The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode23
23 The Great Conquests of the Hero of the Muslim World , Sultan Saladin Ayyubi , Episode23
ان کی عزت کا نشان ہوتا ہے لیکن اس کا حکم نہیں چل سکتا خصوصا اس صورت میں جب حالات جنگی ہیں اور دشمن کا خطرہ باہر سے بھی ہے اور اندر سے بھی موجود ہے میں تو یہاں تک مشورہ دوں گا کہ اس کے محافظ دستے کی نفری کم کر دیں سوڈانی حبشیوں کے جگہ مصری دستار رکھیں اور اس کے محل کے اخراجات کم کریں میں اس کے نتائج سے اگاہ ہوں ہمیں مقابلہ کرنا ہی پڑے گا ہمیں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے میں نے ہمیشہ اپنے اللہ پر بھروسہ کیا ہے سلطان ایوبی نے کہا خدائے ذوالجلال مجھے اس ذلت سے بھی بچا لے گا دربان اندر ایا سب نے اس کی طرف دیکھا اس نے کہا صحرا کے گ*** دستے کے کماندار اپنے تین سپاہیوں کے ساتھ ائے وہ دو سوڈانیوں کی لاشیں لائے ہیں سب نے دربان کی مداخلت کو اچھی نظر سے نہ دیکھا اس وقت سلطان ایوبی بڑے ہی اہم اور خفیہ اجلاس میں مصروف تھے لیکن سلطان نے درباری سے کہا انہیں اندر بھیج دو سلطان ایوبی نے اپنے دربان سے کہہ رکھا تھا کہ جب بھی اسے کوئی ملنے ائے وہ انہیں اطلاع دے اور اگر رات اسے جگانے کی ضرورت محسوس ہو تو فورا جگا لے سلطان کوئی بات کوئی ملاقات التوا میں نہیں ڈالا کرتے تھے عہدے دار اندر ایا اس کا چہرہ گرد سے اٹا ہوا اور تھکا تھکا نظر اتا تھا سلطان ایوبی نے اسے بٹھایا اور دربان سے کہا کہ اس کے لیے پینے کے لیے کچھ لے اؤ عہدے دار نے سلطان کو بتایا کہ اس کے گ*** سنتریوں نے چار سوڈانی حبشیوں سے ایک مغویہ لڑکی کو چھڑانے کی کوشش میں دو کو تیروں سے مار ڈالا ہے اور وہ لڑکی کو اٹھا کر بھاگ گئے ہیں عہدے دار نے بتایا کہ سنتریوں کے بیان کے مطابق لڑکی خانہ بدوش یا کسی عام گھرانے کی نہیں تھی وہ بہت ہی امیر لگتی تھی اور اس نے کہا کہ وہ خلیفہ کی ملکیت ہے معلوم ہوتا ہے سلطان ایوبی نے کہا خدائے ذوالجلال میری مدد کو اگیا ہے وہ باہر نکل گئے کمرے میں بیٹھے ہوئے سب حاکم ان کے پیچھے چلے گئے باہر زمین پر دو لاشیں پڑی تھیں ایک لاش پیٹ کے بل تھی اس کے پیٹھ میں تیر اترا ہوا تھا دوسری لاش کی گردن میں تیر پیوست تھا پاس تین سپاہی کھڑے تھے انہوں نے امیر مصر کو جو ان کا سالار اعلی بھی تھا شاید پہلی بار دیکھا تھا وہ فوجی انداز سے سلام کر کے پرے ہٹ گئے سلطانہ ایوبی نے ان کے سلام کا صرف جواب ہی نہیں دیا بلکہ ان سے ہاتھ ملایا اور کہا یہ شکار کہاں سے مار کے لائے ہو مومنو وہ سنتری نے جس نے چٹان سے تیر چلا کر دو ادمیوں کو مارا تھا سلطان ایوبی کو سارا واقعہ پوری تفصیل سے سنا دیا کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ لڑکی خلیفہ ہی کی داشتہ ہو سلطان ایوبی نے اپنے مشیروں سے پوچھا معلوم یہی ہوتا ہے علی بن سفیان نے کہا ان کے خنجر دیکھیے حسن دو خنجر سلطان ایوبی کو دکھائے جس وقت سپاہی واقعہ سنا رہا تھا علی بن سفیان لاشوں کی تلاشی لے رہا تھا انہوں نے سوڈان کا قبائلی لباس پہن رکھا تھا کپڑوں کے اندر ان کے کمر بند تھے جس کے ساتھ ایک خنجر تھا یہ خلیفہ کے حفاظت دی دستے کے خاص ساخت کے خنجر تھے ان کے دستوں پر کسر خلافت کی مہریں لگی ہوئی تھیں علی بن سفیان نے کہا اگر انہوں نے یہ خنجر چوری نہیں کیے تو یہ دونوں قصر خلافت کے حفاظت بھی دستے کے سپاہی ہیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ لڑکی وہی ہے جو خلیفہ کے حرم سے ہے اغوا ہوئی ہے اور اغوا کرنے والے خلیفہ کے محافظوں سے ہیں لاشیں اٹھواؤ اور خلیفہ کے پاس لے چلو سلطان ایوبی نے کہا پہلے یقین کر لیا جائے کہ یہ واقعی خلیفہ کے محافظوں میں سے ہیں علی بن سفیان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا زیادہ وقت نہیں گزرا تھا علی بن سفیان کے ساتھ قصرہ خلافت کا ایک کماندار اگیا اسے دونوں لاشیں دکھائی گئیں اس نے انہیں پہچان لیا اور کہا یہ دونوں محافظ دستگے سپاہی ہیں گزشتہ تین روز سے چھٹی پر تھے ان کی چھٹی سات دن رہتی تھی کوئی اور سپاہی بھی ہے چھٹی پر سلطان ایوبی نے پوچھا دو اور ہیں کیا وہ ان کے ساتھ چھٹی پر گئے تھے اکٹھے گئے تھے کماندار نے جواب دیا اور ایک ایسا انکشاف کیا جس نے سب کو چونکا دیا اس نے کہا یہ سوڈان کے ایسے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو خونخواری میں مشہور ہے ان میں فرعون کے وقت کی کچھ رس میں چلی ا رہی ہیں یہ قبیلہ ہر تین سال بعد ایک جشن مناتا ہے یہ ایک میلہ ہوتا ہے جو تین دن اور تین راتیں رہتا ہے دن ایسے مقرر کرتے ہیں کہ چوتھی رات چاند پورا ہوتا ہے میلے میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جن کا اس قبیلے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ صرف عیاشی کے لیے جاتے ہیں میلے میں لڑکیوں کی خرید و فروخت کے لیے باقاعدہ منڈی لگتی ہے اس میلے سے ایک ماہ پہلے ہی ارد گرد بلکہ قاہرہ تک کے لوگ جن کی بیٹیاں جوان ہو گئی ہوں ہوشیار اور چوکس ہو جاتے ہیں وہ لڑکیوں کو باہر نہیں جانے دیتے ان دنوں خانہ بدوش بھی اس علاقے سے دور چلے جاتے ہیں لڑکیاں اغوا ہوتی ہیں اور اس میلے میں فروخت ہو جاتی ہیں یہ چاروں سوڈانی اسی میلے کے لیے چھ
