ تڑپ کر اپنے اپ کو اذیت میں نہ ڈالے ام ارارہ نے ان سے پوچھا اسے کہاں لے جایا جا رہا ہے تو اسے جواب دیا گیا کہ وہ اسے اسمان کے دیوتا کی ملکہ بنانے کے لیے لے جا رہے ہیں انہوں نے لڑکی کی انکھوں پر پٹی باندھ دی اور اٹھا کر گھوڑے پر بٹھا دیا اس نے ازاد ہونے کی کوشش ترک کر دی اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ کوشش بے سود ہے گھوڑے چل پڑے اور ام ارارہ ایک حبشی کے اگے گھوڑے پر بیٹھی ہچکولے کھاتی رہی ایک جگہ رک کر اس کے منہ میں پانی ڈالا گیا اور گھوڑے چل پڑے بہت دیر بعد خنکی سے ام ارارہ نے محسوس کیا کہ رات ہو گئی ہے گھوڑے رک گئے اس وقت تک اس نازک لڑکی کا جزم مسلسل گھڑ سواری سے ٹوٹ چکا تھا دہشت سے اس کا دماغ بےکار ہو گیا تھا اسے گھوڑے رکتے ہی اپنے ارد گرد تین چار مردوں اور تین عورتوں کی ملی جلی اوازیں سنائی دینے لگی یہ زبان اس کی سمجھ سے بالا تھی یہی حبشی راستے میں اس کے ساتھ عربی زبان میں باتیں کرتے تھے ان کا لہجہ عربی نہیں تھا ابھی اس کی انکھوں سے پٹی نہیں کھولی گئی تھی اس کی تو جیسے زبان بھی بند ہو گئی تھی اسے کسی نے اٹھا کر کسی نرم چیز پر بٹھا دیا یہ پالکی تھی پل کی اوپر کو اٹھی اور اس کا ایک اور سفر شروع ہو گیا اس کے ساتھ ہی دف کی ہلکی ہلکی گونج اور تھاپ سنائی دینے لگی اور عورتیں گانے لگی اس گانے کے الفاظ تو وہ نہ سمجھ سکتی تھی اس کی لے میں جادو کا اثر تھا یہ اثر ایسا تھا جس نے ام ارارہ کے خوف میں اضافہ کر دیا لیکن اس خوف میں ایسا تاثر بھی پیدا ہونے لگا جیسے اس پر نشہ یا خمار طاری ہو رہا ہے رات کی خون کی خمار میں لذت سی پیدا کر رہی تھی ام ارارہ نے یہ چاہتے ہوئے کہ وہ پالکی سے کود جائے اور بھاگ اٹھے اور یہ لوگ اسے جان سے مار دیں اس نے ایسی جرات نہ کی وہ محسوس کر رہی تھی کہ وہ ان انسانوں کے قبضے میں نہیں بلکہ کوئی اور ہی طاقت ہے جس نے اس پر قابو پا لیا ہے اور اب وہ اپنی مرضی سے کوئی حرکت نہیں کر سکے گی وہ محسوس کرنے لگی کہ پالکی بردار سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں وہ چڑھتے گئے کم و بیش 30 سیڑھیاں چڑھ کر وہ ہم باہر چلنے لگے اور چند قدم چل کر رک گئے پالکی زمین پر رکھ دی گئی ام ارارہ کی انکھوں سے پٹی کھول کر کسی نے اس کی انکھوں پر ہاتھ رکھ دیے تھوڑی دیر بعد ان ہاتھوں کی انگلیاں کھلنے لگی اور لڑکی کو روشنیاں دکھائی دینے لگی اہستہ اہستہ ہاتھ اس کی انکھوں سے ہٹ گئے وہ ایک ایسی عمارت میں کھڑی تھی جو ہزاروں سال پرانی نظر اتی تھی گول ستون اوپر تک چلے گئے تھے ایک وسیع ہال تھا جس پر فرش روشنیوں میں چمک رہا تھا دیواروں کے ساتھ ڈنڈے سے لگے ہوئے تھے اور ان ڈنڈوں کے سروں پر مشلوں کے شعلے تھے اندر کی فضا میں ایسی خوشبو تھی جس کی مہک اس کے لیے نئی تھی دف کی ہلکی ہلکی تھاپ اور عورتوں کا گیت اسے سنائی دے رہا تھا یہ تھاپ اور یہ لے ہال میں ایسی گونج پیدا کر رہی تھی جس میں خواب کا تاثر تھا اس نے سامنے دیکھا ایک چبوترا تھا جس کی اٹھ دس سیڑھیاں تھیں چبوترے پر پتھر کے بت کا منہ اور سر تھا اس کی ٹھوڑی کے نیچے تھوڑی سی گردن تھی تھوڑی سے ماتھے تک یہ پتھر کا چہرہ قداور انسان سے بھی ڈیڑھ دو فٹ اونچا تھا منہ کھلا ہوا تھا جو اتنا چوڑا تھا کہ ایک ادمی ذرا سا جھک کر اس میں داخل ہو سکتا تھا منہ میں سفید دانت بھی تھے یوں لگتا تھا جیسے یہ چہرہ قہقہ لگا رہا ہوں اس کے دونوں کانوں سے ڈنڈے نکلے ہوئے تھے جن کے باہر والے سروں پر مشلیں جل رہی تھیں اچانک اس کی انکھیں جو کم و بیش گز بھر چوڑی تھیں چمکنے لگی ان سے روشنی پھوٹنے لگی عورتوں کے گیت کی لائے بدل گئی دف کی تھاپ میں جوش پیدا ہو گیا پتھر کے منہ کے اندر روشنی ہو گئی لمبے لمبے سفید چغلے پہنے ہوئے دو ادمی جھک کر منہ سے باہر ائے منہ کے اگے تین سیڑھیاں تھیں ان ادمیوں کے رنگ سیاہ اور سروں پر پرندوں کے لمبے لمبے اور رنگا رنگ پر بندھے ہوئے تھے منہ سے باہر ا کر ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف کھڑا ہو گیا
ENGLISH
Even if they free her, she will not be able to get out of this desert alive. They also promised that they do not want to shame her, if that was their intention, they would have treated her like savages, Umm Arara. Surprised that they hadn't even teased her yet, they didn't even realize that such a charming girl was at their mercy. She sat down and begged him not to torture himself. Umm Arara asked her where she was being taken, and she was told that they were taking her to make her the queen of the sky god. They blindfolded the girl and put her on the horse. She gave up trying to get free. She saw that this effort was futile. After stopping at one place while eating, water was poured into her mouth and the horses started moving. After a long time, Umm Arara felt that it was night and the horses stopped. His mind was paralyzed by terror, and as soon as the horse stopped, he heard mixed voices of three or four men and three women around him. This language was beyond his understanding. These Abyssinians were talking to him in Arabic on the way. His accent was not Arabic, his blindfold had not yet been untied, his tongue seemed to be tied, someone picked him up and placed him on something soft. The journey began, with the sound of the tambourine and the beat of the tambourine, and the women began to sing. I added, but in this fear, such an impression was also created as if he was being drunk or drunk. Umm Arara wanted him to jump out of the palanquin and run away. She did not dare to rise up and let these people kill her. She felt that she was not under the control of these people but some other power that had taken control of her and now she could not do anything of her own free will. She will not be able to. Someone put his hands on her eyes, after a while the fingers of those hands opened and the girl started seeing lights, slowly the hands moved away from her eyes, she was standing in a building that looked thousands of years old. The pillars went up to a vast hall, the floor of which shone with lights, and the walls were studded with sticks, and on the ends of these sticks were the flames of the torches, and the air inside contained a fragrance that smelled new to him. He could hear the gentle beat of the tambourine and the song of the women, this beat and this was creating such an echo in the hall that had the impression of a dream. The idol had a mouth and a head, it had a small neck under the chin, and from a little to the forehead, this stone face was one and a half to two feet taller than a human being. He could enter. There were also white teeth in his mouth. It seemed as if this face was laughing. There were sticks coming out of both his ears, on the outer ends of which were burning muscles. Suddenly his eyes, which were more or less a yard wide. They began to shine, the light began to emerge from them, changed to the song of the women, the beat of the tambourine became excited, the light became inside the mouth of the stone, two men wearing long white robes bowed out of the mouth, three steps in front of the mouth. The colors of these people were black and on their heads were tied long and colorful feathers of birds.

Tuesday, 5 December 2023

22 The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode22

22  The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode22





اس دوران ام ارارہ جو عرب کے حسن کا شاہکار تھی خلیفہ الازد کے ساتھ بڑی معصومیت سے کچھ ایسی فحش حرکتیں کرتی رہی کہ الازد پر شراب کا نشہ دبنا ہو گیا اس کی ذہنی کیفیت اس لڑکی کے قبضے میں تھی رجب کی باتیں اور دلیلیں اس کے دماغ میں اترتی جا رہی تھیں اس کی زیادہ تر توجہ ام ارارہ پر مرکوز تھی رجب کی باتیں تو وہ ضمنی طور پر سن رہا تھا رجب نے صلاح الدین ایوبی پر ایک انتہائی بےہودہ وار کیا اس نے کہا اس نے ایک اور فریب کاری شروع کر رکھی ہے کسی خوبصورت اور جوان لڑکی کو پکڑ کر اس کی ابرو ریزی کرتا ہے اور چند دن عیش کر کے اسے یہ کہہ کر مروا دیتا ہے کہ یہ جاسوس ہے عیسائیوں کے خلاف قوم میں نفرت پیدا کرنے کے لیے اس نے فوج اور عوام میں یہ مشہور کر رکھا ہے کہ صلیبی اپنی لڑکیوں کو مصر میں جاسوسی کے لیے بھیجتے ہیں اور وہ بدکار عورتوں کو بھی یہاں بھیجتے ہیں جو قوم کا اخلاق تباہ کرتی ہیں میں اسی ملک کا باشندہ ہوں یہاں جتنے غیبہ خانے ہیں وہاں مصری اور سوڈانی عورتیں ہیں اگر کوئی عیسائی عورت ہے تو وہ کسی کی جاسوس نہیں یہ اس کا پیشہ ہے مجھے حرم کی تین چار لڑکیوں نے بتایا ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے انہیں اپنے گھر بلایا اور خراب کیا تھا ام ارارہ نے کہا خلیفہ بھڑک اٹھا اور کہا میرے حرم کی لڑکیاں تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا اس لیے کہ اپ کی بیماری میں یہ خبر اپ کے لیے اچھی نہیں تھی ام ارارہ نے کہا ابھی یہ بات میرے منہ سے بے اختیار نکل گئی ہے میں نے ایسا انتظام کر دیا ہے کہ اب کوئی لڑکی کسی کے بھلانے پر باہر نہیں جا سکتی میں اسے ابھی بلا کر درے لگواؤں گا خلیفہ نے کہا میں انتقام لوں گا انتقام لینے کے طریقے اور بھی ہیں رجب نے کہا اس وقت عوام صلاح الدین ایوبی کے ساتھ ہیں یہ لوگ اپ کے خلاف ہو جائیں گے تو کیا میں اپنی یہ توہین برداشت کر لوں خلیفہ نے کہا نہیں رجب نے کہا اگر اپ مجھے اجازت دیں اور میری مدد کریں تو میں صلاح الدین کو اسی طرح غائب کر دوں گا جس طرح اس نے مصر کی پرانی فوج کے سالاروں کو گم کیا تھا تم یہ کام کس طرح کرو گے خلیفہ نے پوچھا حشیشین یہ کام کر دکھائیں گے رجب نے کہا بہت زیادہ طلب کرتے ہیں اور رقم کا مطالبہ جس قدر ہوگا وہ میں دوں گا خلیفہ نے کہا تم انتظام کرو دو روز بعد جمعہ تھا قاہرہ کی جامع مسجد کے خطیب کو عیسی اہلکاری فقیہ نے کہہ دیا تھا کہ خطبے میں خلیفہ کا نام نہ لیا جائے یہ خطیب ترک تھے جن کا پورا نام تاریخ میں محفوظ نہیں وہ امیر العالم کے نام سے مشہور تھے اس دور کے دستاویزی ثبوت ایسے بھی ہیں جن کے مطابق خطیب امیر العالم نے کئی بار اس بدعت کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ خلیفہ کا نام خطبے سے حذف کیا گیا ایک روایت یہ بھی ہے کہ صلاح الدین ایوبی کو امیر العالم نے ہی مشورہ دیا تھا کہ اس بدعت کے خاتمے کے احکام جاری کریں اور دو بقائے نگار اس کا سرا عیسی اہلکاری فقیہ کے سر باندھتے ہیں ہو سکتا ہے یہ منصوبہ خطیب امیر العالم اور مذہبی امور کے مشیر عیسی الحکاری فقلی کے پیش نظر بھی ہو لیکن صلاح الدین ایوبی کی گفتگو کی جو دستاویزات مل چکی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دلیرانہ اقدام سلطان ایوبی کا ہی تھا بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت سچے مسلمان موجود تھے خطیب امیر العالم نے خطبے میں خلیفہ کا نام نہ لیا جامع مسجد میں صلاح الدین ایوبی درمیانی صفوں میں موجود تھا علی بن سفیان اس سے تھوڑی دور کسی صف میں بیٹھا تھا سلطان ایوبی کے متعدد دیگر مشیر اور معتمد بکھر کر عوام میں بیٹھے تھے تاکہ ان کا رد عمل بھانپ سکیں علی بن سفیان کے مخبروں کی بہت بڑی تعداد مسجد میں موجود تھی خلیفہ کا نام خطبے سے غائب کرنا ایک سنگین اقدام نہیں بلکہ خلافت کے احکام کے مطابق سنگین جرم تھا اس کا ارتکاب کر دیا گیا سربراہوں میں سے اگر کوئی مسجد میں نہیں تھا تو وہ خلیفہ العادت تھا نماز کے بعد سلطان ایوبی اٹھے خطیب کے پاس گئے ان سے مسافحہ کیا ان کے چغے کا بوسہ لیا اور کہا اللہ اپ کا حامی و ناصر ہو خطیب امیر العالم نے جواب دیا یہ حکم صادر فرما کر اپ نے جنت میں گھر بنا لیا ہے واپس چند قدم چل کر سلطان ایوبی رک گئے اور خطیب کے قریب جا کر کہا اگر اپ کو خلیفہ کا بلاوا ا جائے تو اس کے پاس جانے کے بجائے میرے پاس ا جائیے گا میں اپ کے ساتھ چلوں گا اگر امیر مصر گستاخی نہ سمجھیں امیر العالم نے کہا تو عرض کروں کہ باطل اور شرک کے خلاف عمل اور حق گوئی اگر جرم ہے تو اس کی سزا میں اکیلا بھگ دوں گا میں اپ کا سہارا نہیں ڈھونڈوں گا خلیفہ نے بلایا تو اکیلا جاؤں گا میں نے غلیظ کے نام کو اپ کے حکم سے نہیں خدا کے حکم سے حذف کیا ہے میں اپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں شام کے بعد صلاح الدین ایوبی علی بن سفیان بہاؤدین شدا
ENGLISH