ENGLISH
It is a sign of their respect, but their orders cannot be enforced, especially when the situation is war and the danger of the enemy is present from outside as well as from inside. Reduce Sudanese Abyssinians replace them with Egyptian dastar and reduce his palace expenses. God Almighty will save me from this humiliation too. The doorman came in. Everyone looked at him. He said, "The commander of the Desert Force along with his three soldiers, they have brought the dead bodies of two Sudanese." At that time, Sultan Ayyubi was busy in a very important and secret meeting, but the Sultan told the courtier to send them in. At night, if he felt the need to wake him up, the Sultan would wake him up immediately. The officials did not postpone any meeting. When he came in, his face was wrinkled and he looked tired. Sultan Ayubi sat him down and told the doorman that he Bring something to drink. The officer told the Sultan that his **** oranges had shot two of them with arrows in an attempt to rescue a kidnapped girl from four Sudanese negroes, and they had taken the girl and run away. The official said that according to the statement of the sentries, the girl was not a nomad or from any ordinary family, she looked very rich and he said that she was the property of the Khalifa. They went out, sitting in the room, all the rulers went behind them. There were two dead bodies on the ground. One dead body was lying on its stomach. An arrow was lodged in its back. The other dead body had an arrow stuck in its neck. Perhaps it was the first time they had seen the Amir of Egypt, who was also their ruler, they saluted him in a military style and moved away. The sentry who killed two men by shooting an arrow from a rock told Sultan Ayyubi the whole incident in full detail. Is it possible that that girl is the daughter of the Caliph? Sultan Ayyubi asked his advisors. Ali bin Sufyan asked, "Is this the case?" Ali bin Sufyan said, "Look at their daggers. Hasan showed two daggers to Sultan Ayubi. When the soldier was narrating the incident, Ali bin Sufyan was searching the bodies. They were wearing Sudanese tribal clothes. was belted with a dagger attached to it. These were specially made daggers of the Caliph's security forces. The seals of the Caliphate were attached to their handles. Ali bin Sufyan said that if they had not stolen these daggers, these two The guards of the caliphate are also soldiers. It can be said that the girl is the one who is from the caliph's harem. She has been kidnapped and the kidnappers are from the guards of the caliph. Pick up the bodies and take them to the caliph. Sultan Ayyubi said first believe. It should be taken that these are indeed among the bodyguards of the Caliph, said Ali bin Sufyan, and he left. Not long after, Ali bin Sufyan was accompanied by a commander of the Qasra Caliphate, who was shown the two bodies, and recognized them and said Both guards are soldiers and were on leave for the last three days. Their leave was for seven days. There is another soldier on leave. He made a revelation that shocked everyone. He said that they belong to a tribe in Sudan that is famous for blood-thirstiness. They have some roots from the time of Pharaoh. This tribe celebrates a festival every three years. It is a festival that lasts for three days and three nights. The days are fixed so that on the fourth night the moon is full. People who are not related to this tribe also attend the festival. There is a regular market for the sale and purchase of girls. A month before this fair, people in the vicinity, even as far as Cairo, whose daughters have become young become alert and watchful, they do not allow girls to go out. They also go away from this area, the girls are kidnapped and sold in this fair. These four Sudanese are six for this fair.