During this time, Umm Arara, who was the masterpiece of Arab beauty, kept doing some obscene acts with Caliph Al-Azd with great innocence that Al-Azd became intoxicated with alcohol and his mental state was in the possession of this girl. His mind was getting more and more focused on Umm Arara, and he was listening to Rajab's words side by side. He captures a beautiful and young girl and plucks her eyebrows and kills her after a few days of luxury saying that she is a spy. It has been said that the Crusaders send their girls to Egypt to spy and they also send wicked women here who destroy the morals of the nation. If she is a Christian woman, she is not someone's spy. This is her profession. Three or four harem girls have told me that Salah al-Din Ayyubi had invited them to his house and spoiled them. Umm Arara said. Why didn't you tell me before, because this news was not good for you in your illness, Umm Arara said, "Now this thing has come out of my mouth without control. I have made such an arrangement that no girl should be forgotten by anyone." But I can't go out, I will call him now and arrest him. Khalifa said, "I will take revenge. There are other ways to take revenge." "Let me bear this insult," said the Caliph. "No." Rajab said, "If you give me permission and help me, I will make Saladin disappear in the same way that he made the leaders of the old army of Egypt disappear. You do this." How will you do it? The Caliph asked. The Hashishians will show this work. Rajab said they are asking for too much and I will give the amount of money demanded. The Caliph said you make arrangements. Two days later it was Friday. The jurist, Isa, had said that the name of the Caliph should not be mentioned in the sermon. This preacher was a Turk whose full name is not preserved in history. He was known as Amir al-Alam. had expressed his determination to eradicate this innovation several times and it was as a result of his efforts that the name of the Caliph was deleted from the sermon. Issue decrees to end the heresy and the two surviving writers tie his head to the head of Isa Nimili Fiqh. This plan may be in view of Khatib Amir al-Alam and adviser on religious affairs Isa al-Khari Fiqli, but Salah al-Din Ayyubi's conversation which Documents have been found, they show that this bold move was of Sultan Ayyubi, however, there is no doubt that there were true Muslims at that time. I was present, Ali bin Sufyan was sitting in a row a little away from him. Several other advisors and confidants of Sultan Ayyubi were sitting scattered in the crowd to get a sense of their reaction. A large number of informants of Ali bin Sufyan were present in the mosque. Absent the name of the Prophet from the sermon is not a serious act, but according to the rules of the Caliphate, it was a serious crime. He shook hands with him, kissed his forehead and said, "Allah be your supporter and supporter." He went and said that if you are called by the Caliph, instead of going to him, you will go to me. To be honest, if it is a crime, I will suffer the punishment alone. I will not seek your help. If the Caliph calls me, I will go alone. I present Salah al-Din Ayyubi Ali bin Sufyan Bahauddin after the evening
سفیان بہاؤدین شداد اور چند ایک مشیروں سے دن کی رپورٹ لے رہے تھے سارے شہر میں شہریوں کے بیس میں مخبر اور جاسوس پھیلا دیے گئے تھے جنہوں نے لوگوں کی رائے معلوم کر لی تھی علی بن سفیان نے سلطانہ ایوبی کو بتایا کہ کہیں سے بھی انہیں ایسی اطلاع نہیں ملی جہاں کسی نے یہ کہا ہو کہ خطبے میں خلیفہ کا نام نہیں لیا گیا تھا علی بن سفیان کے بعد ادمیوں نے دو تین جگہوں پر یہ بھی کہا کہ جامع مسجد کے خطیب نے اج خطبے کے جمعہ میں خلیفہ کا نام نہیں لیا تھا یہ اس نے بہت برا کیا ہے اس پر کچھ ادمی اس طرح حیران ہوئے جیسے انہیں معلوم ہی نہیں کہ خطبے میں خلیفہ کا نام لیا گیا تھا یا نہیں ان میں سے چار پانچ نے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے خلیفہ خدا یا پیغمبر تو نہیں ان اطلاعات سے سلطان ایوبی کو اطمینان ہو گیا کہ عوام کے جس رد عمل سے اسے ڈرایا گیا تھا اس کا کہیں بھی اظہار نہیں ہوا سلطان ایوبی نے اس وقت سلطان نور الدین زنگی رحمت اللہ علیہ کے نام پیغام لکھا جس میں انہیں اطلاع دی کہ انہوں نے جمعہ کے خطبے سے خلیفہ کا نام نکلوا دیا ہے عوام کی طرف سے اچھے رد عمل کا اظہار ہوا ہے لہذا اپ بھی مرکزی خلافت کو خطبے سے خارج کر دیں اس لب لباب کا طویل پیغام لکھ کر انہوں نے حکم دیا کہ قاصد کو الس روانہ کر دیا جائے جو یہ پیغام نور الدین زنگی رحمت اللہ علیہ کو دیکھ کر واپس ا جائے اس کے بعد انہوں نے علی بن سفیان سے کہا خلیفہ کے محل میں جاسوسوں کو چوکنہ کر دیا جائے وہاں ذرا سی بھی مشکوک حرکت ہو تو فورا اطلاع دیں رجب کو سلطان ایوبی جانتا تھا اسے یہ بھی معلوم تھا کہ رجب خلیفہ کا منہ چڑھا نائب سالار ہے سلطان ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا رجب کے ساتھ ایک ادمی سائے کی طرح لگا رہنا چاہیے اس رات خلیفہ کی محفل عیش و ترب میں رجب نہیں تھا وہ سلطان ایوبی کے قتل کا انتظام کرنے چلا گیا تھا اسے حسن بن صباح کے حشیشین سے ملنا تھا خلیفہ روزمرہ کی طرح باہر کی دنیا سے بے خبر اور ام ارارہ کے تلسماتی حسن اور ناز و ادا میں گم تھا اسے کسی نے بتایا ہی نہیں کہ خطبے میں اس کا نام حذف ہو چکا ہے وہ خوش تھا کہ صلاح الدین ایوبی کے قتل کا انتظام ہونے والا ہے ام ارارہ نے اسے جلدی سلانے اور بے ہوش کرنے کے لیے زیادہ شراب پلا دی اور شراب میں خواب اور سفوف بھی ملا لیا اس بوڑھے سے جلدی چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے وہ یہی نسخہ استعمال کیا کرتی تھی اسے صلح کر اور قندیلیں بجھا کر وہ کمرے سے نکل گئی وہ اپنے مخصوص کمرے کی طرف جا رہی تھی جس میں رجب رات کو چوری چھپے اس کے پاس ایا کرتا تھا وہ کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ کباڑوں کے پیچھے سے کسی نے اس پر کمبل پھینکا اس کی اواز بھی نہ نکلنے پائی تھی کہ اس کے منہ پر جہاں پہلے ہی کمبل لپیٹ لیا گیا تھا ایک اور کپڑا باندھ دیا گیا اسے کسی نے کندھوں پر ڈال لیا اور کمرے سے نکل گیا یہ دو ادمی تھے وہ محل کی بھولل بھلئیوں اور چور راستوں سے واقف معلوم ہوتے تھے وہ اندھیری سیڑھیوں پر چڑھ گئے اوپر سے انہوں نے رسہ باندھ کر نیچے لٹکایا لڑکی کو کندھوں پر ڈالے ہوئے وہ ادمی رسے سے نیچے اتر گیا اس کے پیچھے دوسرا اترا اور دونوں اندھیرے میں غائب ہو گئے کچھ دور چار گھوڑے کھڑے تھے اور ان کے پاس دو ادمی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اندھیرے میں اتے دیکھا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ ایک نے کندھے پر کچھ اٹھا رکھا ہے وہ گھوڑوں کو اگے لے گئے سب گھوڑوں پر سوار ہو گئے ایک سوار نے لڑکی کو اپنے اگے ڈال لیا ان میں سے کسی نے کہا گھوڑوں کو ابھی دوڑانا نہیں ٹاپو سارے شہر کو جگا دیں گے گھوڑے اہستہ اہستہ چلتے گئے اور شہر سے نکل گئے یہ صلاح الدین ایوبی کا کام ہے رجب نے الاغل سے کہا قصر خلافت میں ہر کسی کی زبان پر یہی الفاظ ہیں کہ اس کے سوا کوئی بھی ایسی جرات نہیں کر سکتا ہر کسی کے کانوں میں یہ الفاظ رجب نہیں ڈالے تھے اسے جو ہی ام ارارہ کی گمشدگی کی اطلاع ملی تھی اس نے سارے محل میں گھوم پھر کر ہر کسی لڑکی کے متعلق پوچھا اور ہر کسی سے کہا تھا یہ سلطان ایوبی کا ہی کام ہے قصر صدارت کے اعلی حاکم سے ادنی ملازم تک انہی الفاظ کو دہرائے چلے جا رہے تھے اور جب یہ الفاظ خلیفہ العادت کے کانوں میں پڑے تو اس نے ذرا بھر سوچنے کی ضرورت نہ سمجھی کہ یہ الزام بے بنیاد ہو سکتا ہے اس کے کانوں میں یہ تو پہلے ہی ڈالا جا چکا تھا کہ سلطان ایوبی عورتوں کا شہدائی ہے ام ارارہ نے اسے یہ بتایا کہ سلطان ایوبی حرم کی چار لڑکیوں کو خراب کر چکا ہے خلیفہ نے اسی وقت اپنے خصوصی قاصد کو بلایا اور اسے کہا کہ امیر مصر کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ پردے میں لڑکی واپس کر دو میں کوئی کاروائی نہیں کروں گا جس وقت خلیفہ قاصد کو یہ پیغام دے رہا تھا اس وقت قاہرہ سے 10 12 میل دور تین شتر سوار قاہرہ کی طرف خرامہ خرامہ ا رہے تھے وہ مصر کی فوج کے 
ENGLISH
Sufyan was taking the daily report from Bahauddin Shaddad and a few advisors. Informers and spies were spread throughout the city among the citizens who had ascertained the opinion of the people. No information was found where anyone said that the name of the Khalifa was not mentioned in the sermon. After Ali bin Sufyan, people also said in two or three places that the preacher of the Jamia Masjid did not mention the name of the Khalifa in the Friday sermon. Some of the people were surprised at this, as if they did not know whether the name of the Caliph was mentioned in the sermon or not. The Caliph is not God or the Prophet. From these reports, Sultan Ayubi was satisfied that the reaction of the people that he was afraid of was not expressed anywhere. He wrote in which he was informed that he has removed the name of the Caliph from the Friday sermon. There has been a good response from the people, so you should also remove the central caliphate from the sermon. ordered that the messenger should be sent to Als, who should return after seeing this message to Nur al-Din Zangi, may God's mercy be upon him. After that, he asked Ali bin Sufyan to alert the spies in the Caliph's palace. If there is any suspicious activity, report it immediately. Rajab was known by Sultan Ayyubi. He also knew that Rajab was the vice-president of the Caliph. Rajab was not in the luxurious party. He had gone to arrange the assassination of Sultan Ayyubi. He had to meet Hasan bin Sabah's Hashisheen. No one told him that his name had been deleted from the sermon. He was happy that the assassination of Salah al-Din Ayyubi was going to be arranged. She also mixed the dream and the sufof. She used the same recipe to get rid of this old man quickly. She used to visit him when she entered the room when someone threw a blanket on her from behind the trash. Her voice could not be heard, so another cloth was tied over her mouth where the blanket was already wrapped. Someone put her on his shoulders and left the room. These were two men. They seemed to be familiar with the palace's mazes and secret paths. They climbed the dark stairs. From the top, they tied a rope and hung the girl down on their shoulders. After that man got down from the rope, another one got down behind him and both of them disappeared in the darkness. Four horses were standing some distance away and two men were sitting beside them. They saw their companions in the dark and also saw that One of them carried something on his shoulder. They led the horses forward. They all got on the horses. They went and left the city. This is the work of Salahuddin Ayyubi. Rajab said to Al-Aghl that these words are on the tongue of everyone in Qasr Khilafat that no one except him can do such a dare. These words are not Rajab in everyone's ears. As soon as he got the information about the disappearance of Umm Arara, he went around the palace asking about every girl and told everyone that this is the work of Sultan Ayyubi, from the highest ruler of the presidential palace to the lowest employee. The words were being repeated and when these words reached the ears of Khalifa Al-Idaat, he did not feel the need to think that this accusation might be baseless, it had already been put in his ears that Sultan Ayyubid Umm Arara, the Martyr of Women, told him that Sultan Ayyubi had spoiled four girls in the Haram. At the same time, the Caliph called his special messenger and told him to go to the Emir of Egypt and tell him to return the girl in the veil. I will not take any action. At the time when the Caliph was giving this message to the messenger, three camel riders, 10 to 12 miles from Cairo, were coming towards Cairo.