ارد گرد بلکہ قاہرہ تک کے لوگ جن کی بیٹیاں جوان ہو گئی ہوں ہوشیار اور چوکس ہو جاتے ہیں وہ لڑکیوں کو باہر نہیں جانے دیتے ان دنوں خانہ بدوش بھی اس علاقے سے دور چلے جاتے ہیں لڑکیاں اغوا ہوتی ہیں اور اس میلے میں فروخت ہو جاتی ہیں یہ چاروں سڈانی اسی میلے کے لیے چھٹی پر گئے تھے میلہ تین روز بعد شروع ہو رہا ہے کیا ان کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ خلیفہ کے حرم کی لڑکی کو انہوں نے اغوا کیا ہوگا علی بن سفیان نے پوچھا میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کماندار نے جواب دیا یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان دونوں میں اس قبیلے کے لوگ جان کا خطرہ مول لے کر بھی لڑکیاں اغوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ خنخوار اتنے ہیں کہ اگر کسی لڑکی کے وارث میلے میں چلے جائیں اور اپنی لڑکی لینے کی کوشش کریں تو انہیں قتل کر دیا جاتا ہے لڑکیوں کے گاہکوں میں مصر کے امیر وزیر اور حاکم بھی ہوتے ہیں میلے میں ایسے عارضی خواہ بہانے بھی کھل جاتے ہیں جہاں جوا شراب اور عورت کے شدائی دولت لٹاتے ہیں اس جشن کی اخری رات بڑی پرسرار ہوتی ہے کسی خفیہ جگہ ایک نوجوان اور غیر معمولی طور پر حسین لڑکی کو قربان کیا جاتا ہے یہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ لڑکی کو کہاں اور کس طرح قربان کیا جاتا ہے یہ کام ان کا ایک مذہبی پیشوا جسے حبشی خدا بھی کہتے ہیں وہ کرتا ہے اس کے ساتھ بہت تھوڑے سے خاص ادمی اور چار پانچ لڑکیاں ہوتی ہیں لوگوں کو لڑکی کا کٹا ہوا سر اور خون دکھایا جاتا ہے جسے دیکھ کر یہ قبیلہ پاگلوں کی طرح ناشتہ اور شراب پیتا ہے خلیفہ نے محافظ دستے کا ناک میں دم کر رکھا تھا تمام تر محافظ دستہ دھوپ میں کھڑا تھا سورج غروب ہونے میں کچھ دیر باقی تھی اس دستے کو صبح کھڑا کیا گیا تھا کمانداروں اور عہدے داروں کو بھی کھانے کی اجازت دی گئی تھی نہ پانی پینے کی رجب بار بار اتا اور اعلان کرتا تھا کہ لڑکی محافظوں کی مدد کے بغیر اغوا نہیں کی جا سکتی تھی جس کسی نے اغوا میں مدد کی ہے وہ سامنے ا جائے ورنہ تمہیں یہیں بھوکا اور پیاسا مار دیا جائے گا اگر لڑکی خود باہر گئی تو تم میں سے کسی نہ کسی نے ضرور دیکھی ہوگی ان دھمکیوں کا کچھ اثر نہیں ہو رہا تھا سب کہتے تھے کہ وہ بے گناہ ہے خلیفہ رجب کو ٹکنے نہیں دے رہا تھا اس نے رجب سے کہا تھا مجھے لڑکی کا افسوس نہیں پریشانی یہ ہے کہ جو اتنے کڑے پہرے سے لڑکی کو اغوا کر سکتے ہیں وہ مجھے بھی قتل کر سکتے ہیں مجھے یہ ثبوت چاہیے کہ لڑکی کو صلاح الدین نے اغوا کرایا ہے رجب نے ہی اغوا کا بہتان سلطان ایوبی کے سر تھوپا تھا مگر خلیفہ اسے کہہ رہا تھا کہ ثبوت لاؤ رجب ثبوت کہاں سے لاتا اس کی جان پر بن گئی تھی وہ ایک بار پھر محافظ دستے کے سامنے گیا غصے سے وہ باولا ہوا جا رہا تھا وہ کئی بار دی ہوئی دھمکی ایک بار پھر دینے ہی لگا تھا کہ دروازے پر کھڑے سنتریوں نے دروازے کھول دیے اور اعلان کیا امیر مصر تشریف لا رہے ہیں بڑے دروازے میں سلطان ایوبی کا گھوڑا داخل ہوا اس کے اگے دو محافظ سواروں کے گھوڑے تھے اٹھ سوار پیچھے تھے ایک دائیں اور ایک بائیں تھا ان کے پیچھے سلطان ایوبی کے حاکم اور مشیر تھے ان میں علی بن سفیان بھی تھا رجب نے خلیفہ کو اطلاع بھیج دی کہ سلطان ایوبی ائے ہیں سب نے دیکھا کہ سلطان ایوبی کے اس جلوس کے پیچھے چار پائیوں والی ایک گاڑی تھی جس کے اگے دو گھوڑے جتے ہوئے تھے گاڑی پر دو لاشیں پڑی تھیں ایک سیدھی دوسری الٹی تیر ابھی تک لاشوں میں اترے ہوئے تھے ان لاشوں کے ساتھ دو تین شتر سوار تھے جنہوں نے ان حبشوں کو مارا تھا خلیفہ باہر اگیا سلطان ایوبی اور اس کے تمام سوار گھوڑوں سے اترے سلطان ایوبی نے اسی احترام سے خلیفہ کو سلام کیا جس احترام کا وہ حقدار تھا جو کر اس سے مصافحہ کیا اور اس کا ہاتھ چ*** مجھے اپ کا پیغام مل گیا تھا کہ میں اپ کے حرم کی لڑکی واپس کر دوں سلطان ایوبی نے کہا میں اپ کے دو محافظوں کی لاشیں لایا ہوں یہ لاشیں مجھے بے گناہ ثابت کر دیں گی اور میں حضور کی خدمت اقدس میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ صلاح الدین ایوبی تو اپ کی فوج کا سپاہی نہیں ہے جس خلافت کی ایت نمائندگی کر رہے ہیں وہ اس کا بھیجا ہوا ہے خلیفہ نے صلاح الدین ایوبی کے تیور بھانپ لیے اس فاطم خلیفہ کا ضمیر گناہوں کے بوجھ سے کراہ رہا تھا وہ سلطان ایوبی کی باروم اور پرجلال شخصیت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا اس نے سلطان ایوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا میں تمہیں اپنے بیٹوں سے زیادہ عزیز سمجھتا ہوں صلاح الدین اندر اؤ میری حیثیت ابھی ملزم کی ہے سلطان ایوبی نے کہا مجھے ابھی صفائی پیش کرنی ہے کہ میں اغوا کا ملزم نہیں ہوں خدا ذوالجلال نے میری مدد فرمائی ہے اور دو لاشیں بھیجی ہیں یہ لاشیں بولیں گی نہیں ان کی خاموشی اور ان میں اترے ہوئے تیر گواہی دیں گے کہ صلاح الدین ایوبی اس جرم کا مجرم نہیں جو قصر خلافت میں سرزد ہوا ہے میں جب تک اپنے اپ کو بے گناہ ثابت نہ کر لوں اندر نہیں جاؤں گا وہ لاشوں کی طرف
ENGLISH
People around, even as far as Cairo, whose daughters have become young become cautious and watchful, they do not let the girls go outside. These days, the nomads also move away from the area. The girls are kidnapped and sold in this fair. These four Sidanis went on leave for this festival. The festival is starting after three days. Can it be said about them that they must have kidnapped the girl from the Caliph's harem? Ali bin Sufyan asked, I am not sure. I can say, the commander replied, I can say that in both of them, the people of this tribe try to abduct girls even at the risk of their lives, and they are so ruthless that if the heirs of a girl go to a fair and take their girl. If they try to take it, they are killed. Among the clients of the girls are the rich ministers and rulers of Egypt. In the festival, such temporary excuses are also opened where gambling, alcohol and women's wealth are wasted. The last night of this celebration is big. The mystery is that in a secret place, a young and unusually beautiful girl is sacrificed. No one knows where and how the girl is sacrificed. He does so, accompanied by a few special men and four or five girls. The people are shown the severed head of the girl and the blood, seeing which the tribe eats and drinks like madmen. All the guards were standing in the sun. There was some time left for the sunset. The troops were raised in the morning. Commanders and officers were also allowed to eat and drink. Rajab repeatedly called and announced. It was said that the girl could not be abducted without the help of the guards. Whoever helped in the abduction should come forward, otherwise you will be killed here with hunger and thirst. If the girl went out by herself, one of you must have You must have seen that these threats had no effect. Everyone said that he was innocent. Khalifa was not letting Rajab stay. He told Rajab that I do not feel sorry for the girl. The problem is that the girl was abducted with such a tight guard. They can kill me too. I want proof that the girl was abducted by Salah al-Din. It was Rajab who slandered Sultan Ayubi about the abduction, but the Caliph was telling him to bring proof. He went to the front of the guard once again, he was getting angry, he was about to repeat the threat he had given many times, when the sentries standing at the door opened the doors and announced the Emir of Egypt. Coming to the big gate, the horse of Sultan Ayyubi entered, in front of him were the horses of two guard riders, eight riders were behind, one on the right and one on the left. sent a message to the Caliph that Sultan Ayubi was there. Everyone saw that behind the procession of Sultan Ayubi was a four-legged chariot with two horses in front of it. Two corpses were lying on the chariot. I dismounted with the bodies of two or three camel riders who had killed the Abyssinians. The Caliph went out. Sultan Ayyubi and all his horsemen dismounted. Sultan Ayyubi saluted the Caliph with the respect he deserved. He shook hands with him and shook his hand. I had received your message that I should return the girl of your harem. Sultan Ayubi said, "I have brought the bodies of two of your bodyguards. These bodies will prove me innocent." will give and I consider it necessary to request in the service of Holy Prophet that Salahuddin Ayyubi is not a soldier of your army, the caliphate he is representing, he is sent by him. The conscience of this Fatim Khalifa was groaning with the burden of sins, he was not able to face Sultan Ayyubi's noble and glorious personality. Sultan Ayubi said, "I have to come clean now that I am not accused of kidnapping. God has helped me and sent two corpses. These corpses will not speak because of their silence and the arrows that landed in them." I will testify that Salahuddin Ayyubi is not guilty of the crime committed in Qasr Khilafat. I will not go inside until I prove myself innocent.