وہ مصر کی فوج کے گ*** سنتری تھے مصر کے سیاسی حالات چونکہ اچھے نہیں تھے جاسوسوں اور تخریب کاروں کی سرگرمیاں رکنے کی بجائے بڑھتی جا رہی تھی سلطان ایوبی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ملک میں غداری اور بغاوت کی چنگاریاں بھی سلگ رہی ہیں اس سوڈانی فوج کی طرف سے جسے انہوں نے برترف کر دیا تھا خطرہ پوری طرح ٹالا نہیں تھا اس فوج کے کماندار عہدے دار اور سپاہی تجربہ کار عسکری تھے کسی بھی وقت ملک کے لیے خطرہ بن سکتے تھے سب سے بڑا خطرہ تو یہ تھا کہ سلطان ایوبی کے مخالفین نے صلیبیوں سے دوستانہ کر رکھا تھا ان کے جاسوسوں کو وہ پناہ اڈہ اور مدد مہیا کرتے تھے ان خطرات کے پیش نظر دارالحکومت سے بہت دور دور اور ہر طرف فوج کے چند ایک دستے رکھے گئے تھے ان کے گ*** سنتری دن رات صحراؤں اور ٹیلوں ٹیکریوں کے علاقوں میں گھوڑوں اور اونٹوں پر گشت کرتے رہتے تھے تاکہ انے والے خطرے کی اطلاع قبل از وقت دی جا سکے دو تین شتر سوار انہی دستوں کے گشت ہی سنتری تھے جو اپنی ذمہ داری کے علاقے میں گشت کر کے واپس ا رہے تھے اگے مٹی اور پتھروں کی پہاڑیوں اور چٹانوں کا وسیع علاقہ تھا جب وہ وادی میں سے گزر رہے تھے انہیں کسی عورت کی اہ و پکار سنائی دی اس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ لڑکی پر زبردستی کی جا رہی ہے ایک شتر سوار اترا اور اس چٹان پر چڑھ گیا جس کی دوسری طرف سے اوازیں ارہی تھیں اس نے چھپ کر دیکھا ادھر چار گھوڑے کھڑے تھے اور چار ادمی ہی تھے چاروں سوڈانی حبشی تھے ایک بڑی ہی خوبصورت لڑکی تھی جو دوڑی جا رہی تھی ایک حبشی نے اسے پکڑ لیا اور اسے اپنے بازوں میں دبوچ کر اٹھا لیا اسے اپنے ساتھیوں کے درمیان کھڑا کر کے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل ہو گیا اس نے اپنے سینے پر ہاتھ بند کر کہا تم مقدس لڑکی ہو اپنے اپ کو تکلیف میں ڈال کر ہمیں گنہگار نہ کرو دیوتاؤں کا قہر ہمیں جلا ڈالے گا یا ہمیں پتھر بنا دے گا میں مسلمان ہوں لڑکی نے چلا کر کہا تمہارے دیوتاؤں پر لعنت بیچتی ہوئی مجھے چھوڑ دو ورنہ میں تم سب کو خلیفہ کے کتوں سے بوٹی بوٹی کروا دوں گی تم اب خلیفہ کی ملکیت نہیں ایک حبشی نے اسے کہا اب تم اس دیوتا کی ملکیت ہو جس کے ہاتھ میں اسمان کی بجلیوں کا قہر ناگوں کا زہر اور شیروں کی طاقت ہے اس نے تمہیں پسند کر لیا ہے اب جو کوئی تمہیں اس سے چھیننے کی کوشش کرے گا صحرا کی ریت چلا کر رکھ دے گی ایک حبشی نے دوسرے سے کہا میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ یہاں نہ رکھو مگر تم ارام کرنا چاہتے تھے اسے بندھا ہوا چلتے چلتے اور شام سے پہلے پہلے منزل پر لے جاتے کیا ہمارے گھوڑے تھک نہیں گئے تھے اب شی نے جواب دیا ہم کتنی رات کے جاگے ہوئے نہیں تھے اسے پھر باندھو اور چلو اس نے لڑکی کو دبوچ لیا اچانک اس کی پیٹھ میں ایک تیر اتر گیا اس سے لڑکی ڈھیلی ہو گئی لڑکی اسے دھکا دے کر بھاگنے لگی تو دوسرے ادمی نے اسے پکڑ کر گھسیٹا اور گھوڑوں کی اوٹ میں ہو گیا ایک اور تیر ایا جو ادمی کی گردن میں لگا وہ بری طرح تڑپنے لگا جس ادمی نے لڑکی کو پکڑا ہوا تھا وہ گھوڑے کی باگ پکڑ کر لڑکی اور گھوڑے کو نشے بھی جگہ لے گیا جو بالکل قریب تھی ایک حبشی اور بھی رہ گیا تھا وہ یہیں دوڑ کر نشیب میں اتر گیا تیر اس شتر سوار سنتری نے چلائے تھے جو چٹان پر چڑھ گیا تھا اس نے یہیں جو بیان دیا تھا اس میں کہا تھا کہ وہ دیوتاؤں کے نام سے ڈر گیا تھا لیکن لڑکی نے جب یہ کہا کہ میں مسلمان ہوں اور میں دیوتاؤں پر لعنت بھیجتی ہوں تو سنتری کا ایمان بیدار ہو گیا لڑکی نے جب خلیفہ کا نام لیا تو سنتری سمجھ گیا کہ یہ حرم کی لڑکی ہے اس کا لباس اس کی شکل و صورت اور اس کی ڈیل ڈول بتا رہی تھی کہ یہ معمولی درجے کی لڑکی نہیں اسے اغوا کیا جا رہا ہے اور اسے سوڈان میں لے جا کر فروخت کیا جائے گا سنتری کو یہ معلوم تھا کہ تھوڑے دنوں بعد سوڈانی حبشیوں کا ایک میلہ لگنے والا ہے جس میں لڑکیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے فوج کو سلطان ایوبی نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ عورت کی عزت کی حفاظت کی جائے گی ایک عورت کی عزت کو بچانے کے لیے ایک درجن ادمیوں کے قتل کی بھی اجازت تھی سنتری نے یہ ساری باتیں سامنے رکھ کر فیصلہ کیا کہ اس لڑکی کو بچانا ہے اس نے دو تیر چلائے اور دو حبشی مار ڈالے اس نے غلطی یہ کی کہ باقی دو حبشیوں کو پکڑنے کے لیے نیچے اتر ایا اپنے اونٹ پر سوار ہوا اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ بردہ فروشوں کا تعاقب کرنا ہے وہ تینوں اونٹوں کو دوڑاتے دوسری طرف گئے مگر انہیں چٹان کا چکر کاٹ کر جانا پڑا اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اونٹ گھوڑے کا تعقب کر سکتا ہے یا نہیں ان تینوں میں سے تیر کمان صرف اسی سنتری کے پاس تھا باقی دو کے پاس برچھیاں اور تلواریں تھیں اس جگہ پہنچے جہاں لڑکی اور حبشیوں کو دیکھا گیا تھا تو وہاں دو لاشوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا سوڈانی حبشی لڑکی کو بھی لے گئے تھے اور اپنے مرے ہوئے ساتھیوں کے گھوڑوں کو بھی شتر سواروں نے تعاقب میں اونٹ دوڑائے لیکن وہ ٹیلوں اور چٹانوں کا علاقہ تھا راستہ گھومتا اور مڑتا تھا انہیں بھاگتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دے رہے
ENGLISH
He was the c*** of the Egyptian army because the political conditions of Egypt were not good, the activities of spies and subversives were increasing instead of stopping. Sultan Ayyubi knew very well that the sparks of treason and rebellion were burning in the country. The danger was not completely averted from the Sudanese army which they dismissed, the commanders, officers and soldiers of this army were experienced soldiers. They could become a threat to the country at any time. The biggest danger was that The opponents of Sultan Ayyubi had befriended the crusaders, and they provided shelter and support to their spies. Sentries used to patrol the deserts and hilly areas on horses and camels day and night so as to give early warning of impending danger. On their way back, there was a vast area of ​​mud and stone hills and rocks. As they were passing through the valley, they heard the cry of a woman. It was clear that the girl was being forced by a camel. The rider dismounted and climbed on the rock from which the voices were coming from the other side. He peeped and there were four horses and four men. The four were Sudanese Abyssins. There was a very beautiful girl who was running. He caught her and lifted her up in his arms and made her stand between his companions and knelt before him. The anger of the gods will burn us or turn us into stone, I am a Muslim, the girl shouted, cursing your gods, leave me, otherwise I will have you all mauled by the Caliph's dogs, you are now the property of the Caliph. No, a negro said to him, now you are the property of the god who has in his hands the fury of lightning, the venom of snakes and the strength of lions. The sand will drive it away. One negro said to the other, I told you not to keep it here, but you wanted to calm it down. Shay replied, "How many nights have we not been awake, tie it again and let's go." He grabbed the girl, suddenly an arrow landed in her back, the girl got loose, the girl pushed her and started to run away. He grabbed the horse and dragged it into the horse's saddle. Another arrow hit the man's neck. The man who was holding the girl was in agony. A negro was near, and there was one more left, and he ran down into the valley. The arrows were shot by the camel-riding Santri, who had climbed the rock. But when the girl said that I am a Muslim and I curse the gods, Santri's faith was awakened. When the girl mentioned the name of Khalifa, Santri understood that she was a harem girl, her dress, her appearance. And her deal-doll was telling that this is no ordinary girl, she is being kidnapped and will be taken to Sudan and sold. Santri knew that a few days later there was going to be a festival of Sudanese Abyssinians. Sultan Ayubi had ordered the army to protect the honor of a woman. The killing of a dozen people was also allowed to protect the honor of a woman. He decided to save the girl. He shot two arrows and killed two negroes. He made the mistake of getting down to catch the other two negroes. They went to the other side by running the three camels, but they had to go around the rock. He did not even think whether the camel could follow the horse or not. They had spears and swords and reached the place where the girl and the Abyssinians were seen, and there was nothing but two corpses. The Sudanese Abyssinians had also taken the girl and the horses of their dead comrades. But it was an area of ​​dunes and rocks, the road twisted and turned and they could hear the trotting of horses.
دور ہٹتے گئے اور خاموش ہو گئے شتر سواروں نے دونوں لاشیں اونٹوں پر لا دیں اور واپس اگئے انہیں معلوم تھا کہ یہ لاشیں کس کی ہیں یہ عام قسم کے بردہ فروشوں کی بھی ہو سکتی تھی انہیں اٹھانا ضروری نہ تھا لیکن لڑکی خلیفہ کی معلوم ہوتی تھی اس لیے لاشیں اٹھانا ضروری سمجھا گیا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اغوا کرنے والے کون ہیں صلاح الدین ایوبی پریشانی اور غصے کے عالم میں ٹہل رہے تھے کمرے میں ان کے مشیر اور معتمد بیٹھے تھے یہ ان کے دوست بھی تھے وہ سر جھکائے بیٹھے تھے سلطان ایوبی اپنے اپ کو ہمیشہ قابو میں رکھتے تھے وہ کبھی جذباتی نہیں ہوئے تھے وہ سب پی جایا کرتے تھے اور ذہن کو پوری طرح قابو میں رکھ کر سوچا اور فیصلہ کیا کرتے تھے ایسے حالات نے بھی انہیں ازمایا تھا جن میں جابر جنگجو بھی ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں وہ محاصروں میں بھی لڑے تھے اور اس حال میں بھی معاشرے میں رہے تھے کہ ان کے سپاہیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے اور قلے میں کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ رہا تھا اور سپاہیوں کے ترکش بھی خالی ہو گئے تھے ان کے سپاہی اس انتظار میں تھے کہ وہ ہتھیار ڈال کر انہیں اس اذیت اور موت سے بچا لیں گے لیکن سلطان ایوبی نے صرف اپنا حوصلہ ہی مضبوط نہ رکھا بلکہ سپاہیوں میں بھی نئی روح پھونکتی مگر اس روز سلطان ایوبی کو اپنے اوپر قابو نہیں رہا تھا چہرے پر غصہ بھی تھا گھبراہٹ بھی تھی یہی وجہ تھی کہ سب خاموش بیٹھے تھے اج پہلی بار میرا دماغ میرا ساتھ چھوڑ گیا ہے انہوں نے کہا کیا یہ ممکن نہیں کہ اپ خلیفہ کے اس پیغام کو نظر انداز کر دیں ان کے نائب سالار الناصر نے کہا میں اسی کوشش میں مصروف ہوں سلطان ایوبی نے کہا لیکن الزام کی نوعیت دیکھو جو مجھ پر عائد کیا گیا ہے میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکیاں گواہ کروائی ہے استغفر اللہ اللہ مجھے معاف کرے اس نے میری توہین میں کوئی کسر نہیں چھوڑی پیغام بلکہ دھمکی قاصد کی زبانی بھیجی ہے وہ مجھے بلا لیتا میرے ساتھ براہ راست بات کرتا میں پھر بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اپ اپنے اپ کو ٹھنڈا کیجیے بہاؤدین شداد نے کہا میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا واقعی حرم سے کوئی لڑکیاں ہوا ہوئی ہے سلطان ایوبی نے کہا یہ جھوٹ معلوم ہوتا ہے اسے پتہ چل گیا ہوگا کہ میں نے خطبے محسوس کا نام نکلوا دیا ہے اس کے جواب میں اس نے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا کہ میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکی اغوا کرائی ہے انتقام لینے کی کوشش کی سلطان ایوبی نے عیسی الحکاری فقیہ سے کہا ایک حکم نامہ مصر کی تمام مسجدوں کے نام جاری کر دو کہ ائندہ کسی مسجد میں خطبے میں خلیفہ کا ذکر نہیں کیا جائے گا
ENGLISH
They moved away and became silent. The camel riders put the two bodies on the camels and came back. They knew whose bodies these bodies belonged to. They could have been those of ordinary traffickers. Therefore, it was considered necessary to pick up the dead bodies to find out who the kidnappers were. Sultan Ayyubi always kept himself under control, he never got emotional, he used to drink everything and thought and made decisions keeping his mind fully under control. They also fought in sieges and remained in the society even though the morale of their soldiers was broken and there was nothing left to eat and drink in the fort and the quivers of the soldiers were also empty. His soldiers were waiting for him to surrender and save them from this torture and death, but Sultan Ayyubi not only kept his courage strong, but also breathed new spirit into the soldiers, but Sultan Ayyubi could not control himself that day. There was anger on the face, there was also panic, that was the reason why everyone was sitting silently, but for the first time my mind has left me. said, "I am engaged in the same effort." Sultan Ayyubi said, "But look at the nature of the accusation that has been made against me. I have made a girl from his harem a witness. Astaghfir Allah, may Allah forgive me. He left no stone unturned in insulting me." The message, rather the threat, has been sent by the mouth of the messenger. He would call me and talk directly with me. I will still advise you to cool yourself down. Sultan Ayyubi said, "This seems to be a lie. He must have known that I had leaked the name of Khutbe Khist. In response, he falsely accused me that I had kidnapped a girl from his harem to take revenge." Sultan Ayyubi asked Isa al-Hakiri the jurist to issue a decree to all the mosques in Egypt that henceforth the Caliph will not be mentioned in the sermon in any mosque.

Sunday, 3 December 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode21

   The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode21




The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode21
میرے محکمے کی مصدقہ اطلاعت نے مجھے یقین دلایا ہے کہ اپ کے دو سالہ دور عمارت میں لوگوں کی ایسی ضروریات پوری ہو گئی ہیں جن کے متعلق انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا شہروں میں ایسے مطب نہیں تھے جہاں مریضوں کو داخل کرا کے علاج کیا جا سکتا لوگ معولی معمولی بیماریوں سے مر جاتے تھے اب سرکاری مطلب کھول دیے گئے ہیں درسگاہیں بھی کھول دی گئی ہیں تاجروں اور دکانداروں کی لوٹ کھسوٹ ختم ہو گئی ہے جرائم بھی کم ہو گئے ہیں اور اب لوگ اپنی مشکلات اور فریادیں اپ تک براہ راست پہنچا سکتے ہیں اپ کے یہاں انے سے پہلے لوگ سرکاری اہلکاروں اور فوجیوں سے خوفزدہ رہتے تھے اپ نے ان کے حقوق بتا دیے ہیں وہ اپنے اپ کو ملک و ملت کا حصہ سمجھنے لگے ہیں خلافت سے انہیں بے انصافی اور بے رحمی کے سوا کچھ نہیں ملا اپ نے انہیں ایسا عدل و انصاف اور وقار دیا ہے میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ قوم خلافت کی بجائے عمارت کے فیصلے کو قبول کرے گی میں نے قوم کو عدل و انصاف اور وقار دیا ہے یا نہیں سلطان ایوبی نے کہا میں نے قوم کے حقوق اسے دیے ہیں یا نہیں میں نہیں جانتا میں قوم کو ایک انتہائی بےہودہ روایت نہیں دینا چاہتا میں قوم کو شرک اور کفر نہیں دینا چاہتا ضروری ہو گیا ہے کہ اس روایت کو توڑ کر ماضی کے کوڑے کرکٹ میں پھینک دیا جائے جو مذہب کا حصہ بن گئی ہے اگر یہ روایت قائم رہی تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کل پرسوں میں بھی اپنا نام خطبے میں شامل کر دوں دیے سے دیے جلتا ہے لیکن میں اس دیے کو بجھا دینا چاہتا ہوں جو شرک کی روشنی کو اگے چلا رہا ہے قصر خلافت بدکاری کا اڈہ بنا ہوا ہے خلیفہ اس رات بھی شراب پیے ہوئے حرم کے حسن میں بدمس پڑا تھا جس رات سودانی فوج نے ہم پر حملہ کیا تھا اگر میری چال ناکام ہوتی تو مصر سے اسلام کا پرچم اتر جاتا جب اللہ کے سپاہی شہید ہو رہے تھے اس وقت بھی خلیفہ شراب پیے ہوئے تھا میں اسے احکام کے مطابق یہ بتانے گیا تھا کہ سلطنت پر کیا طوفان ایا ہوا ہے اور ہماری فوج نے اس کا دم خم کس طرح توڑا ہے تو اس نے مس سانڈ کی طرح جھوم کر کہا تھا شاباش ہم بہت خوش ہوئے ہم تمہارے باپ کو خصوصی قاصد کے ہاتھ مبارکباد اور انعام بھیجیں گے میں نے اسے کہا کہ شاہ خلیفۃ المسلمین میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے میں نے یہ فرض اپنے باپ کی خوشنودی کے لیے نہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خوشنودی کے لیے ادا کیا ہے اس بڈھے خلیفہ نے کہا صلاح الدین تم ابھی بچے ہو مگر کام تم نے بڑوں والا کر دکھایا ہے اس نے میرے ساتھ اس طرح بات کی تھی جیسے وہ مجھے اپنا غلام اور اپنے حکم کا پابند سمجھتا ہے یہ بے دین انسان قومی خزانے کے لیے سفید ہاتھی بنا ہوا ہے سلطان ایوبی نے خط نکال کر سب کو دکھایا اور کہا چھ سات دن گزر گئے ہیں نور الدین زنگی نے مجھے یہ پیغام بھیجا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ خلافت تین حصوں میں بٹ گئی ہے بغداد کی مرکزی خلافت کا دونوں ماتحت خلیفوں پر اثر ختم ہو چکا ہے اپ یہ خیال رکھیں کہ مصر کا خلیفہ خود مختار حاکم نہ بن جائے وہ سڑانیوں اور صلیبیوں سے بھی ساز باز کرنے سے گریز نہیں کرے گا میں سوچ رہا ہوں کہ خلافت صرف بغداد میں رہے اور زیلی خلیفے ختم کر دیے جائیں لیکن میں ڈرتا ہوں کہ ان لوگوں نے ہمارے خلاف سازشیں تیار کر رکھی ہیں اگر اپ مصر کے خلیفہ کی بادشاہی اس کے محل کے اندر ہی محدود رکھنے کی کوشش کریں گے تو میں اپ کو فوجی اور مالی امداد دوں گا احتیاط کی بھی ضرورت ہے کیونکہ مصر کے اندر وہاں حالات ٹھیک نہیں مصر میں ایک بغاوت اور بھی ہوگی شڈانیوں پر کڑی نظر رکھیں سلطان ایوبی نے خط پڑھ کر کہا اس میں کیا شک ہے کہ خلافت سفید اتی ہے کہ اپ دیکھتے نہیں کہ خلیفہ الازد دورے پر نکلتا ہے تو اپ کی ادھی فوج اس کی حفاظت کے لیے ہر طرف پھیلا دی جاتی ہے لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ خلیفہ کے راستے میں چادریں اور قالین بچھائیں خلیفہ کا حفاظتی دستہ دورے سے پہلے لوگوں کو دھمکیاں دے کر مجبور کرتا ہے کہ ان کی عورتیں اور جوان بیٹیاں خلیفہ پر پھول کی پتیاں پھینکیں اس کے دوروں پر خزانے کی وہ رقم تباہ کی جاتی ہے جو ہمیں سلطنت اسلامیہ کے دفاع اور توثیح کے لیے اور قوم کی فلاح و بہبود کے لیے درکار ہے اس کے علاوہ اس پہلو پر بھی غور کرو کہ ہم مصری عوام پر یہاں کے عیسائیوں اور دیگر غیر مسلموں پر یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام شہنشاہوں کا مذہب نہیں یہ عرب کے صحراؤں کے گدڑیوں کسانوں اور شتربانوں کا سچا مذہب ہے یہ انسان کو انسانیت کا وہ درجہ دینے والا مذہب ہے جو خدا کو عزیز ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خلیفہ کے خلاف کاروائی کرنے سے اپ کے خلاف یہ بہتان تراشی ہونے لگے کہ خلیفہ کی جگہ اپ خود حاکم بننا چاہتے ہیں شداد نے کہا سچ کی ہمیشہ مخالفت ہوئی ہے اور ہوتی رہے گی سلطان ایوبی نے کہا اج جھوٹ اور باطل کی جڑیں صرف اس لیے مضبوط ہو گئی ہیں کہ مخالفت اور مخالفانہ رد عمل سے ڈر کر لوگوں نے سچ بولنا چھوڑ دیا ہے حق کی اوازیں سینوں میں دب کر رہ گئی ہیں شاہانہ دوروں نے اور شہنشاہیت کے اظہار کے اوچھے طریقوں نے رعایہ کے دلوں سے وہ وقار ختم کر دیا ہے جو قوم کا ترہ امتیاز تھا عوام کو بھوکا رکھ کر
ENGLISH
Confirmed information from my department has convinced me that during your two years in the building, the needs of the people have been met which they never imagined that there were no clinics in the cities where patients were admitted and treated. It is possible that people used to die of minor diseases, now the government schools have been opened, schools have also been opened, the looting of merchants and shopkeepers has ended, crimes have also reduced and now people directly address their problems and complaints to you. Before you came here, people used to be afraid of government officials and soldiers. You have told them their rights. They have started to consider themselves as a part of the nation and the caliphate. Mullah Aap has given them such justice and dignity, I can say with certainty that the nation will accept the decision of the building instead of the caliphate. Have I given justice and dignity to the nation or not? I don't know whether the rights have been given to him or not. I don't want to give the nation a very senseless tradition. I don't want to give the nation shirk and disbelief. If this tradition continues, it is possible that tomorrow I will add my name to the sermon. Qasr Khilafah has become a base of corruption. The Caliph was drunk in the beauty of the Haram that night, the night the Sudanese army attacked us. If my trick had failed, the flag of Islam would have come down from Egypt. At that time, the Caliph was still drinking. I went to tell him according to the orders that what storm had come over the kingdom and how our army had broken his hold. He swung like Miss Sand and said. We are very happy. This old caliph said, "Salahaddin, you are still a child, but you have done the work of an adult." This irreligious person has become a white elephant for the national treasure. Sultan Ayyubi took out the letter and showed it to everyone and said that six or seven days have passed. Nooruddin Zangi has sent me this message. I have split the central caliphate of Baghdad, the influence of the two subordinate caliphs has ended. Take care that the caliph of Egypt does not become an independent ruler. that the caliphate should remain only in Baghdad and the Zali caliphs should be abolished, but I fear that these people have prepared conspiracies against us. I will give military and financial aid to Egypt. Caution is also needed because the situation inside Egypt is not good. There will be another rebellion in Egypt. Keep a close eye on the people. You do not see that when the Caliph al-Azd goes on a visit, half of your army is spread everywhere to protect him. The people are forced to spread sheets and carpets in the path of the Caliph. threatens to compel their women and young daughters to throw flower petals at the Caliph. During his visits, the amount of treasury which we have for the defense and strengthening of the Islamic Empire and for the welfare of the nation is destroyed. In addition to this, it is necessary to consider the aspect that we, the Egyptian people, have to prove to the Christians and other non-Muslims here that Islam is not the religion of emperors, it is the true religion of the donkey farmers of the Arab deserts and the scumbags. It is a religion that gives the status of humanity which is dear to God. It is also possible that by taking action against the Caliph, it will start to be slandered against you that you want to become the ruler instead of the Caliph. It has happened and will continue to happen. Sultan Ayubi said that the roots of falsehood and falsehood have become strong only because people have stopped speaking the truth due to fear of opposition and negative reaction. Travels and the lofty ways of expressing imperialism have removed from the hearts of the subjects that dignity which was the crowning distinction of the nation by starving the masses.