خلیفہ کا ضمیر گناہوں کے بوجھ سے کراہ رہا تھا وہ سلطان ایوبی کی باروم اور پرجلال شخصیت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا اس نے سلطان ایوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا میں تمہیں اپنے بیٹوں سے زیادہ عزیز سمجھتا ہوں صلاح الدین اندر اؤ میری حیثیت ابھی ملزم کی ہے سلطان ایوبی نے کہا مجھے ابھی صفائی پیش کرنی ہے کہ میں اغوا کا ملزم نہیں ہوں خدائے ذوالجلال نے میری مدد فرمائی ہے اور دو لاشیں بھیجی ہیں یہ لاشیں بولیں گی نہیں ان کی خاموشی اور ان میں اترے ہوئے تیر گواہی دیں گے کہ صلاح الدین ایوبی اس جرم کا مجرم نہیں جو قصر خلافت میں سرزد ہوا ہے میں جب تک اپنے اپ کو بے گناہ ثابت نہ کر لوں اندر نہیں جاؤں گا وہ لاشوں کی طرف چل پڑے خلیفہ کھچا ہوا ان کے پیچھے پیچھے گیا تھوڑی دور ساڑھےچ سو نفری کا محافظ دستہ کھڑا تھا سلطان ایوبی نے لاشیں اٹھوا کر اس دستے کے سامنے رکھ دی اور بلند اواز سے کہا اٹھ اٹھ سپاہی اگے اؤ اور لاشوں کو دیکھ کر بتاؤ کہ یہ کون ہے پہلے کماندار اور عہدے دار ائے انہوں نے لاشیں دیکھ کر ان کے نام بتائے اور کہا یہ ہمارے دستے کے سپاہی تھے ان کے بعد اٹھ سپاہی ائے انہوں نے بھی لاشوں کو دیکھ کر کہا کہ یہ ان کے ساتھی تھے اٹھ اور سپاہی ائے پھر اٹھ اور ائے اسی طرح اٹھ اٹھ سپاہی اتے رہے اور بتاتے رہے کہ یہ لاشیں ان کے فلاں فلاں ساتھیوں کی ہیں صلاح الدین خلیفہ نے کہا میں نے مان لیا کہ یہ لاشیں قصر خلافت کے دو محافظوں کی ہیں میں اس سے ا کے سننا چاہتا ہوں کہ انہیں کس نے ہلاک کیا ہے صلاح الدین نے اس گ*** سنتری سے جس نے انہیں ہلاک کیا تھا کہا کہ اپنا بیان دہرائے اس نے سارا واقعہ خلیفہ کا سنا دیا وہ ختم کر چکا تو سلطان ایوبی نے خلیفہ سے کہا لڑکی میرے پاس نہیں لائی گئی وہ سوڈانی حبشیوں کے میلے میں فروخت ہونے کے لیے گئی ہے خلیفہ کھسیانہ ہوا جا رہا تھا اس نے سلطان ایوبی سے کہا کہ وہ اندر چلے سلطان ایوبی نے اندر جانے سے انکار کر دیا اور کہا میں اس لڑکی کو زندہ یا مردہ برامد کر کے اپ کے حضور حاضری دوں گا ابھی میں اتنا ہی کہوں گا کہ حرم کی ایک ایسی لڑکی کا ایک ہوا جو تحفے کے طور پر ائی تھی اور جو اپ کی منکوحہ بیوی نہیں داشتہ تھی میرے لیے ذرہ بھر اہمیت نہیں رکھتی خداوند نے مجھے اس سے اہم فرائض سونپیں میری پریشانی یہ نہیں کہ ایک لڑکی اغوا ہوئی ہے خلیفہ نے کہا اصل پریشانی یہ ہے کہ اس طرح لڑکیاں اغوا ہونے لگی تو ملک میں قانون کا کیا حشر ہوگا اور میری پریشانی یہ ہے کہ سلطنت اسلامیہ اغوا ہو رہی ہے سلطان ایوبی نے کہا اب زیادہ پریشان نہ ہوں میرا شعبہ سراغ رسانی لڑکی کو برامد کرنے کی پوری کوشش کرے گا خلیفہ سلطان ایوبی کو ذرا پرے لے گیا اور کہا صلاح الدین میں ایک عرصے سے دیکھ رہا ہوں کہ تم مجھ سے کھچے کھچے رہتے ہو میں نجم الدین ایوب یعنی سلطان ایوبی کے والد محترم کا بہت احترام کرتا ہوں مگر تمہارے دل میں میرے لیے ذرہ بھر احترام نہیں اور مجھے اج بتایا گیا ہے کہ جامع مسجد کے خطیب امیر العالم نے یہ گستاخی کی ہے کہ خطبے سے میرا نام ہٹا دیا ہے مجھے رجب نے یہ بتایا ہے کہ میں اسے اس گستاخی کی سزا دے سکتا ہوں میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس نے تمہاری شہ پر تو ایسا نہیں کیا میری شہ پر نہیں میرے حکم پر اس نے خلیفہ کا نام خطبے سے حاضر کیا ہے سلطان ایوبی نے کہا صرف اپ کا نام نہیں بلکہ ہر اس خلیفہ کا نام خطبے سے ہٹا دیا گیا ہے جو اپ کے بعد ائے گا اور جو اس کے بعد ائے گا کیا یہ حکم فاطمی خلافت کو کمزور کرنے کے لیے جاری کیا گیا ہے خلیفہ نے پوچھا مجھے شک ہے کہ یہاں عباسی خلافت لائی جا رہی ہے حضور بہت بوڑھے ہو گئے ہیں سلطان ایوبی نے کہا قران نے شراب کو اسی لیے حرام کیا ہے کہ اس سے دماغ معوف ہو جاتا ہے سلطان نے ذرا پسیج کر کہا سلطان نے کہا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کل سے اپ کے محافظ دستے میں رد و بدل ہوگا اور رجب کو میں واپس لے کر اپ کو نیا کماندار دوں گا لیکن میں رجب کو یہیں رکھنا چاہتا ہوں خلیفہ نے کہا میں حضور سے درخواست کرتا ہوں کہ فوجی معاملات میں دخل دینے کی کوشش نہ کریں سلطان ایوبی نے کہا اور علی بن سفیان کی طرف متوجہ ہوا جو پانچ حبشی محافظوں کو ساتھ لیے ا رہا تھا یہ پانچوں اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں علی بن سفیان نے کہا میں نے اس دستے سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس قبیلے کے کوئی ادمی یہاں ہوں تو باہر ا جائیں یہ پانچ صفوں سے باہر اگئے ان کے متعلق مجھے ان کے کماندار نے بتایا ہے کہ پرسوں سے چھٹی پر جا رہے تھے میں انہیں اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں لڑکی کا اغوا میں ان کا ہاتھ ہو سکتا ہے صلاح الدین ایوبی نے رجب کو بلا کر کہا کل یہاں دوسرا کماندار ارہا ہے اب میرے پاس ا جائیں گے میں اپ کو منجنیقوں کی کمان دینا چاہتا ہوں رجب کے چہرے کا رنگ بدل گیا ام ارارہ کو گھوڑے پر ڈالے ہوئے جب وہ دو حبشی اتنے دور نکل گئے جہاں انہیں تعقب کا خط