پیاز تھا عوام کو بھوکا رکھ کر ان پر زبردستی اپنی حکمرانی ٹھونس کر انہیں غلامی کی ان زنجیروں میں باندھا جا رہا ہے جنہیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے توڑا تھا ہمارے بادشاہوں نے قوم کو اس پستی تک پہنچا دیا ہے کہ یہ بادشاہ اپنی عیاشیوں کی خاطر صلیبیوں سے دوستانہ کر رہے ہیں ان سے پیسے مانگتے ہیں اور سلیبی اہستہ اہستہ چلتا چلے جا رہے ہیں اپ نے شداد مخالفت کی بات کی ہے ہمیں مخالفت سے نہیں ڈرنا چاہیے قابل صد احترام امیر سلطان ایوبی کے نائب سالار الناصر نے کہا ہم مخالفت سے نہیں ڈرتے اپ نے ہمیں میدان جنگ میں دیکھا ہے ہم اس وقت بھی نہیں ڈرے تھے جب ہم محاصرے میں لڑے تھے ہم بھوکے اور پیاسے بھی لڑے تھے صلیبیوں کے طوفان ہم نے اس حالت میں بھی روکے تھے جب ہماری تعداد کچھ بھی نہیں تھی مگر میں اپ کو اپ کی ہی کی ہوئی ایک بات یاد دلانا چاہتا ہوں اپ نے ایک بار کہا تھا کہ حملہ جو باہر سے اتا ہے اسے ہم قلیل تعداد میں بھی روک سکتے ہیں لیکن حملہ جو اندر سے ہوتا ہے اور جب حملہ اور اپنی قوم کے افراد ہوتے ہیں تو ہم ایک بار تو چونک اٹھتے اور سن ہو جاتے ہیں کہ یا خدائے ذوالجلال یہ کیا ہوا قابل احترام امیر مثل جب ملک حاکم ملک کے دشمن ہو جائیں تو اپ کی تلوار نیام کے اندر تڑپتی رہے گی باہر نہیں ائے گی اپ نے درست کہا ناصر سلطان ایوبی نے کہا میری تلوار نیام میں تڑپ رہی ہے یہ اپنے حاکموں کے خلاف باہر نہیں انا چاہتی میرے دل میں قوم کے حکمرانوں کا ہمیشہ احترام رہا ہے مگر ملک کا حکمران قوم کی عزت کا نشان ہوتا ہے قوم کے وقار کی علامت ہوتا ہے لیکن اپ سب غور کریں کہ ہمارے حکمرانوں میں کتنی کچھ عظمت اور کتنا کچھ وقار رہ گیا ہے میں صرف خلیفہ العادت کی بات نہیں کر رہا علی بن سفیان سے پوچھو اس کا محکمہ موصل حلب دمشق مکہ اور مدینہ منورہ کی جو خبریں لا رہا ہے وہ یہ ہیں کہ خلافت کی تعیش پرستی کی وجہ سے جہاں جہاں کوئی امیر محاکم ہے وہاں کا مختار کل بن گیا ہے سلطنت اسلامیہ ٹکڑوں میں بڑھتی جا رہی ہے خلافت اس قدر کمزور ہو گئی ہے کہ اس نے عمرہ اور حکام کو ذاتی سیاست بازیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے میں اس خطرے سے بے خبر نہیں کہ قوم کے بکھرے ہوئے شیرازے کو ہم جب یکجا کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ اور بکھرے گا ہمارے سامنے پہاڑ کھڑے ہو جائیں گے لیکن میں گھبراؤں گا نہیں اور مجھے امید ہے کہ اپ بھی نہیں گھبرائیں گے میں اپ کے مشورے کا احترام کروں گا لیکن میں ائندہ خلیفہ کے بلاوے پر صرف اس صورت میں جاؤں گا جب کوئی ضروری کام ہوگا فوری طور پر خطبے میں سے خلیفہ کا نام اور ذکر نکلوا رہا ہوں سب نے سلطان ایوبی کے اس اقدام کی حمایت کی اور اسے اپنی پوری مدد اور ہر طرح کی قربانی دینے کا یقین دلایا خلیفہ العزد اس وقت اپنے ایک خصوصی کمرے میں تھا جب قاصد نے اسے بتایا کہ صلاح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ اگر کوئی ضروری کام ہے تو میں ا سکتا ہوں ورنہ میں بہت مصروف ہوں خلیفہ اگ بگولا ہو گیا اس نے قاصد سے کہا کہ رجب کو میرے پاس بھیج دو رجب اس کے حفاظتی دستے کا کماندار تھا جس کا عہدہ نائب سالار جتنا تھا وہ مصر کی فوج کا افسر تھا اسے خلیفہ کے باڈی گارڈز کی کمان دی گئی تھی اس نے قصر خلافت اور خلیفہ کے حفاظتی دستوں میں چن چن کر سوڈانی حبشوں کو رکھا تھا وہ سلطان ایوبی کے مخالفین میں سے اور خلیفہ کے خوش امدیوں میں سے تھا اس وقت خلیفہ کے اس خصوصی کمرے میں ام ارارہ موجود تھی جب قاصد صلاح الدین ایوبی کا جواب لے کر ایا تھا اس نے خلیفہ سے کہا صلاح الدین ایوبی اپ کا نوکر ہے اپ نے اسے سر پہ جڑا رکھا ہے اب کیوں نہیں اسے معزول کر دیتے یا کیوں نہیں اپنے سپاہی بیچ کر اسے حراست میں یہاں بلوا لیتے اس لیے کہ اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے خلیفہ نے غصے کے عالم میں کہا فوج اس کی کمان میں ہے وہ میرے خلاف فوج استعمال کر سکتا ہے اتنے میں رجب اگیا اس نے جھک کر فرشی سلام کیا العادت نے غصے سے کامتی ہوئی اواز میں اسے کہا میں پہلے ہی جانتا تھا کہ یہ کمبخت خود سر اور سرکش ادمی ہے یہ صلاح الدین ایوبی میں نے اسے بلایا تو یہ کہہ کر انے سے انکار کر دیا کہ کوئی ضروری کام ہے تو اؤں گا ورنہ اپ کا بلاوا میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ میرے سامنے ضروری کام پڑے ہیں غصے میں بولتے بولتے اسے ہچکی ائی پھر کھانسی اٹھی اور اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا اس کا رنگ زرد ہو گیا اس حالت میں کمزور سی اواز میں کہا بدبخت کو یہ بھی احساس نہیں رہا کہ میں بیمار ہوں میرا دل مجھے لے بیٹھے گا یہ میرے لیے غصہ ٹھیک نہیں مجھے اپنی صحت کا غم کھائے جا رہا ہے اور اسے اپنے کاموں کی پڑی ہے اپ نے اسے کیوں بلایا تھا رجب نے پوچھا مجھے حکم دیجیے میں نے اسے صرف اس لیے بلایا تھا کہ اسے احساس رہے کہ اس کے سر پر ایک حاکم بھی ہے خلیفہ نے دل پر ہاتھ رکھے ہوئے کراہتی ہوئی اواز میں کہا تم ہی نے مجھے بتایا تھا کہ صلاح الدین خود مخ
ENGLISH
Onion was starving the people and imposing their rule on them by forcing them to bind them in the chains of slavery which were broken by our Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). They are befriending the Crusaders for the sake of the revelers, asking them for money, and the Slabs are slowly moving on. You have spoken of strong opposition. We should not be afraid of opposition. Not afraid of opposition You have seen us on the battlefield We were not afraid even when we fought in sieges We fought hungry and thirsty The storms of the Crusaders We held back even when we were outnumbered But I want to remind you of something that you have said. You once said that we can stop the attack that comes from outside even in small numbers, but the attack that comes from inside and when the attack and our nation If there are people, then we get shocked once and hear that, O God, what has happened, respected emir, like when the ruler of the country becomes the enemy of the country, then your sword will keep burning inside the Niam and will not come out. Nasir Sultan Ayyubi said, "My sword is burning in Niam. It is not out against my rulers. I don't want ego. I have always respected the rulers of the nation in my heart, but the ruler of the country is a sign of the nation's honor." It is a sign, but all of you should consider how much dignity and how much dignity is left in our rulers. I am not talking about Caliph Al-Idaat only. They are that because of the luxuries of the caliphate, wherever there is a rich court, the ruler of that place has become the ruler. The Islamic empire is growing in pieces. I am not unaware of the danger that when we try to unite the scattered Shiraz of the nation, it will be scattered more and mountains will stand in front of us, but I will not be afraid and I I hope you will not be alarmed, I will respect your advice, but I will only go on the call of the future Caliph if there is an urgent task. Sultan Ayyubi supported this initiative and assured him of his full support and every sacrifice. Caliph al-Azd was in one of his private rooms when the messenger told him that Salah al-Din Ayyubi had said that if there was any necessary work. So I can come, otherwise I am too busy. The Caliph became agitated. He said to the messenger, "Send Rajab to me." He was given the command of the Caliph's bodyguards. He selected the Sudanese Abyssinians in the Qasr Caliphate and the Caliph's security forces. Umm Arara was present when the messenger came with Salah al-Din Ayyubi's answer. She said to the Caliph, Salah al-Din Ayyubi is your servant. He would have called me here in detention because the results of this would not be good. The Khalifa said in anger that the army is under his command, he can use the army against me. I said to him in a mocking voice, "I already knew that this wretch is a self-centered and rebellious person. This is Salahuddin Ayubi. I called him, so he refused saying that if there is any important work, then I will do it, otherwise I will call you." It doesn't mean anything to me because I have important work ahead of me.' No longer, I am sick, my heart will take me, this anger is not good for me, I am worried about my health and he has to do his work. Why did you call him? Rajab asked, give me orders. He was called so that he should realize that there is a ruler over his head. The Caliph placed his hand on his heart and said in a groaning voice, "You are the one who told me that Salah-ud-Din is self-righteous."


خود مختار ہوتا جا رہا ہے میں اسے بار بار یہاں بلانا چاہتا ہوں اسے حکم دینا چاہتا ہوں تاکہ اسے اپنے پاؤں کے نیچے رکھو یہ ضروری نہیں کہ کوئی ضروری کام ہی ہو تو میں اسے بلاؤں ام ارارہ نے شراب کا پیالہ اس کے ہونٹوں سے لگا کر کہا اپ کو 100 بار کہا ہے کہ غصے میں نہ ا جایا کریں اپ کے دل اور اصاب کے لیے غصہ ٹھیک نہیں اس نے سونے کی ایک ڈبیا میں سے نسواری رنگ کے سفوف میں سے ذرا سا خلیفہ کے منہ میں ڈالا اور پانی پلا دیا خلیفہ نے اس کے بکھرے ہوئے ریشمی بالوں میں انگلیاں الجھا کر کہا اگر تم نہ ہوتی تو میرا کیا ہوتا سب کو میری دولت اور رتبے سے دلچسپی ہے میری ایک بی بی بھی ایسی نہیں جس سے میری ذات کے ساتھ دلچسپی ہو تم تو میرے لیے فرشتہ ہو اس نے لڑکی کو اپنے قریب بٹھا کر بازو اس کی کمر میں ڈال دیا خلیفۃ المسلمین رجب نے کہا اب بڑے ہی نرم دل اور نیک انسان ہیں یہی وجہ ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے یہ گستاخی کی ہے اپ نے یہ بھی فراموش کر دیا ہے کہ وہ عربی نسل سے نہیں وہ اپ کی نسل سے نہیں وہ کرد ہے میں حیران ہوں کہ اسے اتنی بڑی حیثیت کس نے دے دی ہے اگر اس میں کچھ خوبی ہے تو صرف یہ ہے کہ وہ اچھا عسکری ہے میدان جنگ کا استاد ہے لڑنا بھی جانتا ہے اور لڑانا بھی جانتا ہے مگر یہ وصف اتنا اہم نہیں کہ اسے مصر کی عمارت سونپ دی جاتی اس نے سوڈان کی اتنی بڑی اور اتنی تجربہ کار فوج یوں توڑ کر ختم کر دیے جس طرح بچہ کوئی کھلونا توڑ دیتا ہے اپ ذرا غور فرمائیں کہ جب یہاں سوڈانی باشندوں کی فوج تھی ناجی اور ادرش جیسے سالار تھے تو رعایا اپ کے کتوں کے اگے بھی سجدے کرتی تھی سوڈانی لشکر کے سالار اپ کی دہلیز پر حاضر رہتے تھے اب یہ حال ہے کہ اپ اپنے ایک ماتحت کو بلاتے ہیں اور وہ انے سے انکار کر دیتا ہے رجب خلیفہ نے اچانک گرج کر کہا تم ایک مجرم ہو رجب کا رنگ پیلا پڑ گیا ام ارارہ بدک کر العادت سے الگ ہو گئی عاادت نے اسے پھر بازو کے گھیرے میں لے کر اپنے ساتھ لگا لیا اور پیار سے بولا کیا میں نے تمہیں ڈرا دیا ہے میں رجب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اج دو سال بعد مجھے بتا رہا ہے کہ ہماری پرانی فوج اور اس کے سالار اچھے تھے اور صلاح الدین کی بنائی ہوئی فوج خلافت کے حق میں اچھی نہیں کیوں رجب تم یہ بات پہلے بھی جانتے تھے جب کیوں رہے اب جب کہ امیر مصر اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے مجھے بتا رہے ہو کہ وہ خلافت کا باغی اور سرکش ہے میں حصور کے عتاب سے ڈرتا تھا رجب نے کہا سلطان ایوبی کا انتخاب بغداد کی خلافت نے کیا تھا یہ اپ کے مشورے سے ہی ہوا ہوگا میں خلافت کے انتخاب کے خلاف زبان کھولنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا اج امیر مصر کی گستاخی اور اس کے زیر اثر اپ کے دل کے دورے نے مجھے بھی مجبور کر دیا ہے کہ زبان کھولوں میں کب سے دیکھ رہا ہوں کہ صلاح الدین ایوبی کئی بار اپ کے حضور گستاخی کر چکا ہے میرا فرض ہے کہ اپ کو خطروں سے اگاہ کروں اور بچاؤں اس دوران ام ارارہ خلیفہ کے گالوں سے گال رگڑتی رہی اور اس کی انگلیوں میں انگلیاں الجھا کر بچوں کی طرح کھیلتی رہی ایک بار اس نے خلیفہ کے گالوں کو ہاتھوں میں تھام کر پوچھا طبیعت بحال ہوئی خلیفہ نے اس کی ٹھوڑی کو چھیڑتے ہوئے کہا دوائی دے اتنا اثر نہیں کیا جتنا تیرے پیار نے کیا ہے خدا نے تجھے وہ حسن اور وہ جذبہ دیا ہے جو میرے ہر روک کے لیے اکثیر ہے اس نے ام ارارہ کا سر اپنے سینے پر ڈال کر رجب سے کہا روز قیامت جب مجھے جنت میں بھیجیں گے تو میں خدا سے کہوں گا کہ مجھے کوئی حور نہیں چاہیے مجھے ام ارارہ دے دو میں ارارہ صرف حسین ہی نہیں رجب نے کہا یہ بہت ہوشیار اور ذہین بھی ہے حضور کا حرم سازشوں کا گھر بنا ہوا تھا اس نے ا کر سب کو لگام ڈال دیے اب کسی کی جرات نہیں کہ کوئی عورت کسی عورت کے خلاف یا کوئی اہلکار کسر خلافت میں ذرا سی بھی گڑبڑ کرے یہ دونوں صلاح الدین ایوبی کے متعلق باتیں کر رہے تھے ام ارارہ نے کہا ان کی باتیں غور سے سنیں اور صلاح الدین ایوبی کو لگام ڈالیں تم کیا کہہ رہے تھے رجب خلیفہ نے پوچھا میں یہ عرض کر رہا تھا کہ میں نے اس ڈر سے زبان بند رکھی کہ امیر مصر کے خلاف کوئی بات خلافت کو گوارا نہ ہوگی رجب نے کہا صلاح الدین ایوبی قابل سالار ہو سکتا ہے مجھے صرف اس کا یہی وصف پسند ہے کہ میدان جنگ میں وہ اسلام کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیتا خلیفہ نے کہا ہمیں سلطان ایوبی جیسے ہی سالاروں کی ضرورت ہے جو خلافت اسلامیہ کا بقار میدان جنگ میں قائم رکھیں میں گستاخی کی معافی چاہتا ہوں خلیفۃ المسلمین رجب نے کہا خلافت نے ہمیں میدان جنگ میں نہیں ازمایا صلاح الدین ایوبی کے متعلق میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ وہ خلافت اسلامیہ کے وقار کے لیے نہیں لڑتا بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑتا ہے اپ فوج کے سالار سے سپاہی تک پوچھ لیں صلاح الدین انہیں یہ سبق دیتا رہتا ہے کہ وہ ایسی سلطنت اسلامیہ کے قیام کے لیے لڑیں جس کی سرحدیں لامحدود ہوں صاف ظاہر ہے کہ وہ ایسی سلطنت کے خواب دیکھ رہا ہے جس کا بادشاہ وہ خود
ENGLISH
is becoming independent I want to call him here again and again I want to command him to keep him under my feet It is not necessary that I call him for some urgent work Umm Arara put the cup of wine to his lips. He said, "You have been told 100 times not to get angry. Anger is not good for your heart and mind." He put a little bit of brown saffron from a gold box into the Khalifa's mouth and watered it. Caliph entangled his fingers in her tousled silken hair and said, "If you had not been there, what would have happened to me? Everyone is interested in my wealth and rank. There is not one of my wives who is interested in my self. You are an angel to me." Yes, he made the girl sit close to him and put his arm around her waist. Caliph Al-Muslimin Rajab said, "Now you are a very kind hearted and good person. That is the reason why Salahuddin Ayyubi did this insolence. You have also forgotten this." He is not of Arabic descent, he is not of your descent, he is Kurdish. He knows and also knows how to fight, but this attribute is not so important that if he was given the building of Egypt, he destroyed such a large and experienced army of Sudan as a child breaks a toy. Just think about it. That when there was an army of Sudanese people, there were chiefs like Naji and Idarsh, then the subjects used to prostrate before their dogs. Rajab refuses. Khalifa suddenly roared and said, "You are a criminal." Rajab's color turned pale. Have I scared you? I want to say to Rajab that he is telling me after two years that our old army and its leaders were good and the army built by Saladin is not good for the Caliphate. You knew this before, why did you stay now, when the Amir of Egypt has strengthened his roots, you are telling me that he is a rebel and rebel of the caliphate. I was afraid of the rebuke of Hashur. It must have happened with your advice. I could not dare to open my tongue against the election of the caliphate, but the arrogance of the Emir of Egypt and your heart attack under his influence have forced me to open my tongue. Since when I see that Saladin Ayyubi has insulted you many times, it is my duty to warn you of the dangers and save you. Once she held Khalifa's cheeks in her hands and asked him to feel better. Khalifa teased his chin and said, "Give medicine, it didn't do as much as your love did. God gave you that beauty and that passion." He placed Umm Arara's head on his chest and said to Rajab, "On the Day of Resurrection, when you send me to Paradise, I will say to God that I do not want any Huar. Give me Umm Arara, I am Arara." Not only Hussain. They were talking about Salahuddin Ayyubi, Umm Arara said, listen to their words carefully and restrain Salahuddin Ayyubi. What were you saying? Rajab Khalifa asked, I was saying that I kept his mouth shut for fear that anything against the Emir of Egypt would be acceptable to the caliphate. Rajab said that Salah al-Din Ayyubi may be a worthy ruler. I only like this attribute of him that he does not allow the flag of Islam to be undermined on the battlefield. The Caliph said, "We need leaders like Sultan Ayyubi who will maintain the Islamic caliphate on the battlefield. I apologize for being rude. Caliph Al-Muslimeen Rajab said that the Caliphate did not test us on the battlefield. I want to say this about Salah al-Din Ayyubi." I dare say that he does not fight for the prestige of Islamic Caliphate, but fights for his own prestige. It is obvious that he dreams of an empire of which he himself is the king
کر رہا ہے اس نے صلاح الدین ایوبی کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیےد ہزار سواروں اور اتنے ہی پیادہ عسکریوں کی فوج بھیجی تھی کیا اس نے خلیفہ بغداد کی اجازت سے یہ فوج بھیجی تھی کیا خلافت کا کوئی ایلچی اپ سے مشورہ لینے ایا تھا کہ مصر میں فوج کی ضرورت ہے یا نہیں جو کچھ ہوا خلافت سے بالا ہوا واپس اسی لیے نہیں بھیجے گئی کہ یہ کمک مصر پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی اور اسی لیے یہاں رکھی گئی ہے رجب نے کہا مصر کی پرانی فوج کے سپاہیوں کو کسان اور بھکاری بنانے کے لیے یہ کمک ائی تھی ناجی ادرش کاکیش عبد یزدان ابھی زر اور ان جیسے اٹھ اور سالار کہاں ہیں حضور نے کبھی سوچا نہیں ان سب کو صلاح الدین ایوبی نے خفیہ طور پر قتل کرا دیا تھا ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ صلاح الدین ایوبی سے زیادہ قابل سالار تھے یہ قتل کس کی گردن پر ہے صلاح الدین ایوبی نے حاکموں کی مجلس میں کہا تھا کہ خلیفہ مصر نے ان سب کو غداری اور بغاوت کے جرم میں سزائے موت دی ہے جھوٹ خلیفہ نے بھڑک کر کہا سفید جھوٹ مجھے صلاح الدین نے بتایا تھا کہ یہ سب غدار ہیں میں نے اسے کہا تھا کہ گواہ لاؤ اور مقدمہ چلاؤ اس نے مقدمہ چلائے بغیر وہ فیصلہ خود کیا جو خلافت کی مہر کے بغیر بےکار ہوتا ہے رجب نے کہا ان بدقسمت سالانوں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے صلیبی بادشاہ سے رابطہ قائم کیا تھا ان کا مقصد کچھ اور تھا وہ یہ تھا کہ صلیبیوں سے بات چیت کر کے جنگ و جدل ختم کیا جائے اور ہم اپنے ملک اور رعایہ کی خوشحالی اور فلاح بےبود کی طرف توجہ دے سکیں اپ شاید تسلیم نہ کریں مگر یہ حقیقت ہے کہ صلیبی ہمیں اپنا دشمن نہیں سمجھتے وہ ہمارے خلاف جنگی طاقت صرف اس لیے تیار رکھتے ہیں کہ نور الدین زنگی اور شرح کو جیسے مسلمان سے انہیں حملے کا خطرہ رہتا ہے شرک کو مر گیا تو صلاح الدین ایوبی کو اپنی جگہ چھوڑ گیا یہ شخص شرح کو کب پروردہ ہے اس نے ساری عمر عیسائی قوم سے لڑتے اور اسلام کے دشمن پیدا کرتے اور دشمنوں میں اضافہ کرتے گزاری ہے اگر صلاح الدین کی جگہ مصر کا امیر کسی اور کو مقرر کیا جاتا تو اج عیسائی بادشاہ اپ کے دربار میں دوستوں کی طرح اتے قتل و غارت نہ ہوتا اتنے پرانے اور تجربہ کار سالار قتل ہو کر گمنام نہ ہو جاتے مگر رجب خلیفہ نے کہا صلیبیوں نے بہرہ روم سے حملہ جو کیا تھا صلاح الدین ایوبی نے ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ صلیبی اپنے دفاع کے لیے حملے میں پہل کرنے پر مجبور ہو گئے رجب نے کہا صلاح الدین ایوبی کو معلوم تھا کہ حملہ اور ا رہا ہے کیونکہ حالات اسی نے پیدا کیے تھے اسی لیے اس نے حملہ روکنے یعنی دفاع کا انتظام پہلے ہی کر رکھا تھا یہ شخص فرشتہ تو ہے نہیں کہ اسے غیب کا حال معلوم ہو گیا تھا اس نے ایک ایسا ناٹک کھیلا تھا جس میں ہزارہا بچے یتیم اور ہزارہا عورتیں بیوہ ہو گئی اس پر اپ نے اسے میری موجودگی میں خراج تحسین پیش کیا تھا پھر اس نے سوڈانی فوج کو جواب کی وفادار تھی جنگی مشق کے بہانے رات کو باہر نکالا اور اندھیرے میں اس پر اپنی نئی فوج سے حملہ کر دیا مشہور یہ کیا کہ ناجی کی فوج نے بغاوت کر دی تھی اس پر بھی اپ نے اسے خراج تحسین پیش کیا اب اتنے سادہ دل اور مخلص ہیں کہ اپ اس چال اور اس دھوکے کو سمجھ ہی نہ سکے
ENGLISH
Did he send an army of 1,000 horsemen and the same number of foot soldiers to strengthen the hands of Salah al-Din Ayubi? Did he send this army with the permission of Caliph Baghdad? Whether the army is needed or not, what happened above the caliphate was not sent back because these reinforcements were sent to strengthen the grip on Egypt and that is why they are kept here. Rajab said to the soldiers of the old army of Egypt. This reinforcement was given to make peasants and beggars Naji Idarsh ​​Kakeesh Abd Yazdan Abhi Zar and where are Ut and salar like them, Huzoor never thought. That he was a more capable ruler than Salah al-Din Ayyubi, on whose neck is this murder? A white lie. Saladin told me that they are all traitors. I told him to bring witnesses and prosecute him. It was that they had established contact with the Crusader king, their purpose was something else, that was to end the war by negotiating with the Crusaders and we could focus on the prosperity and well-being of our country and subjects. You may not admit it, but it is a fact that the Crusaders do not consider us as their enemy, they keep their war power ready against us only because Nur al-Din Zangi and Shahrah are in danger of being attacked by the Muslims. Ayyubid was left in his place. When did this man grow up? He has spent his whole life fighting the Christian nation and creating enemies of Islam and adding to the number of enemies. Christian kings would not have been killed like friends in your court and such old and experienced rulers would not have been killed and become anonymous. Rajab said that Salah al-Din Ayyubi knew that the attack was coming because he had created the situation, that is why he had already organized the defense to stop the attack. This person is not an angel, is he not aware of the unseen, he played such a drama in which thousands of children became orphans and thousands of women became widows, for this you paid tribute to him in my presence. He took the Sudanese army out at night under the pretense of a war exercise and attacked it with his new army in the dark. Are you so simple-hearted and sincere that you cannot understand this trick and this deception?

Thursday, 30 November 2023

The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 20

 The Great Conquests of the  Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode 20


 


جو ہی زخمی بیان دینے کے قابل ہوئے ان سے بیان لیے گئے ان سے یہ کہانی یوں بنی کہ البرک کی پہلی بیوی کو جب علی بن سفیان نے بتایا کہ اس کے خاوند کی دوسری بیوی مجتبی چال چلن کی ہے اور جاسوس معلوم ہوتی ہے تو وہ سخت غصے کے عالم میں گھر چلی گئی وہ اپنے خاوند کو اور اصفہ کو قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن علی بن سفیان نے اسے کہا تھا کہ جاسوسوں کو زندہ پکڑا جاتا ہے تاکہ ان کے چھپے ہوئے ساتھیوں کا سراغ لگایا جا سکے اس نے اپنے اپ پر قابو پایا اور اصفہ پر گہری نظر رکھنے لگی اس نے رات کا سونا بھی ترک کر دیا موقع دیکھ کر اس نے اس کے سونے والے کمرے کے اس دروازے میں چھوٹا سا سراخ کر لیا جو دونوں کمروں میں کھلتا تھا رات کو اس سوراخ میں سے انہیں دیکھتی رہتی دو راتیں تو اس نے یہی دیکھا کہ لڑکی البرگ کو شراب پلاتی اور عریانی کا پورا مظاہرہ کرتی تھی وہ سلطان ایوبی کی باتیں ایسے انداز سے کرتی تھی جیسے وہ اس کا پیر اور مرشد ہو صلیبیوں کو برا بھلا کہتی ہے اور وہی باتیں کرتی جو سلطان ایوبی کے جنگی منصوبے میں شامل تھیں البرک اسے بتاتا تھا کہ سلطان کیا کر رہا ہے اور کیا سوچ رہا ہے البرگ کی پہلی بیوی نے دو راتیں یہی کچھ دیکھا اور سنا تیسری رات وہ ناٹک کھیلا گیا جس کا البرک کی پہلی بیوی کو بےتابی سے انتظار تھا اصفہ نے البرگ کو شراب پلانی شروع کر دی اور اسے بالکل حیوان بنا دیا اصفہ دونوں پیالے اٹھا کر اور یہ کہہ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی کہ دوسری لاتیں وہ واپس ائی تو پیالوں میں شراب تھی اس نے ایک پیالہ البرق کو دے دیا دوسرا خود منہ سے لگا لیا اس کے بعد اس نے بے حد رنگی حرکتیں کی اور البرق بے سد لیٹ گیا اصفہ نے کپڑے پہنے اور البرک کو اہستہ اہستہ ہلایا وہ نہ بولا پھر اسے ہلایا ہاتھ سے اس کے پپوٹے اوپر کیے مگر اس کی انکھیں نہ کھلی اس نے پیالے دوسرے کمرے میں لے جا کر شراب میں بے ہوش کرنے والی کوئی چیز البرک کے پیالے میں ملا دی تھی اصفہ نے کپڑے پہنے اوپر سیاہ چادر اس طرح لے لی کہ سر سے پاؤں تک چھپ گئی ادھی رات ہونے کو تھی اس نے قندیل بجھائی اور باہر نکل گئی پہلی بیوی اگ بگولا ہو گئی اس نے خنجر اٹھایا اوپر لبادہ اوڑا وہ کمرے سے نکلنے لگی تو دیکھا کہ اصفہ ایک ملازمہ کے ساتھ کھسر پھسر کر رہی ہے اس سے پتہ چلا کہ ملازمہ کو اس نے ساتھ ملا رکھا ہے اصفہ باہر نکل گئی ملازمہ اپنے کمرے میں چلی گئی پہلی بیوی بڑے دروازے سے باہر نکل گئی وہ تیز تیز چلتی اصفہ کے تعقب میں گئی وہ اس کے قدموں کی اہٹ پر جا رہی تھی وہ صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کہاں جا رہی ہے اصفہ کو شاید اس کے قدموں کی اہٹ سنائی دی تھی وہ رک گئی پہلی بیوی اندھیرے میں اچھی طرح دیکھ نہ سکی وہ اصفہ کے قریب چلی گئی اور رک گئی اچانک امنے سامنے ا جانے سے پہلی بیوی فیصلہ نہ کر سکی کہ کیا کرے اس کے منہ سے نکل گیا کہاں جا رہی ہو اصفہ پہلی بیوی کو معلوم نہ تھا کہ لڑکی کی حفاظت کے لیے ایک ادمی چھپ چھپ کر اس کے ساتھ جاتا ہے جو کسی کو نظر نہیں اتا اصفہ نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور البرب کی پہلی بیوی سے ہنس کر کہا اب میرے پیچھے ائی ہیں یا کہیں جا رہی ہیں اتنے میں پیچھے سے کسی نے پہلی بیوی کو بازوں میں جکڑ لیا مگر اس عورت نے گرفت مضبوط ہونے سے پہلے ہی جسم کو زور سے جھٹکا دیا اور ازاد ہو گئی اس نے تیزی سے خنجر نکال لیا اس کے سامنے ایک ادمی تھا عورت نے اس پر وار کیا جو وہ بچا گیا ادمی نے ایسا وار کیا کہ خنجر عورت کے پہلو میں اتر گیا اس ادمی نے دیکھ لیا تھا کہ عورت کے پاس خنجر ہے وہ فورا پیچھے ہٹ گیا پہلی بیوی نے اصفہ پر حملہ کیا اور خنجر اس کی گردن اور کندھے کے درمیان اتار دیا لڑکی نے زور سے چیخ ماری ادمی نے پہلے بیوی پر وار کیا جو یہ عورت پھرتی سے بچا گئی اس نے وار کیا تو اس ادمی نے اس کا بازو اپنے بازو سے روک لیا اصفہ گر پڑی تھی البرب کی پہلی بیوی کو بھی گہرا زخم ایا تھا جو پہلو سے پیٹ تک چلا گیا تھا وہ ڈگمگانے لگی وہ ادمی اصفہ کو اٹھا کر کہیں چلا گیا علی بن سفیان کے دو جاسوس عمر اور اذر چھپ کر دیکھ رہے تھے انہیں معلوم نہیں تھا کہ دوسری عورت کون ہے عمر اس ادمی کے پیچھے چھپ چھپ کر گیا جو اصفہ کو اٹھا کر لے گیا تھا وہ اسی مکان میں لے گیا جہاں وہ جایا کرتی تھی وہاں سے عمر علی بن سفیان کو اطلاع دینے چلا گیا اظہر نے بتایا کہ وہ وہیں چھپا رہا زخمی عورت وہیں پڑی تھی وہاں کوئی اور نہ تھا اظہر اس عورت کے پاس جا کر بیٹھ گیا پیچھے سے کسی نے اس پر خنجر سے تین وار کیے اور حملہ اور بھاگ گیا اظہر وہیں بے ہوش ہو گیا شام تک البرغ کی پہلی بیوی اور اذر کی حالت بگڑ گئی جراہوں اور طبیبوں نے بہت کوشش کی مگر وہ زندہ نہ رہ سکے البرک کی بیوی نے علی بن سفیان سے کہا تھا کہ میں اپنے
ENGLISH
The statements were taken from those who were injured and were able to give a statement. From them, this story was made that when Ali bin Sufyan told Al Barak's first wife that her husband's second wife, Mujtabi, was known to be a spy. She went home in a fit of rage. She wanted to kill her husband and Isfa, but Ali bin Sufyan told her that spies are captured alive to trace their hidden accomplices, so she killed herself. and started keeping a close eye on Isfa, she also gave up sleeping at night. Seeing the opportunity, she made a small hole in the door of her bedroom that opened in both the rooms. After watching them for two nights, he saw that the girl was drinking alcohol in the albergue and showing full nakedness. Kirti, who was involved in Sultan Ayubi's war plan, used to tell her what the Sultan was doing and what he was thinking. The first wife of Albarg saw and heard the same thing for two nights. Eagerly waiting, Isfa started pouring alcohol to Alberg and made him a complete beast. Isfa took both the cups and went to the other room saying that the other kicks. When she returned, there was wine in the cups. He gave the other one and put it in his mouth. After that, he made a lot of colorful movements and Al Barq lay down. Isfa put on his clothes and shook Al Barq slowly. He didn't speak. His eyes did not open, he took the bowls to another room and mixed some anesthetic in Albarak's bowl. He extinguished the candle and went out. The first wife was startled. She picked up the dagger and threw her cloak on top. She started to leave the room and saw Asafa flirting with a maid. It was kept. Isfa went out. The maid went to her room. The first wife went out of the big door. She followed Isfa fast. She was following her footsteps. She just wanted to see where she was going. Yes, Isfa may have heard his footsteps, she stopped. The first wife could not see well in the dark. She went near Asfa and stopped. "Where are you going, Isfa?" He laughed and said, "Are you following me now or are you going somewhere?" Someone grabbed the first wife from behind, but before the grip was strong, she jerked her body hard and freed herself quickly. He pulled out a dagger and there was a man in front of him. The woman stabbed him and he was saved. The wife attacked Asfa and put the dagger between her neck and shoulder. The girl screamed loudly. The man first stabbed the wife. The woman escaped by moving. He then stabbed her and the man took her arm with his own. Asfa was stopped by Albarb's first wife who also got a deep wound that went from her side to her stomach. They did not know who the other woman was. Umar secretly followed the person who had picked up Isfa and took him to the same house where she used to visit. From there Umar went to inform Ali bin Sufyan. Azhar said that he was hiding there, the injured woman was lying there, there was no one else there, Azhar went and sat next to the woman, someone stabbed him three times with a dagger from behind and attacked him and ran away. Azhar became unconscious there till evening. Albarg's first wife and Azar's condition worsened. The surgeons and doctors tried hard but they could not survive.