ENGLISH
The Caliph's conscience was groaning with the burden of sins, he was not able to face the noble and glorious personality of Sultan Ayyubi, he placed his hand on Sultan Ayyubi's shoulder and said, "I consider you dearer than my sons, Salahuddin, come to me." The status of the accused is now, Sultan Ayubi said, I have to come clean now that I am not accused of kidnapping. God has helped me and sent two bodies. These bodies will not speak. They will say that Saladin Ayyubi is not guilty of the crime that has been committed in Qasr Khilafat. I will not go inside until I prove myself innocent. They walked towards the bodies. A bodyguard of 100 people was standing. Sultan Ayubi picked up the dead bodies and placed them in front of the body and said in a loud voice, "Get up, soldiers, come forward and look at the bodies and tell them who this is. First, the commanders and officials." They saw the bodies. He told them their names and said that these were soldiers of our troop. After them, the soldiers got up. They also saw the bodies and said that these were their companions. Get up and the soldiers got up again. That these corpses belong to his so-and-so companions, Salahuddin Khalifa said, "I have accepted that these corpses belong to the two guards of Qasr Khilafat. I want to hear from him who killed them." ** He asked the sentry who had killed him to repeat his statement. He told the whole incident to the Caliph. When he had finished, Sultan Ayubi said to the Caliph, "The girl was not brought to me; she was to be sold at the Sudanese Abyssinian fair." Caliph Khasiana was leaving. He asked Sultan Ayyubi to go inside. Sultan Ayyubi refused to go inside and said, "I will bring this girl alive or dead and bring her to your presence. I will say this much for now." A girl from the harem who was brought as a gift and who was not your beloved wife is not important to me. God has given me more important duties. My concern is not that a girl was kidnapped. Hai Khalifa said that the real problem is that if girls start being kidnapped like this, what will be the fate of the law in the country and my problem is that the Islamic Empire is being kidnapped. The Caliph took Sultan Ayyubi a little further and said, "I have seen for a long time that you are very close to me. I have great respect for Najamuddin Ayyub, the respected father of Sultan Ayyubi, but You do not have an iota of respect for me and I have been told that the preacher of the Jama Masjid, Amirul Alam, has made the insolence of removing my name from the sermon. Rajab has told me that I can punish him for this insolence. Yes, I want to ask you that he did not do this on your behalf, not on my behalf, on my order, he has mentioned the name of the Caliph in the sermon. has been removed from the one who will come after you and the one who will come after him. Has this order been issued to weaken the Fatimid Caliphate? Sultan Ayyubi said that the Qur'an has forbidden alcohol because it makes the mind go away. "I will take Rajab back and give you a new commander, but I want to keep Rajab here," said the Caliph. Ali bin Sufyan said, "I addressed this group and said, 'If there are any people of this tribe here, let them get out of the five ranks.'" Regarding them, their commander has told me that they were going on leave the day before yesterday, I am taking them with me, they may have had a hand in the kidnapping of the girl. I want to give you the command of the Manjaniqs. Rajab's face changed color, putting Umm Arara on the horse, when the two negroes went so far that they had a letter of pursuit.
اگر اسے وہ ازاد بھی کر دیں تو وہ اس ریگستان سے زندہ نہیں نکل سکے گی انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ اسے بے ابرو نہیں کرنا چاہتے اگر ان کی نیت ایسی ہوتی تو وہ اس کے ساتھ وحشیوں جیسا سلوک کر چکے ہوتے ام ارارہ حیران تھی کہ انہوں نے اسے اب تک چھیڑا بھی نہیں تھا انہیں تو جیسے احساس ہی نہیں تھا کہ اتنی دل کش لڑکی ان کے رحم و کرم پر ہے ان میں سے ایک نے جو مارا جا چکا تھا مرنے سے پہلے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر التجا کی تھی کہ وہ تڑپ تڑپ کر اپنے اپ کو اذیت میں نہ ڈالے ام ارارہ نے ان سے پوچھا اسے کہاں لے جایا جا رہا ہے تو اسے جواب دیا گیا کہ وہ اسے اسمان کے دیوتا کی ملکہ بنانے کے لیے لے جا رہے ہیں انہوں نے لڑکی کی انکھوں پر پٹی باندھ دی اور اٹھا کر گھوڑے پر بٹھا دیا اس نے ازاد ہونے کی کوشش ترک کر دی اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ کوشش بے سود ہے گھوڑے چل پڑے اور ام ارارہ ایک حبشی کے اگے گھوڑے پر بیٹھی ہچکولے کھاتی رہی ایک جگہ رک کر اس کے منہ میں پانی ڈالا گیا اور گھوڑے چل پڑے بہت دیر بعد خنکی سے ام ارارہ نے محسوس کیا کہ رات ہو گئی ہے گھوڑے رک گئے اس وقت تک اس نازک لڑکی کا جزم مسلسل گھڑ سواری سے ٹوٹ چکا تھا دہشت سے اس کا دماغ بےکار ہو گیا تھا اسے گھوڑے رکتے ہی اپنے ارد گرد تین چار مردوں اور تین عورتوں کی ملی جلی اوازیں سنائی دینے لگی یہ زبان اس کی سمجھ سے بالا تھی یہی حبشی راستے میں اس کے ساتھ عربی زبان میں باتیں کرتے تھے ان کا لہجہ عربی نہیں تھا ابھی اس کی انکھوں سے پٹی نہیں کھولی گئی تھی اس کی تو جیسے زبان بھی بند ہو گئی تھی اسے کسی نے اٹھا کر کسی نرم چیز پر بٹھا دیا یہ پالکی تھی پل کی اوپر کو اٹھی اور اس کا ایک اور سفر شروع ہو گیا اس کے ساتھ ہی دف کی ہلکی ہلکی گونج اور تھاپ سنائی دینے لگی اور عورتیں گانے لگی اس گانے کے الفاظ تو وہ نہ سمجھ سکتی تھی اس کی لے میں جادو کا اثر تھا یہ اثر ایسا تھا جس نے ام ارارہ کے خوف میں اضافہ کر دیا لیکن اس خوف میں ایسا تاثر بھی پیدا ہونے لگا جیسے اس پر نشہ یا خمار طاری ہو رہا ہے رات کی خون کی خمار میں لذت سی پیدا کر رہی تھی ام ارارہ نے یہ چاہتے ہوئے کہ وہ پالکی سے کود جائے اور بھاگ اٹھے اور یہ لوگ اسے جان سے مار دیں اس نے ایسی جرات نہ کی وہ محسوس کر رہی تھی کہ وہ ان انسانوں کے قبضے میں نہیں بلکہ کوئی اور ہی طاقت ہے جس نے اس پر قابو پا لیا ہے اور اب وہ اپنی مرضی سے کوئی حرکت نہیں کر سکے گی وہ محسوس کرنے لگی کہ پالکی بردار سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں وہ چڑھتے گئے کم و بیش 30 سیڑھیاں چڑھ کر وہ ہم باہر چلنے لگے اور چند قدم چل کر رک گئے پالکی زمین پر رکھ دی گئی ام ارارہ کی انکھوں سے پٹی کھول کر کسی نے اس کی انکھوں پر ہاتھ رکھ دیے تھوڑی دیر بعد ان ہاتھوں کی انگلیاں کھلنے لگی اور لڑکی کو روشنیاں دکھائی دینے لگی اہستہ اہستہ ہاتھ اس کی انکھوں سے ہٹ گئے وہ ایک ایسی عمارت میں کھڑی تھی جو ہزاروں سال پرانی نظر اتی تھی گول ستون اوپر تک چلے گئے تھے ایک وسیع ہال تھا جس پر فرش روشنیوں میں چمک رہا تھا دیواروں کے ساتھ ڈنڈے سے لگے ہوئے تھے اور ان ڈنڈوں کے سروں پر مشلوں کے شعلے تھے اندر کی فضا میں ایسی خوشبو تھی جس کی مہک اس کے لیے نئی تھی دف کی ہلکی ہلکی تھاپ اور عورتوں کا گیت اسے سنائی دے رہا تھا یہ تھاپ اور یہ لے ہال میں ایسی گونج پیدا کر رہی تھی جس میں خواب کا تاثر تھا اس نے سامنے دیکھا ایک چبوترا تھا جس کی اٹھ دس سیڑھیاں تھیں چبوترے پر پتھر کے بت کا منہ اور سر تھا اس کی ٹھوڑی کے نیچے تھوڑی سی گردن تھی تھوڑی سے ماتھے تک یہ پتھر کا چہرہ قداور انسان سے بھی ڈیڑھ دو فٹ اونچا تھا منہ کھلا ہوا تھا جو اتنا چوڑا تھا کہ ایک ادمی ذرا سا جھک کر اس میں داخل ہو سکتا تھا منہ میں سفید دانت بھی تھے یوں لگتا تھا جیسے یہ چہرہ قہقہ لگا رہا ہوں اس کے دونوں کانوں سے ڈنڈے نکلے ہوئے تھے جن کے باہر والے سروں پر مشلیں جل رہی تھیں اچانک اس کی انکھیں جو کم و بیش گز بھر چوڑی تھیں چمکنے لگی ان سے روشنی پھوٹنے لگی عورتوں کے گیت کی لائے بدل گئی دف کی تھاپ میں جوش پیدا ہو گیا پتھر کے منہ کے اندر روشنی ہو گئی لمبے لمبے سفید چغلے پہنے ہوئے دو ادمی جھک کر منہ سے باہر ائے منہ کے اگے تین سیڑھیاں تھیں ان ادمیوں کے رنگ سیاہ اور سروں پر پرندوں کے لمبے لمبے اور رنگا رنگ پر بندھے ہوئے تھے منہ سے باہر ا کر ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف کھڑا ہو گیا