کی بیوی نے علی بن سفیان سے کہا تھا کہ میں اپنے خاوند کو قربان کر سکتی ہوں قوم اور ملک کی عزت کو قربان ہوتا نہیں دیکھ سکتی اس نے قوم کے نام پر جان دے دی سلطان ایوبی کے حکم سے خادم الدین البرک کو قید خانے میں ڈال دیا گیا اس نے یقین دلانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اس نے یہ جرم دانستہ نہیں کیا وہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں بے وقوف بن گیا تھا مگر یہ ثابت ہو چکا تھا کہ اس نے حکومت اور افواج کے راز شراب اور حسین لڑکی کے نشے میں دشمن کے جاسوسوں تک پہنچائے ہیں سلطان ایوبی قتل کا جرم بخش سکتا تھا شراب خوری اور عیاشی اور دشمن کو راز دینے کے جرائم نہیں بخشا کرتا تھا اصفہ سے اس روز کوئی بیان نہ لیا گیا اس پر زخم کا اتنا اثر نہیں تھا جتنا خوف کا تھا وہ جاسوس لڑکی تھی سپاہی نہیں تھی اسے شہزادی کے روپ میں شہزادوں سے بھید لینے کی ٹریننگ دی گئی تھی اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ اس کا یہ حشر بھی ہو سکتا ہے اس پر زیادہ خوف اس کا تھا کہ وہ مسلمانوں کی قیدی ہے اور مسلمان اسے بہت خراب کریں گے ایک خطرہ یہ بھی اسے نظر ایا کہ مسلمان اس کے زخم کا علاج نہیں کریں گے اس نے اس خطرے کا اظہار ہر اس ادمی سے کیا جو اس کے قریب گیا وہ ڈرے ہوئے بچے کی طرح روتی تھی علی بن سفیان نے اسے بہت تسلی دی کہ اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو کسی مسلمان زخمی عورت کے ساتھ کیا جاتا ہے مگر وہ سلطان ایوبی سے ملنا چاہتی تھی اخر سلطان کو بتایا گیا سلطان ایوبی اس کے پاس گئے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا اس حالت میں وہ اسے اپنی بیٹی سمجھتا ہے میں نے سنا تھا کہ سلطان ایوبی تلوار کا نہیں دل کا بادشاہ ہے اصفہ نے روتے ہوئے کہا اتنا بڑا بادشاہ جسے شکست دینے کے لیے عیسائیوں کے سارے بادشاہ اکٹھے ہو گئے ہیں ایک مجبور لڑکی کو دھوکہ دیتے اچھا نہیں لگتا ان لوگوں سے کہو کہ مجھے فارن زہر دے دیں میں اس حالت میں کوئی اذیت برداشت نہیں کر سکوں گی کہو تو میں ہر وقت تمہارے پاس موجود رہوں گا سلطان ایوبی نے کہا میں تمہیں دھوکہ بھی نہیں دوں گا اذیت بھی نہیں دوں گا مگر وعدہ کرو کہ تم بھی مجھے دھوکہ نہیں دو گی تم ذرا اور بہتر ہو لو طبیب نے کہا ہے کہ تم ٹھیک ہو جاؤ گی اگر تمہیں اذیت دینی ہوتی تو میں اسی حالت میں قید خانے میں ڈال دیتا تمہارے زخم پر نمک ڈالا جاتا تم چیخ چیخ اور چلا چلا کر اپنے جرم اور اپنے ساتھیوں سے پردے اٹھاتی مگر ہم کسی عورت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا کرتے البرک کی بیوی مر گئی ہے لیکن تمہیں زندہ رکھنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے میں ٹھیک ہو جاؤں گی تو میرے ساتھ کیا سلوک کرو گے اس نے پوچھا یہاں تمہیں کوئی مرد اس نظر سے نہیں دیکھے گا کہ تم ایک نوجوان اور خوبصورت لڑکی ہو سلطان ایوبی نے کہا تم یہ خدشہ دل سے نکال دو تمہارے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو اسلامی قانون میں لکھا ہے اس مکان کی تلاشی لی گئی تھی جہاں اصفہ جایا کرتی تھی وہ کسی کا گھر نہیں تھا جاسوسوں کا اڈا تھا اندر استبل بنا ہوا تھا اندر سے پانچ ادمی برامد ہوئے انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا ان پانچ نے ان چاروں نے جنہیں تعقب میں پکڑا گیا تھا جرم کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیا اخر انہیں اس تہ خانے میں لے گئے جہاں پتھر بھی بول پڑتے تھے بوڑھے نے تسلیم کر لیا کہ اس نے لڑکی کو دانے کے طور پر پھینک کر البرگ کو پھانسا تھا اس نے سارا قصہ سنا دیا دوسروں نے بھی بہت سے پردے اٹھائے اور اس مکان کا راز فاش کیا جسے شہر کے لوگ احترام کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اس مکان میں بہت سی لڑکیاں رکھی گئی تھیں جو دو مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھی ایک جاسوسی کے لیے اور دوسری حاکموں اور اونچے گھرانے کے مسلمان حاکموں کا اخلاق تباہ کرنے کے لیے وہ مکان جاسوسوں اور تخریب کاروں کا تھا ان جاسوسوں نے یہ بھی بتایا کہ سلطان ایوبی کی فوج میں انہوں نے اتنے ادمی بھرتی کرا دیے ہیں جنہوں نے سپاہیوں میں جوئے بازی کی عادت پختہ کرتی ہے وہ ہاری ہوئی بازی جیتنے کے لیے ایک دوسرے کے پیسے چراتے چور بن جاتے ہیں شہر میں انہوں نے 5 س سے کچھ زیادہ فاحشہ عورتیں پھیلا دی ہیں جو نوجوانوں کو پھانس کر انہیں عیاشی کی راہ پر ڈال رہی ہیں خفیہ قمار خانے بھی کھول دیے گئے ہیں ان لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ سوڈانیوں کو سلطان کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے جنہیں فوج سے نکال دیا گیا ہے سب سے اہم انکشاف یہ تھا کہ انہوں نے چھ ایسے مسلمان افسروں کے نام بتائے جو سلطان ایوبی کی حکومت میں اہم حیثیت رکھتے تھے مگر سلطان کے خلاف کام کر رہے تھے اصفہ عیسائی لڑکی تھی اس کا نام فلی مینگو بتایا گیا وہ یونانی تھی اسے 13 سال کی عمر سے اس جاسوسی کی ٹریننگ دی جا رہی تھی اسے مصر کی زبان سکھائی گئی ایسی سینکڑوں لڑکیاں مسلمان علاقوں میں استعمال کرنے کے لیے تیار کی گئی تھیں جنہیں چوری چھپے ادھر بھیجا گیا تھا اس لڑکی نے بھی کچھ نہ چھپایا 15 روز بعد اس کا زخم ٹھیک ہو گیا اسے جب بتایا گیا کہ اسے سزائے مات دی جا رہی ہے تو اس نے کہا خوشی سے یہ سزا قب
ENGLISH
His wife said to Ali bin Sufyan that I can sacrifice my husband, I cannot see the honor of the nation and the country being sacrificed. He gave his life in the name of the nation. He tried his best to assure that he did not commit this crime deliberately, he had become a fool in the hands of these people, but it was proved that he had given the secrets of the government and the forces to the liquor and Hussain girl. Sultan Ayyubi could have pardoned the crime of murder, drunkenness and debauchery, and did not pardon the crimes of giving secrets to the enemy. No statement was taken from Isfa that day. She was a spy girl, not a soldier, she was trained to steal secrets from princes in the form of a princess. And the Muslims would harm her very badly. She also saw that the Muslims would not treat her wound. She expressed this danger to every person who came near her. She cried like a frightened child. Ibn Sufyan reassured her that she would be treated the same as a Muslim wounded woman, but she wanted to see Sultan Ayyubi. He put his hand and said that in this condition he considers her as his daughter. I heard that Sultan Ayubi is not the king of the sword but of the heart. It is not good to cheat a girl, tell these people to give me foreign poison, I will not be able to bear any pain in this condition, then I will be with you all the time. I won't give it but promise that you won't cheat me either. You should get better. The doctor said that you will be fine. If I had to torture you, I would have put salt in your wound in prison. You used to shout and scream and hide your crime and your friends but we don't treat any woman like that. Albarak's wife is dead but every effort is being made to keep you alive. I will be fine. So what will you do with me, he asked. No man will see you here because you are a young and beautiful girl. Sultan Ayubi said, remove this fear from your heart. The house where Isfa used to go was searched, it was not a house of anyone, it was a den of spies, a stable was built inside, five people came out from inside and they were arrested. He refused to confess the crime and finally they were taken to the basement where even stones could speak. The old man admitted that he had thrown the girl as a bait and hung him in the albergue. He told the whole story to others. also lifted many veils and revealed the secret of this house which was looked upon with respect by the townspeople. Many girls were kept in this house which was used for two purposes, one for espionage and the other for the rulers and high families. In order to destroy the morals of the Muslim rulers, that house belonged to spies and saboteurs. These spies also told that they had recruited so many people in the army of Sultan Ayubi who instilled the habit of gambling among the soldiers. They steal each other's money to win gambling and become thieves. They have spread more than 500 prostitutes in the city, who are hooking young people and putting them on the path of debauchery. Secret gambling dens have also been opened. People also reported that Sudanese were being incited against the Sultan who had been expelled from the army. The most important revelation was that they named six Muslim officers who were important in Sultan Ayyubi's government but the Sultan Working against Isfa was a Christian girl, her name was told to be Flemingo, she was Greek, she was trained as a spy from the age of 13, she was taught the Egyptian language, hundreds of such girls were used in Muslim areas. were prepared which were secretly sent here. This girl also did not hide anything. After 15 days her wound was healed.