ENGLISH
Even if they free her, she will not be able to get out of this desert alive. They also promised that they do not want to shame her, if that was their intention, they would have treated her like savages, Umm Arara. Surprised that they hadn't even teased her yet, they didn't even realize that such a charming girl was at their mercy. She sat down and begged him not to torture himself. Umm Arara asked her where she was being taken, and she was told that they were taking her to make her the queen of the sky god. They blindfolded the girl and put her on the horse. She gave up trying to get free. She saw that this effort was futile. After stopping at one place while eating, water was poured into her mouth and the horses started moving. After a long time, Umm Arara felt that it was night and the horses stopped. His mind was paralyzed by terror, and as soon as the horse stopped, he heard mixed voices of three or four men and three women around him. This language was beyond his understanding. These Abyssinians were talking to him in Arabic on the way. His accent was not Arabic, his blindfold had not yet been untied, his tongue seemed to be tied, someone picked him up and placed him on something soft. The journey began, with the sound of the tambourine and the beat of the tambourine, and the women began to sing. I added, but in this fear, such an impression was also created as if he was being drunk or drunk. Umm Arara wanted him to jump out of the palanquin and run away. She did not dare to rise up and let these people kill her. She felt that she was not under the control of these people but some other power that had taken control of her and now she could not do anything of her own free will. She will not be able to. Someone put his hands on her eyes, after a while the fingers of those hands opened and the girl started seeing lights, slowly the hands moved away from her eyes, she was standing in a building that looked thousands of years old. The pillars went up to a vast hall, the floor of which shone with lights, and the walls were studded with sticks, and on the ends of these sticks were the flames of the torches, and the air inside contained a fragrance that smelled new to him. He could hear the gentle beat of the tambourine and the song of the women, this beat and this was creating such an echo in the hall that had the impression of a dream. The idol had a mouth and a head, it had a small neck under the chin, and from a little to the forehead, this stone face was one and a half to two feet taller than a human being. He could enter. There were also white teeth in his mouth. It seemed as if this face was laughing. There were sticks coming out of both his ears, on the outer ends of which were burning muscles. Suddenly his eyes, which were more or less a yard wide. They began to shine, the light began to emerge from them, changed to the song of the women, the beat of the tambourine became excited, the light became inside the mouth of the stone, two men wearing long white robes bowed out of the mouth, three steps in front of the mouth. The colors of these people were black and on their heads were tied long and colorful feathers of birds.