نے کہا خوشی سے یہ سزا قبول کرتی ہوں میں نے سلیب کا مشن پورا کر دیا ہے اسے جلاد کے حوالے کر دیا گیا دوسروں کی ابھی ضرورت تھی ان کی نشاندہی پر چند اور لوگ پکڑے گئے جن میں چند ایک مسلمان بھی تھے ان سب کو سزائے موت دی گئی البرک کو ایک سو بیت کی سزا دی گئی جو وہ برداشت نہ کر سکا اور مر گیا اس کے بچوں کو سلطان ایوبی نے سرکاری تحویل میں لے لیا ان کے لیے سرکاری خرچ پر ملازمہ اور عطالیق مقرر کر دیے گئے وہ البرگ کے بچے نہیں ایک مجاہد کے بچے تھے ان کی ماں شہید ہو گئی تھی جون 1171 عیسوی کا وہ دن مصر کی گرمی سے جل رہا تھا جس دن خلیفہ العادت کے قاصد نے ا کر صلاح الدین ایوبی کو پیغام دیا کہ خلیفہ یاد فرما رہے ہیں سلطان ایوبی کے تیور بدل گئے انہوں نے قاصد سے کہا خلیفہ کو بادل سلام کہنا کہ بہت ضروری کام ہے تو بتا دیں میں ا جاؤں گا اس وقت مجھے ذرا سی بھی فرصت نہیں انہیں یہ بھی کہنا کہ میرے سامنے جو کام پڑے ہیں وہ حضور کے دربار میں حاضری دینے کی نسبت زیادہ ضروری اور اہم ہے قاصد چلا گیا اور سلطان ایوبی بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگے وہ فاطم خلافت کا دور تھا مصر میں اس خلافت کا خلیفہ العادت تھا اس دور کا خلیفہ بادشاہ ہوتا تھا جمعہ کے خطبے میں ہر مسجد میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد خلیفہ کا نام لیا جاتا تھا عیش و عشرت کے سوا ان لوگوں کے پاس کوئی کام نہ تھا اگر نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ اور صلاح الدین ایوبی رحمت اللہ علیہ نہ ہوتے یا وہ بھی دوسرے امرا اور وزراء کی طرح خوش امدید اور ایمان فروش ہوتے تو اس دور کے خلیفوں نے تو سلطنت اسلامیہ کو بیچ کھایا تھا الازد ایک ایسا ہی خلیفہ تھا صلاح الدین ایوبی مصر میں گورنر بن کر ائے تو ابتدا میں خلیفہ نے انہیں کئی بار بلایا تھا سلطان ایوبی سمجھ گئے کہ خلیفہ انہیں صرف اس لیے بلاتا ہے کہ انہیں یہ احساس رہے کہ حاکم ایوبی نہیں خلیفہ ہے وہ سلطان ایوبی کا احترام کرتا تھا انہیں اپنے ساتھ بٹاتا تھا مگر اس کا انداز شاہانہ اور لب و لہجہ افسرانہ ہوتا تھا اس نے سلطان ایوبی کو جب بھی بلایا بلا مقصد بلایا اور رخصت کر دیا صلیبیوں کو بہرہ روم میں شکست دے کر اور سوڈانی فوج کی بغاوت کو ختم کر کے صلاح الدین ایوبی نے خلیفہ کو ٹالنا شروع کر دیا تھا انہوں نے خلیفہ کے محل میں جو شان و شوکت دیکھی تھی اس نے ان کے سینے میں اگ لگا رکھی تھی مال میں زر و جواہرات کا یہ عالم تھا کہ کھانے پینے کے برتن سونے کے تھے شراب کی سراہی اور پیالوں میں ہیرے جڑے ہوئے تھے حرم لڑکیوں سے بھرا پڑا تھا ان میں عربی مصری مراکشی سوڈانی اور ترک لڑکیوں کے ساتھ ساتھ عیسائی اور یہودی لڑکیاں بھی تھیں یہ اس قوم کا خلیفہ تھا جسے ساری دنیا میں اللہ کا پیغام پھیلانا تھا اور جسے دنیائے کفار کی محب جنگی قوت کا سامنا تھا سلطان ایوبی کو خلیفہ کی کچھ اور باتیں بھی کھائی جا رہی تھیں ایک یہ کہ خلیفہ کا ذاتی حفاظت بھی دستہ سوڈانی حبشیوں اور قبائلیوں کا تھا جن کی وفاداری مشکوک تھی دوسرے یہ کہ خلیفہ کے دربار میں سوڈانیوں کی باغی اور برطرف کی ہوئی فوج کے کماندار اور نائب سالار خصوصی حیثیت کے مالک تھے صلاح الدین ایوبی کی ہدایت پر علی بن سفیان نے قصر خلافت میں نوکروں اور اندر کے دیگر کام کرنے والوں کے بحث میں اپنے جاسوس بھیج دیے تھے اور خلیفہ کے حرم کی دو عورتوں کو بھی اعتماد میں لے کر جاسوسی کے فرائض سونپے گئے تھے ان جاسوسوں کے اطلاعوں کے مطابق خلیفہ سوڈانی کمانداروں کے زیر اثر تھا وہ ساڑھے 65 سال کی عمر کا بوڑھا تھا لیکن خوبصورت عورتوں کی محفل میں خوش رہتا تھا اس کی اسی کمزوری سے صلاح الدین ایوبی کے مخالفین فائدہ اٹھا رہے تھے سال کے دوسرے تیسرے مہینے میں خلیفہ کے حرم میں ایک جوان اور غیر معمولی طور پر حسین لڑکی کا اضافہ ہوا تھا حرم کی جاسوس عورتوں نے علی بن سفیان کو بتایا تھا کہ تین چار ادمی ائے تھے جو عربی لباس میں تھے وہ اس لڑکی کو لائے تھے ان کے پاس بہت سے تحفے بھی تھے لڑکی بھی تحفے کے طور پر ائی تھی اس کا نام ام ارارہ بتایا گیا تھا اس پہ خوبی یہ تھی کہ خلیفہ العادت پر اس نے جادو سا کر دیا تھا بہت ہی چالاک اور ہوشیال لڑکی تھی سلطان ایوبی کو قصر خلافت کی ان تمام خرافات کا علم تھا مگر حکومت پر اس کی گرفت ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوئی تھی کہ وہ خلیفہ کے خلاف کوئی کاروائی کر سکتے ان سے پہلے کے گورنر اور امیر خلیفہ کے اگے جھکے رہتے تھے اسی لیے مصر بغاوتوں کی سرزمین بن گیا تھا وہاں اسلامی خلافت تو تھی مگر اسلام کا پرچم سرنگوں ہوتا جا رہا تھا فوج سلطنت اسلامیہ کی تھی مگر سوڈانی جرنیل شہری حکومت کی باگ دوڑ ہاتھ میں لیے ہوئے تھے اور ان کا رابطہ صلیبیوں کے ساتھ تھا انہی کی بدولت قاہرہ اور اسکندریہ میں عیسائی کنبے اباد ہونے لگے تھے ان میں
ENGLISH
said, "I gladly accept this punishment. I have completed the mission of the slab. He was handed over to the executioner. Others were still needed. On their identification, a few more people were caught, including a few Muslims. All of them were punished." Death was given to Al Barak, he was punished with one hundred bayt, which he could not bear and died. His children were taken into official custody by Sultan Ayubi. No, there were children of a Mujahid, their mother was martyred. That day of June 1171 AD was burning with the heat of Egypt, on that day, the messenger of Caliph Al-Idaat sent a message to Salah al-Din Ayyubi that the Caliph was remembering Sultan Ayyubi. They changed their views and told the messenger to say Badal Salam to the Khalifa that it is very important work, so let me know that I will go at that time. It is more necessary and important than giving. The messenger left and Sultan Ayubi began to walk restlessly in the room. It was the period of the Fatim Caliphate in Egypt. The Caliph of this Caliphate was Al-Idaat. And after the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) the name of Caliph was taken. These people had nothing to do except for luxury, if it were not for Nur al-Din Zangi, may God bless him and grant him peace, and Salah al-Din Ayyubi, may God bless him and grant him peace, or those other princes and If the caliphs of that era had sold the Islamic Empire if they were as welcoming and faithful as the ministers, Al-Azd was one such caliph. They said that the caliph called them only to make them realize that Ayyubi was not the caliph. After defeating the Crusaders in Bahra Rum and ending the rebellion of the Sudanese army, Salah al-Din Ayyubi had started avoiding the Caliph. He had put a fire in his chest, there was a wealth of jewels, that the utensils of food and drink were made of gold, the cups of wine were studded with diamonds, the harem was full of girls, among them Arabs, Egyptians, Moroccans, Sudanese and Turks. Along with the girls, there were also Christian and Jewish girls. It was the caliph of this nation who had to spread the message of Allah to the whole world and who was facing the loving war force of the infidel world. That the Caliph's personal security was also a contingent of Sudanese Abyssinians and tribesmen, whose loyalty was doubtful. Second, that the commanders and viceroys of the rebel and dismissed army of the Sudanese in the Caliph's court had a special status under the direction of Salah al-Din Ayubi. Ali bin Sufyan had sent his spies to discuss the servants and other workers in the palace of Caliphate, and two women of the Caliph's harem were also entrusted with spying duties. According to the reports of these spies, Caliph Sudani He was under the influence of commanders. He was an old man of 65 and a half years of age, but he was happy in the company of beautiful women. The opponents of Salah al-Din Ayyubi were taking advantage of this weakness. In the second and third months of the year, a young and An unusually beautiful girl had been added. The spy women of the harem had told Ali bin Sufyan that there were three or four people who were in Arabic clothes. They had brought this girl. They also had many gifts. It was said that her name was Umm Arara, her quality was that she had cast a spell on Caliph Al-Idaat, she was a very clever and clever girl. His grip was not yet strong enough that he could take any action against the caliph. The governors and emirs before him were bowing to the caliph, that's why Egypt became a land of revolts. It was happening that the army belonged to the Islamic Empire, but the Sudanese generals were in control of the civil government and they were in contact with the Crusaders. Thanks to them, Christian families began to settle in Cairo and Alexandria.

Urdu
ہونے لگے تھے ان میں جاسوس بھی تھے صلاح الدین ایوبی نے سوڈانی فوج کو تو ٹھکانے لگا دیا تھا مگر ابھی چند ایک سڑانی جرنیل موجود تھے جو کسی بھی وقت خطرہ بن کر ابھر سکتے تھے انہوں نے قصر خلافت میں عصر و رسوخ پیدا کر رکھا تھا سلطان ایوبی ابھی خلافت کی تعیش پرست گدی کو اس ڈر سے نہیں چھیڑنا چاہتے تھے کہ خلافت کے متعلق کچھ لوگ جذباتی تھے اور کچھ حامی تھے ان میں خوش امدیوں کے ٹولے کی اکثریت تھی اس اکثریت میں وہ اعلی حکام بھی تھے جو مصر کی عمارت کی توقع لگائے بیٹھے تھے مگر یہ حیثیت سلطان صلاح الدین ایوبی کو مل گئی سلطان ایوبی ان حالات میں جہاں ملک جاسوسوں اور غداروں سے بھرا پڑا تھا اور صلیبیوں کے جوابی حملے کا خطرہ بھی تھا ان اعلی اور ادنی حکام کو اپنا دشمن نہیں بنانا چاہتا تھا جو خلافت کے پروردہ تھے مگر جون 1171 عیسوی کے ایک روز جب خلیفہ نے انہیں بلایا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا انہوں نے دربان سے کہا علی بن سفیان بہاؤدین شداد عیسی نقیحہ اور الناصر کو میرے پاس جلدی سے بھیج دو یہ چاروں سلطان ایوبی کے خصوصی مشیر اور معتمد تھے سلطان ایوبی نے انہیں کہا ابھی ابھی خلیفہ کا قاصد مجھے بلانے ایا تھا میں نے جانے سے انکار کر دیا ہے میں نے اپ کو یہ بتانے اور رائے دینے کے لیے بلایا ہے کہ میں جمعہ کے خطبے سے خلیفہ کا نام نکلوا رہا ہوں یہ اقدام ابھی قبل از وقت ہوگا شداد نے کہا خلیفہ کو لوگ پیغمبر سمجھتے ہیں رائے عامہ ہمارے خلاف ہو جائے گی ابھی تو لوگ اسے پیغمبر سمجھتے ہیں سلطان ایوبی نے کہا تھوڑے ہی عرصے بعد وہ اسے خدا سمجھنے لگیں گے اسے پیغمبری اور خدائی دینے والے ہم لوگ ہیں جو خطبے میں اس کا نام خدا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ لیتے ہیں کیوں عیسی نقی ہے اپ کیا مشورہ دیتے ہیں میں اپ کی تائید کرتا ہوں عیسی اہلکاری فقیہ نے جواب دیا کوئی بھی مسلمان خطبے میں کسی انسان کا نام برداشت نہیں کر سکتا انسان بھی ایسا جو شراب عورت اور ہر طرح کے گناہ کا شیدائی ہے یہ الگ بات ہے کہ صدیوں سے خلیفہ کو پیغمبروں کا درجہ دیا جا رہا ہے چونکہ شہری اور مذہبی امور کا ذمہ دار ہوں اس لیے یہ نہیں بتا سکتا کہ سیاسی اور فوجی لحاظ سے اپ کے فیصلے کا رد عمل کیا ہوگا اور رد عمل شدید ہوگا بہاؤدین شداد نے کہا اور ہمارے خلاف ہوگا اس کے باوجود میں یہی مشورہ دوں گا کہ یہ بدعت ختم ہونی چاہیے یا خلیفہ کو پکا مسلمان بنا کر لوگوں کے سامنے لایا جائے جو مجھے ممکن نظر نہیں اتا رائے عامہ کو مجھ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے علی بن سفیان نے کہا جو جاسوسی اور سراغ رسانی کے شعبے کا سربراہ تھا اس نے ملک کے اندر جاسوسوں اور مخبروں کا جال بچھا رکھا تھا اس نے کہا عام لوگوں نے خلیفہ کی کبھی صورت نہیں دیکھی وہ الازد کے نام سے نہیں صلاح الدین ایوبی کے نام سے واقف ہیں
ENGLISH
There were spies among them. Salahuddin Ayyubi had put the Sudanese army at bay, but there were still a few Sudanese generals who could emerge as a threat at any time. Sultan Ayyubi did not want to shake the luxuriant ass of the caliphate yet, fearing that some people were sentimental about the caliphate and some were supporters. Among them were the majority of the crowd of cheerleaders. They were expecting, but Sultan Salahuddin Ayyubi got this status. Sultan Ayyubi did not want to make the high and low officials his enemies in the circumstances where the country was full of spies and traitors and there was also the risk of a counterattack by the Crusaders. He was the guardian of the caliphate, but one day in June 1171 AD, when the caliph called him, he flatly refused. Sultan Ayyubi, who was the adviser and confidant, said to him, "Just now the Caliph's messenger came to call me. I have refused to go. I have called you to inform and give your opinion that I have been omitting the name of the Caliph from the Friday sermon." Yes, this move will be premature. Shaddad said that people consider Caliph as a prophet. Public opinion will be against us. Now, people consider him as a prophet. We are the people who mention his name in the sermon along with God and the Messenger of Allah, may God bless him and grant him peace. Why is Jesus pure? What do you advise? I support you. The name of man cannot be tolerated, even a man who is addicted to alcohol, women and all kinds of sins. It is a different matter that for centuries the Caliphs have been given the status of prophets because they are responsible for civil and religious affairs, so it is not. I can tell you what will be the reaction of your decision politically and militarily and the reaction will be severe, said Bahauddin Shaddad, and it will be against us. It should be brought before the people, which I do not see possible. Who knows the public opinion better than me, said Ali bin Sufyan, who was the head of the department of espionage and intelligence. He said that the common people have never seen the face of the Caliph, they are familiar with the name of Salah al-Din Ayyubi, not Al-Azd.